Everything posted by Asifa Kamran
-
Health/Sex News
- Health/Sex News
- Health/Sex News
- Health/Sex News
- Health/Sex News
- Health/Sex News
- Health/Sex News
- Health/Sex News
- Health/Sex News
- Health/Sex News
- Health/Sex News
- Health/Sex News
- مردانہ ہارمونز کا عُمر پر منفی اثر
جنوبی کوریا میں محققین کا کہنا ہے کہ مردانہ صلاحیتوں کے ہارمون زندگی کی طوالت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔جنوبی کوریا میں خواجہ سراؤں کے کئی سو سال کے خاندانی ریکارڈ کا تجزیہ کرنے کے بعد محققین کا کہنا ہے مردانہ صلاحیت کے خاتمے کا کوریائی مردوں کی عمر پرگہرا اثر پڑا ہے۔کرنٹ بائیولوجی نامی جریدے میں چھپنے والی تحقیق کے دوران پتا چلا ہے کہ ایسے افراد اسی سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے عام مردوں کے نسبت انیس سال تک لمبی عمر پاتے ہیں جو بعض صورتوں میں شاہی خاندان کے مردوں سے بھی زیادہ ہے۔بلوغت سے قبل مردانہ صلاحیت سے محرومی کسی لڑکے کے مرد بننے کا عمل روک دیتی ہے۔اس تحقیق میں شامل کوریا یونیورسٹی کے ایک سائنسدان ڈاکٹر چول کولی نے کہا ’ان دستاویزات سے پتا چلا ہے کہ ان خواجہ سراؤں کا حلیہ خواتین سے ملتا جلتا تھا‘۔ان کے مطابق خواجہ سراؤں کے مختلف معاشروں میں مختلف اہم کردار تھے جن میں حرم کی حفاظت سے لے کر نغمہ سرائی تک سب شامل تھے۔ کوریا کی جوسن شاہی خاندان کے دربار میں خوجہ سرا دربان کے طور پر حفاظت کرتے تھے اور کھانے پینے کا انتظام کیا کرتے تھے۔اسی طرح صرف انہیں شاہی خاندان کے مردوں کے علاوہ محل میں رات کے وقت رکنے کی اجازت تھی۔ وہ اپنے بچے تو نہیں پیدا کر سکتے تھے مگر لڑکیوں اور نامرد لڑکوں کو لے پالک رکھ سکتے تھے۔جنوبی کوریا میں محققین نے ان خواجہ سرا خاندانوں کے سلسلۂ نسب کی دستاویزات کا جائزہ لیا۔ اس دوران محققین نے اکیاسی خواجہ سراؤں کی زندگیوں کا جائزہ لیا جو کہ پندرہ سو چھپن سے اٹھارہ سو اکسٹھ کے درمیان پیدا ہوئے تھے۔ان کی اوسط عمر ستر سال تھی جن میں تین نے سو سال سے زائد عمر پائی تھی اور سب سے زیادہ عمر پانے والا ایک سو نو سال کا تھا۔اس کے برعکس اس زمانے میں امراء کے خاندانوں میں مرد پچاس کے اوائل تک عمر پاتے تھے جب کہ شاہی خاندان کے لوگ اوسطاً پینتالیس سال تک جیتے تھے۔اس وقت کی خواتین کے بارے میں کوئی دستاویزات نہیں ہیں جن سے تقابل کیا جا سکے۔انہا یونیورسٹی کے ڈاکٹر کِیُنگ جِن مِن نے بی بی کو بتایا ’ہم نے یہ بھی سوچا کہ خواجہ سراؤں کے مختلف رہن سہن کے انداز ان کی عمروں میں فرق بتا سکتے ہیں۔ اگرچہ بعض خواجہ سراؤں کے علاوہ اکثر شاہی محل کے باہر رہتے تھے جب وہ حفاظت پر مامور نہیں ہوتے تھے‘۔اس کی بجائے ان کا کہنا تھا ’یہ ڈیٹا ایک بہت مضبوط ثبوت پیش کرتا ہے کہ مردانہ ہارمونز مردوں کی زندگی کم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔مردوں کی نسبت خواتین ہر انسانی معاشرے میں زیادہ عمر پاتی ہیں۔لیکن ان نظریات کو تجربات سے جانچنا اور ان کی اصل وجوہات کا پتا چلانا غیر یقینی ہے۔ایک سوچ یہ ہے کہ مردانہ جنسی ہارمونز جیسا کہ ٹیسٹوسٹرون جو کہ عموماً خصیوں میں پیدا ہوتے ہیں نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ہارمونز مدافعتی نظام کو کمزور یا دل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ڈاکٹر مِن کے مطابق ’یہ عین ممکن ہے کہ ٹیسٹوسٹرون کی کمی کا علاج مردوں کی عمر بڑھا سکتا ہے اگرچہ ہمیں اس کے بداثرات سے سے اگاہ رہنا ہوگا جیسا کہ جنسی عمل کے رغبت میں کمی‘۔