Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 11/07/25 in all areas

  1. قسط 4 میری جھجھک دیکھتے ہوئے خانم مسکرا کر اٹھی اور میرے پاس آ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔اس کے نرم ملائم ہاتھ کو محسوس کرتے ہی میرے دل میں کھلبلی سی مچ گئی۔۔۔خانم نے ہاتھ پکڑتے ہوئے زور لگا کر مجھے اٹھایا اور چلاتے ہوئے لڑکیوں کے پاس لے جا کر تعارف کرواتے ہوئے ان کے خواص بتانے لگی۔۔۔پہلی لڑکی کے پاس پہنچے تو اس لڑکی نے اپنا ہاتھ مصافحے کیلئے بڑھا دیا میں نے ہاتھ ملایا تو وہ میرے ہاتھ کو دبا کر مسکرانے لگی۔۔۔خانم کی کمنٹری جاری ہو گئی۔۔۔ 1: ریشم۔۔۔مساج بہت اچھا کرتی ہے اور بلکل پیار سے آپ کو سکون کی منزل تک پہنچائے گی۔۔میں نے خانم کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے تو خانم مسکرا کر بولی،،نہیں میں نہیں٬٬صرف ان میں سے کوئی ایک پسند کر لو۔۔۔یہ کہہ کر خانم کی کمنٹری پھر جاری ہو گئی۔۔۔ 2: نازنین۔۔۔سیکس کی ماہر۔گانڈ مروانے کی شوقین اور سکنگ میں بھرپور مہارت۔۔۔ یہ سنتے ہی میں نے اس لڑکی نازنین کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔خانم نے مسکراتے ہوئے میرا ہاتھ چھوڑا اور نازنین کو بولی ان کو اوپر ٹیرس والے کمرے میں لے جاؤ۔۔۔آفتاب نے بھی ایک لڑکی کا انتخاب کیا اور ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس ہی بٹھا لیا۔۔۔نازنین میرا ہاتھ پکڑے مجھے اسی بغلی دروازے سے اندر لے گئی۔۔۔اندر ایک راہداری تھی۔۔۔راہداری کے ساتھ ہی سیڑھیاں چڑھ کر ہم اوپر والے پورشن میں چلے گئے۔۔۔نازنین نے داہنی سائیڈ پر موجود کمرے کے دروازے کو ہلکا سا دبایا تو دروازہ کھل گیا اور وہ مجھے لیے کمرے میں داخل ہو گئی۔۔۔کمرے میں نہایت شاندار بیڈ موجود تھا اور بیڈ کے ساتھ ہی ایک بڑا کاؤچ نما صوفہ پڑا ہوا تھا۔۔۔ نازنین نے مجھے بیڈ پر بٹھایا اور ابھی پانچ منٹ میں آئی کا کہہ کر واپس باہر نکل گئی۔۔۔میں اس کوٹھی کی شان و شوکت اور اس منظم کاروبار کے بارے میں سوچ سوچ کر حیران تھا کہ یہ خانم کتنے منظم طریقے سے یہاں بیٹھی ہے ضرور اس کی پشت پر کوئی اثرورسوخ والا بندہ ہو گا۔۔۔نازنین کو گئے ہوئے دس منٹ ہونے کو آئے تھے ابھی تک وہ واپس نہیں آئی تھی۔۔۔میں اٹھنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور خانم اندر داخل ہوئی۔۔۔خانم نے ایک لمبا اور ڈھیلا ڈھالا سا لبادہ پہنا ہوا تھا۔۔۔خانم کو دیکھ کر میں تھوڑا کنفیوز ہوا۔۔۔میری حالت دیکھ کر خانم بولی ایزی بوائے ایزی میں سب سمجھاتی ہوں۔۔دراصل ہر کسی کا اپنا اپنا ٹیسٹ ہوتا ہے جیسے ابھی نازنین کے بارے میں تم نے چوپے اور گانڈ کا سن کر فوری اس کا ہاتھ پکڑ لیا اسی طرح لڑکیوںe کی بھی اپنی اپنی چوائس ہوتہےے دراصل ہر کسی کا اپنا اپنا ٹیسٹ ہوتا ہے جیسے ابھی نازنین کے بارے میں تم نے چوپے اور گانڈ کا سن کر فوری اس کا ہاتھ پکڑ لیا اسی طرح لڑکیوں کی بھی اپنی اپنی چوائس ہوتی ہے۔۔۔