Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

مجھے تم سے محبت ہے

Featured Replies

دل کو چھو لینے والا تھریڈ۔۔۔

بہت اعلیٰ 

ینگ ہارٹ بھائی

  • 4 weeks later...
Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

نقش کہن

شانوں پہ کس کے اشک بہایا کریں گی آپ

روٹھے گا کون؟ کس کو منایا کریں گی آپ

وہ جارہا ہے صبح محبت کا کارواں

اب شام کو کہیں بھی نہ جایا کریں گی آپ

اب کون خود پرست ستائے گا آپ کو

کس بے وفا کے ناز اٹھایا کریں گی آپ

پہروں شب فراق میں تاروں کو دیکھ کر

شکلیں مٹا مٹا کے بنایا کریں گی آپ

گمنام الجھنوں میں گزاریں گی رات دن

بیکار اپنے جی کو جلایا کریں گی آپ

اب لذت سماعت رھرو کے واسطے

اونچے سروں میں گیت نہ گایا کریں گی آپ

ہمجولیوں کو اپنی بسوز تصورات

ماضی کے واقعات سنایا کریں گی آپ

اب وہ شرارتوں کے زمانے گذر گئے

چونکے گا کون کس کو ڈرایا کریں گی آپ؟

فرقت میں دور گوشہ نشینی بھی آئیگا

ملنے سہیلیوں سے نہ جایا کریں گی آپ

غصے میں نوکروں سے بھی الجھیں گی بار بار

معمولی بات کو بھی بڑھایا کریں گی آپ

پھر اس کے بعد ایک وہ منزل بھی آئے گی

دل سے مرا خیال مٹایا کریں گی آپ

حالات نو بہ نو کے مسلسل ہجوم میں

کوشش سے اپنے جی کو لگایا کریں گی آپ

آئے گا پھر وہ دن بھی تغیر کے دور میں

دل میں کوئی خلش ہی نہ پایا کریں گی آپ

نقش کہن کو دل سے مٹانا ہی چاہیے

گذرے ہوئے دنوں کو بھلانا ہی چاہیے



اُن کا جواب

جب آپ کو قریب نہ پایا کروں گی میں
رُوٹھوں گی خود سے، خود کو منایا کروں گی میں
اب میرے آنسوؤں کی پناہیں نہیں رہیں
اب اپنے آنسوؤں کو چھپایا کروں گی میں
رخصت ہوا ہے صبحِ محبت کا کارواں
اب کس کے پاس شام کو جایا کروں گی میں
ہاں وہ شرارتوں کے زمانے گزر گۓ
اب حسرتوں کے داغ اُٹھایا کروں گی میں
مطلب ہی اب نہیں کسی بات سے مجھے
اب بات بات کو نہ بڑھایا کروں گی میں
انجام کے اداس اندھیروں میں بیٹھ کر
آغاز کے چراغ جلایا کروں گی میں
ہم جھولیوں کو اپنی با سوزِ تصورات
ماضی کا وقت سنایا کروں گی میں
حیرت ہے آپ کا مرے بارے میں یہ خیال
دل میں کوئی خلش ہی نہ پایا کروں گی میں
شکلین بنا بنا کے مٹایا کریں گے آپ
شکلین مٹا مٹا کے بنایا کروں گی میں
حالات سے نباہ، یہ کیا کررہے ہیں آپ
حالات کا مذاق اُڑایا کروں گی میں
کیا ہو گۓ ہیں آپ بھی کچھ مصلحت پسند
کیا اب فریبِ ہجر ہی کھایا کروں گی میں
کیا اِ ضترابِ روح بھی برباد ہو گیا
کیا یوں ہی اپنے دل کو جلایا کروں گی میں
ہے اس روِش کا نام اگر زندگی تو پھر
خود زندگی کو بحث میں لایا کروں گی میں
بس آپ ہی نہ دیجیے یہ مشورے مجھے
ہیں اور بھی ستم جو اُٹھایا کروں گی میں
’’نقشِ کہن‘‘کو دل سے مٹایا نہ جائے گا
گزرے ہوئے دنوں کو بُھلایا نہ جائے گا

(جون ایلیا)

  • Author

میری جان
ٹھیک کہتی ہو
ہماری اس محبت کا

بھلا کیا فائدہ ہو گا ؟
ہمارے درمیاں جو دوریاں ہیں
کم نہیں ہوں گی
کبھی بارش کے موسم میں
ہمیشہ ساتھ رہنے کی

جو خواہش دل میں جاگی تھی
جو سپنے ہم نے دیکھے تھے
وہ سپنے ٹوٹ جا ئیں گے
میری جان
ٹھیک کہتی ہو
مقدر کے لکھے کو ہی

اگر تسلیم کرنا ہے
تو پھر ایسی محبت کا
بھلا کیا فائدہ ہو گا ؟
مگر اس کو
اگر چاہو تو میری بے بسی کہہ لو
مجھے تم سے محبت ہے

