Everything posted by devilspell
-
آپ بیتی
Kal next update ajayegi.. Meri puri koshish hogi k jitni lambi update ho sake de dun..
-
آپ بیتی
Mere boht hee mohtaram bhai. Me bhi aap sab ki tarha yahi chahta hun k kahani ki lambi updates hon or regular updates dun. Lekin mery masroofiyat ki waja se esa mumkin nahi. Isi lye mene kahani likhne se muazrat kar li thi lekin aap logon k boht israr par mene dobara likhna shuru kiya hey Apne is bhai ki majboori ko samjhen or filhal choti updates per hee guzara kar len. Mujhe jese hee fursat mili me lambi update de dunga. Boht shukriya
-
آپ بیتی
Update 013 عام طور پر اگر دیکھا جائے تو کہانیوں میں کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ہیرو جوان ہوتا ہے اور ایک کے بعد ایک کرکے اس کو چوتیں ملنی شروع ہو جاتی ہیں لیکن حقیقی زندگی اس سے تھوڑی مختلف ہے حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کے اردگرد موجود سبھی لڑکیاں آپ سےچدنے کو بےتاب ہوں مجھے چوت کامزہ تو لگ گیا تھا لیکن صرف ایک ہی بار اس کے بعد سے ہمیشہ جب بھی کوئی اس طرح بنتا کوئی نہ کوئی مسئلہ بیچ میں پڑ جاتا آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا بے چارے منا نے اپنی بہنوں کی چدائی پر چھاپا مار دیا تھا میں آج بھی منا کو دیکھتا ہوں تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے خیر میں جب کمرے میں آیا تو مہوش کا میسج آیا ہوا تھا اس نے بتایا تھا کہ خطرہ ٹل گیا میں اور مہوش ایسے ہی میسج پر باتیں کرتے رہے میں تو لڑکا تھا تو میری اتنی گانڈ پٹی ہوئی تھی وہ دونوں تو بیچاری لڑکیاں تھی مہوش اور نوشین کا بھی ڈر کے مارے برا حال تھا مہوش بار بار یہی کہہ رہی تھی کہ اگر آج پکڑے جاتے تو پتا نہیں کیا ہو جاتا خیر وہ دن کسی نہ کسی طرح گزر گیا میں نے پھر مہوش سے بات کرنے کی کوشش کی اس کو سمجھایا کے بار بار چھاپا نہیں پڑے گا لیکن وہ واقعی بہت ڈری ہوئی تھی خیر میرے بہت سمجھانے پر اس نے کہا کہ کچھ دن ٹھنڈے ہو کر بیٹھ جاؤ میں سمجھ گیا کہ اب کچھ دن اور مٹھ پر ہی گزارا کرنا پڑے گا ایسے ہی دن گزرتے رہے میں نے کئی بار میں بھی مہوش اور نوشین کو منانے کی کوشش کی لیکن دونوں میں سے کوئی بھی نہیں مانی ایک دن مہوش کی امی میرے گھر آئیں ان کے ہاتھ میں مٹھائی کا ایک چھوٹا سا ڈبہ بھی تھا میوش کی امی نے بتایا کہ نوشین کا رشتہ پکا ہو گیا ہے یہ سن کر میرے چہرے پر اداسی چھا گئی بیٹھے بیٹھے ایک اور چوت ہاتھ سے نکل گئی میں اوپر اپنے کمرے میں آیا اور نوشین کو میسج کر دیا مبارک ہو نوشین کا کوئی رپلائی نہیں آیا اسے بھی پتہ تھا کہ یہ بات میں طنز میں کہہ رہا ہوں دن گزر گیا میں سو گیا اگلے دن اٹھا اور اسکول چلا گیا واپس آکر موبائل دیکھاتو اس میں مہوش کا میسج آیا ہوا تھا مہوش نے میسج کیا تھا کہاں ہو میں نے رپلائی کیا گھر پر میسج آیا میرے گھر آؤ میں نے اوکے کا میسج کیا اور مہوش کے گھر کر چلا گیا پہنچ کر میں نے دستک دی تو دروازہ نوشین نے کھولا نوشین مجھے دیکھ کر مسکرائی لیکن میں نے اپنا چہرہ سنجیدہ ہی بنائے رکھا کیونکہ میں اس سے ناراض تھا نوشین دروازے سے ہٹ گئی اور مجھے اندر آنے کا راستہ دیا میں گھر کے اندر پہنچا اندر برآمدے میں لکڑی کے تخت پر مہوش بیٹھی تھی مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ آگئی مہوش نے مجھے اپنے پاس تخت پر بیٹھنے کا اشارہ کیا میں اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا نوشین بھی آ گئی اور میرے سامنے کھڑی ہو گئی نوشین نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پوچھا وقاص تم مجھ سے ناراض ہو؟ میں نے کہا جی نہیں میں کیوں آپ سے ناراض ہونے لگا میں نے یہ بات طنزیہ کی تھی جس کو نوشین بھی سمجھ گئی تھی نوشین آگے بڑھی اور میرا ہاتھ پکڑ کے بیٹھ گئی میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ آپ کا بھائی آئے گا مجھے چلنا چاہیے میں تخت سے اٹھنے لگا تو نوشین نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنی طرف زور سے کھینچا میں سیدھا نوشین سے چپک گیا نوشین کا قد اس وقت قریب میرے برابر ہی تھا ہم دونوں کے ہونٹ آپس میں ملتے ملتے بچے ہم دونوں کے چہرے ایک دوسرے سے بہت قریب تھے نوشی آگے بڑھی اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ہلکا سا چھوڑ کے پیچھے ہو گئی اب میرے اندر آگ بھڑک گئی تھی میں آگے بڑھا اپنے ہاتھوں سے نوشین کا چہرہ پکڑا اور اپنے ہونٹ نوشین کے ہونٹوں پر جما دیئے نوشین نے اپنے ہونٹ کس کے بند رکھے ہوئے تھے اور اپنے ہاتھ میرے سینے پر رکھ کر مجھے دور کر رہی تھی میں گھر سے یہ سوچ کر آیا تھا کہ اگر آج یہ مچھلی میرے ہاتھ سے نکل گئی تو پھر کبھی ہاتھ میں نہیں آئے گی میں کس کرتے ہوئے