Everything posted by Play_Boy007
-
Andy ke Tibbi Pehlo
انڈہ ایک نہایت عمدہ غذا اور دوا ہے اس کی نیم پکی زردی خون پیدا کر کے عام جسمانی کمزوری کو بھی دور کرتی ہے جو لوگ کسی وجہ سے کمزور ہوں انہیں انڈہ ضرور استعمال کرنا چاہیئے یہ انسانی جسم میں حرارت کی کمی پورا کرنے کے لئے بڑا ہی تیر بہدف ہے یہی وجہ ہے کہ موسم سرما میں ہمارے ملک میں اسے بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے انسانی غذا کے لئے جن امینو ایسڈ کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب کے سب انڈے میں پائے جاتے ہیں اس میں ایک تہائی حصہ چربی ۰۱ فیصد کاربوہائیڈ ریٹس شامل ہیں دھاتوں کی بھی کثیر مقدار شامل ہے جن میں فاسفورس، لوہا، گندھگ، میگنیشیم، پوٹاشیم، سوڈیم، اور کلورین قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ تھوڑی سی مقدار میں جست، تانبا اور آئیوڈین بھی پائی جاتی ہیں حیاتین میں الف د اور حیاتین ای شامل ہیں حیاتین ب اور حیاتین سی اور البورین کی مودار مذکوررہ بالا حیاتین سے زیادہ ہے ۔ بچوں کے مرض سوکھا میں انڈے کی زردی انتہائی مفید ہے اس کی سفیدی کا پانی بچوں کے دستوں و پیچش میں بہت مفید چیز ہے۔
-
غصہ دبانے سے دفتری کارکردگی متاثر ہوتی ہے
ملازمت پیشہ افراد کے منہ سے یہ جملہ اکثر سننے کو ملتاہے کہ ، باس کی بات ہمیشہ صحیح ہوتی ہے، یہ جملہ طنزیہ انداز میں بھی کہا جاتا ہے اور مزاحیہ طور بھی ۔ لیکن ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جو باس کی ہر بات پر آنکھیں بند کرکے عمل کرنے کو کامیابی کی کنجی سمجھتے ہیں اور وہ اس بات کاتصور بھی نہیں کرسکتے کہ کبھی باس کے سامنے اونچی آواز میں بات بھی کی جاسکتی ہے یا اس کے سامنے اپنے غصے کا اظہار بھی ہوسکتا ہے۔اس کا سیدھا سیدھا مطلب نوکری سے چھٹی ہے۔ لیکن ایک حالیہ تحقیق نے اس نظریے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہاروڈ یونیورسٹی کے میڈیکل اسکول میں ایک حالیہ مطالعاتی جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ جو لوگ اپنے افسر کے سامنے اپنے جذبات یا غصے کودباتے ہیں ،ان میں یہ تسلیم کرنے کی شرح تین گنا زیادہ پائی گئی کہ ان کی ذاتی زندگیاں بہت مایوس کن ہیں اور انہیں اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی کوئی خاص کامیابیاں حاصل نہیں ہوئیں ہیں۔ جائزے میں شامل جن افراد نے یہ بتایا کہ وہ اپنے غصے کو افسر کے سامنے تعمیری انداز میں بیان کرتے ہیں ، وہ پیشہ ورانہ طورپر دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ کامیاب تھے اوروہ اپنے عزیزوں اور اہل خانہ کے ساتھ خوش و خرم زندگی گذار رہے تھے۔ ہاروڈ میڈیکل سکول کے سائیکائرسٹ پروفیسر جارج ویلنٹ کی نگرانی میں 1965 سے یہ مطالعاتی جائزہ کیا جارہا ہے جس میں گذشتہ 44 سال کے دوران 824 مردوں اور عورتوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا گیا۔ پروفیسر ویلنٹ نے ،جو ہاروڈ یونیورسٹی کی ہیلتھ سروس سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ لوگ غصے کو ایک انتہائی خطرناک جذبہ سمجھتے ہیں اور ان کی اس بارے میں حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ مثبت رویوں کا اظہار کریں لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس مطالعاتی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ رویہ خود فریبی ہے اور آخر کار خوف ناک حقیقت سے ایک خطرناک حد تک منکر ہونے کا عمل ہے۔ پروفیسر ویلنٹ کہتے ہیں کہ منفی جذبات مثلاً خوف اور غصہ فطری ہیں اور انتہائی اہم ہیں ۔ منفی جذبات اکثر اوقات بقا کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ ایسے تجربات جیسا کہ ہم نے کیے ہیں، یہ ثابت کرتے ہیں کہ منفی جذبات ہماری توجہ کو محدود اور مرکوز کردیتے ہیں تاکہ ہم جنگل پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی بجائے اپنا دھیان درختوں تک محدود کرسکیں۔ اگرچہ پروفیسر کا خیال ہے کہ بے قابو غصہ تباہ کن ہے تاہم وہ غصے پر قابو پانے کے لیے دواؤں اور کونسلنگ کے بڑھتے ہوئے استعمال پر شدید نکتہ چینی کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ غصے کا اظہار ہماری شخصیت کی بہتری میں انتہائی اہم کردار ادا کرسکتاہے۔ پروفیسر ویلنٹ کہتے ہیں کہ ہم سب کو غصہ آتا ہے لیکن جو لوگ اپنے غصے کا اظہار مثبت انداز میں کرنا سیکھ لیتے ہیں اور یہ بھی سیکھ لیتے ہیں کہ غصے کے منفی اثرات سے کس طرح بچنا ممکن ہے، ان کی جذباتی اور ذہنی صحت نمایاں حد تک بہتر ہوجاتی ہے۔ اگر ہم ان طریقوں مسلسل عمل کریں تو ہم زندگی میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔ جریدے سوشل بی ہیویئر اینڈ پرسنالٹی میں شائع ہونے والے ایک حالیہ جائزے سے معلوم ہوا کہ 55 فی صد افراد نے بتایا کہ غصے کے اظہار سے مثبت نتائج برآمد ہوئے تھے جب کہ ایک تہائی نے یہ کہا تھا کہ اس طرح انہیں اپنی غلطیوں پر نظر ڈالنے میں مدد ملی۔
-
کاربن اخراج، کنٹرول کے لیے’مصنوعی درخت‘
انجینئروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دس سے بیس برس میں دنیا میں کاربن اخراج پر قابو پانے کے لیے ایک لاکھ ’مصنوعی درختوں‘ کا جنگل تیار کیا جا سکتا ہے۔ مصنوعی درختوں کا خیال آنے والے زمانے میں نباتاتی انجینئرز کے ان خیالات میں سے ایک ہے جنہیں قابلِ عمل قرار دیا گیا ہے۔ انسٹیٹیوشن آف مکینیکل انجینئرز کی تیارہ کردہ رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ جیو انجینئرنگ کے بغیر خطرناک ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچنا ناممکن ہوگا۔ اس رپورٹ میں عالمی معیشت کو کاربن سے پاک کرنے کا سو سالہ نقشۂ راہ بھی شامل ہے۔ تاہم رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ٹم فوکس کے مطابق جیو انجینئرنگ اپنے بل بوتے پر ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور اسے کاربن کے اخراج میں کمی کی دیگر کوششوں کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ بہت سے ماحولیاتی سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ دنیا کے پاس کاربن اخراج میں کمی کے لیے چند دہائیاں ہی ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو فضاء میں اتنا کاربن ڈائی آکسائیڈ جمع ہو جائے گی کہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔.
