Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Page3

Darmat Members
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Page3

  1. Keep it up.nyc sharing
  2. No nude gymnastic...wow admin sir amazing thinking.
  3. Amzaing note.haha
  4. Acha pakage hai.nice keep it up
  5. Kia baat hai...bohat achi chunni hoi tehreer.....keep it up
  6. Very informative. Thank you so much for sharing.
  7. بچپن سدا نہ باغی بلبل بولے سدا نہ باغ بہاراں سدا نہ ماپے حسن جوانی سدا نہ صحبت یاراں کسی پنجابی شاعر نے اس ایک شعر میں ایسی دنیا سمو دی ہے جسکی سچائی کو کوئی خاص و عام نہیں جھٹلا سکتا۔سدا رہنے والی ذات صرف خدائے برتر کی ہے۔اور ہر نفس کو واپس لوٹ جانا ہے۔حسین رنگوں اور دنیا کے پرکیف نظاروں سے مزین بچپن ہمیشہ یاد رہتا ہے وہ دادی اماں کی کہانیاں کہ چاند میں ایک بڑھیا رہتی ہے۔گھنٹوں رات میں دادی اماں کی بات کا نتیجہ اخذ کرنے کے لئے چاند کو دیکھتے رہنا۔کھیل کے میدان میں اٹکھیلیاں کرنا۔ کچھ بھی تو نہیں بھولتا۔۔۔۔ہاں بھولتا ہے تو صرف ایسا زخم جو کسی دوست سے ملا ہو۔مگر دوست ہمیشہ یاد رہ جاتے ہیں۔بچپن کے یار بھی بڑے عجیب تھے ناں؟ آہ۔۔گیا بچپن اور آئی جوانی سب کچھ بکھر گیاکانچ کے کھلونے جیسا ایک سپنا جو ٹوٹ گیا۔ ہائے میرا بچپن مجھ سے بچھڑ گیا۔ جب ابو سب کے لئے ایک جیسا کھلونا لاتے تھے۔اور سب سے بہت پیار کرتے تھے۔ پاکٹ منی دیتے تھے۔اور سب بھائی بہنوں کو پالتے تھے۔ کیسا عجیب دور آتا ہے ناں بچپن کے بعد ۔۔۔۔۔کہ ایک باپ سب بھایئوں کو پال لیتا ہے مگر کئی بھائی ایک باپ کو نہیں پال پاتے۔۔۔ ایک ماں سب پیدا ہونے والے بچوں کو سینے سے لگاتی ہے ان کے ہاتھ پیر چومتی ہے مگر سب پیدا ہونے والے بچے جوان ہو کر ایک ماں کے پیر نہیں چوم سکتے حالانکہ جنت کی چوکھٹ چومنے جیسا احساس ہے۔ جب بچپن میں تھے تو ماں باپ سے محبت کی مثالیں اپنے ہوم ورک کی کاپیوں میں لکھا کرتے تھے ۔دوستوں کے سامنے اپنے والدین کی تعریفیں کیا کرتے تھے۔ مگر جب بچپن گیا تو انہی والدین کا بوجھ اٹھانے کے لئے دوسرے بھایئوں سے مشورے کرتے ہیں کہ ابو کو کون رکھے گا اور امی کو کون اپنے پاس رکھے گا؟ وقت بھی بڑی ظالم تلوار کا نام ہے جو رشتوں کو اپنی تیز دھاری سے کاٹتی ہے اور درد کا ایک نیا احساس دیتی ہے۔ بچپن کی میٹھی بولیاں ابھی تک کانوں کے پردوں کو لرزاتی ہیں۔وہ وقت وہ لمحے یاد آتے ہیں تو آنکھیں چھلک جاتی ہیں ہونٹ لرز جاتے ہیں جسم میں ایک کپکپی نمودار ہوتی ہے۔مگر یہ عمل کچھ ہی دیر کا ہوتا ہے پھر ایک آواز بچپن کے حسین باغ سے کھینچتی ہوئی دنیائے درد میں لے آتی ہے۔۔۔وہ آواز جس کی مٹھاس کبھی خود محسوس کیا کرتے تھے ۔۔۔ابا جان آپ کیا سوچ رہے ہیں؟؟؟