یونیورسٹی آف لنکاسٹر کے ڈاکٹر ڈیوڈ کلینسی کا کہنا ہے کہ ’نتائج مطمئن کرنے والے ہیں لیکن یقیناً حتمی نہیں ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیسٹوسٹرون کے خاتمے سے اس گروہ میں سے سو سال سے زائد عمر پانے والوں کی عمر شاید لمبی ہوئی ہو۔لیکن انہوں نے کہا کہ ان کے مختلف رہن سہن نے بہت اثر ڈالا ہو گا ’اس معاملے میں خواجہ سراؤں نے خواجہ سراؤں کو نسلوں تک پالا ہو گا اور رہن سہن اس طرح قائم رہا ہوگا‘۔- زیادہ پنیر کھانے والےمرد بانجھ پن کا شکار
زیادہ پنیر کے استعمال سے مردون میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بوسٹن ہاورڈاسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق کے مطابق جو مرد روزانہ پنیر کے 3 ٹکڑے کھاتے ہیں ان میں شادی کے بعد باپ بننے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ پنیر کے 3 ٹکڑوں کے روزانہ استعمال سے مادہ تولید کا معیار متاثر ہو تا ہے ۔اس بات کے شواہد ہیں کہ مردون کا طرز زندگی خصوصا ان کی خوراک ان کو بانجھ بنانے کا سبب بن رہی ہے۔گائے میں موجود ہارمون اوسٹر ڈیول جو خواتیں میں بھی ہوتا ہے مردوں کی اولاد پیدا کرنےکی صلاحیت پر اثرات مرتب کر تا ہے۔ ڈیری مصنوعات پر کیٹرے مار ادویات کے استعمال کے باعث بھی یہ مسلہ پیدا ہوتا ہے۔- جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں پر کیا گزرتی ہے؟ اہم رپورٹ
بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی بدسلوکی ایک تلخ حقیقت ہے جس سے متاثرہ شخص کو اتنا گہرا صدمہ پہنچتا ہے کہ اس کا اثر کئی دہائیوں تک رہتا ہے۔اس طرح کے بچے دوہری تکلیف برداشت کرتے ہیں۔ نہ تو وہ اس حادثے کے اثر سے نکل سکتے ہیں اور نہ ہی وہ کسی سے اس بارے میں بات کر پاتے ہیں۔لیکن یہ دونوں ہی باتیں آپس میں جڑی ہیں۔ جنسی استحصال کے بارے میں نہ بتانا، استحصال کا درد تو بڑھاتا ہی ہے ساتھ ہی متاثرہ شخص کو ڈپریشن میں مبتلا بھی کر دیتا ہے۔پيرس کی عمر اس وقت تیرہ سال تھی جب ان کے سکول میں ایک استاد نے پہلی بار ان کا جنسی استحصال کیا تھا۔ اس واقعے کو تیس برس سے زیادہ گزر چکے ہیں اور وہ آج تک اس کے اثر سے نکل نہیں پائی ہیں۔تقریباً پینتالیس سال کی عمر میں پيرس نے خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی اور پھر بڑی مشکل سے اس حالت میں آ پائیں جس میں وہ اپنا درد دوسروں کے ساتھ بانٹ سکیں۔ آخرِکار وہ پولس سٹیشن پہنچیں، جہاں انہوں نے ساری کہانی بیان کی.بچپن میں جنسی استحصال کا شکار ہوئے لوگوں کی مدد کے لیے ایک تنظیم چلانے والے پیٹ سوڈرس کہتے ہیں کہ جیسے جیسے وقت بيتتا جاتا ہے، ان لوگوں کے لیے اپنا درد بیان کرنا آسان ہوتا جاتا ہے۔وہ اپنی اس بات کی دلیل میں ایک امریکی تحقیق کا حوالہ دیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ بچپن میں جنسی استحصال کا شکار ہونے والے بچے ایسے واقعات کے تقریباً بائیس سال بعد انہیں سامنے لا سکتے ہیں۔"جب آپ پہلی بار اس بارے میں بتاتے ہیں تو یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ لوگ اس پر یقین کریں، اور اگر لوگ آپ کی بات پر منفی رویہ اختیار کرتے ہیں تو آپ کے لیے دوبارہ اس بارے میں بات کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔"ایلی گوڈسیپیٹ سوڈرس کے ساتھ بھی بچپن میں جنسی استحصال ہوا تھا اور وہ پچیس سال بعد ہی دنیا کو اس بارے میں بتا سکے۔