اپنی زبان اس کے ہونٹوں پر پھیرے جا رہا تھا آخر کو نوشین نے اپنے ہونٹ کھول ہی دیا اب نوشین دیکس میں برابرکا میرا ساتھ دے رہی تھی میں نے نوشین کے چہرے کو چھوڑا اور میرے ہاتھ نوشین کے جسم پر جگہ جگہ بھٹکنے لگے پہلے میں نے نوشین کے مموں کو دبایا اور پھر ہاتھ پیچھے لے گیا پیٹھ کی جانب وہاں سے ہاتھوں کو لکھتا ہوا نیچے نوشین کے چوتڑوں پر لایا اور نوشین کی گانڈ کو پوری طاقت سے دبایا نوشین کے ہونٹ میرے ہونٹوں کے بیچ میں ہی کانپے مہوش سامنے بیٹھے یہ منظر بڑے غور سے دیکھ رہی تھی آخر کو صبر نہیں ہوا اور وہ بھی اٹھ کر ہماری طرف آ گئی میں نے نوشین کے ہونٹوں کو چھوڑا اور فورا اسے مہوش کا سر پکڑ کر اسے کس کرنے لگا مہوش پوری طرح سے گرم تھی اور فورا ہی میرا ساتھ دینے لگی اب میں کس مہوش کو کر رہا تھا لیکن میرے ہاتھ نوشین کی گانڈ پر تھے نوشین پوری طرح مجھ سے چپکی ہوئی تھی تھی اور مہوش میرے دائیں طرف تھی میں نے اپنے ہاتھوں کو نوشین کی کمیض کے اندر ڈالنا شروع کیا اپنے ہاتھوں کو نوشین کے پیٹ پر پھرتا ہوا اوپر کی جانب بڑھانے لگا نوشین مجھے روک نہیں رہی تھی جو کہ میرے لیے بھی حیران کن تھا بھلا ایسی لڑکی جس کی ایک مہینے بعد ہی شادی ہو وہ کیوں اپنا کنواراپن ضائع کروا کے اپنی زندگی برباد کرے گی میں دیر نہ کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو نوشین کے مموں پر لے گیا برا کے اوپر سے ہی مموں پر پہلے ہاتھ پھیرا اور پھر دبایا میرے ہونٹ ابھی مہوش کے ہونٹوں کے بیچ میں تھے مہوش زور سے میرے ہونٹوں کو چوسے جا رہی تھی میرے ہاتھوں میں ایک بہن کے ممے تھے اور ہونٹوں میں دوسری بہن کے ہونٹ
-
آپ بیتی
آ جکی ہے اپڈیٹ اگلی اپڈیٹ پرسوں تک آ جائے گی
-
آپ بیتی
Kahani ko pasand karne ka boht boht shukriya. Abhi tak to plot aap k samne hee nahi aya. Kahani thora or agey chalegi to aap logon k mun khule reh jayenge. Me sirf apni masroofiyat ki waja se majboor hun warna ab tak kahani kafi acha mor le chuki hoti. Kher apna khayal rakhen or kahani enjoy karte rahen.
-
آپ بیتی
Update 012 ابھی ہم کچھ سوچ ہی رہے تھے تھے کہ کیا کریں ایسے میں تیسری بار دروازے پر دستک ہوئی اس بار دستک کچھ زیادہ ہی دور سے ہوئی تھی صاف پتہ چل رہا تھا کہ دستک دینے والا سخت غصے میں ہے میں نے اپنی نظروں کے زاویے کو آگے پیچھے کر نا شروع کر دیا ایسے میری نظر بائیں طرف والی دیوار پر پڑی یہ دیوار کوئی تین سے چار فٹ کی ہوگی مہوش کے گھر کی یہ دیوار کافی چھوٹی تھی اس دیوار کے بالکل ساتھ ہیں میرے گھر کی دیوار تھی میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی میں بھاگتا ہوا گیا اور اس چھوٹی دیوار پر چڑھ گیا اس دیوار پر پوری طرح چڑھنے کے بعد میرا ہاتھ اپنے گھر کی دیوار سے نکلی ایک بڑی سی آر سی سی کی بیم کی طرف پہنچ گیا میں نے فورا اس پر اپنا ہاتھ رکھا لکھا اور پوری طاقت سے اپنے آپ کو اوپر اٹھایا دراصل مجھے کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق تھا اور اکثر کسی کے گھر گیند چلے جانے پر ہم میں سے ہی کسی دوست کو چپ چاپ چھت پہ چڑھ کے اتارنا ہوتی تھی اس طرح گیند اتار کے مجھے دیواروں پر چڑھنے کی اچھی خاصی پریکٹس ہو چکی تھی میں نے بین پہ پتھر رکھ کر اپنے آپ کو اٹھایا اور اپنی ٹانگ دیوار سے باہر نکلے سیمنٹ کے او پر رکھ کے ہلکا سا سہارا لیا اتنا میرے لئے کافی تھا کہ میرا ہاتھ اپنے گھر کی دیوار کے اوپری اس سے پر جا سکے میں نے اپنا دایاں ہاتھ بڑھا کر دیوار کے اوپری حصے کو پکڑ لیا اور پھر اپنا بایاں ہاتھ بھی رکھ دیا پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے پورے بدن کو اٹھا کے اپنے آپ کو دیوار پر چڑھانے میں کامیاب ہوگیا نوشین اور مہوش حیرت سے یہ منظر دیکھ رہی تھیں اوپری دیوار پہ چڑھنے کے بعد اب میرے لئے کوئی مشکل باقی نہیں رہی تھی کیونکہ اس دیوار سے اترنے کے بعد ہی میرے گھر کے اوپری منزل کا صحن تھا میں صحن میں اترا اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا میں دبے پاؤں اپنے کمرے میں آیا میرا کمرہ اوپری منزل پر ہی تھا اس لیے زیادہ مشکل پیش نہیں آئی کمرے میں آ کے میں نے چپ چاپ دروازہ بند کیا اب میں خطرے سے باہر تھا لیکن گانڈ پھر بھی پھٹی پڑی تھی پتہ نہیں مہوش اور نوشین نے منا کو کیسے سنبھال ہوگا خیر میں دل میں سوچنے لگا کہ اب تو میرے باپ کی توبہ جو میں کسی چوت کے پیچھے بھاگوں لیکن ہم سب جانتے ہیں ہیں کہ یہ بات صرف تھوڑی دیر تک کی ہوتی ہے جہاں خطرہ ٹلا اور دماغ تھوڑا ہلکا ہوا وہیں لنڈ کو چوت کی لگ جاتی ہے میرے ساتھ بھی یہی ہوا تھوڑی دیر تک تو کمرے میں بیٹھا ڈراؤنے خیالات کو سوچتا رہا ایسا لگتا تھا کہ ابھی گھر کا دروازہ بجے گا اور منا گھر میں گھس آئے گا اور مجھے مارتا وہ گھر سے لے کے جائے