اپڈیٹ 2
میں ایک طویل سانس لے کر چپ ہو رہا۔ اس اثنا میں ویٹر چائے سرو کر چکا تھا۔ پھر ذرا دیر میں ڈرائیور بھی آگیا۔ صبا نے میرا شکریہ ادا کیا اور اپنی خراب کار کی چابیاں ڈرائیور کے حوالے کر کے اپنے پاپا کی کار میں روانہ ہوگئی میں ڈھیلے ڈھالے قدموں سے اپنی جیپ کی طرف بڑھ گیا۔ صبا سے اس مختصر ملاقات نے مجھے کافی مایوس کیا تھا۔ مگر میں ابھی نا امید نہ ہوا۔۔۔۔۔
اس دن لیفٹینٹ ذیشان نے مجھ سے گھر فون پر رابطہ کیا۔ " کیا ہوا کیپٹین صاحب ... کیا صبا سے ملاقات ہوئی یا ابھی تک صرف سوچا ہی جا رہا ہے؟"
"ہاں یار! ہوئی تھی ملاقات میری """"
اچھا۔ اس کے لہجہ میں غیر یقینی تھی۔ تو پھر کیسی رہی ملاقات؟"
" کچھ خاص نتیجہ نہ نکلا میں نے کہا ۔ لیکن مجھے کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صبا کچھ نہ کچھ جانتی ہے؟"
" تم نے کیسے اندازہ لگایا؟"
"اس کے اچانک گفتگو قطع کرنے سے...."
"ہوں" اس نے پر سوچ ہنکاری بھری۔ ایک اور کوشش ٹرائے آگین ٹرائے..
"میرا خیال ہے. وہ کچھ بتانا نہیں چاہتی وہ چڑ جائے گی۔"
"اگر ایسا ہے تو پھر کیپٹن صاحب سمجھ لینا کہ دال میں کچھ کالا ہے"
"یار... ذیشان ! مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ دونوں باپ بیٹی سلطان جہانزیب جیسے خبیث آدمی کے سامنے مجبور ہوں .... میں نے کہا...۔
"آف کورس" ... ذیشان بلا تامل بولا۔ اور مجبوری بھی ایسی کہ وہ کسی سے شیئر بھی کرنا نہ چاہتے ہوں۔“
"ایگز یکٹلی کو ریکٹ "...۔ میں نے کہا۔
"ویسے میرے ذہن میں خیال یہ تھا کہ کہیں سلطان جہانزیب نے صبا کے باپ سیٹھ اصغر کو بھی تو نہیں اپنے ساتھ ملالیا ہاں ایسا ممکن ہو سکتا ہے تو کیا صبا کو بھی معلوم نہ ہوگا۔" میں نے کسی خیال کے تحت کہا۔
"May be"... وہ بولا۔
"میرا خیال ہے. ہمیں خود ان دونوں پر نظر رکھنا ہوگی۔"
"سیٹھ اصغر اور سلطان جہانزیب پر ؟" میں نے پوچھا۔
"ہاں" یار میں چاہتا ہوں صبا کی . جمشید سے منگنی یا پھر کم از کم نکاح سے پہلے پہلے جہانزیب کا اصل چہرہ آشکارا ہو جائے "میں نے دانت بھینچ کر کہا۔..
" لو.... یہ کام اتنا آسمان اور ترنت ہونے والا ہوتا تو اب تک ہو چکا ہوتا "وہ بولا۔
"یار تم میری مدد کرنے یا ہمت بندھانے کے بجائے مجھے بے حوصلہ کیوں کر رہے ہو؟" میں نے زچ ہو کر کہا۔ ...
