Everything posted by Khan-Baba
-
تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ
تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ احمد فراز تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ دم بہ دم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو کرۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
-
جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے
جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے احمد فراز جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے لوگ آرام سے سوئے ہوں گے بعض اوقات بہ مجبوریٔ دل ہم تو کیا آپ بھی روئے ہوں گے صبح تک دست صبا نے کیا کیا پھول کانٹوں میں پروئے ہوں گے وہ سفینے جنہیں طوفاں نہ ملے ناخداؤں نے ڈبوئے ہوں گے رات بھر ہنستے ہوئے تاروں نے ان کے عارض بھی بھگوئے ہوں گے کیا عجب ہے وہ ملے بھی ہوں فرازؔ ہم کسی دھیان میں کھوئے ہوں گے
-
شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو
شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو احمد فراز شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو میں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو جو زہر پی چکا ہوں تمہیں نے مجھے دیا اب تم تو زندگی کی دعائیں مجھے نہ دو یہ بھی بڑا کرم ہے سلامت ہے جسم ابھی اے خسروان شہر قبائیں مجھے نہ دو ایسا نہ ہو کبھی کہ پلٹ کر نہ آ سکوں ہر بار دور جا کے صدائیں مجھے نہ دو کب مجھ کو اعتراف محبت نہ تھا فرازؔ کب میں نے یہ کہا ہے سزائیں مجھے نہ دو
-
سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی
سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی احمد فراز سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی دل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جنبش نہیں کی اہل محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا میں بھی خاموش رہا اس نے بھی پرسش نہیں کی جس قدر اس سے تعلق تھا چلا جاتا ہے اس کا کیا رنج ہو جس کی کبھی خواہش نہیں کی یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی اک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا اس پہ محفل میں صراحی نے بھی گردش نہیں کی ہم کہ دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیں ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی اے مرے ابر کرم دیکھ یہ ویرانۂ جاں کیا کسی دشت پہ تو نے کبھی بارش نہیں کی کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لیے مقتل شہر میں ٹھہرے رہے جنبش نہیں کی وہ ہمیں بھول گیا ہو تو عجب کیا ہے فرازؔ ہم نے بھی میل ملاقات کی کوشش نہیں کی
-
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم احمد فراز اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو نہ تھی اے شب فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فرازؔ ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بھی رلائیں ہم
-
اداس تم بھی ہو یارو اداس ہم بھی ہیں
