اپڈیٹ1
وہ ایک سرد اور کہر آلود رات تھی جب میں اپنی ملٹری انٹیلی جنس کی جب میں
"سارنگ ہاؤس پہنچا تھا۔
میرے ساتھ میری والدہ اور چھوٹی بہن سلطانہ بھی تھیں۔ سارنگ ہاؤس وسیع و عریض رقبے پر پھیلی ہوئی ایک پرشکوہ اور عظیم الشان کو ٹھی تھی جو لاہور کے ایک بہت بڑے تاجر سیٹھ اصغر خان کی ملکیت تھی۔ کوٹھی میں اس وقت خاصی گہما گہمی نظر آتی تھی۔ پوری کوٹھی بقعہ نور بنی ہوئی تھی اور کسی نوخیز دلہن کی طرح سجی ہوئی تھی۔ رنگ برنگے برقی قمقے گارڈن کی باڑ سے لے کر دیوار کی منڈھیروں پر وسیع و عریض لان کے خوشنما پودوں اور بل کھاتے بیل بوٹوں کی ہم رکابی میں جگمگا رہے تھے۔
کوٹھی کے اندر باہر متعدد نئے ماڈل کی چہچہاتی کاریں، پیجارو، لینڈ کروزر اور ڈبل کیبین انٹر کولر گاڑیاں کھڑی نظر آرہی تھیں جو اپنے مالکوں کی امارت کا بین ثبوت
پیش کر رہی تھیں ۔ کوٹھی کی درون و بیرون سج دھج سے عیاں ہوتا تھا کہ یہاں کسی پر تکلف تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا اور حقیقت بھی یہی تھی کہ سیٹھ اصغر خان کی اکلوتی بیٹی صبا خان کی برتھ ڈے پارٹی منائی جارہی تھی۔
صبا خان میری چھوٹی بہن سلطانہ کی کلاس فیلو اور عزیز ترین سہیلی تھی۔ ہمارا آبائی گاؤں شاہینوں کے شہر سرگودھا کے نواح میں واقع تھا جہاں میں نے بچپن اور جوانی کا اولین دور اپنی والدہ اور بہن سلطانہ کے ساتھ ایک حویلی نما گھر میں گزارہ تھا۔ وہ جوائنٹ فیملی سسٹم تھا۔ میرے چاچا فاروق احمد اور تایا اخلاق احمد تھے۔میرے ابو نو از احمد اور ان سب کی اولادیں مل جل کر رہتے تھے۔ ہماری مشترکہ زمینیں بھی تھیں۔ مجھے فوج میں بھرتی ہونے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ اس وقت میرے ابو حیات تھے۔ در حقیقت وہ مجھے ایک اعلی آرمی آفیسر کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے جو کبھی خود ان کا اپنا دیرینہ خواب ہوا کرتا تھا۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ والدین اپنی نا تمام آرزوؤں کی تکمیل اپنی اولاد کی صورت میں دیکھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔
میرا قد کاٹھ اچھا تھا اور پھر ابو نے مجھے زمینداری میں لگانے کے بجائے اچھی تعلیم دلوائی تھی۔ یہ بات میرے تایا اور چاچا کو اچھی نہ لگی۔ کیوں کہ ان کی کسی اولاد نے چار پانچ جماعتوں سے زیادہ تعلیم حاصل نہ کی تھی اور کھیتی باڑی میں لگ گئے تھے۔ زمینیں بھی ہماری کچھ اتنی زیادہ نہ تھیں، بس اس قدر تھیں کہ تین خاندانوں کی کفالت بآسانی ہو جاتی تھی۔
بہر طور... چاچا اور تایا ہم سے اس بات پر خار کھانے لگے... یوں انہوں نے ہمیں زمین کی آمدنی سے بھی حصہ کم دینا شروع کر دیا۔ میرے ابو ایک امن پسند شریف اور فراخ دل انسان تھے۔ انہوں نے بھائیوں سے جھگڑنا مناسب نہ سمجھا اور اسی پر شاکر رہے۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ مجھے آرمی میں کمیشن مل گیا اور میں میں پر ٹرینینگ کیلئے چلا گیا۔ ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد جب میں کیپٹن کی وردی پہنے اپنے گاؤں میں داخل ہوا تو لوگوں کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پورے گاؤں میں نہ کسی نے اتنی تعلیم حاصل کی تھی اور نہ ہی کوئی اتنے بڑے رینک تک پہنچا تھا۔ میرے ابا کی تو حالت خوشی کے مارے دیدنی ہو رہی تھی۔ ان کا تو جیسے دیرینہ خواب پورا ہو چکا تھا۔ گاؤں کے لوگ مبارکباد دینے کیلئے آنے لگے۔ گاؤں میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ چچا فاروق اور تایا اخلاق احمد کو ذرا بھی خوشی نہ ہوئی تھی۔ بلکہ الٹا وہ میری کامیابی پر جل بھن گئے تھے۔ جھوٹے منہ سے بھی انہوں نے ہم سے خوشی کا اظہار تک نہ کیا۔ مجھے ان کے مخاصمانہ رویوں پر دکھ ہوا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے پتہ چلا کہ میرے چاچا اور تایا نے کن کن حیلے بہانوں سے میرے گھر والوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا تھا۔ ابا تو بالکل ہی بیمار پڑ گئے۔ وہ تو جیسے مجھے دیکھنے کی آس میں جی رہے تھے۔ ہماری ٹریننگ بہت سخت ہوتی تھی چٹھی بھی مہینوں بعد ملتی تھی اور وہ بھی چند دنوں کیلئے۔
پھر انہی دنوں ابا کا انتقال ہو گیا تو میرا اپنے چاچا تایا بلکہ گاؤں سے ہی دل اٹھ گیا۔ میں نے یوں کیا کہ اپنے حصے کی زمینوں پر لعنت بھیجی اور اپنی والدہ اور بہن کو لے کر ہمیشہ کیلئے لاہور آ گیا۔ یہاں میری سرکاری رہائش گاہ تھی۔
اقبال گوندل المعروف بالا میرے بچپن کا دوست تھا۔ میری غیر موجودگی میں وہی میرے بوڑھے ماں باپ کے کام آیا کرتا تھا۔ وہ مجھ سے رابطے میں رہتا تھا۔ بے چارے کا دنیا میں کوئی نہ تھا۔
اقبال گوندل عرف بالے کو میں ایک سچا دوست ہی کہوں گا کیونکہ میں نے آج تک اسے ملازم کی حیثیت سے نہیں دیکھا تھا۔ اس کا چوں کہ دنیا میں کوئی نہ تھا ما سوائے اس کے دو چار ابن الوقت عزیز رشتے داروں کے... اس لئے میں اسے بھی اپنے ساتھ لاہور میں لے آیا تھا۔
میں بات کر رہا تھا۔ سیٹھ اصغر خان کی بیٹی صبا خان کی سالگرہ کی۔ جس کا انعقاد اس وقت بڑی شان و شوکت کے ساتھ سارنگ ہاؤس میں کیا گیا تھا۔ جیسا کہ مذکور ہوا... صبا میری چھوٹی بہن سلطانہ کی سہیلی تھی اور اس نے اسے فیملی سمیت اپنی سالگرہ میں شرکت کرنے پر اصرار کیا تھا۔ یوں بھی میں سلطانہ کو تنہا جانے نہ دیتا۔ نہ ہی وہ خود ہی جاتی۔
میں اس وقت وردی میں نہیں تھا حالانکہ سلطانہ نے تو اصرار کیا تھا کہ میں اپنی دردی میں ہی ان کے ساتھ جاؤں تا کہ وہ فخر کے ساتھ اپنے ویر کا تعارف کرواتی۔ مگر .... ایسا میں نے دانستہ نہیں کیا تھا۔ سلطانہ نے تحائف خرید رکھے تھے جو اقبال گوندل عرف بالے نے اٹھا رکھے تھے ۔ ہم سب جیپ سے اتر کر گیٹ کی طرف بڑھے. باوردی گارڈز نے احتراما جھک کر راستہ دیا۔ ہم چکنی روش پر چلتے ہوئے اندر داخل ہو گئے۔ لان کی طرف سے آنے والی نوع بنوع گل بوٹوں کی گلنار نے دماغ ترو تازہ کر دیا۔ سامنے محرابی چبوترے پر ساگوان کی لکڑی کا دروازہ تھا جہاں فلورا کے سنگ مرمر کے گملے رکھے تھے۔