-
ملٹیپل اسکلوروسس کے مریضوں کیلۓ
السلام علیکم دوستو ﻟﻨﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺳﭩﯿﻢ ﺳﯿﻠﺰ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﻣﻠﭩﯿﭙﻞ ﺍﺳﮑﻠﻮﺭﻭﺳﺲ)ﺍﯾﻢ ﺍﯾﺲ(ﮐﮯ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﺗﺠﺮﺑﮯ ﮐﻮ ﺟﻠﺪ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺗﺠﺮﺑﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﺭﭖ ﺑﮭﺮ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﭘﭽﺎﺱ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﺗﺠﺮﺑﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺁﯾﺎ ﻣﻠﭩﯿﭙﻞ ﺍﺳﮑﻠﻮﺭﻭﺳﺲ ﮐﮯ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﭩﯿﻢ ﺳﯿﻠﺰ ﮐﺎ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﻢ ﺍﯾﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺩﻣﺎﻍ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﮍﮪ ﮐﯽ ﮨﮉﯼ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﮐﻢ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﮐﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺻﺤﺖ ﯾﺎﺑﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ۔ ﻟﻨﺪﻥ ﮐﮯ ﺍﻣﭙﯿﺮﯾﻞ ﮐﺎﻟﺞ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﭘﺎﻭﻟﻮ ﻣﻮﺭﺍﺭﻭ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺷﻮﺍﮨﺪ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﭩﯿﻢ ﺳﯿﻞ ﻣﻮﺛﺮ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺎﺭ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﻮﺩﮮ ﺳﮯ ﺳﭩﯿﻢ ﺳﯿﻞ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﺒﺎﭨﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﭩﯿﻢ ﺳﯿﻞ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺩﻣﺎﻍ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍﯾﻢ ﺍﯾﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﮩﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﺭﺳﺖ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﯽ ﺍﯾﻢ ﺍﯾﺲ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻗﻢ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﻢ ﺍﯾﺲ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ ﮐﻮ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻧﺌﮯ ﺗﺠﺮﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻣﻠﭩﯿﭙﻞ ﺍﺳﮑﻠﻮﺭﻭﺳﺲ ﮐﮯ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﻃﺮﯾﻘۂ ﻋﻼﺝ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁ ﺳﮑﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﻣﺮﺽ ﻣﯿﮟ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺩﻓﺎﻋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺧﻠﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺋﻠﯿﻦ ﻧﺎﻣﯽ ﻣﺎﺩﮮ ﮐﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﭘﮩﭽﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻣﺎﻍ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﺩﯾﮕﺮ ﺣﺼﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺭﺳﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﭩﯿﭙﻞ ﺍﺳﮑﻠﻮﺭﻭﺳﺲ ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻣﺎﻏﯽ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺎﻡ ﮨﮯ۔ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﺮﺽ ﮐﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺗﯿﺲ ﻻﮐﮫ ﮨﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔
-
postal code
PAKISTAN POSTAL CODES LIST Station Post Code Station Post Code Abbottabad 22010 Lahore G.P.O. 54000 Attock 43600 Lahore Gulberg 54660 Badin 72220 Lahore Cantt 54810 Bagh (A.J.K) 12500 Lahoer Model Town 54700 Bahawalnagar 62300 Lahore Ferozepure road 54600 Bahawalpur 63100 Lahore Awan Colony 54780 Bannu 28100 Lahore Iqbal Town 54570 Balakot 21230 Lahore Chah Miran 54900 Bhakkar 30000 Lahore Walton 54750 Ckaklala Cantt 46200 Lahore Ismail Nagar 54760 Chakwal 48800 Lahore Baghban- Pura 54920 Charsadda 24420 Lahore Town Ship 54770 Chitral 17200 Lahore Shahdara- Bagh 54950 Dera Ghazi Khan 32200 Lahore Mughal Pura 54840 Dera Ismail Khan 29050 Lahore Multan road 54500 Dir 18000 Punjab University New Campus 54590 Faisalabad 38000 Larkana 77150 Fateh Jang 43350 Leiah 31200 Gilgit 15100 Mandi Bahauddin 50400 Gujar Khan 47850 Mansehra 21300 Gujranwala 52250 Mardan 23200 Gujrat 50700 Mianwali 42200 Gwader 91200 Mirpur (A.J.K.) 10250 Haripur 22620 Mirpur Khas 69000 Hasan Abdal 43730 Multan 60000 Hyderabad G.P.O. 71000 Murree 47150 Islamabad G.P.O. 44000 Muzaffarabad (A.J.K.) 13100 Jacobabad 79000 Narowal 51800 Jhang 35200 Nawab Shah 67450 Jang Shahi 73110 Nowshera 24100 Jhelum 49600 Okara 56300 Kalat 88300 Parachinar 26300 Karachi Al-Haidry 74700 Peshawar 25000 Karachi Defence 75500 Qila Sheikhupura 39350 Karachi G.P.O. 74200 