وہ مسکراتے لہجے میں بولا۔۔۔۔"بڈی ! میں تو حقیقت بیان کر رہا تھا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں حکم کرو"
." ہاں یہ ہوئی نا بات" میں نے خوش ہو کر کہا۔ ۔۔۔
"تم ایک کام کرو صبا اور جمشید کو ٹریس کرنے کی کوشش کرو۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ ان دونوں میں کس حد تک ذہنی و دلی ہم آہنگی ہے۔"
"اس سے کیا پتہ چلاؤ گے" ذیشان نے پوچھا۔۔۔۔ "میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آیا صبا کی جمشید سے کسی حد تک انڈرسٹینڈنگ ہے۔ تم نے بغور ان دونوں کے باہم انداز و اطوار اور میل جول پر نظر رکھنا ہوگی۔"
" اور حکم ذیشان دوستانہ سعادت مندی سے بولا۔۔۔۔ "
"بس یارا... یہ مہربانی کردو"
"ارے مہربانی کیسی یہ تو میرا فرض ہے. بلکہ یہ تو ہر عام شہری کا فرض ہے کہ وہ ملک دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم اپنے دل میں ہمہ وقت رکھے۔"
"ویری گڈ... ذیشان !" میں جذبات سے لبریز ہو کر خوشی سے بولا۔۔۔۔"میں نے بھی یہ پختہ عزم کر رکھا ہے کہ ... سلطان جہانزیب کا چہرہ بے نقاب کر کے ہی رہوں گا۔ میں نے عزم مصم کے ساتھ رہا۔"
"وطن کا یہ ادنی خادم تمہارا یار غار تمہارے ساتھ ہے۔...." ذیشان نے کہا۔" مگر پھر دوسرے ہی لمحے ذرا سنجیدگی سے بولا۔ "یار عمران ! ذرا محتاط رہنا۔ تم تو جانتے ہو گے کہ یہ سلطان جہانزیب کتنا خطر ناک آدمی ہے.میجر افتخار کا حشر تمہارے سامنے ہے۔ آج تک اس کا پتہ نہ چل سکا۔"
" ہاں میں جانتا ہوں۔" میں نے کہا اور پھر بائے کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا۔۔۔۔
سلطان جہانزیب گلبرگ کے علاقے میں رہتا تھا۔ وہاں اس کی عالیشان کوٹھی تھی۔ میں اپنی اس مہم میں دو باتوں کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہتا تھا۔ نمبر ایک کہ اپنی مخصوص آرمی جیپ کا استعمال اس فہم کی حد تک قطعا نہ کروں نمبر دو اصل چہرے کے بجائے ریڈی میڈ میک اپ میں اس مہم کو انجام تک پہنچانے کی کوشش کروں۔
مہم کا آغاز ... میں نے رات سے کیا۔ اپنے کمرے میں میں نے با قاعدہ ایک ریڈی میڈ میک اپ کٹ تیار کی ۔ اس کے بعد چہرے پر ہلکی پھلکی لیپا پوتی کرنے کے بعد میں نے اپنا پستول سنبھالا اور رات کے دس بجے گلبرگ کے علاقہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ میرے ہمراہ اقبال عرف بالا بھی تھا۔ ایک بس کے ذریعے ہم گلبرگ پہنچے۔ پھر پیدل ہی آگے بڑھ گئے۔
پھر اپنے مطلوبہ بلاک والے راستے پر چلتے ہوئے میں سلطان جہانزیب کی عالی شان کوٹھی کے سامنے سے گزرنے لگا۔ اندر وسیع لان سے جھانکتے بلند و بالا سفیدے اور یوکلپٹس کے درخت صاف نظر آ رہے تھے۔
آہنی گیٹ کے دونوں طرف سنگ مرمر کے چوکور ستونوں پر دودھیا گلوب روشن تھے ۔ گیٹ کے باہر بائیں طرف گارڈز کیبین نظر آ رہا تھا۔ خشت ارغواں سے بنی ہوئی یہ کوٹھی صرف ایک منزلہ تھی مگر اس کا رقبہ خاصا وسیع تھا۔ کوٹھی پر ویرانی کا راج تھا میں اور بالا بظاہر عام راہگیروں کی طرح چلتے ہوئے سامنے سے گزرے۔ پھر ہم نے ایک طواف کوٹھی کے گرد کیا اور ایک قریبی چائے خانے میں جابیٹھے۔ میں نے رسٹ واچ میں وقت دیکھا اور بالے سے بولا۔