وہ کہتے ہیں،’میں ایک طرح سے اس سے کبھی باہر نہیں نکل سکوں گا۔ مجھے کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ مجھے آخر کیوں نشانہ بنایا گیا تھا. میں جب تک زندہ رہوں گا، مجھ میں غصہ بھرا رہے گا‘۔ایک اندازے کے مطابق، ہر چار میں سے ایک بچہ جنسی استحصال کا شکار ہوتا ہے۔ ایلي گوڈسي ایک ماہرِ نفسیات ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ استحصال کا اثر کئی دہائیوں تک بنا رہتا ہے اور اس سے شخصیت کا کردار، برتاؤ، شناخت سب کچھ بدل جاتا ہے۔ ان کے مطابق ’ایسی حالت میں ڈپریشن، تشویش، خود کو نقصان پہنچانے کی فطرت، نشہ آور اشیاء کا استعمال عام بات ہے۔ اس سے کسی شخص کی پوری زندگی پر اثر پڑتا ہے۔خاص طور پر تب جب آپ اس بارے میں کسی سے بات نہیں کرتے ہیں‘۔وہ بی بی سی کے سابق پیشکار جمی سیول کے معاملے کی مثال دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جس طرح سے لوگ اپنے ساتھ ہونے والے استحصال کی کہانی کے ساتھ اب سامنے آ رہے ہیں، وہ بہت اہم ہے‘۔ایلي گوڈسي کہتی ہیں، ’جب آپ پہلی بار اس بارے میں بتاتے ہیں تو یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ لوگ اس پر یقین کریں، اور اگر لوگ آپ کی بات پر منفی رویہ اختیار کرتے ہیں تو آپ کے لیے دوبارہ اس بارے میں بات کرنا ناممکن ہو جاتا ہے‘۔لوسي ڈک کے ساتھ بھی ایسا ہی حادثہ پیش آیا۔ وہ کہتی ہیں کہ گیارہ سال کی عمر تک دو پادریوں نے ان کا جنسی استحصال کیا اور جب ان کی عمر بیس سال سے زیادہ ہو گئی، تب کہیں جا کر وہ اس بارے میں کسی کو بتاپائیں۔ایلي گوڈسي کہتی ہیں، ’ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ تو ایسا خیال کیا جاتا تھا کہ کوئی جمی سیول، کوئی پادری یا سکول ٹیچر ایسا نہیں کرے گا‘۔ لیکن اب بچے امید کر سکتے ہیں کہ ان کی بات پر اعتبار کیا جائے گا اور ان سے ٹھیک سے بات کی جائے گی تاکہ وہ اس طرح کے استحصال کے معاملات میں خاموشی توڑ سکیں۔- پانی کے بغیر کپڑے دھو نے والی مشین
انی کےبغیر کپڑے دھونےوالی مشین جلد ایشیائی مارکیٹوں کی زینت بننےوالی ہے۔اس مشین کو مارکیٹ میں متعارف کرانےکا مقصد نہ صرف خواتین کوسہولت فراہم کرنا تھا بلکہ اس کے ذریعے دنیابھرمیں کپڑوں کی دھلائی پر صرف ہونےوالے پانی کو بھی بچانا ہے۔ یہ مشین ایک برطانوی کمپنی زیورس نے دوہزار دس میں یورپی مارکیٹ میں متعارف کرائی تھی۔ مشین میں پانی کی جگہ نائیلون کی تاریں اور ذرات استعمال کئے گئےہیں جو کپڑوں کےریشوں سے میل نکالتےہیں۔ نائیلون کےذرات سیکڑوں دھلائیاں کرسکتےہیں۔- MY OWN POetry ("" بس ٹھیک ہوں "")
Daikhtay hain yeh aziat gawara ker k..!! ! Baaton baton mein bicharnay ka ishara ker k Khud bhi roya woh bohut hum say kinara ker k ! Sochta rehta hon tanhai mein Anjam-e-Khuloos Phir usi jurm-e-mohabbat ko dobarah ker k ! Jagmaga di hain teray shehar ki galiyan mein nay Apnay her ashk ko palkon pay sitara ker kay ! Daikh laitay hain chalo hosla apnay dil ka Aur kuch rooz teray sath guzara ker k ! Aik hi shehar mein rehna magar milna nahin Daikhtay hain yeh aziat gawara ker k..!!- MY OWN POetry ("" بس ٹھیک ہوں "")
Ajnabi Sheher Ke Ajnabi Rasty..' 'Meri Tanhai Par Muskraty Rahy..' 'Me Bhot Dair Tak Yonhi Chalta Raha..' 'Tum Bhot Dair Tak Yad Aaty Rahy..' 'Zehar Milta Raha Zehar Peety Rahy..' 'Roz Marty Rahy Roz Jety Rahy..' 'Zindagi Bhi Hamen Aazmati Rahi..' 'Or Ham Bhi Isy Aazmaty Rahy..' 'Zakham Jab Bhi Koi Zehan-O-Dil Par Laga..' 'Zindagi Ki Taraf Ek Daricha Khula..' 'Ham Bhi Goya Kisi Saaz Ke Tar Hen..' 'Chot Khaty Rahy Gungnaty Rahy..'- MY OWN POetry ("" بس ٹھیک ہوں "")
*"*"*"*"AAJ USY PH0NE NAE KARNA*"*"*"*"* Aaj usy ph0n nae Karna. .+ Aaj us sy Bat nae Karni. .+ Aaj ka saara din uski yad ky Sath guzarna Hy. .+ AAJ USY PH0NE NAE KARNA. .+ Dil kahy bhe to dil ki bAt har gz Nae Maan.ni. .+ S0afy py lait Kar CABEL(T.V) dykhna Hy. .+ Searhiy0un py beth kar akhbAar ki Head linez Parni Hyn..+ Araam qurSi par jh0mty Hue. .+ W0h sary geAt sun.ny Hyn j0. Us ky saAth. .+ SUNY THY. .+ Us ki khushbu o0oarh kar Shaam ko Bemaqssad. .+ CHATT par tehlna Hy. .+ Bewajja hansna Hy. .+ Aj ky din k0i nazm bhe nae likhni. .+ Or Na he R0na Hy. .+ Aj ki sham usky naam karni Hy. .+ Aj dil ka kh0on karna Hy. .+ AAJ USY PH0NE NAE KARNA HEY..+- MY OWN POetry ("" بس ٹھیک ہوں "")
Apni baton mein mere naam ke hawale rakhna, *+* Mujh se bichre ho to khud ko sambhale rakhna, *+* Log pochein ge kyon pareshan ho tum, *+* Kuch nigahon se kehna zuban pe taale rakhna, *+* Na khone dena mere beetay lamhon ko, *+* Meri yadon ko bare pyar se sambhale rakhna, *+* Tum loat aao ge itna yaqeen hai mujh ko, *+* Mere liye chand sadiyan nikale rakhna, *+* Hum ne kuch naya dekha hai tum mein phir dost , *+* Mere liye apne andaaz wohi purane rakhna !- WO KEHTI HAI SUNO !
Mohabbat mujhe thi usi se..Sanam. Yadaon me uski yeh Dil tadpta raha .. Maut bhi meri Chahat ko rok na saki.. Kabr me bhi yeh Dil Dhadkta raha. Tumhari is ada ka kya jawab du, apne dost ko kya uphar du, koi achcha sa phool hota to mali se mangvata, jo khud gulab hai usko kya gulab du... Aapki Muskurahat ne hame behosh kar diya, Aapki Muskurahat ne hame behosh kar diya, Hum Hosh me aane hi waale the, ki Aapne fir se muskura diya. Bina dard ke ansu bahaye nahi jate, Bina pyar ke rishte nibhaye nahi jate, E dost 1 baat yaad rakhna bina DIL diye DIL paye bhi nahi jate. Mast Nazron se dekh lenaa tha Agar tamanna thi aazmane ki, Hum to behosh youn hi ho jaate Kya zaroorat thi muskurane ki.- WO KEHTI HAI SUNO !
Badi Muddat se chaha hai tujhe, bade Duaon se paya hai tujhe, tujhe bhulane ki socho bhi to kaise, Kismat ki Lakiron se churaya hai tujhe! ek nazar teri kaher dhati hai, ek teri chal lehrati hai, dua dete hain hum jab tu aati jati hai, girten hain log aur tu hasti jati hai... Zindagi ek phool hai aur mohabbat us ka shehed Pyar Ek Dariya Hai, Aur Mehboob uski sarhad. Dil Ko Manana Gar Hota Aasaan, Na Karta Kisi Ko Yun Ye Pareshaan, Tanha Na Rahta Bhari Mehfil Me, Na Hoti Woh Halat Jo Ho Na Sake Bayaan. Tapish Suraj Ki Hoti Hai, Jalna Zameen Ko Parta Hai Qusur Aankhon Ka Hota Hai, Tarapna Dil Ko Parta Hai.- WO KEHTI HAI SUNO !