Quetta G.P.O. 87300 Karachi F.B. Area 75950 Rahim Yar Khan 64200 Karachi City G.P.O. 74000 Rawalkot (A.J.K) 12350 Karachi Gulshan-e-Iqbal 75300 Rawalpindi G.P.O. 46000 Karachi Korangi 74900 Risalpur 24080 Karachi New Town 74800 Sahiwal 57000 Karachi PECHS (Block # 6) 75400 Saidu Sharif 19200 Karachi Nazimabad G.P.O. 74600 Sanghar 68100 Karachi Saddar G.P.O. 74400 Sargodha 40100 Karachi Cantt 75530 Sialkot 51310 Karachi Clifton 75600 Sibi 82000 Karak 27200 Sujawal 37050 Kasur 55050 Sawabi G.P.O 23430 Khanewal 58150 Sukkur 65200 Kanpur 22650 Talagang 48100 Khairpur 66020 Taxila 47080 Khushab 41000 Toba Tek Singh 36000 Khuzdar 89100 Turbat 92600 Kohat 26000 Vehari 61100 Kotri 76000 Wah 47000 Kamo Ke 52470 Wah Cantt 47040 Kalar Kahar 48530 Wazir Abad 5200
-
عمر چھپانے والی دوا کی فروخت شروع
لندن : ایک یورپی ادارے نے عمر چھپانے والی ایک ایسی دوا تیار کی ہے کہ جس میں چہرے کی جھریوں کو ختم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق دن میں دوا کی صرف ایک خوراک لینے سے ناصرف چہرے کی جھریاں ختم ہونا شروع ہوجائیں گی بلکہ یہ دوا نئی جلد کے خلیوں کو بھی بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ اس دوا کی رنگت لال ہے جو ٹماٹر میں موجود خاص اجزاء سے بنائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس دوا کو جنوبی امریکہ اور یورپ میں فروخت کے لئے پیش کردیا گیا ہے۔
-
Bharti kisan
- یک فرد کا کھانا 368 ڈالر میں
Passand karne ka buhat shukriya dear... Creamy- پیسٹری بنانے کا مقابلہ
- بوڑھی چیونٹیاں ریٹائر ہو جاتی ہیں
پتے کاٹنے والی چیونٹیوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق ایسی چیونٹیاں جن کے دانتوں کا اثر ختم ہو جاتا ہے وہ ریٹائر ہو جاتی ہیں۔ یونیورسٹی آف ایروگن کے سائنسدانوں کے مطابق بوڑھی چیونٹیاں، جوان چیونٹیوں کے برعکس کم پتے کاٹتی ہیں۔ تحقیق کارورں کے مطابق پتے کاٹنے والی چیونٹیوں کو کیڑے مکوڑوں کی دنیا کا کسان کہا جاتا ہے۔ ... تحقیق کارورں کے مطابق پتے کاٹنے والی ہر ایک چیونٹی اپنے وزن سے پچاس فیصد زیادہ پتے کاٹ سکتی ہے۔ یہ چیونٹیاں ایک چھوٹے سے جلوس کی شکل میں ان پتوں کو اپنے گھر لے کر جاتی ہیں جہاں اُن پتوں کو اپنی افزائش بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تحقیق کارورں کے مطابق بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ اِن چیونٹیوں کے دانت کمزور ہو جاتے ہیں یا اُن کی تیزی کم ہو جاتی ہے اور ایسی چیونٹیاں جو زیادہ عمر رسیدہ ہو جاتی ہیں وہ یہ کام مکمل طور پر چھوڑ دیتی ہیں۔ عمر رسیدہ چیونٹیاں پتے کاٹنے کا کام نوجوان چیونٹیوں پر چھوڑ دیتی ہیں اور وہ پتوں کو اپنے گھروں لے جانے میں اپنی مدد فراہم کرتی ہیں- Milion Peoples Daily Online
ایک رپورٹ کے مطابق پندرہ سال سے زائد عمر کے ایک سو بائیس ملین سے زائد یورپی روزانہ گھر، سکول یا دفتر میں انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ کوم سکور نامی فرم کا کہنا ہے کہ ایک یورپی اوسطاً ایک ماہ میں ساڑھے سولہ دن انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے اور اس دوران چوبیس گھنٹے میں دو ہزار چھ سو باسٹھ ویب پیج دیکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپ کی آبادی کے چالیس فیصد حصے کو انٹرنیٹ تک رسائی ہے اور سولہ میں سے صرف تین ممالک میں یہ شرح چالیس فیصد سے کم ہے۔یورپ میں ہالینڈ ایسا ملک ہے جس کی تراسی فیصد آبادی آن لائن جاتی ہے جبکہ انٹرنیٹ کا سب سے کم استعمال روس میں ہے جس کی صرف گیارہ فیصد آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے۔ مئی 2007 میں کیے گئے اس سروے کے مطابق انٹرنیٹ صارفین کے اعتبار سے جرمنی میں سب سے آگے ہے جہاں پندرہ برس سے زائد عمر کے تین کروڑ بیس لاکھ افراد انٹرنیٹ سے استفادہ کرتے ہیں۔ یورپ میں انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ وقت برطانوی گزارتے ہیں جو ہر مہینے میں اوسطاً چونتیس گھنٹے آن لائن رہتے ہیں جبکہ روزانہ قریباً دو کروڑ اٹھارہ لاکھ برطانوی آن لائن جاتے ہیں۔ یورپ کے سولہ ممالک میں سے تیرہ میں گوگل سب سے مشہور ویب سائٹ ہے جبکہ دوسرے نمبر پر مائیکروسافٹ اور پھر یاہو کا نمبر آتا ہے۔ سروے کرنے والی فرم’ کوم سکور‘ کے یورپ میں سربراہ باب اونز کا کہنا ہے ’نیٹ صارفین میں اضافے کی بڑی وجہ براڈ بینڈ سروس کی دستیابی ہے اور اس حوالے سے برطانیہ ایک روشن مثال ہے جہاں براڈ بینڈ متعارف کروائے جانے کے بعد نیٹ صارفین میں بےانتہا اضافہ ہوا‘۔- بلی زندہ بچ گئی
- بلڈ ٹیسٹ اور بھی آسان
