Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

مجرِم یا۔۔۔

Featured Replies

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 264
  • Views 588.7k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Javaidbond
    Javaidbond

    (22) میں نے اسے ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس کھینچا اور ساتھ لپٹاتے ہوئے بولا:راجی تم بلکل بے فکر رہو اطمینان سے ان لمحات کا مزہ لو یہ کہتے ہوئے میں نے اس کے ہونٹوں پر جھکتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو چوسنا شر

  • Javaidbond
    Javaidbond

    (24) کچھ دیر ریسٹ کرنے کے بعد جب ہم نارمل ہو گئے تو میں نے راجی سے پوچھا۔۔۔راجی تم خود کو میرے ساتھ کیسا محسوس کر رہی ہو۔ میرا پیار کرنا کیسا لگا۔ میرے منہ سے یہ الفاظ نکلنے کی دیر تھی کہ راجی ک

  • Javaidbond
    Javaidbond

    (48) اگلے دن میری پٹیاں کھلنی تھیں۔۔۔نادر صبح نو بجے ہی آ دھمکا۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد صبح دس بجے ڈاکٹر نے مجھے آپریشن روم میں مجھے اپنے سامنے بٹھایا اور میرے چہرے کی پٹیاں کھولنا شروع کر دیں۔۔۔پٹیو

Posted Images

  • Author

السلام علیکم!!!۔

کیسے ہیں سب دوست۔

دوستو مجھے بلکل احساس ہے کہ آپ لوگ اپڈیٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔پر بھائی لوگ میں غمِ روزگار میں مبتلا ہوں۔۔۔

بہرحال ذیادہ سے ذیادہ دس تاریخ تک اس کی اپڈیٹ پوسٹ کر دوں گا۔۔۔تھوڑا سا کام باقی ہے اپڈیٹ پر وہ نبٹا لوں۔۔اگر اس سے پہلے ٹائم مل گیا تو پہلے ہی اپلوڈ کر دوں گا۔

  • Author

@waji

بھائی میرا کام ہے کوشش کرنا کہ قارئین کی خواہش کو مدِنظر رکھتے ہوئے لکھ سکوں اب یہ تو قلم کی مرضی ہے وہ کہاں تک چلتا ہے۔۔۔

بہرحال آپ کے کمنٹس پڑھ کے اچھا لگتا ہے۔

ہر ریپ لکھنے کا نہیں ہوتا اس لیے بہت اچھا لگا کہ وہاں نہیں لکھا، ہاں تھوڑی سی تفصیل اس واقعی کی ہونی چاہیے تھی کہ جب ہیرو کے اہل خانہ کا بہیمانہ قتل ہوا کہ کیسے گھر میں

داخل ہوئے، کون کون تھا کس نے کس کو مارا، کیسے مارا ، مطلب تھوڑا ایکشن وہاں دکھانا چاہیے تھا میرے خیال میں، باقی آپ لکھاری ہیں بہتر سمجھتے ہیں کہ کب تفصیل ہونی چاہیے اور کب خلاصہ

15 hours ago, Javaidbond said:

السلام علیکم!!!۔

کیسے ہیں سب دوست۔

دوستو مجھے بلکل احساس ہے کہ آپ لوگ اپڈیٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔پر بھائی لوگ میں غمِ روزگار میں مبتلا ہوں۔۔۔

بہرحال ذیادہ سے ذیادہ دس تاریخ تک اس کی اپڈیٹ پوسٹ کر دوں گا۔۔۔تھوڑا سا کام باقی ہے اپڈیٹ پر وہ نبٹا لوں۔۔اگر اس سے پہلے ٹائم مل گیا تو پہلے ہی اپلوڈ کر دوں گا۔

Take your time 

📢 Post Your Ad Here
  • Author

السلام علیکم!!!۔

کیسے ہیں سب دوست۔۔۔

اب تک کی لکھی گئی سٹوری تو امید ہے بلکہ آپ لوگوں کے کمنٹس سے ظاہر ہے کہ پسند کی گئی ہے۔۔۔لیکن اب یہاں سے تھوڑا رخ بدل گیا ہے۔

دراصل میں پہلی دفعہ ایکشن لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

@DR KHAN

فیصل بھائی آپ بھی ذرا نظرِ کرم کریں اور تھوڑا ٹائم نکال کر اپنی رائے دے دیں کہ کیا سہی سمت میں جا رہا ہوں۔

بہرحال آج پھر تھوڑا ٹائم مل گیا تو اپڈیٹ تیار کر لی اور اب اسے پوسٹ کر رہا ہوں۔

  • Author

      (48)

اگلے دن میری پٹیاں کھلنی تھیں۔۔۔نادر صبح نو بجے ہی آ دھمکا۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد صبح دس بجے ڈاکٹر نے مجھے آپریشن روم میں مجھے اپنے سامنے بٹھایا اور میرے چہرے کی پٹیاں کھولنا شروع کر دیں۔۔۔پٹیوں سے آزاد کرنے کے بعد ڈاکٹر نے کوئی دو تین اقسام کے لوشن مکس کر کے ان سے میرے چہرے پر مساج کرنا شروع کر دیا۔

مجھے بہت جلدی تھی کہ دیکھوں تو سہی ڈاکٹر کی کارگزاریوں کا کیا نتیجہ نکلا ہے۔۔۔پر میں صبر اور تحمل سے آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا۔۔۔آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر نے میرے چہرے کو کپڑے سے اچھی طرح صاف کیا اور مجھے اٹھا کر چلاتے ہوئے باہر کامن روم میں لا کر صوفے پر بٹھا دیا۔۔۔چند لمحوں کی خاموشی کے بعد نادر کھنکھارتے ہوئے بولا۔۔۔میرے ویر ہن اکھاں کھول لے۔۔۔میں نے آنکھیں کھولیں تو نادر کو اپنے سامنے سنگل صوفے پر بیٹھے دیکھا۔

نادر کے ساتھ والے ڈبل صوفے پر ڈاکٹر اور اس کی پٹاخہ بیوی شبنم بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔میں نے ڈاکٹر کی آنکھوں میں ایک فخر اور خوشی کا احساس دیکھا۔۔۔شبنم مبہوت میرے چہرے کو دیکھ رہی تھی جبکہ نادر کی آنکھوں میں ایک عجیب احساس تھا۔۔۔اس احساس کو میں کوئی بھی نام نہیں دے پایا۔

میں نے نادر کو دیکھتے ہوئے پوچھا نادر کیا ہوا۔۔۔ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔۔تو نادر بولا میری جان میں جو تجھ میں دیکھ رہا ہوں وہ تجھے شیشہ دیکھنے کے بعد پتہ چلے گا۔۔۔لیکن شیشہ تم گھر میں جا کر ہی دیکھو گے۔۔۔میں نے اچنبے سے پوچھا کیوں یہاں آئینہ دیکھنے میں کیا قباحت ہے تو نادر بولا۔۔۔میرے ویر اتنی سی بات مان لے۔۔۔سمجھ لے اس میں میری خوشی ہے۔

میں نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا کہ یار نادر کیسی بات کرتا ہے بھائی تیری وجہ سے تو میں ہوں۔۔۔تو بولے تو ساری زندگی آئینہ مت دیکھوں۔۔۔ہماری باتیں سن کر شبنم اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی: ویل مسٹر کمال!!!مبارک ہو آپ کو آپ کا چہرہ صحیح سلامت واپس مل گیا ہے۔۔۔پھر وہ چونکتے ہوئے بولی۔۔۔اوہ سوری میں نے اپنا تعارف تو کروایا ہی نہیں۔۔۔مجھے مسِز رحمان کہتے ہیں۔۔۔یہ کہہ کر اس نے میری طرف مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔۔۔میں نے اس کا نرم و نازک ہاتھ تھام کر مصافحہ کیا اور وہ پھر پلٹ کر اندرونی کمروں کی طرف چلی گئی۔

اسی وقت ڈاکٹر نے پاس پڑی میز سے ایک چھوٹی سی بوتل اٹھا کر میری طرف بڑھائی اور بولا کہ یہ میرا تیار کردہ لوشن ہے۔۔۔تین دن تک اس کا مساج چہرے پر کرنا ہو گا۔۔۔تا کہ چہرے کی ملائمیت قائم رہ سکے۔۔۔ورنہ جِلد خراب ہو جانے کا خدشہ ہے۔۔۔کچھ دیر بعد ہم لوگ ٹیکسی میں بیٹھے نایاب خان کے گھر واپس جا رہے تھے۔۔۔نایاب کے گھر کو تالا لگا ہوا تھا۔۔۔نادر نے چابی سے تالا کھولا اور ہم لوگ اندر داخل ہو گئے۔

کرسیوں پر بیٹھنے کے بعد ہم دونوں خاموشی سے بیٹھے ایک دوسرے کی شکل تکتے رہے۔۔۔پجر نادر ہی اس خاموشی کو توڑتے ہوئے بولا۔۔۔کمال میرے دوست!!!میں نے ایک کام تم سے پوچھے بنا کر ڈالا ہے۔۔۔میں خاموش رہا تو وہ بولا لیکن یہ کام میں نے کیوں کیا ہے وہ پہلے ان لو اس کے بعد جو دل چاہے بولنا میں چپ چاپ مان جاؤں گا۔۔۔میں پھر خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔نادر نے دو سگریٹ سلگائے۔۔۔ایک سگریٹ مجھے دینے کے بعد دوسرا وہ اپنے ہونٹوں میں دباتے ہوئے بولا:یار کمالے ایک دن جب میں گھر گیا تو میں نے شمسہ کو عجیب حالت میں دیکھا۔

میں نے چونک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ آنکھیں چراتے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اپنا منہ دوسری طرف گھماتے ہوئے بولا۔۔۔میں گھر گیا تو گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔۔پہلے بھی اکثر یہی ہوتا تھا کیونکہ ہمسائے والی ماسی سارا دن شمسہ کے پاس بیٹھی رہتی ہے تو آنا جانا لگا رہتا ہے۔۔۔اس لیے میں نے کوئی خاص دھیان نہیں دیا اور اپنی ہی دھن میں چلتا ہوا اندرونی کمروں کی طرف چلا گیا۔۔۔اتنا کہہ کر نادر چپ ہو گیا۔

