Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Play_Boy007

Banned
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Play_Boy007

  1. کسی مخصوص مدت (عموماً مالیاتی سال) کے دوران کسی ملک کی حدود میں پیدا ہونیوالی تمام اشیاء اور خدمات کی بازار میں موجود قدر (مارکیٹ ویلیو) خام ملکی پیداوار (GDP:Gross Domestic Product) کہلاتی ہے۔یہ معاشی ترقی کا سب سے اہم شماریاتی اشاریہ ہے۔ اس میں وہ اشیاء اور خدمات شامل نہیں ہیں جو اس ملک کے شہری غیر ممالک میں پیدا کرتے ہیں۔ اگر ہم اس میں وہ اشیاء اور خدمات شامل کر دیں جو اس ملک کے شہری غیر ممالک میں پیدا کرتے ہیں اور وہ پیداوار تفریق کریں جو غیر ملکی اس ملک میں کر رہے ہیں تو اسے خام قومی پیداوار (GNP:Gross National Product) کہتے ہیں۔
  2. فیس بک اب دیگر زبانوں میں بھی دستیاب ہے برطانوی حکومت انٹرنیٹ پر سماجی تعلقات کے لیے فیس بک جیسی ویب سائٹ استعمال کرنے والوں کے رابطوں کی تفصیلات جمع کرنے کے لیے ایک تجویز کے تحت ایسی سماجی ویب سائٹس کی نگرانی کر نے کی بات کہی ہے۔ دفتر داخلہ کا کہنا ہے کہ مجرموں اور شدت پسندوں کی نگرانی کے لیے ،جو اس طرح کی ویب سائٹ کا استعمال کر سکتے ہیں اس کی ضرورت پڑی ہے۔ لیکن اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بات چیت کے مواد کو اپنے پاس نہیں رکھے گی۔ یہ نظریہ اس تجویز کے بعد سامنے آیا ہے کہ بر طانیہ میں جتنی بھی فون کال، ای میل یا انٹرنیٹ وزٹس ہوں ان کی تفصیلات رکھی جائیں۔ لیکن سول لبرٹی گروپز نے حکومت کی اس تجویز کی مخالفت کی ہے اور اسے جاسوسی کے ایک چارٹر سے تعبیر کیا ہے۔ لبرل ڈیموکرٹیک پارٹی کے رکن پارلیمان ٹام بریک نے کہا ہے کہ ویب سائٹ پر حساس نوعیت کی ذاتی تفصیلات ہوتی ہیں اور انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ اس طرح کی انفارمیشن کہیں ڈیٹا رکھنے والے حکومتی اداروں کی طرف سے افشاں نا ہوجائیں۔ ہم اس بات میں بالکل واضح ہیں کہ اس ملک میں کیمونیکیشن کاانقلاب بہت تیز ہے اور جس طرح ہم ڈیٹا جمع کرتے رہے ہیں اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس لائق بنے رہیں کہ وہ دہشتگردکی روک تھام کرسکیں اور ثبوت بھی جمع کر سکیں. برطانوی حکومت اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ نے لکھا ہے کہ ٹام بریک نے اسے ’تاریخ میں جاسوسی کے لیے اب تک کا سب سے مہنگا چارٹر بتایا ہے۔ یہ بڑی فکر کی بات ہے کہ اب وہ سماجی تعلقات والی ویب سائٹ کی بھی نگرانی رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں جنسی تعلقات، مذہبی عقائد اور سیاسی خیالات جیسی حساس معلومات ہوتی ہیں۔‘ اخبار کے مطابق فیس بک کے پراوئیسی اہل کار کرس کیلی وزراء کو اس بات کے لیے قائل کرنے کر کوشش کر رہے ہیں یہ تجویز غیر ضروری ہے۔ حکومت فون، ای میل اور انٹرنیٹ سے متعلق بھی اسی طرح کی تجویز پر یا توغور کر رہی ہے یا پھر اس عمل شروع ہو گیا ہے۔ لیکن وزراء اس بات سے انکار کر رہے ہیں کہ حکومت لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کر رہی ہے۔ حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی اس بات پر غور کرنا شروع کریں گے کہ ایڈوانس تکنیکی ترقی کے ساتھ کیسے قدم سے قدم ملا کر چلا جائے۔ ’حکومت کو سماجی تعلقات والی ویب سائٹ پر موجود مواد میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اس بارے میں صلاح و مشورہ کا بھی کوئی ادارہ نہیں ہے۔‘ ترجمان کے مطابق ’ہم اس بات میں بالکل واضح ہیں کہ اس ملک میں کیمونیکیشن کاانقلاب بہت تیز ہے اور جس طرح ہم ڈیٹا جمع کرتے رہے ہیں اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس لائق بنے رہیں کہ وہ دہشتگردکی روک تھام کرسکیں اور ثبوت بھی جمع کر سکیں۔‘ اس نئی تجویز کی تفصیلات وزیرداخلہ ویرنن کوکر نے اس ماہ کے اوئل میں یوروپی یونین کی ہدایات کی قرارداد پر غور و فکر کے لیے کمیٹی میں بتائیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سماجی ویب سائٹ پر کارروائی کرنا چاہتی کیونکہ برسلز نے حال میں جو تجاویز دی تھیں اس میں ان کا احاطہ نہیں کیا گیا تھا۔
  3. اسلامی جمہوریۂ پاکستان جنوبی ايشيا ميں واقع ہے۔ پاکستان کے مشرق ميں بھارت، شمال مشرق ميں چین اور مغرب ميں افغانستان اور ايران اور جنوب ميں بحيرہ عرب واقع ہيں۔ پاکستان کا مطلب ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ اور يہ نام چودھری رحمت علی نے تجويز کيا تھا۔ فہرست [غائب کریں] 1 تاريخ 2 سياست 3 علاقائی تقسیم 3.1 صوبہ جات 3.2 وفاقی علاقے 3.3 پاکستانی کشمير 4 جغرافيہ 5 معيشت 6 اعداد و شمار 7 تہذیب 8 صحت عامہ 9 تعطيلات 10 قومی چیزیں 11 ریاستی نشان 12 زبانیں 13 اہم شہر 14 مزید دیکھیے 15 بیرونی روابط تاريخ 711 میں اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں محمد بن قاسم برصغیر (موجودہ پاکستان و ہندوستان) کے خاصے حصے کو فتح کرتا ہے اور یوں برصغیر (موجودہ پاکستان) دنیا کی سب سے بڑی عرب ریاست کا ایک حصہ بن جاتا ہے جس کا دارالحکومت دمشق، زبان عربی اور مذہب اسلام تھا۔ یہ علاقہ سیاسی، مذہبی اور ثقافتی طور پر عرب دنیا سے جڑ جاتا ہے۔ اس واقعہ نے برصغیر اور جنوبی ایشیاء کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ سن 1947 سے پہلے بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش برطانوی کالونی تھے اور برصغیر کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کی آزادی (انگریزوں سے) کی تحریک کے دوران ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا۔ "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ" اس تحریک کا مقبول عام نعرہ تھا۔ اس مطالبے کے تحت تحریک پاکستان وجود میں آئ۔ اس تحریک کی قیادت محمد علی جناح نے کی۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آیا۔ تقسیم برصغیر پاک و ہند میں انگریزوں نے کچھ ایسے سقم چھوڑے جو پاکستان اور انڈیا کے درمیان 1948اور 1965 میں کشمیر کے مسئلہ پر دو جنگوں کا سبب بن گءے۔ اس کے علاوہ چونکہ پاکستانی پنجاب میں بہنے والے تمام دریا انڈیا کے زیر قبضہ کشمیر سے ہوکر آتے تھے لہذا پاکستان کو 1960 میں انڈیا کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کرنا پڑا جس کے تحت پاکستان کومشرقی دریاوں ستلج، بیاس اور راوی سے دستبردار ہونا پڑا۔ جبکہ دریاے سندہ، چناب اور جہلم پر پاکستان کا حق تسلیم کر لیا گیا۔ 1947 سے لے کر 1948 تک پاکستان کو بڑی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بھارت نے پاکستان کے حصہ میں آنے والی رقم پاکستان کو ادا نہ کی۔ اس کے علاوہ صنعتی ڈھانچے کے نام پر پاکستان کے حصے میں گنتی کے چند کارخانے آءے اور مزید برآں کئ اندرونی و بیرونی مشکلات نے بھی پاکستان کو گھیرے رکھا۔ 1948 میں جناح صاحب کی اچانک وفات ہو گئی۔ ان کے بعد حکومت لیاقت علی خان کے ہاتھ میں آئ۔ 1951 میں لیاقت علی خان کو شہید کر دیا گیا۔ 1951 سے 1958 تک کئ حکومتیں آئیں اور ختم ہو گئیں۔ 1956 میں پاکستان میں پہلا آئین نافذ ہوا۔ اس کے با وجود سیاسی بحران کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1958 میں پاکستان میں مارشل لاء لگ گیا۔ پاکستان میں موجود تمام بڑے آبی ڈیم جنرل ایوب کے دور آمریت میں بنائے گئے۔ ایوب دور میں پاکستان میں ترقی تو ہوئی لیکن مشرقی پاکستان دور ہوتا گیا۔ 1963 میں پاکستان کے دوسرے آئین کا نفاذ ہوا۔ مگر مشرقی پاکستان کے حالات آہستہ آہستہ بگڑتے گۓ۔ ایوب خان عوامی احتجاج کی وجہ سے حکومت سے علیحدہ تو ہو گءے لیکن جاتے جاتے انہوں نے حکومت اپنے فوجی پیش رو جنرل ہحیی خان کے حوالے کر دی جو کہ اس کے بالکل بھی اہل نہ تھے۔ 