السلام علیکم دوستو ﻧﺌﯽ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﻧﻤﻮﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺠﺰﯾﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﻭﺍﺋﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﺭﺯﺍﮞ ﺍﻭﺭ ’ﭘﻮﺭﭨﯿﺒﻞ‘ﮐﭧ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺸﺨﯿﺺ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻣﺪﺩ ﻣﻞ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﻢ ﭼﭗ ﻧﺎﻣﯽ ﯾﮧ ﮐِﭧ ﺣﺠﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﯾﮉﭦ ﮐﺎﺭﮈ ﺟﺘﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﭽﺮ ﻣﯿﮉﯾﺴﻦ ﻧﺎﻣﯽ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﺟﺮﯾﺪﮮ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﻧﻔﯿﮑﺸﻦ ﮐﺎ ﻣﻨﭩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺮﯾﺪﮮ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻓﺮﯾﻘﯽ ﻣﻠﮏ ﺭﻭﺍﻧﮉﺍ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐِﭧ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﯾﭻ ﺁﺋﯽ ﻭﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺋﻔﻠﺲ ﺟﯿﺴﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺠﺮﺑﺎﺗﯽ ﺗﺠﺰﯾﮯ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺳﻮ ﻓﯿﺼﺪ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮑﻠﮯ۔ ﺍﺱ ﮈﯾﻮﺍﺋﺲ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﭘﺮﺍﺟﯿﮑﭧ ﻻﮔﺖ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﻟﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ ﯾﮧ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮔﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺗﺠﺰﯾﮯ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﺴﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﺠﺰﯾﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﭘﻼﺳﭩﮏ ﭼﭗ ﻣﯿﮟ ﻧﺸﺎﻧﺪﮨﯽ ﮐﮯ ﺩﺱ ﺯﻭﻥ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻗﻄﺮﮮ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺗﺠﺰﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﻋﺎﻡ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﮐﻢ ﻗﯿﻤﺖ ﮐﮯ ﮈﭨﯿﮑﭩﺮ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮈﯾﻮﺍﺋﺲ ﮐﯽ ﺧﺎﻟﻖ ﭨﯿﻢ ﮐﮯ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻮﯾﺎﺭﮎ ﮐﯽ ﮐﻮﻟﻤﺒﯿﺎ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﺳﯿﻤﻮﺋﻞ ﺳﯿﺎ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ’ﺧﯿﺎﻝ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺸﺨﯿﺼﯽ ﭨﯿﺴﭩﺲ ﮐﯽ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ،ﻧﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﮐﻠﯿﻨﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ،ﻭﮨﺎﮞ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺌﯽ ﺩﻥ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ‘۔ .ﺍﺱ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺭﻭﺍﻧﮉﺍ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﯿﮕﺎﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﭻ ﺁﺋﯽ ﻭﯼ ﭨﯿﺴﭧ ﻣﯿﮟ ﭘﭽﺎﻧﻮﮮ ﺟﺒﮑﮧ ﺳﺎﺋﻔﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﮩﺘﺮ ﻓﯿﺼﺪ ﮐﮯ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺩﺭﺳﺖ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﺤﻘﻘﯿﻦ ﮐﻮ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮈﯾﻮﺍﺋﺲ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺣﺎﻣﻠﮧ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﻋﻤﻞ ﺳﮯ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ۔ ﺍﺱ ﮈﯾﻮﺍﺋﺲ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻭﺳﭩﯿﭧ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﮐﯽ ﺗﺸﺨﯿﺺ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔- انگوں میں بے چینی کا سبب بننے والے جینر کی
السلام علیکم دوستو ﻃﺒﯽ ﻣﺤﻘﻘﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺳﮑﻮﻧﯽ ﯾﺎ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﮐﺎ ﻣﺆﺟﺐ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺭﯾﺴﺮﭼﺮﺯ ﮐﺎ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺟﯿﻨﺰ ﻋﻤﻮﻣﯽ ﻋﺼﺒﯽ ﺍﺿﻄﺮﺍﺏ ﯾﺎ ﺍﻋﺼﺎﺑﯽ ﻧﻘﺺ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﮨﻢ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺍﯾﺴﮯ ﻧﺌﮯ ﺟﯿﻨﯿﭩﮏ ﺭﯾﺠﻨﺰ ﯾﺎ ﻣﻮﺭﻭﺛﯽ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﯽ ﺗﺸﺨﯿﺺ ﮐﺮ ﻟﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺮﻣﻦ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﻮﻧﺦ ﻣﯿﮟ ﻗﺎﺋﻢ ﺍﻧﺴﭩﯿﭩﯿﻮﭦ ﺁﻑ ﮨﯿﻮﻣﻦ ﺟﯿﻨﯿﭩﮑﺲ ﮐﮯ ﺭﯾﺴﺮﭼﺮJuliane Winkelmannﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﺌﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﺳﮯRestless Legs (Syndrome (RLSﯾﺎ ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﺭﺿﮯ ﮐﯽ ﻣﺰﯾﺪ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭼﻼﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻣﺪﺩ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ۔ ﻃﺒﯽ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﮐﯽ ﻧﺌﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﺳﮯ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻭ ﻧﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﮯ ﺟﻠﺘﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﺷﺪﮦ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﺎRLSﺳﮯ ﮔﮩﺮﺍ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﻣﻮﺭﻭﺛﯽ ﺟﯿﻨﺰ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺍﻋﺼﺎﺑﯽ ﻧﻘﺎﺋﺺ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺍﻣﮑﺎﻧﺎﺕ ﮐﺎﻓﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻮﺭﻭﺛﯽ ﺟﯿﻨﺰ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ،ﺣﯿﻮﺍﻧﺎﺕ ﺍﻭﺭﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺣﯿﺎﺗﯿﺎﺗﯽ ﺧﻮﺍﺹ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮩﯽ ﻣﻮﺭﻭﺛﯽ ﺟﯿﻨﺰ ﺍﮐﺜﺮ ﻭﺑﯿﺸﺘﺮ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﮭﯽ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﺽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺎﻡ ﮨﮯﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﺽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺎﻡ ﮨﮯ ﯾﻮﺭﭖ،ﮐﯿﻨﯿﮉﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﮯ ﻃﺒﯽ ﻣﺤﻘﻘﯿﻦ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﭩﺮ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﮐﻨﺴﻮﺭﺷﯿﻢ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﺱ ﻧﺌﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﻃﺒﯽ ﺟﺮﯾﺪﮮ PLoS Geneticsﻣﯿﮟ ﺣﺎﻝ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﯿﻨﺪ ﻧﮧ ﺁﻧﺎ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻡ ﺍﻋﺼﺎﺑﯽ ﻧﻘﺺ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ65ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎﹰ10ﻓﯿﺼﺪ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻋﺎﺭﺿﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻨﺠﮭﻨﺎﮨﭧ،ﭼﺒﮭﻦ ﯾﺎ ﺳﻨﺴﻨﺎﮨﭧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺑﮯ ﺣﺲ ﯾﺎ ﺳُﻦ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﯾﮧ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﻣﺮﯾﺾ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﺳﮑﻮﻥ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﻮ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﻼﻧﮯ ﯾﺎ ﺍﺳﮯ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺣﺮﮐﺖ ﺩﯾﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﭘﻮﺭﺍ ﺟﺴﻢ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻃﺒﯽ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺑﮯ ﺧﻮﺍﺑﯽ،ﺩﻥ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻏﻨﻮﺩﮔﯽ ﮐﯽ ﺳﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﯾﺎ ﭘﮋﻣﺮﺩﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﺸﮑﺴﺘﮕﯽ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ۔ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺭﮨﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺳُﻦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺭﯾﺴﺮﭺ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﻧﮯ Restless Legs Syndrome RLS ﮐﮯ ﺷﮑﺎﺭ922ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ1,526ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻧﮑﻠﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﮧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟRLSﮐﮯ 3,935ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ76 ﺍﻣﮑﺎﻧﯽ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﮯ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺋﮯ۔ ﺍﻥ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎﹰ ﭼﺎﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ 5,754ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺤﻘﻘﯿﻦ ﻧﮯ ﭼﮫ ﺟﯿﻨﯿﭩﮏ ﺭﯾﺠﻨﺰ ﯾﺎ ﻣﻮﺭﻭﺛﯽ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ،ﺟﻦ ﮐﺎ ﮔﮩﺮﺍ ﺗﻌﻠﻖ Restless Legs Syndromeﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﺎﺭ ﮐﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ، ﺟﺒﮑﮧ ﺑﺎﻗﯽ ﺩﻭ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﺣﺎﻟﯿﮧ ﺭﯾﺴﺮﭺ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﻦ ﺩﻭ ﻧﺌﮯ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮨﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ Tox3ﮨﮯ،ﺟﺲ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﯽ ﺳﺮﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻨﻈﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﮯ۔ ﻗﺒﻞ ﺍﺯﺍﮞ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧTox3ﭘﺮﻭﭨﯿﻦ ﮐﯽ ﺑﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺳﻄﺢ ﺩﻣﺎﻏﯽ ﺧﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﺎﮨﻢTox3ﺍﻭﺭ RLSﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﮐﯿﺎ ﺭﺑﻂ ﮨﮯ؟ ﯾﮧ ﺍﻣﺮ ﮨﻨﻮﺯ ﻏﯿﺮ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﮯ۔- kaghaz ki pehli currency
- Internet ki Dunya main WWW kay 20 saal
ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو۔ اِن تین حروف نےدُنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ آج اِن کے بغیر انٹرنیٹ کمیونی کیشن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ٹھیک بیس سال پہلے آج ہی کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر جنی وا میں اِس سافٹ ویئر کو باقاعدہ انٹرنیٹ نظام کے ساتھ منسلک کرنے والے محققین یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ اتنا کامیاب ہو گا۔ اس کہانی کا آغاز اَسی کے عشرے کے اواخر میں جنی وا کے ایٹمی تحقیق کے یورپی مرکز CERN سَیرن میں ہوا۔ برطانیہ کے ماہرطبیعیات Tim Berners-Lee اور بیلجیئم کے Robert Cailliau کے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ معلومات کا ایک عالمگیر نظام قائم کیا جائے۔ تب انٹرنیٹ بھی پہلے سے موجود تھا اور محققین اور سائنسدان اُس کی مدد سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں بھی تھے۔ تو پھر ایک نئے نظام کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔ اس بارے میں روبیئر کائیو کہتے ہیں: ’’ہمیں ایک یکساں اور مربوط معیار کی ضرورت تھی، جو تب تک موجود نہیں تھا۔ ایسا ڈَیٹا تو موجود تھا، جس تک پوری دُنیا سے رسائی ممکن تھی لیکن اُس کے لئے کبھی کسی ٹرمینل کی ضرورت پڑتی تھی تو کبھی کسی پاس ورڈ کی۔ یہاں وہاں مختلف طرح کی فیسیں بھی ادا کرنا پڑتی تھیں اور سارا نظام الجھا ہوا تھا۔‘‘ برطانوی سائنسدان Berners Lee نے 1989ء میں ڈَیٹا کی منتقلی کے ایک مشترکہ نظام پر کام شروع کر دیا تھا۔ اِس نئے نظام کی خصوصیات بتاتے ہوئے روبیئر کائیو کہتے ہیں: ’’اِس کی اصل خصوصیت اِس کا آسان استعمال تھا۔ اِس کے نتیجے میں کسی صفحے کو ڈھونڈنا بہت آسان ہو گیا۔اب آپ جو چاہتے، پڑھ سکتے تھے۔ کسی ایک لِنک پر کلِک کرتے تھے تو وہ آپ کو آپ کے مطلوبہ پیج پر پہنچا دیتا تھا۔ اب آپ دستاویزات کی ایک پوری کائنات کو کھنگال سکتے تھے۔‘‘ روبیئر کائیو کہتے ہیں کہ سَیرن تحقیقی مرکز کے کئی ایک سائنسدانوں نے ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو کی سافٹ ویئر پوری دُنیا کو مفت فراہم کرنے کی تجویز کی مخالفت بھی کی تھی لیکن بیرنرز لی اور کائیو کی کوششیں بالآخر کامیاب ہوئیں اور تیس اپریل سن اُنیس سو تریانوے کو یعنی ٹھیک پندرہ سال پہلے آج ہی کے روز ورلڈ وائڈ وَیب تک رسائی پوری دُنیا کے لئے ممکن بنا دی گئی۔ ایک اندازے کے مطابق اِس وقت دُنیا بھر میں ایک سو پینسٹھ ملین وَیب سائیٹس کام کر رہی ہیں اور اِس سلسلے میں بنیادی کردار اِسی سافٹ ویئر نے ادا کیا ہے۔- دنیا کی مشہور شخصیات
دنیا کی مشہور شخصیات شہرت حاصل کرنے سے پہلے کیا کرتی تھیں؟ ہٹلر: مصور نازی رہنما اڈولف ہٹلر کو مصوری کا بے حد شوق تھا۔ ایک عرصے تک ان کا ذریعہٴ روزگار پوسٹ کارڈوں کے لیے تصاویر بنانا رہا۔ تاہم وہ اس پیشے میں کچھ زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہو سکے اور انھوں نے فوج میں شمولیت اختیار کر لی اور بعد میں جرمنی کے حکمران بن گئے۔ مسولینی : ناول نگار دوسری جنگِ عظیم میں ہٹلر کے حلیف مسولینی اٹلی کے فاشٹ رہنما بننے سے پہلے ناول نگار تھے۔ان کا ایک قسط وار ناول اٹلی کے اخبار میں چھپتا رہا۔ تاہم ناول کچھ ایسا کامیاب ثابت نہیں ہو سکا۔ کمبوڈیا کے ڈکٹیٹر پول پولٹ : استاد جن کی گردن پر کمبوڈیا کے لاکھوں افراد کا خون ہے،ڈکٹیٹر بننے سے پہلے سکول کے استاد تھے۔ بعد میں وہ کمبوڈیا کی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے اور بالآخر انھوں نے ملک کی زمامِ اقتدار سنبھال لی۔ مائیکل ڈیل: برتن دھوتے تھے دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹر کمپنیوں میں سے ایک ڈیل کے مالک مائیکل ڈیل پہلے ایک ہوٹل میں برتن دھوتے تھے۔اس وقت ان کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔ ہیریسن فورڈ: ترکھان ہالی وڈ کے مشہور اداکار اور ریڈرز آف دی لاسٹ آرک، سٹاروارز اور بلیڈ رنرجیسی فلموں کے ہردلعزیز ہیرو ہیریسن فورڈ فلموں میں آنے سے پہلے میزیں اور کرسیاں بنایا کرتے تھے۔ سلوسٹر سٹالون: شیروں پنجروں کی صفائی ریمبوکے شہرہٴ آفاق کردار کے خالق سلوسٹر سٹالون فلمی شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے سے پہلے شیروں کے پنجرے صاف کیا کرتے تھے۔ فیدل کاسترو: بیس بال کے کھلاڑی کیوبا کے رہنما فیدل کاسترو کالج کے زمانے میں بیس بال کے کھلاڑی تھے اور انھوں نے کئی میچوں میں حصہ لیا تھا۔ سٹیون کنگ: باتھ روم سویپر امریکہ کے مشہور ادیب سٹیون کنگ پراسرار کہانیاں لکھنے میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ ان کی درجنوں کہانیوں پر فلمیں اور ٹی وی سیریل بن چکے ہیں، جن میں گرین مائل، شاشینک ری ڈیمپشن اوردی شائننگ وغیرہ شامل ہیں۔ سٹیون کنگ ادیب بننے سے پہلے باتھ روم صاف کیا کرتے تھے۔- گرگٹ