جبکہ میں سوچ رہا تھا کہ آج پہلی بار نادر خلافِ توقع اتنا سنجیدہ ہے کہ وہ اپنی عادت کے برخلاف پنجابی چھوڑ کر اردو میں بات کر رہا ہے۔۔۔پر میں منہ سے کچھ نہیں بولا اور دھیان سے نادر کی بات سننے لگا۔۔۔وہ اپنی ہی دھن میں بولے جا رہا تھا۔
کمالے جمیل بھائی کے جانے کے بعد بھی شمسہ اکیلی ہی اپنے کمرے میں سوتی تھی یا کبھی کبھار ماسی اس کے ساتھ سو جاتی تھی۔۔۔تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ میں ذیادہ تر گھر سے باہر رہتا تھا۔۔۔اور کیسے ہم دونوں نے مل کر آج تک جمیل کو زندہ رکھا ہوا ہے۔۔۔خیر میں بتا رہا تھا کہ اس دن جب میں اس کے کمرے کے پاس پہنچا تو مجھے عجیب سی آواز سنائی دی۔
یہ آوازیں میرے لیے انجان نہیں تھیں۔۔۔یہ آوازیں کوئی لڑکی یا عورت اس وقت حلق سے نکالتی ہے جب وہ کیف و سرور کی منزل سے گزر رہی ہو۔۔۔میں ٹھٹھک گیا کیونکہ یہ آوازیں شمسہ کے کمرے سے ہی آ رہی تھیں۔۔۔پہلے تو میں ایک دم غصے میں آ گیا اور سوچا کہ اندر داخل ہوتے ہی شمسہ اور اس کے ساتھ جو بھی ہو ان دونوں کو گولی سے اڑا دوں۔
میں نے اپنا پستول بھی ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔پھر میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے سوچا کہ پہلے دیکھوں تو سہی کہ یہ کون خنزیر کا پتر ہے جو میرے ہی گھر میں نقب لگا رہا ہے۔۔۔میں نے احتیاط سے اندر جھانکا تو وہیں پتھر ہو گیا۔۔۔اندر شمسہ۔۔۔شمسہ
اتنا کہہ کر نادر چپ ہو گیا۔۔۔میں نے نہایت دھیمی آواز میں پوچھا!!!نادر اندر ایسا تم نے کیا دیکھا کہ تم وہیں پتھر کے ہو گئے۔۔۔بھائی مناسب سمجھو تو مجھے بتاؤ۔۔۔نادر آہستگی سے بولا کہ اندر شمسہ ننگی لیٹی ہوئی تھی اور اپنے ہاتھ سے ایک کھیرا پکڑ کر اپنی ٹانگوں کے درمیان والی جگہ میں ڈال کر زور زور سے ہلاتے ہوئے سسکیاں بھرتے ہوئے جمیل بھائی کو یاد کر رہی تھی۔

                *************************

      (49)

اسی وقت مجھے لگا کہ جیسے وہ تڑپ رہی ہے۔۔۔پھر اس نے کھیرا نکال کر باہر پھینک دیا اور دونوں ہاتھوں سے منہ چھپا کر روتے ہوئے جمیل بھائی کو آوازیں دینے لگی۔۔۔جمیل میری زندگی۔۔۔مجھے یہاں اکیلا تڑپنے کیلئے چھوڑ کر کہاں چلے گئے۔۔۔یہ پہاڑ جیسے زندگی کیسے کٹے گی۔۔۔کمالے مجھ میں اور سننے،دیکھنے یا سہنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔میں چپ چاپ وہاں سے نکلا اور کافی دیر بعد گھر واپس گیا۔۔۔اگلے مہینوں میں بھی کئی دفعہ میں نے شمسہ کو اسی آگ میں جلتے ہوئے دیکھا۔

پر میں سوائے اپنا دل جلانے کے اور کیا کر سکتا تھا۔۔۔پھر اس دن میں نے تمہیں دیکھا تمہارے چہرے کی حالت دیکھی تو میں نے اپنے دل میں اندر ہی اندر ایک فیصلہ کر لیا۔۔۔تمہیں یاد ہو گا کہ میں نے گاؤں سے آتے وقت گھر سے جمیل کی چند تصاویر اٹھائی تھیں۔۔۔وہ تصاویر میں نے ڈاکٹر کو دے دیں۔۔۔اتنا کہہ کر نادر چپ کر گیا۔۔۔لیکن میں کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں پوچھ بیٹھا!!!یار نادر ان تصویروں سے میرا کیا تعلق۔

نادر آگے گیا اور دیوار پر ٹنگا ہوا شیشہ لا کر میرے سامنے کرسی پر رکھا اور چپ چاپ منہ پھیر کر کھڑا ہو گیا۔۔۔میں نے شیشہ اٹھایا اور اس میں اپنا منہ دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔ہکلاہٹ کے مارے میرے منہ سے صرف اتنا ہی نکل پایا۔۔۔نن۔نادر یہ یہ جمیل۔میرا چہرہ۔۔۔اسی وقت نادر جھکتے ہوئے میرے قدموں میں بیٹھ گیا اور ہاتھ جوڑ کر میرے سامنے کرتے ہوئے بولا۔۔۔میرے یار میری اس خود غرضی کو معاف کر دینا۔۔۔مجھ سے شمسہ کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی اس لیے میں نے تمہیں جمیل کا روپ اور شکل و صورت دے دی ہے تاکہ۔۔۔تاکہ تم جمیل بن کر شمسہ کو سنبھالو۔۔۔اسے سہارا دو،شمسہ کے حصے کی خوشیاں اسے دے دو میرے بھائی۔

میں سکتے کی کیفیت میں بیٹھا اس کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔پر نادر مم۔مم۔میں کیسے جمیل۔۔۔شمسہ۔۔۔اف فف میری تو سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔۔۔یہ کہہ کر میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔۔۔نادر نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو کہہ اٹھا۔۔۔نہیں نہیں میرے ویر پریشان مت ہو۔۔۔چنگی طرح سوچ لے۔۔۔پر یاد رکھنا اس کے علاوہ میرے پاس ایک ہی حل ہے کہ میں شمسہ کو گولی مار کر خودکشی کر لوں۔۔۔میں اسے اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا۔

نادر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔میں کافی دیر سر پکڑے بیٹھا رہا۔۔۔پھر میں نے آئینے میں اپنی شکل دیکھی تو اچانک ایک انوکھی بات میرے ذہن میں آئی کہ اب میرا چہرہ میرا نہیں تھا جمیل کا تھا اور سب کو یہی پتہ ہے کہ جمیل سعودی میں بیمار ہے۔۔۔صرف میرے گھر والوں کو پتہ تھا اور وہ دنیا میں نہیں رہے۔۔۔تو مطلب اب اس راز کو جاننے والے میں اور نادر تھے۔

میں اس شکل کے ساتھ واپس اپنے گاؤں جا سکتا تھا اور وہاں سیالوں کے سامنے رہ کر ان کے سینوں پر مونگ دل سکتا تھا۔۔۔ویسے بھی میرا اپنا چہرہ تو بری طرح سے جل گیا تھا اور اب نادر کی مہربانی سے مجھے جمیل کی وجاہت ملی تھی۔۔۔چاہے اس میں نادر کی خود غرضی چھپی ہوئی تھی پر نادر کا خلوص اور اس خود غرضی کے پیچھے ایک معصوم لڑکی کی مدد یہ سب باتیں میرے دل میں گھر کر گئیں۔۔۔میں وہاں سے اٹھا اور چلتے ہوئے باہر نکل آیا۔

نادر باہر صحن میں بیٹھا ہوا سگریٹ پھونک رہا تھا۔۔۔مجھے دیکھ کر نادر بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میں نےبھاگ کر نادر کو گلے لگا لیا اور شوخی بھرے لہجے میں بولا۔۔۔نادر تو وڈا حرامی ایں۔۔۔اینا کجھ کر لیا پر مینوں خبر وی نہ ہون دتی۔۔۔نادر نے ایک دم مجھے خود سے علیحدہ کیا اور جھنجھوڑتے ہوئے بولا۔۔۔مطلب تجھے اس سارے پروگرام پر کوئی اعتراض نہیں؟تو میں نے گردن جھکاتے ہوئے کہا:یارا آج میں جو بھی ہوں تیری وجہ سے ہوں۔

میں تیرے خلوص کو کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔میرے یار تو جو بھی کرے گا چنگا ہی کرے گا۔۔۔میں ہر طرح سے تیرے ساتھ ہوں۔۔۔نادر نے میری بات سن کر مجھے سینے سے لگا لیا اور کہنے لگا۔۔۔او جی خوش کیتا ای جواناں۔۔۔بس ہن فٹافٹ میں شمسہ نوں ایتھے لیان دا بندوبست کردا واں تے توں اپنی ٹریننگ آپ شروع کر لے کہ اودے نال کی گل کریں گا کداں اونوں سنبھالیں گا۔۔۔باقی جمیل الوں سارے خط تے توں اونوں اپنے ہتھ نال ای لکھدا ریا ایں نا۔۔۔اس لئی مینوں یقین اے کہ سارے حالات جاندے ہوئے تو اونوں چنگی طرح سنبھال لویں گا۔

میں نے اسے پکڑ کر چارپائی پر اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے کہا!!!یار نادر شمسہ کو یہاں لانے کی کیا ضرورت ہے ہم لوگ گاؤں بھی تو جا سکتے ہیں نا۔۔۔اب میں،میں نہیں ہوں اب میں جمیل ہوں۔۔۔نادر چند لمحے تو میری بات سمجھ نہیں پایا پھر جیسے ہی میری بات اس کی سمجھ میں آئی وہ ایک دم جوش میں میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا"ایتھے رکھ،،یار ایہہ گل تے میرے ذہن وچ ای نہیں آئی۔

پھر وہ سنجیدہ لہجے میں بولا۔۔۔کمالے یار گاؤں جانے سے پہلے کچھ اہم کرنے باقی ہیں۔۔۔سیالوں کی طرف سے ہم پر بہت بھاری قرض ہے جو کہ ہمیں بہت اچھے انداز میں چکانا ہے۔۔۔سیالوں کے ساتھ جو کچھ کرنا ہے اس کیلئے ابھی ہمیں بہت طاقت درکار ہے۔۔۔جسمانی طاقت نہیں،کچھ اور ہی طرح کی طاقت۔۔۔ایسی طاقت جس کے ذریعے ہم ان کتی کے پتروں کے سامنے چٹان کی طرح جم کے کھڑے ہو سکیں۔۔۔بولتے بولتے نادر کے جبڑوں کی رگیں تن گئیں اور میں خوشی سے سرشار  سوچنے لگا کہ پتہ نہیں یہ میری کس نیکی کا صلہ ہے جو قدرت نے مجھے نادر جیسا جانثار دوست عطا کیا ہے۔۔۔پھر نادر بولا:میں اتنے دن خالی نہیں بیٹھا۔۔۔کچھ بھاگ دوڑ کی ہے جس سے کافی کام کی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

                  *************************

       (50)

پھر وہ چند لمحے کچھ سوچ کر بولا:بلکہ تو ایسا کر ابھی میرے ساتھ چل میں تجھے کچھ دکھانا چاہتا ہوں۔۔۔میں اس کے ساتھ وہاں سے نکلا۔۔۔نادر نے ایک ٹیکسی کو روک کر کوئی ایڈریس بتایا پھر ہم لوگ ٹیکسی میں بیٹھ کر وہاں سے چل پڑے۔۔۔بیس منٹ بعد ہم لوگ ایک درمیانے درجے کی کوٹھی کے سامنے ٹیکسی سے اتر رہے تھے۔۔۔ٹیکسی والے کو کرایہ دے کر فارغ کرنے کے بعد ہم لوگ سیدھا اندر چلے گئے۔

اندرونی کمروں میں داخل ہونے سے پہلے ہی ایک دفتر نما کمرہ تھا۔۔۔نادر مجھے لیے ہوئے سیدھا اس کمرے میں گھستا چلا گیا۔۔۔اندر ایک بڑی سی میز کے پیچھے کرسی پر ایک مارواڑی سندھی بیٹھا ہوا تھا۔۔۔علیک سلیک کے بعد ہم لوگ اس کے سامنے بیٹھ گئے۔۔۔نادر کو دیکھ کر سندھی کی باچھیں کھل گئیں اور وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔آؤ جی نادر صاحب کیسے مزاج ہیں۔۔۔آج ہماری یاد کیسے آ گئی۔۔۔نادر نے جواب دیا سیٹھ تمہارے پاس ایک کام سے آئے ہیں۔۔۔ہمیں کچھ اسلحہ چاہیے جو کہ فارن میڈ ہو۔