گا لیکن کافی وقت گزرنے کے بعد بھی ایسا کچھ نہ ہوا جب تقریبا دو گھنٹے گزر گئے تو مجھے تھوڑا سکون ہوا موبائل پر ابھی تک مہوش یا نوشین میں سے کسی کا میسج نہیں آیا تھا پہلے میں نے سوچا کہ میسج کروں اور پوچھوں کے کیا بنا پھر میں نے سوچا کہ وہ لوگ خود ہی میسج کریں گی یہ سوچ کر میں نیچے چلا گیا نچلی منزل پر سب نارمل تھا امی بیٹھی سبزی کاٹ رہی تھی اچانک مجھے دیکھ کر چونکی اور کہا بیٹا تم تو باہر گئے تھے تھے میں نے جواب پہلے سے سوچا ہوا تھا میں نے کہا مجھے تو آئے ہوئے کافی دیر ہوگئی آپ اس وقت اندر ہو نگی شاید میرے جواب سے امی تھوڑی مطمئن ہو گئیں اور سر جھٹک کر پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئیں میں واپس اوپر آیا واپس آکر موبائل دیکھا تو اس میں مہوش کا میسج آیا ہوا تھا
-
آپ بیتی
بہت شکریہ جناب یہ بات میرے زہن سے نکل گئی تھی دراصل ان کا بھائی گھر کا کوئی کام نہیں کرتا تھا اور سارے کام میں ہی کرتا تھا کہانی کے شروع میں اسے میں تعارف نہیں کروانا چاہتا تھا کیونکہ کہانی میں اسکا کردار کچھ خاص نہیں اب مجھے یہ واقعہ یادآیا تو اسکا زکر ہو گیا تمام لوگوں سے معزرت
-
آپ بیتی
Update 011 میں کمرے میں لیٹا سوچ رہا تھا کہ اب کل کیا ہوگا مہوش نے اچانک ہی کہیں میرے اندر کے سیکس کو بھڑکا دیا تھا میں تھوڑی دیر پڑھائی کی اور پھر سو گیا صبح اتوار تھا تو مجھے اسکول جانے کی بھی فکر نہیں تھی صبح اٹھا ناشتہ وغیرہ اور گھر کے دیگر کام کیے دس بجے کے قریب مہوش کا میسج آیا جلدی سے گھر آؤ او اس کے ساتھ ہی ایک مس کال بھی آئی مسڈ کال شاید اس لیے تھی کہ میسج دیر سے نہ پڑھوں میں جلدی سے اس کے گھر پہنچا جب دروازے پر دستک دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا میں بے دھڑک اندر گھس گیا میں ان کے گھر میں ایسے ہی جاتا تھا اور اس بات پر کسی کو اعتراض نہیں ہوتا تھا اندر پہنچا تو صحن میں ہی مہوش موبائل ہاتھ میں لیے پریشانی سے پھیل رہی تھی مجھے دیکھ کر ایک کمینی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر نمودار ہوئی وہ میرے قریب آئی اور آتے ہیں میرا چہرہ اپنے ہاتھوں سے پکڑا اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیا میں اس کے ہونٹ چوسنے لگا ساتھ ساتھ میں اپنا ہاتھ بھی اس کی کمر پر پھیر رہا تھا ایسے ہی ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے چوستے میں اپنا ہاتھ نیچے لے جانے لگا اب میرا ہاتھ اس کی گانڈ پر تھا جس کی پہاڑیوں کو میں دھیرے دھیرے دبا رہا تھا میرا لنڈ کھڑا ہو چکا تھا اور باہر نکلنے کے لیے مجھ سے بھیک مانگ رہا تھا مہوش نے کس توڑی اور مجھ سے الگ ہوئی میں نے مہوش کی طرف دیکھا مہوش کی نظر میرے لنڈ کی طرف تھی جو جنس کی ٹائٹ پینٹ ہونے کے باوجود اپنے وجود کا بتا رہا تھا اچانک کمرے کے دروازے سے نوشین باہر آئی اور مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی اس کی نظر بھی میری پینٹ پر پڑی اور اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ آئی میں پھر سے آگے بڑھا اور مہوش کو اپنی باہوں میں بھر لیا میں ابھی مہوش کی باہوں کہ ہی مزے لے رہا تھا کہ نوشین چلتی ہوئی میرے پاس آئی اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے ملا دیے اب پوزیشن کچھ ایسی تھی کہ مہوش میری باہوں میں تھی میری تھوڑی اس کے کندھے پر تھی اور مہوش کے بالکل پیچھے نوشین کھڑی تھی اور اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں میں تھے میں مزے سے نوشین کے ہونٹوں کو چوس رہا تھا اس کے ساتھ ہی میرے ہاتھ مہوش کی کمر پر گھوم رہے تھے میں اپنے ہاتھوں کو نیچے لے جانے لگا اور مہوش کی گانڈ کی پہاڑیوں پر لے آیا میں نے مہوش کی گانڈ کی پہاڑیوں کو زور سے دبایا مہوش کی ہلکی سی سسکی نکل گی نوشین اب دستور میرے ہونٹ چوسے جا رہی تھی وقت مجھ پر بہت مہربان ہو چلا تھا ایک ساتھ دو دو خوبصورت اور کنواری چوت مجھے مل گئی تھی تھی لیکن یہ خوشی کچھ ہی دیر کی تھی اچانک دروازے پر دستک ہوئی مہوش اور نوشین دونوں مجھ سے جھٹکے سے الگ ہوئی دروازے کے نیچے والی جری سے مردانہ چپل نظر آ رہی تھی ہو نہ ہو یہ ضرور میں بھی اور نوشین کا چھوٹا بھائی منا تھا اس کا اصل نام تو مجھے نہیں پتا لیکن سب اسے منا ہی کہتے تھے کیونکہ گھر میں سب سے چھوٹا تھا ان دونوں کا چھوٹا بھائی بھی مجھ سے عمر میں کافی بڑا تھا کام کاج تو کچھ نہیں کرتا تھا آپ پورے علاقے میں لڑائی جھگڑے اس کے مشہور تھے میری بھی اس سے گانڈ پھٹتی تھی وہ بھی مجھے پسند نہیں کرتا تھا نہ ہی اس کو میرا اپنے گھر آنا جانا اچھا لگتا تھا ایسے میں اگر وہ مجھے اپنے گھر میں اپنی دونوں بہنوں کے ساتھ اکیلا دیکھ لیتا تو لازمی کوئی بڑا فساد کھڑا کر دیتا اور اس کے فساد تو شروع ہی ہاتھا پائی سے ہوتے تھے مجھے دروازے پر اپنی موت نظر آرہی تھی وہی لنڈ جو تھوڑی دیر پہلے دو دو چوت ملنے کی خوشی پر اچھل کود کر رہا تھا تھا آپ کسی میت کی طرح پڑا تھا ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ کیا کرے دروازہ پھر زور سے بجا مہوش اور نوشین کے بھی چہرے سفید ہو چکے تھے بے شک وہ دونوں منا سے بڑی تھی لیکن پھر بھی اس سے ڈرتی تھیں میں جو تھوڑی دیر پہلے اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھ رہا تھا سوچ رہا تھا کہ واقعی میرے نصیب میں کوئی رنڈی ناچ رہی ہے ایک تو پورے ڈیڑھ مہینے کے بعد کچھ موقع لگا تھا اوپر سے اس میں بھی یہ منا گیا اپنی بہن کا رشتہ دینے