  8. ایک کہانی انسان جس کی تخلیقات سے زمانہ سنورتا چلا گیا۔جس کی کاوشوں سے ہر جاندار شے کی بہتری عمل میں آئی۔جب روشنی کا نام و نشان نہ تھا تو اسی انسان نے آگ سے روشنی پیدا کی حرارت کا یہ عمل نسل در نسل چلتا رہا۔کچھ وقت نے کروٹ بدلی تو انسان نے بجلی بنانے کا عمل شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری زمین پانی سے بننے والی روشنی جس کا نام بجلی رکھا گیا جگمگا اٹھی۔ایسی کئی سہولتیں انسان کے مقدر کا حصہ بنیں۔ مگر ترقی انسان نے کی تھی نہ کہ کسی امیر یا غریب نےنہ کسی گورے نے نہ کالے نے مگر اس امتیازی ایکٹنگ کو ہر خاص و عام نے زندہ رہنے کے لئے آکسیجن سمجھ لیا۔ایک ابن آدمؑ ایک خوبصورت کمرے میں جس کی چھت کو چاک کی بڑی بڑی اینٹوں سے ڈھانپ دیا جاتا ہے تا کہ کسی پر مٹی کا ایک ذرہ بھی نہ گرے ۔اے سی کمرے میں نصب کیا جاتا ہے۔خوبصورت اور دلکش فرنیچر بیٹھنے کے لئے سجایا جاتا ہے۔یہ ایک طالب علم کا کمرہ ہے یہ اس کا مدرسہ ہے اسکی پہلی پروان کو پرکھنے کے لئے ایک عمدہ ماحول۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف ایک اور ابن آدمؑ مٹی کے بچھونے پر اپنی ادھ ننگی ٹانگوں کو پھیلائے نیم کے درخت کے نیچے بیٹھا ہے۔اس کو سردی لگتی ہے تو کھلی کھلی دھوپ کا سہارا لیتا ہے اور گرمی ستاتی ہے تو درختوں کی چھاوں میں بیٹھ جاتا ہے۔۔۔۔ دونوں ہی آدمؑ کے بیٹےہیں۔دونوں کی شکل و شباہت بھی انسانوں جیسی ہے بولتے بھی انسانوں جیسا ہی ہیں۔پھر اس دور کے لوگوں نے اتنا بڑا امتیاز کیوں رکھا ہے؟؟؟؟؟ شاکر نے بیمار ماں کے چہرے پر اپنا الٹا ہاتھ رکھا اور چہرے کی حرارت کو نوٹ کیا۔ ارے ماں تمہیں تو بہت سخت بخار ہے؟میں تمہارے لئے دوائی لے کر آتا ہوں۔ پندرہ سالہ شاکر ماں سے جھوٹا وعدہ کرتا ہو باہر نکل جاتا ہے۔جس کی جیب میں ایک پھوٹی کوڑی نہیں وہ اپنی بیمار ماں کے لئے دوائی لینے چلا ہے۔ کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر کے پاس پہنچا اور اپنے ٹوٹے پھوٹے لفظوں سے التجا کی۔ڈاکٹر صاحب میری ماں بہت بیمار ہے۔میرے ساتھ چلیں اس کو چیک کریں وہ چل بھی نہیں سکتی ہے۔ جناب ڈاکٹر صاحب جس نے کبھی میڈیکل کالج میں دوستوں سے جھوٹے وعدے کیے تھے اور کتاب کے پہلے صفحے پر پڑھا ہوا تھا کہ ایک ڈاکٹر کا فرض ہے کہ وہ مریضوں کی مدد کے لئے کہیں بھی پہنچ جائے چاہے اس کو کچھ ملے یانہ ملے۔ ڈاکٹر نے شاکر کے پھٹے ہوئے کپٹروں اور عمر سے اندازہ لگاتے ہوئے کہا ارے کوئی اس بھکاری کو ہسپتال سے باہر نکلالے۔کہیں بھی مانگنے کے لئے آ جاتے ہیں۔ شاکر سارا دن ماں کے علاج کے لئے ڈاکٹروں کے کلینک ہسپتال میں جاتا رہا مگر کسی نے اس غریب کی کوئی بات نہ سنی۔تھپڑوں اور گالیوں سے اسے خوش آمدید کہتے رہے۔ شاکر کے پاس تھا ہی کیا؟؟ سوائے ما ں کے جو لوگوں کے جھوٹے برتن صاف کر کے بیٹے کو ایک گورنمنٹ سکول میں پڑھا رہی تھی تاکہ شاکر بڑا ہو کر ایک اچھا انسان بن سکے۔ آخر کار شاکر تھک ہار کر لوگوں کی گالیاں تھپڑ کھا کر شام کو مایوس گھر پہنچا تو اسکی دنیا اجڑ چکی تھی۔اس کے گھر کے سامنے لوگ جمع تھے۔۔۔۔وہ بھاگتا ہو گھر میں داخل ہو تو مری ہوئی ماں کے قدموں میں گر گیا۔۔۔اس کے آنسو ماں کے پیروں کو چوم رہے تھے۔اس کی چیخوں میں سسکیوں میں سب کچھ نکل رہا تھا۔ایک معصوم بچہ اور وہ بھی اکیلا ایک آخری سہارا ماں کا تھا وہ بھی جاتا رہا۔۔۔۔۔ چھبیس سال کے بعد پولیس انسپکٹر صاحب آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟شہر میں دن بدن موتیں واقع ہو رہی ہیں ۔آخر پولیس کیا کر رہی ہے؟یہ آج 17واں ڈاکٹر قتل ہوا ہے۔آخر کون ہے جو اتنی بے رحمی سے صرف ڈاکٹروں کا قتل کر رہا ہے؟؟؟؟؟؟ ختم شد ہر جرم کی ایک کہانی ہوتی ہے۔۔۔۔اور ضروری نہیں ہر کہانی میں ایک مجرم سچ مچ کا مجرم ہوتا ہے۔۔۔اسے مجرم بنایا جاتا ہے۔۔۔۔کوئی مجرم ماں کے پیٹ سے مجرم بن کے نہیں آتا۔ از۔۔۔اسد علی حسنین
  9. محبت گمشدہ میری ہوا کی لہروں میں تیرتے ہوئے پتے انجان سی صبح کی پہلی کرن کے پھوٹتے ہی پورے باغ کی رونق بڑھا رہے تھے۔ پرندوں کی چہکار سریلے گیتوں کی صورت میں دلوں کو مچلا رہی تھی۔ باغ کے اندر بنے ہوئے چھوٹے رستے پر لکڑی کے بینچ پر بیٹھی سلمیٰ سوچوں کے بھنور میں الجھی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ جاگتی آنکھوں سے خوابوں کے دریچوں میں جھانکنے والی معصوم بنت حوا کوئی عام لڑکی نہیں تھی۔ بلکہ اسی شہر کے مشہور و معروف رئیس افتخار کی بیٹی تھی۔اور افتخار کی دو ہی بیٹیاں تھیں سلمیٰ اور نگہت جن کو وہ اپنی جان سے زیادہ پیار کرتا تھا۔ انکی ہر خواہش ہر آرزو کی پاسداری افتخار کی اولین ترجیح تھی۔اسی لیے دونوں بہنوں نے اچھی تعلیم حاصل کی۔اچھے افکار اور خلوص کی پیکر بنیں۔ مگر آج سلمیٰ کچھ زیادہ ہی پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ حالانکہ کچھ دن بعد ہی نگہت کی شادی تھی۔اسے تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ اسکی پیاری اور دوست بہن کی شادی آنے والی تھی۔اچانک فون بیل کے شور نے سلمیٰ کو سوچوں کی دلدل سے باہر نکال دیا۔ہیلو ہیلو! ارے سلمیٰ یار تم کہاں ہو? مجھے شادی کے لیے کچھ ڈریس خریدنے تھے اور میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں۔پلیز جلدی سے آجاو۔ابھی بہت کام ہے!!!!! نگہت نے ایک ہی سانس میں سلمیٰ کی ساری ترجیح فون کے ذریعےاپنی شادی کے معاملات میں لگا دی۔میں ابھی آتی ہوں!سلمیٰ نے یہ کہا اور فون بند کر دیا! سلمیٰ اپنی گاڑی میں بیٹھی اور گھر کی طرف روانہ ہوئی! رستے میں سگنل پر گاڑی رکی تو ایک بوڑھا بھکاری گاڑی کی طرف آیا اور صدا لگائی۔۔۔۔اللہ تمہاری ہر خواہش پوری کرے بیٹی۔تمہیں تمہاری خواہش کے مطابق سب کچھ ملے!سلمیٰ کچھ دیر بوڑھے بھکاری کی طرف بھری بھری آنکھوں سے دیکھتی رہی اور پھر اپنے بیگ سے کچھ روپے نکال کر بوڑھے بھکاری کو دیے اور کہا! بابا شاید آپ کی دعا لینے میں مجھے بہت دیر ہو گئی! میں لیٹ ہو گئی بابا۔ اور سگنل کھلتے ہی گاڑی گھر کی طرف دوڑا دی! گھر پہنچتے ہی نگہت کے چہرے پر روز کی طرح مسکراہٹ اور خوشی کے آثار نمایاں نظر آرہے تھے۔تم کہاں تھی?نگہت نے سلمیٰ کو گلے لگاتے ہوئے کہا!میں ذرا مارکیٹ تک گئی تھی کچھ خریدنا تھا مجھے!سلمیٰ نے جھوٹ کا سہارا لیا ور بات ختم کی۔ارے میرے بغیر ہی مارکیٹ چلی گئی??ارے ہاں تمہیں بھی تو بہت ساری شاپنگ کرنی ہو گی نا??دودھ پلائی کی رسم بھی تمہیں ہی کرنی ہے! نگہت نے مسکراتے ہوئے چہرے کو گھماتے ہوئے کہا!سلمیٰ نے ایک لمبی آہ بھری اور کہا! ہاں سچ کہہ رہی ہو ! چلو مارکیٹ چلتے ہیں تمہارے جیجا کے صبح سے بیسیوں فون آچکے ہیں!(نگہت کی شادی سلمان سے ہونے والی تھی۔سلمان دونوں کا چچا زاد تھا)وہ میرا انتظار کر رہے ہیں۔پلیز جلدی چلو نا!نگہت نے لاڈلے پن کا اظہار کرتے ہوئے کہا! سلمیٰ جیجا کا نام سنتے ہی چونک گئی!وہ وہ نگہی تم اکیلی چلی جاو نا پلیز! ویسے بھی میں تم دونوں میں کباب میں ہڈی کی طرح لگوں گی۔اور جھوٹی ہنسی ہنستے ہوئے چھوٹی بہن کو بازار روانہ کر دیا! اپنے کمرے میں آئی اور بیڈ پر لیٹ کر زارو قطار رونے لگ گئی!اور خود سے باتیں کرنے لگ گئی! میرا کیا قصور ہے? میری محبت کا کیا قصور ہے?مجھے محبت بھی ہوئی تو ایسے انسان سے جو میری ہی چھوٹی بہن کو چاہتا تھا!میں دل ہی دل میں جسے اپنے دل کا مالک سمجھتی رہی وہ ۔۔۔۔وہ میرے ہی دل کا قاتل نکلا! سلمان اور سلمیٰ کی دوستی بچپن سے تھی سلمیٰ سلمان سے پیار کرنے لگی تھی مگر اس نے یہ بات آج تک کسی سے نہیں کہی تھی یہاں تک کے سلمان سے بھی نہیں! بس صحیح وقت آنے کا انتظار کرتی رہی۔مگر محبت کی اصلیت جاننے والے یا تو ولی بن جاتے ہیں یا منوں مٹی کے نیچے دبا دیے جاتے ہیں۔محبت رنگ ہی ایسا ہے کہ جو اس رنگ میں رنگ جاتا ہے اس کے سانس لینا دوبھر ہو جاتا ہے۔سلمیٰ فقط الفاظ کے ترنم میں جھومتی رہ گئی۔اس نے محبت کی بھی تو ایسی کہ جس کی خوشبو صرف اسی کو مہکاتی رہ گئی سلمیٰ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا اس کی گمشدہ محبت اس کے دل کی گہرایوں میں اترتی گئی۔اس کے تن من کی آرزو میں شامل محبت اسکی نہیں تھی۔اس سے پہلے کہ سلمیٰ اپنے لیے سلمان کی بات کرتی اس سے پہلے سلمان نے نگہت کے لیے بات کر دی۔ آج نگہت کی شادی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد
  10. اسلام و علیکم دوستو مجھے تو اکثر لوگ جانتے ہوں گے مگر پھر بھی بت دیتا یوں نام:اسد علی حسنین کام:پاکستان اسٹیٹ آئل ۔۔۔۔ لیوب انسٹرکٹر اورکس کریڈٹ کارڈ مشین سافٹ وئیر انجئنر رہائش:لاہور پاکستان مگر جلدی گھر آنا نصیب نہیں ہوتا کیوں کہ جاب ہی ایسی ہے اس فورم کا ایڈمن کافی گہرا دوست ہے ۔۔۔اللہ اسکو کامیابی نصیب کرے

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.