Everything posted by Play_Boy007
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
کچھ مفلسی میں چل دیئے، کردار بیچنے آئے ہیں ہم بھی درد کے مینار بیچنے کل تک جو اُن کا"مان"تھا، غربت نگل گئی بازارِ شب میں آئے وُہ ، دستار بیچنے کل برسرِ پیکار تھے جو قوم کےلئے منڈی میں آگئے ہیں وہ تلوار بیچنے غاصب نے جال روٹی کا پھیلایا اس طرح عِصمت کو لے کے چل دیا خوددار بیچنے ناصر تھے میرے دین کےکل تک جو شہر میں بیٹھے ہیں وہ بازار میں ، اوتار بیچنے
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
بڑے مختصر سے حروف میں مجھے گہری بات بتا گیا کہ وہ خواب سا کوئی شخص تھا جو سحر سے پہلے جگا گیا کسی مہربان کی دعا سے یہ سفر تمام ہوا میرا جنھیں رہبری کا غرور تھا انھیں راستوں نے مٹا دیا ہمیں آسماں سے گلہ نہیں تیری رحمتوں پہ یقین ہے جہاں زندگی شکست دی کسی معجزے نے بچا لیا ہمیں زندہ ہونے کا حوصلہ تیری آرزو نے عطا کیا بڑے گہرے زخم ملے ہمیں جنھہں رفتہ رفتہ مٹا دیا
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
ہاتھ خالی ہیں تیرے شہر سے جاتے جاتے جاں ہوتی تو میری جان لُٹاتے جاتے مجھ سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہونگے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے مجھے رونے کا سلیقہ بھی نہیں آتا ہے لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے میں بھی مجبور تھا، میں نے اُسے روکا ہی نہیں وہ دیکھتا رہا مُڑ مُڑ کے مجھے جاتے جاتے
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
بھلا کیا پڑھ لیا اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں کہ اس کی بخششوں کے اتنے چرچے ہیں فقیروں میں کوئی سورج سے سیکھے، عدل کیا ہے، حق رسی کیا ہے کہ یکساں دھوپ بٹتی ہے، صغیروں میں کبیروں میں ابھی غیروں کے دُکھ پہ بھیگنا بُھولی نہیں آنکھیں ابھی کچھ روشنی باقی ہے لوگوں گے ضمیروں میں نہ وہ ہوتا، نہ میں اِک شخص کو دِل سے لگا رکھتا میں دُشمن کو بھی گنتا ہوں محّبت کے سفیروں میں سبیلیں جس نے اپنے خون کی ہر سو لگائی ہوں میں صرف ایسے غنی کا نام لکھتا ہوں امیروں میں بدن آزاد ہے، اندر میرے زنجیر بجتی ہے کہ میں مختار ہو کر بھی گنا جاؤں اسیروں میں
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
کون ہی سورج کون ہے سایہ میں بھی سوچوں تو بھی سوچ کس نے پہلے ہاتھ چھڑایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ جس کی خاطر ساحل ساحل سیپیاں چُنتے بیت گئے کیوں وہ موتی ہاتھ نہ آیا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ کس کو کتنا نام ملا اور کس کو ہی الزام مِلا کس نے کس کا وقت گنوایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ کس نے کتنی آس بندھائی کس نے کتنی جان چھڑائی کس نے کتنا ساتھ نبھایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ ہم جو تعلق کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوئے جیون میں یہ دن کیوں آیا، میں بھی سوچوں تو بھی سوچ اس کی باتیں سننے والے تیرے جیسے لگتے ہیں کس کو قمر نے حال سنایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
