Update 002
میں بھجی دِل کا ساتھ اپنے گھر واپس آ گیا .
لیکن میرے ذہن میں بس یہی چل رہا تھا کے کیسے آنٹی کو اپنے ساتھ سیکس کے لیے رضی کروں .
اگلے دن پِھر میں آنٹی کے گھر لڈو کھیل رہا تھا کے آنٹی جیت گئیں اور مجھے کہنے لگیں .
آنٹی : تو مجھ سے کبھی نہیں جیت سکتا ، تو ابھی بچہ ہے .
میں : آپ شرط لگائیں پِھر دیکھیں کے آپکو کیسے ہراتا ہوں .
آنٹی : تو پِھر بھی نہیں جیت سکتا
میں : تو پِھر لگا لیں شرط
آنٹی : ٹھیک ہے لیکن شرط کس چیز کی ؟
میں : ( کچھ سوچتے ہوئے ) ابھی تو کچھ ذہن میں نہیں آ رہا ، ایسا کرتے ہیں کے جیتنے والا ہارنے والے سے کوئی بھی بات منوا سکتا ہے
آنٹی نے مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھا اور کچھ سوچتے ہوئے بولیں کے ٹھیک ہے .
اس کے بعد ہمارا گیم شروع ہوا اور میں نے اپنی پوری گانڈ کا زور لگا دیا جیتنے کے لیے اور بالآخر جیت ہی گیا .
جیتنے کا بعد میں نے آنٹی کو کہا کے اب میری شرط پوری کریں میں جیت گیا ہوں .
آنٹی : ہاں بول کیا بات منوانی ہے تجھے .
پہلے تو میں نے سوچا کے سیدھا بول دوں کے چوت چاہیے آپکی لیکن تھا تو میں بچہ ہی گانڈ میں اتنا دو نہیں تھا اس وقت .
اِس لیے سوچا کے پہلے چیک کروں کے لائن کلیئر ہے کے نہیں
کسی ماہان آدمی نے کہا ہے کے شروعات ہمیشہ چھوٹی کرو اور خواب بڑے رکھو
میں نے یہی سوچتے ہوئے اک فیصلہ کیا اور آنٹی کو کہا
میں : آنٹی مجھے آپ سے اک کس چائیے
اور سیدھا آنٹی کے چہرے کو دیکھا تو نا مجھے آنٹی کے چہرے پر حیرانی نظر آئی اور نا ہی غصہ بلکہ آنٹی نے اک شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ میرے گال پر ہلکا تھپڑ لگایا اور کہا کے
آنٹی : بہت شیطان ہو گیا ہے تو ، اب مذاق چھوڑ اور بتا کیا چاہیے
میں : ( ڈرتے ہوئے ) آنٹی ابھی تو بتایا ، میں مذاق نہیں کر رہا
آنٹی : چل نکل یہاں سے میں کوئی کس نہیں دونگی تجھے
آنٹی کے چہرے پر ذرا بھی غصہ نہیں تھا جس سے میری ہمت اور بڑھ رہی تھی
میں : لیکن آنٹی یہ غلط بات ہے آپ شرط ہاری ہیں
آنٹی : اچھا ٹھیک ہے لیکن گال پر
میں نے سوچا کے اگر ابھی ہمت نہیں کی تو کبھی نہیں کر پاؤنگا .
میں : نہیں مجھے آپ کے ہونٹوں پر کس چاہیے
آنٹی نے 2 سیکنڈ کے لیے مجھے دیکھا اور کہا
آنٹی : اچھا اپنی آنکھیں بند کر
میرا تو دِل خوشی سے ناچنے لگا کے آنٹی کس کے لیے مان گئیں
میں نے جلدی سے آنکھیں بند کر لین .
کچھ دیر کے انتظار کے بعد مجھے اپنے ہونٹوں پر کچھ محسوس ہوا اور فوراً ہی واپس ہٹ گیا .
یہ کس شاید دُنیا کی سب سے چھوٹی کس تھی جو اک سیکنڈ کے ہزار حصوں میں سے کسی اک حصے میں ہوئی تھی
آنٹی : اب خوش ؟
میں : آپ اسے کس کہتی ہیں ؟
آنٹی : تو ؟
میں : اپنے شوہر کو بھی ایسی ہی کس کرتی ہیں کیا ؟
آنٹی : بس اب . . تجھے کس چاہیے تھی میں نے دے دی
میں : یہ کس نہیں تھی یہ تو کس کے نام پر دھبہ تھا
آنٹی میری بات سن کر ہنسنے لگیں .
مجھ میں پتہ نہیں کہاں سے ہمت آئی اور میں نے آنٹی کو ہنستے ہوئے دیکھا تو لائن کلیئر سمجھ کر آنٹی کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور ان کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ ڈائی .
آنٹی کو میرے اِس حملے پر ذرا بھی بچنے کا موقع نہیں ملا اور جب تک ان کو سمجھ آیا کے کیا ہوا ہے میں آنٹی کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی گرفت میں لے چکا تھا
آنٹی نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سینے پر رکھے اور مجھے خود سے دور کرنے لگیں
میں نے پِھر پورا زور لگا کے آنٹی کے سر کو پکڑ کے رکھا اور کس جاری رکھی . آنٹی کا نیچے والا ہونٹ میرے ہونٹوں میں تھا اور میں مستقل اپنی زبان کو آنٹی کے منہ میں ڈال نے کی کوشش کر رہا تھا لیکن آنٹی نے اپنے دانتوں کو مضبوطی سے بند کیا ہوا تھا .
کچھ دیر تک یہی کھیل جاری رہی رہا .
آنٹی مجھ سے الگ ہونے کی کوشش میں لگی رہیں اور میں آنٹی کے نیچے والے ہونٹ کو چوسنے میں لگا رہا
اور پِھر جب آنٹی نے دیکھا کے اب کوئی رستہ نہیں تو انہوں نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کر دیا اور اپنا منہ کھول کے میری زبان کو اندر جانے کا موقع دے دیا
اب ہماری کس زور و شور سے جاری تھی
کچھ دیر ایسی ہی کس کے بعد ہم دونوں کی سانس پھولنے لگی اور ہم سانس لینے کے لیے الگ ہو گئے
میں نے آنٹی کی چیریی کو دیکھا تو شرم سے سرخ ہو رہا تھا
جب مجھے اپنی سانس بحال ہوتی محسوس ہوئی تو میں نے پِھر سے آنٹی کو پکڑا پِھر سے کس شروع کر دی اور کس شروع کرتے ہی اپنی زبان اپنی کے منہ میں ڈال دی
اِس بار آنٹی نے کسی قسم کی مخالفت نہیں کی اور اپنی زبان کو میری زبان سے گھیسنے لگیں
میں نے لوہا گرم دیکھتے ہوئے اپنا سیدھا ہاتھ آنٹی کے اک ممے پر رکھ دیا
اور قمیض اور بریزر کے اوپر سی ہی دبانے لگا
آنٹی نے پِھر کوئی مخالفت نہیں کی
یہ دیکھتے ہوئے میں نے کچھ کے بعد اپنا اُلٹا ہاتھ آنٹی کی قمیض اور شلوار کے اوپر سے انکی گند پر رکھ دیا
آنٹی نے پِھر کسی بات پر دھیان نا دیتے ہوئے کس جاری رکھی اور میں نے اب آنٹی کی گانڈ کو دھیرے دھیرے دبانا شروع کر دیا