وہاں نیچے کامن روم میں تم نے مجھے آفر کی تھی۔۔۔مجھے پہلے ہی کافی دفعہ آفتاب بھی کہہ چکا ہے لیکن میری بھی ایک چوائس ہے جس کی وجہ سے میں نے ہمیشہ آفتاب کو انکار کیا ہے لیکن تمہیں انکار نہیں کر سکوں گی کیونکہ تم میری چوائس کے عین مطابق ہو۔۔۔مگر خانم نیچے تو آپ نے مجھے انکار کر دیا تھا میں نے سوالیہ لہجے میں پوچھا تو خانم بولی یار نیچے آفتاب تھا نا اور میں اس کے ساتھ سیکس نہیں کر سکتی کیوں کہ وہ میری چوائس پر پورا نہیں اترتا۔۔۔ میں نے خانم پر آنکھیں گاڑتے ہوئے کہا کہ آخر کیا ہے آپ کی چوائس خانم کچھ بتاؤ تو سہی اس بارے میں۔۔۔تو چند لمحوں کی خاموشی کے بعد خانم اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنا رخ دوسری طرف پھیر لیا۔۔۔پھر آہستہ سے خانم نے اپنا لبادہ ہٹایا اور اپنا ایک کندھا ننگا کیا تھوڑا سا سر گھما کر میری طرف دیکھتے ہوئے خانم نے دوسرا کندھا بھی ننگا کر دیا۔۔۔کندھے ننگے کرنے کے بعد خانم میری طرف مڑی اور پرشوق نگاہوں سے دیکھتی ہوئی دو قدم آگے آئی اور اپنا لبادہ ایک جھٹکے سے کھول کر نیچے اپنے قدموں میں پھینک دیا۔۔۔خانم کا جسم دیکھ کر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔۔کیا کمال کر فگر تھا۔۔۔یہ بڑے بڑے اور اکڑے ہوئے ممے۔۔۔خانم کی گول مٹول گانڈ اور بالوں سے پاک صاف پھدی جس کے ہونٹ تھوڑا باہر کی طرف نکلے ہوئے تھے۔۔۔خانم ایک بازو اٹھائے سر کے اوپر سے دوسرے کندھے کی طرف گزار کر دوسرے ہاتھ سے اس بازو کو پکڑے مجسمے کی طرح کھڑی تھی۔۔۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے کسی مجسمہ تراش نے حسن کی مورت بنا ڈالی ہو۔۔۔ خانم کو ایسے دیکھ کر میرا لن فل تن کر اکیس توپوں کی سلامی دینے لگا۔۔۔خانم مجھے دیکھتے ہوئے نشیلے لہجے میں بولی میری چوائس ہے کنوارہ پن۔۔۔اور اسی وجہ سے اب میں تمہارے سامنے ہوں۔۔۔یہ کہہ کر خانم آگے بڑھی اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر انہیں چوسنے لگی۔۔۔میں نے بھی خانم کو اپنی بانہوں میں کَس لیا اور ہم دونوں لپٹ کر کسنگ کرتے رہے۔۔۔خانم کی گرم جوشی دیدنی تھی۔۔۔وہ بڑی شدت سے میری زبان چوس رہی تھی۔۔۔اسے مجھ پر بڑا ہی پیار آ رہا تھا۔۔۔خانم نے مجھے کھڑا کر کے میرے کپڑے اتار دیے پھر دوبارہ مجھے لٹاتے ہوئے میرے اوپر آ گئی اور دیوانہ وار مجھے چومنے لگی۔۔۔اس نے میرے چہرے کو چوما۔۔۔ہونٹوں کو بے تحاشا چاٹا۔۔۔پھر وہ تھوڑا نیچے آ گئی۔جیسے ہی اس کی زبان کا لمس میں نے اپنی گردن پر محسوس کیا میرے جسم کو کرنٹ سا لگا اور میرا بدن کانپ گیا۔۔۔اب خانم اور نیچے جا رہی تھی۔۔۔اس نے میرے سینے پر بے تحاشا پیار کیا۔۔۔ مجھے اس کی یہ گرم جوشی بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔۔مزے کی لہریں میرے جسم میں سرایت کر گئیں۔۔۔اس وقت تو مجھے ایک جھٹکا لگا جب اس نے میرے چھوٹے سے دانے جیسے نپل کو منہ میں بھر کر چوسنا شروع کیا۔۔۔