"بالے تم گھر جاؤ۔ اماں اور بہن اکیلے ہیں۔ میں شاید صبح منہ اندھیرے ہی پہنچوں "
وہ متردد ہوتے ہوئے بولا۔ "عمران صاحب ! آپ اکیلے ؟"
"ہاں تم جاؤ ۔ باقی کا کام میرے اکیلے کا ہے۔ مگر تم نے سلطان جہانزیب کی کوٹھی کا اتہ پتہ اور محل وقوع تو اچھی طرح ذہن نشین کر ہی لیا ہو گا ؟"
ہاں صاحب! آپ بے فکر رہیں۔ کیا میں صبح تڑکے آؤں؟" وہ بولا۔ ۔۔۔۔
"اس کی ضرورت نہیں۔ اب تم جاؤ" میں نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔۔
وہ جانے کیلئے اٹھنے لگا تو میں نے کہا۔ "سنو." جمی صاحب؟“
وہ رک گیا۔۔۔۔
"اماں اور بہن کو میرے بارے میں کچھ نہ بتانا۔ میں بیٹھک والے دوازے سے اندر داخل ہو جاؤں گا مگر تم اتنا کام کرتلنا گھر پہنچتے ہی دروازے کے ساتھ بیٹھک والے دروازے کی کنڈی اندر سے کھول دینا اور باہر سے تالا لگا دینا ڈوپلی کیٹ چابی میرے پاس موجود ہے۔ میں اس بیٹھک کے راستے اندر داخل ہو جاؤں"
"ٹھیک ہے صاحب ... ! میں ایسا ہی کروں گا۔ پر صاحب ! اپنا خیال رکھنا"
" ہاں تم بے فکر رہو "میں نے ہولے سے مسکرا کر کہا۔
وہ چلا گیا۔ میں وقت گزاری کیلئے ادھر ادھر مٹر گشت کرنے لگا۔ ایک سٹریٹ لیمپ کے قریب میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالی بارہ بج کر چالیس منٹ کا وقت تھا۔ میں سلطان جہانزیب کی کوٹھی کی طرف بڑھ گیا۔ سردی زوروں پر تھی ۔ لاہور کی سردیاں ویسے بھی کڑاکے دار پڑتی ہیں مگر میں نے اس سردی سے بچاؤ کا اہتمام کر رکھا تھا۔ اونی سویٹر تو میں نے پہن ہی رکھا تھا۔ اوپر سے گرم کوٹ بھی پہنا ہوا تھا۔ گردن کے گرد مفلر بھی لپیٹ رکھا تھا۔ ذرا ہی دیر بعد میں سلطان جہانزیب کی کوٹھی کے سامنے سے گزر رہا تھا۔۔۔ اب میرا ارادہ کوٹھی کے عقب سے کسی طرح اندر داخل ہونے کا تھا۔ میں نے یہاں کا رخ کرنے سے قبل ذیشان سے معلومات لے رکھی تھی۔ کوٹھی کے اندر مکینوں کی زیادہ تعداد نہ تھی۔ سلطان جہانزیب اس کی بیوی ایک بیوہ بہن شہلا اور بیٹا جمشید کل چار مکین تھے۔ سلطان جہانزیب کی کوٹھی میں نقب لگانے کا میرا مقصد اس کے کمروں کی مفصل تلاشی لینا تھا۔ میری ہیڈ کوارٹر کے ریکارڈ روم سے حاصل کی ہوئی معلومات کے مطابق اس کوٹھی میں ایک بیسمنٹ بھی تھا۔ در حقیقت میں اس تہہ خانے کو تلاش کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ میں کوٹھی کے گیٹ کے سامنے سے گزرتا ہوا جیسے ہی کوٹھی کی شمالی دیوار کے متوازی مڑا تو اچانک سامنے سے آتی ہوئی کار کی تیز ہیڈ لائٹس مجھ پر پڑیں میں سر جھکائے راستے کے کنارے چلتا چلا گیا۔ جب کار میرے قریب سے گزری تو میں نے دزدیدہ نظروں سے کار کی طرف دیکھا اور کار سوار کو پہچان کر بری طرح ٹھٹک گیا۔ مگر رکا نہیں چہ جائیکہ کار سوار عقب نما آئینے میں سے اچانک رکتا ہوا نہ دیکھ لے کار میں صبا کا باپ سیٹھ اصغر سوار تھا۔ اور وہ خود ہی کار ڈرائیو کر رہا تھا۔ پھر جیسے ہی کار سلطان جہانزیب کی کوٹھی کی جانب مڑی تو میں الٹے قدموں واپس ہوا ...
