Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Play_Boy007

Banned
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Play_Boy007

  1. قائد اعظم محمد على جناح کی زندگی ‎ ‎ قائد اعظم محمد على جناح (25 دسمبر 1876ء - 11 ستمبر 1948ء) آل انڈیا مسلم لیگ کے لیڈر تھے جن کی قیادت میں پاکستان نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ آپ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل تھے۔ آغاز میں آپ انڈین نیشنل کانگرس میں شامل ہوئے اور مسلم ہندو اتحاد کے ہامی تھے۔ آپ ہی کی کوششوں سے 1916 میں آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگرس میں معاہدہ ہوا۔ کانگرس سے اختلافات کی وجہ سے آپ نے کانگرس پارٹی چھوڑ دی اور مسلم لیگ کی قیادت میں شامل ہو گئے اور مسلمانوں کے تحفظ کی خاطر مشہور چودہ نکات پیش کئے۔ مسلم لیڈروں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے آپ انڈیا چھوڑ کر برطانیہ چلے کئے۔ بہت سے مسلمان رہنماؤں خصوصا علامہ اقبال کی کوششوں کی وجہ سے آپ واپس آئے اور مسلم لیگ کی قیادت سنمبھالی۔ 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کی بیشتر نشستوں میں کامیابی حاصل کی۔ آخر کار برطانیہ کو مسلم لیگ کے مطالبہ پر راضی ہونا پڑا اور ایک علیحدہ مملکت کا خواب قائد اعظم محمد على جناح کی قیادت میں شرمندہ تعبیر ہوا۔ [ترمیم] ابتدائی زندگی آپ کراچی، سندھ میں وزیر منشن میں 25 دسمبر 1876 کو پید اہوئے۔ آپ کا نام محمد علی جناح بھائی رکھا گیا۔ آپ اپنے والد پونجا جناح کے سات بچوں میں سے سب سے بڑے تھے۔ آپ کے والد گجرات کے ایک مالدار تاجر تھے جو کہ کاٹھیاوار سے کراچی منتقل ہو گئے تھے۔ آپ نے باقاعدہ تعلیم کراچی مشن ہائی سکول سے حاصل کی۔ 1887 کو آپ برطانیہ میں گراہم سپنگ اینڈ ٹریڈنگ کمپنی میں کام سیکھنے کے لئے گئے۔ برطانیہ جانے سے پہلے آپ کی شادی آپ کی ایک دور کی رشتہ دار ایمی بائی سے ہوئی جو کی آپ کے برطانیہ جانے کے کچھ عرصہ بعد ہی وفات پا گئیں۔ لندن جانے کے کچھ عرصہ بعد آپ نے ملازمت چھوڑ دی اور لنکن ان میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلہ لے لیا اور 1896 میں وہاں سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ اس وقت آپ نے سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا۔ انڈیا واپس آنے کے بعد آپ نے ممبئی میں وکالت شروع کی اور جلد ہی بہت نام کمایا۔ [ترمیم] ابتدائی سیاسی زندگی ہندوستان واپسی کے بعد جناح صاحب نے ممبئی میں قیام کیا۔ برطانیہ کی سیاسی زندگی سے متعثر ہو کر ان میں اپنے ملک کو بھی اس ہی روش پر بڑھتے ہوئے دیکھنے کی امنگ نمودار ہوئی۔ جناح صاحب ایک آزاد اور خود مختار ہندوستان چاہتے تھے۔ ان کی نظر میں آزادی کا صحیح راستہ قانونی اور آئینی ہتھیاروں کو استعمال کرنا تھا۔ اس لئے انہوں نے اس زمانے کی ان تحریکوں میں شمولیت اختیار کی جن کا فلسفہ ان کے خیالات کے متابق تھا۔ یعنی انڈین نیشنل کانگریس اور ہوم رول لیگ۔ اس ہی دوران میں آل انڈیا مسلم لیگ ایک اہم جماعت بن کر سیاسی افق پر ابھرنے لگی۔ جناح صاحب نے مسلمانوں کی اس نمائندہ جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ جناح صاحب ہندوستان کی سیاسی اور سماجی اصلیتوں میں مذہب کی اہمیت کو جانتے ہوئے اس بات کے قائل تھے کہ ملک کی ترقی کے لئے تمام تر لوگوں کو ملک مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس لئے انہوں نے ہندوستان کے دو بڑی اقوان یعبی ہندو اور مسلمان دونوں کو قریب لانے کی کوشش کی۔ جناح صاحب کی اس ہی کوشش کا نتیجہ 1916 کا معاہدہ لکھنؤ تھا۔ [ترمیم] مسلم لیگ کے راہنما [ترمیم] تحریک پاکستان [ترمیم] گورنر جنرل [ترمیم] وفات قائد اعظم محمد على جناح پاکستان کے بانی تھے-23 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان پیش ہوا جہاں سے پاکستان کی آزادی کی تحریک شروع ہوئی۔ [ترمیم] قائدِ اعظم کے متعلق اہلِ نظر کی آراء [ترمیم] علامہ شبیر احمد عثمانی آل انڈیا مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کے رکن اور ممتاز عالمِ دین جنہوں نے قائدِ اعظم کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ قائدِ اعظم کے متعلق فرماتے ہیں۔ "شہنشاہ اورنگزیب کے بعد ہندوستان نے اتنا بڑا مسلمان لیڈر پیدا نہیں کیا جس کے غیر متزلزل ایمان اور اٹل ارادے نے دس کروڑ شکست خوردہ مسلمانوں کو کامرانیوں میں بدل دیا ہو"۔ [ترمیم] علامہ سید سلیمان ندوی عظیم سیرت نگار، برِ صغیر پا ک و ہند کے معروف سیاستدان اور صحافی جناب سید سلیمان ندوی نے ١٩١٦ء میں مسلم لیگ کے لکھنئو اجلاس میں قائدِ اعظم کی شان میں یہ نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ اک زمانہ تھا کہ اسرار دروں مستور تھے کوہ شملہ جن دنوں ہم پایہ سینا رہا جبکہ داروئے وفا ہر دور کی درماں رہی جبکہ ہر ناداں عطائی بو علی سینا رہا جب ہمارے چارہ فرما زہر کہتے تھے اسے جس پہ اب موقوف ساری قوم کا جینا رہا بادہء حبِ وطن کچھ کیف پیدا کر سکے دور میں یونہی اگر یہ ساغر و مینا رہا ملتِ دل بریں کے گو اصلی قوا بیکار ہیں گوش شنوا ہے نہ ہم میں دیدہء بینا رہا ہر مریضِ قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امید ڈاکٹر اس کا اگر " مسٹر علی جینا" رہا [ترمیم] مولانا ظفر علی خان "تاریخ ایسی مثالیں بہت کم پیش کر سکے گی کہ کسی لیڈر نے مجبور و محکوم ہوتے ہوئے انتہائی بے سرو سامانی اور مخالفت کی تندوتیز آندھیوں کے دوران دس برس کی قلیل مدت میں ایک مملکت بنا کر رکھ دی ہو" ۔ [ترمیم] علامہ عنایت اللہ مشرقی خا کسار تحریک کے بانی اور قائدِ اعظم کے انتہائی مخالف علامہ مشرقی نے قائد کی موت کا سن کر فرمایا - "اس کا عزم پایندہ و محکم تھا۔ وہ ایک جری اور بے باک سپاہی تھا، جو مخالفوں سے ٹکرانے میں کوئی باک محسوس نہ کرتا تھا"۔ [ترمیم] لیاقت علی خان پا کستان کے پہلے وزیرِ اعظم اور قائد کے دیرینہ ساتھی نواب زادہ لیاقت علی خان نے کہا تھا۔ "قا ئدِاعظم بر گزیدہ ترین ہستیوں میں سے تھے جو کبھی کبھی پیدا ہوتی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ تاریخ ان کا شمار عظیم ترین ہستیوں میں کرے گی"۔
  2. بنگلہ دیش 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت پاکستان کا حصہ بنا اور مشرقی پاکستان کہلایا۔ پاکستان کے ان دونوں حصوں کے درمیان 1600 کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان واحد رشتہ اسلام کا تھا حالانکہ نسلی اور لسانی دونوں لحاظ سے یہ ممالک بالکل جدا تھے اور مغربی پاکستان کی عاقبت نااندیش حکومت نے ان تعصبات کوجگایا اور بنگلہ دیش نے شیخ مجیب الرحمن کی قیادت میں 16 دسمبر 1971ء میں آزادی حاصل کی۔ بھارت نے جنگ 1971ء میں بنگلہ دیش کی حمایت کی اور یوں امت مسلمہ کی سب سے بڑی مملکت پاکستان دو لخت ہوگئی۔ [ترمیم] مشرقی پاکستان کے گورنر دور گورنر مشرقی پاکستان 14 اکتوبر 1955 - مارچ 1956 امیر الدین احمد مارچ 1956 - 13 اپریل 1958 اے کے فضل الحق 13 اپریل 1958 - 3 مئی 1958 حامد علی (قائم مقام) 3 مئی 1958 - 10 اکتوبر 1958 سلطان الدین احمد 10 اکتوبر 1958 - 11 اپریل 1960 ذاکر حسین 11 اپریل1960 - 11 مئی 1962 لیفٹیننٹ جنرل محمد اعظم خان 11 مئی 1962 - 25 اکتوبر 1962 غلام فاروق 25 اکتوبر1962 - 23 مارچ 1969 عبدالمنعم خان 23 مارچ 1969 - 25 مارچ 1969 مرزا نور الہدیٰ 25مارچ 1969 - 23 اگست 1969 مظفر الدین (مارشل لاء منتظم) 23 اگست 1969 - یکم ستمبر 1969 صاحبزادہ یعقوب خان (مارشل لاء منتظم) یکم ستمبر 1969 - 7 مارچ 1971 سید محمد احسن 7 مارچ 1971 - 31اگست 1971 ٹکا خان (مارشل لاء منتظم) 31اگست 1971 - 14 دسمبر 1971 عبدالمطلب ملک 14 دسمبر 1971 - 16 دسمبر 1971 اے کے نیازی (مارشل لاء منتظم) 16 دسمبر 1971 صوبہ مشرقی پاکستان کو ختم کردیا گیا [ترمیم] مشرقی پاکستان کے وزرائے اعلیٰ دور وزیراعلیٰ مشرقی پاکستان سیاسی جماعت اگست 1955 - ستمبر 1956 ابو حسین سرکار کرشن سرامک پارٹی ستمبر 1956 - مارچ 1958 عطاء الرحمن خان عوامی لیگ مارچ 1958 ابو حسین سرکار کرشن سرامک پارٹی مارچ 1958 – 18 جون 1958 عطا الرحمن خان عوامی لیگ 18 جون 1958 – 22جون 1958 ابو حسین سرکار کرشن سرامک پارٹی 22 جون 1958 – 25 اگست 1958 گورنر راج 25 اگست 1958 – 7 اکتوبر 1958 عطا الرحمن خان عوامی لیگ 7 اکتوبر 1958 عہدہ ختم کردیا گیا 16 دسمبر 1971 صوبہ مشرقی پاکستان ختم کردیا گیا
  3. پاکستانی ایٹم بم کے خالق۔ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ڈاکٹر قدیر خان پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان آگئےـڈاکٹر خان ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے مل کر انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی ـاس ادارے کا نام یکم مئی 1981ء کو جنرل ضیاءالحق نے تبدیل کرکے ’ ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ڈاکٹر قدیر خان پر ہالینڈ کی حکومت نے اہم معلومات چرانے کے الزامات کے تحت مقدمہ بھی دائر کیا لیکن ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسرز نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام اور کتابوں میں موجود ہیںـ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کردیا تھا مئی 1998ء میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا۔ بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی ـڈاکٹر قدیر خان کو وقت بوقت 13 طلائی تمغے ملے، انہوں نے ایک سو پچاس سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں ـ انیس سو ترانوے میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند دی تھی۔ چودہ اگست 1996ء میں صدر فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ 1989ء میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی انکو عطا کیا گیا ڈاکٹر قدیر خان نےسیچٹ sachet کے نام سے ایک این جی او بھی بنائی جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم ہےـ ڈاکٹر قدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران ایک مقامی لڑکی ہنی خان سے شادی کی جو اب ہنی خان کہلاتی ہیں اور جن سے ان کی دو بیٹیاں ہوئیں۔ 2004ء میں ان پر ایٹمی آلات دوسرے اسلامی ممالک کو فروخت کرنے کا الزام لگا۔ جس کے جواب میں انہوں نے یہ ناقابل یقین اعتراف کیا کہ انہوں نے ایسا کیا ہے اور حکومت پاکستان کا یا فوج کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں رہا۔ اس کے بعد قدیر خان کو نظر بند کر دیا گیا۔ اگست 2006ء میں انکشاف ہوا کہ قدیر خان کو کینسر ہے۔ اپوزیشن مشرف حکومت پر الزام لگاتی چلی آرہی ہے کہ قدیر خان کو سلو پوائزن دیا جا رہا ہے