وہ سندھی ہمیں لیکر اندرونی حصے میں موجود ایک تہہ خانے میں پہنچ گیا۔۔۔تہہ خانے میں ہر قسم کے چھوٹے بڑے ہتھیار موجود تھے۔۔۔تہہ خانہ کیا بلکہ یہ تو کسی آرمی بٹالین کا اسلحہ خانہ لگتا تھا۔۔۔میں نے اپنے لیے ایک جرمن لیوگر ہی پسند کیا جس کے ساتھ ایک چھوٹے سائز کا نہایت نفیس قسم کا سائلنسر تھا۔۔۔میری دیکھا دیکھی نادر نے بھی ایک جرمن لیوگر ہی اٹھا لیا۔

اس کے بعد نادر نے دو نہایت اعلیٰ قسم کی سٹین گنیں پسند کیں۔۔۔میں نے ایک تیز دھار خنجر،جو کے چمڑے کی ایک پیٹی میں بند تھا وہ پسند کیا۔۔۔تسمے کی مدد سے یہ خنجر میں نے اپنی داہنی پنڈلی کے ساتھ باندھ لیا۔۔۔سیٹھ کو پیمنٹ کرنے کے بعد سٹین گنیں اور سارے ہتھیاروں کا ایمونیشن دو دن بعد گاؤں والے ایڈریس پر پہنچانے کا کہہ کر ہم لوگ وہاں سے نکل آئے۔

گھر پہنچ کر اپنے پاس موجود گنز ہم نے ایک الماری میں رکھیں اور نادر مجھے لیکر پھر گھر سے نکل پڑا۔۔۔اب کی بار ہم لوگ ایک بینک پہنچے جہاں جا کر نادر نے بینک مینجر سے میرا تعارف اپنے بزنس پارٹنر کے طور پر کروایا۔۔۔پھر نادر نے اپنے اکاؤنٹ پر میرا نام بھی لکھوایا تا کہ نادر کی غیر موجودگی میں رقم نکالتے وقت مجھے کوئی پرابلم نہ ہو۔۔۔بینک سے فارغ ہو کر ہم باہر نکلے تو نادر نے ایک سگریٹ سلگا کر مجھے دیا اور دوسرا خود اپنے ہونٹوں سے لگا کر جلاتے ہوئے بولا:لالے دی جان ایتھے آلے تے سارے کم مک گئے۔۔۔ہن دس پنڈ واپسی دا کی پروگرام اے۔

میں دھواں اڑاتے ہوئے بولا۔۔۔نہیں نادر ابھی ایک کام باقی ہے یار۔۔۔پھر بنا نادر کو کچھ بتائے میں نے ایک پی سی او سے ڈاکٹر رحمان کے نمبر پر کال ملائی تو شومئی قسمت شبنم نے ہی کال اٹینڈ کی۔۔۔رسمی علیک سلیک کے بعد میں نے مدعے کی بات شروع کی۔
شبنم!!!تمہیں یاد ہے اس رات میں نے تم سے کہا تھا کہ ہو سکتا مجھے تمہاری ضرورت پڑے تو شبنم نے جواب دیا:کیوں نہیں میری جان سب یاد ہے تم بتاؤ تو سہی کیا کام ہے۔۔۔میں نے کہا شبنم میری ساری کہانی تو تم سن ہی چکی ہو۔۔۔اب مجھے ایک دو ایسے جانثاروں کی ضرورت ہے جو کہ پورے خلوص سے میرے ساتھ مل کر کام کریں۔۔۔تم ڈاکٹر کے ذرائع استعمال کر کے پتہ چلاؤ کہ ایسے لوگ کہاں سے ملیں گے۔۔۔چونکہ ڈاکٹر کرنل بھی ہے تو وہ لازمی ایسے لوگوں کو جانتا ہو گا۔

شبنم کہنے لگی یار اتنے سے کام کیلئے ڈاکٹر کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں۔۔۔میں بذاتِ خود ایسے دو آدمیوں کو جانتی ہوں جو کہ زمانے کے ستائے ہوئے ہیں۔۔۔اور زندہ رہنے کے تمام گر سیکھ چکے ہیں۔۔۔جرائم کی دنیا کی ساری اونچ نیچ سے واقف ہیں۔۔۔باقی تم ان دونوں سے مل لو خود ہی معلوم پڑ جائے گا کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔۔۔میں بس اتنا جانتی ہوں کہ وہ تمہارے کام آ سکتے ہیں۔۔۔تم اپنا ایڈریس مجھے بتاؤ میں ان کو بھیج دیتی ہوں۔

                *************************

      (51)

میں نے ایڈریس اسے بتایا تو اس نے دو گھنٹے کا کہہ کر کال کاٹ دی۔۔۔نادر چپ چاپ میری شکل دیکھ رہا تھا۔۔۔میں نے نادر کو اس رات کی ساری داستان سنائی تو نادر میرے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا:جیو شہزادے کہاں ہاتھ مارا ہے۔۔۔علاج کے دوران ہی ڈاکٹر کی بیوی چود ڈالی۔۔۔او کمالے تو واقعی کمال ہے۔۔۔اسی طرح ہنستے کھیلتے،باتیں کرتے ہم لوگ گھر پہنچ گئے۔۔۔دو گھنٹے بعد گھر کے صدر دروازے پر دستک ہوئی تو نادر نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔۔۔دروازے پر دو نوجوان موجود تھے۔

نادر ان کو لیکر اندر کمرے میں آ گیا۔۔۔چند منٹ بعد ہم لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔رسمی باتوں کے بعد میں نے ان کا ماضی جاننے کی استدعا کی تو انہوں نے اپنا ماضی الضمیر کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔۔۔واقعی یہ زمانے کے ستائے ہوئے جوان تھے۔۔۔ایک کا نام سردار علی اور دوسرے کا نام حنیف خان تھا۔۔۔سردار علی جسامت میں حنیف خان سے کافی تگڑا تھا۔۔۔جبکہ حنیف خان لمبوترے قد کے ساتھ سانپ جیسی آنکھیں رکھتا تھا۔۔۔حنیف خان کے گھر والے کسی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔۔۔دشمنوں نے اس کے پورے خاندان کو گولیوں سے اڑا دیا تھا۔

اس وقت حنیف خان کمزور تھا۔۔۔کچھ کر نہیں پایا لیکن وہ اپنے دشمن کو شکل سے پہچانتا تھا۔۔۔بعد میں حنیف خان نے چن چن کر مخالفوں کو قتل کر کے اپنے خاندان کے ایک ایک فرد کا بدلہ لیا۔۔۔میں حنیف خان کی کہانی سن کر بہت متاثر ہوا کیونکہ میں بھی تو اسی دشمنی کی بھینٹ چڑھ کر اپنا سارا خاندان کھو بیٹھا تھا۔

سردار علی لاولد تھا۔۔۔مطلب اس کو اپنے والدین بارے کچھ معلوم نہیں تھا۔۔۔ایک یتیم خانے میں پل کر بڑھا ہوا۔۔۔اور معمولی چوری چکاری کرتے کرتے ایک دن پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔۔۔اسے جیل ہو گئی اور پھر جیل سے وہ جرائم کی دنیا کے تمام قوانین سیکھ کر باہر نکلا۔۔۔شبنم کے ان لوگوں سے تعلقات بارے یہ پتہ چلا کہ حنیف خان تو شبنم کا دور پار کا رشتے دار تھا۔۔۔شبنم چونکہ حنیف کے سارے حالات جانتی تھی اس لیے اکثر شبنم اسے کہیں نہ کہیں کام دلوا دیا کرتی تھی۔۔۔اور حنیف کے توسط سے ہی سردار کو کام مل جاتا تھا کیونکہ یہ دونوں ایک ہی لائن کے آدمی تھے اس لیے آپس میں تعلقات تھے۔

میرے پاس آنے سے پہلے وہ ایک اسمگلر کے ساتھ کام کرتے تھے۔۔۔لیکن وہ اسمگلر چند مہینے پہلے ہی اپنے گروہ کے چیدہ چیدہ کارندوں سمیت قانون ساز اداروں کے ہاتھوں مارا گیا تو اس لیے آج کل یہ دونوں فارغ البال تھے۔۔۔چنانچہ شبنم کے کہنے پر میرے پاس چلے آئے۔۔۔میں جسے معمولی لڑکی سمجھتا رہا وہ تو بڑی توپ قسم کی شے نکلی۔۔۔شبنم کا کریکٹر مجھے کچھ خاص سمجھ نہیں آیا۔۔۔بہرحال میں نے دل میں سوچا کہ مجھے اس کا کریکٹر سمجھ کر کرنا بھی کیا ہے۔
اپنا کام بنتا
بھاڑ میں جائے جنتا۔
مجھے اپنے کام سے غرض رکھنی چاہیے۔۔۔مجھے حنیف خان کی آنکھوں میں بجلیاں سی دوڑتی نظر آئیں۔۔۔آنے والے وقتوں میں یہ ثابت بھی ہو گیا کہ بظاہر منحنی اور مجہول نظر آنے والا یہ شخص بے مثل صلاحیتوں کا مالک تھا۔۔۔اسے دیکھ کر کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ کتنا پھرتیلا اور طاقتور ہے۔۔۔اژدھے کی طرح وہ اگر کسی کو ایک بار اپنی گرفت میں جھکڑ لیتا تو پھر جان سے مار کر ہی چھوڑتا۔۔۔اس کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ صرف جسمانی طور پر ہی نہیں،ذہنی طور پر بھی بہت پھرتیلا اور مستعد تھا۔۔۔کسی بھی صورتحال میں فوری فیصلہ کرنا اور اس پر عملدرآمد کرنا اس کی خصوصیت تھی اور عام طور پر وہ فیصلہ درست ہی ثابت ہوتا تھا۔

میں نے ان دونوں ہر اعتماد کرنے کا فیصلہ کر لیا اور انہیں شروع سے لیکر آخر تک اپنی ساری رام لیلا سنائی۔۔۔ساری تفصیلات جاننے کے بعد وہ دونوں بہت متاثر ہوئے اور میرے لیے کام کرنے پر آمادہ ہو گئے۔۔۔پھر ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اب ہمیں واپس گاؤں جانا چاہیے۔۔۔اسلحہ کے نام پر دونوں کے پاس ریوالور موجود تھے۔۔۔ہم لوگوں نے اگلے دن وہاں سے گاؤں کوچ کرنے کا قصد کیا۔