اریب قریب کا علاقہ سنسان ہونے کی وجہ سے میں نے کارنر کی دیوار کی آڑ لے کر کوٹھی کے گیٹ کی طرف جھانکا تو سیٹھ اصغر کی کار اندر داخل ہو رہی تھی۔ یہ اس وقت یہاں کیا کرنے آیا تھا؟ میرے ذہن میں سوالیہ نشان
ابھرا .... میں واپس پلٹا اور کوٹھی کی عقبی دیوار کی طرف آ گیا۔ یہاں ذرا رک کر پہلے میں
نے گردو پیش میں نظر دوڑائی ٹھٹھرتی ہوئی رات خاموش تھی اور کوئی ذی نفس نظر نہیں
آ رہا تھا۔ میں نے بغور کوٹھی کی عقبی دیوار کا جائزہ لیا. بیشتر کوٹھیوں اور بنگلوں پر
ٹھٹھرتی ہوئی ویرانی مسلط تھی۔
کوٹھی کی دیوار میں بارہ فٹ سے زیادہ بلند نہ تھیں مگر اوپر کے سرے پر خم دار اپنی بریکٹ نصب تھی۔ جن پر خار دار تاریں مسلک تھیں۔
اب میں ٹیلی فون کے اس کھمبے کو دیکھ رہا تھا۔ جسے میں پہلے ہی تاڑ چکا تھا۔
میں نے اس کے ذریعے کوٹھی کی دیوار پھاندنے کا ارادہ کر رکھا تھا۔ لہذا میں ذرا تیز روی سے چلتا ہوا مذکورہ پول کی طرف آیا۔ احتیاطاً ایک بار پھر گرد و پیش میں نظریں دوڑانے کے بعد میں نے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو با ہم مسلا اور ... پول سے چپک
کر اوپر چڑھنا شروع کر دیا۔ یہ پول دیوار سے چند فٹ کے فاصلے کی دوری پر تھا۔ میں نے پول سے لپٹ کر اپنا توازن برقرار کیا اور سپرنگ کی طرح اچھل کر کوٹھی کی دیوار کے سرے پر لگی بریکٹوں کو پکڑ لیا۔ مگر اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور دیوار سے نیچے لٹک کر رہ گیا۔ بڑی مشکل کے ساتھ میں نے اپنی بے ترتیب سانسوں پر قابو پاتے ہوئے اپنی دونوں ٹانگوں کو سمیٹا اور خود کو آہنی بریکٹوں کے درمیان پھنسانے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ باؤنڈری وال تھی جس سے تقریبا پانچ فٹ کی دوری پر کوٹھی کی دیوار نظر آ رہی تھی ۔ جہاں سے ٹینٹڈ گلاسز کی دو عدد کھڑکیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں جو بند تھیں۔ میں نے نیچے جھانکا نیچے گلیار سا بنا ہوا تھا۔ اور وہاں پودوں کی قطاریں نظر آ رہی تھیں۔ اس وقت کوٹھی پر خاموش کا راج تھا۔ میں نے خود کو فولادی خاردار تاروں سے بچاتے ہوئے نیچے گلیارے میں چھلانگ لگا دی۔ گھنے پودوں کی کیاریوں میں ہلکی سی دھپ کی آواز سے میں گرا اور خاصی دیر تک سن گن لینے کی غرض سے وہیں دم سادھے پڑا رہا۔
آرمی ٹریننگ کے دوران سخت تربیت میرے کام آرہی تھی ... بہر طور... اچھی طرح سے اپنے گرد و پیش کی سن گن لینے کے بعد میں دبے پاؤں بڑھنے لگا۔