میں نے بے اختیار اسے روکنے کی کوشش کی پر وہ نہ رکی اور نپلز چوستی رہی۔۔۔میں اپنی آنکھیں بند کر کے مزے کے اس طوفان کو برداشت کرنے لگا۔۔۔۔کچھ دیر میرے نپلز چوسنے کے بعد وہ تھوڑا نیچے آئی اور میرے پیٹ پر اپنی زبان پھیرتے ہوئے اور نیچے جانے لگی۔۔۔میں سوچ رہا تھا کہ اب وہ میرا لن چوسے گی لیکن میرے زیرِ ناف حصے کو چاٹتے چاٹتے جیسے ہی وہ لن کے پاس پہنچی وہاں سے اس نے اپنا منہ ہٹایا اور میری رانوں کو چاٹنے لگی۔۔۔ہر لمحے ایک منفرد مزے کا احساس ہو رہا تھا۔میں خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔۔۔خانم آہستہ آہستہ سے میری پنڈلیوں پر زبان پھرتے ہوئے نیچے آئی اور میرے پاؤں تک پہنچ گئی یہاں خانم نے رک کر میری آنکھوں میں دیکھا اور میرے پاؤں کے انگوٹھے کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔میں پھر سے مزے کے ایک نئے جہاں میں غوطے لینے لگا۔۔۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس چیز سے اتنا زیادہ مزہ ملتا ہے۔۔۔مزہ ہی اتنا تھا کہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔اب خانم میری دونوں ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گئی اور میرے لن کو پکڑ کر سہلانا شروع کر دیا۔۔۔پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے خانم نے اپنا سر نیچے جھکایا اور اپنی لمبی سی زبان باہر نکال کر میرے لن کی ٹوپی کو چاٹ لیا۔۔۔میرے لن نے ایک جھٹکا کھایا اور مزی کا ایک قطرہ لن کے سوراخ سے باہر نکل آیا۔۔۔خانم نے لن کے ارد گرد اپنی زبان پھیرنا شروع کر دی۔۔۔وہ مزے مزے سے لن کی ٹوپی سے لے کر نیچے ٹٹوں تک اپنی زبان پھیرتی۔ساتھ ہی دوسرے ہاتھ سے اس نے میرے ٹٹوں کو سہلانا شروع کر دیا۔۔۔میں دوہرے مزے کا شکار ہونے لگا۔۔۔خانم کی مستیاں مجھے دیوانہ بنا رہی تھیں۔۔۔دو منٹ تک ایسے ہی لن کی کیپ کو سائیڈوں سے چاٹنے کے بعد خانم نے میری ٹانگیں اٹھا کو ہلکی سی کھول دیں۔۔۔ اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہلکا سا مسکرائی اور اپنی لمبی زبان باہر نکال کر منہ نیچے جھکایا اور میرے ٹٹوں کی جڑ میں گانڈ کے سوراخ کے پاس اپنی زبان کی نوک پھیری۔۔۔وہاں سے زبان پھیرتے ہوئے خانم اوپر کی طرف آتے ہوئے ٹٹوں کو چاٹتی گئی۔۔۔ٹٹوں سے ہوتے ہوئے لن کی جڑ سے سیدھا لن کی ٹوپی تک ایک چاٹا لگایا اور میرے لن کو اپنے منہ میں بھر لیا۔۔۔مجھے ایک منفرد مزے کا احساس ہوا۔۔۔خانم بڑی رغبت سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔مجھے لگا کہ اگر کچھ دیر اور اس نے ایسے ہی لن چوسا تو میں چھوٹ جاؤں گا۔۔۔ اس لیے میں نے خانم کو روک دیا اور اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکال لیا۔۔۔خانم کے لبوں پر میری مزی کا قطرہ چمک رہا تھا جسے وہ زبان نکال کر چاٹ گئی۔۔۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.