                   ************************
       (52)

میں کافی دنوں سے محسوس کر رہا تھا کہ میرے دماغ میں کراچی کے حوالے سے کوئی چیز کھٹک رہی ہے۔۔۔لیکن بہت زور دینے پر بھی میں اپنے دماغ کو کلئیر نہیں کر پایا تھا۔۔۔ابھی اچانک جب واپسی کا قصد کیا تو اچانک میرے دماغ میں دو نام گونجے۔
رضیہ عرف راجی۔
چوہدری صفدر سیال۔
حالانکہ میری براہِ راست صفدر سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔۔۔لیکن صفدر کا وڈے چوہدری کے خاندان کا حصہ ہونا ہی اس کا سب سے بڑا جرم تھا۔۔۔اوپر سے راجی کے کہنے کے مطابق وہ راجی کا مجرم بھی تھا اور سفاکیت میں اپنی مثال آپ۔۔۔راجی کے خاندان کو قتل کرنے والا صفدر سیال۔۔۔جیسے جیسے میں اس بارے سوچتا گیا۔۔۔میرے دماغ میں جیسے پارہ بھرتا گیا۔۔۔میرے ذہن میں کھچڑی سی پک رہی تھی ، میرے وجود میں کہیں کوئی چنگاری سی پھوٹی تھی اور شعلہ بنتی جا رہی تھی۔۔۔میں سر تا پا مبتلائے اذیت تھا۔۔۔میرا رواں رواں جل رہا تھا۔۔۔جسم کا ہر مسام آگ اگل رہا تھا۔

مجھے یوں مٹھیاں بھینچ تے ہوئے دیکھ کر نادر نے مجھے آواز دیتے ہوئے پوچھا۔۔۔لالے دی جان کی گل خیر تے ہے۔۔۔میں نے نادر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔نادر ہم لوگ یہاں سے جا تو رہے ہی ہیں۔۔۔کیوں نہ جاتے جاتے وڈے چوہدری کیلئے ایک تحفہ ہی چھوڑ جائیں۔۔۔تحفہ؟ نادر نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا تو میں نے پھنکارتے ہوئے کہا:وڈے چوہدری کا ایک تخم یہاں کراچی میں بھی تو موجود ہے نا۔

نادر نے سرسراتے انداز میں کہا:کہیں تم صفدر سیال کی بات تو نہیں کر رہے۔۔۔میرے سر ہلانے پر وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔۔۔صفدر سیال جب بھی کہیں باہر نکلتا ہے تو اس کے ساتھ محافظوں کا پورا دستہ ہوتا ہے۔۔۔راستے میں اس پر ہاتھ ڈالنا بہت مشکل کام ہے البتہ ہم لوگ رات کے اندھیرے میں ان کو غفلت میں دبوچیں تو ذیادہ بہتر رہے گا۔۔۔تو کیا خیال ہے دوستو کام کی ابتدا کی جائے؟ یہ بات نادر نے سردار علی اور حنیف خان کو دیکھتے ہوئے کہی تھی۔۔۔حنیف خان بولا:سر جیسے آپ کہیں۔۔۔میں تو خود معاشرے کے اس ناسور کو مٹانے کیلئے بہت بیتاب ہوں۔

نادر نے مجھے مخاطب کیا:یار ایک مسئلہ ہے اس کنجر کے تخم کو ڈھونڈیں گے کیسے؟ کیونکہ میں صفدر سیال کی رہائش گاہ کے بارے میں نہیں جانتا۔۔۔البتہ ایک دفعہ وڈے چوہدری کے کسی کام سے مجھے صفدر کے ایک گودام میں جانے کا اتفاق ہوا تھا۔۔۔اس گودام کا ایڈریس مجھے معلوم ہے بس۔۔۔میں نے چونک کر پوچھا گودام۔کس چیز کا گودام؟ نادر نے بتایا کہ صفدر نے کسی انٹرنیشنل کمپنی کے ساتھ مل کر یہاں کراچی میں چھوٹے سائز کی جیپ بنانے کا کاروبار شروع کیا ہوا ہے جو کہ بہت منافع میں جا رہا ہے۔۔یہ بہت ہی منافع بخش یونٹ ہے۔

کراچی کے مضافات میں انہوں نے بڑے بڑے گودام بنا رکھے ہیں، جہاں وہ تیار شدہ جیپں اسٹور کرتے ہیں۔۔۔انہیں وہ پوائنٹ ون کے نام سے پکارتے ہیں۔۔۔اس پوائنٹ ون اور گوداموں کا انچارج ایک جبار باری نام کا بندہ ہے جو کہ عرفِ عام میں جے باری کہلاتا ہے۔۔۔یہ جے باری ان گوداموں کا انچارج بھی ہے اور ویسے یہ ایک چلتا پھرتا پرزہ ہے۔۔۔درجنوں قتل کر چکا ہے اور عادتاً انتہائی سفاک ہے۔۔۔جب میں وہاں گیا تھا تو اسی سے ملاقات ہوئی تھی۔۔۔پھر اس کی جنم کنڈلی نکالی تو اس کے بارے میں یہ سب معلومات حاصل ہوئیں۔

                   ************************

      (53)

میں سر جھکائے کچھ سوچ رہا تھا تبھی حنیف خان گلا کھنکھارتے ہوئے بولا:سر جہاں تک میں سمجھا ہوں کہ آپ ان گوداموں کے مالک کو گھیرا چاہتے ہیں۔۔۔تو اس کا ایک سیدھا سادھا حل میرے پاس ہے۔۔۔پہلے ان گوداموں کے بارے میں مکمل معلومات نکالتے ہیں۔۔۔پھر موقع دیکھ کر وہاں کوئی بڑی کاروائی کرتے ہیں۔۔۔اب ظاہری سی بات ہے کہ گودام کی تباہی پر مالک تو ضرور آئے گا نا۔
میں نے تحسین بھرے انداز میں حنیف خان کا کاندھا تھپکتے ہوئے کہا۔۔۔واہ میرے دوست تم نے تو ایک منٹ میں انتہائی آسان حل بتا دیا۔۔۔چلو پھر لگ جاؤ کام پر اور جتنی جلدی ہو سکے ان گوداموں کا مکمل بائیو ڈیٹا اکٹھا کر لو تا کہ ان کتی کے بچوں پر ایک کاری ضرب لگا کر جنگ کا آغاز کریں۔
حنیف خان نے سردار علی کو اٹھاتے ہوئے کہا سر مجھے صرف چند گھنٹے درکار ہیں۔۔۔امید ہے کہ کل صبح تک پوری معلومات کے ساتھ حاضر ہو جاؤں گا۔۔۔اس کے بعد وہ دونوں نادر سے گوداموں کا ایڈریس معلوم کر کے وہاں سے چلے گئے۔۔۔یہ رات نایاب خان کی معیت میں بڑی اچھی گزری۔۔۔یہ خان بھی یاروں کا یار تھا۔۔۔وہ ہمارے بارے میں صرف اتنا ہی جانتا تھا کہ ہم لوگ کسی دشمنی کا شکار ہوئے ہیں اور میں اپنا چہرہ تبدیل کرنے کراچی آیا ہوں۔۔۔اس سے ذیادہ نہ ہم نے اسے بتایا اور نہ ہی اس سیدھے سادے انسان کو بتانے کی ضرورت تھی۔

رات کو آتے وقت وہ بازار سے فرائی چکن اور گرما گرم تندوری روٹیاں لے آیا۔۔۔ہم تینوں نے مل کر خوب مزے سے کھانا کھایا۔۔۔پھر ہم لوگوں نے نایاب کو بتایا کہ ہم لوگ کل صبح واپس چلے جائیں گے تو ہمارے جانے کا سن کر وہ تھوڑا غمگین ہوتے ہوئے بولا بھائیو!!!تم لوگوں کے ساتھ تو ٹھیک سے بیٹھ کر گپ شپ بھی نہیں کر پایا اور تم لوگوں نے واپسی کی نوید سنا دی۔۔۔بہرحال اس کو کوئی میٹھا پپلو سنا کر ہم لوگوں نے اپنی واپسی بارے میں رام کیا اس کے بعد کافی دیر گپ شپ لگاتے رہے۔

اگلے دن صبح نو بجے حنیف خان اور سردار کی آمد ہوئی۔۔۔اس وقت نایاب خان کسی کام سے باہر نکلا تھا۔۔۔نایاب خان کو ہم نے یہی بتایا تھا کہ گیارہ بجے ہم لوگ گھر سے نکلیں گے تو وہ اس سے پہلے پہلے واپس آنے کا کہہ کر کسی ضروری کام سے چلا گیا۔۔۔چند لمحوں بعد میں اور حنیف آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔حنیف کے چہرے پر ایک خاص قسم کی چمک محسوس کر کے میں پوچھے بغیر رہ نہ سکا۔۔۔کیا بات ہے حنیف بہت پرجوش لگ رہے ہو تو وہ بولا:سر بات ہی خوشی کی ہے۔۔۔ہم نے کل رات پورا بائیو ڈیٹا نکال لیا ہے۔

ہماری معلومات کے مطابق پانچ سو کے قریب تیار شدہ جیپیں وہاں موجود شیڈز میں منتقل کی جا چکی ہیں۔۔۔پروڈکشن کا خام مال بھی کافی مقدار میں سٹور کیا ہوا ہے۔۔۔دھڑا دھڑ مینوفیکچرنگ ہو رہی ہے اور جیپ کے ٹینک میں پٹرول ڈال کر جیپ کو شیڈ میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔۔۔جیسے ہی مجھ پر یہ دلچسپ انکشاف ہوا کہ ان جڑواں گوداموں میں سیال اینڈ کمپنی کی پانچ سو تیار شدہ جیپیں موجود ہیں۔۔۔میری ذہن میں موجود چنگاری شعلہ بن کر ابھرنے لگی۔۔۔میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ سیالوں پر ایک کاری ضرب لگانی ہے۔

ان کی ماں کی پھدی۔

کہا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے اور میں بھی اس وقت سیالوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں تھا تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں تن تنہا ان گوداموں میں گھسوں گا اور ان گشتی کے بچوں سیالوں کو یادگار نقصان پہنچاؤں گا۔۔۔میرا ٹارگٹ گوداموں میں موجود وہ بڑے شیڈز تھے جہاں کمپنی کی تیار شدہ پانچ سو جیپیں موجود تھیں۔

میں نے حنیف اور نادر دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو ہمیں اس بھلے مانس نایاب خان کو چکر دینا ہے۔۔۔اس بابت میں نے ساری بات حنیف کو سمجھائی تو وہ بولا اس بات کی آپ فکر مت کریں۔۔۔آپ لوگ یہاں سے سیدھے ریلوے اسٹیشن جائیں اور میں آپ لوگوں کو ریلوے سٹیشن سے گیارہ بجے اٹھا لوں گا۔۔۔اس کے بعد باقی کا پروگرام میرے ٹھکانے پر بیٹھ کر طے کریں گے۔

پروگرام فائنل ہونے کے بعد سردار اور حنیف وہاں سے نکل گئے۔۔۔کچھ دیر بعد ہی نایاب خان گھر پہنچ گیا۔۔۔ٹھیک ساڑھے دس بجے نایاب خان خود ہمیں ریلوے اسٹیشن چھوڑنے آیا۔۔۔اس کو دکھانے کیلئے ہم نے باقاعدہ لاہور والی گاڑی کے ٹکٹ خریدے اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔۔گاڑی کے وصل دیتے ہی وہ سادہ لوح آدمی ہمیں الوداع کہہ کر واپس چلا گیا اور ہم اگلے ڈبے سے ہو کر گاڑی سے اتر کے محتاط انداز سے دیکھتے ہوئے سٹیشن سے باہر نکل آئے۔۔۔پروگرام کے مطابق حنیف خان ایک سرمئی رنگ کی فوکسی میں موجود تھا۔