ایک باوردی خدمت گار نے وہ بھاری بھر کم دروازہ احترام سے کھولا۔ ہم تینوں اندر داخل ہو گئے۔ موسم سرما کی وجہ سے اندر ہی میں تقریب اور مہمانوں کی نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔ درمیان میں بڑی مستطیل میز تھی (یا پھر تین چار میزوں کو جوڑ کر اس پر بیش قیمت میز پوش چڑھا دیئے گئے تھے ) درمیان میں گنبد نما گول کیک دھرا تھا جس پر موم بتیاں نصب تھیں۔ میں نے ان کی تعداد گن کر صبا کی عمر کا تعین کیا۔ یعنی اٹھارہ برس تقریب ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ دائیں بائیں صوفوں پر سوٹڈ بوٹڈ مرد اور جھلملاتے سرسراتے لباسوں میں خواتین، بیش قیمت جیولری سے لدی خواتین اور دوپٹوں سے بے نیاز کمر لچکاتی ہرنی جیسی چال چلتی قہقے لگاتی نازنین تھیں، سلطانہ نے والدہ اور میرا تعارف کروایا۔
ساتھ مرد لدی پھندی ہاتھوں میں کاک ٹیل کے گلاس تھا مے باتوں میں مشغول تھے۔ ہائی سلطانہ ؟ اچانک ہمارے دائیں جانب ایک کھنکتی آواز ابھری۔ یہ صبا تھی نرم و نازک سندر اور چنچل صبا جو ہوا کے عطر بیز جھونکے کی طرح میرے قریب سے گزر کر سلطانہ سے لپٹ گئی۔ سلطانہ نے اسے وش کیا اور پھر ہاؤ کیوٹ ! آپ ہی اس کے وہ بھائی ہیں جو کیپٹن میں ... یہ بہت شیخیاں بھگارتی تھی آپ کی ... صبا نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔ اس کی موتیوں کی لڑی جیسے ہموار دانتوں کی قطار کی لمحاتی جھنک ابھری۔ پھر وہ سلطانہ اور والدہ کو لئے اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ کی طرف چلی گئی۔ اسی اثنا میں ایک درمیانے قدوقامت کا قدرے بھاری بھر کم شخص میری طرف آیا۔
"میرا نام سیٹھ اصغر خان ہے۔ اس نے تعبیر آواز میں مجھ سے کہا اور مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھا دیا۔
نائس ٹومیٹ یو۔" میں نے مسکرا کر کہا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ " کم آن انجوائے یور سیلف " وہ یہ کہہ کر دوبارہ اپنے دوستوں کی ٹولی سے جا ملا .. وہ لارنس کے گرے سوٹ میں ملبوس تھا۔ اس نے جیسے خانہ پری کی تھی۔ اسی اثنا میں ایک باوردی ویٹر ہاتھ میں لئے میری طرف آیا۔ میں نے کاک ٹیل کی بجائے .. ...ھوس کا گلاس اٹھالیا۔ بالا بھی میرے ساتھ تھا۔ ہم دونوں ایک کونے میں کھڑے ہو گئے۔ ہیلو کیپٹن صاحب اچانک ایک آواز پر میں نے چونک کر گردن موڑی۔
ارے ذیشان ..... تم یہاں دوسرے ہی لمحے میں اپنے دوست کو دیکھ کر گرم جوش آواز میں بولا۔ یہ ذیشان ملک تھا۔ سیالکوٹ کے بیس کیمپ میں ٹریننگ کے دوران وہ میرے ساتھ تھا۔ رینک اگرچہ اس کا لیفٹیننٹ کا تھا مگر ہم دونوں خوب گہرے دوست تھے۔
بہرطور ہم نے گرمجوشی کے ساتھ معانقہ اور بعد میں مصافحہ کیا۔ پھر میں نے ہولے سے بنتے ہوئے کہا۔ اوئے... یہ کیپٹن صاحب کا لاحقہ لگانا ضروری تھا؟ صرف عمران کہنا کافی نہ تھا۔؟"
نو نیور سینٹر ! از سینئر وہ خالص آرمی قواعد کے مطابق اٹینشن ہوکر بولا۔
یہ کیمپ نہیں ہے. یہاں ہم صرف دوست ہیں۔ میں نے مصنوعی غصے سے گھور کر کہا۔ "اچھا یہ بتاؤ تمہاری اتنے بھاری بھرکم سیٹھ کی بیٹی سے کس طرح دوستی ہوئی جو اس کی سالگرہ میں چلے آئے۔"
" نہیں یار.... میری تو دونوں باپ بیٹی سے رسمی سی بھی علیک سلیک نہیں
ہے۔“
وہ بولا۔ "میں تو اپنی بہن نادره......"