  4. انناس کے رس میں ’ بروملین ‘ نامی جزو پایا جاتا ہے جسے جوڑوں کے درد میں مفید قرار دیا گیا ہے. انناس نہ صرف جوڑوں کی سوجن ختم کرتا ہے بلکہ زخم بھی جلد مندمل کر دیتا ہے. ماہرین نے تجربات کے بعد انناس کو قدرت کا عمدہ انعام قرار دیا ہے. ماہرین کا مشورہ ہے کہ انناس تازہ حالت میں استعمال کریں نیز کھانے کے بعد کھائیں یوں ’ بروملین ‘ باآسانی خون میں شامل ہو سکے گا. زخم لگنے ‘ جوڑوں کے درد ‘ سوجن اور سرجری کے بعد انناس کا رس ضرور استعمال کریں
  5. Insani Jism Ki Ragein (Veins) 72,000 Kilo Meter Hein.. Duniya ka bare se bara Pump bhi 7,000 fit tak Pani de sakta hai.. Lekin.. ***** PAAK ne Chota sa DIL laga dia jo poore Jism ki 72,000 Ragon ko Khoon supply kerta hai.. Wo bi NonStop.
  6. تاج کیانی ، دراصل فتحعلی شاہ کا تاج ہے کہ جس میں ہیرے جواہرات جڑے ہوئے ہیں۔ یہ پہلا تاج ہے جو ساسانی بادشاہوں کے بعد بنایا گیا ، یہ تاج بھی آج مرکزی بینک کے میوزیم میں رکھا قاجاری بادشاہوں کی بے بسی اور بے چارگی کا مذاق اڑا رہا ہے۔ بہرحال مورد بحث تاج ڈھائی ہزار سالہ جشن کے دوران محمد رضا پہلوی نے جس غرور و تکبر کے ساتھ اپنے سر پر رکھا تھا، اس کا سر ایسا جھکا کہ پھر اٹھ نہ سکا اور اس کا سارا غرور اور تکبرخاک میں مل گیا ۔ آج شاہی تاج ایک شوکیس میں بند اور دیکھنے والوں کے لئے مقام عبرت بنا ہوا ہے۔ لاکھوں انسانوں کے خون اور پسینہ کی کمائی اور قومی دولت کو ایک تاج میں لگا کر چند گھنٹوں کے لئے اپنے سرپر رکھ کر شاہ ایران اور اس جیسے دیگر بادشاہ در اصل یہ بتانا چاہتے تھے کہ ان کی رعایا ان کی غلام اور محکوم ہے اور وہ ان کے حاکم ہیں پس سب کچھ ان کی ملکیت ہے وہ جیسے چاہیں اور جہاں چاہیں خرچ کریں ۔ قومی خزانہ اور بیت المال کو اپنی ملکیت سمجھنے والے زر و جواہرات میں کھیلنے والے ، سونے چاندی اور ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر بیٹھنے والے آج کہاں ہیں ۔ ہیرے جواہرات ، زمرد یاقوت سے مزین برتنوں میں کھانا کھانے والے کس حال میں ہیں یہ خدا بھی بہتر جانتا ہے ۔ زر و زیور میں لدھے پندھے ، اور کمخاب کے لباس پہنے والے کہاں کہاں دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں آج پوری دنیا کے لئے مایہ عبرت ہیں ۔ لیکن تاج شکن کودیکھئے جو بوریا نشین ہوتے ہوئے لاکھوں دلوں پر آج بھی حکومت کررہا ہے ۔ نیٹ کی معلومات
  7. السلام علیکم دوستو انناس نہ صرف خوش ذائقہ پھل ہےبلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے اندر کئی بیماریوں سے نمٹنے کی قدرتی طاقت بھی رکھتا ہے۔ حالیہ تحقیق میں یہ بات بتائی گئی ہے، انناس کا جوس پینے سے اندرونی چوٹیں اور زخم جلد مندمل ہوتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ انناس میں اینزائم برومیلین اور اینٹی اوکسیڈنٹ وٹامن سی کی موجودگی جگر یا معدے کے زخموں کو جلد بھرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ہی ورم یا سوجن کو بھی کم کرنے کیلئے انناس کا جوس بہترین ثابت ہوسکتا ہے۔ جبکہ انناس میں وٹامن سی کی موجودگی جسم میں قوت مدافعت میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہے ۔
  8. چین : برف میں دبے رہنے کا ورلڈ ریکارڈ چون سالہ چینی جن سون گھاؤ نے چھیالیس منٹ اور سات سیکنڈ برف میں دبے رہ کر نیا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جن نے یہ ریکارڈ منگولیا میں بنایا جہاں درجہ حرارت منفی چھتیس درجے سینٹی گریڈ تھا۔ جن گردن تک برف میں دبا رہا اور اس دوران اس پر کپکپی طاری نہیں ہوئی۔ جن پچھلے بیس برس سے ٹریننگ کر رہا ہے۔