                  ************************

      (54)

ہم گاڑی میں بیٹھے تو حنیف خان نے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔میں نے پوچھا حنیف یہ گاڑی کہاں سے لائے ہو تو وہ بولا:سر یہ ایک دوست کی ورکشاپ سے لایا ہوں۔۔۔میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔کچھ دیر بعد ہم لوگ ایک پرانے سے محلے کی تنگ گلیوں میں سے ہوتے ہوئے ایک چھوٹے سے مکان کے سامنے گاڑی سے اتر رہے تھے۔۔۔سردار علی دروازے پر ہی موجود تھا۔۔۔ہم لوگ اندر چلے گئے یہ دو کمروں کا مکان تھا۔۔۔کمرے میں موجود کرسیوں پر بیٹھ کر ہم نے آگے کا پلان ڈسکس کرنا شروع کر دیا۔

میں نے انہیں ساری بات تفصیل سے سمجھائی۔۔۔اس کام کیلئے ہمیں ایک بڑی گاڑی کی ضرورت تھی۔۔۔اس کی حامی سردار علی نے بھر لی کہ عین وقت پر وہ کسی پارکنگ لاٹ سے گاڑی اڑا لائے گا بقول اس کے یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔۔۔کاروائی کرنے کے بعد گاڑی کہیں بھی چھوڑی جا سکتی تھی۔۔۔نادر نے سردار کی بات سے اتفاق کیا۔۔۔بقیہ وقت ہم لوگوں نے کچھ ضروری خریداری میں گزارا۔۔۔پھر اپنے پروگرام کے مطابق رات تقریباً دس بجے سردار علی ایک نئی کالے رنگ کی تاریک شیشوں والی کرولا کار اڑا لایا۔

ہم چاروں اس تاریک شیشوں والی کار میں بیٹھ کر وہاں سے نکلے اور اس شخص کی کوٹھی پر پہنچ گئے جو کہ ان گوداموں کا کرتا دھرتا تھا۔۔۔جی ہاں میں جے باری کی بات کر رہا ہوں۔۔۔میں نے اور نادر نے انتہائی قیمتی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے جو کہ سپیشل آج ہی اسی مقصد کیلئے خریدے گئے تھے۔اسلحے کے نام پر ہم دونوں کے پاس جرمن لیوگر موجود تھے۔۔۔حنیف پروگرام کے مطابق کوٹھی سے تھوڑے فاصلے پر اتر گیا جبکہ سردار ڈرائیور کی حیثیت سے ڈرائیونگ سیٹ پر موجود رہا۔۔۔حنیف کو اتارنے کے بعد ہم سیدھا باری کی کوٹھی پر پہنچ گئے۔۔۔ہماری نئی نویلی کار دیکھ کر اس کے گارڈز بڑی تعظیم سے پیش آئے۔

میں نے جے باری کو پیغام بھجوایا کہ میں ایک ابھرتا ہوا صنعتکار ہوں اور کاروباری حوالے سے ہمارا باری صاحب سے ملنا اشد ضروری ہے۔۔۔اسی ضمن میں پہلے سے تیار کردہ ایک فرضی کارڈ بھی اندر بھجوایا۔۔۔تھوڑی سی مدوکدر کے بعد جے باری کے کارندے مجھے اور نادر کو ڈرائنگ روم میں لے گئے۔۔۔ہم لوگ صوفوں پر بیٹھے تھے کہ چند منٹ بعد جے باری بھی وہاں پہنچ گیا۔۔۔اس کو آتے دیکھ کر اس کا کارندہ جو ہمیں وہاں لیکر آیا تھا تعظیم دیتے ہوئے واپس چلا گیا۔

جے باری سانولی رنگت اور چست جسم والا چونتیس، پی تیس سالہ شخص تھا۔۔۔اس کے ساتھ ایک جواں سال لڑکی بھی تھی۔۔۔خوش شکل لڑکی نے جزبات بھڑکانے والا ایسا لباس پہن رکھا تھا کہ دیکھتے ہی لن سر اٹھانے لگے۔۔۔اس کی آنکھوں میں ہلکا سا خمار تھا صاف دکھتا تھا کہ وہ شراب پیتے ہوئے اٹھ کر آئے ہیں۔۔۔لڑکی کو دیکھتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ نہایت"اونچے درجے کی گاہک"پھانسنے والی رنڈی ہے۔۔۔آج ہفتے کی رات تھی اور غالباً جے باری اس ویک اینڈ پر گشتی کی پھدی مارنے کیلئے اس کو لایا تھا۔

پر جے باری کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ ایک اینڈ اس کے سر پر کیا قیامت توڑنے والا ہے۔۔۔میرے دل کا موسم عجیب ہو رہا تھا۔۔۔سیالوں اور ان سے وابستہ کسی بھی فرد کیلئے میرے دل میں رحم کی رمق نہیں تھی۔۔۔اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک باوردی ملازم ٹرالی دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔ٹرالی ہر شراب کی بوتل اور گلاس رکھے ہوئے تھے۔۔۔ملازم نے ہم سب کیلئے شراب کے جام بنائے اور الٹے قدموں واپس کمرے سے باہر چلا گیا۔
میں نے جے باری سے پوچھا"کیا ہم یہاں پورے تحفظ کے ساتھ بات کر سکتے ہیں۔،، دوسرے لفظوں میں میرا مدعا یہ تھا کہ کیا ہماری بات چیت کے درمیان یہ لڑکی یہاں ہی موجود رہے گی؟ جے باری نے کہا" ہاں آپ پورے اعتماد سے بات کر سکتے ہیں یہ کمرہ ہر طرح سے محفوظ ہے اور جب تک میں نہیں چاہوں گا کوئی ملازم بھی اندر قدم نہیں رکھے گا۔۔۔وہ ہمارے بیش قیمت لباسوں سے خاصا مرعوب نظر آ رہا تھا۔

                    ************************

      (55)

باری کی بات سن کر میں نے اور نادر نے گہری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہم دونوں نے سائلنسر لگے لیوگر باہر نکال لیے تو جے باری اور اس کی ساتھی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔۔پہلے تو جے باری نے فٹافٹ اٹھنے کی کوشش کی پھر گن کا رخ اپنی جانب دیکھ کر جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
کون ہو تم؟،، اس کی آنکھوں میں دنیا جہاں کے اندیشے سمٹ آئے۔
میں تمہارا باپ ہوں۔۔۔تیری ماں کا ٹھوکو ہوں۔۔۔میرا نام کمال ہے اور اگر میرا موڈ ہو تو میں بلاوجہ ہی بندہ مار دیا کرتا ہوں۔۔۔میری بات سن کر جے باری کی آنکھوں میں خوف کی لہر ابھر آئی۔۔۔اس نے اپنا شراب کا جام ٹرالی پر رکھا اور خود کو سنبھال کر بولا،، میں کسی کمال کو نہیں جانتا۔۔۔تم جو کوئی بھی ہو، میں تمہیں بتا دوں کہ یہاں چھ مسلح گارڈ موجود ہیں۔تم کسی بری نیت سے آئے ہو تو یہاں سے بچ کر نہیں جا سکو گے۔

اس دوران نادر اٹھ کر دروازے کے پاس چلا گیا اور دروازہ کور کر لیا مباداً کوئی آ نہ جائے۔۔۔میں نے ایک سگریٹ سلگا کر ہونٹوں میں دباتے ہوئے کہا،، تیرے جیسے نامرد کتوں کی فوج کے سہارے حرامی پن کر سکتے ہیں۔۔۔یہ میرے ہاتھ میں جو گن موجود ہے اس پر بڑا نفیس سائلنسر لگا ہوا ہے۔۔۔تمہیں گولی ماروں گا تو شاید ساتھ والے کمرے میں کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا۔۔۔یہ نمونہ دیکھو۔،، میں نے گولی چلائی تو ٹھس کی آواز نکلی اور گولی سیدھا لڑکی کی آنکھوں کے بیچوں بیچ ماتھے پر جا لگی اور کھوپڑی کو توڑتی ہوئی پیچھے سے نکل گئی۔

وہ گشتی باری کے پہلو میں بیٹھی تھی اس کے منہ سے چیخ بھی نہ نکل سکی وہ ایک دم جھکی اور اوندھے منہ قالین پر گر گئی۔۔۔اس کے خون سے سرخ قالین سرخ تر ہونے لگا۔۔۔جے باری جیسے سکتے کی حالت میں رہ گیا تھا۔۔۔اس کے ہونٹ کانپتے رہ گئے مگر آواز،، ندارد،، تھی۔۔۔میں نے زہریلے لہجے میں کہا:دیکھا بلکل بھی آواز نہیں آئی۔۔۔پانچ دس سیکنڈز تک قیامت خیز سناٹا جاری رہا۔
کک۔کیا چاہتے ہو تم؟" جے باری نے رندھے ہوئے گلے سے پوچھا۔
میں تو بہت کچھ چاہتا ہوں، لیکن فلحال تم بنا چوں چراں کیے میرے ساتھ پوائنٹ ون کے گوداموں پر چلو گے۔۔۔جہاں صفدر سیال اینڈ کمپنی کی تیار شدہ جیپیں موجود ہیں۔۔۔اس نے سر گھما کر لڑکی کی طرف دیکھا تو اس گشتی کی لاش تھوڑی دیر جنبش کرتی نظر آئی پھر ساکت ہو گئی۔۔۔جے باری نے ایک نہایت دہشت زدہ نظر لاش پر ڈالی اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میں نے جے باری کو گن دکھا کر اسے نشانہ پر رکھتے ہوئے لیوگر جیب میں ڈال لیا۔

یہاں شاید دوستوں کو مجھ سے اختلاف ہو کہ میں نے بے رحمی سے ایک بے قصور لڑکی کو مار دیا۔۔۔دشمنی کے اس انداز کو یقیناً آپ لوگ غیر اخلاقی قرار دیں گے لیکن سیالوں نے جس بے رحمی سے میری فیملی کو قتل کیا اور میری معصوم بہن کی عزت لوٹی اس کو پامال کیا تھا اس نے میرے اندر نفرت کا ایک ایسا الاؤ بھڑکا دیا تھا کہ اب میرے اندر اخلاقی اور غیر اخلاقی کی اہمیت بلکل بھی باقی نہ رہی تھی۔

میں سیالوں کے ساتھ جڑے ہر شخص کو بے رحمی سے ہی قتل کر دینا چاہتا تھا۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اب جو میں کرنے جا رہا ہوں یہ کروڑوں کا نقصان ہو گا لیکن یہ سب ایک ایسے دشمن کا نقصان تھا جس کا ہر فائدہ اس کی کالی طاقت میں اضافہ کرتا۔۔۔اور اس کی طاقت میرے جیسے بے ضرر لوگوں کو مجرم بناتی۔۔۔چھیمو جیسی لڑکیوں کی زندگیاں اجیرن کرتی۔۔۔راجی جیسی لڑکیوں کو اس کے عیش کدے کی زینت بناتی۔۔۔میری فیملی جیسے بے قصور لوگوں کا خون پیتی۔۔۔یہ طاقت ایک کالی شکتی تھی۔۔۔یہ کسی بھی حالت میں ہوتی تو اسے تباہ کرنا میرے نزدیک نیکی ہی ہوتی،، بہت بڑی نیکی۔

                    ********************

      (56)

ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہم پوائنٹ ون میں اس طرح داخل ہو رہے تھے کہ جے باری اپنی شاندار ٹیوٹا جیپ چلا رہا تھا اور میں اس کے پہلو میں اس طرح بیٹھا تھا کہ لیوگر میرے ہاتھ میں اور اس کی نال باری کی طرف تھی۔۔۔جبکہ نادر پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔میں نے کن اکھیوں سے بیک مرر میں دیکھا تو حنیف اور سردار گاڑی میں پیچھے پیچھے آتے نظر آئے۔۔۔پروگرام کے مطابق اگر ہم اندر کسی مصیبت میں پھنس جاتے تو سائلنسر نکال کر ایک فائر کر دیتے۔۔۔جسے سنتے ہی وہ دونوں ہماری مدد کو اندر آ جاتے۔۔۔ پوائنٹ ون میں داخل ہوتے وقت میں نے کہا،، میرا خیال ہے کہ تم مجھے اچھی طرح جان چکے ہو اور ابھی تازہ تازہ میری کارکردگی بھی دیکھ چکے ہو۔۔۔تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ کوئی بھی چالاکی دکھانے کی کوشش مت کرنا۔

سیکورٹی کے ایک دو مراحل سے گزر کر ہم پوائنٹ ون کے گوداموں کے قریب پہنچ گئے۔۔۔یہ گودام چھ عدد وسیع و عریض شیڈز پر مشتمل تھے۔۔۔یہاں تیار شدہ جیپیں قطار در قطار پارک کی گئی تھیں۔۔۔جے باری کو ابھی تک کچھ اندازہ نہیں تھا کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں۔۔۔ہم گاڑی سے اتر کر ایک وسیع و عریض شیڈز میں داخل ہو گئے۔۔۔یوں لگتا تھا کہ کسی اسٹیڈیم پر چھت ڈال دی گئی ہے۔۔۔اس شیڈ میں کم و بیش ڈیڑھ سو گاڑیاں موجود تھیں۔

دوسرے تین شیڈز بھی بلکل ساتھ ساتھ واقع تھے۔۔۔یہ ہفتے کی رات تھی۔۔۔گودام پر صرف ایک تہائی عملہ ڈیوٹی دے رہا تھا۔۔۔میں نے جے باری کو ہدایت کی کہ وہ کسی مناسب بہانے سے عملے کے ارکان کو پندرہ بیس منٹ کیلئے کسی دوسرے شیڈ کی طرف بھیج دے۔۔۔تھوڑی سی پش و پیش کے بعد باری نے میری ہدایت پر عمل کیا۔۔۔تاہم میں نے محسوس کیا کہ عملے کے انچارج کو باری کی یہ ہدایات کچھ پسند نہیں آئیں۔۔۔اس کے چہرے پر الجھن کے آثار تھے اور وہ میری اور نادر کی طرف سے بھی شک کا شکار معلوم ہوتا تھا۔

بہرحال اس نے عملے کے تین چار افراد کو باہر بھیج دیا۔۔۔میں اور نادر باری کے ساتھ شیڈ کے آفس میں کھڑے تھے جب انچارج اندر آگیا۔۔۔اس نے باری سے کہا:کیا میں آپ سے اکیلے میں بات کر سکتا ہوں؟ تم نے جو کہنا ہے یہیں کہہ دو۔" باری نے مری مری آواز میں کہا۔۔۔انچارج بولا" گستاخی معاف سر! یہ رولز کے خلاف ہے کہ ہم سب دوسرے شیڈ میں چلے جائیں۔۔۔اس کے علاوہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ۔۔۔" ابھی الفاظ اس کے منہ میں ہی تھے کہ نادر کی بے آواز گن سے ایک گولی نکلی جو کہ انچارج کی کھوپڑی توڑ کر نکل گئی۔۔۔وہ لہرا کر زمین کی طرف آیا۔
میں نے اسے ایک ہاتھ سے سنبھالا اور آہستگی سے زمین پر لٹا دیا۔۔۔گولی چلنے سے جو ٹھس کی آواز نکلی تھی اس نے ایک بدقسمت پہرے دار کو اندر کھینچ لیا۔۔۔باہر کھٹکے کی آواز سنتے ہی میں لپک کر آفس کے دروازے کے پیچھے گیا تھا اور جیسے ہی پہرے دار اندر داخل ہوا میں نے پیچھے سے اس کے منہ کو دبوچتے ہوئے لیوگر کی ایک زوردار ضرب اس کی گدی پر لگائی اور وہ بھی لہرا کر نیچے آ رہا۔۔۔جے باری کا انتہائی زرد رنگ کچھ اور بھی زرد ہو گیا۔۔۔یوں لگتا تھا کہ وہ ابھی گر کر بیہوش ہو جائے گا۔

تھوڑی ہی دیر بعد باری عملے کے دوسرے ارکان کو کسی نہ کسی بہانے سے دوسرے شیڈ کی طرف بھیجنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔اب وہ بلا چوں چراں میری ہدایات پر عمل کر رہا تھا۔۔۔آفس میں بس ایک ٹیلی فون سیٹ تھا جس کی تار میں نے کاٹ دی اور فون سیٹ اٹھا کر باہر پھینکتے ہوئے نادر کو اشارہ کیا تو اس نے جیب میں موجود ایک رسی کے ساتھ فٹافٹ جے باری کے ہاتھ باندھے اور اسے آفس میں دھکیل کر آفس کو باہر سے بند کر دیا۔۔۔میں جانتا تھا کہ شیڈز میں موجود گاڑیوں کے اندر کافی مقدار میں پٹرول ہو گا۔۔۔یہ پٹرول کمپنی کی طرف سے گاڑیوں کو آگے پیچھے حرکت دینے کیلئے گاڑیوں میں ڈالا جاتا ہے۔

میں نے نادر کو اشارہ کیا اور خود ایک طویل قطار میں موجود چند گاڑیوں کے بونٹ اٹھائے اور ان کی فیول لائنیں ایک پلاس کی مدد سے کاٹ دیں۔۔۔میری دیکھا دیکھی نادر بھی ایک دوسری قطار میں گھس کر یہی کاروائی دہرانے لگا۔۔۔جونہی ہم فیول لائن کاٹتے تھے پٹرول ایک باریک دھار کی شکل میں فرش پر بہنے لگتا تھا۔۔۔اگلے دس منٹ میں ہم لوگوں نے اس شیڈ میں موجود کم از کم بیس مختلف جیپوں کی فیول لائنز کاٹ دیں۔

پٹرول تیزی سے فرش پر بہنے لگا۔۔۔پٹرول کی بو یقیناً جے باری تک بھی پہنچ گئی ہو گی۔۔۔لیکن اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کوئی سوال کرنے کی کوشش کرتا۔۔۔آفس کے قریب ہی مجھے موبل آئل سے بھرے ہوئے چند ڈرم بھی نظر آ گئے۔۔۔میں نے ان ڈرمز کے کیپ ہٹائے اور انہیں بھی فرش پر لڑھکا دیا۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ موبل آئل بھی فرش پر پھیلتا گیا۔۔۔اب فقط ایک دیا سلائی دکھانے کی دیر تھی۔۔۔میں نے لیوگر ہاتھ میں سنبھالا اور آفس کا دروازہ کھولا۔۔۔جے باری کی آنکھیں دہشت سے پھیلی ہوئی تھیں۔۔۔میں نے لیوگر باری کی طرف سیدھا کرتے ہوئے کہا:سوری باری،، تم نے مجھ سے تعاون کیا ہے لیکن میں تمہیں زندہ نہیں رکھ سکتا۔

                    ************************

      (57)

پپ۔پلیز۔۔۔فار گاڈ سیک مجھے معاف کر دو۔۔۔میں قسم کھاتا ہوں کسی کو کبھی کچھ نہیں بتاؤں گا۔
لوگ کہتے ہیں کہ وعدے توڑنے کیلئے کیے جاتے ہیں اور جو وعدہ جو تم کر رہے ہو یہ تو ویسے ہی بڑا نا پائیدار ہے۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ جاتے جاتے تم ایک نا پائیدار وعدہ کرو۔
،،خدا حافظ
میں نے ٹرائیگر دبا دیا۔گولی اس کی شہہ رگ چیرتی ہوئی سر کے عقب سے نکل گئی۔۔۔وہ الٹ کر ریوالونگ چئیر پر گرا اور زمین بوس ہو گیا۔۔۔اسے گولی مار کر میں نے اس کی موت کو آسان بنا دیا تھا۔۔۔ورنہ اسے بھی وسیع شیڈ اور اس میں موجود گاڑہوں کے ساتھ زندہ نظرِ آتش ہو جانا تھا اور یہ بڑی دردناک موت ہوتی۔۔۔شیڈ کے مین دروازے کے بلکل قریب کھڑے ہو کر میں نے دیا سلائی روشن کی۔۔۔پٹرول کی ایک لکیر بہتی ہوئی میرے بلکل قریب چلی آئی تھی۔۔۔میں نے دیا سلائی اس لکیر پر پھینک دی۔۔۔آگ بڑی تیزی سے اپنے سفر پر روانہ ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند سیکنڈز میں ہی قطار در قطار کھڑی جیپوں کے نیچے پھیل گئی۔

شعلے تیزی سے بلند ہوئے تو میں اور نادر جلدی سے مین گیٹ سے سلپ ہو کر باہر نکل گئے۔۔۔آگ دیکھتے ہی ایک دم ہر طرف ہاہاکار مچ گئی اور ہم نے درجنوں باوردی کارکنوں کو آگ کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا۔۔۔یہ افراتفری بھاگنے کیلئے بے حد موزوں تھی۔۔۔ہم احتیاط سے پیچھے ہٹتے گئے۔۔۔چند منٹ میں ہم آتشزدگی کے مقام سے دور محفوظ مقام تک پہنچ چکے تھے۔۔۔تبھی ہم نے ان گِنت دھماکوں کی آوازیں سنیں۔۔۔یہ ٹائر برسٹ ہونے اور پٹرول ٹینک پھٹنے کی آوازیں تھیں۔۔۔شیڈ میں بھڑکنے والے شعلے دیکھتے ہی دیکھتے چالیس پچاس فٹ کی بلندی تک چلے گئے تھے۔۔۔جے باری کی ٹیوٹا جیپ کی چابی اس کے اگنیشن میں ہی موجود تھی۔۔۔ہم فٹافٹ جیپ میں بیٹھے نادر نے جیپ سٹارٹ کی اور بھاگتے دوڑتے لوگوں کے درمیان سے ڈرائیو کرتا ہوا بڑی سڑک کی طرف نکل گیا۔

کچھ دیر بعد ہم ایک محفوظ جگہ پر پہنچ گئے۔۔۔ہمیں ٹھکانے پر پہنچانے کے بعد حنیف خان اور سردار علی گاڑیاں ٹھکانے لگانے چلے گئے۔۔

اگلے روز کے اخبارات میں پوائنٹ ون میں ہونے والی آتشزدگی کی خبریں شہہ سرخیوں کے ساتھ موجود تھیں۔۔۔گودام میں موجود چار شیڈز جل کر بلکل راکھ ہو چکے تھے۔۔۔ان میں موجود باقی اشیاء بھی راکھ کا ڈھیر ہو گئیں۔۔۔اس آگ نے کم و بیش چار سو گاڑیوں کو اسکریپ میں بدل دیا تھا۔۔۔ان خبروں کے ساتھ تین ہلاکتوں کی خبر بھی چھپی تھی۔۔۔اور پولیس کی طرف سے اس آتشزدگی کو مجرمانہ فعل قرار دیا جا رہا تھا۔