اوہ میں نے اس کی بات کائی تو گویا تم بھی میری طرح ہو۔" پھر اس اتفاق پر ہم دونوں ہی مسکرا اٹھے۔ اس کے بعد میں نے بالے کا تعارف کروایا اور ادھر ادھر کی باتوں میں مشغول ہو گئے۔
اس دوران نجانے کیوں میری نظریں نہ چاہتے ہوئے بھی بار بار صبا کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ وہ واقعی مجھے بہت اچھی لگی تھی۔ بالکل شہزادیوں جیسی معصومیت تھی اس میں رنگ روپ بھی پھولوں ساتھا۔
اے مسٹر ڈونٹ لک ہر شی از گوئنگ ٹو بی انگیجڈ سون ... ذیشان ( لیفٹیننٹ) نے آخرکار تا ڑ لیا تھا مگر اس کی بات پر میرے دل کو ایک گھونسہ لگا۔ کیا واقعی صبا کی منگنی ہونے والی ہے مگر مجھے جیسے یقین نہ آیا۔
اوہ تو گویا کیپٹن صاحب محترمہ کو دیکھتے ہی دل دے بیٹھے۔"
وہ شرارت سے بولا تو میں بے اختیار چھینپی سی ہنسی کے ساتھ بولا۔۔۔۔نہیں یار ایسی بات تو نہیں ہے"
وہ دیکھو وہ ہے اس کا ہونے والا منگیتر ذیشان نے ہلکے سےاشارہ کیا۔۔۔۔۔۔ میں نے مذکورہ سمت دیکھا تو میرا منہ بے اختیار کھلے کا کھلا رہ گیا۔
حیران ہو گئے ناں ... صبا جیسی حور کے اس لنگور جیسے ہونے والے منگیتر کو دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔۔وہ بولا۔۔۔۔۔
واقعی اگر یہ لنگور نما شخص... صبا جیسی حسین و جمیل پری وش کا منگیتر ہوتا تو میرے لئے افسوس کا ہی مقام تھا۔ انتہائی دبلا پتلا رنگت بھی سانولی سر کے بال بھی عنقریب فارغ البالی کا اعلان کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ آنکھیں بھی چندی چندی کی قد بھی ہلکا تھا۔ اگر صبا ہیل والی اونچی سینڈل پہن کر اس کے ساتھ کھڑی ہوتی تو اس لنگور کا قد بھی اس کے مقابل دب کر رہ جاتا۔
یار کیا۔۔۔" صبا یا اس کا باپ اندھے تھے جو " وشش۔۔۔۔ آہستہ بولو ورنہ بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے والا شعر ہم پر صادق آ جائے گا ۔۔۔۔
میرے ہولناک تبصرے پر ذیشان نے سرگوشیانہ کہا۔۔۔۔
صد افسوس ہے یار! یہاں بھی سیٹھ نے باپ بن کر نہ سوچا ضرور اپنے کسی کا روباری مفاد کی خاطر ہی اس لنگور کو اپنا داماد بنانے کا فیصلہ کیا ہوگا ؟میں نے متاسفانہ لہجے میں کہا۔ ۔۔۔
"ابھی تمہیں یہ نہیں پتہ کہ یہ لنگور ہے کس کا بیٹا ؟ پھر تو تم اپنا سر ہی پیٹ ڈالو گے " ذیشان نے جیسے مزید انکشاف کرنے کے سے انداز میں کہا۔ تو بتاؤ؟ میں نے جیسے سانس روک کر پوچھا۔۔۔۔
" سلطان جہانزیب خان معروف صنعتکار" اس نے بتایا۔
کیا ؟ بے اختیار میرے منہ سے غیر یقینی انداز میں نکلا تھا۔
روشن ہو گئے چودہ طبق ؟"
یار یہ سلطان جہانزیب وہی تو نہیں جو۔۔۔