گلیارا باؤنڈری وال کے متوازی دائیں جانب گھوم رہا تھا۔ میں بھی چلتا ہوا مذکورہ سمت میں گھوم گیا۔ اب میں کوٹھی کی مرکزی دیوار کی جانب کھڑا تھا۔ یہاں بھی کمروں کی بند ٹنٹڈ گلاس کی کھڑکیاں نظر آ رہی تھیں۔ میں پھر بھی احتیاط کے پیش نظر جھکا جھکا آگے بڑھنے لگا چند قدم چلنے کے بعد میں ایک کھڑکی کے قریب پہنچ کر رک گیا۔ اس کھڑکی کے اندر سے مجھے روشنی کی ہلکی کرنیں پھوٹتی نظر آ رہی تھیں ... اور مدھم باتوں کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔ میں نے ذرا سید ھے کھڑے ہو کر درز سے آنکھ چپکا دی مگر دوسری طرف جھولتے دبیز پردوں کی وجہ سے میں اندر کمرے کا منظر دیکھنے سے قاصر رہا تھا۔ البتہ کان لگا کر میں اندر ہونے والی گفتگو با آسانی سن سکتا تھا۔ میں نے سر دست اسی کو غنیمت جاتا اور بغور سننے لگا۔ رات کے ٹھڑے ہوئے سناٹے میں مجھے اندر ہونے والی گفتگو صاف سنائی دے رہی تھی۔
"سلطان جہانزیب ... میں نے تمہاری بات مان لی۔ اب تم بھی اپنا وعدہ پورا کرو "
یہ سیٹھ اصغر کی آواز تھی۔ اس کے لہجے میں ایک طرح کی التجا تھی۔ جس نے مجھے چونکا دیا تھا۔
"ہاں سیٹھ اصغر ! مجھے اپنا وعدہ یاد ہے تم نے میرے لاڈلے بیٹے جمشید کی دیرینہ آرزو پوری کر دی اب میں بھی اپنا وعدہ ضرور پورا کروں گا۔ مگر....." وہ اچانک کچھ کہتے کہتے رکا تو مجھے سیٹھ اصغر کی بے چین سی آواز سنائی دی۔
"اگر مگر کیا ؟ سلطان؟"
"ارے یار تم فکر کیوں کرتے ہو؟ شادی تو ہو جانے دو "سلطان جہانزیب کی مکارانہ ہنستی ہوئی آواز ابھری۔۔۔۔
لیکن تم نے تو کہا تھا کہ منگنی کا اعلان ہوتے ہی... """
"ہاں ہاں مجھے یاد ہے مگر سیٹھ اصغر منگنی کا کیا بھروسہ؟ کیا خبر اپنا کام نکلتے ہی تم منگنی توڑ دو"
"یار یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو؟ میں بیٹی کا باپ ہوں ۔ بھلا ایسا میں کیسے کر سکتا ہوں ؟"
تم ایک بیٹی کے باپ ہو مگر مال دار باپ ہو اور دولت بڑے بڑے عیب چھپا دیتی ہے۔"
چند ثانیے خاموشی چھائی رہی۔ میرا دل سینے میں زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ میرا اندازہ درست ثابت ہوا تھا کہ سیٹھ اصغر نے یقینا اپنی کسی ذاتی یا کاروباری مجبوری کے تحت ہی اپنی حور پری جیسی معصوم بیٹی صبا کی منگنی جمشید جیسے لنگور سے کرنے کا اعلان کیا تھا وہ مجبوری کیا ہے؟ میں یہ جاننے کیلئے بے چین ہو گیا۔۔۔۔
"دیکھو سلطان اب تم وعدہ خلافی کر رہے ہو ؟"چند ثانیوں کی پر سوچ خاموشی کے بعد سیٹھ اصغر کی معاندانہ سی آواز ابھری۔