-
آپ بیتی
دوستوں میں جانتا ہوں کی اپ ڈیٹ بہت چھوٹی تھی لیکن کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہوتا ہے کل ہی آپ لوگوں کو ایک سیکس سے بھرپور شاندار اپڈیٹ مل جائے گی
-
آپ بیتی
Update 010 آنٹی کی موت کے بعد میں بہت اداس رہنے لگا تھا اب ذرا بھی دل نہیں کرتا تھا سیکس کرنے کا دن گزرتے گئے آنٹی کی موت کو اب چالیس دن ہو چکے تھے اس دوران کئی بار میرا مہوش سے سامنا ہوا وہ میری طرف دیکھتی لیکن میں ہمیشہ نظر نیچے کر کے گزر جاتا شاید میں ڈپریشن کا شکار رہنے لگا تھا آنٹی کی موت نے مجھے اندر تک ہلا ڈالا تھا ایسے ہی چند دن اور گزر گئے ایک دن میں گھر میں بیٹھا اپنی پڑھائی کرنے میں مصروف تھا اچانک میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا سامنے مہوش کھڑی تھی میں دروازے کے سامنے سے ہٹ گیا تو مہوش اندر آ گئی اس نے آج پنک کلر کی قمیض اور سفید رنگ کی شلوار پہنی تھی اس کے ساتھ دوپٹہ بھی پنک کلر کا تھا تھا اس سوٹ میں مہوش بلاشبہ بہت پیاری لگ رہی تھی میں تھوڑی دیر تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا مہوش نے مجھے ایسے دیکھتے دیکھا دیکھا تو شرما کے اپنا چہرہ نیچے کرلیا مجھے اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نظر آئی میں جس کے ہاتھ میں اس کا فون تھا وہ مجھے اپنا فون دکھانے لگی لگی اس وقت اسمارٹ فونز مارکیٹ میں آنا شروع ہوئے تھے کیوں کہ میرے پاس لیپ ٹاپ تھا جس میں میں پڑھائی کرتا تھا تھا اس کے ساتھ ہی گھر پہ وائی فائی بھی لگا ہوا تھا فون دکھانے کے بعد میں اس نے مجھ سے وائی فائی کا پاس ورڈ مانگا ویسے تو میں اپنا وائی فائی کا پاسورڈ کسی کو بھی نہیں دیتا تھا لیکن اس وقت مہوش کو دیکھ کر انکار نہیں کر سکا میں نے مہوش کے موبائل میں وائی فائی کا پاسورڈ ڈال دیا مہوش کو اس حال میں دیکھ کے میری کئی دنوں سے سوئی ہوئی سیکس کی بھوک آج پھر جاگ اٹھی ابھی مہوش اپنا موبائل ھی چیک کر رہی تھی کہ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھینچا ویسے تو مہوش مجھ سے کافی بڑی تھی اور جسم میں بھی مجھ سے زیادہ صحت مند تھی لیکن اس اچانک حملے سے وہ سنبھل نہیں پائی اور زور سے مجھ سے ٹکرائی ہم دونوں گرتے گرتے بچے مہوش اس نے پہلے تو حیرت سے مجھے دیکھا لکھا لیکن میری آنکھوں میں شرارت دیکھ کے اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی مہوش نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا تم کو کیا ہو گیا چانک جیسے تم مجھے دیکھتے بھی نہیں ہو اور آج گھر آئی ہوں تو کچھ زیادہ ہی فری ہو رہے ہو میں نے کہا تم آج بہت پیاری لگ رہی ہو مہوش ہلکے سے غصے کے ساتھ مسکراہٹ سے مجھے دیکھنے لگی مہوش اب بھی مجھ سے چپک کے کھڑی تھی میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کے اس کے پیٹ پر رکھ دیا میں نے اپنا ہاتھ قمیض کے اوپر سے ہی رکھا تھا مہوش نے پہلے مجھے مجھے اور پھر دروازے کی جانب دیکھا حالانکہ میرا کمرہ اوپری منزل پہ تھا اور بہت کم ہی کوئی اوپر میرے کمرے میں آتا تھا لیکن پھر بھی لڑکی تو لڑکی ہے اس نے فورا میرا ہاتھ اپنے پیٹ سے ہٹایا اور مجھے کہا اپنا نمبر دو مجھے اچانک سے یاد آیا کہ میں نے آج تک کبھی مہوش کو اپنا نمبر نہیں دیا تھا ایسا نہیں تھا کہ میں دینا نہیں چاہتا بس ایسا اتفاق بھی ہوا نہیں میں نے فورا اسے اپنا نمبر دے دیا اور اس نے میرا نمبر پر مس بیل ماردی مہوش نے مجھے کہا کہا کہ میں تو پیسے واپس میسج کروں گی اور جلدی سے میرے گال پر ایک کس کر کے چلی گئی اور میں اس کے پیچھے اس کی ہلتی ہوئی گانڈ کو دیکھتا رہا تھوڑی دیر بعد ہی مجھے مہوش کے نمبر سے میسج آیا کہ کیا کر رہے ہو میں نے کہا تمہارا کیا بھگت رہا ہوں اس کا میسج آیا کیا مطلب میں نے کہا تمہیں دیکھنے سے ایک چیز سخت ہوگئی ہے اسے نرم کر رہا ہوں اس کا میسج آیا ہٹ بے غیرت میں نے اس سے نوشین کا نمبر مانگا تھا اس نے مجھے بھیج دیا
-
آپ بیتی
Update per kaam karna shuru kar dya hey mene.. Kal tak ek lambi si mega update dunga.. Bus thora sa or intizaar
-
آپ بیتی
Behtreen.. Aap ko to baat karne ki boht achi tameez hey.. Kahan se seekhi esi tameez aap ne?