نظام تیرا چلانے والے نظام اپنا چلا رہے ہیں بھلا رہے ہیں کہ کیسے اپنے لہو سے اپنوں نے اس کو حاصل کیا ہوا ہے کہیں ہیں وعدے کہیں ہیں دعوے ناپختہ دیکھے سبھی ارادے تمہارا چہرہ مسخ رہے ہیں گھروں کو اپنے سجا رہے ہیں بھلا رہے ہیں کہ کیسے اپنے لہو سے اپنوں نے اس کو حاصل کیا ہوا ہے ضمیر مردہ جو ہو چکے ہیں مفاد سب نے لئے ہوئے ہیں لبوں کو اپنے سیے ہوئے ہیں بھلا رہے ہیں کہ کیسے اپنے لہو سے اپنوں نے اس کو حاصل کیا ہوا ہے میرے وطن تو مگر نہ گھبرا تجھے نہیں ڈر ہزاروں ایسے ابھی ہیں زندہ تمہارے پیر و جواں بہادر اگر ضرورت پڑی تو تجھ پہ لٹا بھی دیں گے یہ جان اپنی خراش تجھ پر نہ آنے دیں گے یہ جانتے ہیں تمہاری قیمت کہ کیسے اپنے لہو سے اپنوں نے تجھ کو حاصل کیا ہوا ہے
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
ایک اسکول کے آنگن میں تھا اک پھول کا پودا گرما کی لمبی رخصت میں پھول کھلا اک اس میں پہلے پہل جب وہ غنچہ تھا آنکھیں موندھے ٹہنی پر یوں جھولے جھولا کرتا تھا جیسے اس جیسا خوش قسمت ارض و سما میں کوئی نہ ہو لیکن جب وہ پھول بنا اور جوبن نے لی انگڑائی اس کو یہ احساس ہوا کتنی ہے تنہائی شہر کے بیچوں بیچ اک چھوٹے سے اسکول کے آنگن میں پھول بہت ہی تنہا تھا بچے تو تعطیل منانے دور گئے تھے جھیلوں اور پہاڑوں پر باغوں اور کھلیانوں میں شہر کے آلودہ حالات ہیں دو چار ہی تتلیاں بھنورے ان کو بھی اس تنہا پھول کے بارے میں کچھ علم نہ تھا ورنہ وہ دو چار گھڑی بھی ملتے، باتیں کرتے، گاتے چومتے منہ اور چومتے رس اک دوجے کا پھول نے اپنے جوبن کے وہ دن بھی ٹہنی پر کاٹے جب تک اس سے پہلے آنے والے اس پودے کے پھول لاکھ حفاظت کرتا مالی ننہے ننہے اور معصوم سے ہاتھوں میں سج جاتے تھے اور کتابوں سے بوجھل بستوں میں بس جاتے تھے موسم گرما کی بارش بھی اس کے ہوتے ہونہ سکی اور شبنم کے قطروں میں بھی گردوغبار اور دھواں تھا پھر اک دن وہ پھول بالآخر سوکھ گیا سوکھ گیا اور ہلکے سے ایک جھونکے سے پتی پتی بکھر گیا اس کی قبر کے کتبے پر مٹی نے لکھا لمس کی لذت سے ناواقف اک بدقسمت
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
وصال ُرت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش تھی کہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کیا تمہارے ہاتھوں کالمس جب میری وفا کی ہتھیلوں پر حنا بنے گا تو سوچ لو گی رفاقتوں کا سنہرا سورج غروب کے امتحان میں ہمارے باغوں سے سے گر کبھی تتلیوں کی خوشبو نہ گزر پائے تو یہ نہ کہنا کہ تتلیوں نے گلاب رستے بدل لیے ہیں اگر کوئی شام یوں بھی آئے کے ہم تم لگے پرائے تو جان لینا کے شام بے بس تھی شب کی تاریکیوں کے ہاتھوں تمہاری خوہش کی مٹھیاں بے دھانیوں میں کبھی کھلیں تو یقین کرنا کہ میری چاہت کے جگنوؤں نے تمھارے ہاتھوں کے لمس تازہ کی خوہشوں میں بڑے گھنیرے اندھیرے کاٹے مگر یہ خدشے ، یہ وسوسے تو تکلفاََ ہیں ہم اپنے جذبوں کو منجمدرائیگانیوں کے سپرد کر کے یہ سوچ لے گے کہ ہجر موسم تو وصل کی پہلی شام سے ہی سفر کا آغاز کر چکا تھا
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
دل کے عُنوانات میں تم کو سوچا ہے دھڑکن کی ہر بات میں تم کو سوچا ہے درد کے سِکّے سارے اپنی جیب میں رکھے خوشیوں کی بُہتات میں تم کو سوچا ہے کھڑکی میں جب شام ڈھلی، تم یاد آئے اور پھر لمبی رات میں تم کو سوچا ہے پُھولوں نے سب رنگ چُرائے ہیں تم سے خُوشبو نے برسات میں تم کو سوچا ہے مُشکل پل آسان ہوئے تمہارے سبب جب مُشکل حالات میں تم کو سوچا ہے جب بھی اُترے ہاتھ دعا کے زینے پر ساری کائنات میں تم کو سوچا ہے