"کیسی وعدہ خلافی ؟ تم بدگمان ہو رہے ہو؟" سلطان جہانزیب نے مکاری سے کہا۔
"تو پھر اپنا وعدہ پورا کرو تم نہیں جانتے میں کسی قدر ذہنی اذیت اور انجانے خوف کا شکار ہوں۔ میرا سب کچھ ڈوب جائے گا ۔ اور میری پھول سی بیٹی در بدر ہو جائے گی۔ میرے سوا اس کا کوئی دنیا میں نہیں ہے۔ اسی لئے تو میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ کم از کم میری بیٹی تمہارے پاس سکھی تو رہے گی۔" سیٹھ اصغر کا لہجہ اب رندھ گیا تھا۔۔۔۔
ادھر میرے اندر بری طرح پکڑ دھکڑ جاری تھی۔
"یار تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ میرے ساتھ مل جاؤ۔ چھوڑو یہ چھوٹی موٹی سمگلنگ اس میں رسک اور خطرات بھی بہت ہیں اور پیسہ بھی کم میرے ساتھ تم کروڑوں میں کھیلو گے" مکار سلطان جہانزیب نے پینترا بدلا۔۔۔۔۔
"نہیں یار تمہارا کام مجھ سے زیادہ خطرے والا ہے تمہارے پیچھے تو ویسے بھی انٹر سروسز کے خفیہ اہلکار لگے ہوئے ہیں۔۔۔"سیٹھ اصغر کی گھبرائی ہوئی آواز ابھری اور میری کنپٹیاں سنسنانے لگیں۔
سیٹھ اصغر کے جواب پر سلطان جہانزیب نے ہلکا سا استہزائیہ قہقہہ لگایا۔ وہ پر غرور لہجے میں بولا۔۔۔۔"سیٹھ اصغر تم مجھے معمولی آدمی سمجھتے ہو؟ میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تم نے دیکھا نہیں کہ میں نے کس طرح ایک میجر کا کورٹ مارشل کروا ڈالا۔ اس کے بعد سے کسی کی اب تک مجھ پر آنکھ اٹھانے کی بھی جرات نہ ہو سکی۔"
اس کے نخوت بھرے لہجے کی گفتگو نے مجھے سرتاپا لاوا بنا دیا تھا۔۔۔۔
"یار چھوڑو اس بات کو میرے کام کی بات کرو بہت دیر ہو گئی ہے۔ گھر میں صبا اکیلی ہے" اصغر خان نے پدرانہ محبت سے کہا۔۔۔۔ "اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ اور مجھے تاریخ دے دو... نکاح کے بعد تمہارا کام ہو جائے گا۔۔۔۔" سلطان جہانزیب نے کہا تو دوسرے بھی لمحے سیٹھ اصغر کی پر طیش آواز ابھری۔
"سلطان پہلے تمہیں اپنا وعدہ پورا کرنا ہوگا"
"مجھے تم ؟ اوہ ہماری بلی ہمیں ہی میاؤں" جوابا سلطان جہانزیب کی رعونت آمیز آواز پھر ابھری۔ "جاؤ پھر جو کرنا ہے کرو توڑ دومنگنی میں بھی تمہیں کوڑی کوڑی کا محتاج کر دوں گا۔ تمہاری بیٹی کو تمہارے عالی شان "سارنگ ہاؤس" سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ پھر میں اسے آیا نوکرانی بنا لوں گا .... جو میرے بیٹے کی دل بستگی کا سامان بھی پیدا کرتی رہے گی ۔"