  9. ویسے تواگر خلا سے زمین کا تصور کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارا سیارہ بڑا خاموش ہے، لیکن اگر مناسب آلات کی مدد سے سنا جائے تو معلوم ہو گا کہ زمین کان پھاڑ دینے والا شور مچا رہی ہے۔اور اگر کسی خلائی مخلوق کے پاس مناسب آلات موجود ہیں تو وہ کھربوں میل دور ہی سے ان آوازوں کو بڑی آسانی سے سن سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے چالیس برس قبل ہی اس بات کا پتا چلا لیا تھا کہ زمین سے ایک خاص قسم کی ریڈیائی خارج ہوتی ہیں۔ اور یہ لہریں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب سورج سے آنے والے تیز رفتار ذرات یعنی solar wind زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکراتے ہیں۔اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ نشریات زمین پر کیوں نہیں سنائی دیتیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خوش قسمتی سے زمین کی بیرونی فضا ionosphere ڈھال کا سا کام کرتی ہے اور ان لہروں کو زمین پر آنے سے پہلے ہی روک دیتی ہے۔ اور اگر یہ لہریں زمین تک پہنچ پاتیں تو ریڈیو سننا محال ہو جاتا کیوں کہ ان کی شدت کسی بھی طاقت ور ریڈیو سٹیشن کے سگنل سے بھی دس ہزار گنا زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن زمین سے باہر خلا میں ان لہروں کے نشر ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ زمین کے اوپر گردش کرنے والے چار مصنوعی سیاروں کی مدد سے کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ نشریات ٹارچ کی روشنی کی طرح خلا میں پھیلتی جاتی ہیں اوراگر ہمارے نظامِ شمسی سے بہت دور کسی اور سیارے پر ذہین مخلوق موجود ہے تو اسے یہ نشریات سننے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔یہی طریقہ زمین کے ماہرینِ فلکیات بھی استعمال کر کے دوسرے ستاروں کے گرد گھومنے والے سیاروں کا کھوج لگاسکتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے سیارے جو اتنے چھوٹے ہیں کہ عام دوربین سے نظر نہیں آ سکتے۔
  10. السلام علیکم دوستو کیاآپ مکئ کی افادیت کے بارے میں کچھ جانتے ہیں؟ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻏﺬﺍﺋﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﻣﮑﺌﯽ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺌﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﮑﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻓﺮ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﺍﮮ ﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﯽ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﻧﺌﮯ ﺧﻠﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﮔﺮ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻟﯿﺴﭩﺮﻭﻝ ﮐﯽ ﺳﻄﺢ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺭﯾﺸﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﻣﮑﺌﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﮨﺎﺿﻤﮧ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﮯ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﮈﺍﻟﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﺻﺤﺖ،ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺍﯾﻨﯿﻤﯿﺎ ﮐﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮﻣﮑﺌﯽ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
  11. السلام علیکم دوستو ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺧﻼﺋﯽ ﺷﭩﻞ ﺍﯾﭩﻼﻧﭩﺲ ﺧﻠﯿﺞ ﮐﻨﯿﻮﺭﻝ ﺳﮯ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﯾﭩﻼﻧﭩﺲ ﮐﺎ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻦ ﺍﻻﻗﻮﺍﻣﯽ ﺧﻼﺋﯽ ﻣﺮﮐﺰ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﯾﮧ ﺑﺎﺭﮦ ﺭﻭﺯﮦ ﻣﺸﻦ،ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﺧﻼﺀ ﺑﺎﺯ ﺣﺼﮧ ﻟﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﯽ ﺧﻼﺑﺎﺯﯼ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﺑﺎﺏ ﮐﺎ ﺧﺎﺗﻤﮧ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﺑﯿﻦ ﺍﻻﻗﻮﺍﻣﯽ ﺧﻼﺋﯽ ﻣﺮﮐﺰ ﺗﮏ ﺁﻧﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻭﺳﯽ ﺧﻼﺋﯽ ﮔﺎﮌﯾﺎﮞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ۔ ﺍﯾﭩﻼﻧﭩﺲ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺧﻼﺋﯽ ﻣﺸﻦ ﭘﺮ ﺭﻭﺍﻧﮕﯽ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﯽ ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻟﻮﮒ ﺧﻠﯿﺞ ﮐﻨﯿﻮﺭﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻥ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﺳﺎﺕ ﻻﮐﮫ ﺗﮏ ﮨﻮ ﭼﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﭩﻼﻧﭩﺲ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺸﻦ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﯿﻦ ﺍﻻﻗﻮﺍﻣﯽ ﺧﻼﺋﯽ ﻣﺮﮐﺰ ﭘﺮ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﺗﯿﻦ ﭨﻦ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﺍﺱ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺣﺼﮧ ﺧﻼﺋﯽ ﻣﺮﮐﺰ ﭘﺮ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮨﮯ۔ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺧﻼﺋﯽ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﻧﺎﺳﺎ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﻼﺋﯽ ﮔﺎﮌﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺭﯾﭩﺎﺋﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻧﺎﺳﺎ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﭘﯿﺴﮧ ﺑﯿﻦ ﺍﻻﻗﻮﺍﻣﯽ ﺧﻼﺋﯽ ﻣﺮﮐﺰ ﺳﮯ ﭘﺎﺭ ﭼﺎﻧﺪ،ﻣﺮﯾﺦ ﯾﺎ ﺳﯿﺎﺭﭼﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﮭﯿﺠﻨﮯ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔
  12. نگریزی زبان میں افسانے کو ’’شارٹ سٹوری‘‘یعنی مختصر کہانی کہا جاتاہے، لیکن اس کے باوجود اس کی لمبائی کی کوئی خاص حد نہیں ہے۔ بعض کہانیاں تودرجنوں صفحوں پر محیط ہوتی ہیں، تاہم انہیں بھی شارٹ سٹوری کہاجاتاہے، لانگ سٹوری نہیں۔ لیکن مختصر کہانی کتنی مختصر ہو سکتی ہے؟پانچ سو الفاظ پر مشتمل؟ سو الفاظ؟ پچاس الفاظ؟ 1987ء میں نیویارک ٹائمز اخبار نے ایک مقابلے کا اعلان کیا، جو بعد میں ’55 فکشن‘کے نام سے مشہور ہوگیا۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اس مقابلے میں دنیا بھر سے مصنفین کو پچپن الفاظ پر مشتمل کہانیاں لکھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ منتخب کہانیوں کو اخبار میں شائع کیاجاتاہے۔ سالِ رواں میں اخبار کو سات سو کہانیاں موصول ہوئیں جن میں سے سولہ اخبار کے معیار پر پوری اتر سکیں۔ اس اخبار میں شائع ہونے والی مختصر کہانیوں کا انتخاب ’دنیا کی مختصر ترین کہانیاں‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ لیکن ایسے ادیب بھی ہیں جنہیں پچپن الفاظ بھی بہت زیادہ لگتے ہیں۔ کم از کم ایک مصنف نے تومختصر کہانی کی آخری حد پار کر ڈالی ہے اور اس سے سبقت لے جانا ناممکن ہے۔ کیونکہ اس کہانی میں الفاظ کی تعداد صفر ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کہانی میں ایک لفظ بھی نہ ہو؟ ملاحظہ ہو: عنوان: ’’ تیسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا کی تاریخ‘‘ کہانی: دو سادہ صفحے سوچیے تو کیا نہیں ہے اس کہانی میں۔طنز، سبق آموزی اور تاثیر کوٹ کوٹ کر بھرے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اختصار میں دنیا کا کوئی ادیب اس کہانی سے سبقت نہیں لے جا سکتا۔ تاہم اس سے کچھ لمبی کہانیوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔حتیٰ کہ اس صنف میں ڈراؤنی کہانیاں بھی لکھی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہانی دیکھئے: ’’دنیا کا آخری آدمی کمرے میں بیٹھا تھا۔ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔‘‘ مختصر ترین کہانیوں کی اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکہ کے مشہور رسالے ’وائرڈ میگزین‘نے اپنے نومبر 2006ءکے شمارے میں ایک دلچسپ تجربہ کیاہے۔ رسالے کے مدیروں نے امریکہ کے چوٹی کے ادیبوں کوصرف چھ الفاظ پر مشتمل کہانیاں لکھنے کی دعوت دی۔ رسالے کے پاس بطورِ رول ماڈل نوبل انعام یافتہ امریکی ادیب ارنسٹ ہیمنگوے کی مختصر کہانی موجود تھی: ’’بچگانہ جوتے،برائے فروخت ۔کبھی استعمال نہیں ہوئے۔‘‘ انگریزی میں یہ کہانی صرف چھ الفاظ پر مشتمل ہے، جن میں ہیمنگوے نے پوری داستان سمو دی ہے۔ جوتے کون بیچ رہا ہے؟ شاید کسی بچے کے والدین۔ شاید بچہ پیدا ہوتے ہی مر گیا تھا یا مرا ہوا ہی پیدا ہوا تھا۔ والدین نے بڑے ارمانوں اور چاؤ سے اس کے لیے جوتے خریدے ہوں گے۔ لیکن اب وہ اپنے مالی حالات کے ہاتھوں اتنے مجبور ہو گئے ہیں کہ مرے ہوئے بچے کے جوتے بیچنے کی نوبت آگئی ہے۔ غربت کا عفریت ، معاشی ناہمواری، وسائل کی نامناسب تقسیم، قدرت کے سامنے انسان کی بے بسی، ذاتی المیے کے باوجود زندگی کی گاڑی کا چلتے رہنا۔ سب کچھ اس کہانی میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہیمنگوے نے اس کہانی کو اپنے کیریر کی اعلیٰ ترین کہانی قرار دیا ہے۔ وائرڈ میگزین کی درخواست پر امریکہ کے درجنوں صفِ اول کے مصنفین اپنی اپنی کہانیاں بھیجیں۔ مصنفین کی اکثریت کا تعلق سائنس فکشن ، فینٹسی اور دہشتناک کہانیاں لکھنے والوں سے تھا۔ کہانیوں کے موضوعات بہت متنوع ہیں۔ باہمی انسانی تعلقات، محبت، سیاست، وغیرہ۔ تاہم بہت سی کہانیوں میں ’ڈس ٹوپیا‘ کا تصور نظر آتا ہے۔ یعنی انسان اور دنیا کے مستقبل سے مایوسی۔ اور یہ کوئی انوکھی بات اس لیے نہیں ہے کہ یہ پچھلے سو برس کے ادب کے مرکزی موضوعات میں سے ایک رہا ہے۔ اوپر دی گئی دنیا کی مختصرترین کہانی کا موضوع بھی یہی ہے۔ وائرڈ میگزین سے شمارے سے چند منتخب کہانیاں نذرِ قارئین ہیں، دیکھیئے کہ ان میں سے کئی کہانیاں اپنے ایجاز، اختصار اور ایمائیت کی بنا پر شاعری کے درجے تک پہنچ گئی ہیں: مارگریٹ ایٹ وُڈ ’’اس کی حسرت تھی۔ مل گیا۔ لعنت۔‘‘ سٹیفن بیکسٹر ’’میں تمہارا مستقبل ہوں۔مت رو بچے۔‘‘ فرینک ملر ’’میں نے خون آلود ہاتھوں سے کہا، خداحافظ۔‘‘ سٹیون میریٹسکی ’’دن برباد، زندگی برباد۔ ذرامیٹھا بڑھانا۔‘‘ ورنر ونج ’’کتبہ: بے وقوف انسان، زمین سے بھاگ نہیں سکا۔‘‘ بروس سٹرلنگ ’’بہت مہنگا ہے، انسان رہنا۔‘‘ اورسن سکاٹ کارڈ ’’بچے کے خون کا گروپ؟ بالعموم، انسانی‘‘ بین بووا ’’انسانیت کو بچانے کے لیے اسے دوبارہ مرنا پڑا۔‘‘ ہیری ہیریسن ’’مشین مستقبل میں پہنچ گئی۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔‘‘ رچرڈ پاورز ’’جھوٹ پکڑنےوالی عینک کی ایجاد ۔ انسانیت منہدم ہو گئی۔‘‘ ہاورڈ چیکن ’’میرا خیال تھا کہ وہ مجھ پر گولی نہیں چلائے گی۔‘‘ سٹیفن ڈونالڈسن ’’اس سے شادی مت کرو، گھر خرید لو۔‘‘ رابرٹ جورڈن ’’آسمان ٹوٹ پڑا۔ تفصیل گیارہ بجے۔‘‘ کین میک لیوڈ ’’کیا اتنا کافی ہے؟ کاہل ادیب نے پوچھا۔
  13. کھانے میں نمک کی مقدار معمولی کم کر دینے سے دور رس طبی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک میں روزانہ نمک کی مقدار میں تین گرام، یعنی صرف ایک چمچہ، کم کرنے سے سالانہ 32ہزار فالج کے حملے اور 54ہزار دل کے دوروں کو روکا جا سکتا ہے۔ فالج یا سٹروک میں رگوں کے اندر خون کا لوتھڑا جم جانے کی وجہ سے دماغ کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے، جس سے جسم کا کوئی حصہ مفلوج ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے نمک کی کمی کے طبی اثرات کے بارے میں پیش گوئی کے لیے ایک اچھوتا کمپیوٹر پروگرام تیار کیا ہے۔ ماہرین نے اس پروگرام کی مدد سے 35 سے 84 برس کی عمر کے دل کی بیماری میں مبتلا افراد پر ریسرچ کے بعد یہ پتا چلایا کہ اگر روزانہ نمک کے استعمال کی مقدار میں صرف ایک گرام (یعنی ایک تہائی چمچ) ہی کمی کر دی جائے تو اگلے دس سال کے لیے ہائی بلڈ پریشر کا علاج سستی ترین گولی پر اٹھنے والے خرچ سے بھی سستا ہو جائے گا۔ بہت سے لوگ صحت بخش خوراک کھانے کے حوالے سے صرف کیلوریز کا خیال رکھتے ہیں لیکن نمک کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ نمک کے استعمال میں کمی کی کوئی ہدایت سامنے آئی ہے۔ گذشتہ نومبر کو میڈیکل جریدے میں شائع ہونے والے ایک جائزے میں کہا گیا تھا کہ اگر ہر شخص اپنی خوراک میں نمک کی مقدار آدھی کر دے یعنی لگ بھگ پانچ گرام یومیہ، تو اس سے فالج کی شرح میں 23 فیصد اور دل کی بیماری میں مجموعی طور پر 17 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔ بہت سے مغربی ملکوں کی طرح امریکہ کے باشندے اوسطاً لگ بھگ دس گرام نمک روزانہ کھاتے ہیں جب کہ صحت کا عالمی ادارہ صرف پانچ گرام اور امریکی محکمہٴ زراعت ساڑھے پانچ گرام نمک روزانہ استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ نمک کے استعمال میں کمی سے اور بھی بہت سے فائدے حاصل ہو سکتے ہیں۔ایک نئے جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ خوراک میں سے روزانہ تین گرام نمک کم کرنے سے صحت کی نگہداشت کے اخراجات میں سالانہ دس ارب سے24 ارب تک کی بچت ہو سکتی ہے۔ جب کہ نمک کی صرف ایک گرام مزید کمی ہائی بلڈ پریشر کے تمام مریضوں کے لیے ادویات کے استعمال سے سستا علاج ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اب تک سامنے آنے والے جائزوں کے نتائج قومی پالیسی میں تبدیلی کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ نمک کی کمی کے فائدے اپنی جگہ لیکن اپنی خوراک میں نمک کی مقدار میں کمی کرنا کوئی آسان کام نہیں ہو گا۔ یہ درست ہے کہ تین گرام نمک لگ بھگ ایک چائے کے چمچے کے برابر ہو تا ہے ۔ اس لیے نمک کی مقدار میں مطلوبہ کمی کے لیے قومی پیمانے پر بھرپور کوشش کی ضرورت ہے۔
  14. السلام علیکم دوستو جدیدٹیکنالوجی کےاس دورمیںجہاںانسان چاند کے بعد خلاں کو تسخیر کرکے دوسری دنیا تک رسائی کی باتیں کررہا ہے وہاں ماہرین کے اس انکشاف نے، کہ انسانی دماغ سکڑرہا ہے سائنسدانوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ اس بات کا انکشاف فرانس سے ملنے والی 28ہزار سال پرانی ایک انسانی کھوپڑی کے 3 D امیج سے لگایا گیا جس کا حجم موجودہ دور کے انسانی دماغ سے 20فیصد بڑاہے۔ ڈسکور میگزین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ماہرین ِ علم البشریات کا کہنا ہے کہ گزشتہ20ہزار سال کے دوران انسانی دماغ کے حجم میں 15ہزار کیوبک سینٹی میٹرسے ایک ہزار350سینٹی میٹر تک کمی واقع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کی مصنف کیتھلین کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ کے سائز میں کمی دنیا کے ہر حصے کے باشندوں اور دونوں جنسوں میں یکساں ہے۔ وسکانسن یونیورسٹی میں علم البشریات کے ایک ماہر ڈاکٹرجان ہاکس کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ انسانی دماغ سکڑرہا ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری ذہانت میں بھی کمی واقع ہورہی ہے۔ ماقبل از تاریخ کے بعض ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ ہمارے دماغ کا حجم کم ہوا ہولیکن اس کی فعالیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک دوسرے نظریہ میں کھانے کے طور طریقوں میں تبدیلی کو دماغ کے سکڑنے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ اس نظریہ کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ چونکہ جانوروں میں کھانے کو چبا کر کھانے کی عادت ہے جو ان کے دماغ کے بڑھنے میں مدد دیتی ہے مگر انسان کے کھانا کھانے کے انداز میں اتنی جدت آگئی ہے کہ اب کھانے کو چبا کر کھانے کی عا د ت مفقود ہوتی جارہی ہے ‎ ‎