1971 کے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ کی واضح کامیابی کے باوجود فوجی حکمران یحیی خان نے اقتدار کی منتقلی کی بجائے مشرقی پاکستان میں فوجی اپریشن کو ترجیع دی۔ انڈیا نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوےَ علیحدگی پسندوں کو بھرپور مالی اور عسکری مدد فراہم کی جس کے نتیجے میں آخرکار دسمبر 1971 میں سقوط ڈھاکہ ہوگیا اور مشرقی پاکستان ایک علیحدہ ملک بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ 1972 سے لے کر 1977 تک پاکستان میں پی پی پی کی حکومت تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے صدر اور بعد ازاں وزیر اعظم رہے۔ اس دور میں وطن عزیز کی تمام سیاسی جماعتوں کی رضامندی سے آئین پاکستان مرتب اور نافذالعمل کیا گیا۔ اس دور میں سوشلسٹ اور پین اسلامک عنصر بڑھا۔ اس دور میں پاکستان میں نيشنلائيزيشن ہوئ۔ اس دور کے آخر میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی اور اس کے نتیجے میں 1977 میں دوبارہ مارشل لاء لگ گیا۔ اگلا دور 1977 تا 1988 مارشل لاء کا تھا۔ اس دور میں پاکستان کے حکمران جنرل ضیا الحق تھے۔ افغانستان میں جنگ کی وجہ سے پاکستان کو بہت امداد ملی۔ اسی دور میں 1985 کے غیر جماعتی انتخابات ہوۓ اور جونیجو حکومت بنی۔ جسے 1988 میں ضیاء الحق نے برطرف کر دیا- 1988 میں صدر مملکت کا طیارہ گر گیا اور پاکستان میں پھر سے جمہوریت کا آغاز ہو گیا۔ اس کے بعد 1988 میں انتخابات ہوۓ اور بينظير بھٹو کی قیادت میں پی پی پی اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ صدر غلام اسحاق خان نے حکومت کو برطرف کر دیا۔ 1990 میں نواز شریف کی قیادت میں آئ جے آئ اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ 1993 میں یہ حکومت بھی برطرف ہو گئ۔ اس کے بعد پاکستان کے نۓ صدر فاروق لغاری تھے۔ اگلے انتخابات 1993 میں ہوئے اور ان میں دوبارہ پی پی پی اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ یہ حکومت بھی بر طرف ہو گئ۔ 1997 میں انتخابات کے بعد دوبارہ نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ اس حکومت کے آخر میں سیاسی اور فوجی حلقوں میں کشیدگی بڑھ گئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1999 میں دوبارہ فوجی حکومت آ گئ۔ صدر مملکت پرويز مشرف بنے اور 2001 میں ہونے والے انتخابات کے بعد وزیر اعظم ظفر اللہ خان جمالی بنے۔ 2004میں وقت کے جنرل مشرف نے شوکت عزیز کو وزیر اعظم بنانے کا فيصله کیا . مختصر عرصہ کے لیے چوہدرى شجاعت حسين نے وزیراعظم کی ذمہ داریاں سرانجام دیں اور شوکت عزیز کے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہونے کے بعد وزارت عظمہ سے مستعفی ہو گئے۔ شوکت عزیز صاحب قومی اسمبلی کی مدت 15 نومبر 2007 کو ختم ہونے کے بعد مستعفی ہو گئے۔ 16 نومبر 2007 کو سینٹ کے چیرمین جناب میاں محمد سومرو نے عبوری وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ فروری 2008 میں الیکشن کے بعد پی پی پی پی نے جناب یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم نامزد کیا۔ مسلم لیگ (ن)، اے این پی کی حمایت سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔ سياست پاکستان ايک وفاقی جمہوريت ہے۔ علاقائی تقسیم پاکستان کا نقشہپاکستان ميں 4 صوبے، 2 وفاقی علاقے اور پاکستانی کشمير کے 2 حصے ہيں۔ صوبہ جات بلوچستان پنجاب سرحد سندھ وفاقی علاقے وفاقی دارالحکومت،اسلام آباد شمالی علاقہ جات پاکستانی کشمير آزاد کشمير وفاقی قبائلی علاقہ جات جغرافيہ پاکستان جنوبی ایشیا کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے۔ پاکستان کے مشرقی علاقے میدانی ہیں اور مغربی اور شمالی علاقے پہاڑی ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ ہے۔ یہ دریا پاکستان کے شمال سے شروع ہوتا ہے اور سرحد، پنجاب اور سندھ سے گزر کر سمندر میں گرتا ہے۔ سرحد کے مشرقی علاقے، سندھ کے وسطی علاقے اور پنجاب کے شمالی، وسطی اور وسطی جنوبی علاقے میدانی ہیں، نہری ہیں اور آباد یا زیر کاشت ہیں۔ سندھ کے مشرقی اور پنجاب کے جنوب مشرقی علاقے ريتيلے صحرا ہیں۔ زیادہ تر بلوچستان پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے لیکن سبی کا علاقہ میدانی اور صحرائ ہے۔ سرحد کے مغربی علاقوں میں نیچے پہاڑ ہیں جبکہ شمالی سرحد اور شمالی علاقہ جات میں دنیا کا سب سے اونچا پہاڑی سلسلہ واقع ہے۔ معيشت پاکستان دوسری دنيا کا ايک ترفی پزير ملک ہے۔ پاکستان کے اندرونی معاملات ميں فوج كى بيجا مداخلت، کثیر اراضی پر قابض افراد (وڈیرے ، جاگیردار اور چوہدری وغیرہ) کی عام انسان کو تعلیم سے محروم رکھنے کی نفسیاتی اور خود غرضانہ فطرت (تاکہ بیگار اور سستے پڑاؤ (labor camp) قائم رکھے جاسکیں)، اعلٰی عہدوں پر فائز افراد کا اپنے مفاد میں بنایا ہوا دوغلا تعلیمی نظام (تاکہ کثیر اراضی پر قابض افراد کو خوش رکھا جاسکے اور ساتھ ساتھ اپنی اولاد کی [عموماً انگریزی اور/ یا ولایت میں تعلیم کے بعد] اجارہ داری کيليے راہ کو کھلا رکھا جاسکے)، مذہبی علماؤں کا کم نظر اور اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کا رویہ اور بيرونی کشيدگی کی وجہ سے ملک کی معيشت زيادہ ترقی نہيں کر سکی۔ پہلے پاکستان کی معيشت کا زيادہ انحصار زراعت پر تھا۔ مگر اب پاکستان کی معيشت (جو کہ کافی کمزور سمجھی جاتی ہے) نے گیارہ ستمبر کے امریکی تجارتی مرکز پر حملے، عالمی معاشی پستی، افغانستان جنگ، پانک کی کمی اور بھارت کے ساتھ شديد کشيدگی کے با وجود کچھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کيا [حوالہ درکار]۔ ابھی پاکستان کی معيشت مستحکم ہے اور تيزی سے بڑھنا شروع ہو گئی ہے [حوالہ درکار]۔ کراچی سٹاک ایکسچینج کے کے ايس سی انڈکس گزستہ دو سالوں سے دنيا بھر ميں سب سے بہترين کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے [حوالہ درکار]۔ اعداد و شمار پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنيا کا چھٹا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آبادی بہت تيزی سے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے 96.7 فيصد شہری مسلمان ہيں جن ميں سے تقريبا 20 فيصد اہل تشیع 77 فيصد اہل سنت اور تقریباً 3 فيصد ديگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہيں۔ تقريبا ايكـ فيصد پاکستانی ہندو اور اتنے ہی پاکستانی عیسائی ہيں۔ ان کے علاوہ کراچی ميں پارسی، پنجاب و*سرحد ميں سکھ اور شمالی علاقوں ميں قبائلی مذاہب کے پيرو کار بھی موجود ہيں۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔ ليکن زيادہ تر دفتری کام انگريزی ميں کیے جاتے ہيں۔ پاکستان کے خواص بھی بنيادی طور پر انگريزی کا استعمال کرتے ہيں۔ پاکستان ميں تمام تر اعلیٰ تعليم بھی انگريزی ميں ہی دی جاتی ہے۔ با وجود اس کے اردو پاکستان کی عوامی و قومی زبان ہے۔ اردو کے علاوہ پاکستان ميں کئ اور زبانيں بولی جاتی ہيں، ان ميں پنجابی، سرائکی، سندھی، گجراتی، بلوچی، براہوی، پشتو اور ہندکو زبانیں قابلِ ذکر ہيں۔ پاکستان ميں مختلف قوموں سے تعلّق رکھنے والے لوگ آباد ہيں، ان ميں زيادہ نماياں پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچی اور مہاجر ہيں۔ ليکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے درميان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔
  4. چین ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے جن کے پاس دنیا کے پانچ بہترین سپر کمپیوٹرز میں سےایک کمپیوٹر ہے۔ چین کے ’ٹیانہےون‘ کمپیوٹر کو جو دنیا کے پانچ سو سپر کمپیوٹرز کی فہرست میں پانچویں نمبر پر آتا ہے، ٹیانجِن کے نیشنل سپر کمپیوٹرسینٹر میں رکھا گیا ہے۔ اس کمپیوٹر میں ستر ہزار سے زیادہ چپس ہیں اور یہ ایک سیکنڈ میں پانچ سو تریسٹھ ٹریلین چیزوں کا حساب کتاب کر سکتا ہے۔ یہ کمپیوٹر پٹرولیم ایکسپلوریشن، انجینیئرنگ ٹاسکس اور ہوائی جہازوں کے جدید ڈیزائن بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ دنیا کا سب سے تیز ترین کمپیوٹر امریکی ’جےگار ہے‘، جس کی سپیڈ ایک اعشاریہ سات پانچ پیٹافلاپس ہے۔ایک پیٹافلاپس، ایک سیکنڈ میں ایک ہزار ٹریلین چیزوں کا حساب کتاب کر سکتا ہے۔ ’دی کرے‘ کمپیوٹر میں دو لاکھ بیس ہزار سے زیادہ چپس ہیں اور یہ ٹینیسی میں اوک رجِ نیشنل لیبارٹری کی ملکیت ہے۔ اس کمپیوٹر کو موسمی تبدیلیوں پر نظر رکھنے، سائنسی مادے اور جوہری توانائی کے شعبوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کمپیوٹر نے ایک اور امریکی مشین جسے عرف عام میں ’روڈ رنر‘ کہا جاتا ہے کی جگہ لی ہے۔ آئی بی ایم کمپیوٹر نیو میکسکو لاس ایلموس کی نیشنل لیبارٹری کی ملکیت ہے اور یہ پہلی مشین تھی جس نے پیٹافلاپس کی رکاوٹ کو عبور کیا۔ اس وقت یہ مشین ایک اعشاریہ صفر چار پیٹافلاپس کو چلانے کے علاوہ ایک طاقتور ’سیل‘ چپ میں جس کے ذریعے پلے سٹیشن تھری ویڈیو گیمز چلائی جاتی ہے، استعمال ہوتی ہے۔ یہ مشین امریکی جوہری ذخیرے کے علاوہ اجرام فلکی میں ریسرچ، جنامکس اور موسمی تبدیلی کےمشاہدے میں استعمال ہوتی ہے۔
  5. موٹاپا ایک بیماری ہے۔جسکی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔جس میں طرز زندگی اور جینیات سب سے اہم ہیں۔نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن اگزیمینیشن سروے کی پہلی رپورٹ(١٩٧٦-٨٠) کے مطابق ٢٠ سے ٧٤ سال کی عمر کے لوگوں میں موٹاپے کی شرح١٥۔٠٠٪ تھی جبکہ یہی بڑھ کے ٢٠٠٣-٠٤ کے سروے میں ٣٢۔٩٪ ہو گئی۔٢ سے ٥ سال کی عمر کے بچوں میں یہ شرح ٥۔٠٪ تھی جو بڑھ کر١٣۔٩٪ ہوگئی جبکہ ٦ سے ١١ برس کے بچوں میں یہ شرح ٦۔٥٪ سے بڑھکر ١٨۔٨٪ ہو گئی۔موٹاپے کی وجہ سے بہت سی بیماریوں کے لاحق ہونے کا خدشہ بھی ہوتا ہے ۔جن میں انجماد خون،دوسرے درجے کی شوگر اور نیند میں حبس دم کی بیماریاں سب سے زیادہ ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ یہ سب جانتے ہوئے بھی موٹاپے کے مریض کے لیے وزن کم کرنا مشکل ہوتا ہے جسکی وجہ قوت ارادی کی کمی ہے۔ذیل میں کچھ تھیراپیز اور طریقہ کار درج کیے جا رہے ہیں جنھیں استعمال کرکے نہ صرف وزن کم کیا جا سکتا ہے بلکہ قوت ارادی بھی مضبوط ہوگی۔ ١- سب سے پہلے اپنے کھانے کے اوقات مقرر کر لیں۔ ٢-دن میں ١٢ سے ١٨ گلاس پانی پیئں۔ ٣-اگر بھوک کھانے کے اوقات کے علاوہ محسوس ہو تو اپنے انگوٹھے کے اوپری حصے کو ١٠ منٹ تک مساج کریں۔دونوں ہاتھوں پر۔انشااللہ بھوک کا احساس ختم ہو جائےگا۔ ٤-صبح نہار منہ اسپغول کی بھوسی دو چائے کے چمچے ایک گلاس پانی مٰیں ڈال کر پیئں۔یہ نہ صرف پیٹ اور انتڑیوں کی صفائی کے لیے مفید ہے بلکہ اس سے چہرے کی جلد بھی شفاف اور چمکدار ہو جائےگی۔ ٥- کم از کم آدھا گھنٹا تیز واک کریں یا کوئی سی بھی اسٹئیر کلائمبر ایک گھنٹا استعمال کریں۔ ٦-لقمے کو چبا چبا کر کھایئں۔ ڈایئٹ پروگرام ١؛ ناشتہ؛ ایک ابلا ہوا انڈا اور بغیر شکر کے چائے۔اگر ضرورت محسوس ہو تو کینو یا سیب بھی لے سکتے ہیں۔ گیارہ بجے دن؛ اگر بھوک محسوس ہو تو کھیرا،ککڑی،ٹماٹر یا ایک کیلا بھی لے سکتے ہیں۔ دوپہر کا کھانا؛کسی بھی سبزی کا سوپ۔اگر چکن شامل کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں لیکن لال گوشت بلکل بھی نہیں۔ چار بجے شام؛کوئی بھی موسمی پھل پپیتا،امرود ،سیب یا گاجر ،آلو بخارہ لے سکتے ہیں۔ بغیر شکر کی چائے بھی لے سکتے ہیں۔ آٹھ بجے رات؛اب چونکہ اگلی صبح تک کچھ نہیں کھانا ہے اسلیے ایک کپ ابلے ہو ئے چاول ،کچی سبزی کے ساتھ لے سکتے ہیں۔ یہ پروگرام صرف تین دن کے لیے ہے۔ چوتھے اور پانچویں دن دوپہر کے کھانے میں سوپ کی جگہ سلاد کے اوپر لیموں چھڑک کر لے سکتے ہیں۔ پانچویں دن رات کے کھانے میں ابلی ہوئی چکن ،یا ہلکے شوربے کے ساتھ ایک چپاتی لے سکتے ہیں۔ دو دن کے وقفے سے یہ پروگرام پھر دہرایا جا سکتا ہے لیکن بیچ کے دو دنوں میں غذائی بد احتیاطی سے پرہیز کریں۔ ڈایئٹ پروگرام ٢ یہ بنانا ڈایئٹ پروگرام ہے۔اسمیں کیلے اور دودھ کے سوا کچھ نہیں کھانا ہے۔لیکن پانی اور اسپغول کی بھوسی کا استعمال پہلے کی طرح ہی رکھیں۔ ١ -صبح کے ناشتے میں ٢ کیلے اور ایک گلاس اسکم ملک لیں۔ ٢-دوپہر کے کھانے میں ٢ کیلے اور ایک گلاس اسکم ملک لیں۔ ٢رات کے کھانے میں بھی ٢ کیلے اور ایک گلاس اسکم ملک لیں۔ یہ پروگرام تین ہفتے تک جاری رکھ سکتے ہیں۔ ڈایئٹ پروگرام ٣؛ یہ کیبج سوپ ڈایئٹ ہے۔سوپ کی ترکیب ہے؛ ١_چھ بڑی ہری پیاز ٢-دو ہری مرچیں ٣-ایک یا دو ٹماٹر ٤-تین گاجریں ٥-ایک پیالہ مشرومز ٦-تھوڑی سی اجوائن ٧-آدھی پتہ گوبھی درمیانے سائز کی ٨-دو چکن کیوبز ٩-حسب ذائقہ نمک،مرچ ،سیاہ مرچ وغیرہ استعمال کریں۔ ترکیب؛تمام چیزوں کو بائٹ سائز میں کاٹ لیں۔ایک پین میں ڈال کر ہلکی آنچ پر رکھیں۔سبزیاں پانی چھوڑ دیں تو اسمیں بارہ کپ پانی ڈال کی ہلکی آنچ پر دو گھنٹے تک پکنے دیں۔ یاد رکھیں کے یہ پلان صرف ٧ دن کے لیے ہے دو ہفتے کے وقفے کے ساتھ۔ پہلا دن؛(پھل )تمام قسم کے پھل کھایئں سوائے کیلے کے اور سوپ لیں۔مشروبات میں کروندے کا رس،بغیر شکر کی چائے اور پانی پی سکتے ہیں۔ دوسرا دن؛(سبزیاں)تمام قسم کی کچی،پکی ہوئی یا ابلی ہوئی سبزیاں کھایئں۔کوشش کریں کہ خشک بینز،مٹر اور اناج نہ کھایئں۔سوپ کے ساتھ سب قسم کی سبزیاں لیں۔رات کے کھانے میں ابلا ہوا آلو لیں لیکن اور کوئی سبزی نہ لیں۔ تیسرا دن۔تیسرے دن سبزیاں ،فروٹ اور سوپ لیں۔ چوتھا دن؛کیلے اور اسکم ملک؛پورے دن میں آٹھ کیلے اسکم ملک کے ساتھ لیں۔سوپ کے ساتھ۔ پانچواں دن؛گوشت اور ٹماٹر؛دس سے بیس اونس گوشت اور چھ تازہ ٹماٹر۔چھ سے آٹھ گلاس پانی پیئں تاکہ یورک ایسڈ جسم سے نکل جائے۔ایک بار سوپ ضرور لیں اس دن بھی۔ابلی ہوئی مرغی بھی لے سکتے ہیں یا مچھلی ۔لیکن دونوں کو ساتھ نا لیں۔ چھٹا دن؛گوشت اور سبزیاں؛اس دن گوشت اور سبزیاں کھایئں۔٢ یا ٣ قتلے گوشت کے بھی لے سکتے ہیں ہری سبزیوں کے ساتھ۔دن میں ایک بار سوپ ضرور لیں۔ ساتھواں دن؛براؤن رائس،بغیر شکر کے جوسس اور سبزیاں۔دن مٰیں ایک بار ضرور سوپ پیئں۔ مذید معلومات کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں۔
  6. لاہورسے تقریباً پچاس کلومیٹر دورواقع پھول نگر سے ذرا پہلے سڑک ایک راجباہ عبور کرتی ہے۔ وہ عوام میں ’نہرپرناواں‘ کے نام سے معروف ہے۔ایک پختہ سڑک اس راجباہ کے ساتھ ساتھ دائیں ہاتھ چلی جاتی ہے۔ سرائے مغل اسی سڑک پر بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سرائے مغل کی تعمیر کا زمانہ سولہویں صدی بتایا جاتاہے۔ نام سے بھی ظاہر ہے، یہ سرائے مغلیہ دور حکومت میں تعمیر ہوئی تاہم کسی ثبوت کی عدم موجودگی میں یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کی تعمیر کا سہرا کس بادشاہ کے سر ہے۔ ماہرین آثارِقدیمہ کے مطابق یہ سرائے ایک چوکور قطعہ اراضی پر تعمیرکی گئی جس کا ہر ضلع ۴۔۱۶۶ میٹر تھا۔ اس کی تعمیر میں چھوٹی اینٹیں استعمال ہوئی تھیں۔ اینٹیں کنکر اور چونے کے مصالحے سے چُنی گئیں۔ آج سرائے کی دیوار کہیں کہیں سے کھڑی ہے۔ اس کے کمروں میں سے بعض کی بنیادیں اب بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ کمرے مربع شکل کے تھے اور ان کا ہر ضلع سوا تین میٹر تھا۔ سرائے کے باقی ماندہ آثار پر کوئی نقش و نگار نہیںنہ ایسا کوئی کتبہ جس سے اس کی تاریخ کا کچھ سراغ مل سکے۔ اس کی موجودہ حالت انتہائی مخدوش ہے۔ میرا خیال تھا‘ سرائے مغل کی مسلمہ تاریخی اہمیت کے پیش نظر علاقے کا بچہ بچہ اس سے پوری طرح باخبر ہو گا‘ لیکن یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ مقامی لوگوں میں سے اکثر اپنے اس تاریخی ورثے سے بے خبر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اڈے پہنچ کر کئی لوگوں سے سرائے کا محل وقوع معلوم کیا لیکن کوئی شخص سمجھ نہ پایا کہ ہم کس عمارت کی بات کر رہے ہیں۔