گزر گئے کئی موسم کئی رتیں بدلیں اداس تم بھی ہو یارو اداس ہم بھی ہیں فقط تم ہی کو نہیں رنجِ چاک دامانی جو سچ کہیں تو دریدہ لباس ہم بھی ہیں تمہارے بام کی شمعیں بھی تابناک نہیں میرے فلک کے ستارے بھی زرد زرد سے ہیں تمہارے آئینہ خانے بھی زنگ آلودہ میرے صراحی و ساغر بھی زرد زرد سے ہیں نہ تم کو اپنے خدو خال ہی نظر آئیں نہ میں یہ دیکھ سکوں جام میں بھرا کیا ہے بصارتوں پہ وہ جالے پڑے کہ دونوں کو سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ ماجرا کیا ہے نہ سرو میں وہ غرورِ کشیدہ قامتی ہے نہ قُمریوں کی اداسی میں کوئی کمی آئی نہ کھل سکے دونوں جانب محبتوں کے گلاب نہ شاخِ امن لیے فاختہ کوئی آئی تمہیں بھی ضد ہے کہ مشق ستم رہے جاری ہمیں بھی ناز کہ جور و جفا کے عادی ہیں تمیں بھی زعم کہ مہا بھارتاں لڑیں تم نے ہمیں بھی فخر کہ ہم کربلا کے عادی ہیں ستم تو یہ ہے کہ دونوں مرغزاروں سے ہوائے فتنہ و بوئے فساد آتی ہے الم تو یہ ہے کہ دونوں کو وہم ہے کہ بہار عدو کے خوں میں نہانے کے بعد آتی ہے سو یہ حال ہوا اس درندگی کا اب شکستہ دست ہو تم بھی شکستہ پاء میں بھی سو دیکھتا ہوں تم بھی لہو لہان ہوئے سو دیکھتے ہو سلامت کہاں رہا میں بھی ہمارے شہروں کی مجبور بے نوا مخلوق دبی ہوئی ہے دکھوں کے ہزار ڈھیروں میں اب ان کی تیرہ نصیبی چراغ چاہتی ہے یہ لوگ نصف صدی تک رہے اندھیروں میں بہت دنوں سے ہیں ویراں رفاقتوں کے دیار بہت اداس ہیں دیر و حرم کی دنیائیں چلو کہ پھر سے کریں پیار کا سفر آغاز چلو کہ پھر سے ہم ایک دوسرے کے ہو جائیں تمہارے دیس میں آ یا ہوں اب کے دوستو نہ ساز و نغمہ کی محفل نہ شاعری کے لئے اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لئے
-
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں - احمد فراز
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں تو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اسکو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اسکی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اسکو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اسکو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اسکی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے سو اسکو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اسکی جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا سو راہ روانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں رکے تو گردشیں اسکا طواف کرتی ہیں چلے تو اسکو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی اگر وہ خواب ہے تو تعبیر کر کے دیکھتے ہیں اب اسکے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کرجائیں فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں احمد فراز
-
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے با ہزاراں اضطراب و صد ہزاراں اشتیاق تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے بار بار اُٹھنا اسی جانب نگاہ ِ شوق کا اور ترا غرفے سے وُہ آنکھیں لڑانا یاد ہے تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہو جانا مرا اور ترا دانتوں میں وہ انگلی دبانا یاد ہے کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً اور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے جان کرسونا تجھے وہ قصد ِ پا بوسی مرا اور ترا ٹھکرا کے سر، وہ مسکرانا یاد ہے تجھ کو جب تنہا کبھی پانا تو ازراہِ لحاظ حال ِ دل باتوں ہی باتوں میں جتانا یاد ہے جب سوا میرے تمہارا کوئی دیوانہ نہ تھا سچ کہو کچھ تم کو بھی وہ کارخانا یاد ہے غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف وہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے آ گیا گر وصل کی شب بھی کہیں ذکر ِ فراق وہ ترا رو رو کے مجھ کو بھی رُلانا یاد ہے دوپہر کی دھوپ میں میرے بُلانے کے لیے وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے آج تک نظروں میں ہے وہ صحبتِ راز و نیاز اپنا جانا یاد ہے،تیرا بلانا یاد ہے میٹھی میٹھی چھیڑ کر باتیں نرالی پیار کی ذکر دشمن کا وہ باتوں میں اڑانا یاد ہے دیکھنا مجھ کو جو برگشتہ تو سو سو ناز سے جب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ہے چوری چوری ہم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ مدتیں گزریں،پر اب تک وہ ٹھکانہ یاد ہے شوق میں مہندی کے وہ بے دست و پا ہونا ترا اور مِرا وہ چھیڑنا، گُدگدانا یاد ہے با وجودِ ادعائے اتّقا حسرت مجھے آج تک عہدِ ہوس کا وہ فسانا یاد ہے حسرت موہانی
-
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں منیر نیازی
-
تم اتنا جو مسکرا رہے ہو
تم اتنا جو مسکرا رہے ہو کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو آنکھوں میں نمی ہنسی لبوں پر کیا حال ہے کیا دکھا رہے ہو بن جائیں گے زہر پیتے پیتے یہ اشک جو پیتے جا رہے ہو جن زخموں کو وقت بھر چلا ہے تم کیوں انہیں چھیڑے جا رہے ہو ریکھاؤں کا کھیل ہے مقدر ریکھاؤں سے مات کھا رہے ہو کیفی اعظمی۔
-
کیسے بتاوںمیں تمہیں، میرے لیئے تم کون ہو
کیسے بتاوْں میں تمہیں، میرے لیئے تم کون ہو تم دھڑکنوں کا گیت ہو، جیون کا تم سنگیت ہو تم زندگی، تم بندگی، تم روشنی، تم تازگی، تم ہر خوشی، تم پیار ہو، تم پریت ہو، من میت ہو آنکھوں میں تم، سانسوں میں تم آہوں میں تم، نیندوں میں تم خوابوں میں تم، تم ہو میری ہر بات میں تم ہو میرے دن رات میں تم صبح میں، تم شام میں تم سوچ میں، تم کام میں میرے لیئے پانا بھی تم، میرے لیئے کھونا بھی تم میرے لیئے ہنسنا بھی تم، میرے لیئے رونا بھی تم اور جاگنا سونا بھی تم، جاوْں کہیں، دیکھوں کہیں تم ہو وہاں تم ہو وہیں کیسے بتاوْں میں تمہیں، تم بن تو میں کچھ بھی نہیں کیسے بتاوْں میں تمھیں میرے لیے تم کون ہو یہ جو تمہارا روپ ہے، یہ زندگی کی دھوپ ہے چندن سے ترشا ہے بدن، بہتی ھے جس میں اک اگن یہ شوخیاں ،یہ مستیاں، تم کو ہواوْں سے ملیں زلفیں گھٹاوْں سے ملیں، ہونٹوں میں کلیاں کھل گئیں آنکھوں کو جھیلیں مل گئیں چہرے میں سمٹی چاندنی، آواز میں ہے راگنی شیشے کے جیسا انگ ہے، پھولوں کے جیسا رنگ ہے ندیوں کی جیسی چال ہے، کیا حسن ہے کیا حال ہے یہ جسم کی رنگینیاں، جیسے ہزاروں تتلیاں تمہارے جسم کا یہ لمس، یہ نگریاں ہیں خواب کی کیسے بتاوْں میں تمہیں، حالت دل بیتاب کی کیسے بتاوْں میں تمہیں میرے لیے تم کون ہو کیسے بتاوْں میں تمہیں، میرے لیئے تم دھرم ہو، میرے لیئے ایمان ہو تم ہی عبادت ہو میری، تم ہی تو چاہت ہو میری تم ہی میرا ارمان ہو، تکتی ہوں میں ہو پل جسے، تم ہی تو وہ تصویر ہو تم ہی میری تقدیر ہو تم ہی ستارا ہو میرا، تم ہی نظارا ہو میرا کس حال میں میرے ہو تم، جیسے مجھے گھیرے ہو تم پورب میں تم، پچھم میں تم اتر میں تم، دکھن میں تم سارے میرے جیون میں تم ہر پل میں تم، ہر چھل میں تم میرے لیئے رستہ بھی تم، میرے لیئے منزل بھی تم میرے لیئے ساگر بھی تم، میرے لیئے ساحل بھی تم میں دیکھتی تو تم کو ہوں، میں سوچتی تو تم کو ہوں میں جانتی تو تم کو ہوں، میں مانتی تو تم کو ہوں تم ہی میری پہچان ہو کیسے بتاوْں میں تمہیں دیوتا ہو تم میرے لیے میرے لیئے بھگوان ہو کیسے بتاوْں میں تمہیں میرے لیے تم کون ہو
-
براہ کرم توجہ فرمائیں! اپنی تصدیق مکمل کریں۔
done it and posted it
-
*`~`*اردو فن کلب فورم رولز*`~`*
جناب اس فورم کے اصول دیکھ کر مسرت ہوئی، شکریہ زرا انسیسٹ کی وضاحت کر دیں، کیا اس میں ہر ایک رشتہ ہی شامل ہے؟ یا صرف خونی رشتے!!! خان- بابا