Everything posted by Khan-Baba
-
حملوں کا مقابلہ اور فورم کی سالمیت
بہت خوب اردو فن کلب کے تمام محافظوں کا بہت بہت شکریہ اور مبارکباد۔ ازراہ تفنن- کہیں رافئیل کے گرانے کا بدلہ تو نہیں لینے کی کوشش کی گئی۔ کاوشیں جاری رکھیں ہم سب ساتھ ساتھ ہیں۔
-
آنگن کی چڑیاں - مکمل
آنگن کی چڑیاں۔ خزاں کے زرد پتون کو،جھونکے ہوا نے درختون سے ہی اتار دیا۔۔ تھی نشیمن کی روشنیان جنکو، زمانے کے تھپیڑون مین لہرا دیا۔ گھر کا سارا آنگن کیکر کے پتوں سے نہا گیا، تیزی سے دائیں بائیں ٹہلتے وجود کے قدموں میں تهوڑی لرزش آئی، دل بھی انہی زرد پتوں کی مانند کانپے جا رہا تھا۔ ارےےےمبارک ہو اس بار بیٹا ہوا ہے۔ کمرے کا دروازہ کھول کر اماں باہر نکلی، اس کی آواز میں محسوس کی جانے والی اُمڈتی خوشی تهی، حیات عالم کا وجود بے یقین آنکهیں لیے کهڑا تها۔ رنگین خوشنما چڑیوں کا ایک غول اڑا تها آسمان پر۔ سات بیٹیوں کے پیدا ہونے کے بعد بیٹا، برسوں سے صحرا میں بھٹکتے اس مسافر کو پانی کی بوندیں نصیب ہو ہی گئیں، باپ بننے کا احساس منفرد ہوتا ہے اور سات بیٹیوں کے بعد نرینہ اولاد کا ان کے آنگن میں اترنا گویا چاند ان کے گهر میں اتر آیا ہو۔ اکلوتے بیٹے کی محبت سات بیٹیوں کی محبت کو مات دے گئی دونوں ترازو میں محبت رکهی گئی۔تو بیٹے کی محبت بهاری نکلی ۔ سویرے سویرے اپنے چاند کو کاندهے پر لاد کر وہ کهیتوں میں کام کے لیے نکل جاتے ساتوں لڑکیاں دروازے کی اوٹ میں کهڑی ہو کر رشک بهری نگاہوں سے اپنے باپ کو دیکهتیں۔۔ "ہم بھی ابا کے ساتھ کهیتوں میں جائیں گی " ساتوں ہی باری باری اپنے دل کی بات اماں دادی کے سامنے اگل چکی تهیں ۔ جسے سن کرخوب قہقہہ بلند ہوا اور پھر بلند ہوتا گیا ساتوں شام کی اداسی کو آنکهوں میں لیے فلک شگاف قہقہے چارون طرف سن رہی تهیں ۔ ارےےے اب کڑیاں کهیتوں میں جائیں گی۔اور وہان اپنے ابا کا ہاتھ بٹائیں گی " دادی نے آٹا گوندتی اماں کو مخاطب کیا ان کا بھی جواباً قہقہہ ہی سننے کو ملا ۔ ارےے بیٹا کڑیوں کا کام ہوتا ہے چولہا چونکا کڑی اور منڈے کبهی برابر نہیں ہو سکتے ۔ دادی نے اب سنجیدگی کا روپ دهار لیا کیوں برابر نہیں ہو سکتے یہ بات تو ساتوں کو کبھی سمجھ مین نہیں آئی ۔ انہین ابا نے محبت نہ دی نہ دینی تهی ساتوں سارا دن آم کے درخت سے جهولا باندھ کر جھولتی رہتیں انہوں نے کئی بار دیکها دادی پهل اور مٹھائیاں بانٹتے وقت نا انصافی کرتی ہیں بهائی کا حصہ ساتوں پر حاوی ہوتا تها ایک دن ایک نے پوچھ ہی لیا دادی ہمین ہی ہر بار چیز کم کیون ملتی ہے اور بھائی کو زیادہ کیون۔؟؟ " کیونکہ وہ منڈا ہے " دادی نے وہی رٹا رٹایا جواب دیا اور ابا بھی کچھ نہ بولے ہر جگہ کڑی اور منڈے کا فرق وہ عید کا دن بهلانے والا تو ہرگز نہیں تها جب ابا اپنے لاڈلے کے لیے تین تین سوٹ بنوا کر لایا تھا اور ساتوں پهٹے پرانے کپڑوں میں نم آنکهیں لیےسبھی بچوں سے اپنی نگاہیں چرا رہی تهیں وقت پهسلتا گیا زندگی کے دن کم ہوتے گئے لیکن کڑی اور منڈے کا فرق کبهی ختم نہیں ہوا ساتوں سکول کی دیواریں کو دیکهتی رہ گئیں ۔مگرابا اور دادی نے اپنے لاڈلے کو خوب پڑهایا بار۔۔۔۔بار کی۔۔۔۔منتون ۔۔۔ترلون۔۔۔پر ۔۔۔کہا " کڑیاں بس گهر کے کام کرتی ہیں ۔۔صرف منڈے ہی پڑهتے ہیں "۔۔ابا نے سختی سے ایک دن کہ دیا ارےےے ہم کیوں نہیں پڑھ سکتیں سب سے چهوٹی والی نے منہ بسور کر کہا جواب ابا کی بجائے دادی سے سننے کو ملا تها " کڑیاں بطخوں کی طرح ہوتی ہیں نہ کبهی اڑ سکتی ہیں اور نہ کبهی اڑان بهر سکتی ہیں اور میرا منڈا تو عقاب ہے دیکهنا ایک دن لمبی اڑان بهرے گا "۔۔ پورے گهر میں زور دار قہقہہ ساتوں لڑکیوں کے روح کو گهائل کر گیا دادی نے انہیں بطخوں کے نام سے نواز دیا جو پورے گهر میں ہی مشہور ہو گیا اب تو پورے گهر میں سب کو " بطخوں کی ٹولی " کے نام سے یاد کیا جاتا راتیں رونے لگی تهیں آسمان سسک رہا تھا بس نہیں پھسلے تو انسانوں کے دل پھر ابا کو ایک بار پیسوں کی ضرورت پڑی ساتوں نے جمع شدے پرانے سکے ابا کے سامنے جا کر رکھ دیے " کڑیاں دهوکہ دے جاتی ہیں ہمیں تم لوگوں سے پیسہ نہیں لینا " بہت کوشش کی دعائیں کیں مگر ابا کے دل پہ لگا تالا نہ کهل سکا ساتوں مل کر ابا کے جوتے پالش کرتیں ان کی پگڑی رگڑ رگڑ کر خوب چمکاتیں ان کے وضو کا لوٹا ہمیشہ تیار رکهتیں بدلے میں ابا نے کبهی انہیں ایک نظر ہمدردی سے بھی نہ دیکھا ہمیشہ کہتے تھے بیٹیاں پرایا دهن ہوتی ہیں ہمارے کس کام کی اب تو عرصہ ہو گیا اب تو عادت ہو گئی پیار بهری نگاہیں ان سے اتنی ہی دور تهیں جتنا کہ چاند دور تها آنگن میں فرش پر لیٹی وہ سبھی آسمان پر چاند کو دیکھ رہی تهیں چاند انہیں دیکھ رہا تھا انہیں چاند پر رشک آیا چاند کو ان پر ترس آیا ایک ایک کر کے گهر کا آنگن خالی ہوتا گیا دادی کی بطخوں نے سفروں کے پیمان باندهنے شروع کیے ابا نے سب کے سروں پر پہلی اور آخری بار ہاتھ پهیرا اور اپنے فرائض سے دستبردار ہو گئے گهر کا آنگن سونا ہو گیا پرندے کبهی لوٹ کر نہ آئے پهر کبهی اس گهر میں بطخوں کی آوازیں نہ آئیں آم کا درخت اداس ہو گیا جهولا ٹوٹ کر زمین پر جا پڑا کسی کو فرق نہیں پڑا اور نہ پڑنا تها رونا دهونا تو اس دن ہوا جب بابا اور دادی کا لاڈلہ ائیر پورٹ پر ہاتھ ہلا کر سب کوالوداع کہہ رہا تھا جس سے دادی روئیں تو پھر روتی ہی چلی گئیں " اماں دو سال کے لئے ہی تو گیا ہے آ جائے گا واپس "۔ بابا نے دادی سے زیادہ ڈھارس اپنے دل کو دی فون پر گهنٹوں بات ہونے لگی تھی گهنٹے منٹوں میں تبدیل ہو گئے اور منٹ سکینڈوں میں " لڑکے کو پیسوں کی ضرورت ہے " دادی نے سب کو خبر سنائی اور پاس پیسے بلکل نہ تهے کیونکہ ادھار پہلے ہی بہت لے چکے تهے ساتوں بہنیں چلی آئیں ابا کا اداس چہرہ نہ دیکھ سکیں کسی نے بالی اتاری کوئی انگوٹھی دینے کے لیے تیار ہو گئی مگر ابا نے بہت غصے سے سب کو دیکها مین " بھکاری نہین ہوں اپنے منڈے کے لیے پیسے کا انتظام ہم خود کریں گے " ساتوں اداس چہرے لیے گهروں کو لوٹ گئیں ابا نے زمین بیچ دی سب کچھ ہاتھ سے جا رہا تها ایک چیز کو پانے میں ایک رشتہ بچانے میں کئی رشتے چهوٹے جا رہے تھے دو سال بیت گئے اس کے آگے کے دن بھی نہ رکے سرکتے گئے دادی دروازہ دیکهتی رہ گئیں خط آتے پرچی آتے مگر اک وہی نہیں آتا " ابا میں نے یہیں پہ ہی ویاہ کر لیا ہے " ایک خط میں اس نے لکها امیدیں دم توڑ گئیں دادی کا دل اس سے زیادہ کام نہ کر سکا اور بند ہو گیا دادی کے موت کے کچھ دن بعد اماں بھی سب سے رخصتی لے گئیں ابا گهر کے آنگن میں تنہا رہ گئے وقت نے انہیں بوڑھا کر دیا آنکهیں بنجر ہو گئیں چمن اجڑ چکا تها اب تو برسوں بہت گئے بیٹیاں آتیں دو چار لمحے باپ کو حوصلہ دیتیں اور شوہروں کے ڈر سے پلٹ جاتیں وہ دن دسمبر کا تها سردی سے درخت بھی کانپ رہے تھے ابا چار پائی پر پڑے صدیوں کے مریض معلوم ہوئے اپنا ماضی ایک فلم کی طرح آنکهوں کے سامنے چلتا ہوا دکهائی دیا ان کی پگڑی برسوں سے نہیں دهلی وضو کا لوٹا پهر کبهی تیار نہ ملا ساتوں بطخوں کے گھر سے چلے جانے سے رت ہی بدل گیا پھراچانک اندهیرےمیں روشنی آئی وہ ساتوں چلی آئیں ایک نے پگڑی دهو دی دوسری دوا کهلانے لگی ابا نے ساتوں کی آنکھوں میں دیکها جن میں پوشیدہ سا ایک شکوہ تها انہوں نے کبهی شکوہ کیا نہ عمر بھر کے کسی فعل کو جتایا پهر بھی ابا کی بوڑھی آنکهوں نے سب پڑھ لیا "۔ ابا ہم تو پرایا دهن ہیں آپ کا اپنا دهن کہاں ہے " ابا چارپائی پر لیٹے تهے ساتوں پاس بیٹهی تهیں ابا نے سب کے سر پر ہاتھ رکها ان کی آنکهیں رونے لگیں " دیکها ابا کڑیاں کبهی دهوکہ نہیں دیتیں ہمیشہ منڈے ہی دهوکہ دے جاتے ہیں " عقاب ہمیشہ اڑ جاتے ہیں بطخیں گهر میں ہی رہ گئیں ابا پهوٹ پهوٹ کر رو پڑے مجهے' اولڈ ایج ہوم ' میں ڈال دو وہ ساتوں سے نگاہیں چراتے ہوئے لرزتے ہونٹوں سے بولے آم کے زرد پتے آنگن میں آن گرے ساتوں کانپ اٹهیں وہ بیٹے ہوتے ہیں جو والدین کو ' اولڈ ایج ہوم ' میں پهینک آتے ہیں بیٹیاں کبهی ایسا نہیں کر سکتیں اگر والدین کو اپنے پاس رکهنے کا اختیار حوا کی بیٹیوں کو دیا جاتا تو دنیا میں کوئی ایک بھی ' اولڈ ایج ہوم ' نہیں ہوتا ۔ وہ نظریں چرا گئے نظریں ملانے کے قابل ہی نہیں رہے تهے " یوں تو مجهے اپنی محبت کے زیرِ بار نہ کرو " ساری زندگی ریت کا ایک ڈهیر بن گیا پروردگار کی دی ہوئی رحمتوں کی قدر نہ کر سکا نفرت کرتے وقت یہ بھی بهول گیا۔ پروردیگار نے جنت بھی تو عورت کے قدموں میں رکھ دی محبت کا قرض بڑا تها بہت بڑا وہ اس بوجھ تلے دب گئے سانس تهم گئی دل کی دهڑکن مزید کام نہیں کر سکی سات بطخوں کی چیخوں سے محلہ گونج اٹها آسمان رو رہا تھا آم کے درخت سے آنسو ٹپکنے لگے سب کی آنکهوں میں آنسو تهے لیکن سفید چادر میں ملبوس وہ لاش مسکرا رہا تھا اگر دنیا میں بیٹیاں نہ ہوتیں تو باپوں کے جنازے سناٹوں میں اٹهتے اور ان کے قبروں پر فاتحہ پڑهنے والے کہیں نہیں ہوتے " ہمیشہ عقاب اڑ جاتے ہیں بطخیں آنگن میں ہی رہ جاتی ہیں " ختم شدہ
-
آرزوؤں کی فصل - مکمل
وقت کے ساتھ حالات بدلتے رہتے ہیں۔ آنے والے کل کے بارے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ دادا، دادی کے فوت ہوتے ہی ہمارے پیار کی دنیا میں بھی بھونچال آ گیا، گویا جن دھاگوں میں رشتوں کے موتی پروئے ہوئے تھے وہ ٹوٹ گئے اور خاندان کا شیرازہ بکھر گیا۔ اب جائیداد کے تنازعے نے سر اٹھایا۔ والد صاحب اور چچا جان میں تبھی جدائی پڑ گئی اور ہمارا گھر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ صحن کے بیچ دیوار اٹھا دی گئی۔ بڑوں کے اختلاف کی سزا ہم بچوں کو ملنے لگی۔ ہم جو بچپن سے ایک صحن میں کھیل کر جوان ہوئے تھے ، جدا کر دیئے گئے۔ جائیداد کا تنازعہ برسوں چلا۔ اس دوران میں ، شمل بھائی اور نازو، دکھ اور اذیت کی سولی پر لٹکتے رہے۔ ہمیں آپس میں بات کرنے تک کی اجازت نہ تھی۔ بھائی شمل کی منگنی نازو سے ہو چکی تھی۔ تنازعے کو سولہ سال ہو گئے تو والدہ نے بیٹے کی شادی کسی اور لڑکی سے کرنا چاہی، مگر بھائی کسی صورت راضی نہ ہوئے۔ ہمیں ایک کر دینے کے منصوبے بھی بزرگوں نے بنائے تھے اور اب ہمارے پیار کی جوت کو بجھانے میں بھی وہی پیش پیش تھے۔ نازو نے گھر والوں کی ہر زیادتی جبر اور دبائو کو برداشت کیا لیکن ہتھیار نہ ڈالے ، وہ کسی اور سے شادی پر آمادہ نہ ہوئی۔ اسے یقین تھا کہ تنازعہ ختم ہو جائے گا اور ہم ایک ہو جائیں گے۔ ہماری دعائیں قبول ہوئیں ، سارے جھگڑے سمٹ گئے۔ قدرت نے خود ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ ٹوٹے ہوئے رشتے تجدید پاگئے اور ناز و اور شمل بھائی کی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ سوکھے دھانوں پانی پڑ گیا۔ امیدوں کی خزاں رسیدہ کھیتی لہلہانے لگی۔ نازو بھا بھی بن کر ہمارے گھر آگئی۔ برسوں کی اذیت ختم ہوئی اور بھائی کی زندگی خوبصورت سپنے میں ڈھل گئی۔ نازو کی قسمت اچھی تھی کہ اس سے شادی ہونے کے بعد شمل بھائی کے کاروبار میں خوب ترقی ہوئی۔ ہم نے بنگلہ بنالیا اور گاڑیاں بھی خرید لیں۔ نازو کی زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں تھیں، کوئی کمی تھی تو بس یہ کہ ہمارا آنگن کسی معصوم بچے کی کلکاریوں کے بغیر سونا سونا تھا لیکن ہم قدرت سے نا امید نہ تھے کہ پروردگار کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں ۔ چار سال تو انتظار میں نکل گئے۔ اب امی بہو کو لے کر ڈاکٹروں کے پاس پھرنے لگیں، علاج معالجے ہوئے، سبھی ڈاکٹر ز کہتے کہ ان میں کوئی طبی نقص نہیں ہے۔ قدرت کی طرف سے دیر ہے۔ کسی نہ کسی دن آپ لوگوں کی امید بر آئے گی اور ان کی گود ہری ہو جائے گی۔ہم بھی اسی امید پر جی رہے تھے ، یہاں تک کہ بھائی کی شادی کو سات برس گزر گئے اور آرزوؤں کی فصل خشک ہی رہی۔ نازو بھابھی نے بھی امید کا دامن چھوڑ دیا۔ کہتیں، انعم اتنے برس اولاد نہ ہوئی تو اب کیا ہو گی۔ شاید یہ خوشی ہماری قسمت میں نہیں… اس نے علاج معالجہ کرانا بھی ترک کر دیا۔ جب سے وہ ناامید ہوئی، اس کو گھُن لگ گیا۔ ہر وقت چپ چپ رہتی۔ اولاد کی کمی تو بھائی بھی محسوس کرتے تھے لیکن وہ مرد تھے ، ان کے لئے باہر کی بھری پُری دنیا موجود تھی۔ وہ سارا دن باہر گزار کر گھر آتے ، کھانا کھاتے اور نیند کی آغوش میں چلے جاتے لیکن نازو گھر میں اکیلی رہنے کی وجہ سے تنہائی کے عذاب سے دوچار تھی۔ وہ اب گھر کی دیواروں سے باتیں کرتی تھی۔ میری شادی ہو گئی تھی میں اپنے گھر اور بال بچوں میں مصروف تھی۔ اولاد کی پیاس بھی کیا چیز ہے یہ تو کوئی ممتا سے پوچھے جبکہ امی جان کو بھی آنگن کا سونا پن کا کاٹنے کو دوڑتا تھا۔ نازو کو گھل گھل کر مرتے دیکھ شمل بھائی بھی فکر مند رہنے لگے۔ سوچا اس کا کوئی حل نکالنا چاہئے۔ میں نے کہا۔ آپ لوگ کسی بچے کو گودے لے لیں۔ اس پر ناز و بولی۔ کس کا بچہ ؟ کون ماں ہو گی جو اپنی گود خالی کر کے میری جھولی بھر دے۔ اس کا کہنا درست تھا۔ ہم کافی دن تک اسپتالوں، یتیم خانوں اور لاوارثوں کے نشیمن میں مارے مارے پھرے مگر ہمیں کوئی ایسا بچہ نہ ملا جس کو ہم گود لے سکتے۔ اس روز ہم نازو کی خالہ کے گھر جارہے تھے، جنہوں نے نویں بچی کو جنم دیا تھا۔ ان کے میاں کی تنخواہ اتنی کم تھی کہ وہ اپنے بچوں کو پیٹ بھر کھانا نہیں کھلا سکتی تھیں۔ غربت کے سبب آدھے پیٹ بھو کے رہتے تھے۔ یہ قدرت کی شان کہ جہاں بچوں کی ضرورت نہ تھی، وہاں یہ نعمت برس رہی تھی اور ایک ہم تھے کہ ہمارے بھائی اور بھا بھی ایک بچے کو ترس رہے تھے۔ صبح کا وقت تھا۔ ٹریفک کا ہلکا ہلکارش تھا۔ ہماری گاڑی آہستہ رفتار سے چل رہی تھی۔ نازو میرے ساتھ بیٹھی تھی۔ اچانک سامنے والی گلی سے دو بچے نکلے اور سڑک پر آگئے۔ صبح کے وقت ہر کسی کو اپنی منزل پر پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے لیکن اس ویگن والے کو کچھ زیادہ جلدی تھی، اس نے ہماری گاڑی کو اوور ٹیک کیا اسی لمحے بچے دوڑتے ہوئے ویگن کے عین سامنے آگئے۔ میری بھابھی ان بچوں کی معصوم صورتوں کو دیکھ رہی تھی۔ وہ ان کی معصومیت میں کھوئی ہوئی تھی کہ اچانک ان کی خوفزدہ چیخیں فضا میں بلند ہوئیں۔ نازو نے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ لئے۔ وہ یہ نظارہ نہیں دیکھ سکیں ۔ ویگین ان پھولوں کو روند کر جا چکی تھی اور اب سڑک پر خون ہی خون بکھر اہوا تھا۔ لمحہ بھر کو شمل بھائی نے گاڑی روکنا چاہی مگر اطراف سے لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہونے لگا تو انہیں گاڑی آگے بڑھانا پڑی۔ میں جانتی تھی کہ نازو اس معاملے میں کتنی حساس ہے لہذا بھائی نے یہی مناسب سمجھا کہ جائے حادثہ کے قریب رکنے سے بہتر ہے ، گاڑی کو آگے لے جائیں۔ وہ وہاں ٹھہر جاتے تو یقین تھا نازو ہی کو اسپتال میں داخل کروانا پڑتا۔ اس کی آنکھوں سے ابھی تک آنسو بہہ رہے تھے اور وہ بڑ بڑارہی تھی۔ آہ! کتنے پیارے بچے تھے ، کتنے پیارے ، خوبصورت تھے۔ ماں نے چائو سے ، بال سنوار کر اور اجلے یونیفارم پہنا کر انہیں اسکول روانہ کیا تھا۔ اس روز ہم خالہ کے گھر جانے کی بجائے رستے سے ہی مڑ کر واپس آگئے کیونکہ اس بھیانک حادثے کو دیکھ کر ہم لوگوں کی حالت نارمل نہ رہی تھی۔ ناز و تو گھر آتے ہی بستر پر گر گئی تھی۔ اس کے بعد بھی کافی دن افسردہ رہی۔ اس کی نگاہوں میں انہی بچوں کی شکلیں گھومتی رہتی تھیں۔ یہ جمعہ کا دن تھا۔ اس روز چھٹی تھی۔ میں نے پوچھا۔ تم خالہ کی بچی کو گودے لے رہی تھیں ، اس پروگرام کا کیا بنا؟ وہ بولی۔ چلو آج چلتے ہیں، ہم سب تیار ہو کر خالہ کے گھر چل دیئے۔ ان کی پیاری سی منی کو گود میں بھر کر وہ اتنی مسرور ہوئی کہ دنیا کا ہر غم بھول گئی۔ خالہ آپ کیا کہتی ہیں، میں آج لے جائوں اس کو ؟ آج نہیں نازو۔ آج اس کو بخار چڑھا ہے ، اس کی طبیعت اچھی نہیں، تم سے سنبھالی نہ جائے گی۔ ذرا اس کی طبیعت ٹھیک ہو جائے پھر لے جانا۔ نازو بجھ گئی۔ اس نے پوچھا۔ پھر کب خالہ ! ایک ماہ بعد ۔ خالہ نے جواب دیا۔ واپسی میں نازو ٹوٹے ہوئے لہجے میں مجھ سے پوچھ رہی تھی۔ جانے ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ کہیں تو اتنے بچے کہ ماں باپ انہیں پیٹ بھر کھلا نہیں سکتے اور نہیں ہم جیسے ترس رہے ہیں۔ نازو صبر کرو۔ پروردگار بہتر کرے گا۔ بس دعا کرو کہ وہ ہم کو کسی آزمائش میں نہ ڈالے۔ ہم ایسے ہی ٹھیک ہیں۔ میں نے اس کا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں لے کر دبایا۔ اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ ہیں اس کے دل کی کسک کو محسوس کر سکتی تھی۔ میں نے کہا۔ تم افسردہ مت رہا کرو۔ میں تم کو اداس دیکھ کر بے چین ہو جاتی ہوں۔ وہ بولی۔ میں چھوٹی سی تھی، تب بھی اداس رہتی تھی۔ تم بہنیں آپس میں کھیلتیں، تو سوچتی تھی کہ کاش میری بھی کوئی بہن ہوتی۔ تب ہی سے میری اداس رہنے کی عادت بن چکی ہے۔ میں تب بھی تنہا تھی اور آج بھی تنہا ہوں۔ چھوٹے بہن بھائی کو وہی جھولا جھلانے کی آرزو ہے جو نہیں ملتی۔ نازو چچی کی اکلوتی بچی تھی وہ شروع سے تنہا رہی اور اب اس کا کڑھنا بجا تھا۔ پہلے میں ، پھر شمل بھائی اس کی تنہائی کے ساتھی بنے لیکن اس کے ممتا بھرے ارمانوں کی تسکین ابھی باقی تھی۔ میں نے اس کی جانب دیکھا وہ آنچل سے اپنے آنسو صاف کر رہی تھی شاید خالہ کے گھر سے خالی ہاتھ لوٹ آنے کا اس کو بہت دکھ پہنچا تھا۔ میں نے کہا۔ ناز و میری جان! اس قدر دل شکستہ نہ ہو،مالک سے اچھی امید رکھو۔ یہ دنیا امید پر قائم ہے۔ اس واقعہ کے پندرہ دن بعد خالہ اور خالو منی کو لے کر ہمارے گھر آ گئے۔ اس روز نازو کتنی خوش ہوئی تھی کیا بتائوں، جیسے اس کے لئے عید کا دن ہو۔ وہ خوشی سے پھولی نہیں سماتی تھی۔ منی کو اپنی بانہوں میں بھر کے سارے گھر میں ایسے گھوم رہی تھی، جیسے تمام جہان کی نعمتیں اسے مل گئی ہوں۔ خالہ کچھ ہدایتیں اور بیٹی نازو کے حوالے کر کے چلی گئیں ۔ اب نازو بیگم کو ہماری پرواہ کب رہی تھی۔ سارا دن وہ منی میں کھوئی رہتی۔ اس کا نام اس نے جانم رکھ دیا تھا۔ یہ گڑیا تھی چھوٹی سی ، مگر آفت کی پر کالا تھی۔ نازو فیڈر دھو کر دودھ بناتی، اس کے منہ کو لگاتی وہ دو گھونٹ لے کر فیڈر پرے کر دیتی اور زور زور سے چلانے لگتی، جیسے اسے پتا چل جاتا ہو کہ یہ ہاتھ اس کی ماں کے نہیں ہیں۔ تمام دن وہ نازو کے ساتھ یو نہی آنکھ مچولی کھیلتی اور بھا بھی جی کی سمجھ میں کچھ نہ آتا کہ اس بچی کو بھوک لگی ہے یاں پیٹ درد سے بے حال ہے منٹ منٹ پر نیپکن گیلے کر دیتی جانے ، دن میں کتنے کپڑے گندے کرتی۔ کبھی الٹی کر دیتی، کبھی کبھی تو نازو کو ابکائیاں آجاتیں لیکن کیا کرتی، جب بچی گود لی تھی تو اس کو پالنا ہی تھا۔ کوئی اچھی ، کام کی آیا بھی نہ مل رہی تھی۔ ایک ماہ اسی طرح گزر گیا خالہ بچی کو دیکھنے آگئیں۔ آتے ہی ہائے ہائے کرنے لگیں۔ ارے یہ کیا کر دیا اور یہ کیا کر رہی ہو۔ بچے ایسے پالے جاتے ہیں بھلا؟ غرض خالہ تو ٹھہریں بچوں کے معاملے میں ایکسپرٹ ، انہوں نے بچاری اناڑی بھانجی کو بوکھلا کر رکھ دیا۔ وہ شام تک رہیں، جب تک کہ نازو کا ان کی ہدایتوں سے سانس نہیں پھول گیا۔ اب خالہ دوسرے تیسرے دن کسی انسپکٹر کی طرح معائنہ کرنے اچانک ہی ہمارے گھر وارد ہونے لگیں۔ ایک تو سارے کھر کا کام ، اوپر سے اس ننھی منی سی جان کی پرورش اور خالہ کی چیکنگ، نازو چند ماہ میں سوکھ کر کانٹا ہو گئی۔ اس کی پہلی جیسی صورت نہ رہی۔ رات بھر بچی کے ساتھ جاگتی تو صبح آنکھوں میں حلقے پڑے ہوتے۔ شمل بھائی بھی اپنی بیوی کے بارے پریشان رہنے لگے لیکن نازو گڑیا سے اتنی مانوس ہو چکی تھی کہ اس سے جدا ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ رات کو سونے کے لئے لیٹتی تو جوڑ جوڑ دکھ رہا ہوتا۔ صبح چار بجے ہی بچی جاگ پڑتی اور رونا شروع کر دیتی۔ اس دن تو غضب ہو گیا۔ خالہ کے سامنے ہی منی کسی طرح کھسکتی کھسکتی پلنگ سے نیچے لڑھک گئی۔ ہلکی سی ٹھاہ ہوئی اور منی کی فلک شگاف چیخ بلند ہو گئی۔ نازو بھابھی باورچی خانے میں خالہ کے لئے چائے بنارہی تھی۔ حالانکہ خالہ گڑیا سے چند قدم کے فاصلے پر ہی براجمان تھی مگر گرتے ہوئے بچی نے کسی کو مہلت ہی نہ دی۔ خالہ نےلپک کر بچی کو قالین پر سے اٹھایا کلیجے سے لگایا اور دھاڑنے لگیں۔ تم میری پھول کی بیٹی کی کیسی پرورش کرتی ہو۔ یہ تک تم کو خبر نہیں کہ اتنے چھوٹے بچوں کو پلنگ۔ ک کے کنارے پہ نہیں لٹاتے ۔ ہائے روزانہ یہ معصوم جانے کتنی بار کرتی ہو گی۔ منی بھی ایسی استاد کہ گلا پھاڑ کر چلارہی تھی حالانکہ قالین پر گرنے سے چوٹ کم لگتی ہے مگر اس بچی کا مزاج بھی شاید اپنی ماں پر گیا تھا، جو رائی کو پہاڑ بنانے میں استاد تھیں۔ خالہ یہ روز تو نہیں گرتی ، بس آج ہی گری ہے۔ وہ بھی میں آپ کی خاطر چائے لینے گئی تھی۔ سوچ رہی تھی کہ آپ کمرے میں موجود ہیں ورنہ میں اس کو یوں اکیلا تو نہیں چھوڑتی۔ نازو کسی مجرم کی طرح صفائی پیش کر رہی تھی۔ اس نے لاکھ سمجھایا لیکن خالہ کسی طرح نہ مانیں۔ میں کچھ نہیں جانتی ،اب میں اپنی بچی کو لے کر ہی جائوں گی۔ اس کے بہن بھائی بھی اس کو یاد کرتے ہیں۔ ایسا غضب نہ کیجئے خالہ ، اگر آپ نے اس کو واپس ہی لینا تھا تو دیاہی کیوں تھا۔ بہن غلطی ہو گئی ، بس معاف کر دو، غربت امارت تو پروردگار کی دین ہے مگر اپنی اولاد کو کوئی اس طرح نہیں پھینک دیتا۔ جس نے بچی دی ہے ، وہی اس کا رزق بھی دے گا۔ خالہ نے اک ذرا مہلت نہ دی اور بچی کو کلیجے سے لگائے چلتی بنیں۔ نازو بیچاری منہ دیکھتی رہ گئی۔ جب شمل بھائی گھر آئے تو فیڈر گود میں رکھے بھابھی نازو زار و قطار رو رہی تھیں۔ خالہ بچی لے گئیں۔ وہ دھاڑیں مارنے لگیں۔ بھائی نے تسلی دی سمجھایا کہ خالہ بڑی سیانی عورت ہے۔ چھ ماہ بچی کو تم سے پلوایا، صحت مند ہو گئی تو بیٹی کو لے گئیں۔ ان کا ارادہ شروع سے ہی ایسا تھا۔ تم رومت، صبر کرو ۔ کب تک صبر کروں ؟ اس نے رونا بند نہ کیا تو انہوں نے بھی اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ خوب رو دھو لے گی تو جی ہلکا ہو جائے گا پھر یہ خود ہی چپ ہو جائے گی۔ آخر کار نازو چپ ہو گئی ۔ شاید اُس کا جی ہلکا ہو گیا تھا مگر دل کا بوجھ بڑھ گیا تھا۔ اب اس کی صحت تیزی سے گرنے لگی اور وہ بیمار رہنے لگی تب شمل بھائی ایک روز زبردستی اس کو اسپتال لے گئے ۔ لیڈی ڈاکٹر نے خوش خبری سنائی کہ آپ کی مسز امید سے ہیں، تاہم ان کو کافی احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ ان کا کیس غیر معمولی نوعیت کا ہو گا جس میں بعض دفعہ عورت کی جان کو بھی خطرہ ہوتا ہے۔ اب نازو کے ماں بننے کی خوشی سے زیادہ سب کو اس بات کی فکر تھی کہ پروردگار اس کی جان کو سلامتی دے کیونکہ اسے یکدم بلڈ پریشر ہائی رہنے لگا تھا۔ نازو البتہ بہت خوش تھی اور پھولے نہیں سماتی تھی اس کا چہرہ ، ان دنوں آفتاب کی طرح چمکتا تھا۔ وہ دن بھی آگیا جس کا سارے خاندان کو انتظار تھا۔ ہمارے آنگن میں طویل اور تر سا دینے والی مدت کے بعد خاندان بھر کی آرزو کا پھول کھلنے والا تھا۔ نازو کو ایک ہفتہ پہلے ہی ڈاکٹر ز نے اسپتال میں داخل کر لیا تھا۔ وہ کسی قسم کا رسک لینا نہیں چاہتے تھے۔ وہ اس کو زیر نگرانی رکھے ہوئے تھے۔ تمام تر نگہداشت کے باوجود قدرت نے میرے بھائی کو منتوں مرادوں کے بعد بیٹے جیسی نعمت سے نوازا مگر میری جان سے پیاری بھابی نازو کو ہم سے چھین لیا۔ وہ بچے کو جنم دینے کے بعد چل بسی۔ میرے بھائی کی محبت کا تاج محل چور چور ہو گیا۔ جس نعمت کا اس نے اتنی شدت سے انتظار کیا وہ اس کو ملی بھی تو کس طرح کہ وہ اپنے بچے کو بانہوں میں لینے سے پہلے اس دنیا سے چل بسی۔ نرس نے مجھے اور میرے بھائی کو روتے دیکھا تو وہ بھی رو دی۔ قدرت کے کھیل نیارے ہوتے ہیں۔ آج سوچتی ہوں شاید اسی لئے پروردگار نے ہمیں اتنے عرصے تک اولاد نہیں دی تھی کہ ناز و کچھ عرصہ اور جی لے پھر تو اس کو چلے ہی جانا تھا۔ اس کی موت شاید اس کی زچگی میں واقع ہو نا تھی ، اسی لئے قدرت نے اس کے نصیب کی اولاد دینے میں تاخیر سے کام لیا تھا۔ دعا کرتی ہوں پروردگار میرے اکلوتے بھتیجے اور نازو کی نشانی کو سلامت رکھے ، جسے میں نے گود لے لیا تھا کیونکہ اس کی سوتیلی ماں اسے بہت دکھ دیتی تھی۔ شمل بھائی ہر ہفتہ آتے ہیں اور اپنے بیٹے سے مل جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ میری محبوب بیوی کی نشانی ہے۔ مجبورا والدین کے لئے دوسری شادی کی ہے ورنہ میں تو نازو کے بعد سے خود کو اکیلا ہی محسوس کرتا ہوں۔ مالک ا سے جنت میں جگہ دے وہ یہاں بھی اکیلی تھی اور کیا جانوں کہ وہاں بھی اکیلی ہو۔ (ختم شد)
-
منصور نگر کا خزانہ - مکمل
فرخ ریل کی کھڑکی سے باہر تیز تیز دوڑتے ہوئے درخت، میدان، کھیت دیکھ رہا تھا۔ اس کا ریل سے یہ پہلا سفر تھا۔ دوڑتے بھاگتے منظر اسے بہت اچھے لگ رہے تھے۔ ’’بھیا ! یہ پیلے پیلے کیا سرسوں کے کھیت ہیں ؟‘‘ اس نے پرویز سے پوچھا۔ پرویز اس کا بڑا بھائی کتاب پڑھنے میں اتنا مصروف تھا کہ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ بھیا بھی خوب ہیں۔ اس نے سوچا، ہر وقت پڑھتے ہی رہتے ہیں۔ فرخ خاصا شرارتی اور پیارا لڑکا تھا، کوئی دس سال کا ہو گا۔ کسی وقت نچلانہ بیٹھتا ۔ابو امی کے بغیر پہلی دفعہ یہ لوگ گھر سے دور جارہے تھے۔ فرخ اپنے آپ کو خاصا بڑا محسوس کر رہا تھا۔ اس لئے وہ بہت خوش تھا اور چاہ رہا تھا کہ بھائی بھی اسی طرح خوش ہوں۔ اچانک اسے یاد آیا کہ امی نے ریل میں پڑھنے سے منع کیا تھا۔ ’’مت پڑھیں بھیا۔ ‘‘ فرخ نے کہا۔ ــ’’اونہہ نہہ۔ کیا ہوا؟‘‘ پرویز نے اب بھی کتاب سے نظریں نہیں ہٹائیں تھیں ۔ ’’ریل میں پڑھنا آنکھوں کے لئے مضر ہے۔ ‘‘ فرخ نے کہا۔ ’’ چپ ر ہو۔‘‘ پرویز نے ڈانٹا۔ اور پھر پڑھنے میں مصروف ہو گیا۔ پرویز، فرخ سے پانچ برس بڑا تھا۔ دونوں بھائی ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے، پرویز خاصا سنجیدہ تھا اور پڑھنے کا بے حد شوقین بھی۔ یہ اپنے بھائی کے مقابلے میں خاصا تندرست تھا۔ کتابیں پڑھنے سے اس کی عام معلومات میں بھی کافی اضافہ ہوا تھا۔ پرویز کی طرف سے مایوس ہو کر فرخ اپنی بڑی بہن سائرہ کی طرف مڑا۔ ’’سائرہ باجی! یہ منصور نگر کتنی دور ہو گا۔ ہم وہاں کب پہنچیں گے۔ ‘‘ سائرہ مسکرائی۔ ’’ ابھی تو ہم نے سفر شروع کیا ہے ،کیا تم تھک گئے؟ ‘‘ ’’ نہیں تو۔‘‘ ’’ابو نے بتایا تھا کہ منصور نگر ڈھائی سو کلو میٹر ہے۔ ہم تقریباً پانچ گھنٹے میں وہاں پہنچ جائیں گے ۔ ‘‘ ’’اف ،بھائی کتنا مزا آئے گا۔ ہم لوگ قلعے میں رہیں گے۔ ابو نے تو یہی بتایا تھا کہ وہ بچپن میں منصور نگر کے قلعے میں رہتے تھے۔ــ‘‘ فرخ کی خوشی دیکھنے والی تھی۔ ’’ نہیں، ابو تو شیش محل میں رہتے تھے۔ قلعے میں تو وہ بہت پہلے رہتے تھے۔ جب ابو کے دادا نے شیش محل بنوایا تو یہ لوگ وہیں رہنے لگے ۔‘‘ ’’آپ نے شیش محل دیکھا ہے؟ ‘‘ سائرہ نے کہا ۔’’نہیں! میں کیسے دیکھ سکتی تھی۔ ابو شادی کے بعد کبھی بھی منصورنگر نہیں گئے ۔‘‘ ’’ کیوں کیا انہیں منصور نگر پسند نہیں تھا؟‘‘ فرخ نے پوچھا۔ ’’کیوں نہیں، انہیں اپنے گھر سے بہت محبت تھی۔ مگر دادا جان ان سے ناراض تھے کیوں کہ انہوں نے ان کی مرضی کے خلاف شادی کر لی تھی۔ انہوں نے امی کو منصور نگر آنے سے منع کر دیا تھا اسی وجہ سے ابو پھر کبھی واپس اپنے گھر نہیں گئے۔‘‘سائرہ نے بتایا۔ ’’ اور دادا جان نے بھی کبھی انہیں نہیں بلایا ؟‘‘ فرخ کو افسوس ہوا۔ ’’ نہیں، حالانکہ ابو ان کے اکیلے بیٹے ہیں اور ان کی ساری جائیداد کے وارث بھی وہی ہیں ۔‘‘سائرہ نے کیا۔ ’’ کیا دادا جان بہت امیر ہیں ؟‘‘ فرخ نے پوچھا۔ ’’ ہاں، ان کے پاس بہت ساری زمینیں ہیں۔ لوگ تو ان کو کنور صاحب کہتے ہیں۔ ابو نے منصور نگر کے بارے میں مجھے بہت سی باتیں بتائی ہیں۔ کتناز بر دست محل تھا ،بے شمار نوکر چاکر تھے ،بہت سے گھوڑے تھے، ایک ہاتھی بھی تھا۔ اتنی شان دار زندگی گزارتے تھے وہ۔‘‘سائرہ نے کہا۔ ’’مگر پھر وہ ابو سے کیوں ناراض ہو گئے؟ کیا وہ امی کو پسند نہیں کرتے تھے؟ میرے خیال میں تو امی دنیا میں سب سے اچھی ہیں۔ ‘‘ ’’ نہیں، یہ بات نہیں۔ امی‘ ابو کے خاندان کی نہیں ہیں۔ ابو اس خاندان سے ہیں جو صدیوں سے اس علاقے پر حکمرانی کرتارہا ہے۔ دادا جان کو اپنے نسب پر بڑا فخرہے۔ گوامی کا تعلق ایک بڑے عزت دار علمی گھرانے سے ہے، لیکن دادا جان چاہتے تھے کہ ابو کی شادی ان کے خاندان میں ہو۔ــ‘‘ ’’ تو کیا ہوا؟‘‘ فرخ نے کہا۔ ’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟‘‘ ’’ صدیوں سے ہمارے خاندان کے لوگ دوسرے خاندان میں شادی نہیں کرتے تھے۔ جب دادا جان کو پتہ چلا کہ ابو غیر خاندان میں شادی کرنا چاہتے ہیں تو وہ بہت خفا ہوئے۔ مگر پھر ابو نے چھپ کر امی سے شادی کر لی۔ اور اس کے بعد سے دادا جان ابو سے کبھی نہیں ملے۔ نہ ابوان سے ملنے گئے اور نہ انہوں نے ابو کو بلایا۔ اور اب دادا جان کی طبیعت بہت خراب ہے ایسا لگتا ہے کہ ان کا آخری وقت آگیا ہے۔ اسی لئے انہوں نے ابو کو خط لکھا کہ وہ ان کے بچوں کو دیکھنا چاہتے ہیں، انہیں ان کے پاس بھیج دیں۔ انہوں نے اب بھی امی اور ابو کو نہیں بلایا۔ اسی وجہ سے ہم اکیلے جارہے ہیں ۔ــ‘‘ سائرہ نے فرخ سے کہا۔ ــ’’ دعا کرو اسٹیشن پر کوئی ہمیں لینے آئے ۔‘‘ سائرہ نے پرویز سے کہا۔ ’’ اور اگر کوئی لینے نہ آیا تو ہم خود ہی شیش محل چلے جائیں گے اور وہ لوگ ہمیں دیکھ کر حیران ہو جائیں گے۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ہر گز نہیں! امی نے کہا تھا کہ شیش محل، منصور نگر کے اسٹیشن سے کافی دور ہے ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ ’’ کنور صاحب کی پوتی کو یقینا پیدل نہیں چلنا چاہئے۔ ان کے لئے شاہی بگھی آنی چاہئے ۔ ‘‘پرویز نے مذاق اڑایا۔ ’’ہاں ہاں تم پیدل چلے جانا۔ ہم تو گاڑی پر ہی جائیں گے ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ ٭٭٭٭٭ پانچ گھنٹے اسی طرح باتوں میں گزر گئے۔ پھر منصور نگر آگیا اور گاڑی رک گئی۔ یہ چھوٹا سا اسٹیشن تھا۔ پرویز نے سوٹ کیس اٹھایا، سائرہ نے اپنا بیگ ہاتھ میں لیا۔ فرخ کے ہاتھ میں بھی ایک بیگ تھا اور تینوں ڈبے سے باہر آگئے۔ شام ہو چلی تھی، چراغ جل گئے تھے، انہوں نے ادھر ادھر دیکھا، کوئی ایسا نظر نہ آیا جوانہیں لینے آیا ہو۔ ’’ چلو اسٹیشن سے باہر چلتے ہیں ۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ابھی یہ باہر نکلے ہی تھے کہ ایک جیپ تیزی سے چلتی ہوئی ان کے قریب آکر رکی اور ایک نوجوان لڑکا نیچے اترا۔ ’’میں راشد ہوں، تمہارا چچا زاد بھائی۔ تمہارے پر دادا اور میرے پر دادا سگے بھائی تھے، میں تمہیں لینے آیا ہوں۔‘‘ اس نے ان تینوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔ ’’دادا جان کیسے ہیں ؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔ ’’ان کی طبیعت اچھی نہیں ہے۔‘‘ راشد نے جواب دیا۔ پھر وہ تینوں جیپ میں بیٹھ گئے۔ راشد ان کو لے کر شیش محل روانہ ہو گیا۔ جیپ ہچکولے کھاتی کچی سڑک پر جارہی تھی کہ سامنے ایک قلعہ نظر آیا۔ ’’کتنا بڑا قلعہ ہے؟ یہاں کون رہتا ہے ــ۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ ہم رہتے ہیں۔‘‘ راشد نے کہا۔ تینوں حیرت سے اس کا منہ دیکھنے لگے۔ ’’ہاں، ہم لوگ اس قلعے میں رہتے ہیں ۔ بڑے ابا بھی پہلے یہیں رہتے تھے، پھر وہ اپنے نئے محل میں چلے گئے۔ ہمارے دادا جان یہیں رہتے رہے، پھر ان کا انتقال ہو گیا تو ہم بھی یہیں رہے۔‘‘ ’’ قلعے میں رہنا بڑا عجیب سا لگتا ہے۔ میں تو کبھی نہیں رہ سکتا ۔‘‘ فرخ بولا۔ . ’’میں بھی نہیں رہ سکتی ۔‘‘ سائرہ بولی۔ ’’لیکن مجھے تو قلعہ بہت اچھا لگتا ہے۔ کیا میں اسے اندر سے دیکھ سکتا ہوں؟‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’کیوں نہیں۔ ایک طرح سے تو یہ تمہارا بھی گھر ہے، لیکن ابھی نہیں۔ بڑے ابا تمہارا انتظار کر رہے ہیں پہلے ان سے مل لو۔‘‘ ’’ تم وہ سوراخ دیکھ رہے ہو؟ ‘‘ راشد نے قلعہ کے قریب سے گزرتے ہوئے اس کے بڑے سے لکڑی کے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’ہاں، یہ کیا ہے؟ ‘‘ پرویز نے پوچھا۔ ’’یہ گولیوں کے نشانات ہیں جو 57ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کی فوج نے اس قلعے پر چلائی تھیں ۔‘‘ ’’اچھاـ، کیوں؟ ‘‘ ’’ ہمارے خاندان کے لوگ بھی آزادی کی جنگ میں انگریزوں سے لڑرہے تھے۔ بعد میں اس کی سزا بھی ہمارے خاندان کو بھگتنا پڑی۔ ہماری ریاست ختم کر دی ۔‘‘ کچھ ہی دیر کے بعد جیپ ایک بڑے سے لوہے کے گیٹ کے آگے رک گئی۔ چوکیدار نے گیٹ کھولا اور جیپ بجری سے بنے رستے پر اندر داخل ہو گئی۔ شیش محل نئے طرز کی عمارت تھی، جس میں پرانی طرز کی محرابیں اور در یچے تھے۔ یہ بہت خوبصورت عمارت تھی اور اتنا ہی خوبصورت باغ تھا، جس کے درمیان میں ایک فوارہ لگا تھا۔ سب لوگ جیپ سے اتر کر دروازے تک پہنچے۔ ایک بوڑھے سے آدمی نے دروازہ کھولا۔ یہ کنور صاحب کا پرانا خدمت گار فیاض تھا۔ ان لوگوں کو دیکھتے ہی اس نے آواز دی۔ ’’چھٹن، بچے آگئے ،ان کا سامان اندر لے جاؤ ۔‘‘ یہ آواز سن کر ایک نو کر باہر آیا۔ اور اس نے پرویز کے ہاتھ سے سوٹ کیس اور سائرہ کے ہاتھ سے بیگ لے لیا۔ اور یہ لوگ اندر ایک بڑے کمرے میں داخل ہوئے۔ یہ کمرہ کافی بڑا تھا۔ کم از کم ان تینوں نے تو اتنا بڑا کمرہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ’’واؤ، کتنا بڑا کمرا ہے ۔‘‘ فرخ نے آہستہ سے کہا۔ کمرے میں دیواروں پر بارہ سنگھے اور شیر کے سر ،مختلف قسم کی ٹرافیاں اور تلواریں لٹکی ہوئی تھیں اور فرش پر ایک بڑا سا قالین بچھا تھا۔ بچوں کو یہ سب چیزیں دیکھ کر بہت ہی تعجب ہوا۔ سائرہ کو اس طرح جانوروں کے سر دیواروں پر لٹکے ہوئے بالکل اچھے نہیں لگے ۔اسے ان سے خوف سا آرہا تھا۔ یہ سب لوگ کمرے میں پڑے ہوئے ایک آرام دہ صوفے پر بیٹھ گئے۔ ٭٭٭٭٭ ’’آپ لوگ آگئے ؟‘‘ ایک لمبا سا آدمی کمرے میں داخل ہوا۔ ’’میں ڈاکٹر امجد ہوں۔ آپ لوگوں کا سفر کیسا گزرا؟‘‘ ’’السلا م علیکم ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ ’’میں سائرہ ہوں اور یہ میرے بھائی ہیں پرویز اورفرخ۔‘‘ ’’دادا جان کا کیا حال ہے ؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔ ’’وہ خاصے بیمار ہیں۔ بہت دیر سے تمہارا انتظار کر رہے تھے، اب سو گئے ہیں۔ میں نے انہیں نیند کی دوا دی ہے ۔‘‘ ڈاکٹر امجد نے جواب دیا۔ ’’تو ہم آج ان سے نہیں مل سکیں گے؟ ‘‘سائرہ نے کہا۔ اسے یہ آدمی کچھ اچھا نہیں لگا۔ ’’ان کو جگانا ٹھیک نہیں۔ کل صبح ہی آپ ان سے ملیں ۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ ــ ’’اچھا پرویز میں اب چلتا ہوں ،کل پھر آؤں گا۔ــ‘‘ راشد نے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ ’’اچھا ---حافظ ۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ ’’ صابرہ کہاں ہے! اس سے کہو کہ کھانا لگائے ۔‘‘ فیاض نے صابرہ کو آواز دی اور تھوڑی دیر میں ایک چودہ پندرہ برس کی لڑکی کمرے میں آئی۔ اس نے دونوں ہاتھوں میں بہت ساری چوڑیاں پہنی ہوئی تھیں اور گلے میں کالے مصنوعی موتیوں کی مالا تھی۔ ’’سلام صاحب جی ، سلام بی بی جی۔‘‘ صابر ہ نے ان لوگوں کو سلام کیا۔ ’’ صابرہ، چھٹن کی بیٹی ہے ۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے بتایا۔ پھر صابرہ سے بولے۔ ’’ ان کو ان کے کمروں میں لے جاؤ۔ اور پھر کھانا لگاؤ۔ یہ سفر کر کے آئے ہیں۔ انہیں آرام کرنا چاہئے ۔‘‘ ’’اچھا جی۔ ‘‘ صابرہ ان کو لے کر کمروں کی طرف چل دی۔ پرویز اور فرخ کے لئے ایک کمرہ تھا اور دوسرا کمرا سائرہ کے لئے۔ صابرہ منہ دھونے کے لئے گرم پانی لے آئی۔ ہاتھ منہ دھونے کے بعد سائرہ نے بسترپر بیٹھتے ہوئے صابرہ سے پوچھا۔ ’’ تم یہاں رہتی ہو ؟‘‘ ’’ نہیں جی! اباجی اور اماں یہاں رہتے ہیں ۔‘‘ ’’ تم کہاں رہتی ہو۔ کیا ان کے ساتھ نہیں رہتیں؟‘‘ سائزہ نے تعجب سے پوچھا۔ ’’ نہیں جی ۔ میں اپنے گھر رہتی ہوں ۔‘‘ صابرہ نے کہا۔ ’’اپنے گھر! کیا تمہاری شادی ہو گئی ہے؟‘‘ ’’ہاں جی ایک سال ہو گیا ۔‘‘ ’’اچھا بڑی جلدی تمہاری شادی ہو گئی۔‘‘ ’’ہاں جی ۔‘‘صابرہ نے شرماتے ہوئے کہا۔ اتنے میں چھٹن نے آکر اطلاع دی کہ کھانا میز پر لگ گیا ہے۔ اور صابرہ انہیں کھانے کے کمرے میں لے آئی۔ کھانے کی خوشبو نے سائرہ کو احساس دلایا کہ وہ بھی بہت بھوکی ہے۔ کھانا بہت مزے کا تھا اور سبھی نے خوب پیٹ بھر کر کھایا۔ کھانا کھا کر یہ لوگ اپنے کمروں میں آکر سو گئے۔ ٭٭٭٭٭ (4) چڑیوں کے چہچہانے سے فرخ کی آنکھ کھل گئی۔ آج امی نے آواز نہیں دی ،اس نے سوچا ،ارے اسے جلد ہی یاد آگیا، وہ تو دادا جان کے محل میں ہے۔ ــ’’کون اٹھا؟‘‘ سائرہ نے برابر والے کمرے سے آواز دی۔ ’’ میں۔ ‘‘ پرویز نے کہا ۔’’میں تو نماز کے لئے ہمیشہ ہی پہلے ،اٹھتا ہوں ۔‘‘ ’’جی نہیں، میں‘‘۔ فرخ نے کہا۔ ’’اچھا یہ تو غیر معمولی بات ہے۔ تم خود کہاں اٹھتے ہو تمہیں تو اٹھایا جاتا ہے ـ۔‘‘ وہ منہ دھو کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ صابرہ آگئی۔ اس نے بتایا کہ ناشتہ تیار ہے۔ یہ تینوں کھانے کے کمرے میں آئے۔ ڈاکٹر صاحب ناشتہ کر چکے تھے، اور اٹھنے ہی والے تھے۔ وہ کنور صاحب کے علاج اور دیکھ بھال کے لئے مستقل شیش محل میں ہی رہتے تھے۔ ’’تمہارے دادا جان اٹھ گئے ہیں، تم ناشتہ کر تو ان کے پاس چلو ۔‘‘ ڈاکٹر صاحب ان کو دیکھ کر بولے۔ تینوں بچوں کو اپنے دادا سے ملنے کا بڑا شوق تھا، انہوں نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور ڈاکٹر صاحب کے ساتھ دادا جان کے کمرے کی طرف چل دئیے۔ یہ ایک خوبصورت سجا سجا یا کمرا تھا۔ اس میں ایک بڑی سی مسہری بچھی تھی جس پر کنور صاحب آنکھیں بند کئے لیٹے تھے۔ ایک طرف صوفہ سیٹ رکھا تھا۔ فرش پر عمدہ قالین بچھا تھا۔ ’’ کنور صاحب بچے آگئے ہیں۔ ‘‘ ڈاکٹر امجد نے مسہری کے قریب جا کر کہا۔ ’’ انہیں میرے پاس لاؤ ۔‘‘ دادا جان نے کمزورسی آواز میں کہا۔ تینوں دادا جان کے قریب آگئے۔ دادا جان بہت بوڑھے اور کمزور تھے۔ ان کے سر اور مونچھوں کے سارے بال سفید تھے ۔چہرے پر ایک وقار تھا۔ پرویز دادا جان کے قریب گیااورا دب سے انہیں سلام کیا۔ ’’ تم کون ہو؟ ‘‘انہوں نے نظریں اٹھا کر نقاہت سے پوچھا۔ ’’ میں پرویز ہوں دادا جان۔ ‘‘ دادا جان نے غور سے پرویز کو دیکھا ۔ــ’’ اچھا تم پر ویز ہو۔ تم سب سے بڑے ہو ۔‘‘ ــ ’’جی نہیں! سائرہ باجی مجھ سے بڑی ہیں ۔‘‘ پرویز نے سائرہ کو آگے کرتے ہوئے کہا ۔’’اور یہ فرخ ہے۔ َ‘‘ ــ’’تم سب سے چھوٹے ہو؟ ‘‘ ’’جی! ‘‘ فرخ نے جواب دیا۔ دادا جان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ’’میرے قریب آؤ۔ ‘‘انہوں نے فرخ کو اشارہ کیا۔’’ آؤ تم بھی قریب آجاؤ۔‘‘ انہوں نے پرویز اور سائرہ سے کہا۔ تینوں قریب آگئے تو کنور صاحب پرویز سے بولے ۔’’میں تم سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں ۔‘‘ ان کی آواز بہت ہلکی تھی، مشکل سے سمجھ میں آرہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو اور نوکر کو کمرے سے چلے جانے کا اشارہ کیا ۔جب وہ چلے گئے تو انہوں نے پرویز سے کہنا شروع کیا۔ ’’دیکھو بیٹے… سرخ کمرے میں …مخمل کا ہر ابکس… خاندانی ورثہ …خفیہ …کسی کو معلوم نہ ہو… تم لے جا نا…اپنے باپ کو دے دینا…میں شاید اب نہ جیوں۔‘‘ وہ بہت مشکل سے بول رہے تھے اور اتنے آہستہ کہ یہ چند الفاظ ہی پرویز کی سمجھ میں آسکے ۔اتنا بولنے سے ہی وہ تھک گئے اور تکیہ پر گر گئے۔ انہوں نے آنکھیں بند کرلیں۔ فرخ نے گھبرا کر انہیں دیکھا۔ ’’ارے دادا جان کو کیا ہوا؟ ‘‘وہ بولا۔ پرویز بھی گھبرا گیا اور کمرے سے باہر نکل کر اس نے ڈاکٹر صاحب کو آواز دی۔ــ’’ ڈاکٹر صاحب! ڈاکٹر صاحب! جلدی آئیے، شاید دادا جان بے ہوش ہو گئے۔ ‘‘سب لوگ ایک دم کمرے میں آگئے۔ ’’کیا ہوا ؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے پوچھا۔ ’’یہ ہم سے باتیں کر رہے تھے کہ ایک دم سے خاموش ہو گئے ، شاید بے ہوش ہو گئے۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ انہوں نے کیا کہا تھا ؟ ‘‘ڈاکٹر نے پوچھا۔ پرویز نے کہا۔ ’’کچھ بھی نہیں بس یہ کہ وہ ہم سے مل کر بہت خوش ہوئے ہیں اور بس ایسی ہی باتیں کر رہے تھے۔‘‘ ڈاکٹر امجد نے جھک کر کنور صاحب کا معائنہ کیا۔ وہ ٹھیک تھے۔ نقاہت اور کمزوری اور کچھ جذبات نے انہیں چپ کر دیا تھا۔ ’’ آپ لوگ اب جائیں اور کنور صاحب کو آرام کرنے دیں۔ یہ ٹھیک ہیں۔ کمزوری ہے۔ ‘‘ڈاکٹر نے پرویز سے کہا۔ کمرے سے باہر آکر سائرہ نے کہا۔ ’’مجھے تو بتاؤ پرویز! دادا جان نے کیا کہا تھا۔‘‘ ’’شش! شش! باہر چلو وہاں بتاؤں گا۔‘‘ پرویز نے آہستہ سے کہا۔ باغ میں جا کر یہ تینوں ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔ پرویز نے بتایا کہ دا دا جان پوری طرح تو کچھ نہیں کہہ سکے مگر میں یہ سمجھا ہوں کہ قلعہ میں ایک سرخ کمرا ہے، اس میں ایک ہرابکس ہے جس میں خاندانی زیورات ہیں ،یہ ابو کے ہیں، ہمیں یہ زیورات وہاں سے نکال لینے ہیں۔‘‘ ’’ مگر یہ چھپے کہاں ہیں۔‘‘ سائرہ نے بے تابی سے پوچھا۔ ــ ’’ مجھے علم نہیں ہیں۔‘‘پرویز نے بتایا۔ ’’ چلو پہلے سرخ کمرے کو ڈھونڈتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ہرا بکس اسی کمرے میں ہو ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ ’’۔ٹھیک ہے چلو ۔‘‘یہ لوگ بینچ سے اٹھے ہی تھے کہ سامنے سے راشد آتا دکھائی دیا۔’’ہیلو کیا ہو رہا ہے ۔‘‘ ’’ راشد بھائی۔ ہم لوگ خزانے کی تلاش میں جارہے ہیں خزانہ یہیں ہے، کیا آپ چلیں گے ؟‘‘ فرخ نے جوش میں آکر کہا۔ ــ’’کیسا خزانہ ؟‘‘ اسی وقت جھاڑی کے پیچھے سے سائرہ نے انگلی ہونٹ پر رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ ’’کچھ نہیں بھائی۔ میں تو مذاق کر رہا تھا۔‘‘ وہ ہنسنے لگا۔ سائرہ اور پرویز بھی ہنسنے لگے مگر راشد بالکل خاموش رہا۔ وہ حیرانی سے ان تینوں کو دیکھتا رہا۔ ’’فرخ تمہیں یہ سب کچھ بتانے کی کیا ضرورت تھی؟ ‘‘کمرے میں آکر پرویز نے ڈانٹا۔ ’’خبردار جو تم نے آئندہ ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نکالا۔‘‘ ’’معاف کر دیں بھیا! اب خاموش رہوں گا۔‘‘ فرخ نے کہا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد پرویز نے سوچا کہ صابرہ سے سرخ کمرے کے بارے میں پوچھے۔ ’’ کیا شیش محل بہت بڑا ہے؟ ‘‘ اس نے صابرہ ہے پوچھا۔ ’’ہاں جی!‘‘ فیاض نے جواب دیا ۔’’ اب تو جی یہاں کچھ نہیں رہا۔ پہلے آپ اس کی شان دیکھتے۔ جب بیگم صاحب زندہ تھیں۔ ہر روز شام کو خوشبوئیں چھڑ کی جاتیں۔ گلدانوں میں گلاب لگتے۔ بڑے بڑے لوگوں کی دعوتیں ہوتیں۔ لاٹ صاحب تک محل میں آئے ہیں۔ کیا زمانہ تھا۔ ‘‘ ’’پھر یہ سب کیسے ختم ہو گیا ؟‘‘ ’’ بس جی، بیگم صاحب ---- کو پیاری ہو گئیں۔ چھوٹے کنور صاحب نے اپنی مرضی سے شادی کر لی، وہ بھی محل سے چلے گئے۔ بس میں ہی رہ گیا ہوں۔ میں ان کو چھوڑ کر کہاں جاؤں ؟‘‘ ’’میرا دل چاہتا ہے کہ سارا محل دیکھوں ۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ہاں صاحب۔ جاؤ صابرہ بیٹا کو بھی محل دکھا لاؤ۔ یہ سب تمہارا ہی تو ہے ۔‘‘ فیاض نے کہا۔ ’’چلو سائرہ اور فرخ تم بھی چلو… تمہیں بھی محل دیکھ کے بڑی خوشی ہوگی ۔‘‘ صابرہ نے کہا۔ صابرہ نے سب سے پہلے ایک بڑا ہال دکھایا۔ یہ خاصا بڑا ہال تھا، جس کے چاروں طرف کمرے تھے ۔فرش پر قیمتی قالین بچھے تھے۔ دیواروں پر بڑی بڑی تصویریں لگی تھیں۔ باہر گیلری میں بہت خوبصورت تصویر یں تھیں۔ اس سے آگے ایک کمرہ تھا جس میں الماریاں تھیں جن میں بے شمار کتابیں، ڈائریاں وغیرہ تھیں۔ یہ دادا جان کی لائبریری تھی۔ تین چار بڑے بڑے کمرے اور تھے۔ ایک گیلری کے سرے پر چکر کھاتی سیڑھیاں تھیں۔ ’’اوپر کیا ہے ؟ ‘‘فرخ نے پوچھا۔ ’’بہت سے کمرے ہیں۔ جن میں ایک کمرہ ہے جس کی دیواروں اور چھت پر بہت سارے شیشے لگے ہوئے ہیں۔ دادا جان او پر اس کمرے میں اکثر بیٹھ کر چائے وغیرہ پیتے تھے۔ اس کمرے کی بالکونی سے پورا منصور نگر نظر آتا ہے۔ انہیں یہ کمرہ بہت پسند تھا۔ شام کو اکثروہ یہاں آجاتے تھے اور رات تک یہیں رہتے ۔‘‘ اوپر جا کر تینوں بہت حیران ہوئے۔ اوپر والی منزل بھی خاصی بڑی تھی اور اس میں بھی کافی کمرے تھے۔ یہ لوگ دادا جان کے اس کمرے میں گئے۔ جس کے بارے میں صابرہ نے بتایا تھا۔ کمرے میں جا کر یہ تینوں حیران رہ گئے۔ کمرے کی چھت سرخ تھی۔ فرش پر گہرا سرخ قالین بجھا تھا۔ دروازوں کھڑکیوں پر سرخ پھولوں کے پردے پڑے تھے۔ صوفہ سیٹ پر بھی سرخ کشن تھے۔ دو بڑی بڑی الماریاں دیوار کے ساتھ رکھی تھیں جن میں کتابیں بھری تھیں۔ یقینا یہی ’’ سرخ کمرہ ‘‘تھا۔ ٭٭٭٭٭ (5) ’’تو یہ ہے وہ کمرہ! جس کا دادا جان نے ذکر کیا تھا۔ کتنا شاندار کمرہ ہے اور کتنی ساری کتابیں ہیں ۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’واقعی بہت شاندار کمرہ ہے ۔‘‘ سائرہ نے تعریف کی۔ ’’بھئی میں تو یہ کتابیں ضرور پڑھوں گا۔ فرخ تم کھیلو گے یا ہمارے ساتھ یہ کتابیں دیکھو گے ؟ــ‘‘پرویز نے پوچھا۔ ’’ چھوڑیں بھیـ، ایسی موٹی موٹی کتابیں کون دیکھے۔ میں تو باغ میں جا رہا ہوں۔ آؤ صابرہ تم بھی چلو ۔‘‘ ان کے جانے کے بعد پرویز نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ اب ہم آرام سے ہراڈبہ ڈھونڈ سکیں گے۔ سائرہ تم اس الماری میں ڈھونڈو۔ میں سامنے والی میز د یکھتا ہوں دونوں بڑے انہماک سے ڈبہ ڈھونڈنے لگے۔ ــ ’’تو بہ ہے کتنی مٹی ہے ۔‘‘ سائرہ نے الماری سے کتابیں نکالتے ہوئے کہا۔ میز کی درازوں کو ڈھونڈنے کے بعد پرویز دوسری الماری کی طرف آیا۔’’ اف واہ! کس قدر زبر دست کتابیں ہیں ۔‘‘اس نے کتابیں نکالتے ہوئے کہا۔ ’’دیکھو سائرہ! تاریخ کی یہ کتنی زبر دست کتاب ہے۔ ‘‘اور اس نے صفحے پلٹ کر ادھر ادھر سے پڑھنا شروع کر دیا۔ ’’ پرویز یہ کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں ہے۔ جلدی سے ڈبہ ڈھونڈو کوئی آنہ جائے …کوئی آرہا ہے… ‘‘ سیڑھیوں پر کسی کے قدموں کی آہٹ ہوئی۔ ’’چلو صوفے کے پیچھے چھپ جاتے ہیں ۔‘‘وہ دونوں جلدی سے صوفے کے پیچھے چھپ گئے۔ کوئی کمرے میں آیا ادھر ادھر جائزہ لیا اور چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد دونوں چپکے چپکے صوفے کے پیچھے سے نکلے۔ اور دروازے کی جھری سے جھانک کر دیکھا اب وہاں کوئی نہ تھا۔ دونوں نے پھر ہرے بکس کی تلاش شرع کر دی۔ خاصی دیر ڈھونڈنے کے بعد پرویز نے عام معلومات کی ایک بہت موٹی سی کتاب الماری سے نکالی ۔’’ارے…یہ رہا!! ‘‘ اس نے جلدی سے الماری کے اندر کتابوں کے پیچھے والی جگہ پر ہاتھ ڈالا۔ ہرے بکس کا کو نا خالی جگہ سے نظر آرہا تھا۔ ہاتھ بڑھا کر پرویز نے ڈبہ نکال لیا۔دونوں نے گھبراہٹ کے عالم میں اسے کھولا۔ اس کے اندر ایک تہ کیا ہوا کاغذ تھا اور ایک لفافہ تھا جس پر مہر لگی ہوئی تھی۔ ٭٭٭٭٭ (6) لفافہ اور کاغذ لے کر یہ دونوں اپنے کمرے میں آئے۔ پرویز کو خط پڑھنے کی جلدی تھی۔ ’’میں اندر آجائوں۔ ‘‘فرخ اب کھیل کر واپس آچکا تھا۔ ’’ہاں!مگر جو کچھ بھی دیکھو اور سنوا سے کسی سے مت کہنا۔ پکی بات۔ ‘‘سائرہ نے کہا۔ ’’سائرہ باجی وعدہ۔ کسی سے نہیں کہوں گا۔‘‘ فرخ نے کہا۔ پرویز نے خط کھولا۔ یہ اس کے باپ کے نام لکھا تھا۔ ’’ پیارے بیٹے۔ ہو سکتا ہے جب یہ خط تمہیں ملے ،میں اس دنیا میں نہ ہوں۔ میں بہت کمزور اور بوڑھا ہوں، نہ معلوم کب مرجاؤں ۔میں ساری زندگی اپنے بیٹے کا انتظار کرتا رہا۔ مگر شاید مالک کو یہ منظور نہ تھا کہ تم ہم سے ملو۔ تمہاری ایک امانت میرے پاس ہے، یہ ہمارے خاندانی جواہرات ہیں اور تمہاری ماں کے زیورات جو انہوں نے تمہاری دلہن کو دینے کے لئے رکھے تھے۔ یہ جواہر اور زیور ایک ڈبے میں بند ہیں جو میں نے قلعے کے عروسی کمرے میں چھپا دیئے ہیں تاکہ محفوظ رہیں۔ تم ڈھونڈو گے تو مل جائیں گے ۔اس لفافے میں ڈبے کی کنجی ہے۔ بہت احتیاط سے کام لینا کیوں کہ دوسرے لوگ بھی ان جواہرات کی تلاش میں ہیں۔ مالک تمہارا مدد گار ہو۔‘‘ تمہارا ابا جانی۔ ’’بیچارے داداجان ۔ ‘‘سائرہ نے کہا۔ ’’بھائی کیا آپ یہ ڈباڈھونڈلیں گے؟با با جان تو ہیں نہیں ۔‘‘ فرخ نے کہا۔ ’’ہاں کیوں نہیں۔ دادا جان مجھ سے یہی کہ رہے تھے۔ ہم کوشش تو ضرورکریں گے۔‘‘ پرویز نے کیا۔ ’’کیسا عجیب سالگ رہا ہے، بالکل کہانیوں جیسا ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ ’’ ہم لوگوں کو کل ہی قلعے جانا چاہئے ۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’اور ابو امی اس خزانے کو پا کر کتنے خوش ہوں گے۔ خاص طور پر جب ان کو پتہ چلے گا کہ یہ ہم نے خود ڈھونڈاہے۔ ‘‘ سائرہ نے خوش ہو کر کہا۔ ’’ ہمیں ان جواہرات کو جلد نکال لینا چاہئے۔ دیکھا نہیں دادا جان نے لکھا ہے کچھ اور لوگ بھی ان کی تلاش میں ہیں ۔‘‘ ’’کون ہو سکتا ہے؟ ‘‘ ’’ شاید راشد بھائی ہوں۔ ‘‘ سائرہ نے کہا۔ ’’ نہیں وہ نہیں ہو سکتے۔ وہ تو بہت اچھے آدمی ہیں ۔‘‘ فرخ نے کہا۔ ’’پھر شاید فیاض ہو ۔‘‘ سائرہ نے خیال ظاہر کیا۔ ’’ وہ بھی نہیں ہو سکتا۔ وہ تو دادا جان کا پرانا نوکر ہے اور وفادار بھی، تبھی تو دادا جان کو چھوڑ کر بھی نہیں گیا۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ پھر کون ہو سکتا ہے۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ ’’ میرا خیال ہے ہمیں قلعے کے عروسی کمرے کو دیکھنا چاہئے ۔‘‘ ’’ہاں کل ہی قلعے چلیں گے ۔‘‘ اتنے میں چھٹن نے آکر کھانا لگنے کی اطلاع دی اور یہ تینوں کھانے کے کمرے میں چلے گئے۔ اگلے روز یہ لوگ صابرہ کے ساتھ قلعے گئے۔ چوکیدار نے گیٹ کھولا۔ قلعے کے بیچوں بیچ ایک بڑا سا باغ تھا۔ د ا ہنی طرف والا حصہ ایک بھائی کے پاس تھا اور بائیں طرف والا دوسرے بھائی کے پاس۔ دائیں ہاتھ والے حصے کی طرف صابرہ نے اشارہ کیا۔’’ ادھر کنور صاحب رہتے تھے۔ اور دوسری طرف راشد بھائی کا خاندان رہتا ہے۔‘‘ ابھی وہ اندر آئے ہی تھے کہ راشد آگیا۔ اس نے ان سب کو اپنے دادا جان ،دادی جان، امی ابو اور باجی سے ملوایا۔ راشد کی امی نے بڑے پیار سے ان لوگوں کو چائے پلوائی۔ اس کے ساتھ سموسے ، رس ملائی ،رس گلے اور نمک پارے کھلائے۔ چائے سے فارغ ہو کر وہ سب بڑے کمرے میں آگئے۔ راشد کی دادی نے بچوں کو قلعے کی پوری تاریخ سنائی۔ وہ کہنے لگیں۔ ’’بیٹے وہ بھی کیا دن تھے۔ جب تمہارے دادا کی شادی ہوئی تھی۔ بہت شاندار دعوت ہوئی۔ سارا قلعہ تیل کے چراغوں اور مومی شمعوں کی روشنی سے جگمگا رہا تھا۔ شہنائی بج رہی تھی، بارات بھی کیا شان دار تھی۔ تمہارے دادا دولہا بنے ایک سجے سجائے ہاتھی پر بیٹھے آئے تھے۔ ان کے ساتھ بے شمار لوگ گھوڑوں اور پالکیوں پر سوار تھے۔ مہینوں پہلے سے مہمان آنا شروع ہو گئے تھے۔ عام دعوت تھی۔ تمہیں کیا بتا ئیں کہ تمہارے دادا کی کیا شان تھی؟ ‘‘ ’’ ---- کتنا اچھا لگ رہا ہو گا؟ کتنا مزا آیا ہو گا۔ ‘‘ سائرہ نے کہا۔ تینوں بچے حیرت سے یہ باتیں سن رہے تھے۔ ’’ پھر بیٹے ۔ ‘‘راشد کی دادی نے کہا۔ ’’تمہارے ابو پیدا ہوئے۔ تمہارے دادا کی خواہش تھی ،ان کی شادی بھی اسی شان و شوکت سے ہو۔ پھر اچانک تمہاری دادی کا انتقال ہو گیا اور پھر یہاں کی خوشیاں غم میں بدل گئیں۔ تمہارے ابو باہر پڑھنے چلے گئے پھر کنور صاحب کی مرضی کے خلاف غیر خاندان میں شادی کرلی۔ کنور صاحب اس قدر غصے ہوئے کہ انہوں نے ساری عمر اپنے بیٹے سے نہ ملنے کا عہد کر لیا ۔‘‘ ’’ تو کیا ہوا۔ ابو نے اگر شادی کر لی تھی تو دادا جان کو اس قدر ناراض ہونے کی کیا ضرورت تھی؟ ‘‘پرویز نے کچھ ناگواری سے کہا۔ ’’پرویز! ‘‘ سائرہ نے بھائی کو ٹو کا۔ پرویز خاموش ہو گیا۔ پھر راشد نے پرویز سے سے کہا ’’آؤ تمہیں قلعے کی سیر کرائیں۔ ‘‘ ’’ چلئے ۔‘‘ پرویز اٹھ کھڑا ہوا۔ سائرہ اور فرخ بھی اٹھ گئے۔ قلعے کا وہ حصہ جس میں پرویز کے دادا جان رہتے تھے۔ اب ویران پڑا تھا۔ لوہے کے دروازوں پر زنگ لگا تھا۔ جگہ جگہ مکڑیوں کے جالے تھے ۔یہاں چھوٹے بڑے کافی کمرے تھے، جن میں سامان بھی تھا۔ مگر لگتا تھا جیسے برسوں سے صفائی نہیں ہوئی ہو۔ گھومتے پھرتے یہ لوگ اس کمرے میں آگئے جسے عروسی کمرا کہا جاتا تھا۔ ’’یہاں دادا جان کی دلہن بیاہ کر آئی تھیں۔ ‘‘ راشد نے بتایا کہ یہ ہماری خاندانی روایت ہے کہ شادی کے بعد دولہا دولہن اس کمرے میں رہتے تھے جب شادی کی تقریبات ختم ہو جاتی تھیں تو یہ نیچے قلعے میں اپنے کمرے میں آجاتے تھے۔ ’’ اچھا۔‘‘ پرویز نے سوچا تو یہ وہ کمرہ تھا جس کی طرف دادا جان نے اشارہ کیا تھا۔ کچھ دیر اور یہ لوگ قلعے کی سیر کرتے رہے پھر اپنے محل میں واپس آگئے۔ رات کو گرمی تھی۔ مچھر بھی تھے۔ صابرہ ،سائرہ کے کمرے میں زمین پر چٹائی بچھائے منہ تک چادر تانے لیٹی تھی تاکہ اسے مچھر نہ ستائیں۔ سائرہ اپنے بستر پر لیٹی ایک کتاب پڑھ رہی تھی۔ ’’سائرہ باجی کیا آپ پڑھ رہی ہیں ؟‘‘ صابر ہ نے پر چھا۔ ’’ہاں‘‘ ’’آپ کو سب کچھ پڑھنا آتا ہے ۔‘‘ ‘‘ہاں ۔ کیوں نہیں، میں تو کالج میں پڑھتی ہوں ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ ’’ کیا آپ مجھے پڑھنا سکھا دیں گی۔‘‘ صابرہ نے کہا۔ ’’ہاں ضرور ۔ تمہیں شوق ہے پڑھنے کا ؟‘‘ ’’ ہاں جی! بہت ۔‘‘ ’’اچھا تو میں تمہیں پڑھاؤں گی۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ صابرہ جلدی سے اٹھ کر سائرہ کے بستر پر آگئی۔ ’’ سچ سائرہ باجی آپ مجھے پڑھائیں گی۔ آپ کتنی اچھی ہیں۔‘‘ سائرہ نے کتاب بند کر لی۔ اور میز سے کاغذ پنسل نکال کر اسے پڑھانے لگی۔ یہ دیکھو یہ الف ہے اور یہ بے ہے۔ صابرہ خاصی تیز تھی ذرا سی دیر میں اس نے الف بے یاد کرلی۔ پہلا سبق سکھا کر سائرہ سونے کو لیٹ گئی۔ اگلی صبح صابرہ ،سائرہ کو لے کر محل سے باہر آئی۔ تھوڑی دور آم کا ایک باغ تھا۔ ایک جگہ پہنچ کر و ہ رک گئی۔ اور بولی۔ ’’ میں آپ کو ایک چیز دکھاؤں۔ یہ میرا راز ہے۔‘‘ اور پھر وہ زمین سے دو بڑے بڑے پتھر ہٹانے لگی جوپتوں سے ڈھکے تھے۔ یہ ایک تہہ خانہ ساتھا۔ سائرہ نے حیرانی سے دیکھا۔ ’’باجی ! یہ میرا راز ہے۔ یہ ایک جگہ ہے جب بابا مجھ پر خفا ہوتے ہیں تو میں اس میں چھپ جاتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ جھک کر اندر چلی گئی۔ ’’ آئیے باجی اندر آئیے۔‘‘ سائرہ بھی اندر چلی گئی۔ چند سیڑھیاں تھیں اور اس سے آگے ایک تنگ سا راستہ تھا۔ جس میں ایک دری اور کچھ پرانے برتن وغیرہ تھے۔ ایک چھوٹی سی لالٹین بھی تھی۔ ــ’’یہ میرا محل ہے۔‘‘ سائرہ نے خوش ہو کر کہا۔ ’’اوہو۔ یہ تو بڑی اچھی جگہ ہے۔ تم یہاں اکثر آتی ہو؟؟‘‘ ’’ ہاں جی جب بھی بابا مجھ پر غصے ہوتے ہیں۔ ‘‘ ’’صابر ہ یہ تو ایک زمین دوز راستہ ہے۔ تمہیں پتہ ہے یہ کہاں تک جاتا ہے ؟؟‘‘ ’’ہاں جی۔ یہ بہت لمبا راستہ ہے اور قلعے تک جاتا ہے۔ ایک دفعہ میں اس راستہ سے اندر گئی تھی۔ دوسری طرف قلعے کا وہ حصہ ہے۔ جہاں آپ کے دادا رہتے ہیں۔ پتہ نہیں جی۔ یہ کس نے بنا یا تھا اور کیوں۔ــ‘‘ ’’پہلے قلعوں میں ایسے خفیہ راستے بنائے جاتے تھے۔ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے۔‘‘ صابرہ بولی اور یہ لوگ تہہ خانے سے باہر نکل آئے۔ سائرہ نے سب سے پہلے پرویز کو اس راستے کے بارے میں بتایا۔ قلعے تک پہنچنا اب کتنا آسان تھا۔ (7) فرخ شیش محل کے باغ میں حوض کے کنارے بیٹھا تھا کہ ڈاکٹر امجد آگئے۔ ’’ بیٹے کیا کر رہے ہو؟؟‘‘ ’’جی بس ایسے ہی بیٹھا ہوں۔ سائرہ باجی اور پرویز بھیا کا انتظار کر رہا ہوں۔‘‘ ’’ تمہیں شیش محل کیسا لگا؟ــا چھا ہے ؟ ‘‘ ’’جی ہاں۔ ‘‘ ’’چاکلیٹ کھاؤ گے؟ ‘‘ ڈاکٹر صاحب نے جیب سے چاکلیٹ نکال کر فرخ کو دیتے ہوئے کہا۔ ــ’’جی! شکریہ! ‘‘ فرخ نے چاکلیٹ لے لی۔ چاکلیٹ ویسے بھی اس کی کمزوری تھی۔ ’’ تمہارے دادا تو تم سے مل کر بہت خوش ہوئے ہوں گے ۔‘‘ ڈاکٹر نے پوچھا۔ ’’جی ہاں۔ مجھے وہ بہت اچھے لگے ۔کیا وہ بہت بیمار ہیں؟‘‘ فرخ نے پوچھا۔ ’’ہاں بیٹے وہ بہت بیمار ہیں۔ وہ بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور شاید زیادہ دن تک نہ جی سکیں گے ۔‘‘ ڈاکٹر امجد نے جواب دیا۔ پھر وہ کچھ سوچ کر بولے۔ ’’ہاں یہ تو بتاؤ۔ پرویز سے انہوں نے کیا باتیں کیں؟ ‘‘ ’’دادا جان نے انہیں بہت سی باتیں بتائیں۔ وہ کسی خفیہ چیز کا ذکر کر رہے تھے۔جو سرخ کمرے میں ہے۔‘‘ فرخ نے کہا ۔ ’’ لو یہ ایک اور چاکلیٹ لو۔ تم بہت سمجھ دار لڑکے ہو۔ اچھا تو کنور صاحب نے اور کیا کہا ؟‘ ‘ ڈاکٹرا مجد نے دلچسپی لیتے ہوئے سوال کیا۔ ’’بس یہی۔ پھر۔ پرویز بھائی اور سائرہ باجی سرخ کمرے میں کچھ ڈھونڈ رہے تھے۔ ‘‘ ’’ا نہیں وہاں کچھ ملا؟‘ ’’ہاں ایک خط تھا۔ ابا جان کے نام ۔‘‘ ’’کیا لکھا ہے اس خط میں؟ ‘‘ ڈاکٹر نے بے تابی سے پوچھا۔ ’’اس میں کچھ ہیروں وغیرہ کا ذکر ہے جو قلعے میں رکھے ہیں ۔‘‘ فرخ نے بتایا۔ مگر وہ سوچنے لگا ڈا کٹر امجد یہ سب باتیں کیوں پوچھ رہے ہیں ۔انہیں کیا مطلب خط سے اور چابیوں سے۔ میں نے کچھ زیادہ تو نہیں بتا دیا۔ ’’لویہ اور چاکلیٹ کھاؤ۔‘‘ڈاکٹر کی آواز نے اسے چونکادیا۔ ’’جی نہیں، شکریہ۔ اب میں جاتا ہوں ۔‘‘ فرخ اٹھ کھڑا ہوا۔ لیکن ڈاکٹر امجد کے چہرے پر جو خاص قسم کی مسکراہٹ تھی وہ اسے نہیں سمجھ سکا۔ فرخ کمرے میں آیا تو سائرہ اور پرویز کمرے میں باتیں کر رہے تھے۔ اس نے سنا سائرہ کہہ رہی تھی۔ ’’میں بھی تمہارے ساتھ سرنگ میں جاؤں گی۔‘‘ ’’ نہیں تم یہیں ٹھہرنا میں اکیلا ہی جاؤں گا۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’میں تم سے بڑی ہوں۔ اس لئے مجھے بھی تمہارے ساتھ جانا چاہئے ۔‘‘ ’’ دیکھو سائرہ۔ اس میں خطرہ ہے اور ایسی جگہوں پر لڑکیوں کو نہیں جانا چاہئے۔ جہاں خطرہ ہو ۔‘‘ ’’ ٹھیک ہے مگر امی نے چلتے وقت مجھ سے کہا تھا کہ میں تم دونوں کا خیال رکھوں۔ خطرہ ہے تو تمہارے لئے بھی ہے میں تو ضرور جاؤں گی۔‘‘ ’’اچھا بھئی ٹھیک ہے مگر فرخ نہیں جائے گا۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ہاں فرخ کو نہیں لے جائیں گے ۔‘‘ ’’میں جانا بھی نہیں چاہتا ۔‘‘ فرخ بولا۔ ’’کل ہم سرنگ کے ذریعے جائیں گے اور کھانے کے وقت تک واپس آجائیں گے۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ٹھیک ہے۔ ‘‘ سائرہ نے جواب دیا۔ فرخ نے ڈاکٹر امجد سے ملاقات کے بارے میں پرویز کو کچھ نہیں بتا یا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں ڈانٹ نہ پڑے۔ (8) اگلے دن صبح ناشتہ سے فارغ ہو کر پرویز اور سائرہ چپکے سے سرنگ میں گھس گئے۔ پہلے تو انہیں اندھیرے میں اندر جاتے ہوئے بہت ڈر لگا۔ مگر ہمت سے کام لے کر وہ آگے بڑھتے ہی گئے۔ یہ خاصی لمبی سرنگ تھی اور دونوں بہن بھائی کافی دیر میں قلعے تک پہنچ سکے۔ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے یہ دونوں بہن بھائی جب دوسرے سرے پر قلعے کے اندر داخل ہوئے تو انہوں نے مالک کا شکر ادا کیا۔ تھوڑی دیر ٹھنڈی ہوا میں لمبے لمبے سانس لینے کے بعد دونوں کچھ تازہ دم ہوئے۔ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے یہ لوگ عروسی کمرے کے پاس پہنچ گئے۔ سرنگ قلعے کے باغ میں اس دالان کے قریب کھلتی تھی، جہاں سے گزر کر اوپر جانے کے لئے زینے کا راستہ تھا۔ وہ ابھی زینے کے دروازے تک ہی پہنچے تھے کہ انہوں نے سامنے سے ایک شخص کو ہاتھ میں ڈنڈالئے آتے دیکھا اس نے ان دونوں کو دیکھ لیا تھا اور وہ ان پر حملہ کرنے کی نیت سے ان کی طرف بڑھا۔ دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے باغ کی طرف بھاگے۔ وہ آدمی ان کے پیچھے بھاگا۔ اس کے پیچھے ایک آدمی اور تھا۔ بھاگتے بھاگتے سائرہ نے ٹھوکر کھائی اور وہ گر پڑی۔ پرویز سے اٹھانے کو جھکا۔ سائرہ کا پاؤں کسی پتھر سے ٹکرا یا تھا اور اس کے انگوٹھے میں چوٹ لگ گئی۔ ’’ ---- کیا کروں۔ ‘‘آنسو اس کی آنکھوں میں بھر آئے ۔ ’’ ارے کیا ہوا؟ چوٹ لگ گئی ہے؟‘‘ پرویز نے اس کا بازو تھام کر اٹھانے کی کوشش کی مگر اٹھ نہ پائی۔ اتنے میں دونوں آدمی وہاں پہنچ گئے اور ایک نے پرویز کو اور دوسرے نے سائرہ کو پکڑ لیا۔ اور ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر گھسیٹتے ہوئے ایک طرف کو لے چلے۔ ’’ چھوڑو مجھے۔‘‘ پرویز نے اس آدمی کو دھکا دیا۔ مگر وہ شخص خاصا صحت مند تھا اس نے اور زور سے پرویز کو پکڑ لیا۔ اور اس کے منہ پر ایک تھپڑ مارا۔ پرویز نے غصہ میں آکر زور سے اس آدمی کو دھکا دیا مگر اس نے دونوں کو زبر دستی پکڑ کر ایک کمرے میں جہاں فرش پر گھاس پڑی تھی ڈال دیا۔ پھر رسی سے دونوں کے ہاتھ باندھ دیئے اور منہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔ اور دروازہ باہر سے بند کر کے چلے گئے۔ کچھ دیر کے بعد انہیں قدموں کی چاپ سنائی دی۔ کوئی اس طرف آ رہا تھا۔ دروازہ آہستگی سے کھلا اور ایک لمبا سا آدمی نقاب پہنے آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگائے داخل ہوا۔ ’’اے لڑکے چابیاں کہاں ہے؟ ‘‘اس آدمی نے پرویز سے کہا۔ پرویز نے سر ہلایا۔ ’’ اس کے منہ سے کپڑا نکالو۔‘‘ اس نے حکم دیا اور ایک آدمی نے پرویز کے منہ سے کپڑا نکال دیا۔ ’’جلدی بتاؤ چابیاں کہاں ہیں؟ ‘‘ ’’کون سی چابیاں؟ میرے پاس کوئی چابی نہیں۔‘‘ پرویز نے جواب دیا۔ ’’ وہ جو کنور صاحب نے تمہیں دی ہیں ۔‘‘ ’’ مجھے نہیں معلوم تم سے کس نے کہا کہ دادا جان نے مجھے چابیاں دی ہیں؟ ‘‘ ’’اس کی تلاشی لو ۔‘‘ نقاب پوش نے اپنے آدمی کو حکم دیا۔ اس نے آگے بڑھ کر پرویز کی ساری جیبیں ٹٹول لیں ۔ چابیاں نہیں تھیں۔ سائرہ ڈری ہوئی یہ سب دیکھ رہی تھی ۔ ’’اس کے پاس چابیاں نہیں ہیں ۔‘‘ وہ ہٹا کٹا آدمی بولا۔ ’’ اس لڑکی کی تلاشی لو۔‘‘ سائرہ نے زور سے سر ہلایا کہ اس کے پاس کچھ نہیں ہے ۔مگر اس شخص نے سائرہ کی تلاشی لی۔ چابیاں اس کے پاس بھی نہیں تھیں۔ ’’ ان کو بند کر دو اور بھوکا پیاسا پڑا رہنے دو۔ جب بھوک لگے گی تو خود ہی قبول دیں گے کہ چابی کہاں ہے، چلو۔ ‘‘نقاب پوش نے کہا اور دونوں دروازہ باہر سے بند کر کے چلے گئے۔ سائرہ کو نقاب پوش کی آواز جانی پہچانی لگی اور وہ سوچنے لگی۔ ’’ یہ آواز میں نے کہاں سنی ہے؟ ‘‘ دماغ پر زور ڈالا تو یاد آگیا کہ ارے یہ تو ڈاکٹر امجد کی آواز ہے۔ اس نے دل میں کہا۔ (9) کئی گھنٹے گزر گئے اور سائرہ اور پرویز واپس نہ آئے تو فرخ پریشان ہو گیا۔ اس کا نہ کھیلنے میں دل لگ رہا تھا، نہ صابرہ سے باتیں کرنے میں۔ ایک بجے صابرہ نے آکر کہا ۔’’سائرہ باجی اور پرویز بھائی کہاں ہیں؟ کھانا تیار ہے ۔‘‘ ’’وہ تو راشد بھائی کے پاس گئے ہیں اور وہ کھانا بھی وہیں کھالیں گے ۔‘‘ فرخ نے کیا۔ ’’ انہوں نے تو بتا یا نہیں۔ ابو نے پرویز بھائی کی پسند کے کوفتے اور پلاؤ بنایا ہے ۔‘‘ ’’راشد بھائی نے ان کو بلالیا تھا ۔‘‘ ’’ تم کیوں نہیں گئے ؟‘‘ صابرہ نے پوچھا۔ ’’ میرا جی نہیں چاہا ۔‘‘ فرخ نے کہا۔ ’’اچھا تو چلو تم تو کھانا کھالو ۔‘‘ صابرہ نے کہا۔ کھانا کھا کر یہ دونوں باغ میں جا کر کھیلنے لگے۔ مگر فرخ، سائرہ اور پرویز کی وجہ سے پریشان تھا اور اس کا کھیل میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ ’’ کیا بات ہے؟ تم کچھ پریشان ہو ۔‘‘ صابرہ نے پوچھا۔ ’’ہاں‘‘ فرخ نے کیا پھر اس نے سرخ کمرے ،ہرے ڈبے اور عروسی کمرے کے بارے میں صابرہ کو سب کچھ بتا دیا۔ ’’ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ وہ لوگ صبح کے گئے ہوئے ہیں ۔‘‘ صابرہ نے کہا۔ ’’چلوا نہیں چل کر دیکھیں۔ کوئی گڑبڑ تو نہیں ہے ۔ــ‘‘ صابرہ نے فرخ کا ہاتھ پکڑا اور سرنگ کے راستے قلعے کی طرف چل پڑی۔ (10) پرویز اور سائرہ کے ہاتھ پاؤں بندھے بندھے تھک گئے تھے۔ بھوک سے بھی ان کا برا حال تھا۔ پکڑے جانے کے خوف سے پرویز نے بھاگتے بھاگتے دالان کے اندر محراب کے قریب دیوار میں ایک طاق میں چابیاں چھپادی تھیں۔ مگر اب ان کے یہاں سے نکلنے کا کوئی آسرا نہ تھا۔ سائرہ کو رونا آرہا تھا۔ اچانک قدموں کی آواز سنائی دی۔ وہ دونوں چونک پڑے۔ ایسا کون ہے؟ شاید ڈاکٹر امجد پھر آیا ہو۔ آہستہ سے دروازہ کھلا اور صابرہ اندر آگئی۔ اس کے ساتھ فرخ بھی تھا۔ انہوں نے ان دونوں کو حیرانی سے دیکھا۔ پھر صابرہ نے ایک چھوٹے سے چاقو سے ان کی رسیاں کائیں۔ پرویز بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر اس کا نہ تو وقت تھا نہ موقع۔ چاروں دبے پاؤں باہر نکلے ’’جلدی کرو ۔‘‘ صابرہ نے سرگوشی کی۔ آہستہ آہستہ یہ لوگ باہر سرنگ کے پاس پہنچ گئے۔ ’’ میں جواہرات کا ڈبا لئے بغیر نہیں جاؤں گا ۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ پرویز یہاں سے نکل چلو۔ وہ تم کو مار ڈالیں گے ۔‘‘ سائرہ بہت خوف زدہ تھی۔ ’’ تم اور فرخ شیش محل واپس چلے جاؤ۔ میں بعد میں آؤں گا ۔‘‘ ’’ میں تمہارے ساتھ رہوں گی ۔‘‘ صابرہ نے کہا۔ پرویز کے اصرار پر سائرہ فرخ کو لے کر سرنگ کے راستے شیش محل واپس چلی گئی اور پرویز تیزی سے دالان میں آیا۔ چابیاں طاق میں موجود تھیں۔ صابرہ اس کے پیچھے پیچھے تھی۔ چابی لے کر پرویز عروسی کمرے میں پہنچا۔ ’’ صابرہ۔ تم باہر رہو۔ میں اندر جاتا ہوں۔ تم باہر سے دروازہ بند کرے چھپ جانا اور تھوڑی دیر بعد آکر دروازہ کھول دینا۔ ٹھیک ہے ۔‘‘ پرویز نے اسے سمجھایا۔ صابرہ نے پرویز کے کمرے میں جاتے ہی باہر سے دروازہ بند کر کے کنڈی لگادی اور ایک محراب کے اندر در کے پیچھے چھپ کر کھڑی ہو گئی۔ عروسی کمرے میں اندھیرا تھا۔ پرویز نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔ جب اس کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو اس نے دیکھا کہ پورے کمرے میں کوئی الماری یا بکس نہیں تھا جس میں چابی لگ سکے۔ پریشان سا ہو کر وہ فرش پر بیٹھ گیا۔ اب کیا کروں۔ اچانک اس کی انگلیاں کسی چیز سے ٹکرائیں۔ یہ تو تالا تھا اس نے جلدی سے ایک چابی اس میں گھمائی ۔اتفاق سے وہی چابی اس تالے کی تھی ۔تالا کھل گیا اور فرش میں چھوٹا ساڈھکنا کھل گیا۔ پرویز نے اندر ہاتھ ڈالا ایک بڑا سا سبز مخملی بکس اندر رکھا تھا۔ یہی وہ بکس تھا جس کی اسے تلاش تھی اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ پھر دروازہ کھولنے کی آواز آئی۔ یہ صابرہ تھی۔ ’’کیا آپ کو مل گیا ہے ؟‘‘اس نے پوچھا۔ ’’ہاں چلو۔ جلدی سے یہاں سے نکل جائیں ۔‘‘ یہ لوگ تیزی سے کمرے سے نکلے۔ اپنی خوشی اور جوش میں پرویز نے یہ بھی نہ دیکھا کہ سامنے سے تین آدمی آرہے ہیں اور ان میں سے ایک ڈاکٹرا مجد ہے۔ (11) سائرہ اور فرخ سرنگ سے باہر نکلے تو شیش محل کے باغ میں راشد کو ٹہلتے پایا۔ وہ ان ہی لوگوں سے ملنے آیا تھا اور ان کو محل میں نہ پا کر یہاں باغ میں آگیا تھا۔ ’’ کیا ہوا ہے ؟‘‘راشد سائرہ کے مٹی سے اٹے کپڑے اور چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھ کر گھبرا گیا۔ راشد کو دیکھ کر سائرہ کو بھی اطمینان ہوا اور اس نے جلدی جلدی ساری کہانی راشد کو سنادی۔ راشد سمجھ گیا کہ کیا قصہ ہے۔ اس نے اپنی ٹار چ سا تھ لی اور اپنے پالتو کتے کی زنجیرپکڑی ۔’’ چلو…‘‘اور وہ تینوں جیپ میں بیٹھ کر قلعے میں پہنچے۔ قلعے کے مغربی حصے میں جاکر راشد نے پرویز کو زور زور سے آواز یں دیں۔ کتے نے بھی زور زور سے بھونکنا شروع کر دیا۔ مگر پرویز کا کوئی پتہ نہ تھا۔ یہ لوگ عروسی کمرے میں گئے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ فرش پر ایک خفیہ خانہ ہے جس کا ڈھکنا کھلا ہے اور اندر دیکھا تو خانہ خالی تھا۔ اچانک کتا ایک طرف کو بھونکتا ہوا دوڑا۔ یہ تینوں بھی اس کے پیچھے پیچھے گئے۔ گیلری میں صابرہ کے دوپٹے کا پھٹا ہوا ٹکڑا پڑا تھا۔ ’’دیکھئے ۔‘‘سائرہ نے وہ ٹکڑا اٹھا لیا۔ ’’یہ صابرہ کے دوپٹے کا ٹکڑا ہے۔ وہ نیلا دوپٹہ اوڑھے تھی۔‘‘ ’’ تمہیں یقین ہے کہ یہ اسی کا دوپٹہ ہے ۔‘‘ راشد نے پوچھا۔ ’’ہاں بالکل میں اچھی طرح پہچانتی ہوں ۔‘‘ یہ لوگ اسی راستے پر آگے چل دیئے ۔آگے جاکر انہیں ایسے ہی دو ٹکڑے اور ملے۔ اس کا مطلب ہے ان کو کوئی زبر دستی ساتھ لے گیا ہے۔ سائرہ نے سوچا۔ یہ سب کیسے ہوا۔ یہ کم بخت چوکیدار کہاں گئے۔ راشد کو سخت غصہ آرہا تھا اور وہ پریشان سا تھا۔ ’’ راشد بھائی۔ ہو سکتا ہے چوکیدار ڈاکٹر کے ساتھ ملے ہوئے ہوں ۔‘‘ سائرہ نے کیا۔ ’’ہاں ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر قلعے میں اکثر آتا جاتا رہتا ہے ۔‘‘ راشد نے کہا قلعے سے باہر دور تک کوئی نہ تھا۔ راشد نے ادھر ادھر ٹارچ کی روشنی ڈالی۔ ’’ یہ تو جیب کے پہیوں کے نشانات ہیں۔ ‘‘اس نے کہا۔ ’’ہاں ایسا لگتا ہے۔ یہ لوگ جیپ میں یہاں سے گئے ہیں ۔ ‘‘سائرہ نے کہا۔ ’’ چلوان کا پیچھا کرتے ہیں ۔‘‘ اتنے میں راشد کا ڈرائیور بھی کتے کے بھونکنے کی آواز سن کر آچکا تھا۔ ’’کیا بات ہے صاحب جی ۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’جلدی کرو۔ جیپ نکالو ۔‘‘ یہ چاروں جیپ میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔ ’’ تیز چلاؤ… اور تیز…‘‘ راشد نے ڈرائیور کو حکم دیا۔ دور سے انہیں جیب کی روشنیاں نظر آرہی تھیں۔ ’’اب ہم انہیں پکڑ لیں کے ۔‘‘ فرخ نے خوش ہو کر کہا۔ ’’ہاں ان شاء ---- ۔‘‘ راشد نے جواب دیا۔ (12) صابرہ اور پرویز کو ڈاکٹر اور اس کے ساتھیوں نے زبر دستی قلعے سے باہر نکلنے پر مجبور کیا۔ جب یہ لوگ باہر آئے تو انہوں نے زبر دستی انہیں جیپ میں ڈالا۔ بیش قیمت زیورات و جواہرات کا بکس ڈاکٹر کے ہاتھ میں تھا اور یہ لوگ نا معلوم طرف روانہ ہو گئے۔ سب کی آنکھ بچا کر صابرہ اپنا دوپٹہ پھاڑ پھاڑ کر اس کے ٹکڑے راستے میں پھینکتی گئی۔ تاکہ ان کو ڈھونڈنے والوں کو آسانی ہو۔ ڈاکٹر نے پیچھے سے آتی جیپ کی بتیاں دیکھ لی تھیں۔ جو اب کافی قریب آچکی تھیں۔ ’’تیز چلاؤ۔‘‘ وہ چیخا۔ ڈرائیور نے جیپ ایک کچے راستے پر اتار دی۔ کچی سڑک پر جیب اچھلتی جارہی تھی ،اچانک جیپ جھٹکے سے رک گئی۔’’ کیا ہوا؟‘‘ ڈاکٹر نے غصے سے پوچھا۔ ’’ شاید کوئی بڑا پتھر اگلے پہیوں میں آگیا۔ پہیے جام ہو گئے ہیں۔ــ‘‘ ڈاکٹر نے ڈانٹ کر کہا ۔’’جلدی کرو۔ اتر کر دیکھو کہ کیا ہوا ہے۔‘‘ ڈرائیور نیچے کو دا اور اس کے ساتھ پرویز کے پاس بیٹھے ہوئے آدمی بھی نیچے اتر کر ڈرائیور کی مدد کرنے لگے۔ پرویز نے صابرہ کو اترنے کا اشارہ کیا اور دونوں ایک دم جیپ سے کود کر بھاگے۔ ’’ پکڑو۔‘‘ ڈاکٹر چلایا۔ یہ دونوں اس طرف بھاگے جدھر سے دوسری جیپ آرہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں جیپ ان کے پاس آکر رک گئی۔ ’’پرویز یہ تم ہو ۔‘‘ راشد خوشی اور حیرت سے چلایا۔ سائرہ بھی کود کر جیپ سے باہر آگئی۔’’ ٹھیک تو ہو پرویز ۔‘‘ ’’ باتیں کرنے کا وقت نہیں راشد ۔‘‘ پرویز نے جلدی سے کہا ’’ جلدی کرو۔ زیوارت کا بکس ڈاکٹر کے پاس ہے ۔‘‘ راشد نے کہا اور پرویز اور صابرہ جلدی سے جیپ میں بیٹھ گئے۔ ڈاکٹر اور اس کے ساتھی جیپ کو دھکیل کر پتھر کو ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے ۔اچانک ڈاکٹر نے جیب میں سے زیورات کا بکس اٹھایا اور ایک طرف کو بھاگ نکلا ۔اس کے ساتھی بھی جیپ آتی دیکھ کر ادھر ادھر بھاگ گئے۔ راشد نے ٹارچ کی روشنی میں دیکھا کہ جیپ کے آس پاس کوئی نہ تھا۔ اس نے اپنے کتے کو اشارہ کیا اور وہ جھپٹ کر ڈا کٹرا مجد کے پیچھے دوڑا۔ ڈاکٹر بھاگ رہا تھا مگر جلد ہی کتے نے اسے پکڑ لیا۔ ڈاکٹر زور سے چیخا۔’’ بچاؤ! بچاؤ ۔‘‘ تھوڑی دیر میں یہ سب ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے۔ راشد نے ڈاکٹر کے ہاتھ سے جواہرات کا بکس لے لیا۔ اور یہ لوگ ڈاکٹر کو جیپ میں بٹھا کر پولیس اسٹیشن روانہ ہو گئے۔ (13) اگلی صبح تینوں بہت دیر تک سوتے رہے۔ خاصا دن چڑھ آیا تو چھٹن نے آکر انہیں آواز دی۔ ’’پرویز بابو! اٹھیے کنور صاحب آپ سب کو بلارہے ہیں ۔‘‘ پرویز ایک دم اٹھ گیا۔’’ دادا جان کی طبیعت کیسی ہے ؟‘‘اس نے پوچھا۔ ’’وہ اب بہت بہتر ہیں ۔‘‘ چھٹن نے جواب دیا۔ چھٹن کی آواز سن کر سائرہ اور فرخ کی بھی آنکھ کھل گئی۔ اچانک ان کے ابو اور امی کمرے میں داخل ہوئے۔ بچے انہیں دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑے۔فرخ دوڑ کر امی سے لپٹ گیا۔ ’’ آپ کب آئے؟‘‘ پرویز نے باپ سے پوچھا۔ ’’ہم ابھی پہنچے ہیں۔ تمہارے جانے کے بعد ہمارا دل بھی چاہنے لگا کہ ہم بھی یہاں آئیں۔ ابا سرکار سے ملے ہوئے کتنے دن ہو گئے تھے۔ نجانے ان کا کیا حال ہے ۔‘‘ انہوں نے کہا۔ پھر وہ چھٹن کی طرف مخاطب ہو کر بولے۔ ’’کیا ابا سر کار کو ہمارے آنے کی خبر ہو گئی؟ ‘‘ ’’جی چھوٹے سرکار، اور وہ آپ سب کو یاد کر رہے ہیں ۔‘‘ پرویز نے پھر جلدی سے اپنی امی کو جواہرات کا بکس دکھایا۔’’ امی ! دادا جان نے ہمیں قلعے سے یہ لانے کو کہا تھا۔ ---- کا شکر ہے ہم اس کو لانے میں کامیاب ہو گئے۔دادا جان کے ڈاکٹر نے ہی تو ہم کو پکڑ لیا تھا ۔وہ ان زیوارت کو حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ہم نے را شد بھائی کی مدد سے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا ہے ۔‘‘ ’’شاباش بیٹے! تم نے تو بہت بہادری دکھائی ۔‘‘ ابو مسکرائے۔ پھر سب دادا جان کے کمرے میں گئے۔ مسہری کے قریب پہنچ کر پرویز نے کہا۔ ’’داداجان آنکھیں کھولئے۔ دیکھئے تو کون آیا ہے ۔‘‘ ’’کون آیا ہے، بیٹے ؟‘‘ انہوں نے آنکھیں کھول کر کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔ ابو دادا جان کے قریب آگئے۔’’ ابا جان! میں ہوں مجھے معاف کر د یجیے ۔‘‘ ابو ان پر جھک گئے دادا جان نے اپنا لرزتا ہوا ہا تھ ان کے سر پر رکھ دیا۔ ’’ بہو کہاں ہیں ؟‘‘ امی بھی ان قریب آگئیں۔ دادا جان نے ان کے سر پر بھی ہاتھ رکھا۔ ’’ پرویز بیٹے۔ جواہرات مل گئے۔ ‘‘ ’’جی دادا جان۔ ‘‘ پرویز نے بکس انہیں دیا۔ ’’ یہ لیجئے۔‘‘ ’’اسے کھولو۔‘‘ پرویز نے ڈبہ کھولا۔ سب کی آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔ اس بکس میں ایک خزانہ تھا۔ ہیرے جواہرات کا۔ ’’لو بیٹے !یہ ورثہ ہے تمہارے خاندان کا۔ اس کی حفاظت کرنا ۔‘‘ اور یہ کہتے ہوئے وہ ڈبا انہوں نے پرویز کے ابا کو دے دیا۔ پھر وہ پرویز کی طرف مخاطب ہوئے۔ ’’تم بہت بہادر ہو۔ آخر تو ہو نہ ہمارے پوتے ۔
