December 25, 20169 yr Author ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولیے، میں جانتی تھی، پال رہی ہوں سنپولیے! بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی، اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بگھو لیے. پلکوں پہ کچی نیندوں کا رس پھیلتا ہو جب، ایسے میں آنکھ دھوپ کے رخ کیسے کھولیے. تیری برہنہ پائی کے دکھ بانٹتے ہوئے، ہم نے خود اپنے پاوں میں کانٹے چھبو لیے. میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئی، سب لوگ اپنے اپنے عزیزوں کو رولیے. " خوشبو کہیں نہ جائے" یہ اصرار ہے بہت، اور یہ بھی آرزو کہ ذرا زلف کھولیے. پروین شاکر...
December 25, 20169 yr Author Poet: John Elia اُس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں ہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیں میں اُسی طرح تو بہلتا ہوں اور سب جس طرح بہلتے ہیں وہ ہے جان اب ہر ایک محفل کی ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں کیا تکلف کریں یہ کہنے میں جو بھی خوش ہے، ہم اُس سے جلتے ہیں ہے اُسے دور کا سفر در پیش ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں تم بنو رنگ، تم بنو خوشبو ہم تو اپنے سخن میں ڈھلتے ہیں
December 25, 20169 yr Author Poet: جون ایلیا جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی چاند نے تان لی ہے چادرِ ابر اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی سو گئی ہوگی وہ شفق اندام سبز قندیل جل رہی ہوگی سرخ اور سبز وادیوںکی طرف وہ مرے ساتھ چل رہی ہوگی چڑھتے چڑھتے کسی پہاڑی پر اب وہ کروٹ بدل رہی ہوگی پیڑ کی چھال سے رگڑ کھا کر وہ تنے سے پھسل رہی ہوگی نیلگوں جھیل ناف تک پہنے صندلیں جسم مل رہی ہوگی ہو کے وہ خوابِ عیش سے بیدار کتنی ہی دیر شل رہی ہوگی
December 25, 20169 yr Author Poet: Allama Iqbal کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد یہ مدرسہ یہ جواں یہ سرور و رعنائی انہیں کے دم سے ہے مے خانۂ فرنگ آباد نہ فلسفی سے نہ ملا سے ہے غرض مجھ کو یہ دل کی موت وہ اندیشہ و نظر کا فساد فقیہہ شہر کی تحقیر کیا مجال مری مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد خرید سکتے ہیں دنیا میں عشرت پرویز خدا کی دین ہے سرمایۂ غم فرہاد کئے ہیں فاش رموز قلندری میں نے کہ فکر مدرسہ و خانقاہ ہو آزاد رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم عصا نہ ہو تو کلیمیؑ ہے کار بے بنیاد
December 25, 20169 yr Author Poet: Allama Iqbal اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد یہ مشت خاک یہ صرصر یہ وسعت افلاک کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گل یہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد قصوروار غریب الدیار ہوں لیکن ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے وہ دشت سادہ وہ تیرا جہان بے بنیاد خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد
December 25, 20169 yr Author Poet: hamid raza khan اقبال کےبارے میں کیا کہیں ہم لوگ شاعری انکی ادب پر کر رہی ہے راج دنیا کو دے رہے ہیں وہ پیغام انقلاب اور انہوں نےاردو کو بخش دی معراج
December 25, 20169 yr Author Poet: Allama Iqbal ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو کمال کس کو میسر ہوا ہے بے تگ و دو نفس کے زور سے وہ غنچہ وا ہوا بھی تو کیا جسے نصیب نہیں آفتاب کا پرتو نگاہ پاک ہے تیری تو پاک ہے دل بھی کہ دل کو حق نے کیا ہے نگاہ کا پیرو پنپ سکا نہ خیاباں میں لالۂ دل سوز کہ سازگار نہیں یہ جہان گندم و جو رہے نہ ایبکؔ و غوریؔ کے معرکے باقی ہمیشہ تازہ و شیریں ہے نغمۂ خسروؔ
December 25, 20169 yr Author ہم بھی صابر ہیں مگر ہم، سے بچھٹرنے والے ہم تیرے ضبط پہِ۔۔ حیران ہوا کرتے ہیں
December 25, 20169 yr Author زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا تُو ملا ہے تو یہ احساس ہوا ہے مجھ کو یہ میری عمر محبت کے لیے تھوڑی ہے اک ذرا سا غمِ دوراں کا بھی حق ہے جس پر میں نے وہ سانس بھی تیرے لیے رکھ چھوڑی ہے تجھ پہ ہو جاؤں گا قربان، تجھے چاہوں گا میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا اپنے جذبات میں نغمات رچانے کے لیے میں نے دھڑکن کی طرح دل میں بسایا ہے تجھے میں تصور بھی جدائی کا بھلا کیسے کروں میں نے قسمت کی قسمت کی لکیروں سے چرایا ہے تجھے پیار کا بن کے نگہبان تجھے چاہوں گا میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا تیری ہر چاپ سے جلتے ہیں خیالوں میں چراغ جب بھی تو آئے جگاتا ہوا جادو آئے تجھ کو چھو لوں تو پھر اے جانِ تمنا مجھ کو دیر تک اپنے بدن سے تری خوشبو آئے تو بہاروں کا ہے عنوان تجھے چاہوں گا میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا قتیل شفائی
December 25, 20169 yr Author Poet: Bulleh Shah جھلیا عشق کمانا اوکھا کسے نوں یار بنانا اوکھا پیار پیار تے ہر کوئی بولے کرکے پیار نبھانا اوکھا ہر کوئی دکھاں تے ہنس لیندا ای کسی دا درد ودانا اوکھا گلاں نال نئی رتبے مل دے جوگی بھیس وتانا اوکھا کوئی کسے دی گل نئی سن دا لوکاں نوں سمجھاناں اوکھا
Create an account or sign in to comment