یہ میں نے ابھی ابھی کیا پڑھا ہے؟ میرے تو جسم کے بال کھڑے ہو گئے، اس قدر عورت کی ذلت اور اس کے جسم کا ردی کی طرح استعمال کرنا، توبہ ۔اوپر سے اس قدر گھٹیا کاموں پہ سب کی خاموشی۔ لعنت ہے ایسے نظام پہ اور لوگوں پہ جنہوں نے یہ ظلم برداشت کیا اور وڈیوں کی چاکری کی۔ بہت بہت دکھی کھانی ہے، بڑا افسوس ہوا میرا اور ملو کے ساتھ جو ہوا وہ پڑھ کر۔اوپر سے گھٹیا لوگ کس اتھارٹی سے منہ سے ایک بچی کو وقتی کسی کی بیوی بنا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاب کہانی جس قدر اچھی ہے مجھے پورا یقین ہے اسی قدر مشکل ہوگی اس کو پڑھنے میں۔آپ نے ظلم کی داستان رقم کردینی ہے۔ بہرحال یہ بہترین کہانی چل رہی ہے۔