-
ووڈی (woody) - ملخوظ
رات کی تاریکی کو ختم کرنے کے لئے صبح کی پہلی کرن نمودار ہو رہی تھی . اسی لمحے زمین کے سینے سے ایک ننھی کومل پتی نے اپنا سر باہر نکالا اور ٹھنڈی ہوا میں اپنی پہلی سانس لی .اس کا بیج نجانے کونسے خطے سے کسی پرندے نے لا کر پھینک دیا تھا اور زمین نے اسے اپنے اندر پناہ دے کر سینچ کر زندگی دی . خدا کی قدرت کہاں کا بیج کہاں آیا اور زندگی پائی. سخت زمین پر یہ ننھا سا نازک ترین پودا . موسم اور سخت حالات کا مقابلہ کرنے اور اپنے آپ کو منوانے اپنے چھوٹے سے وجود کے ساتھ سینہ تانے کھڑا تھا .اس کے اندر ایک عزم تھا . حالات اور موسم کچھ بھی کہیں . وہ بڑا ہو گا اور اپنا ٹھنڈا سایہ ضرور اس زمین کو دے گا جس نے اسے اپنے اندر چھپاۓ رکھا اور اپنا سینہ چاک کر کے نئی زندگی دی اور اپنے اندر اسکی نازک جڑیں اس طرح سے پکڑ لیں کہ کہیں تیز ہوا اڑا کر نہ لے جاۓ اب اس ننھے سے وجود کو اس زمین پی سایہ کر کے اس کا حق ادا کرتا تھا . قدرت نے بھی ساتھ دیا ہر روز اسکی توانائی بڑھنے لگی . دنوں ، مہینوں اور پھر ایک سال میں چھوٹے سے درخت کی شکل اختیار کر گیا . خوبصورت گول مٹول ، ایک مختلف شکل کا درخت جس کے پتوں میں بہت زیادہ چمک تھی ... شاخیں کچھ اس طرح سے پھیل رہی تھیں جیسے خوش آمدید کہہ رہی ہوں اور اپنے اندر کسی کو بھی پناہ دینے کی طاقت رکھتی ہوں . جب ہوا چلتی تو پتے اس طرح سے ہلتے جیسے کسی کو جھولا جھلا رہے ہوں اور اگر غور سے سنا جاۓ تو موسیقی کا گمان ہوتا تھا . جس صبح یہ پودا زمین کے سینے سے سر ابھار کر اپنی پہلی سانس لے رہا تھا .اسی لمحے ایک اور زندگی نے بھی اس گھر میں جنم لیا اور وہ کرن تھی . ننھا سا پیارا سا وجود ماں کی آغوش میں سینے سے لپٹا گرمائی حاصل کر رہا تھا . ماں آنکھیں بند کیے مالک کا شکر ادا کر رہی تھی اور اپنے بچے کی سلامتی کی دعا مانگ رہی تھی . آج یہ ننھی اور خوبصورت جان ایک گڑیا سی شکل ایک سال کی ہو گئی تھی . مما نے کرن کو گود میں لئے کھڑکی سے باہر لان میں دیکھا تو حیران رہ گئیں. " ارے یہ پودا تو چھوٹے سے درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے ." وہ کرن کو گود میں لئے باہر آئیں. " ارے تم اتنے بڑے ہو گئے ہو میرے پیارے ننھے دوست ' میں نے تمہاری طرف دیکھا تک نہیں . سوری دوست ، میں نے تمہیں اتنے عرصے نظر انداز کیا . تم بہت خوبصورت ہو تمہارے پتوں میں کتنی چمک ہے . تمہاری شاخیں کتنے خوبصورت انداز میں پھیل رہی ہیں میں اتنی مصروف ہوئی کہ تمہارا خوبصورت وجود میری نظر میں ہی نہیں آیا . آج تمہاری اور کرن کی سالگرہ اکٹھی ہو گی اور تمہارا نام میں وڈی( woody) رکھتی ہوں ." پھر وہ گود میں بھری کرن کو پیار کرتے ہوئے بولیں . " آج سے یہ درخت تمہارا ساتھی اور دوست ہے تم یہاں اس کے ساۓ میں کھیلا کرنا ." شام ہونے سے پہلے درخت کے ساتھ ایک بڑی میز رکھ دی گئی . سرخ میز پوش ، سفید پلیٹیں ، درمیان میں بڑا سا کیک ... کرن نے تالیوں کی گونج میں اپنا پہلا کیک کاٹا . چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے تالیاں بجائیں. اب معلوم نہیں کہ کسی نے محسوس کیا کہ نہیں ایک ٹھنڈی ہوا کا تیز جھونکا آیا . چھوٹا سا درخت جھوما اور فضا خوشگوار ہو گئی . ہلکی ، ہلکی خنکی بڑھی . مہمانوں نے گرم کافی مزے لے ، لے کر پی اور آئے ہوئے مہمان اور بچے اپنے ، اپنے گھروں کو چلے گئے . برتن اور ٹیبل سمیٹ دی گئی . کرن کی مما نے ایک ہار اٹھا کر درخت کے ارد گرد لپیٹ دیا اور کہا . " پیارے دوست سالگرہ مبارک ." اور یوں کرن اور درخت کی پہلی سالگرہ ہوئی . سردی کی خوشگوار ابتدا تھی . لان میں بیٹھنا اچھا لگ رہا تھا . ہلکی ، ہلکی دھوپ کی گرمائی بھی اچھی محسوس ہو رہی تھی . کرن اپنے پریم میں لیٹی مزے مزے سے چس چس کی آواز نکال کر فیڈر میں بھرا دودھ اپنے اندر اتار رہی تھی . جیسے جیسے دودھ ختم ہو رہا تھا کرن کے اندر طاقت آ رہی تھی . وہ زور زور سے ہاتھ پیر مار کر کھیلتی رہی . جب دودھ ختم ہو گیا تو اس نے بوتل منہ سے نکال کر ایک طرف پھینک دی . وہ ہلتے ہوئے پتوں کے ساتھ کھیل رہی تھی . تیز ہوا کے ساتھ جب پتے زور زور سے ہلتے تو وہ اچھل اچھل کر پکڑنے کی کوشش کرتی اور خوش ہوتی . اس کی مما تھوڑے ہی فاصلے پر بیٹھی نٹنگ کر رہی تھیں . کرن کے چھوٹے چھوٹے قہقہے بہت اچھے لگ رہے تھے . قدرت کا یہ کھیل وہ بہت دلچسپی سے دیکھ رہی تھیں . اور پھر کرن کھیلتے کھیلتے سو گئی . مما نے بہت پیار سے پھول دار رضائی اس کے ارد گرد لپیٹی اور منہ پر جالی ڈھک دی جو بچوں کے لئے مخصوص ہوتی ہے . اپنی اون سلائیا ں بھی بند کر کے بیگ میں رکھیں . درخت کے ارد گرد سے گھاس صاف کی اور ایک چھوٹی سی کیاری بنائی ، پانی دیا اور پھر کرسی پر جا کر بیٹھ کر کچھ سوچنے لگیں . کچھ ہی سال میں یہ چھوٹا سا پودا ایک بڑا تناور درخت بن جاۓ گا اس کا سایہ کتنا ٹھنڈا ہو گا اس کی شاخیں زمین کے جتنے حصے پر بھی پھیلیں گی اتنا حصہ گرمی سے محفوظ رہے گا اس کی وجہ سے فضا بھی ٹھنڈی ہو جاۓ گی . پھر کوئی خوبصورت چڑیا آ کر اپنا گھونسلا اس کی کسی شاخ پر بنا لے گی اور بہار کی آمد کے گیت سنائے گی . پھر وہ گنگنانے لگیں ایک لوری ...ایک د عا ... یا پھر ایک خواہش جس کا مفہوم کچھ اس طرح سے تھا . " اے میری ننھی کرن میری د عا ہے میرے دل سے نکلتی ہوئیایک ہی خواہش ... تو بھی ایک دن اس درخت کی طرح ایک مکمل اور صحت مند وجود بن جاۓ . ایک ایسا وجود جو نسل انسانی کی حفاظت کرے قبل فخر ہستی بنے .جس طرح یہ درخت اس دھرتی ماں کا سایہ بن کر نسل انسانی کا حق ادا کرتا ہے . ایسے ہی جیسے ایک بیج سے سو دانے نکلتے ہیں اسی طرح تیرے وجود سے ہزاروں انسان فائدہ اٹھائیں . اے میری ننھی کرن تیرے وجود سے بہت ساری روشنی اس دنیا میں پھیل جاۓ . تیری خوشبو سے فضا معطر ہو جاۓ .میری د عا ہے مالک سے جس نے تجھے اور اس اجہاں کو بنایا . میں تیری پرورش ایک عبادت کی طرح کر پاؤں ." مما لوری سناتے ، سناتے سو گئیں اور زندگی کے پانچ خوبصورت سال بینک اکاونٹ کی طرح جمع ہو گئے. چھوٹے سے درخت نے تناور درخت کی شکل اختیار کر لی اب ننھی کرن بھی سکول جانے لگی تھی . یہ ماہ و سال کرن کے اس درخت کے نیچے کھیلتے کودتے گزرے تھے .وہ درخت ہی کرن کا دوست تھا ، بھائی تھا ، ساتھی تھا . کرن ہر روز سکول جانے سے پہلے اس کے نیچے کچھ دیر کے لئے جھولے پر بیٹھتی . جھولا جھولتی چڑیا کی میٹھی آواز سنتی اور پھر درخت کو مالک حافظ کہہ کر سکول چلی جاتی ،دوپہر کو بھی سکول سے آتے ہی سیدھی درخت کے نیچے جھولے پر جا بیٹھتی . " کرن پہلے کھانا کھا لو پھر کھیلنا ." مما کی آواز آتی .وہ سنی ان سنی کر دیتی اور پھر دن بھر کی روداد درخت کو سناتی . نئی یاد کی ہوئی نظم اسے سناتی اسے لگتا جیسے وہ سن رہا ہے ، سکول میں اگر کسی سے لڑائی ہو جاتی تو بھی آ کر درخت سے شکایت کرتی اور کہتی . " دیکھو دوست ، مجھے لڑائی بالکل اچھی نہیں لگتی ، تم اسے ڈانٹو اور کہو کہ مجھ سے دوستی کرے . دیکھو ناں جب میری اور تمہاری لڑائی نہیں ہوتی . ہم اچھے دوست ہیں تو آمنہ سے لڑائی کیسے ہو سکتی ہے وہ ہر روز مجھ سے کیوں لڑتی ہے . ہم دوست بھی تو بن کر رہ سکتے ہیں ناں." زندگی تیزی سے اپنا سفر طے کرنے لگی . ہنستے کھیلتے دس سال اور اگے بڑھ گئے . . تمہیں یاد ہے جب میں اور تم چھوٹے سے تھے تو میرا وجود ہوا کے ہلکے سے جھونکے کو بھی برداشت نہیں کر سکتا . تیز بارش مجھے بار ، بار زمین سے اکھیڑ دینا چاہتی تھی . میں گر ، گر پڑتا تھا .لیکن میرے اندر ایک عزم تھا . زندہ رہنے کا عزم ..... میں گر کر بھی کھڑا ہو جاتا تھا . میرا ناتواں دھاگے کی طرح باریک وجود .... ایک عزم ، ایک خواہش کی وجہ سے زندہ رہا اور آج تمہارے سامنے ایک ایسا تناور درخت ہوں جس کے ساۓ میں سب بیٹھتے ہیں . میری دوست تم بھی ہمت کرو ایک نئے عزم کے ساتھ نئے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑی ہو جاؤ . سب کچھ تمہارا ہی تو ہے اور سب سے بڑھ کر یہ زندگی تمہاری ہی تو ہے آج کرن کا دل کالج جانے کو نہیں چاہ رہا تھا . دماغ جیسے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے قاصر تھا . وہ اپنا سلیپنگ گاؤن پہنے لان میں آ کر بیٹھ گئی . آج اس کا دوست درخت بھی خاموش تھا . گھر میں اداسی تھی .وہ اپنے پپا کے لئے پریشان تھی . اب اس کے پپا ہر وقت پریشان اور اداس جو رہنے لگے تھے . " مما کے جانے سے جیسے ہر خوشی ہی روٹھ گئی ہے ." اسے لگا کہ جیسے اسکی مما اس کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی ہیں . " مما پلیز ایک بات کہوں . آپ خفا تو نہیں ہوں گی . کیا میں پپا سے اصرار کروں کہ وہ اپنے لئے کوئی دوست کوئی ساتھی لے آئیں. میں تو انکی بیٹی ہوں ناں ' وہ ضرور میرا کہنا مان لیں گے .آپ کی جگہ تو کوئی نہیں لے سکتا لیکن گھر میں کچھ خوشی آ جاۓ گی . آپ بھی ضرور یہی چاہیں گی اس لئے کہ آپ بھی پپا سے بہت پیار کرتی ہیں ." کرن جیسے ، جیسے سوچتی جا رہی تھی اسے سکون ملتا جا رہا تھا . وہ پپا کی بہت اچھی دوست بننے جا رہی تھی . " پپا خوش ہو جائیں گے اور میں مما کو دل ہی دل میں یاد کیا کروں گی ." سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی . پپا کی آواز سے وہ بیدار ہوئی . " کرن بیٹے آنکھیں کھولو . دیکھو تو ہمارے گھر کون آیا ہے .....؟" کرن نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں اور کھڑے ہو کر کپڑے درست کرنے لگی . " کرن یہ میری دوست تھیں اور آج سے تمہاری نئی مما بھی ہیں . تم بہت اداس اور تنہا ہو گئی تھیں اس لئے میں انہیں یہاں لے آیا . اب یہ ہمارے ساتھ رہا کریں گی اور یہ تمہاری بہن زارا ہے .مجھے یقین ہے کہ تمہاری جلد ہی اس سے دوستی ہو جاۓ گی .تم بہت خوش رہا کرو گی . اپنی بہن اور مما کو گھر دکھاؤ تاکہ یہ کچھ مانوس ہو جائیں." کرن کا دماغ جیسے سن ہو کر رہ گیا . اس کے سامنے بس دو لفظ گھوم رہے تھے . مما اور بہن . ذھن کو ایک جھٹکا لگا . پپا نے کیسے کتنی خوبی سے دو لفظوں میں کہانی مکمل کر دی . لمحے بھر میں ذھن نے بغاوت کی . " مما اور بہن ، اور میں کون .....؟ میں تو پپا کی دوست تھی اچھی اور سچی دوست میں کہاں چھپ گئی . کیا ان کے آنے سے میری تصویر دھندلا گئی ہے . پپا نے مجھ سے تو پہلے کوئی بات نہیں کی ." وہ سوچے جا رہی تھی . مہمان بھی آنے والا ہو تو گھر والوں کو پہلے سے بتایا جاتا ہے . میں کون ہوں بھلا ؟ اس کون سے آگے ایک سیاہ دھبہ سوالیہ نشان بن کر ابھرا . وہ غم اور غصے سے چکرا کر گرنے ہی والی تھی کے آگے بڑھ کر زارا نے سہارا دیا . " پیاری بہن ، میرا بھی تمہارے جیسا ہی حال ہے لیکن میں تمہاری اچھی دوست بن سکتی ہوں ." اس نے کہا . ٹھیک اسی لمحے پپا نے نزدیک آ کر دونوں کو اپنی بانہوں میں لے لیا . اور گھر کے اندر چلے گئے . کرن وقتی طور پر سنمبھلی اور پپا کے ساتھ ایک روبوٹ کی طرح گھر کے مختلف حصوں میں ان کے ساتھ گھومتی رہی .پھر آ کر لان میں سب بیٹھ گئے .فضلو بابا چاۓ لے کر آئے سب نے چائے پی . کرن کا سر ایسے بھاری ہو رہا تھا جیسے کسی نے سے پر بہت سارا سامان رکھ کر ہاتھ باندھ دیے ہوں اور وزن سے ٹانگیں لڑکھڑا رہ گئی۔۔ " پپا میری طبیعت خراب ہو رہی ہے میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہوں ." وہ فقط اتنا ہی کہہ سکی . " ہاں ، ہاں بیٹے تم آرام کرو . یہ لوگ آج صرف تم سے ملنے آئے ہیں . کل ہمیشہ کے لئے آ جائیں گے اور مجھے بھی آفس میں کچھ کام ہے اس لئے جا رہا ہوں شام کو ملاقات ہو گی ." پپا نے اسے گلے بھی نہیں لگایا . اس کا حال بھی نہیں پوچھا اور پل بھر میں ایک اجنبی کی طرح گاڑی میں بیٹھے اور چلے گئے . اور وہ ان لوگوں کو جاتا ہوا بہت دور تک دیکھتی رہی جب تھک گئی تو درخت کے نیچے جا کر پھر بیٹھ گئی . نہ آنکھوں میں آنسو تھے نہ کوئی شکایت تھی . وقت نے کیسی تیز رفتاری سے دھکا دیا . پپا اور اسکا رشتہ منقطع ....؟ کرن نے بے بسی سے سر اونچا کیا . " دوست مجھے بتاؤ .... یہ کیا ہوا ہے .....؟ میں کہاں ہوں اور کون ہوں ....؟ کیا میں اکیلی کھڑی ہوں .....؟" " نہیں دوست تم میرے ساتھ ہو ." کرن کو لگا درخت نے اسے تسلی دی ہو . یہ دیکھو میری شاخیں تمہارے ارد گرد ناچ رہی ہیں تمہیں تازہ ہوا دے رہی ہیں . تم غور سے سنو میرے پتوں سے موسیقی کی ہلکی ہلکی آواز آ رہی ہے . میرے پتے تمہیں ٹھنڈک کا احساس دیں گے . اور سنو دوست ... یہی زندگی ہے یہاں ایسا ہی ہوتا ہے . اکثر چلتے چلتے راستے بدل جاتے ہیں . موسم بدل جاتے ہیں . تم نے دیکھا ہے ناں. خزاں کے آنے پر درختوں سے سارے پتے کیسے رنگ بدل کر اڑ جاتے ہیں . ہر نئی تبدیلی اچھی لگتی ہے . تم بھی وقت کے ساتھ بدل جاؤ گی اور تم بھی ایسا ہی سوچ رہی تھی ناں. تمہارے پپا نے تمہاری خواہش کو پڑھ لیا تھا اس لئے انہوں نے یہ کام تمہارے کہے بغیر جلد از جلد کر لیا . تمہارے لئے بھی آسانی ہو گی . تمہیں ایک نئی دوست بھی مل جاۓ گی . مجھے دیکھو میں بھی تو کہیں اور سے ہی آ کر یہاں بڑا ہوا ہوں .. اکیلا تھا ... تمہارا دوست بنا . تم ہمت رکھو . جیسے میں تمہارا دوست بنا اب وہ لڑکی بھی تمہاری دوست بن جاۓ گی . تمہیں اچھا لگنے لگے گا . زندگی کا سفر اکیلے مشکل سے کٹتا ہے ، یہ گھر تمہارا ہے ہر چیز تمہاری ہے وہ لڑکی اکیلی ہے ، اجنبی ہے . کچھ ایسا کرو کہ وہ اس گھر میں اجنبی محسوس نہ کرے . اسے بڑھ کر خوش آمدید کہنا ، تمہارے پپا تم سے الگ نہیں ہیں تمہارے لئے ہی سوچتے ہیں . سب کے سامنے گلے لگا کر پیار کرنا تو محض ایک دکھاوا ہے ان کے دل میں دیکھو گی تو خود کو ہی پاؤ گی یہ سب کچھ انہوں نے تمہیں خوش کرنے کے لئے ہی تو کیا ہے . ذرا اس لڑکی کے لئے سوچو .اسے نئے گھر میں آ کر خود کو سیٹ کرنے میں کتنی مشکل ہو گی . خوش ہو جاؤ میری دوست . اسے اپنے گھر میں ہی نہیں اپنے دل میں بھی جگہ دو . ہر نئی تبدیلی اچھی ہوتی ہے . " کرن نے آنکھیں کھول دیں گالوں پر آنسو خشک ہو چکے تھے دل ہلکا ہو گیا تھا . اس نے عقیدت سے درخت کو دیکھا . " شکریہ دوست تم ہمیشہ ہی میرے ساتھ ہوتے ہو . میں وقتی طور پر کمزور ہو گئی تھی . اگر اس وقت تم میرا ساتھ نہ دیتے تو میں پپا سے ہمیشہ کے لئے دور ہو جاتی اور وہ بھی مجھ سے نا امید ہو جاتے .میں اپنے ہی گھر میں ایک نا پسندیدہ اور بد مزاج لڑکی بن جاتی .". کرن اپنے کمرے میں چلی گئی . تھوڑی دیر اپنے کمرے کو حسرت سے سے دیکھتی رہی جہاں وہ اور اسکی مما بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے پھر مما اسے پیار کر کے گڈ نائٹ کہہ کر چلی جایا کرتی تھیں . " کل سے یہ کمرہ صرف میرا نہیں کسی اور کا بھی ہو گا ." پھر اسے زارا کا خیال آیا . " وہ بھی تو اپنا کمرہ چھوڑ کر آ رہی ہے . اور نہ جانے کیا ، کیا سوچ رہی ہو گی . نئے ماحول میں آ کر رہنا اس کے لئے بھی تو مشکل ہو گا . جس طرح مجھے عجیب لگ رہا ہے میں اپنی مما کو نہیں بھول رہی ہوں . اسی طرح وہ بھی اپنے پپا کو کیسے بھول سکتی ہے . میرا طرح اسے بھی میرے پپا کو قبول کرنا مشکل ہو گا . شاید یہی سوچ کر پپا نے اس کے سامنے مجھے پیار نہیں کیا کہ اس کو اپنے پپا کی کمی محسوس نہ ہو . میرے پپا کتنے گریٹ ہیں . میرا یہ گھر ہے . اس کے لئے یہ سب نیا اور ہر چیز پرائی ہے . مجھے اگے بڑھ کر اپنی ہر چیز اسے خوشی سے دینی چاہیے اور پپا کی دوست بھی شاید بری نہیں ہوں گی . اور سب سے اچھی بات یہ بھی ہے کہ اب پپا اداس نہیں ہوا کریں گے . پپا نے بھی کچھ سوچ کر یہ فیصلہ کیا ہے ." اسے دور کھڑی ہوئی اپنی مما بہت مطمئن نظر آئیں. کچھ ہی دیر میں اس نے زارا کے لئے ..... اپنے کپڑوں کی الماری آدھی خالی کر دی . بک شیلف سے بھی فالتو کتابیں اور کچھ چیزیں ایک ڈبے میں بند کر کے رکھ دیں . وہ کام کر کے کچھ تھک سی گئی تھی باتھ روم میں جا کر شاور لیا . مما کی پھر یاد آئی . پانی بھی بہاتی رہی اور روٹی بھی رہی . بہت دیر بعد باہر نکلی تو پپا باہر کھڑے اس کا انتظار کر رہے تھے . اسکی سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر تڑپ گئے ، بڑھ کر بانہوں میں لے لیا . دیر تک سینے سے لپٹاۓ آنکھیں بند کے کھڑے رہے . تھوڑی ہی دیر بعد اسے لگا کہ اس کا چہرہ پپا کے آنسوؤں سے بھیگ رہا ہے . کرن نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں . " پپا ." وہ ایک دم سے ہی بڑی ہو گئی اور ایک چیخ کے ساتھ پھر لپٹ گئی . " پپا یہ کیا ....؟ یہ آنسو کیوں .....؟ میں ہوں ناں، کیا میں آپکی بیٹی آپ کی دوست نہیں ہوں ...؟ کیا آپکو میرے اندر مما کا عکس نظر نہیں آتا . انسان کو کسی نہ کسی موڑ پر تو جدا ہونا ہی ہوتا ہے . لیکن پپا اگر کوئی یادوں میں ساتھ رہے تو پھر کبھی کوئی دور نہیں ہوتا . پپا تو پھر یہ آنسو کیسے ....؟ پپا نے اپنی فلاسفر بیٹی کو گلے سے لگا کر پیار کیا . اس رات وہ پپا کے کمرے میں ان کے سینے سے لگی سوتی رہی ، جاگتی رہی . دبی ،دبی سسکیاں اندر بین کرتی رہیں . وہ مطمئن تھی . اچھے لمحے چاہے تھوڑے بھی ہوں پھر بھی دائمی ہوتے ہیں . وہ جانتی تھی کہ اب کبھی بھی اتنی دیر پپا کے سینے سے نہ لگ پاۓ گی . صبح ہوئی . پپا تیار ہو کر آفس چلے گئے . کرن کالج نہ جا سکی . تمام دن گھر ....میں بے چین پھرتی رہی . ایک ایک چیز کو دیکھا . ان چیزوں کو جنھیں اسکی مما نے شوق سے خرید کر اپنے ہاتھوں سے سجایا تھا . انھیں چھو چھو کر ایسے دیکھا جیسے ان پر اب حق ختم ہونے جا رہا ہو . مما ایک ساۓ کی طرح اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھیں . وہ سوچوں میں گم تھی . نئی ممی نے ہلکا سا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا . اور نزدیک ہو کر پیار سے بولیں . " بیٹا کیا بات ہے ... کچھ سوچ رہی ہو یا تھک گئی ہو ." " جی آج ذرا تھک گئی ہوں." وہ چونکی . " بیٹا چلو پھر آرام کرو . زارا کو بھی اپنے کمرے میں لے جاؤ دونوں بہنیں گپ بھی لگاؤ اور آرام کرو ." پپا نے بھی کچھ اندازہ لگایا اور آہستہ سے بولے . اس نے نئی مما اور پپا کو کمرے میں جاتے ہوئے . ایک بار پھر دل زور سے دھڑکا . دروازے میں پردے کے ساتھ اپنی ممی کے ساۓ کا خیال آیا اور وہ بہت صبر کے ساتھ زارا کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر کے اپنے کمرے میں جا کر باتھ روم میں چلی گئی . آنکھیں جل رہی تھیں . کچھ آنسو بہت دیر سے بہہ کر نکلنے کے لئے بے قرار تھے ' پانی کے ساتھ آنسوؤں کو بہایا اور تولیے سے آنکھیں خشک کر کے باہر نکل آئی اب زارا بھی کمرے میں آ کر بیٹھ چکی تھی . " زارا تم بھی کپڑے تبدیل کر لو ' میں نے تمہارا بیگ الماری میں رکھوا دیا تھا . کل تو چھٹی ہے پرسوں سے پھر کالج . مجھے خوشی ہے کہ تم بھی آئی ہو . میں اکیلی تھی . تمہارا آنا مجھے بہت اچھا لگا ." کرن نے پاس آ کر کہا . زارا کے لئے یہ گھر نیا تھا اس لئے اسے کچھ عجیب سا لگ رہا تھا . کرن کا اپنا گھر تھا . پھر بھی اسے آج اجنبی لگ رہا تھا . گھر میں دو اجنبی لوگ بہت اپنے بن کر قریب آ گئے تھے اس کا سب ہی کچھ بٹتا ہوا لگ رہا تھا . پھر بھی کرن اپنے اخلاق کو برقرار رکھتے ہوئے خود کو سہارا دیے ہوئے تھی . کمرے میں خاموشی تھی . کرن آنکھیں بند کر کے سکون سے لیٹنا چاہتی تھی وہ بہت تحمل سے بولی . " زارا تم بھی آرام کر لو . میں کچھ تھک گئی ہوں . کل بہت ساری باتیں کریں گے ." زارا نے اٹھ کر کپڑے تبدیل کیےاور بستر پر آ کر لیٹ گئی . . اس کے لئے بھی ماحول اجنبی تھا وہ بھی کچھ عجیب سا محسوس کر رہی تھی . " کرن ، تمہیں ہمارا یوں اچانک آ جانا بہت عجیب لگ رہا ہو گا .... ہے ناں؟" زارا نے جھجکتے ہوئے کہا ." میری اور تمہاری قسمت کچھ ایک جیسی ہے . میں بھی اپنا گھر ، اپنا کمرہ چھوڑ کر آئی ہوں . اور تم بھی اپنے ہی گھر میں مشکل محسوس کر رہی ہو گی . لیکن فکر نہ کرو دوست اگر تم کو اچھا نہیں لگا ... تو میں مما سے کہوں گی مجھے ہاسٹل بھیج دیں . دیکھو میری بات کا غلط مطلب نہ لینا . میں بہت چھوٹی عمر سے ہاسٹل میں ہی رہی ہوں . مما مصروف رہتی تھیں . اس لئے مجھے گھر اور ہاسٹل ایک جیسا ہی لگتا تھا . کرن تم اپنا دل میری طرف سے ہمیشہ صاف رکھنا .میری وجہ سے تمہیں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہو گی ." کرن بہت ہی حساس لڑکی تھی . وہ اٹھ کر زارا کے قریب بیٹھ گئی . " زارا ... جو کچھ تم محسوس کر رہی ہو . ایسا کچھ بھی نہیں ہے . تمہاری موجودگی مجھے بہت اچھی لگ رہی ہے .ہم اچھے دوست بن سکتے ہیں . وہاں تم اکیلی تھیں . یہاں میں اکیلی تھی .میرے پاپا اور تمہاری مما بھی اکیلے تھے. اب ہم چار ہیں . میرے پاپا اور تمہاری مما نے یہ فیصلہ کیا .وہ بہت ٹھیک کیا . اب ہماری فیملی مکمل ہو گئی ہے . اور گھر تو بس آرام سے رہنے کے لئے ہوتا ہے جو بھی رہتا ہے اسی کا ہو جاتا ہے .اور یہ ہم سب کا ہے ہم سب خوشی سے رہیں گے اور جب سب خوش رہتے ہیں تو سب اچھا لگنے لگتا ہے ." کرن اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی . زارا کو کرن کی باتیں بہت اچھی لگی تھیں اب وہ آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کر رہی تھی . کرن بھی سونا چاہتی تھی لیکن ایک دم سے اتنی بڑی تبدیلی نے اسے اندر سے توڑا ہوا تھا . سبھی کچھ اپنا ہوتے ہوئے بھی پرایا سا لگ رہا تھا . سب سے بڑھ کر پپا ... جو اس کے اپنے تھے . جن کے جسم کا وہ حصہ تھی . دو دن سے کتنے مختلف لگ رہے تھے . دل کے اندر دکھ نے پھر سر ابھارا . " کتنا بڑا فیصلہ انہوں نے اکیلے ہی کر لیا . میں تو ان کی دوست ہوں منع تو نہیں کرتی . اور اب تو شاید ہماری دوستی بھی نہیں رہے گی ہر وقت مما جو ساتھ ہوں گی . کیا اب بھی پپا پہلے کی طرح کہیں گے . " میں اور میری بیٹی الگ بیٹھ کر باتیں کریں گے . کچھ دیر کے لئے ہمارے پاس کوئی نہیں آئے گا . " میری اور پپا کی بہت ساری باتیں ہوں گی . پپا مجھے کوئی قصہ سنائیں گے . یا پھر ہم مل کر پکنک کا کوئی پروگرام بنا کر مما کو سرپرائز دیں گے . کیا اب بھی ایسا ہی ہو گا.....؟ کرن اس سے اگے اور کچھ نہ سوچ سکی . دو آنسوؤں نے پلکیں بند کر دیں . اسے لگا اس کے بالوں میں کوئی انگلیاں پھیر رہا ہے . یہ زارا کا ہاتھ تھا . " کرن میں عمر میں تم سے تھوڑی سی بڑی ہوں اور اب بہن بھی ہوں . کچھ ہی دنوں میں ہم بہت اچھے دوست بھی بن جائیں گے . میں نے تنہائی تم سے بہت زیادہ گزاری ہے . تمہارا دکھ میں سمجھ رہی ہوں . اور محسوس بھی کر رہی ہوں . یہ دکھ میں نے تین سال کی عمر سے سہا ہے . میں برداشت کی عا دی ہوں . اپنا دکھ مجھے دے دو . میرے کاندھے زیادہ مضبوط ہیں . میں ابھی تین سال ہی کی تھی جب میرے پپا مجھے چھوڑ گئے تھے . مما اسپتال میں مصروف رہتی تھیں انہوں نے خود کو پہلے سے بھی زیادہ مصروف کر لیا تھا ' وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک تھیں .ایک چھوٹے بچے کی ضرورت ' وقت پر کھانا اور کھیل کر سو جانا ہی تو ہوتی ہے . یہ دونوں ضرورتیں آیا پوری کر رہی تھی . میرے کھلونے بدلتے رہتے تھے . اچھا کھانا وقت پر ملتا تھا . نئے، نئے ڈیزائن کے کپڑے مما لا کر الماری میں رکھتی رہتی تھیں . میں کھیلتی رہتی تھی . مما بھی مطمئن تھیں . پھر کچھ اور بڑی ہوئی تو نرسری پھر اسکول اور پھر اب کالج .گھر میں اکیلی رہتی تھی . اس لئے مما نے سمجھا کہ میں ہاسٹل میں ہی رہوں تو زیادہ اچھا ہے . چھوٹی سی عمر سے ہی میں ہاسٹل میں رہی ہوں . چھٹیوں میں آتی تھی . تو کبھی نانی ماں تو کبھی خالہ اپنے ساتھ لے جاتی تھیں . دادی اماں اور پھپھو مجھے بہت اچھی لگتی تھیں میں ان کے ساتھ بھی رہنا چاہتی تھی . لیکن رہ نہ سکی . زندگی میں کبھی اتنا پیار ملا ہی نہیں کہ اس کے بغیر رہ نہ سکوں . ہاں لیکن زندگی میں آرام بہت اٹھایا ہے پر میں پیار کی اہمیت کو پھر بھی جانتی ہوں . اب تم سے ملی ہوں ....تو تم سے پیار کروں گی اور اس لطف سے آشنا ہوں گی . تم میری چھوٹی بہن ہو . مالک نے شاید ہمیں اسی لیے ملایا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھیں اور پیار کریں . اپنی بند آنکھوں میں چھپے یہ آنسو مجھے دے دو اور سکون سے سو جاؤ ." اور زارا نے اپنی خوبصورت انگلیوں کی پوروں سے آنسو صاف کیے. کرن بہت خوش ہوئی اور دونوں سکون سے سو گئیں یہ انکی دوستی کی ابتدا تھی . دونوں طبیعت میں اگرچہ بہت الگ تھیں . زارا ایک لا ابالی لیکن حقیقت پسند لڑکی تھی . وہ صبح سویرے اٹھنے کی عادی تھی . صبح ہوتے ہی وہ کوئی اچھا سا میوزک لگاتی کچھ دیر بستر میں لیٹی رہتی پھر فریش ہو کر باہر لان میں واک کرتی . واپس آ کر ناشتہ کرتی . اور بے نیاز ہو کر کتاب لے کر کہیں بیٹھ جاتی . گھر میں کیا ہو رہا ہے اس سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا . وقت کے ساتھ کرن اور زارا ایک دوسرے کے قریب آتی گئیں اور ایک دوسرے کی پسند اور نا پسند کو جاننے لگی تھیں . کرن ایف یس سی کے بعد میڈیکل کالج میں چلی گئی اور زارا نے بی یس سی کر کے ایم بی اے کرنے کی ٹھان لی . دونوں نے ہی ہاسٹل آباد کر لئے . فون پر بات ہوتی رہی . یا چھٹیوں میں گھر اتیں تو وہی ذاتی مصروفیت . زارا کی کتابوں سے دوستی اور کرن گھریلو اور نیچر لونگ لڑکی تھی . گھر کے کونوں کو سجاتی پھرتی . اپنے گارڈن کی کیاریوں کو موسم کے مطابق مالی سے ردو بدل کراتی. اور پھر جو وقت بچتا وہ اپنے دوست درخت کے نیچے جھولے پر بتاتی . خاموشی میں بہت دیر تک باتیں کرتی رہتی اور یوں چھٹیاں بیت جاتیں . زارا نے اپنا ایم بی اے مکمل کیا . اور ایک بینک میں اچھے عہدے پر فائز ہو گئی . کرن میڈیکل کے آخری سال میں تھی . امتحان سر پر تھے . دن اور رات کی مسلسل پڑھائی کے بعد پیپرز دیے . کافی دنوں سے راتوں کو جاگ رہی تھی . آخری پیپر ختم ہوا تو وہ کمرے میں جا کر سو گئی . اس نے خواب میں دیکھا . اس کا دوست وڈی اداس کھڑا ہے . پتے بھی سوکھ کر لٹک رہے ہیں . جیسے مر رہے ہوں .کرن کی گھبرا کر آنکھ کھل گئی . اس نے پپا کو فون کیا . " پپا مجھے سچ سچ بتائیں کیا وڈی بیمار ہے ...؟" " پر تم کو کیسے معلوم ہوا ....؟" پپا کا جواب تھا . " پپا مجھے سچ سچ بتائیں کیا ایسا ہے ...؟ کیا اس کے پتے سوکھ گئے ہیں ؟" " ہاں بیٹا . اس کے پتے سوکھ تو رہے ہیں لیکن تم یہ بتاؤ تم کو کس نے یہ سب بتایا . . اور بیٹے درخت تو اکثر خراب ہوتے ہی رہتے ہیں . یہ اتنی بڑی بات تو نہیں کہ تو اتنی پریشان ہو جاؤ . اور ہم لوگ تو ایسے بھی سوچ رہے تھے کہ اب تم بھی کچھ عرصے میں ڈاکٹر بن جاؤ گی اور تمہاری مما بھی گھر میں اپنا کلینک بنانا چاہتی ہیں ناں... تو کیوں نہ اس حصے میں کلینک کے لئے کمرے بنوا دیے جائیں. درخت سے کافی جگہ گھری ہوئی تھی ." “اس طرح سے بڑھاوا دے سکتی ہو . ہر سال جہاں بھی درخت کم نظر آئیں وہاں ، وہاں نئے پودے لگوانا . جب یہ کام پرندے کر سکتے ہیں تو انسان کیوں نہیں . " کرن سو کر اٹھی تو طبیعت کچھ ہلکی تھی . اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا . اسے لگا جیسے اسکا دوست وڈی پرندے کی شکل بن کر کھڑکی میں بیٹھا تھا اور بات ختم کر کے اڑ گیا ہو ....
-
نئے سال 2025 کے لیے تیار ہو جائیں
نئے سال میں رائج ہونے والے اقدامات انتہائی موثر اور اس فورم کی ترقی، کامیابی اور بقا کیلئے بہترین ثابت ہونگے۔ اس فورم کا مقصد ہی ریڈرز کی انٹرٹینمنٹ اور قلم کاروں کو اپنی کاوشوں اور تصنیفات پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے، اس مقصد میں اس میعاری فورم نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور متواتر کر رہا ہے۔ اس مقصد کو جاری رکھنے کیلئے ، ان نئے اقدام کا اجراہ ہمارے اس فارم کے روشن مستقبل اور اسکی کامیابی کیطرف ایک اہم قدم ہے۔ میں ان اقدام کی مکمل حمایئت کرتا ہوں اور اس فورم کی کامیابی کیلئے اپنی پوری کاوشیں جاری رکھوں گا، میں جلد ہی فورم کے ایڈمنسٹریٹرز سے رابطہ کر کے کچھ اقدامات پیش کرونگا جن سے اس فورم اور قارئین کے فائنانس میں ایک واضع استقلال آئے گا۔ سب مل کر اس فورم کو آگے لیکر چلیں اور اس کی کامیابی کو چارچاند لگائیں۔ خیر خواہ خان بابا