بالآخر گندم اور مونجی کی خریداری کے ایک مرکز میں موجود راناذوالفقار نے ہمارا مسئلہ حل کر دیا۔ اس نے بتایا۔ ’’میرا خیال ہے آپ اس سرائے کی بات کررہے ہیں جو سنتے ہیں کبھی یہاں ہوا کرتی تھی۔ وہ سرائے تو نہ جانے کب صفحہ ہستی سے مٹ چکی‘کم از کم میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔ ہاں!اس کا ایک دروازہ ابھی تک کھڑا ہے‘‘۔ ’’ہم وہی دروازہ دیکھنا چاہتے ہیں‘‘ میں نے تکلفانہ جواب دیا’’آپ کو زحمت تو ہو گی لیکن ہمیں وہاں لے چلیے۔‘‘ اگرچہ راناذوالفقار کی دکان اور سرائے مغل کے درمیان فاصلہ زیادہ نہ تھا لیکن ٹوٹی پھوٹی سڑک پر بارش کا پانی بکثرت جمع تھا۔ لہٰذا ہم بمشکل تمام ایک جگہ پہنچ کر گاڑی سے نیچے اترے اور پیدل گلی میں سے ہوتے ہوئے اس کے دوسرے سرے پہنچے جہاں سرائے مغل کا واحد دروازہ کھڑا ہے۔ اب لکڑی کا وہ دروازہ تو موجود نہیں جو رات کے وقت بند کر دیا جاتا تھا البتہ وہ محراب موجود ہے جس کے اندر وہ نصب ہو گا۔چھوٹی اینٹ سے تعمیر شدہ یہ دروازہ بھی چند دنوں کا مہمان نظر آتاہے۔ زلزلے کے کسی معمولی جھٹکے ،زوردارآندھی یا شدید بارش کے زیر اثر وہ نہ جانے کب زمین بوس ہو جائے گا۔اگر دروازے یااس کے اطراف تعمیر شدہ جھروکوں پر کوئی نقش و نگار تھا تو اس کا کوئی نشان باقی نہیں رہا۔ اس کی استرکاری بھی قصہ پارینہ بن چکی۔ سرائے مغل کے معدوم احاطے میں لوگوں نے اپنے مکانات تعمیر کر رکھے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ کس زمانے میں تعمیر ہونا شروع ہوئے۔ ہم پھر اس ہشت پہلو مزار کی طرف نکل گئے جس کا ذکر محکمہ آثارِقدیمہ کے ریکارڈ میں ’سرائے ٹومب‘‘ کے طور پر کیا گیا ہے۔ نہ شمع‘ نہ فانوس‘ نہ بتی‘ نہ دیا اس گنبددار مزار کے اندر کون دفن ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔ مزار کی استرکاری عمومی طور پر سلامت ہے تاہم زمین سے کم و بیش چار چار فٹ تک پلستر اتر کر اینٹیں نمایاں ہو چکی ہیں۔ داخلے کے لیے صرف ایک ہی دروازہ ہے۔ مزار کی منڈیر پر ایک جگہ مدہم سا ایک رنگ باقی ہے جس سے گمان ہوتا ہے کہ بیرونی دیواروں پر بھی کسی نہ کسی شکل میں نقش و نگار تھے۔ ’’میں نے اپنے ہوش میں یہاں دو قبریں دیکھی ہیں۔‘‘ وہاں کے رہائشی‘ کرامت نے بتایا ’’یہ درست ہے کہ ان قبروں پر سنگِ مرمر کا تعویذ نہیں تھا لیکن وہ صحیح سالم تھیں۔ آہستہ آہستہ کوئی ان کی اینٹیں بھی اکھاڑ کر لے گیا۔‘‘ قبروں کے نشانات سے ظاہر ہے کہ ایک قبر گنبد کے مرکز میں تھی اور دوسری اس کے دائیں ہاتھ۔ بائیں ہاتھ والی جگہ خالی پڑی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مقبرہ کسی معروف شخصیت کی قبر پر تعمیر ہوا اور بعد میں کسی اور کو اس کے دائیں ہاتھ دفن کر دیا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ فی الاصل بائیں ہاتھ بھی کوئی قبر ہو جو آہستہ آہستہ صفحہ ہستی سے بالکل مٹ گئی۔ مزار کی دیواروں پر پودوں‘ پھولوں اور اقلید سی اشکال میں بہت خوبصورت نقش و نگار تھے جو اب کہیں کہیں نظر آتے ہیں۔ مزار کے دروازے اور باقی تین اطراف میں تعمیر شدہ خوبصورت محرابوں پر آیۃ الکرسی اور سورۃ اخلاص لکھی تھی۔ تاہم اب یہ تختیاں ٹوٹ چکی ہیں اور ان آیات کا کچھ حصہ ہی پڑھا جا سکتا ہے۔ ’’میرے والد کے پاس ایک بار ایک شخص آیا تھا۔ اس کے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہ تھی چنانچہ انہوں نے اس دروازے پر جو اب بغیر کواڑ کے ہے‘ لکڑی کے پٹ لگوا دیے۔‘ ‘ کرامت نے مزید بتایا ’’ وہ آدمی یہاں طویل عرصہ رہا لیکن پھر اچانک نہ جانے کہاں چلا گیا۔ بعد میں کسی نے لکڑی کے یہ پٹ بھی اکھاڑ لیے۔‘‘ ’’مقامی ہونے کے ناتے آپ کو تو سرائے مغل کے بارے میں خاصی معلومات حاصل ہوں گی۔‘‘ میں نے دریافت کیا۔ ’’میں یہی جانتا ہوں کہ یہ ایک قدیم آبادی تھی جس کا نام نوشہرہ بتایا جاتا ہے۔ ایک بار ایک آرائیں کو اپنے گھر کے اندر مٹی کھودتے ہوئے طلائی سکوں سے بھرا ایک برتن ملا۔ اس نے یہ سکے بیوی کو دھونے دیے۔ وہ بے چاری باہر بیٹھی سکے دھو رہی تھی کہ گجروں کا ایک لڑکا سکے اس سے چھین کر لے گیا۔ بات تھانے تک جا پہنچی۔ پولیس نے گجروں کے گھر پر چھاپہ مار کر یہ سکے برآمد کر لیے۔ پھر ان سکوں کا کیا ہوا؟ کسی کو نہیں معلوم۔ اور ہاں! پرانی ککھاں والی سڑک جو لاہور سے ملتان جاتی تھی‘ پاس سے ہی گزرتی تھی۔‘‘ ’’ککھاں والی سڑک؟‘‘ ’’جی! ککھاں والی یعنی وہ سڑک جس پرککھ بچھا دیے جاتے تاکہ مسافروں کو دوران سفر گردوغبار یا کیچڑ کی وجہ سے زیادہ تکلیف نہ ہو۔‘‘ سرائے ٹومب سے واپسی پر ہم پھول نگر رک گئے جو اب بھی عام طور پر اپنے پرانے نام‘ بھائی پھیرو سے پہچانا جاتا ہے۔ اس کا نیا نام بھائی پھیرو کی اہم شخصیت‘ رانا پھول محمد کے نام پر پڑا ہے۔ اُتّم رکھ لینے سے اونچا ہوا نہ کوئی سکھ روایات کے مطابق یہاں گھی کا ایک تاجر سنگتیا رہا کرتا تھا۔ اس کا کاروبار خاصا وسیع تھا اور مال دور دور تک جاتا تھا۔ ایک بار کچھ گھی کرتارپورہ بھجوانا تھا کہ سکھوں کے ساتویں گورو‘ گورو ہررائے کے ایک مریدخاص نے اچانک وہاں پہنچ کر سارا گھی خریدنے کی پیش کش کر دی۔ سنگتیا کو یہ سودا سودمند نظر آیا چنانچہ اس نے گھی گاہک کے حوالے کر دیا اور مشکیزے خالی کر کے دکان میں لٹکا دیے۔ اگلے روز سنگتیا اپنی دکان پر پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کے مشکیزے پہلے کی طرح گھی سے بھرے ہیں۔ سنگتیا اسی الجھن میں گورو ہررائے کے پاس پہنچا اور اس بات کی تصدیق کے بعد کہ یہ سب ان ہی کی نظرکرم کا نتیجہ ہے‘ وہ ان کا چیلا بن گیا۔ گورو ہررائے نے اسے سکھ مذہب میں داخل کر لیا اور اس کا نیا نام ’’بھائی پھیرو‘‘ رکھا۔ بھائی پھیرو کا انتقال پھول نگر میں ہوا اور یہیں اس کا سمادھ بنا۔ بعد میں یہاں ایک گوردوارہ تعمیر کر دیا گیا جو گوردوارہ سنگت صاحب کہلاتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی‘ پٹیالہ کی طرف سے شائع کردہ انسائیکلو پیڈیا آف سکھ اِزم کے مطابق اس گوردوارہ کے لے دو ہزار سات سو پچاس ایکڑ اراضی وقف تھی۔ آج سکھوں کی یہ تاریخی عبادت گاہ مختلف ادوار میں تعمیر ہونے والی تین عمارتوں یعنی گوردوارے‘ بھائی پھیرو کی سمادھ اور ایک چھوٹی سی عمارت میں منقسم ہے۔ عمارت پر کوئی ایسا کتبہ یا نشان موجود نہیں جس سے اس کی نوعیت کا اندازہ ہو سکے۔ ممکن ہے یہ مہمان خانہ ہو۔ فی الوقت اس کی تمام چھتیں گری ہوئی ہیں۔ جب ہم یہ عمارت دیکھنے اندر داخل ہوئے تو ملبے کے ڈھیر پر بیٹھی بڑے قد کاٹھ کی ایک سیاہ بلی نے غرا کر میری جانب دیکھا لیکن پھر بے خوف و خطر اپنی جگہ بیٹھ گئی اور خلاف توقع ٹکٹکی باندھ کر مجھے دیکھنے لگی۔ اسے دیکھ کر مجھے نہ جانے کیوں ان بدروحوں کا خیال آ گیا جو ایک روایت کے مطابق ویرانوں اور پرانی عمارات میں بھٹکتی پھرتی ہیں۔ ایک انجانے سے خوف کے تحت میرے جسم نے جھرجھری لی۔ ویسے بھی ملبے کے اس ڈھیر میں رُک کر دیکھنے والی کوئی چیز نہ تھی لہٰذا ہم جلد سمادھ کی طرف جا نکلے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ پچھلے ساٹھ برس میں سمادھ کی دیکھ بھال نہ ہونے کے باوجود وہ جوں کی توں قائم ہے۔ اس کی سبھی دیواریں‘ چھتیں‘ دروازے اور کھڑکیاں سلامت ہیں۔ سمادھ سطح زمین سے چند فٹ نیچے ہے چنانچہ بجلی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے اس کا عقبی حصہ مکمل طور پر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ رہی سہی کسر فرش پر کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں‘ چھت کے ساتھ لٹکے ہوئے جالوں‘ بھڑوں کے چھتوں اور حشرات الارض کے خوف نے نکال دی تھی۔ سمادھ کی عمارت تین منزلہ ہے۔ سمادھ سب سے نچلی منزل پر ہے۔ یہاں سے سیڑھیاں دوسری منزل پر جاتی ہیں۔ تیسری منزل کے ماتھے پر دو گنبد ہیں جبکہ چوتھی منزل پر جو صحن کی شکل میں ہے‘ سمادھ کے اوپر قدرے بڑا گنبد بنا ہوا ہے۔ تین گنبدوں والی یہ عمارت دور سے تو خاصی خوبصورت نظر آتی ہے لیکن اپنے مجموعی خوبصورت تاثر کے باوجود اس کے اندر یا باہر کسی قسم کے نقش و نگار باقی نہیں۔ ہاں! عمارت کی ایک دیوار پر مٹے مٹے سے نیلے‘ پیلے اور سرخ نقوش سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنی اصل شکل میں یہ عمارت خوبصورت نقش و نگار سے مزین ہو گی۔ جب میں عمارت سے باہر نکلا تو میرے دوست‘ مجید نے بتایا: ’’اس سمادھ کے نیچے سرنگیں ہوا کرتی تھیں۔ کم و بیش تیس سال پہلے کچھ بچے یہاں کھیل رہے تھے۔ ان میں سے ایک بچہ کسی سرنگ میں جا گھسا اور پھر کبھی باہر نہ آ سکا۔ اس حادثے کا شہر میں بڑا چرچا ہوا جس کے بعد ان سرنگوں کے منہ اینٹوں سے مستقل بند کر دیے گئے۔‘‘ ’’یہ سرنگیں جاتی کہاں تھیں؟‘‘ میں نے پوچھا ’’معلوم نہیں۔ ہو سکتا ہے سکھوں کی کسی کتاب میں کچھ ذکر ہو لیکن عوام میں یہ بات مشہور تھی کہ یہ سرنگیں بہڑوال جاتی ہیں۔‘‘ ’’وہ تو یہاں سے کافی دور ہے؟‘‘ ’’اگر مغلیہ دور میں لاہور سے دلی تک سرنگیں جا سکتی تھیں تو بھائی پھیرو سے بہڑوال کا فاصلہ کیا معنی رکھتا ہے!‘‘ ’’لیکن ان سرنگوں کی تعمیر کا مقصد کیا تھا؟‘‘ ’’کہتے ہیں‘ یہ سرنگیں سکھوں کے معزز خاندانوں کی خواتین بہڑوال سے آمدورفت کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ لیکن یہ سب سنی سنائی باتیں ہیں‘ اصل بات کیا ہے‘ یہ تو صرف خدا ہی جانتا ہے۔‘‘ اس گوردوارے کی حالت اکثر دوسرے گوردواروں سے بدرجہا بہتر ہے۔ پرکاش استھان خاصی اچھی حالت میں ہے۔ کمروں کی چھتیں بھی قائم ہیں البتہ بعض دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ ’’یہ عمارت تو بہت خستہ حالت میں تھی‘‘ مجید نے بتایا ’’اس کی چھتیں گر گئی تھیں اور بارش کا پانی اندر آ جاتا تھا۔ کچھ سال پہلے حکومت کی طرف سے اس کی مرمت کے لیے خصوصی امداد آئی تھی۔‘‘ مجید کی بات سن کر مجھے احساس ہوا کہ پرکاش استھان کے علاوہ جس کی چھت لکڑی کے موٹے موٹے شہتیروں پر کھڑی ہے‘ باقی تمام کمروں کی چھتیں نئے سرے سے ڈالی گئی ہیں۔ میں نے سوچا ’’کاش مرمت کرانے اور کرنے والوں نے اپنی ذمہ داری کا کچھ ہی احساس کر لیا ہوتا۔ انہوں نے بدانتظامی اور بددیانتی کے امتزاج سے ایسی گھٹیا تعمیر کی ہے جو خود ہماری اپنی آنکھوں میں بھی ہمیشہ کھٹکتی رہے گی۔
  7. پاکستان (10,800,000 [1993], 7%) بھارت (51,536,111 [2001], 5.1%) مملکتِ متحدہ (747,285 [2001], 1.3%) بنگلہ دیش (650,000, 0.4%) متحدہ عرب امارات (600,000, 13%) سعودی عرب (382,000, 1.5%) نیپال (375,000, 1.3%) ریاست ہائے متحدہ امریکہ (350,000, 0.1%) افغانستان (320,000, 8%) جنوبی افریقہ (170,000 جنوب ایشیائی مسلمان, جن میں سے کچھ اُردو بول سکتے ہیں) کینیڈا (156,415 [2006], 0.5%) عمان (90,000, 2.8%) بحرین (80,000, 11.3%) ماریشس (74,000, 5.6%) قطر (70,000, 8%) جرمنی (40,000) ناروے (29,100) فرانس (20,000) سپین (18,000 [2004]) سویڈن (10,000 [2001]) کُل عالمی: 60,503,578 درج بالا فہرست سے پتہ چلتا ہے کہ اصل اُردو بولنے والوں کی زیادہ تعداد جنوبی ایشاء کی بجائے چھوٹے عرب ریاستوں (متحدہ عرب امارات، بحرین) میں
  8. سعودی شہری نے 50 زندہ بچھو کھا کر امریکی ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا۔ یہ بات بہت سے لوگوں کے لئے ناپسندیدگی و کراہیت کا باعث ہو سکتا ہے مگر یہ ایک حقیت ہے کہ سعودی شہری ماجد المالکی ایک ہی بار 50 زندہ بچھو نگل سکتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ یہ محیر العقول شخص سانپ، چھوٹے مگرمچھ اور چھپکلیاں بھی کھانے کے طور پر کھاتا ہے۔ ماجد المالکی نے کہا کہ اسے ان حشرات اور جانوروں کا زہر نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اسے سب سے زیادہ زہریلے پیلے بچھو کھانے میں زیادہ مزا آتا ہے۔ ماجد المالکی نے اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر "گینیز بک آۡف ورلڈ ریکارڈ" کی ویب سائٹ پر موجود متعدد ویڈیو کلپ اور تصاویر بھی العربیہ۔نیٹ کو دکھائیں کہ جن میں اسے ایسے حشرات کو نگلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔۔ المالکی کا نام گذشتہ مہینے "گینیز بک" میں اس وقت شامل کیا گیا کہ جب اس نے سعودی عرب کے دارلحکومت میں 22 بچھو کھا کر ایک امریکی شہری ڈین شیلڈن کا ایک نشت میں 21 بچھو کھانے کا ریکارڈ توڑا۔ ماجد المالکی نے کہا کہ اس کا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرنے کی تقریب ریاض میں منعقد ہوئی، جس کے دوران اس نے 20 سیکنڈز میں 22 بچھو نگل لئے جبکہ اس سے پہلے ایک امریکی شہری کا نام گینیز بک میں 21 بچھو کھانے پر درج تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک ہی نشت میں 50 بچھو کھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انتالیس سالہ ماجد المالکی سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں سرکاری ملازم ہیں۔ ان کا وزن 70 کلوگرام ہے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ وہ صرف بچھو ہی نہیں بلکہ سانپ بھی کھا سکتے ہیں۔ ایک نشت میں دس تک سانپ کھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ چھوٹے مگر مچھ، چھیکلیاں بھی کھا لیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چھوٹے بڑے بچھوؤں کی تمام اقسام کھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ سب سے زیادہ زہریلا "پیلا بچھو" بھی کھا لیتے ہیں۔ یاد رہے پیلا بچھو اپنے ہلاکت خیز زہر کی وجہ سے "فلسطینی" کے نام سے مشہور ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ماجد المالکی نے کہا کہ " کہ میں 22 برس سے یہ کام کر رہا ہے، مجھے ایک مرتبہ بھی ان زہریلے حشرات کھانے سے زہر خورانی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بچھو کھاتے ہوئے اس کے ڈنگ والے حصے کو تھوڑا توڑ لیتا ہوں تاکہ یہ منہ کی جلد میں نہ پیوست ہو۔ انہوں نے کہا میں ایسے حشرات کھانے سے پہلے ان کا ڈنگ نہیں نکالتا۔ کسی بچھو کے ڈسنے پر مجھ پر زہر اثر نہیں کرتا۔ ماجد المالکی نے کہا کہ بچھو کے ڈسنے سے انسان مرتا نہیں، لیکن ایسی صورت میں کوئی شکار اگر خوف میں مبتلا ہو جائے تو وہ شدید بخار کیوجہ سے فوری طور پر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ "بچھو سے ڈسے جانے والوں کو میرا مشورہ ہے کہ وہ پرسکون رہیں کیونکہ ایسی صورت میں خوف ہی خطرناک صورتحال پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انسان کے معدے یا دانتوں میں السر نہیں تو بچھو کا زہر خطرناک نہیں ہوتا۔ محیر العقول سعودی شہری کا کہنا تھا کہ کہ وہ ایسے دنگ کر دینے والے "کارناموں" کے ذریعے صرف اپنا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نہیں لکھوانا چاہتا تھا بلکہ اس کا مقصد سنہ 2004ء سے امریکی شہری کے ریکارڈ کو توڑ کر اس کی جگہ اپنی شناخت درج کرانا چاہتا تھا۔ اس سوال کہ ان کے حشرات کھانے کے فعل کو سعودی عوام کس نظر سے دیکھتے ہیں ماجد نے بتایا کہ بہت سے لوگ اس پر تنقید کرتے ہیں مگر کچھ لوگ اسے عام بات سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ان کا ایک امریکی پروگرام میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا معاہدہ ہوا تھا مگر نائن الیون کے بعد اس پر عمل درامد نہ ہو سکا۔