گرگٹ دکھانے کے لیے رنگ بدلتا ہے ایک تحقیق کے مطابق یہ خیال درست نہیں کہ گرگٹ نے خود کو اپنے ارد گرد میں مدغم کرنے کے لیے رنگ بدلنا شروع کیا تھا، بلکہ سچ یہ ہے کہ اس نے ایسا خود کو نمایاں کرنے کے لیے کیا تھا۔ حیتیات کے ایک جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق سائنسدانوں کا خیال ہے کہ گرگٹ آپس میں رابطے کے لیے رنگ بدلنا شروع کیا تھا۔ عام طور پر رینگنے والےجانوروں کے رنگ بدلنے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ جیسے آپس میں رابطہ کے لیے، خود کو چھپانے کے لیے یا پھر درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے لیے۔ لیکن انہیں تیز رنگ منعکس کرنے کی صلاحیت کی آخرضرورت کیوں پڑی، یہ بات اب تک واضح نہیں تھی۔ اس نئی تحقیق کے ایک معاون، یونیورسٹی آف میلبورن آسٹریلیا کے ڈاکٹر دیوی سٹوارٹ فاکس نے بی بی سی کو بتایا کہ تحقیق سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ابتداء میں گرگٹوں نے دشمن کو بھگانے یا کسی ساتھی کو متوجہ کرنے کےلیے رنگ بدلنا شروع کیا تھا، نہ کہ اپنے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے۔ رنگ بدلنے کی وجوہات پر تحقیق کے لیے ڈاکٹر فاکس کی ٹیم نے جنوبی افریقہ کے رینگنے والے حشرات کی لگ بھگ اکیس اقسام کا معائنہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ان کی دیکھنے اور رنگ پہچاننے کی صلاحیت کا بھی جائزہ لیا۔ رینگنے والے حشرات کے دیکھنے کا نظام انسانوں سے مختلف ہوتا ہے ۔ ان کے سر پر روشنی کی شعاعیں منعکس کرنے والا ایک حساس کون نما حصہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے دیکھا کہ مد مقابل ہونے کی صورت میں دو نرگرگٹ اس وقت تک اپنے تیز ترین رنگ دکھاتے ہیں جب تک کہ یہ واضح نہیں ہو جاتا کہ کوئی ایک جیتنے والا ہے جس پر دوسرا اپنا رنگ گہرا کر لیتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھا گیا کہ آپس میں سماجی رابطوں کے دوران بھی گرگٹ خود کو دوسروں سے نمایاں کرنے لیے تیزی سے رنگ بدلتے ہیں۔- قائد اعظم کے بارے میں حیرت انگیز انکشافات
ایک حیرت انگیز انکشاف جو قابل غور بھی ہے آج میں آپ کو ایک نہایت دلچسپ بات بتانے والا ہوں جسے کچھ لوگ قدرت کی رمزیں، کچھ لوگ حسن اتفاق اور کچھ حضرات محض تاریخی حادثات قرار دیں گے لیکن ہماری تاریخ کا یہ پہلو فکرانگیز، منفرد اور قابل غور ہے اس لئے میرے ساتھ رہئے گا اور میں جو کچھ کہنے والا ہوں اس پر غور کیجئے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان چودہ اور پندرہ اگست 1947ء کی درمیانی شب رات بارہ بجے معرض وجود میں آیا تھا اور بارہ بجتے ہی آل انڈیا ریڈیو لاہور، پشاور نے یہ ”ریڈیو پاکستان ہے “ کا اعلان کرکے پاکستان کے طول وعرض میں جشن آزادی کا سماں پیدا کر دیا تھا جس کا ایک ایک لمحہ جوش و جذبے اور بے انتہا مسرتوں سے لبریز تھا ۔چنانچہ ہمارا پہلا یوم پاکستان پندرہ اگست 1947ء کو منایا گیا جو جمعتہ الوداع تھا اور جس رات پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا وہ رمضان المبارک کی ستائیسویں یعنی شب قدر تھی ۔ یہ رمزیں صرف ان لوگوں کے لئے معنی خیزہیں جو انہیں سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ورنہ عام لوگوں کے لئے پاکستان کے موجودہ تناظر میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے شعلوں میں گرفتار ہو کر ایسی بات کرنا محض اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے جو لوگ قدرت کے ان اشاروں کو اہمیت دیتے ہیں انہیں بہرحال یقین ہے کہ پاکستان قیامت تک قائم و دائم رہے گا اور یہ کہ ہم نے بحیثیت قوم ان اشاروں کے تقاضے پورے نہیں کئے لہٰذا موجودہ ابتلاء سے نکلنے کا راستہ توبہ و استغفار میں ہے۔ میں تو ایک ”دنیا دار “ انسان ہوں اس لئے میں قدرت کے بھید کیا سمجھوں اور کیا جانوں؟ بات دور نکل گئی میں یہ عرض کر رہا تھا کہ چونکہ پاکستان 14اور 15/ اگست کی نصف شب قائم ہوا تھا چنانچہ ہمارے پاس یہ چوائس تھی کہ ہم 14یا 15/اگست میں سے کسی ایک دن کو یوم آزادی قرار دے دیں۔ ہندو جوتشیوں نے ہندوستان کیلئے پندرہ اگست کا دن مبارک یا ”شبد“ جانا چنانچہ حکومت ہند نے اسی دن کو اپنا یوم آزادی قرار دے دیا جبکہ پاکستان نے 14/اگست کو اپنا یوم آزادی ڈکلیئر کر دیا۔ قائد اعظم کی دو ہی محبتیں تھیں پہلی محبت رتی ڈنکشا تھی اور دوسری محبت جو منزل بن گئی وہ پاکستان تھی۔ قائد اعظم نے رتی ڈنکشا سے نکاح کرنے سے قبل اسے مولانا شاہ احمد نورانی کے تایا مولانا نذیر صدیقی امام جامع مسجد بمبئی کے ہاتھ پر شرف بہ اسلام کیا اور پھر اس سے شادی کی۔ ان کے بطن سے ان کی اکلوتی اولاد دینا پیدا ہوئی اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دینا جناح بھی 14اور 15/اگست کی درمیانی شب 1919ء کو پیدا ہوئی اور پاکستان بھی 14اور 15/اگست کی درمیانی شب پیدا ہوا۔ دینا نے بھی 15اگست 1919ء کے دن پہلی بار سورج کی کرنیں دیکھیں اور یہ جمعہ کا دن تھا جبکہ پاکستان نے بھی پندرہ اگست 1947ء کو پہلی بار آزادی کا اجالا دیکھا اور یہ بھی جمعہ کا دن تھا۔ ایک اور حیرت انگیز اور قابل غور پہلو پر غور کیجئے کہ بعض اوقات تاریخی حقائق کے پس پردہ قدرت اپنا ہاتھ دکھاتی اور ہمیں کچھ سمجھاتی ہے لیکن ہم آسانی سے سمجھنے والے نہیں ۔بہرحال آپ ذرا غور کریں اور تھوڑی سی تحقیق کریں تو آپ حیرت زدہ رہ جائیں گے مثلاً یہ کہ قائد اعظم کا انتقال 11ستمبر 1948ء کو ہوا ۔ 1948ء سے لیکر آج تک پاکستان کا یوم آزادی ، قائد اعظم کا یوم ولادت 25دسمبر اور قائد اعظم کا یوم وفات 11ستمبر ایک ہی دن ہوتا ہے اسکی وضاحت کے لئے آپ کو سال 2010ء کی مثال دیتا ہوں۔ پاکستان کا یوم آزادی 14/اگست بروز ہفتہ ہو گا، قائد اعظم کا یوم وفات 11ستمبر ہفتہ کا دن ہو گا اور اسی طرح قائد اعظم کا یوم پیدائش 25دسمبر بھی ہفتہ کے دن منایا جائے گا۔ آپ کی سہولت کے لئے اور بات سمجھانے کے لئے گزشتہ چند برسوں کا چارٹ پیش خدمت ہے جس سے یہ نقطہ واضح ہو جائے گا ۔ آپ چاہیں تو جنتری سامنے رکھ کر 1948ء سے لیکر 2010ء تک کا نقشہ تیار کر لیں تو آپ پر راز کھلے گا کہ قائد اعظم اور پاکستان ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم تھے اور ہر سال قائد اعظم کا یوم پیدائش، یوم وفات اور یوم پاکستان مختلف مہینے ہونے کے باوجود ایک ہی دن ہوتا ہے ۔اگر قدرت قائد اعظم کا یوم وفات بارہ ستمبر 1948طے کر دیتی تو یہ نقشہ نہ بن سکتا اور وہ یوم مختلف ہو جاتا ۔ میں نے صرف اپنی بات کی وضاحت کے لئے چند برسوں کا نقشہ بنایا ہے جو درج ذیل ہے۔ مجھے پاکستانیات کا یہ پہلو نہایت دلچسپ اور حیرت انگیز لگا چنانچہ میں نے اسے آپ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ میرے مطالعے کے مطابق آپ کو عالمی تاریخ میں اس طرح کی مثالیں شاید ہی ملیں۔ بہرحال آپ اسے محض حسن اتفاق کہیں یا تاریخ کا حادثہ سمجھیں یا اس کے پس پردہ قدرت کی رمزیں تلاش کریں۔ یہ آپکی مرضی- یک فرد کا کھانا 368 ڈالر میں
ایک فرد کا کھانا 368 ڈالر میں : مہنگے ترین ریسٹورنٹ- انسانی ناک خطرہ سونگھ سکتی ہے
برقی جھٹکوں کے بعد دماغ کے اس حصے میں تبدیلیاں پیدا ہوئی تھیں جو سونگھنے کے صلاحیت پیدا کرتا ہے شگاگو۔ برقی جھٹکوں کے بعد دماغ کے اس حصے میں تبدیلیاں پیدا ہوئی تھیں جو سونگھنے کے صلاحیت پیدا کرتا ہے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانی ناک بہت جلد ماحول میں خطرے کو سونگھنے کا صلاحیت حاصل کر سکتی ہے۔اس سلسلے میں کیے جانے والے ایسے رضا کاروں کا کہنا ہے کہ معمولی برقی جھٹکوں کے بعد ان کی ناک باآسانی دو ایسی مخلتف انتہائی ملتی جلتی مہکوں میں فرق کرنے لگی ہیں جو وہ پہلے نہیں کر سکتی تھیں۔ اس سلسلسے میں دماغ کی سکینّگ سے بھی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ برقی جھٹکوں کے بعد دماع کے اس حصے میں تبدیلیاں پیدا ہوئی تھیں جو سونگھنے کے صلا حیت پیدا کرتا ہے۔ بارہ رضاکاروں کو اس سلسلے میں دو طرح کی گھاس سنگھائی گئی تو وہ ان میں کوئی فرق نہہیں بتا سکے۔ لیکن جب معمولی برقی جھٹکوں کے بعد انہیں دوبارہ گھاس کے دونوں نمونے سنگھائے گئے تو وہ ان میں باآسانی فرق کر سکتے تھے۔شکاگو کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے فیئن برگ سکول آف میڈیسن کے ّاکٹر ون لی کا کہنا ہے کہ ابھی یہ ارتقایی مراحل میں ہے لیکن اس کے ذریعے ہم وہ حساسیت حاصل کر کستے ہیں ماحولیاتی معلومات کے سمندر میں کسی ایسی چیز کو شناخت کرنے میں مدد دے سکتی ہے جو ہماری بقا کے لیے انتہائی ضروری ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ہمیں خطرے کی تنبیہ ہو جائے گی وار ہم اس سے بچنے پر توجہ دے سکیں گے۔دماغی سرگرمیوں کا جائزہ لیے کے لیے کیے جانے والے ایم آر آئی سکینّگ سے بھی سے بھی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ برقی جھٹکوں کے بعد دماغ کے اس حصے کو جو بو اور خوشبو میں فرق کرتا ہے اور جسے اولفیکٹری کورٹیکس کہا جاتا ہے تبدیلیا رونما ہوتی ہیں۔ یونیورسٹی آف نیو کاسل کے ڈاکٹر گیراڈائن رائٹ نے اسی طرح کے تجربات جانوروں پر کیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انسانوں اور جانوروں کا حسیاتی نظام بنیادی طور پر ایک ہی طرز کا ہوتا ہے۔- 7 Wonders Of The World
tamam thread ko aik hi thread mein merge kardiya gaya hai... lehaza aik hi thread mein updates kya jaye.. updates k liye alag se thread na banaya jaye.. part1 part 2 etc... Thanks- Great Idea
hehehehheheeh buhat khub..- Beautiful Eye Shadow Art
Wowo Zabardasth dear... buhat umda sharing hai keeep it up- A New Look at The Wall...
Very Nyc Wall dear... keeep it up - یک فرد کا کھانا 368 ڈالر میں
Navigation
Search
Configure browser push notifications
Chrome (Android)
- Tap the lock icon next to the address bar.
- Tap Permissions → Notifications.
- Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
- Click the padlock icon in the address bar.
- Select Site settings.
- Find Notifications and adjust your preference.
Safari (iOS 16.4+)
- Ensure the site is installed via Add to Home Screen.
- Open Settings App → Notifications.
- Find your app name and adjust your preference.
Safari (macOS)
- Go to Safari → Preferences.
- Click the Websites tab.
- Select Notifications in the sidebar.
- Find this website and adjust your preference.
Edge (Android)
- Tap the lock icon next to the address bar.
- Tap Permissions.
- Find Notifications and adjust your preference.
Edge (Desktop)
- Click the padlock icon in the address bar.
- Click Permissions for this site.
- Find Notifications and adjust your preference.
Firefox (Android)
- Go to Settings → Site permissions.
- Tap Notifications.
- Find this site in the list and adjust your preference.
Firefox (Desktop)
- Open Firefox Settings.
- Search for Notifications.
- Find this site in the list and adjust your preference.