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
چشم مگيوں ذرا ادھر کر دے دست قدرت کو بے اثر کر دے تيز ہے آج درد دل ساقي تلخي مے کو تيز تر کر دے جوش وحشت ہے تشنہ کام ابھي چاک دامن کو تا جگر کر دے ميري قسمت سے کھيلنے والے مجھ کوقسمت سے بے خبر کر دے لٹ رہي ہے مري متاع نياز کاش وہ اس طرف نظر کر دے تکميل آرزو معلوم ہوسکے تو يونہي بسر کر دے
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
یہ مست مست بے مثال آنکھیں نشے سے ہر دم نڈھال آنکھیں اٹھیں تو ھوش و حواس چھینیں گریں تو کر دیں کمال آنکھیں کوئی ہے ان کے کرم کا طالب کسی کا شوق وصال آنکھیں نہ یوں جلائیں نہ یوں ستائیں کریں تو کچھ یہ خیال آنکھیں ہیں جینے کا بہانہ یارو یہ روح پرور جمال آنکھیں دراز پلکیں غزال آنکھیں مصوّری کا کمال آنکھیں شراب رب نے حرام کر دی مگر رکھی ہیں حلال آنکھیں ہزاروں ان سے قتل ہوئے ہیں خدا کے بندے سنبھال آنکھیں
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
محبتوں میں ہر ایک لمحہ وصال ہو گا یہ طے ہوا تھا بچھڑ کے بھی ایک دوسرے کا خیال ہو گا یہ طے ہوا تھا یہ کیا کہ سانسیں اُکھڑ رہی ہیں سفر کے آغاز سے ہی یاروں کوئی بھی تھک کر نہ راستے میں نڈھال ہوگا یہ طے ہوا تھا جدا ہوئےتو کیا ہوا پھر یہی تو دستورِزندگی ہے جدائیوں میں نہ قربتوں کا ملال ہوگا یہ طے ہوا تھا وہی ہوا نہ بدلتے موسم میں تم نے ہم کو بھلا دیا نہ کوئی بھی رت ہو نا چاہتوں کو زوال ہوگا یہ طے ہوا تھا چلو کہ کشتیوں کو جلا دیں گمنان ساحلوں پر کہ اب وہاں سے نہ واپسی کا سوال ہوگا یہ طے ہوا تھا
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو میں اس کے ہاتھ نہ آؤں وہ میرا ہو کے رہے میں گر پڑوں تو میری پستیوں کا ساتھی ہو کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ہو میں اپنے آپ کو دیکھوں وہ مجھ کو دیکھے جائے وہ میرے نفس کی گمراہیوں کا ساتھی ہو وہ خواب دیکھے تو دیکھے مرے حوالے سے مرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
ایک نظم حسب حال کچھ تنگی اوقات ہے ، کچھ تلخی حالات ہے ، کچھ لوگ بھی مہرباں نہیں، کچھ شجر تو ہیں اماں نہیں، کچھ بے وطنی بھی چھائی ہے ، کچھ دل نے آگ لگائی ہے، کچھ خود بھی اپنا پتہ نہیں، کچھ اہل شہر میں وفا نہیں، کچھ اپنے بھی بیگانے ہیں، کچھ دوست ہیں ، انجانے ہیں، کچھ لوگ شکایت کرتے ہیں، کچھ ہم بھی کہتے ڈرتے ہیں، کچھ پاس کبھی کچھ دور بھلے ، کچھ ہم بھی یوں مجبور بھلے، کچھ وقت ملا تو بولیں گے ، کچھ لفظ جنوں کے تولیں گے،
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
کوئی تو ھو جو مری وحشتوں کا ساتھی ھو دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ھو میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے میرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ھو میں اس کے ھاتھ نہ آؤں وہ میرا ھوکر رھے میں گر پڑوں تو میری پستیوں کا ساتھی ھو وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے گلی گلی میری رسوائیوں کا ساتھی ھو کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ھو وہ خواب دیکھے تو میرے حوالے سے میرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ھو