  9. زبان اور آنکھوں کے ذریعے اپنی سوچ دوسروں تک پہنچانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاہم پیروں کے ذریعے سے بھی اپنی سوچ عیاں کی جاسکتی ہے۔ مانچسٹر یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ پیروں کی حرکات انسان کے بھید کھولنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق چہرے پر نقاب چڑھانے والے افراد کے پیروں کی حرکات ان کی اصلیت کھولنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ گھبراہٹ کے عالم میں مردوں کے پیر تیزی سے حرکت کرنا شروع کردیتے ہیں جبکہ خواتین کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے اور بالکل ساکت بیٹھی رہتی ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی جھوٹ بول رہا ہو تو اس کے پیر شعوری طور پر ساکت رہتے ہیں۔
  10. سائنسدانوں کی نئی تحقیق کے مطابق اگر کسی سے کام کروانا ہے تو اس کے داہنے کان میں بات کی جائے کیونکہ لوگ داہنے کان میں کہی گئی بات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ اطالوی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دماغ کا بائیں حصہ جو کہ معلومات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے دائیں کان سے معلومات حاصل کرتا ہے۔یہ تحقیق آن لائن جرنل میں شائع ہوئی ہیں۔ پہلی تحقیق ایک کلب میں کی گئی جہاں اونچی آواز میں موسیقی لگی ہوئی تھی اور دو سو چھیاسی افراد بات چیت کر رہے تھے۔ ان افراد نے بہتر فیصد بات چیت داہنے کان میں کی۔ دوسری تحقیق میں تحقیق کاروں نے کلب میں داخل ہو کر 176 افراد کے قریب دھیمی آواز میں بے معنی بات کی اور انتظار کیا کہ یہ افراد اپنا دائیں یا بائیں کان بات سننے کے لیے مڑتے ہیں۔ تحقیق کاروں نے ان افراد کی توجہ حاصل ہونے کے بعد سگریٹ مانگے۔ ان افراد میں سے 58 فیصد افراد نے داہنا کان موڑا اور 42 نے بایاں کان۔ تیسری ریسرچ میں سائنسدانوں نے جان بوجھ کر کلب میں 176 افراد کے یا تو بائیں یا دائیں کان میں بات کرتے ہوئے سگریٹ مانگا۔اس ریسرچ میں دائیں کان میں بات کرنے سے زیادہ سگریٹ ملے بہنسبت بائیں کان کے۔ ماہرین کا کہنا ہے ’اگر کسی سے کام کروانا ہے تو انسان کے دائیں کان میں بولو تاکہ یہ بات دماغ کے اس حصے میں جائے جہاں معلومات کو صحیح سمجھا جا سکے۔‘ یونیورسٹی کالج لندن کی پروفیسر سوفی سکاٹ کا کہنا ہے کہ ’زیادہ تر افراد بول چال اور زبان کو دماغ کے بائیں جانب سے سمجھتے ہیں جبکہ دائیں جانب سے احساسات کو سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں یہ فرق عام طور پر اس وقت بھی نظر آتا ہے جب لوگ فون دائیں کان پر لگائے باتیں کرتے ہیں۔
  11. ہندوستان میں پاکستان ویسے تو ہندوستان کے بعض مخصوص متعصب سیاسی ذہن جب کبھی کسی ہندوستانی مسلم اکثریتی علاقہ پر غصہ اتارتے ہیں تو اسے ایک "چھوٹا پاکستان" کا لقب دے ڈالتے ہیں۔ لیکن ۔۔۔۔۔ ہندوستانی ریاست بہار میں ایک ایسا گاؤں آج بھی پایا جاتا ہے جس کا نام ہی "پاکستان" ہے اور جہاں ایک بھی مسلمان خاندان آباد نہیں ہے! دی بہار ٹائمز کی ایک خبر کے مطابق بہار کے 38 اضلاع میں سے ایک ضلع پورنیہ میں ایک گاؤں "پاکستان" کے نام سے بھی قائم ہے۔ ہند وپاک کی حالیہ کشیدگی اور دونوں ملکوں کے درمیان کی سابقہ جنگوں کے باوجود اس گاؤں کے باشندگان اپنے گاؤں کا نام تبدیل کرنے پر مصر بھی نہیں ہیں۔ گاؤں کے ایک باشندے نے بتایا کہ : ہمارے آباء و اجداد یہاں کے مسلمان زمینداروں کے کھیتوں میں کام کیا کرتے تھے۔ تقسیم کے بعد وہ لوگ اپنی زمین ہمارے آباء واجداد کے حوالے کر گئے۔ انہی کی یاد میں گاؤں کی مقامی آبادی نے اپنے گاؤں کا نام "پاکستان" رکھ دیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پنکج کمار کے بموجب سرکاری دستاویزات میں بھی اس گاؤں کا نام "پاکستان" ہی درج ہے۔ اسی ضلع پورنیہ میں واقع ایک دوسرے گاؤں پوکھریا کے ایک فرد نے کہا کہ : آزادی سے قبل پڑوس کا یہ پورا گاؤں "پاکستان" مسلمانوں کا تھا لیکن 1947ء تا 1950ء کے دوران یہاں کے تمام مسلمان خاندان مشرقی پاکستان منتقل ہو گئے تھے۔
  12. اسلام علیکم امید ہے آپ سب دوست ٹھیک ہونگے دوستو آج میں آپ کو یہ بتانے جا رہا ہوں کے کمپیوٹر جس پر ہم بیٹھتے ہیں ہمیں اس کی حفاظت کیسے کرنی چاہے ، اگر آپ کمپیوٹر کے حفاظت کرنا چاہتے ہو تو ان پر عمل کرو . ١)جس جگا کمپیوٹر رکھا جائے وہاں ہوا کا بہترین نظام ہو وہاں کسی کسم کے نامی وگرا نہ ہو. ٢)اپنا کمپیوٹر ہمیشہ ہوادار جگا پر رکھیں . ٣)کمپیوٹر کو تھرتھراہٹ پیدا کرنے والی اشیا کے قریب رکھنے سے پرہیز کریں . کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے اپنے موبائل کی واابریشن off کردیں اس سے کمپیوٹر کے مانیٹر پر تھرتھراہٹ پیدا ہوتی ہے ٤)کمپیوٹر کے قریب خاص کر کے کی بورڈ پر خانے پینے کی اشیا لانے سے اجتناب کریں. ٥)کمپیوٹر کو چلتی حالت میں آگے پیچھے حرکت مت دیں یہ نا صرف کمپیوٹر پر آپ کے لئے بھی نقصاندہ ہے . ٦)کمپیوٹر کو خاص کر کے مانیٹر کو گیلے کپڑے سے صاف نہ کریں ورنہ مانیٹر جلنے کا خطرہ ہے . ٧)کمپیوٹر اور مانیٹر کے گرد کو دیں میں اک بار اک صاف کپڑے سے صاف کریں . ٨)کمپیوٹر پر کام کرنے کے بعد کمپیوٹر کو اک صاف کپڑے سے دہک دیں تاکے کمپیوٹر کے اندر گرد نا جا سکیں . ٩)کمپیوٹر خاص طور پر مانیٹر کےاُوپرکوئی چیز نا رکھیں ورنہ مانیٹر جلدی گرم ہو جاتا ہے . ١٠)اپنی کمپیوٹر کی کیبلز کو اچھی طرح سے منظم کریں اور کسی چیز سے اچھی طرح سے باندھ لیں . ١١)کمپیوٹر ٹھنڈی اور ہوادار جگا پر رکھیں ایسی جگہ نا رکھیں جہاں کمپیوٹر پر سورج کی روشنی براہراست پہنچ سکیں . ١٢)کمپیوٹر کی کیبلز ،کی بورڈ ،مائوس، وگیرہ کی کیبلز کو احتیاط سے کمپیوٹر کے ساتھ لگائیں یا الگ کردیں . ١٣)کمپیوٹر کے کورز ہمیشہ بند رکھیں بگیر کورز کےسی پی یو کے اندر گردوگبار جانے کا احتمال ہے
  13. مایکروسافٹ ونڈوز نے آپ کو تو جو دیا ہو گا سو دیا ہو گا کیوں نا دیکھا جاوے کہ بل گیٹس صاحب کو اس سے کیا حاصل ہوا۔ ۔ ۔ ۔ بل گیٹس ہر سیکنڈ میں 250 ڈالرز کماتا ہے جو کہ ایک دن میں 20 ملین اور ایک ماہ میں 7٫8 بلین ڈالرز بنتے ہیں۔ یعنی 2 کروڑ ڈالرز روزانہ اور 78 کھرب ڈالرز ماہانہ۔( ایک ڈالر تقریبا 60 روپے کا ہے) اگر وہ ایک ہزار ڈالرز گرا دیتا ہے تو اسے نیچے جھک کر انھیں اٹھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ایسا کرنے میں اسے تقریبا 4 سیکنڈ لگیں گے جبکہ اس دوران وہ اتنا پیسہ کما چکا ہو گا۔ امریکہ کا نیشنل قرض پانج اعشاریہ چھ دو ٹریلین ڈالرز ہے اور اگر بل گیٹس کو یہ قرض ادا کرنا ہو تو وہ دس سال سے بھی کم عرصہ میں یہ قرض ادا کر سکتا ہے۔ دنیا کی تمام آبادی کو 15 ڈالر ادا کرنے کے بعد بھی اس کی جیب میں 5 ملین ڈالرز بج جاویں گے۔یعنی دنیا کے ہر فرد کو تقریبا 900 روپے دینے کے باوجود بھی اس کی جیب میں 3 کروڑروپے بچ جاویں گے۔ مایکل جارڈن امریکہ کا سب سے زیادہ کمانے والا ایتھلیٹ ہےجو کہ 30 ملین ڈالر سالانہ کماتا ہے۔اگر وہ اپنی سالانہ انکم محفوظ کرنا شروع کر دے تو اس کو بل گیٹس جیسا امیر ہونے کے لیے 277 سال لگیں گے۔ اگر بل ایک ملک ہوتا تو زمین پر موجود ملکوں مین دولت کے حساب سےاس کانمبر 37ہوتا۔ اگر آپ بل گیٹس کی تمام دولت کو ایک ڈالر کے نوٹ میں تبدیل کر دیں تو آپ زمین سے چاند تک 14 دفعہ روڈ بنا سکتے ہیں (لیکن اس کام کے لیے 1400 سال درکار ہوں گے) بل گیتس اگر اپنی 40 سالہ عمر کے بعد اب 35 سال بھی اور زندہ رہا تو اس کو اپنی دولت ختم کرنے کے لیے 6اعشاریہ 78ملین ڈالر روز خرچنے ہوں گے(چھ لاکھ 78 ہزار ڈالر'4 کروڑ روپے سے زیادہ) اب سب سے زبردست۔۔۔۔۔ اگر مایکروسافٹ ونڈوز یوزرز ہر بار ونڈوز کے ہینگ ہونے پر ایک ڈالر کلیم کریں تو بل گیٹس صاحب کا 3 سال میں دیوالیہ نکل جاوے گا۔