Koi aankhon aankhon se baat kar leta hai, Koi aankhon aankhon mein mulakat kar leta hai, Mushkil hota hai jawab dena, Jab koi khamosh rehkar bhi sawal kar leta hai Kismet se apni sabko shikayat kyu hai, Jo nahi mil sakta usi se mohabbat kyu hai, Kitne khade hai raho pe, Phir bhi dil ko usi ki chahat kyu hai. Chand ki raton mein sara jahan sota hai, Lekin kisi ki yadoon mein koi badnaseeb rota hai, Khuda kisi ko mohabbat pe fida na kare, Agar kare to kisi ko juda na kare Khudaa jab husn deta hai nazaakat aaa hi jati hai, Kadam chun chun kar rakhti ho..... Phir bhi kamar balkha hi jaati hai..... Yun durr rehkar duriyon ko badaya nahi karte, Apne deewano ko sataya nahi karte, Har waqt bas jise tumhara khyal ho, Usey apni awaaz ke liye tadpaya nahi karte- WO KEHTI HAI SUNO !
Jamane se nahi to tanhai se darta hu, Pyar se nahi to ruswai se darta hu, Milne ki umang bahot hoti hai dil me, Lekin milne ke baad teri judai se darta hu Ham tere dil mein rahenge ek yaad bankar, Tere lab pa khilenge muskaan bankar, Kabhi hamein apne se juda na samajhna, Hum tere saath challenge aasmaan bankar Kuch nasha to aapki baat ka hai Kuch nasha to dheemi barsaat ka hai Hame aap yuhi sharabi na kahiye, Yeh dil par asar to aapse mulaqat ka hai Dil se tumhe kaise mita de, Hum tumhe kaise bhoola de. Ji to chahata hai duniya chor de, Ya phir judai dene wale in duniya walo ko phod de. Yeh mat pucho tum bin hum kya kya khote rahe, Tumhari yaadon mein hum roz kitne rote rahe, Na din gujre hai na raatein, Bas kuch bechain se hum hote rahe!- WO KEHTI HAI SUNO !
Tumhari lovely aankho ne, Hame aise attract kiya, Ke sabko neglect karke, Tumhe hi select kiya. Na khuda dil banata na kisise pyar hota, Na kisiki yaad ati na kisika intazar hota. Dil diya hai ise sambhal ke rakhna, Shishe se bana hai pathar se dur rakhna! Agar hum na hote to ghazal kaun kehta, Aap ke chehre ko kamal ko kehta, Yeh to karishma hai mohabbat ka, Varna pathro ko tajmahal kaun kehta Chaho to dil se hamko mitta dena Chaho to humko bhula dena Par Yeh wada karo ki aaye jo kabhi yaad hamari To rona nahi Bus muskura dena... Tarasti nazaron ki pyas ho tum, Tadapte dil ki aas ho tum, Bujti zindagi ki sas ho tum, Phir kaise na kahu?.. kuch khas ho tum.Navigation
Search
Configure browser push notifications
Chrome (Android)
- Tap the lock icon next to the address bar.
- Tap Permissions → Notifications.
- Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
- Click the padlock icon in the address bar.
- Select Site settings.
- Find Notifications and adjust your preference.
Safari (iOS 16.4+)
- Ensure the site is installed via Add to Home Screen.
- Open Settings App → Notifications.
- Find your app name and adjust your preference.
Safari (macOS)
- Go to Safari → Preferences.
- Click the Websites tab.
- Select Notifications in the sidebar.
- Find this website and adjust your preference.
Edge (Android)
- Tap the lock icon next to the address bar.
- Tap Permissions.
- Find Notifications and adjust your preference.
Edge (Desktop)
- Click the padlock icon in the address bar.
- Click Permissions for this site.
- Find Notifications and adjust your preference.
Firefox (Android)
- Go to Settings → Site permissions.
- Tap Notifications.
- Find this site in the list and adjust your preference.
Firefox (Desktop)
- Open Firefox Settings.
- Search for Notifications.
- Find this site in the list and adjust your preference.
- Health/Sex News