  • 2 weeks later...
  • Author

محبت زندگی ہے اور جب یہ زندگی
دِن رات کی تفریق سے آزاد ہو جائے
تو ماہ و سال کی گِنتی کے وہ معنی نہیں رہتے
جو اَب تک تھے
سِمٹ جاتے ہیں سب رشتے
اک ایسے سلسلے کی خوش نگاہی میں
کہ اک دوجے کی آنکھوں میں ہُمکتے خواب بھی ہم دیکھ سکتے ہیں
جہاں ہم سانس لیتے ہیں
اور جن کی نیلگوں چادر کے دامن میں
ہمارے "ہست" کا پیکر سنورتا ہے
وہ صدیوں کے پُرانے، آشنا اور اَن بنے منظر
کئی رنگوں میں ڈھلتے
خوشبوؤں کی لہر میں تحلیل ہوتے ہیں
زمیں چہرہ بدلتی ہے، آسماں تبدیل ہوتے ہیں
محبت بھی وفا صورت
کسی قانون اور کُلیئے کے سانچے میں نہیں ڈھلتی
کہ یہ بھی انگلیوں کے ان نشانوں کی طرح سے ہے
کہ جو ہر ہاتھ میں ہو کر بھی آپس میں نہیں ملتے
یہ ایسی روشنی ہے
جس کے اربوں رُوپ ہیں لیکن
جسے دیکھو وہ یکتا ہے
نہ کوئی مختلف اِن میں نہ کوئی ایک جیسا ہے
محبت استعارا بھی، محبت زندگی بھی ہے
ازل کا نور ہے اس میں، اَبد کی تیرگی بھی ہے
اِسی میں بھید ہیں سارے، اِسی میں آگہی بھی ہے

(امجد اسلام امجد)

  • 5 months later...
📢 Post Your Ad Here
  • Author

محبت ذات ہوتی ہے۔۔۔۔۔

کوئی جنگل میں جا ٹہرے
کسی بستی میں بس جائے
محبت ساتھ ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت خوشبوؤں کی لے
محبت موسموں کی دھن
محبت آبشاروں کے بہتے پانیوں کا من
محبت جنگلوں میں رقص کرتی مورنی کا تن
محبت برف پڑتی سردیوں میں دھوپ بنتی ہے
محبت چلچلاتے گرم صحراؤں میں ٹھنڈی چھاؤں کی مانند
محبت اجنبی دنیا میں اپنےگاؤں کی مانند

محبت دل۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت جاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت روح کا درماں۔۔۔
محبت مورتی ہے۔
اور کبھی جو دل کے مندر میں کہیں پر ٹوٹ جائے تو؟؟؟؟؟؟
محبت کانچ کے گڑیا
فٍضاؤں میں کسی کے ہاتھ سے گر چھوٹ جائے تو؟؟؟؟؟
محبت آبلہ ہے کرب کا
اور پھوٹ جائے تو؟؟؟؟؟
محبت روگ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔
محبت سوگ ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محبت شام ہوتی ہے ۔۔۔
محبت رات ہوتی ہے۔۔۔۔۔
محبت جھلملاتی رات میں برسات ہوتی ہے
محبت نیند کی رت میں حسیں خوابوں کے رستوں پر
سلگتے، جاں کو آتے ،رتجگوں کی گھات ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

محبت جیت ہوتی ہے؟؟؟
محبت مات ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔
محبت ذات ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • 1 month later...
  • Author

میرے ہمسفر، تجھے کیا خبر
یہ جو وقت ہے کسی دھوپ چھاؤں کےکھیل سا
اسے دیکھتے، اسے جھیلتے
میری آنکھ گرد سے اٹ گئی
میرے خواب ریت میں کھو گئے
میرے ہاتھ برف سے ہو گئے
میرے بے خبر، تیرے نام پر
وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹوں پر
وہ جو دیپ جلتے تھے بام پر
وہ نہیں رہے
وہ نہیں‌رہے کہ جو ایک ربط تھا درمیاں
وہ بکھر گیا
وہ ہوا چلی
کہ جو برگ تھے سرِ شاخِ جاں، وہ گرا دیئے
وہ جو حرف درج تھے ریت پر، وہ اڑا دیئے
وہ جو راستوں کا یقین تھے
وہ جو منزلوں کے امین تھے
وہ نشانِ پا بھی مٹا دیئے
میرے ہمسفر، ہے وہی سفر
مگر ایک موڑ کے فرق سے
تیرے ہاتھ سے میرے ہاتھ تک
وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ
کئی موسموں میں بدل گیا
اسے ناپتے، اسے کاٹتے
میرا سارا وقت نکل گیا
تو میرے سفر کا شریک ہے
میں تیرے سفر کا شریک ہوں
پر جو درمیاں سے نکل گیا
اسی فاصلے کے شمار میں
اسی بے یقیں سے غبار میں
اسی راہ گزر کے حصار میں
تیرا راستہ کوئی اور ہے
میرا راستہ کوئی اور ہے

Edited by Young Heart

  • Author

شاید یہ محبت ہے

مجھے اس شخص سے
کل تک محبت تھی، حماقت آج لگتی ہے
مجھے اچھا لگا شاید
اور اس سے بڑھ کے کب کچھ تھا؟
مگر میں یہ سمجھ بیٹھی
کہ شاید یہ محبت ہے
اور اب جب مجھ کو سچ مُچ دل کی گہرائی سے
کوئی بھا گیا جاناں
تو میں اس سوچ میں خاموش بیٹھی ہوں
کہ کچھ کہنا نہیں مجھ کو
میں کیوں دل میں چھپے جذبے عیاں کر دوں
قوی امکان ہے کل یہ بھی پچھتاوا نہ بن جائے
میں اس لمحے سے ڈرتی ہوں

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.