-
آپ بیتی
تمام بھائیوں سے دل کی گہرائیوں سے معذرت بہت زیادہ مصروفیت کے باعث وعدہ کرنے کے باوجود اپڈیٹ کام نہیں کر سکا. میں پوری کوشش کرونگا کہ جلد کہانی کو پہلے کی طرح مستقل اپڈیٹ والی کہانیوں کی فہرست میں شامل کرواؤں. آپ سب کے. تعاون اور پیار کا بہت شکریہ
-
آپ بیتی
Boht jald update per kaam hoga
-
آپ بیتی
Tamam bhaion se muazrat.. Boht zyada masroofiyat ki waja se kahani per kaam ruka hua tha, lekin me ab tak bhoola nahi hun.. Jald hee kahani ki update per kaam karunga.
-
آپ بیتی
Ok, Koshish karungaa k jald nayi update post kar dun.
-
آپ بیتی
Bohot muazrat lekin kahani me interest bohot kum logon ka hey. is lye ab likhne ko dil nahi karta. Agar logon ko kahani pasand ati to mazeed likhta.
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
@Administrator Payment is done waiting for approval
-
آپ بیتی
Update 009 ہوم ورک کرنے کے بعد میں تھوڑی دیر سو گیا۔ شاید دو یا تین گھنٹے ہی سویا ہونگا کہ مجھے کچھ شور کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے بستر سے اٹھ کر آواز پر غور کیا تا کہ سمجھ سکوں کے اس شور کی وجہ کیا ہے۔لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ صرف اتنا پتہ چل رہا تھا کہ جس کی بھی ی آواز ہے وہ رو رہی ہے۔ میں نے آٹھ کے منہ دھویا اور اور اپنے کمرے سے باہر آگیا۔ میرا گھر دو منزلہ عمارت پر مشتمل ہے جس میں نیچے میرے والدین اور بہن بھائیوں کا کمرہ ہے اور اوپر صرف دو کمرے ہیں جس میں سے ایک میں اس گناہ گار شخص نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے اور ایک کمرہ خالی ہے جسے ہم عموماً سٹور روم کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ خیر میں منہ دھو کر نیچے پہنچا تو ہماری گلی کی ہی ایک خاتون ہمارے گھر میں رو رہی تھیں اور ان کے ساتھ بیٹھی میری امی کے بھی آنسو رواں تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ھوا کیا ہے۔ امی کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ بھاگتی ہوئی میرے پاس آئیں اور میرے گلے لگ کے اور زور سے رونے لگیں۔اب تک مجھے سمجھ آ گیا تھا کہ بات کوئی معمولی نہیں ہے۔ میں نے فوراً امی کو اپنے آپ سے الگ کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا ہوا آپ لوگ رو کیوں رہی ہیں؟ امی: بیٹا جب تو سو رہا تھا تو کنول تُجھے بلانے ائی تھی۔ میں کنول آنٹی کا نام سن کر اور زیادہ تشویش میں پڑ گیا۔ میں: کیوں بلانے آئیں تھیں کنول آنٹی؟ امی: اسے اپنے گھر کے لیے آٹا منگوانا تھا۔ میں: پھر؟ امی: میں تیرے کمرے میں آئی تو تو سو رہا تھا۔ میں نے اس سے کہہ دیا کے تو سو رہا ہے ابھی۔ میں: یار امی اٹھا دیتیں نہ مجھ کو۔ خیر پھر کیا ہوا؟ امی: بیٹا مجھے تھوڑی پتہ تھا کہ ایسا ہو جائیگا۔ میں: کیسا ہو جائیگا؟ کیا ہو گیا امی بتائیں۔ امی میری یہ بات سن کر اور زور سے رونے لگیں۔ میں: اف امی کچھ تو بتائیں کہ آخر ہوا کیا ہے۔ امی: بیٹا وہ شاید خود ہی آٹا لینے چلی گئی تھی اور راستے میں روڈ کراس کرتے وقت ایک ٹرک اسکو۔۔۔۔ اتنا کہہ کر امی پھر سے رونے لگیں اور یہ سننے کے بعد میرے بھی اعصاب جواب دے گئی اور دماغ بلکل سن سا ہو گیا۔ میں اسے ہی جلدی نے گھر سے باہر نکلا تو گلی میں کافی رش تھا تقریباً ہر کوئی ہی اپنے گھر سے باہر نکلا ہوا کنول آنٹی کے گھر کے باہر بھی بھیڑ جمع تھی۔میں بھی تیز قدموں سے چلتے ہوئے اسی بھیڑ کا حصہ بن گیا۔ ایسے میں مجھے میری گلی کا دوست ارسلان نظر آیا تو میںنے اُسے آواز دی اس نے میری طرف دیکھا اور آہستہ قدموں سے چلتا ہوا میری طرف آیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آنٹی کہاں ہیں ابھی؟ ارسلان نے حیرانگی سے میری طرف دیکھا اور کہا تُجھے نہیں پتہ اُنکا انتقال ہو گیا ہے۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے کسی نے ہتھوڑا کھینچ کر میرے سر پر مار دیا ہو۔ تھوڑی دیر میں خاموشی سے ارسلان کی شکل دیکھتا رہا۔ شاید میں بولنے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہا تھا۔