Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Play_Boy007

Banned
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Play_Boy007

  1. کششِ ثقل سے بجلی پیدا کرنے کا نظام وضع کرلیا، پاکستانی سائنسدان کا دعویٰ کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستانی سائنسدان سید عبدالعلی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تین سال کی محنت کے بعد کششِ ثقل سے بجلی پیدا کرنے کا نظام وضع کر لیا ہے، قومی مفاد میں استعمال کرنے کی ضمانت دی جائے تو فارمولا آج ہی حکومت پاکستان کے حوالے کر دوں گا۔ بدھ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں عالمی سائنسی مسلمہ اصولوں اور قوانین کے عین مطابق فارمولا اور اس فارمولے کے تحت ایک ڈیزائن مرتب کرنے میں کامیاب ہوا ہوں، انہوں نے کہا کہ میں یہ تو نہیں بتاؤں گا کہ یہ فارمولا سائنس کے کن اصولوں اور قوانین کے تحت کام کرتا ہے لیکن فارمولے کی کارکردگی کی صلاحیت کے حوالے سے اتنا ضرور بتاؤں گا کہ میرے لیے یہ کام بالکل آسان ہے کہ ” حبیب بینک کے حجم کے برابر (جو تقریباً 200 فٹ بلند اور کم و بیش 20 ہزار ٹن کے وزن) کے برابر آبجیکٹ کو زمین کی سطح سے اتنی ہی بلندی تک کسی قسم کی توانائی کو کام میں لائے بغیر زمین کی کشش ثقل کے ذریعے سے اتنی ہی ولاسٹی کے ساتھ جس ولاسٹی سے یہ آبجیکٹ مذکورہ بلندی سے سطح زمین تک آتی ہے نہ صرف اسے واپس اسی بلندی تک پہنچا سکتا ہوں بلکہ اس میں مسلسل ایک تسلسل قائم رکھ سکتا ہوں“۔ عبدالعلی نے کہا کہ آج کی نشست میں اس خدشے کے پیش نظر کہ فارمولا لیک آؤٹ نہ ہو جائے کسی قسم کی کلّی یا جزوی تفصیل پر بات نہیں کرنا چاہوں گا۔ فارمولے اور ڈیزائن کا قانونی حق ملکیت (Patent) نہ خود مجھے اور نہ ہی میرے ملک کو حاصل ہوا ہے لہٰذا اسے حاصل کیے بغیر اس راز کو افشاء کرنا خطرناک اور پوری قوم کے پیر پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانونی ادارے مجھے اس بات کی ضمانت دیں کہ یہ ملک و قوم کے مفاد میں استعمال ہوگا تو میں یہ فارمولا آج ہی حکومت پاکستان کے حوالے کرنے کو تیار ہوں۔
  2. Thanks for sharing.. buhat hi latest rakshaw hein..
  3. ایک نئی تحقیق نے ایسی خواتین کو جو طویل عرصہ زندہ رہنا چاہتی ہیں تجویز دی ہے کہ وہ صرف اپنے ہم عمر مردوں سے ہی شادی کریں۔ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ایسی خواتین جن کے خاوند اُن سے بڑے یا چھوٹے ہوں، کی زندگی کم ہو جاتی ہے۔ یہ نتائج بیس لاکھ ڈینش جوڑوں کے میڈیکل ریکارڈ سے حاصل کیے گئے جس کے مطابق ایسی بیویوں میں جن کے شوہر اُن سے سات برس چھوٹے ہوں موت کی شرح بیس فیصد زیادہ ہوتی ہے۔ جرمن محققین کے مطابق وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ پرانی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ ایسے مرد جن کی بیویاں اُن سے کم عمر ہوتی ہیں زیادہ عرصہ زندہ رہتے ہیں۔