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
؟پتا نہیں وہ کون تھا پتا نہیں وہ کون تھا ؟ پتا نہیں وہ کون تھا جو میرے ہاتھ موتئے کی ڈال ، پنکھ مور کا تھما کے چل دیا پتا نہیں وہ کون تھا ہوا کے جھونکے کی طرح جو آیا اور گزر گیا نظر کو رنگ ، دل کو دکھ کی نکہتوں سے بھر گیا میں کون ہوں ؟ گزرنے والا کون تھا ؟ یہ پھول ، پنکھ کیا ہیں ، کیوں ملے ؟ یہ سوچتے ہی سوچتے ، تمام رنگ ایک رنگ میں اتر گئے ۔۔۔ سیاہ رنگ تمام نکہتیں ۔۔۔ اِدھر اُدھر بکھر گئیں ، خلاؤں میں یقین ہے ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ گمان ہے وہ کوئی میرا دشمنِ قدیم تھا دِکھا کے جو سراب ، میری پیاس اور بھی بڑھا گیا میں بے حساب آرزوؤں کا شکار انتہائے شوق میں فریب اس کا کھا گیا گمان ہے ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ یقین ہے وہ کوئی میرا دوست تھا ، جو دو گھڑی کے واسطے ہی کیوں نہ ہو نظر کو رنگ ، دل کو نکہتوں سے بھر گیا پتا نہیں کدھر گیا میں اس کو ڈھوندتا ہوا تمام کائینات میں اِدھر اُدھر بکھر گیا !
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
بچپن کے دُ کھ کتنے اچھے تھے گرميوں ميں جب سب گھر والے سو جاتےتھے دھوپ کي اُنگلي تھام کے ہم چل پڑتے تھے ہميں پرندے کتنے پيار سے تکتے تھے ھم جب ان کے سامنے پاني رکھتے تھے موت ہميں اپني اّ غوش ميں چھپاتي تھي قبرستان ميں جا کر کھيلا کرتے تھے رستے ميں اِک ان پڑھ دريا پڑتا تھا جس سے گزر کر پڑھنے جايا کرتے تھے جيسے سورج اّ کر پياس بجھائے گا صبح سويرے ايسے پاني بھرتے تھے اُڑنا ھم کو اتنا اچھا لگتا تھا چڑياں پکڑ کر اُن کو چوما کرتے تھے تتلياں ہم پر بيٹھا کرتيں تھيں ھم پھولوں سے اتنے ملتے جلتے تھے ملي تھي يہ جواني ھم کو رستے ميں ھم تو گھر سے بچپن اوڑھ کے نکلے تھے بچپن کے دُ کھ کتنے اچھے تھے تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے وہ خوشياں بھي جانے کيسي خوشياں تھيں تتلي کے پر نُوچ کے اُچھلا کرتے تھے مار کے پاؤں ہم بارش کے پاني ميں اپني ناؤ آپ ڈبويا کرتے تھے چھوٹے تھے تو مِکرو فريب بھي چھوٹے تھے دانہ ڈال کے چڑيا پکڑا کرتے تھے اب تو اِک آنسو بھي رُسوا کر جائے بچپن ميں جي بھر کے رُويا کرتے تھے خُوشبو کے اُڑتے ہي کيوں مرجھايا پھول کتنے بھولے پن سے پوچھا کرتے تھے کھيل کود کے دن بھر اپني ٹولي ميں رات کو ماں کي گُود ميں سويا کرتے تھے
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امّی کہتی تھیں جب میرے بچپن کے دِن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں ایک یہ دِن جب اپنوں نے بھی ہم سے ناتہ توڑ لیا ایک وہ دِن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں ایک یہ دِن جب ساری سڑکیں رُوٹھی رُوٹھی لگتی ہیں ایک وہ دِن جب آؤ کھیلیں ساری گلیاں کہتی تھیں ایک یہ دِن جب جاگی راتیں دیواروں کو تکتی ہیں ایک وہ دِن جب شاموں کی بھی پلکیں بوجھل رہتی تھیں ایک یہ دِن جب لاکھوں غم اور کال پڑا ہے آنسو کا ایک وہ دِن جب ایک ذرا سی بات پہ ندیا بہتی تھیں مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امّی کہتی تھیں جب میرے بچپن کے دِن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں