Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Play_Boy007

Banned
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Play_Boy007

  1. کچھ مفلسی میں چل دیئے، کردار بیچنے آئے ہیں ہم بھی درد کے مینار بیچنے کل تک جو اُن کا"مان"تھا، غربت نگل گئی بازارِ شب میں آئے وُہ ، دستار بیچنے کل برسرِ پیکار تھے جو قوم کےلئے منڈی میں آگئے ہیں وہ تلوار بیچنے غاصب نے جال روٹی کا پھیلایا اس طرح عِصمت کو لے کے چل دیا خوددار بیچنے ناصر تھے میرے دین کےکل تک جو شہر میں بیٹھے ہیں وہ بازار میں ، اوتار بیچنے
  2. بڑے مختصر سے حروف میں مجھے گہری بات بتا گیا کہ وہ خواب سا کوئی شخص تھا جو سحر سے پہلے جگا گیا کسی مہربان کی دعا سے یہ سفر تمام ہوا میرا جنھیں رہبری کا غرور تھا انھیں راستوں نے مٹا دیا ہمیں آسماں سے گلہ نہیں تیری رحمتوں پہ یقین ہے جہاں زندگی شکست دی کسی معجزے نے بچا لیا ہمیں زندہ ہونے کا حوصلہ تیری آرزو نے عطا کیا بڑے گہرے زخم ملے ہمیں جنھہں رفتہ رفتہ مٹا دیا
  3. ہاتھ خالی ہیں تیرے شہر سے جاتے جاتے جاں ہوتی تو میری جان لُٹاتے جاتے مجھ سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہونگے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے مجھے رونے کا سلیقہ بھی نہیں آتا ہے لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے میں بھی مجبور تھا، میں نے اُسے روکا ہی نہیں وہ دیکھتا رہا مُڑ مُڑ کے مجھے جاتے جاتے
  4. بھلا کیا پڑھ لیا اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں کہ اس کی بخششوں کے اتنے چرچے ہیں فقیروں میں کوئی سورج سے سیکھے، عدل کیا ہے، حق رسی کیا ہے کہ یکساں دھوپ بٹتی ہے، صغیروں میں کبیروں میں ابھی غیروں کے دُکھ پہ بھیگنا بُھولی نہیں آنکھیں ابھی کچھ روشنی باقی ہے لوگوں گے ضمیروں میں نہ وہ ہوتا، نہ میں اِک شخص کو دِل سے لگا رکھتا میں دُشمن کو بھی گنتا ہوں محّبت کے سفیروں میں سبیلیں جس نے اپنے خون کی ہر سو لگائی ہوں میں صرف ایسے غنی کا نام لکھتا ہوں امیروں میں بدن آزاد ہے، اندر میرے زنجیر بجتی ہے کہ میں مختار ہو کر بھی گنا جاؤں اسیروں میں
  5. کون ہی سورج کون ہے سایہ میں بھی سوچوں تو بھی سوچ کس نے پہلے ہاتھ چھڑایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ جس کی خاطر ساحل ساحل سیپیاں چُنتے بیت گئے کیوں وہ موتی ہاتھ نہ آیا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ کس کو کتنا نام ملا اور کس کو ہی الزام مِلا کس نے کس کا وقت گنوایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ کس نے کتنی آس بندھائی کس نے کتنی جان چھڑائی کس نے کتنا ساتھ نبھایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ ہم جو تعلق کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوئے جیون میں یہ دن کیوں آیا، میں بھی سوچوں تو بھی سوچ اس کی باتیں سننے والے تیرے جیسے لگتے ہیں کس کو قمر نے حال سنایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ
  6. نظام تیرا چلانے والے نظام اپنا چلا رہے ہیں بھلا رہے ہیں کہ کیسے اپنے لہو سے اپنوں نے اس کو حاصل کیا ہوا ہے کہیں ہیں وعدے کہیں ہیں دعوے ناپختہ دیکھے سبھی ارادے تمہارا چہرہ مسخ رہے ہیں گھروں کو اپنے سجا رہے ہیں بھلا رہے ہیں کہ کیسے اپنے لہو سے اپنوں نے اس کو حاصل کیا ہوا ہے ضمیر مردہ جو ہو چکے ہیں مفاد سب نے لئے ہوئے ہیں لبوں کو اپنے سیے ہوئے ہیں بھلا رہے ہیں کہ کیسے اپنے لہو سے اپنوں نے اس کو حاصل کیا ہوا ہے میرے وطن تو مگر نہ گھبرا تجھے نہیں ڈر ہزاروں ایسے ابھی ہیں زندہ تمہارے پیر و جواں بہادر اگر ضرورت پڑی تو تجھ پہ لٹا بھی دیں گے یہ جان اپنی خراش تجھ پر نہ آنے دیں گے یہ جانتے ہیں تمہاری قیمت کہ کیسے اپنے لہو سے اپنوں نے تجھ کو حاصل کیا ہوا ہے
  7. یہ دعاہے آتش عشق میں تومیری طرح جلاکرے ¤ نہ نصیب ہوتجھے بیٹھنا تیرے دل میں درد ہوا کرے ¤ تیرے سامنے تیراگھرجلے تیرابس چلے نہ بجھاسکے¤ تیرے منہ سے نکلے بس یہی دعانہ گھرکسی کاجلاکرے
  8. ایک اسکول کے آنگن میں تھا اک پھول کا پودا گرما کی لمبی رخصت میں پھول کھلا اک اس میں پہلے پہل جب وہ غنچہ تھا آنکھیں موندھے ٹہنی پر یوں جھولے جھولا کرتا تھا جیسے اس جیسا خوش قسمت ارض و سما میں کوئی نہ ہو لیکن جب وہ پھول بنا اور جوبن نے لی انگڑائی اس کو یہ احساس ہوا کتنی ہے تنہائی شہر کے بیچوں بیچ اک چھوٹے سے اسکول کے آنگن میں پھول بہت ہی تنہا تھا بچے تو تعطیل منانے دور گئے تھے جھیلوں اور پہاڑوں پر باغوں اور کھلیانوں میں شہر کے آلودہ حالات ہیں دو چار ہی تتلیاں بھنورے ان کو بھی اس تنہا پھول کے بارے میں کچھ علم نہ تھا ورنہ وہ دو چار گھڑی بھی ملتے، باتیں کرتے، گاتے چومتے منہ اور چومتے رس اک دوجے کا پھول نے اپنے جوبن کے وہ دن بھی ٹہنی پر کاٹے جب تک اس سے پہلے آنے والے اس پودے کے پھول لاکھ حفاظت کرتا مالی ننہے ننہے اور معصوم سے ہاتھوں میں سج جاتے تھے اور کتابوں سے بوجھل بستوں میں بس جاتے تھے موسم گرما کی بارش بھی اس کے ہوتے ہونہ سکی اور شبنم کے قطروں میں بھی گردوغبار اور دھواں تھا پھر اک دن وہ پھول بالآخر سوکھ گیا سوکھ گیا اور ہلکے سے ایک جھونکے سے پتی پتی بکھر گیا اس کی قبر کے کتبے پر مٹی نے لکھا لمس کی لذت سے ناواقف اک بدقسمت
  9. وصال ُرت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش تھی کہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کیا تمہارے ہاتھوں کالمس جب میری وفا کی ہتھیلوں پر حنا بنے گا تو سوچ لو گی رفاقتوں کا سنہرا سورج غروب کے امتحان میں ہمارے باغوں سے سے گر کبھی تتلیوں کی خوشبو نہ گزر پائے تو یہ نہ کہنا کہ تتلیوں نے گلاب رستے بدل لیے ہیں اگر کوئی شام یوں بھی آئے کے ہم تم لگے پرائے تو جان لینا کے شام بے بس تھی شب کی تاریکیوں کے ہاتھوں تمہاری خوہش کی مٹھیاں بے دھانیوں میں کبھی کھلیں تو یقین کرنا کہ میری چاہت کے جگنوؤں نے تمھارے ہاتھوں کے لمس تازہ کی خوہشوں میں بڑے گھنیرے اندھیرے کاٹے مگر یہ خدشے ، یہ وسوسے تو تکلفاََ ہیں ہم اپنے جذبوں کو منجمدرائیگانیوں کے سپرد کر کے یہ سوچ لے گے کہ ہجر موسم تو وصل کی پہلی شام سے ہی سفر کا آغاز کر چکا تھا
  10. دل کے عُنوانات میں تم کو سوچا ہے دھڑکن کی ہر بات میں تم کو سوچا ہے درد کے سِکّے سارے اپنی جیب میں رکھے خوشیوں کی بُہتات میں تم کو سوچا ہے کھڑکی میں جب شام ڈھلی، تم یاد آئے اور پھر لمبی رات میں تم کو سوچا ہے پُھولوں نے سب رنگ چُرائے ہیں تم سے خُوشبو نے برسات میں تم کو سوچا ہے مُشکل پل آسان ہوئے تمہارے سبب جب مُشکل حالات میں تم کو سوچا ہے جب بھی اُترے ہاتھ دعا کے زینے پر ساری کائنات میں تم کو سوچا ہے
  11. تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے قسمت میں مری، صلہ نہیں ہے بچھڑے تو نجانے حال کیا ہو جو شخص ابھی ملا نہیں ہے جینے کی تو آرزو ہی کب تھی مرنے کا بھی حوصلہ نہیں ہے جو زیست کو معتبر بنا دے ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے
  12. چشم مگيوں ذرا ادھر کر دے دست قدرت کو بے اثر کر دے تيز ہے آج درد دل ساقي تلخي مے کو تيز تر کر دے جوش وحشت ہے تشنہ کام ابھي چاک دامن کو تا جگر کر دے ميري قسمت سے کھيلنے والے مجھ کوقسمت سے بے خبر کر دے لٹ رہي ہے مري متاع نياز کاش وہ اس طرف نظر کر دے تکميل آرزو معلوم ہوسکے تو يونہي بسر کر دے
  13. پاس کیوں نہیں ہو تم، بارشوں کے موسم میں میں کہیں، کہیں ہو تم، بارشوں کے موسم میں جس پہ پھول مہکیں گے، اب تیری محبت کے دل کی وہ زمیں ہو تم، بارشوں کے موسم میں
  14. کوئی اپنا نہیں غیر دیار میں جھوٹ ہے سب جھوٹے پیار میں دھوکا دیا نگاہوں نے کس طرح ہم تو مارے گئے اعتبار میں نغمہ وفا کا ہر کسی نے سنایا کچھ حاصل نہ کرسکے اس سنسار میں
  15. یہ مست مست بے مثال آنکھیں نشے سے ہر دم نڈھال آنکھیں اٹھیں تو ھوش و حواس چھینیں گریں تو کر دیں کمال آنکھیں کوئی ہے ان کے کرم کا طالب کسی کا شوق وصال آنکھیں نہ یوں جلائیں نہ یوں ستائیں کریں تو کچھ یہ خیال آنکھیں ہیں جینے کا بہانہ یارو یہ روح پرور جمال آنکھیں دراز پلکیں غزال آنکھیں مصوّری کا کمال آنکھیں شراب رب نے حرام کر دی مگر رکھی ہیں حلال آنکھیں ہزاروں ان سے قتل ہوئے ہیں خدا کے بندے سنبھال آنکھیں
  16. محبتوں میں ہر ایک لمحہ وصال ہو گا یہ طے ہوا تھا بچھڑ کے بھی ایک دوسرے کا خیال ہو گا یہ طے ہوا تھا یہ کیا کہ سانسیں اُکھڑ رہی ہیں سفر کے آغاز سے ہی یاروں کوئی بھی تھک کر نہ راستے میں نڈھال ہوگا یہ طے ہوا تھا جدا ہوئےتو کیا ہوا پھر یہی تو دستورِزندگی ہے جدائیوں میں نہ قربتوں کا ملال ہوگا یہ طے ہوا تھا وہی ہوا نہ بدلتے موسم میں تم نے ہم کو بھلا دیا نہ کوئی بھی رت ہو نا چاہتوں کو زوال ہوگا یہ طے ہوا تھا چلو کہ کشتیوں کو جلا دیں گمنان ساحلوں پر کہ اب وہاں سے نہ واپسی کا سوال ہوگا یہ طے ہوا تھا
  17. کل چودھویں کا چاند تھا شب بھر رہا چرچا تیرا کچھ نے کہا کہ چاند ھے کچھ نے کہا چہرا تیرا ھم بھی وہاں موجود تھے ہم نے بھی سب دیکھا مگر ھم چپ رہے کچھ نہ کہا منظور تھا پردہ تیرا
  18. مسـکـــراتـی حـیـات مـانـگــی تـھـی غـم سـے نـجـات مـانـگـی تـھـی دیـنـے والــے یـہ بــرہــمـی کیــسی میـں نـے کـونــسی کـائـنـات مـانـگـی تـھی
  19. دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو میں اس کے ہاتھ نہ آؤں وہ میرا ہو کے رہے میں گر پڑوں تو میری پستیوں کا ساتھی ہو کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ہو میں اپنے آپ کو دیکھوں وہ مجھ کو دیکھے جائے وہ میرے نفس کی گمراہیوں کا ساتھی ہو وہ خواب دیکھے تو دیکھے مرے حوالے سے مرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو
  20. ایک نظم حسب حال کچھ تنگی اوقات ہے ، کچھ تلخی حالات ہے ، کچھ لوگ بھی مہرباں نہیں، کچھ شجر تو ہیں اماں نہیں، کچھ بے وطنی بھی چھائی ہے ، کچھ دل نے آگ لگائی ہے، کچھ خود بھی اپنا پتہ نہیں، کچھ اہل شہر میں وفا نہیں، کچھ اپنے بھی بیگانے ہیں، کچھ دوست ہیں ، انجانے ہیں، کچھ لوگ شکایت کرتے ہیں، کچھ ہم بھی کہتے ڈرتے ہیں، کچھ پاس کبھی کچھ دور بھلے ، کچھ ہم بھی یوں مجبور بھلے، کچھ وقت ملا تو بولیں گے ، کچھ لفظ جنوں کے تولیں گے،
  21. کوئی تو ھو جو مری وحشتوں کا ساتھی ھو دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ھو میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے میرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ھو میں اس کے ھاتھ نہ آؤں وہ میرا ھوکر رھے میں گر پڑوں تو میری پستیوں کا ساتھی ھو وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے گلی گلی میری رسوائیوں کا ساتھی ھو کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ھو وہ خواب دیکھے تو میرے حوالے سے میرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ھو
  22. ؟پتا نہیں وہ کون تھا پتا نہیں وہ کون تھا ؟ پتا نہیں وہ کون تھا جو میرے ہاتھ موتئے کی ڈال ، پنکھ مور کا تھما کے چل دیا پتا نہیں وہ کون تھا ہوا کے جھونکے کی طرح جو آیا اور گزر گیا نظر کو رنگ ، دل کو دکھ کی نکہتوں سے بھر گیا میں کون ہوں ؟ گزرنے والا کون تھا ؟ یہ پھول ، پنکھ کیا ہیں ، کیوں ملے ؟ یہ سوچتے ہی سوچتے ، تمام رنگ ایک رنگ میں اتر گئے ۔۔۔ سیاہ رنگ تمام نکہتیں ۔۔۔ اِدھر اُدھر بکھر گئیں ، خلاؤں میں یقین ہے ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ گمان ہے وہ کوئی میرا دشمنِ قدیم تھا دِکھا کے جو سراب ، میری پیاس اور بھی بڑھا گیا میں بے حساب آرزوؤں کا شکار انتہائے شوق میں فریب اس کا کھا گیا گمان ہے ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ یقین ہے وہ کوئی میرا دوست تھا ، جو دو گھڑی کے واسطے ہی کیوں نہ ہو نظر کو رنگ ، دل کو نکہتوں سے بھر گیا پتا نہیں کدھر گیا میں اس کو ڈھوندتا ہوا تمام کائینات میں اِدھر اُدھر بکھر گیا !
  23. بچپن کے دُ کھ کتنے اچھے تھے گرميوں ميں جب سب گھر والے سو جاتےتھے دھوپ کي اُنگلي تھام کے ہم چل پڑتے تھے ہميں پرندے کتنے پيار سے تکتے تھے ھم جب ان کے سامنے پاني رکھتے تھے موت ہميں اپني اّ غوش ميں چھپاتي تھي قبرستان ميں جا کر کھيلا کرتے تھے رستے ميں اِک ان پڑھ دريا پڑتا تھا جس سے گزر کر پڑھنے جايا کرتے تھے جيسے سورج اّ کر پياس بجھائے گا صبح سويرے ايسے پاني بھرتے تھے اُڑنا ھم کو اتنا اچھا لگتا تھا چڑياں پکڑ کر اُن کو چوما کرتے تھے تتلياں ہم پر بيٹھا کرتيں تھيں ھم پھولوں سے اتنے ملتے جلتے تھے ملي تھي يہ جواني ھم کو رستے ميں ھم تو گھر سے بچپن اوڑھ کے نکلے تھے بچپن کے دُ کھ کتنے اچھے تھے تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے وہ خوشياں بھي جانے کيسي خوشياں تھيں تتلي کے پر نُوچ کے اُچھلا کرتے تھے مار کے پاؤں ہم بارش کے پاني ميں اپني ناؤ آپ ڈبويا کرتے تھے چھوٹے تھے تو مِکرو فريب بھي چھوٹے تھے دانہ ڈال کے چڑيا پکڑا کرتے تھے اب تو اِک آنسو بھي رُسوا کر جائے بچپن ميں جي بھر کے رُويا کرتے تھے خُوشبو کے اُڑتے ہي کيوں مرجھايا پھول کتنے بھولے پن سے پوچھا کرتے تھے کھيل کود کے دن بھر اپني ٹولي ميں رات کو ماں کي گُود ميں سويا کرتے تھے
  24. یہ واقعہ بھی عجب میری زندگی کا تھا میں چاہتا تھا اسے اور وہ کسی کا تھا کسی نے توڑ دیا میرا آشیان خواب مجھے بھی زعم بہت اپنی عاشقی کا تھا تب اپنی وحشتِ جاں پر ہوا بہت افسوس جو یہ سنا کہ اسے شوق دل لگی کا تھا نہ میری ذات سے مطلب نہ میرے درد سے کام وہ معترف تو فقط میری شاعری کا تھا
  25. مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امّی کہتی تھیں جب میرے بچپن کے دِن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں ایک یہ دِن جب اپنوں نے بھی ہم سے ناتہ توڑ لیا ایک وہ دِن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں ایک یہ دِن جب ساری سڑکیں رُوٹھی رُوٹھی لگتی ہیں ایک وہ دِن جب آؤ کھیلیں ساری گلیاں کہتی تھیں ایک یہ دِن جب جاگی راتیں دیواروں کو تکتی ہیں ایک وہ دِن جب شاموں کی بھی پلکیں بوجھل رہتی تھیں ایک یہ دِن جب لاکھوں غم اور کال پڑا ہے آنسو کا ایک وہ دِن جب ایک ذرا سی بات پہ ندیا بہتی تھیں مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امّی کہتی تھیں جب میرے بچپن کے دِن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.