  4. لندن برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ برطانیہ اور یورپ میں فروخت ہونے والے بعض سگریٹ فلٹر میں سور کے خون کی آمیزش ہوتی ہے۔ فاؤنڈیشن نے اپنے طور پر معاملات کی تحقیقات شروع کر دی ہے جس کی رپورٹ جلد ہی عام کر دی جائے گی۔ہارٹ فاؤنڈیشن برطانیہ کے زیر اہتمامعلما اور کمیونٹی لیڈروں کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا گیا کہ سگریٹ کی تیاری میں چار ہزار سے زیادہ کیمیکل استعمال ہوتے ہیں جبکہ سگریٹ کی لت بھی ہیروئن اور کوکین کی طرح صارفین کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔اس کانفرنس میں بریڈ فورڈ، کیتھلے، ہیلی فیکس اور بعض دیگر نواحی علاقوں کے ممتاز علمائے دین اور کمیونٹی لیڈروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس مسئلہ پر تفصیلی غور کیا گیا کہ رمضان شریف کی برکات سے کًس طرح سگریٹ کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔بریڈ فورڈ کی سٹاپ سموکنگ مہم کے اشتراک سے ہونے والی اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہارٹ فاؤنڈیشن کے قائم زیدی نے کہا کہ برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن گزشتہ 11 برس سے برطانیہ میں آباد ساؤتھ ایسٹ ایشین کمیونٹی میں ایک صحت مند دل کی ضرورت پر بھرپور تحریک چلا رہی ہے۔ ملک بھر کے مختلف شہروں اور قصبوں میں اجتماعات اور کانفرنسز کی جا رہی ہیں لیکن ہم ابھی تک پوری کمیونٹی کی توجہ اس اہم مسئلہ کی طرف مبذول کرانے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ہر سال مرنے والوں کی ایک بڑی تعداد کی وجہ کمزور دل اور قلبی امراض ہیں۔ انہوں نے علمائے کرام پر زور دیا کہ وہ اپنے جمعہ کے خطبات اور دوسرے اجتماع کے موقع پر لوگوں کو بتائیں کہ ان کی زندگی کے لئے صحت مند دل کی کیا اہمیت ہے۔
  5. سائنسدانوں کے مطابق مکمل چاند گرہن گیارہ سالوں بعد ہورہا ہے ۔یہ صدی کا سب سے طویل دورانیے کا مکمل چاند گرہن ہے۔ گہن کے دوران چاند کا رنگ تانبے کی طرح سرخ مائل ہوجائے گا اور یہ زمین سے ایک سرخ بال کی طرح دکھائی دے گا۔ یہ رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن ہے جبکہ اگلا چاند گرہن اسی سال 10 دسمبر کو ہو گاتاہم وہ جزوی چاند گرہن ہوگا۔مکمل چاند گرہن27جولائی 2018ء میں ہونے کے امکانات ہیں۔ چاند گرہن پاکستان سمیت مشرقی افریقہ کے آدھے حصے، مشرق وسطیٰ، خلیجی ممالک ، وسط ایشیاء ، جنوبی ایشیاء اور مغربی آسٹریلیا میں بھی دیکھا جاسکے گا ۔ گرہن کا دورانیہ 50 منٹ ہے۔پاکستان کے محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق گرہن پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجکر 25 منٹ سے صبح 4 بجے تک ہوگا جو پاکستان میں بھی دیکھا جاسکے گا۔ چاند گرہن کا آغاز رات 10 بجکر 25 منٹ پر ہوگا جبکہ 11 بجکر 23 منٹ سے جزوی چاند گرہن شروع ہوگا اور رات 12 بجکر 22 منٹ سے مکمل چاند گرہن کا آغاز ہوگا۔ اس طرح رات ایک بجکر 13 منٹ پر یہ اپنے عروج پر ہوگا جبکہ 2 بجکر 3 منٹ پر چاند گرہن ختم ہونا شروع ہوجائے گا۔رات 3 بجکر 2 منٹ پر چاند گرہن میں جزوی طور پر کمی آجائے گی اور صبح تقریباً 4 بجے چاند گرہن مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔ سائنس دانوں کے مطابق رواں صدی میں کل 85چاند گرہن ہوں گے ۔ ان میں سے دو مکمل اور طویل ترین دورانئے کے چاند گرہن ہوں گے جن میں سے بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو پہلا جبکہ 27جولائی 2018ء کو دوسرا مکمل چاند گرہن ہوگا۔ آج ہونے والا چاند گرہن دوہزار اٹھارہ کو ہونے والے چاند گرہن سے تین منت چھوٹا ہوگا۔
  6. گرمیوں میں لیموں کی اسکنج بین نہ صرف ترو تازگی کا احساس بخشتی ہے بلکہ گردے کی بیماریوں سے حفاظت کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ امریکہ میں گردے کے ا مراض میں مبتلا افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لیموں کا رس گردے میں پتھری بننے کا عمل انتہائی کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق لیموں میں موجود Citrate کا تناسب کسی بھی دوسرے Citrus Fruit کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوتا ہے جو قدرتی طور پر گردے میں بننے والی پتھری کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ ماہرین کاکہناہے کہ دو لیٹر پانی میں چار اونس لیموں کا رس ملا کر باقاعدگی سے پینے سے گردے کا نظام موثر انداز میں کام کرتا ہے
  7. صحرا میں زیر تعمیر جدید ترین شہر دنیا کا پہلا کاربن فری شہر ‘‘مصدر‘‘ ابوظہبی میں زیر تعمیر ہے جس میں توانائی کا واحد وسلیہ سورج کی روشنی ہو گی۔ شہر میں نہ دھواں ہوگا نہ ردی اور نہ گاڑیاں اس شہر میں نہ گاڑیاں نظر آئیں گی اور نہ ہی بلند و بالا عمارتیں۔ ابوظہبی کو انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی (IRENA) کے سکریٹریٹ کی رہائش کے انتظام کے لئے منتخب کیا گيا ہے۔ اور یہ پہلا موقع ہے جب کسی عالمی تنظیم نے مشرق وسطی کے کسی شہر کو اپنے صدر دفتر کے لئے منتخب کیا ہے۔ کاربن فری ‘‘مصدر ‘‘ شہر مکمل طور پر قابل تجدید توانائی سے اپنی ضروریات پوری کر کے دنیا کا صرف پہلا کاربن فری شہر ہی نہیں بنے گا بلکہ یہاں عام شہروں کی طرح ‘‘ردی‘‘ کا نام و نشان نہیں ہو گا کیونکہ ہر قسم کی ردی کو ری سائیکل کر کے دوبارہ قابل استعمال بنایا جائے گا اور اس طرح یہ دنیا کے لیئے ایک مثالی شہر ثابت ہو گا۔ ایک چار دیواری کے اندر تعمیر ہونے والے اس شہر کو قدیم عرب شہر کی طرز پر تعمیر کیا جارہا ہے جہاں تنگ گلیاں عمارتوں کے سائے کی وجہ سے بھی ٹھنڈی رہیں گی اور اسی طرح پورے شہر میں ٹھنڈک کے احساس کے لیئے ‘‘لونر ٹیکنالوجی‘‘ استعمال کی جائے گی۔ شمسی توانائی کا سٹیشن جو مصدر شہر میں توانائی کا واحد ذریعہ ہوگا پٹرول اور ڈیزل کی روایتی گاڑیاں صرف شہر کے صدر دروازے سے باہر تک محدود رہیں گی جس کے بعد یا تو پیدل سفر کیا جاسکے گا یا پھر ڈرائیور کے بغیر چلنے والی مقناطیسی گاڑیاں استعمال کی جاسکیں گی۔ بازاروں اور گلیوں میں پیدل سفر کیا جائے گا لیکن تھکاوٹ کی صورت میں نچلی منزل سے ڈرائیور کے بغیر چلنے والی مقناطیسی سینسر کی حامل گاڑیاں استعمال کی جاسکتی ہیں جو شمسی توانائی سے چلیں گی اس زیر تعمیر کاربن فری شہر کا ڈیزائن برطانوی آرکیٹیک فوسٹر اینڈ پارٹنرز نے تیار کیا ہے اور اس پر پندرہ بلین سے تیس بلین ڈالر کے درمیان لاگت آئے گی ۔ یہ رقم ابوظہبی کے حکمران شیخ خلیفہ بن زائد النیہان ادا کریں گے۔ مکمل ہونے پر اس شہر میں پچاس ہزار افراد قیام کر سکیں گے جبکہ ایک یونیورسٹی اور ایک ہزار تجارتی ادارے ہوں گے۔ تعمیراتی ٹیکنالوجی میں روایتی صحرائی اور اکیسویں صدی کی انجینیرنگ ٹیکنالوجی کا مشترکہ استعمال کیا جا رہا ہے اور قابل تجدید توانائی کے لیئے صحرامیں چمکتے ہوئے سورج کی حدت کو استعمال میں لایا جائے گا اور اس طرح‘‘مصدر ‘‘شہر آج کی دنیا میں مکمل طور پر قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے پاور حاصل کرکے دنیا کا سب سے پہلا صفر کاربن شہر ہی نہیں بلکہ ڈیزائن میں نئی طرز کی ٹیکنالوجی کی ترقی اور تجارتی اعتبار سے کثیر جہت سرمایہ کاری کا مرکز بنے گا ۔
  8. استعمال : صبح بیدار ہوتے ہی نہار منہ پہلے چار بڑے گلاس پانی بیک وقت پیا جائے۔ پانی پینے کے بعد دانتوں کو مسواک یا برش کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد ناشتے کے دو گھنٹے بعد پانی پیا جائے۔ اس طرح دوپہر کا کھانا کھانے کے دو گھنٹے بعد پھر رات کے کھانے کے بعد دو دو گلاس پانی پیا جائے۔ رات پانی پینے کے بعد اور سونے سے پہلے پھر کوئی چیز نہ کھائی جائے۔ اگر صبح چار گلاس نہ پیئے جا سکیں تو پہلے ایک ایک گلاس کر کے پیا جائے۔ آہستہ آہستہ روزانہ پانی کی مقدار بڑھا لی جائے۔ اس تجربہ سے مندرجہ ذیل مریض اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے شفا یاب ہو سکتے ہیں۔ قبض اور گیس کے امراض دو دن کے اندر اللہ شفاءدے دیتے ہیں۔ ذیابیطس ایک ہفتہ کے اندر اور ہائی بلڈ پریشر ، کینسر ، ایک ایک ماہ میں اور ٹی بی سے بفضلہ تین ماہ کے بعد نجات مل سکتی ہے۔ پانی پینے کا طریقہ : صاف پانی کا استعمال بیمار لوگوں کے ساتھ ساتھ صحت مند لوگوں کیلئے بھی خاصا مفید ہوتا ہے۔ بیمار اس سے تندرستی حاصل کر سکتے ہیں جبکہ صحت مند لوگ بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اگر ہم روزانہ آٹھ سے دس گلاس صاف پانی پئیں اور مناسب ورزش کے ساتھ متوازن خوراک استعمال کریں تو اللہ تعالیٰ بہت سی بیماریوں سے نجات دلاتا ہے۔ پانی پینے کے اسلامی طریقہ سے موجودہ سائنسی تحقیق نے بھی اتفاق کیا ہے۔ پانی بیٹھ کر پیا جائے تو جسم کی حاجت کے مطابق پانی جسم میں جاتا ہے۔ جبکہ کھڑے ہو کر پانی پینے سے جسم کی ضرورت سے زائد پانی جسم میں جاتا ہے۔ جو کہ استسقاءکا باعث ہے۔ ہمارے محسن پیغمبر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے۔ اس سے معدے اور جگر کی بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم : آخر میں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بات ختم کی جاتی ہے۔ حضرت ثمامہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ برتن سے پانی پیتے وقت دو یا تین سانس لیتے تھے۔ اور ان کا خیال تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح تین سانس لیا کرتے تھے۔ یاد رہے پانی ایک ہی سانس میں نہیں پینا چاہیے پانی ٹھہر ٹھہر کر تین سانسوں میں پینا چاہیے ایک ہی سانس میں کھڑے ہو کر پانی پینے سے سانس کی نالی میں پانی جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس عظیم نعمت کو صحیح استعمال کرنے کی توفیق دے۔ اس کے بغیر بدنی ، لباسی اور روحانی صفائی ) وضو بنانا ( ممکن نہیں ہے۔ ہر ذی روح کی آبادی شادابی ، سیرابی اور روزی کے سبب کےلئے بھی اللہ نے ” پانی “ کو پیدا فرمایا ہے