-
تم بھی ناں
دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں عنبرین حسیب عنبر دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو، تم بھی ناں مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو ،تم بھی ناں دے جاتے ہو مجھ کو کتنے رنگ نئے جیسے پہلی بار ملے ہو ،تم بھی ناں ہر منظر میں اب ہم دونوں ہوتے ہیں مجھ میں ایسے آن بسے ہو، تم بھی ناں عشق نے یوں دونوں کو آمیز کیا اب تو تم بھی کہہ دیتے ہو ،تم بھی ناں خود ہی کہو اب کیسے سنور سکتی ہوں میں آئینے میں تم ہوتے ہو ،تم بھی ناں بن کے ہنسی ہونٹوں پر بھی رہتے ہو اشکوں میں بھی تم بہتے ہو، تم بھی ناں میری بند آنکھیں تم پڑھ لیتے ہو مجھ کو اتنا جان چکے ہو ،تم بھی ناں مانگ رہے ہو رخصت اور خود ہی ہاتھ میں ہاتھ لئے بیٹھے ہو، تم بھی ناں
-
بھول سکتا ہے بھلا کون یہ پیاری آنکھیں
بھول سکتا ہے بھلا کون یہ پیاری آنکھیں ساحر لدھیانوی بھول سکتا ہے بھلا کون یہ پیاری آنکھیں بھول سکتا ہے بھلا کون یہ پیاری آنکھیں رنگ میں ڈوبی ہوئی نیند سے بھاری آنکھیں مری ہر سوچ نے ہر سانس نے چاہا ہے تمہیں جب سے دیکھا ہے تمہیں تب سے سراہا ہے تمہیں بس گئی ہیں مری آنکھوں میں تمہاری آنکھیں تم جو نظروں کو اٹھاؤ تو ستارے جھک جائیں تم جو پلکوں کو جھکاؤ تو زمانے رک جائیں کیوں نہ بن جائیں ان آنکھوں کی پجاری آنکھیں جاگتی راتوں کو سپنوں کا خزانہ مل جائے تم جو مل جاؤ تو جینے کا بہانہ مل جائے اپنی قسمت پہ کریں ناز ہماری آنکھیں
-
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے ساحر لدھیانوی کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میں گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی عجب نہ تھا کہ میں بیگانۂ الم ہو کر ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا ترا گداز بدن تیری نیم باز آنکھیں انہی حسین فسانوں میں محو ہو رہتا پکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کی ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا حیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتا مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے کہ تو نہیں ترا غم تیری جستجو بھی نہیں گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے اسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیں زمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلے گزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سے مہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیں حیات و موت کے پر ہول خارزاروں سے نہ کوئی جادۂ منزل نہ روشنی کا سراغ بھٹک رہی ہے خلاؤں میں زندگی میری انہی خلاؤں میں رہ جاؤں گا کبھی کھو کر میں جانتا ہوں مری ہم نفس مگر یوں ہی کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
-
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم حبیب جالب یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم شاید بہ قید زیست یہ ساعت نہ آ سکے تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے جالبؔ چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم
-
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں فرخ جعفری ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں ہیں کم سخن ضرور پہ عاجز بیاں نہیں ہر چند جانتے ہیں اسے ہم قریب سے پر کیا کریں کہ پاۓ سخن درمیاں نہیں اچھا تو ایک پل کے لئے ہی اٹھا کے دیکھ اے آسماں جو بار امانت گراں نہیں خود ہم میں تاب دید نہیں ہے یہ اور بات رہتا ہے وہ نگاہ کے آگے کہاں نہیں فرخؔ کہیں نہ سن کے کرے وہ بھی ان سنی کہتے ہیں اس سے اس لئے درد نہاں نہیں
-
ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں
ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں فرخ جعفری ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں ہیں کم سخن ضرور پہ عاجز بیاں نہیں ہر چند جانتے ہیں اسے ہم قریب سے پر کیا کریں کہ پاۓ سخن درمیاں نہیں اچھا تو ایک پل کے لئے ہی اٹھا کے دیکھ اے آسماں جو بار امانت گراں نہیں خود ہم میں تاب دید نہیں ہے یہ اور بات رہتا ہے وہ نگاہ کے آگے کہاں نہیں فرخؔ کہیں نہ سن کے کرے وہ بھی ان سنی کہتے ہیں اس سے اس لئے درد نہاں نہیں
-
ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں
ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں ساغر صدیقی ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہے میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں میں نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو ہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں کیسے بھر آئیں سر شام کسی کی آنکھیں کیسے تھرائی چراغوں کی ضیا یاد نہیں صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے کب ہوا کون ہوا کس سے خفا یاد نہیں زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں
-
سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سُنا ہے زہرا نگاہ سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے سُنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں تو مینا اپنے بچّے چھوڑ کر کوّے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے سُنا ہے گھونسلے سے کوئی بچّہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے سُنا ہےکسی ندی کے پانی میں بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسی مان لیتی ہیں کوئی طوفان آ جائے، کوئی پُل ٹوٹ جائے تو کسی لکڑی کے تختے پر گلہری ، سانپ ، چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے خداوندا، جلیل و معتبر دانا و بینا، منصف و اکبر میرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی کا کوئی دستور نافذ کر سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
-
انشا جي اٹھو اب کوچ کرو
انشا جي اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جي کو لگانا کيا وحشي کو سکوں سےکيا مطلب، جوگي کا نگر ميں ٹھکانا کيا اس وقت کے دريدہ دامن کو، ديکھو تو سہي سوچو تو سہي جس جھولي ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولي کا پھيلانا کيا شب بيتي، چاند بھي ڈوب چلا، زنجير پڑي دروازے پہ کيوں دير گئے گھر آئے ہو، سجني سے کرو گے بہانا کيا پھر ہجر کي لمبي رات مياں، سنجوگ کي تو يہي ايک گھڑي جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا اس حسن کے سچے موتي کو ہم ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں جسے ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کيا جب شہر کے لوگ نہ رستہ ديں، کيوں بَن ميں نہ جا بسرام کرے ديوانوں کي سي نہ بات کرے تو اور کرے ديوانہ کيا
-
کل چودہويں کي رات تھي، شب بھر رہا چرچا تيرا
ابن انشا کل چودہويں کي رات تھي، شب بھر رہا چرچا تيرا کچھ نے کہا يہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تيرا ہم بھي وہيں موجود تھے ہم سے بھي سب پوچھا کيے ہم ہنس دئيے ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ تيرا اس شہر ميں کس سے مليں، ہم سے چھوٹيں محفليں ہر شخص تيرا نام لے، ہر شخص ديوانہ تيرا دو اشک جانے کس لئے، پلکوں پہ آکر ٹک گئے الطاف کي بارش تيري، اکرام کا دريا تيرا ہم پر يہ سختي کي نظر ہم ہيں فقير رہگزر رستہ کبھي روکا تيرا دامن کبھي تھاما تيرا ہاں ہاں تري صورت حسين ليکن تو ايسا بھي نہيں اس شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کيا کيا تيرا بے درد سنني ہوتو چل کہتا ہے کيا اچھي غزل عاشق تيرا، رسوا تيرا، شاعر تيرا، انشا تيرا
-
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
پروین شاکر کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیں شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواب اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا موج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی
-
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
پروین شاکر وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوگی تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث جرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا
-
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
پروین شاکر کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
-
چلو چھوڑو
چلو چھوڑو محسن نقوی چلو چھوڑو محبت جھوٹ ہے عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے خلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے خمار وصل تپتی دھوپ کے سینے پہ اڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش! غبار ہجر صحرا میں سرابوں سے اٹے موسم کا خمیازہ چلو چھوڑو کہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہ چاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گا مجھے احساس ہی کب تھا کہ تم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے رنگ بدلو گی چلو چھوڑو وہ سارے خواب کچی بھربھری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھے وہ سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گے تمہاری انگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام لکھتی تھیں مرا لیکن تمہاری انگلیاں تو عادتاً یہ جرم کرتی تھیں چلو چھوڑو سفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں صدیوں سے چلو چھوڑو مرا ہونا نہ ہونا اک برابر ہے تم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دو تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اک نیا موسم اترنے دو مرے خوابوں کو مرنے دو نئی تصویر دیکھو پھر نیا مکتوب لکھو پھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو مرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھو مری یادوں سے کچے رابطے توڑو چلو چھوڑو محبت جھوٹ ہے عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
-
تھک جاؤ گی
تھک جاؤ گی محسن نقوی پاگل آنکھوں والی لڑکی اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو تھک جاؤ گی کانچ سے نازک خواب تمہارے ٹوٹ گئے تو پچھتاؤ گی سوچ کا سارا اجلا کندن ضبط کی راکھ میں گھل جائے گا کچے پکے رشتوں کی خوشبو کا ریشم کھل جائے گا تم کیا جانو خواب سفر کی دھوپ کے تیشے خواب ادھوری رات کا دوزخ خواب خیالوں کا پچھتاوا خوابوں کی منزل رسوائی خوابوں کا حاصل تنہائی تم کیا جانو مہنگے خواب خریدنا ہوں تو آنکھیں بیچنا پڑتی ہیں یا رشتے بھولنا پڑتے ہیں اندیشوں کی ریت نہ پھانکو پیاس کی اوٹ سراب نہ دیکھو اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو تھک جاؤ گی
-
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
مجھے اب ڈر نہیں لگتا محسن نقوی کسی کے دور جانے سے تعلق ٹوٹ جانے سے کسی کے مان جانے سے کسی کے روٹھ جانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کو آزمانے سے کسی کے آزمانے سے کسی کو یاد رکھنے سے کسی کو بھول جانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کو چھوڑ دینے سے کسی کے چھوڑ جانے سے نا شمع کو جلانے سے نا شمع کو بجھانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا اکیلے مسکرانے سے کبھی آنسو بہانے سے نا اس سارے زمانے سے حقیقت سے فسانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کی نارسائی سے کسی کی پارسائی سے کسی کی بے وفائی سے کسی دکھ انتہائی سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا نا تو اس پار رہنے سے نا تو اس پار رہنے سے نا اپنی زندگانی سے نا اک دن موت آنے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا
-
ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا
ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا محسن نقوی ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا وہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباس زرد موسم بانجھ رت کو بے لباسی دے گیا صبح کے تارے مری پہلی دعا تیرے لیے تو دل بے صبر کو تسکیں ذرا سی دے گیا لوگ ملبوں میں دبے سائے بھی دفنانے لگے زلزلہ اہل زمیں کو بد حواسی دے گیا تند جھونکے کی رگوں میں گھول کر اپنا دھواں اک دیا اندھی ہوا کو خود شناسی دے گیا لے گیا محسنؔ وہ مجھ سے ابر بنتا آسماں اس کے بدلے میں زمیں صدیوں کی پیاسی دے گیا
-
یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی محسن نقوی یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر ہم لوگ تو اکتا گئے اپنی سنا آوارگی اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا مرے غم کا سبب صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا آوارگی اس سمت وحشی خواہشوں کی زد میں پیمان وفا اس سمت لہروں کی دھمک کچا گھڑا آوارگی کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں محسنؔ مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگی
-
چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن
چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن امجد اسلام امجد چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن رازوں کی طرح اترو مرے دل میں کسی شب دستک پہ مرے ہاتھ کی کھل جاؤ کسی دن پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہا لوں بادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن خوشبو کی طرح گزرو مری دل کی گلی سے پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی دن گزریں جو میرے گھر سے تو رک جائیں ستارے اس طرح مری رات کو چمکاؤ کسی دن میں اپنی ہر اک سانس اسی رات کو دے دوں سر رکھ کے مرے سینے پہ سو جاؤ کسی دن