  14. ویب صارفین میں سے بیس فیصد انٹرنیٹ ایکسپلورر 6 استعمال کرتے ہیں گوگل نے انٹرنیٹ ایکسپلورر 6 براؤزر استعمال کرنے والوں کے لیے مدد کی فراہمی کے خاتمے کا عمل شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایکسپلورر کے اس ورژن کو وہ کمزور کڑی قرار دیا جا رہا ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حال ہی میں گوگل سرچ انجن پر سائبر حملہ کیا گیا۔ گوگل کا کہنا ہے کہ یکم مارچ.سے گوگل ڈوکیومنٹس سمیت کچھ پروگرام اس براؤزر پر کام نہیں کریں گے۔ کمپنی نے انٹرنیٹ ایکسپلورر 6 استعمال کرنے والے صارفین سے کہا ہے کہ وہ ’جلد از جلد‘ اپنا براؤزر اپ گریڈ کر لیں۔ خیال رہے کہ ہیکرز نے انٹرنیٹ ایکسپلورر میں موجود نقائص سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والے چینی کارکنوں کے جی میل اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا تھا۔
  15. مغربی بنگال (بھارت) میں چھ مقبول امریکی فاسٹ فوڈ کمپنیاں، ریستوران کھولنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ ان میں دو پیتزا کمپنیاں شامل ہیں۔ لفظ Pizza ان عجیب و غریب الفاظ میں سے ہے جن کی اصل کسی کو حتمی طور پر معلوم نہیں۔ ممکن ہے یہ یونانی لفظ pitta سے آیا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی اصل لاطینی لفظ pix سے نکلی ہو۔ لیکن یہ طے ہے کہ یہ اطالوی لوگوں کی ایجاد نہیں ہے، جیسا کہ عموماً سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ اس کی اصل کا سراغ پرانے زمانے کے مشرقِ وسطیٰ میں ملتا ہے۔ اس کے علاوہ مزے کی بات یہ ہے کہ بابلی، مصری، اسرائیلی، آرمینی، یونانی، رومن اور دوسری قدیم تہذیبوں میں تنورں میں پکی ہوئی چپٹی روٹیاں کھائی جاتی تھیں۔ یونانی، رومن اور مصری اپنی روٹیوں پر روغنِ زیتون اور مقامی مصالحہ جات لگاتے لیکن جب یہ ڈش اٹلی پہنچی تو انہوں نے اس پر ٹماٹر اور پنیر کا لیپ کرنا شروع کیا۔ یہی وہ پیتزا ہے جس سے ہم اج واقف ہیں۔ Pizza بنانے کی پہلی دکان نیپلز میں 1830 میں قائم ہوئی تھی اور آج تک قائم ہے۔ یورپ اور امریکہ میں اس کا صحیح تعارف دوسری جنگ ِ عظیم کے دوران ہوا جب امریکی اور یورپی فوجوں کے سپاہیوں نے اٹلی کے مقبوضہ علاقوںمیں پیتزا کھا کر دیکھا۔ پاکستان میں پیتِزا پہلے پہل 1975 کی دہائی میں متعارف ہوا تھا۔
  16. واشنگٹن……گوگل نے انٹرنیٹ ایکسپلورر 6 براوٴزر استعمال کرنے والوں کے لیے مدد کی فراہمی کے خاتمے کا عمل شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایکسپلورر کے اس ورژن کو وہ کم زور کڑی قرار دیا جا رہا ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حال ہی میں گوگل سرچ انجن پر سائبر حملہ کیا گیا۔ گوگل کا کہنا ہے کہ یکم مارچ سے گوگل ڈاکیومنٹس سمیت کچھ پروگرام اس براوٴزر پر کام نہیں کریں گے۔ کمپنی نے انٹرنیٹ ایکسپلورر 6 استعمال کرنے والے صارفین سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنا براوٴزر اپ گریڈ کر لیں۔ خیال رہے کہ ہیکرز نے انٹرنیٹ ایکسپلورر میں موجود نقائص سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والے چینی کارکنوں کے جی میل اکاوٴنٹس کو نشانہ بنایا تھا۔
  17. VEry Nyc sharing dear... Keeep it up
  18. passand karne ka buhat shukriya dost
  19. ناکامیاں اور اس کا سدباب ہم اگر اکثر جہد مسلسل پر زور دیتے ہیں تو اس کے پیچھے اپنی زندگی کا نچوڑ جھلک رہا ہوتا ہے۔ ہم اگر کہتے ہیں کہ اپنی دہن میں لگے رہو تو اپنی زندگی میں نامکمل رہ جانے والے منصوبوں کا سوچ رہے ہوتے ہیں۔ ہم آج آپ کے سامنے ناکامیوں سے بچنے کے لئے کچھ اصول رکھ رہئ ہیںتا کہ آپ ناکامیوں سے اجتناب کر سکیں۔ 1. ہماری ایک عادت ہے کہ ہم اپنی کامیابیوں کی بجائے اپنی ناکامیوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اس لئے ہمیں اپنی کامیابیوں کو بھی سامنے رکھنا چاہئے تاکہ ہمارے اندر اعتماد پیدا ہو. 2. کبھی شارٹ پلاننگ مت کرو اور ہمیشہ دور کی سوچو۔ 3. پہلی نوکری تبھی چھوڑو جب دوسری جوائن کرنے کا سو فیصد ارادہ بن جائے۔ 4. ہو سکے تو سب سے پہلے اپنی منزل کا تعین کر لو اور پھر ہاتھ پاؤں مارنے شروع کرو۔ 5. اوائل عمری میں ہی کڑی محنت کر لو تا کہ عمر کے آخری حصے میں اس کا پھل کھا سکو۔ 6. دوسروں کو دیکھ کر حسد نہ کرو بلکہ کچھ حاصل کرنے کے لئے محنت اور لگن استعمال کرو. 7. اپنے اندر اعتماد پیدا کرو اور دوسروں کے ساتھ اعتماد سے بات کرو. 8. زیادہ کسی کے بارے میں مت سوچو بلکہ یہ سوچو کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہو. 9. اپنے اندر خامیاں تلاش کرو اور اس کی اصلاح کرو. 10. دوسروں کو یا حکومت کو کوسنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر تقوی کرو. جو سب کو پالنے والا ہے اور سب کو رزق دینے والا ہے. اس لئے اللہ تعالی کی عبادت کے لئے اپنے دن بھر کے وقت سے کچھ وقت ضرور نکالو. 11.سب سے آخری بات یہ ہے کہ آپ جو خطرناک غلطی ایک بار دہرا چکے ہیں دوبارہ نہ دہرائو
  20. لندن : ایک برطانوی خاتون نے درد شقیقہ کے بعد چائینز زبان میں مہارت ظاہر کرکے اپنے طبی معالج کو حیران کردیا۔ 35 سالہ سارہ کولویل نے بتایا کہ جب بھی مجھے پورے یا آدھے سر کا درد ہوتا ہے تو میری چائنیز سیکھنے کی استعداد کار میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس صورتحال پر کی جانے والی تحقیق میں دیکھا گیا کہ وہ کونسی وجہ ہے جو غیر ملکی زبانوں کو سیکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ۔ ماہرین طب نے اندازہ لگایا ہے کہ دردشقیقہ کے باعث ہوسکتا ہے کہ خون کی شریانوں میں خون کے بہاﺅ کی زیادتی اس کی وجہ ہو کیونکہ دماغ کو زیادہ خون ملنے کی وجہ سے اس کی استعداد کار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ خاتون نے اپنے ڈاکٹر کو بتایا کہ درد شقیقہ اور درد کے بعد مجھے سنائی دینے والی آوازوں میں بھی تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ خاتون نے بتایا کہ میں آئی ٹی کوآرڈنیٹر ہوں اور میں اپنے درد کی مشکور ہوں کہ اس کی وجہ سے میرے غیر ملکی زبان کے کام کی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ماہرین نے کہا ہے کہ یہ ایک نادر اور منفرد تجربہ ہے جو طب کی دنیا میں ہمیں حیران کررہا ہے ۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر جوہن کولی من نے کہا کہ میرے لئے یہ حیرت انگیز بات ہے کیونکہ درد شقیقہ کے دیگر مریضوں کی استعداد کار کم ہوتے دیکھی گئی ہے۔
  21. گنجے پن کا علاج دریافت سر کے گنجے پن کا علاج دریافت کرلیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حال ہی میں ماہرین نے ایک ایسا جین دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کا تعلق بالوں کی بڑھوتری اور افزائش سے ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دریافت بالوں کو گرنے سے روکنے کے لیے کی جانے والی اب تک کی کوششوں کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی میں مالیکیولر ڈرماٹولوجی کی پروفیسر اینجلا کرسٹینواس تحقیقی ٹیم کی سربراہ تھیں۔اس ٹیم میں کولمبیا یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ نیویارک کی راک فیلر یونیورسٹی ، کیلی فورنیا کی سٹین فورڈ یونیورسٹی اور پاکستان اور اٹلی کے سائنس دان شامل تھے۔ کرسٹینو کہتی ہیں کہ اس بیماری کی وجہ سرکی جلد میں واقع ان نالی نما غذودوں کاسکڑنا ہے جس میں بال کی جڑیں ہوتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ذرا تصور کریں کہ آپ بال اور اس کی غذود کی ایک تصویر فوٹو کاپی مشین پر رکھتے ہیں اور پھر تصویر کا سائز کم کرنا شروع کرتے ہیں۔ توپھر آپ یہ دیکھتے ہیں کہ جس نسبت سے غذود چھوٹے ہوتے ہیں اسی تناسب سے بال بھی کم اور چھوٹے ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔اس غذود کے سکڑنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ کے سرکے بال پہلے جیسے گھنے اور لمبے نہیں رہتے ، وہ تعداد میں کم اور چھوٹے ہوجاتے ہیں اور وہ پہلے جیسے چمک دار بھی نہیں رہتے۔ تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس نئی دریافت کے بعد وہ دن زیادہ دور نہیں ہے جب بالوں کو گرنے سے بچانے کے لیے مؤثر اور محفوظ طریقہ علاج تلاش کرلیا جائے گا اور اس میں ہارمونز کا استعمال بھی نہیں ہوگا۔