لیکن الفاظ کا چناؤ تو دماغ کرتا ہے اور میرا دماغ تو جیسے سکتے کی حالت میں تھا۔ کچھ دیر خاموشی کے بعد میں ارسلان سے پوچھا کہ کب ہوا انتقال۔ ارسلان: ابھی پندرہ منٹ پہلے ہی گلی کے آدمی کے پاس کنول آنٹی کے شوہر کا فون آیا تھا۔ تب ہی پتہ چلا سبکو۔ میں: ایکسڈنٹ کہاں ہوا؟ ارسلان: مین روڈ پر میں: مجھے لے کر چل وہاں۔ ارسلان: ہاں چل میں اور ارسلان حادثے کی جگہ پر پہنچے۔ ہمارے سامنے ایک ٹرک کھڑا تھا جس میں آگ لگی ہوئی تھی۔ غالباً وہاں موجود عوام نے ٹرک کو جلا دیا تھا۔ ارسلان نے مجھے بتایا کہ ڈرائیور ٹرک سے کود کر فوراً بھاگ گیا تھا۔اور کچھ لوگوں نے یہ بھی بتایا دو ٹرکوں کی آپس میں ریس لگی ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ خیر میں اُداس دیو اور نم آنکھوں کے ساتھ ٹرک کو دیکھنے لگا۔ٹرک کے نیچے بیچ و بیچ بہت سارا خون پڑا تھا۔ یہ خون بھی آنٹی ہی کا تھا۔ مجھے یہ دیکھ کر اور بھی رونا آنے لگا۔ ارسلان نے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد ایک امبولنس بلوائی گئی جس میں ڈال کر آنٹی کی قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹر نے انکی موت کی تصدیق کر دی۔ ابھی آنٹی کو ایدھی سینٹر لے جایا گیا ہے۔ اس کے بعد عشا کے بعد انکی تدفین ہے۔ میں یہ ساری باتیں سن کر اپنا سر پکڑ کر فوٹ پاتھ پر ہی بیٹھ گیا۔ یقین ہے نہیں ہو رہا تھا کے تین گھنٹے کی نیند میں اتنا سب کچھ ہو گیا۔ کسی طرح سے وقت گزرا اور آنٹی کی تدفین کر دی گئی۔ سب اپنے گھر واپس آ گئے اور سب کے لیے کنول آنٹی ماضی کا حصّہ ہو گئیں سوائے میرے۔ میرے دل میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ میں رات کو اپنے بستر پر لیٹا نم آنکھوں سے بس یہی سوچ رہا تھا کہ شاید اب آنکھ کھل جائے اور یہ سب ایک خواب ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہوا میں اسے ہی آنسو بہاتے بہاتے سو گیا۔ دل میں ایک غم تھا تو صرف ایک بات کا کہ آنٹی کو اپنے گناہوں کی توبہ کرنے کا بھی موقع نہیں ملا۔
-
آپ بیتی
Hahaha, Muazrat bhai kuch masroofiyat ki waja se time nikalna muskil ho raha hey.
-
آپ بیتی
update 008 اگلے دن اسکول سے واپس آ کر میں سیدھا کنول آنٹی کے گھر کے لیے نکل پڑا۔ دروازے پر دستک دی تو دروازہ آنٹی نے ہی کھولا۔اور مجھے دیکھ کر ایک پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ دروازے سے ہٹ گئیں اور مجھے اندر آنے کا راستہ دیا۔ اس دن کے سیکس کے بعد سے اب تک ہمارے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔آنٹی نے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑا ہوا تھا۔ میں سیدھا آنٹی کے بیڈروم میں جا کر پلنگ پر بیٹھ گیا۔کچھ دیر بعد آنٹی بھی آ گئیں اور اب اُنکے ہاتھ میں دو کپ تھے۔جس میں سے ایک اُنہوں نے میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے کپ پکڑا اور چائے پینے لگا۔ لیکن مجھے مجھے جلدی تھی کے کب ہم دونوں اپنے کپڑے اتار کر ننگا ناچ شروع کریں۔ مینے جلدی سے چائے ختم کی تب تک آنٹی بھی اپنی چائے ختم کر چکی تھیں۔میں نے اپنا کپ پلنگ کے نیچے رکھا اور جھٹ سے آنٹی کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔ اور کسنگ شروع کر دی۔ آنٹی بھی برابر کا ساتھ دے رہی تھیں۔میرے ہاتھ آنٹی کے جسم پر رینگ رہے تھے۔میں آنٹی کی پیٹھ کو سہلا رہا تھا اور ساتھ ساتھ آنٹی کو اپنی بانہوں میں دبا رہا تھا جس سے آنٹی کے ممّے میرے سینے میں گڑھ رہے تھے۔میں اپنے ہاتھ نیچے کر آنٹی کی گانڈ کو پکڑ لیا اور زور زور سے دبانے لگا لیکن مجھے تھوڑی ہی دیر میں احساس ہوا کہ آنٹی نے شلوار کے اندر پینٹی پہنی ہوئی ہے۔ میرے ذہن میں فوراً خیال آیا کہ کہیں آنٹی منسس میں تو نہیں۔یہ سوچ میں اپنا ہاتھ آگے لے آیا اور آنٹی کی چُوت کی جگہ کو چیک کیا تو واقعی میرے نصیب میں رنڈی ناچ رہی تھی۔آنٹی کے پیریڈز چل رہے تھے۔اور مجھے ہاتھ سے آنٹی کا پیڈ صاف محسوس ہو رہا تھا۔ آنٹی بھی میری اس حرکت سے سمجھ گئیں کے میں جان چکا ہوں کے دال نہیں گلے گی آج۔ اور میرے چہرے پر مایوسی بھی چھا گئی تھی جو آنٹی نے نوٹ کر لی تھی۔ آنٹی نے پھیر سے مجھے دیکھ کر سمائل پاس کی۔اور جھک کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئیں اور میری بیلٹ کھولنے لگیں۔ آنٹی نے پہلے بیلٹ پھیر میری جینز کا بٹن اور اور پھر زپ کھول کر میری پینٹ نیچے کر دی اور میرے انڈرویئر کے اوپر سے میرے لن کو سہلانے لگی میرا لںڈ جو کسنگ کے دوران فل کھڑا تھا اور پیریڈز کا پتہ چل کے اب نیم کھڑا ہو گیا تھا و پھیر سے اپنی فل پاور میں آنے لگا۔ آنٹی نے میرا انڈرویئر نیچے کیا اور میرے لن کو ہاتھ میں لے کر مٹھ لگانی شروع کر دی۔مجھے بہت مزا آ رہا تھا۔میری آنکھیں مزے سے بند ہو گئیں۔تھوڑی دیر بعد مجھے اپنے لن پر کچھ گیلا محسوس ہوا میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو آنٹی میرا لن زبان سے چاٹ رہی تھیں۔یہ دیکھتے ہی مجھ پر شہوت کا ایک زبردست وار ہوا اور میرے لن نے زور کا جھٹکا لیا اور آنٹی میرے لن کو ایسے جھٹکے لیتے دیکھ کر مسکرانے لگیں۔ آنٹی نے دیر نہ کرتے ہوئے اپنا من کھولا اور لن منہ میں لے لیا۔زندگی میں پہلی بار کوئی عورت میرے لن کو چوس رہی تھی۔ عورت اس لیے لکھا کیوں کے اس سے پہلے بھی ایک بار میں گلی کے بچے کو دس روپے کا لالچ دے کر اپنا لن چسوا چکا تھا۔ مزا تو اس وقت بھی آیا تھا لیکن آنٹی کے چوسنے کی بات هی کچھ اور تھی۔ آنٹی مزے سے میرا آدھا لن منہ میں کے کر اندر باہر کر رہی تھیں اور میں کسی اور ہی دنیا کی سیر کرنے رہا تھا۔اسی مزے میں مینے آنٹی کے سر کو پکڑ لیا اور خود لن کو اندر باہر کرنے لگا۔آنٹی نے یہ دیکھ کر اپنے منہ کو ڈھیلا چھوڑ دیا تا کہ میں آرام سے اُن کے منہ کو چود سکون۔ میں نے بھی تیزی سے آنٹی کے من کو چودنا شروع کر دیا۔ جب میرا آدھے سے زیادہ لن آنٹی کے منہ میں چلا جاتا تو آنٹی کو کھانسی آجاتی۔آنٹی نے اپنا ایک ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ دیا تا کہ میں اپنا لن آدھے سے زیادہ اُنکے منہ میں نہ ڈال سکوں۔ میں دس منٹ تک ایسے ہی آنٹی کے من کو چودتا رہا۔اور فارغ ہونے کے قریب آ گیا۔میری سسکیاں نکلنے لگیں جسے سن کر آنٹی سمجھ گئیں کے میں اب جھڑنے والا ہوں تو آنٹی نے میرے لن کو منہ سے نکالا اور زور زور سے ہلانے لگیں۔ میرا لن بھی یہ وار برداشت نہ کر سکا اور میں فارغ ہو گیا۔ آنٹی میرے سامنے سے ہٹ گئیں تھیں اس وجہ سے میرے لن سے نکلنے والی منی کی دھار زمین پر جا گری ورنہ آنٹی اگر سامنے سے نہ ہٹی ہوتیں تو میری منی آنٹی کے منہ پر ہی گرتی۔ فارغ ہونے کے بعد آنٹی اٹھیں اور سیدھا واشروم چلی گئیں اور ہاتھ منہ دھو کر اور کلی کر کے آ گئیں۔واپس آتے وقت اُنکے ہاتھ میں ایک گندا کپڑا تھا جس سے اُنہوں نے زمین پر گری میری منی کی صاف کر دیا۔ میں پلنگ پر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا اور میری پینٹ اب بھی میرے گھٹنوں پر تھی اور لن مرجھایا ہوا تھا۔ آنٹی نے میری طرف دیکھا اور مجھے واشروم جانے کا کہا میں اٹھ کو واشروم گیا اور اپنی حالت درست کر کے واپس آ گیا اور پلنگ پر بیٹھ گیا۔ آنٹی پہلے سے ہی پلنگ پر بیٹھ کر اپنا موبائل دیکھ رہیں تھیں۔ میری طرف دیکھ کر آنٹی نے پیاری سی مسکراہٹ دی اور کہا۔ آنٹی: مزا آیا؟ میں: ہاں بہت لیکن پہلے جیسا نہیں۔ آنٹی مسکرائیں اور کہ وہ مزا بھی جلد مل جائیگا۔ میں تھوڑی دیر آنٹی کے گھر بیٹھ کر واپس اپنے گھر آ گیا اور اپنا اسکول کا ہوم ورک کرنے لگا۔
-
آپ بیتی
کہانی کی میگا اپڈیٹ پر کام چل رہا ہے پیر تک اپڈیٹ اجائیگی۔ شکریہ کہانی کو پسند کرنے کے لیے۔
-
آپ بیتی
بھائی یہ سچی کہانی ہے اس لیے میں وہی لکھ رہا ہوں جو کچھ ہوا ہے۔
-
آپ بیتی
کہانی کو پسند کرنے پر میں دل سے آپ لوگوں کا شکر گزار ہوں۔ آپ لوگوں کے کمنٹس کی وجہ سے مجھے آگے لکھنے کی ہمت ملتی ہے۔ حالانکہ کہانی لکھنا ایک بہت مشکل کام ہے۔ برائے مہربانی اسی طرح کمنٹس کر کہ مجھے کہانی کے بارے میں اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کرتے رہیں شکریہ
-
آپ بیتی