  15. لندن : انٹرنیٹ کی سکیورٹی پر نظر رکھنے والے ماہرین نےاکیلےانٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ فیمبٹ نامی وائرس ان کے کمپیوٹر کو خراب کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فیمبٹ نامی وائرس خود کو خاتون ظاہر کرتا ہے اور فوری طور پر پیغام کے ذریعے بات چیت کرنا چاہتا ہے اور اس دوران صارف کے کمپیوٹر کو خراب کر سکتا ہے۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق صارفین کو اس بات پر راضی کیا جاتا ہے کہ وہ ذاتی معلومات ظاہر کریں جس کے ذریعے انہیں دھوکا دیا جا سکے۔ یہ وائرس پہلی بار سنہ 2007 میں سامنے آیا تھا مگر اس کے بعد اسے زیادہ نہیں دیکھا گیا۔ پی سی ٹولز کے رچرڈ کلوک کے مطابق فیمبٹ نامی وائرس اس بار پہلے سے بھی زیادہ دلکش روپ اختیار کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ وائرس بات چیت کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کو بدل سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ وائرس انٹرنیٹ صارفین کو ایک ایسی ویب سائٹ پر کلک کرنے کا کہتا ہے جس کے ذریعے وہ صارفین کے کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات حاصل کر سکتا ہے۔ سنہ 2007 میں ایک روسی کمپنی سائیبر لور نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کر لیا ہے جو خود کو مخالف جنس کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب ایسی کوئی اطلاع نہیں جس سے ثابت ہو سکے کہ سائیبر لور سافٹ ویئر انٹر نیٹ پر جرم میں ملوث ہو۔
  16. لندن گاڑیاں تو مہنگی ہوتی ہی ہے لیکن گاڑی کی مہنگی چابی تیار کرلی گئی ہے۔مشہور کار آسٹن مارٹن کے لیے بنائی گئی اس گھڑی کی طرزکی چابی بیس ہزار پاؤنڈ ہے۔یہ گھڑی نماچابی ٹچ سسٹم پر کام کرے گی۔اور ڈائل کو چھونے پر گاری کا لاک کھولا اور بند کیا جاسکے گا۔یہ چابی جیمز بانڈز کی فلموں میں بنائی جانے والے جاسوسی کے آلات سے متاثر ہوکر بنائی گئی ہے۔
  17. پیرس……فرنچ آ رکیٹیکٹ نے گھر یلو استعمال کا ایسا لیمپ ایجاد کیا ہے جسے شمسی توانا ئی کے ذریعے رو شن کیا جاسکے گا ۔ اس لیمپ کو گھر کی کسی بھی کھڑکی پر لگا یا جا سکتاہے اور یہ شمسی سیلز کے ذریعے باہر سے آ نے والی دھو پ کو بجلی میں تبدیل کر دے گا ۔مکمل طور پر چا رج ہونے کے بعد اس لیمپ کو گھرکے کسی بھی حصے میں استعما ل کیا جا سکتا ہے ۔
  18. اکرہ : افریقی ملک گھانا میں 96 سالہ شخص نے گریجویشن کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ جنگ عظیم دوئم کے سپاہی اور سابق استاد ایکسیسی کوفی نے 96 برس کی عمر میں گھانا کی پریس بیٹریسن یونیورسٹی میں گریجویشن پروگرام میں داخلہ لیا اور 99 برس کی عمر میں کامیابی سے چار سالہ گریجویشن کی ڈگری حاصل کر لی۔امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا علم کی کوئی حد نہیں جب تک انسان کا دماغ درست کام کرتا رہے آنکھیں دیکھتی ہوں اور کان سنتے ہوں اپ سکول جانے کے قابل ہوں تو آپ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ گریجویشن کرنے کے بعد کوفی ہم جماعتوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اعلی تنخواہوں کے لالچ میں گھانا سے ہجرت نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے ہم وطنوں کی مدد کریں گے۔
  19. السلام علیکم دوستو گوگل نے ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﮐﯽ ﻭﯾﺐ ﺳﺎﺋﭧ ﮔﻮﮔﻞ ﭘﻠﺲ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺻﺎﺭﻓﯿﻦ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﭘﭽﺎﺱ ﮐﺮﻭﮌ ﺳﮯ ﺗﺠﺎﻭﺯ ﮐﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ۔ ﮔﻮﮔﻞ ﭘﻠﺲ ﭘﺮ ﺍﻧﻔﺮﺍﺩﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﻐﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﺗﺒﺎﺩﻟﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮔﻮﮔﻞ ﮐﯽ ﻧﻘﺸﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﮐﯽ ﺳﮩﻮﻟﯿﺎﺕ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺻﺎﺭﻓﯿﻦ ﮐﻮ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮔﺮﻭﭘﺲ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﯽ ﺭﺍﺑﻄﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻨﻈﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ۔ ﺑﻌﺾ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮔﻮﮔﻞ ﭘﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﮐﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﮨﯽ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻭﯾﮉﯾﻮ ﭼﯿﭧ ﯾﺎ ﻭﯾﮉﯾﻮ ﺑﺎﺕ ﭼﯿﺖ ﮐﺎ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﮔﻮﮔﻞ ﻧﮯ ﺣﺎﻟﯿﮧ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﮐﮯ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﺍﻗﺪﺍﻣﺎﺕ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﺎﮨﻢ ﻣﺎﺿﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﮔﻞ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻧﺎﮐﺎﻣﯽ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﮔﻮﮔﻞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮔﻮﮔﻞ ﻭﯾﻮﺯ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﮔﻞ ﺑﺰ ﮐﻮ ﺻﺎﺭﻓﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﮔﻮﮔﻞ ﻧﮯ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﮐﯽ ﻭﯾﺐ ﺳﺎﺋﭧ ﮔﻮﮔﻞ ﭘﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﻧﺌﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺎﺕ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﮐﯽ ﻭﯾﺐ ﺳﺎﺋﭩﺲ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﮐﮭﻼﮌﯼ ﺑﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﻣﻞ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﮔﻮﮔﻞ ﻧﮯ ﮔﻮﮔﻞ ﭘﻠﺲ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺻﺎﺭﻓﯿﻦ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻠﺪ ﮨﯽ ﻭﯾﺐ ﺳﺎﺋﭧ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺻﺎﺭﻓﯿﻦ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻤﻌﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﯽ۔ ﮔﻮﮔﻞ ﺳﺮﻭﺳﺰ ﮐﯽ ﻧﺎﺋﺐ ﺻﺪﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ’ﺁﻥ ﻻﺋﻦ ﺷﯿﺌﺮﻧﮓ ﮐﻮ ﺳﻨﺠﯿﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ۔‘ ﺑﻌﺾ ﺗﺠﺰﯾﮧ ﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮔﻮﮔﻞ ﮐﻮ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﮐﮯ ﭘﺮﺳﺘﺎﺭ ﺻﺎﺭﻓﯿﻦ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻭﯾﺐ ﺳﺎﺋﭧ ﭘﺮ ﻻﻧﮯ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺗﺤﻘﯿﻘﺎﺗﯽ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﺍﯼ ﻣﺎﺭﮐﯿﭩﻨﮓ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﺗﺠﺰﯾﮧ ﮐﺎﺭ ﮈﯾﺒﺮﻭ ﺁﮨﻮ ﻭﯾﻠﻤﯿﺴﻦ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ’ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﭘﺮ ﺻﺎﺭﻓﯿﻦ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺣﻠﻘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﺣﻠﻘﮧ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ۔‘
  20. Asslam-0-Alekum Dunia men Kehkshaan ki Tadaad 1 laakh se ziadah hai... Dunia men Parindon ki Takreeban 900 Aqsaam payi jaati hen... Doodh dene wale Jaanwaron ki 4500 Aqsaam mojud hen... Dunia men 1500 Aqsaam ke Phool hen. Magar Machon ki 125 Aqsaam hen... Ghulaab ke Phoolon ki 792 Aqsaam hen... Kabootron ki 280 Aqsaam hen... Is waqt Dunia men takreeban 18 laakh Jaandaron ki Aqsaam mojud hen. QutubUlDin Badshah Polo Khel men Gend lagne se Hilaak hua tha... Duniya men sab se lambi Surang Japan men hai... Insaani Jism ke ander sab se lambi aamnt ki lambayi 21 Foot hai... Tokiyo wahid Sheher hai jis men koi Faqeer nahin hai... WestIndies wahid mulk hai jis ka DarulHukoomat nahin hai... Insaan ka dimag 90% Paani par Mushtamil hai... Paani aor Khoraak ke begair insaan kam az kam 3 aor ziadah se ziadah 21 din Zindah reh sakta hai... Dunia men Gandum Chin aor Bharat Ziadah paida karte hen... Dunia ka sab se bara Jazeerah Austrailia men hai... Aflaatoon ne 80 Baras ki Ummar men Waffat Payi... Dunia men teen hazar chonsath {3064} Zabanen boli jaati hen... Kavve ki Oast Ummar 80 saal hai... Shutar Murg duniya ka sab se bara Parindah hai, Is kaa qad 8 foot tak hota hai... Dunia ka sab se chota parindah Huming Bird hai, Chonch se dum tak is ki lambayi mahez arhayi inch hoti hai... Parindon men sab se lambi Ummar Huns ki samjhi jaati hai, kaha jaata hai ki woh 300 saal tak Zindah rehta hai... Dunia men Podon ki 4 laakh se zaid aqsaam hen, un men se dhayi lakh aese hen jin par Phool aate hen... Phoolon ki takreeban 90% aqsaam men Khushbu nahin hoti... Sab se bara phool IndoNesia men paya jaata hai, us ka naam Rifeliya hai, us kaa phelao 1 meter tak hota hai... sab se chota phool Braziel ke DekWed ka hota hai, yeh phool 1 milli meter se kam phelao men hota hai... Dunia ka pehla Post Card October 1869 ko Dock men daala gaya tha... Sab se pehle Parindon men Lutora Parinde ne Roza rakha... SAb se Pehle Zulqarneen badshah ne Sir par Pagri bandhi... Tarpen ka Tail Sunober ke darakht se Hasil kia jaata hai... Water Polo ki ek Team men 7 Khilari hote hen... Qutub-e-Junoobi men Suraj Sabz dikhayi deta hai...

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.