پوائنٹ ون کے عملے نے بیان دیا تھا کہ دو شخص رات گئے جے باری کے ساتھ گودام میں آئے تھے جن کے عادات و اطوار مشکوک تھے۔۔۔مخاطب امکان ہے کہ وہ دونوں شخص ہی اس المیے کے ذمے دار ہوں۔۔۔مجھے کامِل یقین تھا کہ اس المیے کے بعد صفدر سیال اپنی تمام مصروفیات چھوڑ کر پوائنٹ ون کا رخ کرے گا اور یہی میں چاہتا تھا اس کاروائی کا مقصد ہی یہی تھا۔۔۔میری توقع کے عین مطابق اگلے روز صبح سویرے صفدر سیال اپنے پانچ عدد باڈی گارڈز کے ساتھ پوائنٹ ون پر موجود تھا۔۔۔اور بھی کافی لوگ وہاں پہنچے تھے جو کہ نقصان کا جائزہ لینے آئے تھے۔

میں نے سردار اور حنیف خان کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی کہ وہ صفدر کی آمد و رفت اور اس کی نقل و حرکت کا مکمل حساب رکھیں اور مجھے صورتحال سے آگاہ کریں۔۔۔صفدر کے پوائنٹ ون پہنچتے ہی انہوں نے خوش اسلوبی سے اپنا کام کرنا شروع کر دیا۔۔۔حنیف نے وہاں کسی کے ساتھ یاری گانٹھ لی تھی تا کہ صفدر کے آنے پر وہ اس کو پہچان کر اس کی تصدیق کر سکے۔۔۔اتنا تردد صرف اسی لیے کہ حنیف خان پہلے صفدر سیال کو نہیں جانتا تھا۔

                    ************************

      (58)

رات گئے تک وہ دونوں واپس نہیں آئے تو میں اور نادر کھانا کھانے کیلئے باہر نکل گئے۔۔۔ایک اعلیٰ درجے کے ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد ہم لوگ ٹیکسی کی تلاش میں باہر فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔۔۔اسی وقت میں نے ہوٹل کے گیٹ سے کچھ دور ہوٹل کی دیوار کے ساتھ پھیلی ہوئی سبزے کی پٹی پر ایک انتہائی بوڑھے اور آٹھ دس سال کے بچے کو بیٹھے دیکھا۔۔۔ان کے جسموں پر میلے کچیلے جیتھڑے جھول رہے تھے۔۔۔وہ ہوٹل کے گیٹ سے نکلنے والی ہر گاڑی کے سامنے پر امید انداز میں ہاتھ پھیلا رہے تھے۔۔۔مگر ہر گاڑی ان کے قریب سے گزرتی چلی جاتی تھی۔

ہم بھی ان کے سامنے سے گزر گئے۔۔۔وہاں سے گزرتے وقت میں نے اس معصوم سے بچے کی آنکھوں میں جس طرح امید کے ستارے ٹوٹتے دیکھے اس نظارے نے یکلخت ہی گویا مجھے کسی اونچی چوٹی سے دھکیل دیا۔۔۔اگر وہ پیشہ ور بھکاری تھے تب بھی قابلِ رحم تھے۔۔۔رات کا پچھلا پہر اور شہر کا یہ کنارہ۔۔۔ان کے جسموں پر جھولتے ہوئے چیتھڑے،، پھر ان کی عمریں بھی تو کیسی تھیں۔۔۔ایک اتنا معصوم اور کم سن کہ ابھی اس کی آنکھوں نے محرومی اور آسودگی پر افسردہ ہونا بھی نہیں سیکھا تھا۔۔۔دوسرا اتنا ضعیف کہ زندگی کی مزید نا انصافیوں کو سہنے کی سکت اس میں منقعود تھی۔۔۔مگر جانے وہ کس قرض کو چکانے کیلئے اپنی آپ کو ایسے گھسیٹ رہا تھا۔

ان تمام سوچوں اور ساری کیفیت نے ایک لمحے میں مجھ پر غلبہ پا لیا اور مجھے خود احساس نہیں ہوا کہ کب میں نادر سے پیچھے ہٹ کر ان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔۔ان کے چہروں کی لجاجت اور بے بسی دیکھ کر میرا جسم جیسے مزید سرد پڑ گیا۔۔۔عجیب بات یہ تھی کہ مجھے ان پہ ترس نہیں آ رہا تھا بلکہ میں ان سے اپنے آپ کو خوفزدہ محسوس کر رہا تھا جیسے میں ان کا مجرم ہوں۔۔۔میں نے اپنے بٹوے سے پانچ سو والے دو نوٹ نکال کر بوڑھے کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا یہ نوٹ لو اور فوراً یہاں سے اپنے گھر چلے جاؤ۔۔۔دو منٹ بعد میں تم لوگوں کو یہاں نہ دیکھوں۔۔۔بوڑھے نے کانپتے ہاتھوں سے نوٹ تھامے،، بے یقینی سے میری طرف دیکھا اور لرزتی ہوئی آواز میں بولا" اتنے پیسوں میں تو پورا مہینہ آرام سے گزر جائے گا جی۔۔۔اب مجھے یہاں بیٹھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔لیکن کیا آپ واقعی یہ رقم مجھے دے رہے ہیں۔
ہاں۔ہاں تمہیں ہی دے رہا ہوں۔۔۔شاید میں تمہارا مقروض ہوں۔جن آسائشوں پر میرا قبضہ ہے،، شاید ان میں کچھ تمہارا بھی حصہ تھا۔۔۔میں نے تیزی سے کہا،، اب فوراً یہاں سے روانہ ہو جاؤ۔۔۔اتنا کہہ کر میں پیچھے ہٹ آیا۔نادر فٹ پاتھ پر کھڑا میری طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔میں بوجھل قدموں سے نادر کے پاس پہنچا اور بنا کچھ بات کیے ہم لوگ آگے چلنے لگے۔۔۔اسی وقت ایک خالی ٹیکسی نظر آ گئی۔نادر نے اشارے سے اسے روکا۔۔۔اگلے ہی منٹ میں ہم لوگ وہاں سے نکل رہے تھے۔
ہم لوگ گھر واپس پہنچے تو دیکھا کہ وہ دونوں بھی واپس آ کر کھانا کھا چکے تھے۔۔۔حنیف خان نے رپورٹ دی کہ صفدر سیال اپنے پانچ باڈی گارڈز کے ساتھ آیا تھا۔۔۔اور بھی کافی لوگ گاڑیوں میں بھر کر وہاں پہنچے تھے۔۔۔انتظامیہ کے بھی کافی لوگ تھے۔۔۔اب یہ تو نہیں جانتا کہ وہ تفتیش کو کس رخ پر چلا رہے ہیں۔۔۔لیکن صفدر بہت غصے میں بولتے ہوئے بات بات پر چلا رہا تھا۔

صفدر کی روانگی کے وقت وہ دونوں انتہائی احتیاط سے اس کے پیچھے ہو لیے اور اس کی رہائش گاہ دیکھ آئے۔۔۔کراچی کے ایک پوش ایریا گلشنِ اقبال ٹاؤن میں اس کی رہائش گاہ ہے۔۔۔یہ ایک کوٹھی نما مکان ہے جہاں ہر وقت گھریلو ملازمین کے علاوہ چار پانچ مسلح محافظ موجود ہوتے ہیں۔۔۔چونکہ کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہو سکتی تھی کہ صفدر پر حملہ کیا جا سکتا ہے اس لیے ہم چاروں نے بنا ٹائم ضائع کیے پوری طرح مسلح ہو کر دو گھنٹے بعد ہی صفدر کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اس طرح کے لوگوں نے ایسی رہائشوں میں صدر دروازے کے آس پاس ہی سکیورٹی کا کیبن بنایا ہوتا ہے۔۔۔جہاں ہر وقت ایک یا دو محافظ موجود ہوتے ہیں۔حنیف کے ذمہ دروازہ کھلوانے کا کام لگایا گیا اور ہمارے اندر داخل ہو کر گاڑی سے باہر آنے تک ہمیں کور بھی اسی نے مہیا کرنا تھا۔چنانچہ پروگرام کے مطابق ہم لوگ صدر دروازے پر پہنچ گئے۔۔۔میں اور نادر گاڑی میں پچھلی سیٹوں پر دبکے ہوئے تھے جبکہ حنیف نے کال بیل بجانے کی بجائے آہستہ سے دروازہ بجایا تو توقع کے عین مطابق ایک منٹ بعد ہی گیٹ کی چھوٹی کھڑکی کھلی اور ایک غنڈہ ٹائپ آدمی نے سر باہر نکالا۔۔۔میں آہستہ سے سر اٹھائے اسی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔حنیف نے باہر نکلنے والے منہ پہ اپنے سیدھے ہاتھ سے ایک زور دار پنچ مارا تو وہ سر ایک دم اندر غائب ہو گیا۔۔۔گمان غالب یہی تھا کہ وہ بندہ اس زوردار پنچ کہ تاب نہ لاتے ہوئے الٹ کر اندر جا گرا ہو گا۔

اس کے ساتھ ہی حنیف اندر داخل ہو گیا۔عین اسی وقت نادر نے اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور تقریباً اڑتے ہوئے گیٹ تک پہنچا اور غڑاپ سے اندر غائب ہو گیا حالانکہ یہ ہمارے پروگرام کا حصہ نہیں تھا۔میں بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے نیچے  اترنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اسی وقت صدر دروازہ کھلتا ہوا دکھائی دیا تو سردار نے گاڑی بڑھائی اور ہم اندر داخل ہو گئے۔۔۔اندر دو عدد محافظ اوندھے پڑھ ہوئے تھے جن کو حنیف اور نادر ساتھ موجود کیبن کی جانب کھینچ رہے تھے۔۔۔میں بنا کوئی وقت ضائع کیے گاڑی سے اترا اور اندرونی کمروں کی طرف بھاگا۔۔سامنے راہداری میں آمنے سامنے بلکل ہوٹل طرز کے کئی کمرے تھے۔۔۔ایک کمرے کے دروازے سے مجھے دو گارڈز نکلتے دکھائی دیے تو میں نے لگاتار دو بار ٹرائیگر دبایا ایک تو سر میں گولی کھا کر پٹ سے گرا جبکہ دوسرے کے منہ سے ایک چیخ بلند ہوئی۔۔۔جو کہ لازماً اندر دوسروں کمروں تک سنی گئی ہو گی۔چنانچہ مجھے اس پر ایک گولی اور ضائع کرنی پڑی۔۔۔
 سائلنسر لگے ریوالور کی گولیوں سے ان دو گارڈز کو مار گراتے ہوئے چند منٹ میں ہی مختلف کمروں میں جھانکتا ہوا ایک عالیشان کمرے تک پہنچ گیا۔۔۔یہ کمرہ اندر سے لاک تھا۔میں نے دروازے کے لاک پر لیوگر کی نال رکھ کر ٹرائیگر دبایا تو لاک کے پرخچے اڑ گئے اور میں دروازے کو دھکیلتا ہوا کمرے میں داخل ہو گیا۔
                    ************************