Update 007 مہوش اب پوری طرح ہوش میں آ چکی تھی۔ اس لیے اس نے فوراً اپنی شلوار اوپر کر لی۔ میرے دماغ پر پہلے تو منی چڑھی ہوئی تھی اب تھوڑا ہوش بحال ہونے شروع ہوئے تو میری نظر نوشین کے ادھ ننگے جسم پر پڑی۔ نوشین کی جسم کا پیٹ سے لے کر گھٹنوں تک کہ حصہ ننگا تھا۔ اُس کی ٹانگیں کھلی ہوئی تھیں جس سے اسکی چھوٹے چھوٹے بالوں کے بیچ چوت کی لکیر تھی۔ اُس کی چُوت کے ہونٹ موٹے موٹے تھے۔ لکیر کے بیچ و بیچ اُسکی چوت کا دانہ کسی بادشاہ کے سر کے تاج کی طرح سر اٹھائے کھڑا تھا۔ دانے کے ٹھیک نیچے اُسکی چُوت کا سوراخ تھا جو بہت چھوٹا تھا۔اُسکی چُوت کے اَندر کی جھلی سرخ تھی جیسے اندر بہت سارا خون جمع ہو۔ پیٹ سے لے کر گھٹنوں تک اس کا جسم بالکل بے داغ تھا۔ کہیں کسی تل کا نشان بھی نہیں تھا۔تیز تیز سانسیں لینے کی وجہ سے نوشین کے مممے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ نوشین کے مممے درمیانے سائز کے تھے۔ اور مہوش کے مممے کافی چھوٹے تھے۔ اُسے کوئی بیماری تھی جس کی وجہ سے اس کے ممّوں کا سائز بڑھتا نہیں تھا۔(اس نے مجھے بعد میں بتایا تھا اس بارے میں)۔ خیر میں نوشین کی چوت کو بارے غور سے دیکھ رہا تھا تبھی نوشین کے کچھ ہوش بحال ہوئے تو اسے سمجھ آیا کہ میں اسکی چوت کو بہت غور سے دیکھ رہا ہوں۔ تو وہ بجلی کی رفتار سے اٹھی اور اپنی شلوار اوپر کر لی۔لکڑی کا تخت ہمارے کارناموں سے گندا ہو رہا تھا۔میں بھی جلدی سے اٹھا اور اپنی پینٹ ٹھیک کی۔ مہوش چپ چاپ کھڑی سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ جب میں نے اور نوشین نے بھی کپڑے ٹھیک کر لیے تو مہوش واش روم چلو گئی۔نوشین اور میں وہیں چپ چاپ کھڑے تھے۔ دونوں میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر بولیں تو کیا بولیں۔ مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آیا تو میں نے خاموشی توڑنے کے لیے نوشین کی کپڑوں کے اوپر سے چوت کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ دیا کہ آپ بہت پیاری ہو نوشین آپی۔ نوشین نے میری طرف دیکھا اور میر نظروں کی جانب دیکھا تو اسے سمجھ آ گیا کے میں اسکی ٹانگوں کے بیچ چھپے خزانے کی بات کر رہا ہوں۔ نوشین نے پہلے مجھے دیکھا اور پھر ہلکا سا مسکراتے ہوئے اپنی آنکھوں کو نیچے کر لیا۔ اور آہستہ آواز میں کہا "کمینہ"۔ خیر میں نے اب اُن کے گھر میں زیادہ دیر رُکنا مناسب نہیں سمجھا اور نوشین سے دروازہ بند کرنے کا کہہ کر اُن کے گھر سے نکل گیا۔ پورا دن بس اسی سوچ میں گزار گیا کے اگر قسمت مہربان ہو تو بندے کو بیٹھے بٹھائے دو خوبورت بہنوں کی چُوت ایک ساتھ بھی مل سکتی ہے۔ کہاں میں ایک آنٹی کی پھٹی ہوئی چوت کے پیچھے پاپڑ بیل رہا تھا اور کہاں بغیر کسی کوشش کے دو دو کنواری چوتیں وہ بھی ایک ساتھ مل گئی تھیں۔ میں رات کا کھانا کھانے کے بعد اپنے بستر پر لیٹا اپنی سوچ میں گم تھا کہ میرے موبائل کے میسج ٹیون بجی۔ میں نے فون اٹھا کر دیکھا تو نوشین کا میسج تھا۔ نوشین: سنو میں: سناؤ نوشین: آج جو ہوا وہ ٹھیک نہیں ہوا میں: ایسا کیوں کہ رہی ہیں آپ؟ نوشین: وقاص تم تو لڑکے ہو تمہارا کچھ نہیں جائےگا لیکن ہم لڑکیاں ہیں اگر کسی کو یہ بات پتہ چلی تو ہمارے اپنے ماں باپ ہمیں جان سے مار دینگے۔ مجھے دونوں پھدیاں ہاتھ سے نکلتی دکھائی دیں۔ میں: یار آپ بلاوجہ ڈر رہی ہیں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔ نہ آپ دونوں میں سے کوئی کسی کو بتائیگا اور نہ میں۔تو کسی کو پتہ چلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نوشین: نہیں یار گناہ زیادہ دن چھپا نہیں رہتا۔ تم سمجھ نہیں رہے۔ برا وقت کبھی بتا کے نہیں آتا۔ نوشین ٹھیک کہہ رہی تھی لیکن میرے دماغ پر تو پھدیاں سوار تھیں۔ وہ بھی دو دو خوبصرت اور کنواری۔ میں: یار تم فکر نہ کرو میں وعدہ کرتا ہوں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلےگا۔ بڑی مشکل سے اُسے منایا لیکن وہ بھی پکّی تھی۔ اس شرط پر مانی کے میں اس وقت تک اس کے گھر نہیں آؤنگا جب جب تک وہ خود نہ بلائے۔ خیر کل کے دن دو دیں پورے ہو رہے تھے اور اس بات کے کافی امکان تھے کے کنول آنٹی کی بہن اب اپنے گھر جا چکی ہونگی یہ کل چلی جائینگی۔ تو میرے لیے چوت کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ یہی ساری سوچیں ذہن میں رکھئے میں سو گیا۔