  22. شہد اور دارچینی کا استعمال صدیوں سے کیا جارہا ہے کیونکہ دونوں میں بےپناہ فوائد پوشیدہ ہیں جنہیں باہمی طور پر مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے موثر سمجھا جاتا ہے ۔خاص طور پر یونانی اور آیورویدک طریقہء علاج میں تو اس کی کہیں زیادہ اہمیت ہے۔سائنسدان بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ شہد ایک موثر چیز ہے جس کے استعمال کے بعد کسی قسم کے خطرناک اثرات بھی نہیں ہیں۔مشرق میں تو برسہا برس سے شہد اور دارچینی کو ملا کر مختلف بیماریوں کا علاج کیا جاتا رہا ہے مگر اب مغرب میں ہونے والی تحقیق سے بھی یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ بعض بیماریوں کے لئے شہد اور دارچینی کا استعمال جادو اثر ہوتا ہے ۔جیسے ذیل میں دی گئی چند بیماریاں شہد اور دارچینی کے باہم استعمال سے دور ہو سکتی ہیں۔ نقرس یا گٹھیا ایک پیالی میں ایک حصّہ شہد اور دو حصّے نیم گرم پانی ڈال کر اس میں ایک چائے کا چمچہ دارچینی پاؤڈر ڈال کر اچھی طرح حل کر لیں اور اس آمیزے کو جسم کے اُن حصّوں پر لگا کر مالش کریں جہاں کھنچاؤ کی کیفیت ہو رہی ہو ۔اگر اسے باقاعدگی سے استعمال کیا جاتا رہے تو یہ طریقہ خاصی حد تک مددگار ثابت ہوسکتا ہے خصوصاً اُن مریضوں کے لئے جو انتہائی شدید نوعیت کے نقرس یا گٹھیا میں مبتلا ہوں۔ منہ کی ناگوار بو ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک چائے کا چمچ شہد اور چوتھائی چائے کا چمچ دار چینی پاؤڈر حل کرکے غرارہ کرنے سے منہ کی ناگوار بو ختم ہو کر سانس خوشگوار ہو جاتی ہے۔ سرطان جاپان اور آسٹریلیا میں ہونے والی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ شہد اور دارچینی کو معدے اور ہڈیوں کے سرطان میں استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ان امراض میں مبتلا مریض ایک کھانے کا چمچ شہد لے کر اس میں ایک چائے کا چمچ دار چینی پاؤڈر ملائیں اور اسے ایک گلاس پانی میں حل کر لیں ۔ایک ماہ تک دن میں تین مرتبہ پینے سے مرض دور ہوجائے گا۔ کولیسٹرول دو کھانے کے چمچ شہد اور 3 چائے کے چمچ دار چینی پاؤڈر کو 16 اونس پانی میں حل کریں اور اس کا استعمال دن بھر وقفے وقفے سے کریں ۔اس کو پینے سے جسم میں موجود کولیسٹرول لیول دس فیصد تک کم ہوجائے گا۔ ٹھنڈ کا اثر ایسے افراد جو جلد ٹھنڈ کا اثر قبول کرکے نزلہ و زکام میں مبتلا ہوجاتے ہیں وہ ایک کھانے کا چمچہ نیم گرم شہد میں چوتھائی چائے کا چمچہ دارچینی پاؤڈر شامل کرکے مسلسل تین دن تک کھائیں ،کھانسی ،نزلہ دور ہو جائے گا۔ تھکن کچھ حالیہ مشاہدات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ایسے معمر افراد جو شہد اور دارچینی پاؤڈر کو برابر مقدار میں ملا کر استعمال کرتے ہیں زیادہ ایکٹو ہیں ۔ایک گلاس پانی میں آدھا چائے کا چمچ شہد حل کرکے اس میں چٹکی بھر دارچینی پاؤڈر چھڑک لیں اور ہر روز ناشتے سے قبل اور دوپہر میں بھی پی لیں ۔اس سے ہفتے بھر میں جسم کی توانائی بحال ہوجائے گی اور آپ خود کا چست و توانا محسوس کریں گے۔ بالوں کا گرنا دنیا کے کسی بھی حصّے میں بال گرنے کی بیماری عام ہے جس کے لئے آسان سا نسخہ یہ ہے کہ نیم گرم زیتون کے تیل میں ایک کھانے کا چمچہ شہد اور ایک چائے کا چمچہ دارچینی پاؤڈر شامل کرکے پیسٹ بنا لیں اور بالوں میں لگا لیں ،15 منٹ بعد سر دھو لیں ۔یقینی طور پر کچھ دن کے بعد بال گرنا بند ہوجائیں گے۔ سماعت کی کمی اگر آپ سماعت کی کمی یا کسی نقص سے دوچار ہیں تو آدھا چائے کا چمچ شہد اور آدھا چائے کا چمچ دارچینی پاؤڈر مکس کرکے چند دنوں تک دن میں دو بار استعمال کریں ،اس طرح آلہء سماعت سے نجات مل سکتی ہے۔ امراضِ قلب ایک چمچہ شہد اور آدھا چمچہ دارچینی پاؤڈر ملا کر پیسٹ بنائیں اور اسے ڈبل روٹی پر لگا کر روزآنہ استعمال کریں اس سے خون کی شریانیں کھلیں گی اور ہارٹ اٹیک سے حفاظت رہے گی۔ امراض سے بچاؤ کا مامون نظام۔ ہر روز شہد اور دارچینی کا استعمال امراض سے بچاؤ کے مامون نظام کو طاقت بخشتا ہے اور جسم بیکٹیریا کے علاوہ وائرس کے حملوں سے بھی بچا رہتا ہے ۔شہد میں بہت بڑی مقدار میں وٹامنز اور آئرن کی موجودگی اسے دوسری غذاؤں سے کہیں بہتر اور موثر ثابت کرتی ہے ۔اس کامبی نیشن کا باقاعدگی سے استعمال خون میں سفید ذرّوں کو توانائی عطا کرتا ہے جوکہ بیکٹیریا اور وائرس کے حملوں سے لڑتے ہیں۔ بدہضمی۔ دو کھانے کے چمچے شہد پر تھوڑی سی پسی ہوئی دارچینی چھڑک کر کھانے سے قبل استعمال کرنے سے تیزابیت کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور انتہائی بھاری خوراک بھی آسانی سے ہضم ہوجاتی ہے۔ انفلوئنزا۔ سائنس نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ شہد میں قدرتی طور پر ایسے اجزائے ترکیبی شامل ہوتے ہیں جو انفلوئنزا کے جاثیم کو ختم کردیتے ہیں ۔ طویل العمری۔ شہد سے تیار کردہ چائے دارچینی پاؤڈر شامل کرکے پی جائے تو اس سے ذہن کو سکون ملتا ہے اور جسم بھی اطمینان محسوس کرتا ہے ۔تین کپ گرم پانی میں چار چائے کے چمچے شہد اور ایک چائے کا چمچہ پسی ہوئی دارچینی شامل کریں اور اس کی ایک چوتھائی مقدار دن میں تین سے چار مرتبہ پی لیں اس سے آپ کی جلد نرم اور تروتازہ رہے گی اور آپ طویل عرصے تک بےبی اسکن کے مالک رہیں گے۔ کیل و مہاسے۔ ایک چائے کا چمچہ شہد میں چوتھائی چائے کے چمچ پسی ہوئی دارچینی شامل کر کے پیسٹ بنائیں اور کیل مہاسوں پر لگاکر کم ازکم 2 گھنٹے چھوڑ دیں اور پھر نیم گرم پانی سے منہ دھولیں یہ عمل دو ہفتے تک روزآنہ کریں تو مہاسے کم ہوجائیں گے۔ جلد کا انفیکشن۔ ایگزیما اور اس جیسے دوسرے جلدی امراض کا علاج متاثرہ جگہوں پر برابر کی مقدار میں شہد اور دارچینی کا پیسٹ لگا کر کیا جاسکتا ہے۔ دانت کا درد ایک چائے کے چمچ شہد میں آدھا چمچہ پسی ہوئی دارچینی ملا کر دانت برش کریں یہ عمل دن میں تین مرتبہ کریں دانت کا درد ٹھیک ہوجائے گا۔ معدے کی جلن شہد اور دار چینی کا باہم استعمال معدت کی جلن اور خرابی کے علاوہ معدے کے السر کو دور کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے
  23. چینی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک ایسا روبوٹک ہاتھ بنایا ہے جسے آپ انٹرنیٹ کے ذریعے استعمال کرتے ہوئے اپنے عزیز کا ہاتھ تھام یا چھو سکیں گے۔ ہزاروں میل کے فاصلے کے باوجود بھی انٹرنیٹ کے ذریعے آپ اپنوں کو دیکھ اور ان سے باتیں تو کرہی سکتے ہیں مگر چینی سائنسدانوں کے مطابق بہت جلد آپ انہیں چھو بھی سکیں گے۔ محققین کے مطابق اس نئی ایجاد سے انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک انقلاب آجائےگا چائنیز یونیورسٹی کے محققین کا تیار کردہ کلائی پر باندھنے والا ایک مخصوص بینڈ جسے سائبر ہینڈ کا نام دیا گیا ہے کسی فرد کے مسلز یعنی پٹھوں کی حرکت کو بذریعہ کمپیوٹر الیکٹریکل سگنلز کے طور پر انٹرنیٹ کو بھیج سکتا ہے۔ دوسرے سرے پر موجود ایک روبوٹک ہاتھ ان سگنلز کو استعمال کرتے ہوئے وہی حرکت کرتا ہے جو اس فرد نے کی ہو۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کلائی پر باندھنے والا مخصوص بینڈ فی الحال دس مختلف طرح کی حرکات کو پہچان سکتا ہے، مگر انہیں یقین کے ہے کہ بہت جلد یہ کسی بھی ہاتھ سے کی جانے والی تمام حرکات کو پہچان کر انہیں الیکٹرک سگنلز میں تبدیل کرسکے گا۔ اور یوں کوئی بھی فرد انٹرنیٹ کے ذریعے ہزاروں میل دور موجود اپنے عزیز کے ہاتھوں کےلمس کو محسوس کر سکےگا

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.