جی کوشش تو یہی ہے کہ اسے مستقل سلسلہ بنایا جائے مگر ہر سلسلے کو ایک دن مکمل ضرور ہونا چاہیے۔
میں نے کئی مشتقل سلسلے پڑھے جن میں آتش فشاں،سرکش ،اناڑی وغیرہ شامل ہیں۔ وہ نہایت اچھے لکھے گئے مگر ان میں بری بات یہ تھی کہ وہ یہ سوچ کر لکھے جاتے تھے کہ وہ کبھی ختم ہی نہیں ہوں گے۔دوم ان کی رفتار بہت سلو ہوا کرتی تھی،یہاں ایسا نہیں ہے ۔ان کی تمام خامیوں کو یہاں ختم کر کے لکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ویسے بھی اس کہانی میں میری کوشش یہ ہے کہ مکمل حقیقت نگاری کی جائے۔
جمیل ایک نہ ایک دن ضرور کسی ایسے مقام پر پہنچے گا کہ اسے پردیس سے رخصت لینا پڑے گی۔