"سلطان" سیٹھ اصغر کی غیظ آلود چیخ ابھری۔
"چیخنے کی ضرورت نہیں ہے سیٹھ اصغر اپنی اوقات کو پہچانو ۔ اس وقت تم میری چہار دیواری میں کھڑے ہو ۔ ایسا نہ ہو تمہارا نشان تک نہ ملے "سلطان جہانزیب کی بھی درشت آواز ابھری۔
"ٹھیک ہے ٹھیک ہے میں معافی چاہتا ہوں" سیٹھ اصغر کی پژمردہ سی آواز ابھری۔
اس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔ صبا کے متعلق ناپاک لفظوں کے استعمال نے مجھے آگ بگولا کر دیا تھا۔ میرا جی چاہا کہ اسی وقت کھڑکی کا شیشہ توڑ کر اندر داخل ہو جاؤں اور سلطان جہانزیب جیسے غدار وطن اور رذیل کتے کی گردن مروڑ ڈالوں لیکن میں نے بمشکل اپنے اندر کے ابال پر قابو پایا اور مزید چند ثانیے سن گن لینے کی کوشش کرتا رہا مگر اندر بدستور خاموشی طاری رہنے پر میں اندر داخل ہونے کے بارے میں سوچنے لگا۔
کھڑکیوں کے ذریعے اندر داخل ہونا ناممکن تھا۔ کیوں کہ شیشہ سرکنے کے باوجود اندر آہنی گرلیں لگی ہوئی تھیں۔ میں نے آگے قدم بڑھا دیئے میرا اراده . بیرونی حصے سے ٹیرس پر کودنے کا تھا لیکن ابھی میں چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ اچانک مجھے اپنے عقب میں خوفناک غراہٹ سنائی دی۔ میں چونک کر پلٹا تو میرے اوسان خطا ہو گئے سامنے مدھم روشنی میں مجھے لمبا قد آور اور خوفناک بلڈ ہاؤنڈ کتا نظر آیا۔وہ اپنی چمکتی ہوئی خونخوار آنکھوں سے مجھے گھور رہا تھا۔ اس کے ہانپتے ہوئے آدھ کھلے تھوتھنے سے زبان باہر کو پلپا رہی تھی۔ جہاں سے شکاری دانتوں کی خوفناک جھلک صاف نمایاں تھی۔ ابھی میں سنبھل بھی نہیں پایا تھا کہ ایک اور درندے کی خونخوار خراٹے دار غراہٹ مجھے اپنے عقب میں سنائی دی میں چونک کر پلٹا اور میرا سانس جیسے سینے میں اٹک کر رہ گیا۔ اور ایک لمحے کو تو دہشت سے میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں میرے سامنے وہ قد اور خوفناک بلڈ ساؤنڈ کتا تھا جبکہ میرے عقب میں ایک خونخوار چیتا ان دونوں خونخوار جانوروں کے درمیان میں خود کو پا کر بری طرح بوکھلا گیا تھا۔ چیتا اپنے خوفناک جبڑے پھاڑے تیز نوکیلے دانتوں کی نمائش کرتا ہوا اپنی پچھلی ٹانگوں پر ذرا سمٹ گیا۔ وہ مجھ پر جست لگانے کے لئے پر تول رہا تھا۔ میں سردی کے باوجود پسینے میں نہا گیا۔