      (59)

اندر ایک اٹھائیس تیس سال کا نوجوان لڑکا جو کہ لازماً صفدر ہی تھا کیونکہ اس کے خباثت بھرے چہرے کے نین نقش بلکل اپنے باپ مظفر سیال سے ملتے تھے۔۔وہ بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔مجھے یوں گن اٹھائے اندر گھستے دیکھ کر وہ وہیں ساکت ہو گیا۔۔۔اس کی آنکھیں میں ابھی تک نیند کا خمار موجود تھا۔۔۔صاف پتہ چل رہا تھا کہ میرے اندر داخل ہونے پر اس کی آنکھ کھلی ہے۔۔۔مجھے دیکھ کر وہ چلایا،، اوئے کون ہو تم۔۔۔اس وقت تک میں کمرے کے درمیان میں پہنچ چکا تھا۔۔۔ابھی بتاتا ہوں کتے کے بچے،، میرا لہجہ دھیما تھا لیکن مجھے امید تھی کہ وہ اس لہجے کی تہہ میں سرسراتی ہوئی سفاکی کی لہر کو محسوس کر سکتا تھا۔
اتنی دیر تک میں جو کہ بیڈ کے پاس پہنچ چکا تھا میں نے اپنا ہاتھ گھمایا اور لیوگر کا دستہ پوری قوت سے اس کی کنپٹی پر مارا تو وہ تیورا کر وہیں گر گیا۔۔۔صفدر کو بدستور لیوگر کی زد میں رکھتے ہوئے میں نے تنبیہہ کی۔

اپنی جگہ سے ہلنا مت۔

یہ کہہ کر میں نے نظریں گھما کر کمرے کا جائزہ لینے کی کوشش کی تو مجھے اس کی آنکھیں دیکھ کر ادراک ہوا کہ صفدر کی آنکھوں میں موجود کینہ اسے چین نہیں لینے دے گا وہ لازمی قسمت آزمائی کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔عین اسی وقت صفدر یکلخت ٹوٹ جانے والے اسپرنگ کی طرح اچھل کر مجھ پر حملہ آور ہوا۔۔۔لیکن دوستو میں وہاں چھولے بیچنے تو نہیں گیا تھا کہ اس سے غافل ہو جاتا۔۔۔میں کاوا کاٹ کر گھوم گیا اور اس سے پہلے کہ وہ مجھ تک پہنچ پاتا میں نے ایڑھی پر گھومتے ہوئے ایک زور دار ٹھوکر اس کی ناف پر رسید کی۔۔۔اس کے منہ سے اوغ،، کی آواز نکلی اور وہ ابکائی لیکر دہرا ہو گیا۔۔۔اس کے ساتھ ہی میرا ہاتھ اتنی تیزی سے حرکت میں آیا کہ میں خود بھی حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔۔۔

لیوگر کے دستے نے ایک بار پھر پوری قوت سے اس کی کنپٹی پہ اسی جگہ کو بوسہ دیا جہاں چند لمحے پہلے ایک دفعہ وہ اپنی مہر لگا چکا تھا۔
اسی وقت نادر اور سردار علی اندر داخل ہوئے۔۔۔اندر کی سچویشن دیکھ کر سردار علی تو مطمئن ہوتے ہوئے باہر نکل گیا لیکن نادر میرے پاس ہی کھڑا ہو کر بولا۔۔۔ہٹ جا کمالے اینوں میں ویکھدا آں۔۔۔میں نے اسی وقت اس کو روکتے ہوئے کہا:نہیں نادر تم نہیں اس سے تو مجھے خود ہی حساب چکتا کرنا ہے۔۔۔میں چند لمحے وہیں کھڑا رہا۔۔۔صفدر اب بے حس و حرکت ہو چکا تھا۔۔۔میں نے آگے بڑھ کر اس کمرے کی تلاشی لینی شروع کر دی۔۔۔الماری کے ایک خانے میں کافی رقم اور سونے کی چند اینٹیں نظر آ گئیں۔۔۔یہ دیکھ کر نادر نے تکیے کا غلاف اتارا اور یہ سب غلاف میں ڈال لیا۔۔۔ہمارا مقصد چوری نہیں تھا بلکہ جسمانی نقصان کے ساتھ ساتھ مالی نقصان تھا۔

آخرکار مجھے اپنی ضرورت کی چیز مل ہی گئی۔۔۔ایک قلم اور راٹنگ پیڈ۔میں وہاں سے پلٹ کر واپس آیا۔۔۔صفدر کے پاس زمین پر بیٹھتے ہوئے میں نے بلکل راجو کی طرح ہی لیوگر کی نال اس کی گانڈ میں گھسائی اور ٹرائیگر دباتا چلا گیا۔۔۔ہر گولی کے ساتھ اس کے جسم کو جھٹکے لگتے گئے اور وہ شعور میں آنے سے پہلے ہی عدم بالا کو روانہ ہو گیا۔ آخرکار لیوگر سے ٹرچ ٹرچ کی آواز نکلی تو میں ایک گہرا سانس لیتے ہوئے وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔میرا دل اس وقت نفرت سے لبریز تھا۔۔۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں اس کنجر کا انفرادی طور پر کوئی حصہ تھا یا نہیں لیکن میری نفرت کو دوچند کرنے کیلئے یہی احساس کافی تھا کہ یہ اسی موذی سانپوں کا بیٹا ہے جن کا نام میں اپنے دشمنوں کی مختصر سی فہرست میں لکھ چکا تھا۔

صفدر کے جسم کو بیہوشی کے عالم میں ہی چند جھٹکے لگے تھے اور پھر وہ ساکت ہو گیا۔


  ************************

      (60)

سوری ڈئیر صفدر۔۔۔،، میں نے زیرِ لب کہا:تمہارا قصور میری نظر میں صرف اتنا تھا کہ تم چوہدری مظفر سیال کے خاندان سے ہو۔۔۔لیکن تم نے ایک معصوم لڑکی اور اس کی ماں کو زبردستی داغدار کرنے کے بعد اسے اس کی کے ماں باپ کے ساتھ قتل کر دیا۔۔۔میں اگر تمہارے ساتھ یہ سلوک نہ کرتا تو ایک نہ ایک روز تم کسی اور کے ہاتھوں مارے جاتے۔

پھر میں دل ہی دل میں بولا:راجی تیرا بدلہ پورا ہوا۔

اس کے بعد میں نے ایک کرسی کھینچ کر میز کے پاس کی اور بیٹھ کر نہایت توجہ اور انہماک سے لکھنے لگا۔

چوہدری مظفر سیال!!!

اپنے ایک نادیدہ دشمن کی طرف سے یہ تحفہ قبول کرو۔۔۔تم اپنے ایک بے ضرر دشمن کو مار کر بہت خوش ہوئے تھے نا۔۔۔تو سوچا کہ اسی خوشی کے موقع پر ہم بھی تھوڑی خوشی منا لیں۔
اس طرح تھوڑا حساب بھی ہلکا ہو جائے گا۔۔۔
بہت جلد میں تم تک پہنچوں گا اور میرا وعدہ رہا اس دفعہ تجھے ایسی ہستی کی لاش پیش کروں گا جو کہ تمہیں جان سے ذیادہ پیاری ہو گی۔۔۔اپنی حفاظت کیلئے تم جو کوئی بھی طریقہ اختیار کرنا چاہو۔۔۔مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔میں اپنا وعدہ پورا کرنے کیلئے تم تک پہنچوں گا ضرور۔۔۔!!! منتظر رہنا۔
اب تم شاید سمجھ نہ پاؤ کہ میں ہوں کون۔۔۔ایک بات یاد رکھنا۔۔۔میری طرف سے جو بھی لاش کا تحفہ ملے گا اس میں کوئی نیا سوراخ نہیں ہو گا۔۔۔پورے جسم پر صرف ایک ہی جگہ گولیوں کے نشان ہوں گے۔۔۔امید ہے کہ تم سمجھ چکے ہو گے کہ میں کون ہوں۔

خط لکھ کر میں نے تنقیدی زاویہ نظر سے ایک دفعہ خط کو پڑھا۔۔۔ٹھیک ہی لکھا گیا تھا۔۔۔اس خط سے وڈے چوہدری پر یقیناً وہی اثر ہوتا جو کہ میں چاہتا تھا۔۔۔وہ ورق میں نے پیڈ سے اتار کر صفدر کی لاش کے گریبان میں پھنسایا۔۔۔پھر ہم لوگ نہایت اطمینان بھرے انداز میں صفدر کی ہی ایک گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل آئے۔۔۔راستے میں ایک پبلک فون بوتھ میں کھڑے ہو کر میں نے وڈے چوہدری کا نمبر ملایا تو چند گھنٹیوں بعد کسی نے فون اٹھا لیا۔۔۔ہیلو کون ہے بھئی؟ وڈے چوہدری صاحب کیلئے ایک پیغام ہے!!! میں نے آواز بدلنے اور لہجہ حتیٰ الامکان سپاٹ رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

وڈے چوہدری صاحب کو جب تم میرا پیغام دو گے تو وہ خود ہی سمجھ جائیں گے کہ میں کون ہوں۔" میں نے سرد مہری سے کہا۔،، ان سے کہنا کہ کراچی میں صفدر سیال کی رہائش گاہ پر ان کیلئے ایک تحفہ موجود ہے۔۔۔جس قدر جلد ممکن ہو اسے وصول کر لیں۔۔۔اس سے پہلے کہ پولیس وہاں پہنچے۔۔۔چوہدری صاحب کم از کم ایک نظر اسے دیکھ لیں تو بہتر ہو گا۔۔۔کک۔کک کیا مطلب آگے سے وہ ہکلایا لیکن میں نے کال کاٹ دی۔

پھر ہم لوگ وہاں سے نکلے اور گھر کے پاس پہنچ کر ہم سب اتر گئے جبکہ سردار اس گاڑی کو کسی انسان جگہ پر چھوڑنے چلا گیا۔۔۔تاریک رات تھی اس لیے کسی کی بھی نظروں میں آئے بغیر ہم لوگ سلامتی سے گھر پہنچ گئے۔۔۔گھر آتے ہی نادر نے پیسوں اور سونے کی اینٹوں والا غلاف میری طرف کر دیا۔۔۔میں نے چند لمحے اسے دیکھا پھر اس میں سے نقد رقم نکال کر اس میں سے آدھی رقم اور سونے کی اینٹیں حنیف خان کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ حنیف یہ سب تم اور سردار آپس میں بانٹ لینا۔
حنیف خان نے شکریہ کہہ کر وہ اپنے پاس رکھ لیا اور سردار کے واپس آنے پر میرے سامنے ہی اس مال کے دو حصے کر کے ایک حصہ سردار کے حوالے کر دیا۔۔۔اتنا سونا اور پیسے دیکھ کر سردار کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری جسے میں کوئی خاص نام نہیں دے سکا۔۔۔بہرحال ہم لوگوں نے آگے کا پروگرام سیٹ کیا اور اس کے بعد ہم سو گئے۔۔۔اگلی صبح دس بجے میں اور نادر وہاں سے ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے۔

                    ************************

Javidbond saab bohat bahtreen jaa rahu hain isi tara lagy rahain.

thanks

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.