  9. پانی ایک عظیم نعمت ہے۔ کائنات کی ہر چیز جاندار و بے جان کا انحصار و مدار پانی پر ہے۔ ہوا اور پانی اللہ کی بہت ہی قدیم نعمتیں ہیں۔ اللہ جل شانہ کے سوا جب کسی چیز کا کوئی وجود نہ تھا پانی اس وقت بھی موجود تھا۔ جیسا کہ قرآن پاک کے پارہ نمبر بارہ میں سورہ ہود میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : وکان عرشہ علی المائ . . . . ) اور اللہ جل جلالہ کا عرش پانی پر تھا ( سطح زمین کا کل رقبہ 196,938,800 مربع میل ہے۔ اس میں خشکی کا رقبہ 572,360000 اور سمندر ) پانی ( 139,702,800 مربع میل ہے۔ رقبہ کے لحاظ سے پانی اور خشکی کی نسبت 1:2 ہے۔ خشکی سات بڑے براعظموں پر مشتمل ہے۔ اور پانی کے بڑے بڑے بحر یعنی سمندروں کے نام یہ ہیں : بحرالکاہل ، بحر اوقیانوس ، بحرہند ، بحر شمال اور بحر روم ، ان کے علاوہ 27 اہم جھیلیں ، 41 بڑے دریا اور 32 مشہور آبشاریں پانی کی موجود ہیں۔ اللہ کی قدرت سے سمندروں میں سرد اور گرم روئیں بھی بہہ رہی ہیں۔ یعنی ایسے دریا جن کے کنارے بھی پانی کے ہوتے ہیں روئیں کہلاتے ہیں۔ خلیجی رو بہت بڑی گرم رو ہے۔ جو خط استواءسے متحرک ہو کر بہتی ہے۔ اس کی کئی شاخیں سمندروں میں رواں دواں ہیں۔ ایک شاخ ایکویڈار کی رو برطانیہ کے قریب سے بہتی ہوئی گزرتی ہے۔ اس گرم رو کی بدولت ہی اس ملک کی آب و ہوا معتدل رہتی ہے۔ وگرنہ یہ ملک سردی سے یخ ہو جاتا اور زندگی ناپید ہو جاتی یہ انگریز تو اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے۔ پہاڑوں سے بھی صاف پانی کے چشمے پھوٹتے رہتے ہیں۔ زمینی پانی کے علاوہ رب تعالیٰ بادلوں کے ذریعہ جہاں اور جس قدر چاہتا ہے۔ پانی برساتا ہے۔ کئی دفعہ یہ پانی سیلاب ) فلڈ ( کی صورت میں عذاب بھی بن جاتا ہے۔ بس یہ شان کبریائی ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن ہی نہیں ہے۔ انسانی جسم کا دو تہائی حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ ایک عام انسان کے جسم میں 35 سے 50 لیٹر تک پانی ہوتا ہے۔ صرف دماغ کو ہی لے لیجئے اس کا 85 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ انفیکشن سے لڑنے والے محافظ خ لیے خون میں سفر کرتے ہیں۔ خون بذات خود 83 فیصد پانی ہے۔ جسم کے ہر خ لیے میں موجود پانی سے جسم ) ہر ذی روح اور غیر ذی روح ( کے تمام نظام چلتے ہیں۔ جسم میں ڈی ہائیڈریشن ) پانی کی قلت ( سے نقصانات : 1 . چکر 7 . سر میں درد اور بھاری پن 2 . تھکن اور کمزوری 8 . نظر میں کمی و دھندلاہٹ 3 . منہ کی خشکی اور بھوک کی کمی۔ 9 . قوت سماعت میں کمی 4 . خشک اور گرم جل 10 . نبض کی رفتار میں اضاف 5 . سانس کا پھولنا 11 . چال و رفتار میں لڑکھڑاہٹ 6 . پیشاب کی بار بار حاجت۔ 12 . ذیابیطس آلودہ و گدلا پانی کے نقصانات : گدلا اور آلودہ پانی دنیا میں سب سے بڑا قاتل گردانا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں روزانہ ایک لاکھ اور پچیس ہزار افراد گدلا پانی سے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ وطن عزیز ، پاکستان میں 25 سے 30 فیصد اموات معدے اور آنتوں کی بیماریوں کا باعث ہیں۔ یہ بیماریاں گدلے پانی سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔ ٹائیفائڈ بخار ، آنتوں کا بخار ، ہیضہ ، انتڑیوں کی سوزش ، بدہضمی ، گیس ، معدے کا السر ، اپھارہ ، سہال اور جوڑوں کا درد جیسے خطرناک امراض گندلے پانی کا سبب بنتے ہیں۔ دل کی بیماریاں اور ہائی بلڈ پریشر : جسم میں پانی کی کمی سے خون گاڑھا ہونا شروع ہوتا ہے۔ جس سے اس کے بہاؤ میں رکاوٹ آنے لگتی ہے۔ اور پورے جسم تک خون پہنچانے کیلئے دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کی صورت میں جسم میں پانی کی کمی ہونے سے خون کی نالیاں تنگ ہونا شروع ہوتی ہیں۔ اس سے بھی دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ ” امریکی ریاست کولمبیا کی یونیورسٹی آف ساؤتھ کورولین سے وابسطہ ڈاکٹر مارک ڈیوس کا کہنا ہے۔ کہ ” ہماری پیشتر تکالیف کا تعلق ناکافی غذا کے بجائے ناکافی پانی پینے سے ہے۔ “ کیلیفورنیا کی لومالنڈا یونیورسٹی کے شعبہ تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر جیکولین نے کہا ہے کہ حسب ضرورت پانی نہ پینا دل کیلئے اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا کہ تمباکو نوشی۔ جو افراد پانی کی جگہ مشروبات ، چائے ، کافی استعمال کرتے ہیں ان میں بھی دل کے دورہ پڑنے کے خطرات دو گنا ہوتے ہیں۔ صاف پانی کے فائدے : صاف پانی کے استعمال سے اسہال ، معدے اور آنتوں کی خرابی سمیت دیگر کئی جراثیمی بیماریوں سے 50 فیصد تک بچاؤ ممکن ہے۔ اس کے علاوہ صاف پانی انسانی ذہنی و جسمانی نشوونما میں کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔ بچوں کو دودھ اور پھلوں کے رس کے بجائے صاف پانی زیادہ مقدار میں پلانا چاہیے۔ کیونکہ اس سے جسم میں موجود اضافی نمک خارج ہونے میں مدد ملتی ہے۔ برطانیہ میں فوڈ اینڈ موڈ پراجیکٹ نے عمومی صحت اور ذہنی کیفیت پر خوراک کے اثرات کے حوالے سے تجربات کےے جس سے ثابت ہوا کہ ایسے 80 فیصد لوگوں میں ، جنہوں نے پانی کے ذریعے اپنی ذہنی اور جذباتی صحت بہتر بنانے کی کوشش کی ، تسلی بخش بہتری دیکھنے میں آئی۔ ایڈ برگ ) برطانیہ ( کے ایک سکول کے اساتذہ نے دن بھر سارا وقت صاف پانی کی بوتلیں ساتھ رکھنے کی اجازت دی۔ تو سکول کے نتائج انتہائی شاندار رہے۔
  10. چين ميں دل کے مريضوں کےلئے مقامي طور پر تيار کردہ مصنوعي دل آئندہ برس مارکيٹ ميں فروخت کےلئے پيش کرديا جائے گا? چيني ذرائع ابلاغ کے مطابق يہ دل ايک بلڈ پمپ اور بيٹري پر مشتمل ہوگا اور اس مصنوعي دل کي قيمت 87 ہزار ڈالر مقرر کي گئي ہے? اس دل کو تيار کرنے والي ميڈيکل ليبارٹري کے ڈائريکٹر تيا گانگ نے ميڈيا کو بتايا کہ ا س دل کي تياري ايک کروڑ 29 لاکھ امريکي ڈالر کي لاگت آئي ہے اور اس کے لگانے سے عارضہ قلب ميں مبتلا افراد مزيد 7 سے 8 سال تک صحت مند زندگي گزار سکيں گے
  11. کانکریٹ سے یہاں مراد ہے ٹھوس۔ اور یہ لفظ یہاں صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ ویسے یہی لفظ فعل کے طور پر بھی آ سکتا ہے۔ لیکن صفت کے طوراس کا مطلب ایک تو ہے اصل چیز یعنی ایسی جو تجریدی اور ہوائی نہ ہو۔ اس خبر میں یہی مفہوم مراد ہے کہ ٹھوس اقدامات کئے جائیں نا کہ زبانی جمع خرچ۔ یا پھرکانکریٹ سے مراد ایسی شے ہے جو مختلف عناصر سے ملا کر ترکیب دی گئی ہو۔ اور اس سے مراد تعمیرات میں صرف ہونے والا مواد بھی ہے۔ اگر آپ سیمنٹ اور کانکریٹ کا فرق معلوم کرنا چاہیں تو پڑھتے جائیے سیمنٹ تو کسی بھی ایسی شے کو کہتے ہیں جو چیزوں کو جوڑنے کے کام آئے۔ اس کو گوند، لئی، سریش وغیرہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف کانکریٹ، تعمیرات میں استعمال ہونے والے مرکب ہے جس میں سیمنٹ، پانی، ریت، بجری اور اینٹوں یا پتھروں کا سفوف شامل کیا جاتا ہے۔ اس سے سیمنٹ مزید طاقتور ہو جاتا ہے جو کہ اس مرکب میں، جوڑنے کا عمل کرنے والا واحد عنصر ہے۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.