میں بہت خطرناک اور جان لیوا حد تک نازک پوزیشن میں تھا۔ چشم زدن میں میں نے اپنے مقتل پڑتے حواسوں پر قابو پانے کی کوشش کی. ادھر جیسے ہی میں نے کوٹ کی جیب میں پستول نکالنے کیلئے ہاتھ ڈالا چیتے نے ایک زبر دست چنگھاڑ مار کر مجھ پر چھلانگ لگا دی۔ میں یک دم نیچے بیٹھ گیا۔ چیتا میرے اوپر سے ہوتا ہوا ... کتے پر جاپڑا اب آر یا پار کچھ بھی کرنا تھا۔ ورنہ یہ دونوں خونخوار درندے مجھے چیر پھاڑ کر رکھ دیتے۔ مجھے پستول نکالنے کا موقع مل چکا تھا۔ چنانچہ میں نے بجلی کی سی پھرتی کے ساتھ اوپر تلے تین فائر جھونک مارے ایک گولی تو بلڈ ہاؤنڈ کتے کے چہرے پر کی تھی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا تھا جبکہ باقی دو گولیاں چیتے کی گردن میں پیوست ہو گئیں تھیں۔
اس نے ایک خوفناک چنگھاڑ ماری اور زخمی ہونے کے باوجود مجھ پر جست لگانے کیلئے پر تولے میں نے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی پیشانی کے نازک ترین حصے کا نشانہ لیا اور یکے بعد دیگرے دو گولیاں داغ ڈالیں... میری پستول کی نال نے دھماکے کے ساتھ دو شعلے اگلے اور چیتا وہی ڈھیر ہو گیا۔ اس اثنا میں مجھے عقب میں متعدد دوڑتے قدموں کی آوازیں سنائی دیں۔ میں پلٹا اور خونخوار درندوں کی لاشیں پھلانگتا ہوا اندھا دھند دوڑ پڑا۔ دفعتا عقب سے مجھے رکنے کا درشت حکم دیا گیا مگر میں نے پلٹ کر گولی داغ دی. اگلے ہی لمحے مجھے پر گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی. میں نے گولیوں کی مہیب زد سے خود کو بچانے کی خاطر ...
زمین پر گرا دیا۔ اور ساتھ ہی کمانڈوز ٹرینگ کے دوران حاصل کی ہوئی تربیت سے کام لیتے ہوئے میں نے بالنگ جست لگائی اور اپنے وجود کو بائیں جانب کے گلیارے کی طرف اچھالنے میں کامیاب ہو گیا۔ اور دیوار کی آڑ ملتے ہی میں نے ... انتہائی تیز رفتاری سے دوڑتے ہوئے لمبی ہائی جمپ لگائی تو سیدھا باؤنڈری وال کی منڈیر پر جا پہنچا ۔ آہنی بریکٹوں پر نصب خاردار باڑھ نے میری کھال چھیل کر رکھ دی۔ اسی وقت دوبارہ مجھ پر کوٹھی کے مسلح گارڈز نے برسٹ فائر کر ڈالے مگر میں تو چھلاوہ بنا ہوا تھا۔ سنسناتا ہوا لہو پارے کی مثل میری رگوں میں تیزی سے گردش کر رہا تھا۔ گولیاں باؤنڈری وال میں زنازٹ کی آواز سے پیوست ہونے لگیں .... چند گولیاں آہنی بریکٹوں سے اچٹ کر زن سے میرے چہرے کے بالکل قریب سے گزری تھیں کہ مجھے ان کی آتشین جھپک چہرے پر صاف محسوس ہوئی تھی شکر تھا کہ میں ابھی تک گولیوں کی خوفناک زد سے بچا ہوا تھا ۔ میں نے پھر ایک لمحے کی بھی دیر نہ لگائی تھی۔ اچھل کر دیوار کی دوسری طرف کو گیا ۔ اور نیچے کودتے ہی میں ناک کی سیدھ میں دوڑتا چلا گیا۔۔۔۔۔