بس بس پھر کوئی ہولناک تبصرہ نہ کر دینا۔۔۔۔ سیٹھ اصغر کے سمدھی کے بارے میں ورنہ وہ میری بات کاٹ کر بولا اور دانستہ اپنا جملہ بھی ادھورا چھوڑ دیا۔۔۔۔
میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔صنعت کار سلطان جہانزیب کچھ اچھی شہرت کا آدمی نہ تھا۔ اس کی یہ مشکوک شہرت اگرچہ انٹیلی جنس کی حد تک ہی تھی مگر بہر حال مستند اور مصدقہ تھی لیکن ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک اس پر ہاتھ نہ ڈالا جا سکا تھا۔۔۔۔ وہ بے پناہ اثر و رسوخ کا بھی مالک تھا اور خطرناک بھی تھا۔ اسے ذرا بھی بھنک پڑ جاتی کہ کوئی اس کے پیچھے لگا ہوا ہے تو وہ اسے خاموشی کے ساتھ مروا ڈالتا تھا یا پھر ہمیشہ کیلئے غائب۔۔۔۔۔"
پھر ذیشان ہی کی نشاندہی پر وہ مجھے ایک طرف کھڑا نظر آ گیا۔ کالے کوے جیسی سیاہ رنگت سر بالکل گنجا ... دراز قد اور عمر میں وہ اپنے ہونے والے سدھی ... سیٹھ اصغر خان جتنا ہی تھا۔ یعنی پینتالیس، پچاس کے پیٹے میں ۔ مجھے جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔
سلطان جہانزیب کے لنگور نما بیٹے کا نام جمشید تھا۔ وہ اس وقت صبا کا دم چھلا بنا نظر آ رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد کیک کاٹنے کی رسم ادا کی گئی اور پھر ساتھ ہی سیٹھ اصغر نے اپنی بیٹی صبا کی جمشید کے ساتھ عنقریب منگنی کا بھی اعلان کر دیا۔۔۔۔
جانے کیوں مجھے یوں لگا جیسے سیٹھ اصغر نے اپنی معصوم اور پری پیکر بیٹی کو سولی چڑھانے کا اعلان کیا ہو۔۔۔۔ میں بے اختیار ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔ تقریب کا انتقام ہوا ۔ ہم لوگ لوٹ آئے .... جانے کیوں میرا دل اداس اداس سا ہو کر رہ گیا تھا۔ سارے راستے میں خاموش رہا تھا۔ اپنی سرکاری رہائش گاہ پہنچ کر میں نے اماں اور بہن کو اتارا اور جیپ گیراج میں کھڑی کر کے اندر آ گیا۔ سالگرہ کی تقریب میں اچھی خاصی ریفریشمنٹ کر چکے تھے اس لئے کھانا کھانے کو جی نہ چاہا تھا۔ میری تو ویسے بھی بھوک اٹھ چکی تھی ۔ وہاں بھی میں نے کچھ نہیں کھایا تھا۔ میں اپنے کمرے میں آکر بستر پر دراز ہو گیا۔ مگر نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ بار بار صبا کا معصوم اور حسین چہرہ میرے سامنے رقصاں ہو رہا تھا۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ سیٹھ اصغر یا اس کی بیٹی صبا سے جا کر .... سلطان جہانزیب کی اصلیت کے بارے میں بتا دوں کہ وہ درحقیقت ایک غدار وطن تھا۔ دیگر اشیاء کی سمگلنگ کی آڑ میں وہ بعض اہم ملکی رازوں سے پڑوسی ملک کو آگاہ کرنے کی مذموم کوششیں کرتا رہتا تھا۔ مگر انٹیلی جنس کی اس کی انڈر گراؤنڈ مجرمانہ سرگرمیوں پر کڑی نگاہ ہونے کی وجہ سے وہ ہر بار نا کام رہا تھا۔ مگر ابھی تک ثبوت کی عدم فراہمی کی وجہ سے اس پر ہاتھ نہ ڈالا جا سکا تھا۔ اس کے جن گرگوں اور کار پردازوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے چند نے تو اپنی جان ختم کر ڈالی تھی جو باقی بچے تھے وہ اپنے چیف" کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر تھے کیوں کہ انہوں نے اب تک سات پردوں میں چھپے چیف کی آواز ہی سنی تھی ... مگر صورت نہیں دیکھی تھی۔ ایک میجر رینک کے اعلی آرمی آفیسر نے حب الوطنی کے جذبہ سے مغلوب ہو کر سلطان جہانزیب پر بغیر کسی ثبوت کے ڈائریکٹ ایکشن لینے کی کوشش کی تو الٹا اس بے چارے کا کورٹ مارشل ہو گیا تھا۔ پہلے اس بے چارے کی وردی اتری ... پھر بعد میں اس کا بالکل پتہ نہ چل سکا کہ وہ کہاں گیا۔ آرمی قوانین بہت سخت ہوتے ہیں۔ ان کا اپنا آدمی بھی اس سے ذرا بھی روگردانی کرتا ہے تو وہ اس کے خلاف بھی کارروائی کرنے سے نہیں چوکتے کیوں کہ مذکورہ میجر کی اس کارروائی سے دشمن مزید محتاط ہو گیا تھا۔ اور پھر آرمی کی بدنامی الگ ...
بہرطور .... اس کے بعد سے سلطان جہانزیب کی طرف سے دوبارہ ...کسی ملک دشمن کارروائی کی ذرا بھی بھنک نہ ملی۔ پھر اس دوران کچھ افسران کے تبادلے ہوئے... اور یہ بات آئی گئی ہو گئی مگر بہرحال ... آرمی انٹیلی جنس کی نظروں میں سلطان جہانزیب کو ریڈ پرسن“ قرار دے دیا گیا تھا۔ مگر سول حلقوں کے ساتھ ساتھ اس کی بعض سر بر آوردہ شخصیات تک بھی رسائی تھی۔ بہر طور... میں نے وہ ساری رات بے چینی سے کروٹیں بدل بدل کر گزار دی۔
اگلے دن میں سیدھا ذیشان کے پاس گیا۔ وہ گھر پر ہی تھا۔ وہ بھی میری طرح چھٹیاں منا رہا تھا۔ ہم چوں کہ اب آفیسروں کے رینک میں آچکے تھے اس لئے اس بار ہمیں خاصی طویل مدت کی چھٹیاں نصیب ہوئی تھیں۔۔۔۔
یار ذیشان! میں سیٹھ اصغر سے ایک ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے دبے دبے جوش سے کہا۔۔۔
کس سلسلے میں؟ ذیشان نے بغور میرے چہرے کی طرف دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
میں اسے سلطان جہانزیب کی اصلیت کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں ۔ میں نے بلا تعویض و تشخیص کہا۔۔۔
" ہوں تو گویا اب تم اس کے بیٹے جمشید کے رقیب رو سیاہ کا کردار ادا کرنا چاہتے ہو۔"وہ جیسے میرے دل کا چور پڑھتے ہوئے بولا۔
" کچھ بھی ہو... میں ایک بار سیٹھ اصغر سے ضرور ملنا چاہتا ہوں ... اور تم دل ہار رہے ہو۔
نہیں یار یہ بات نہیں میں نے جھلا کر کہا۔ میں سمجھ رہا ہوں ذیشان نے مجھے مزید بولنے کا موقع نہ دیا۔ " کیا خبر سیٹھ اصغر خان کو پہلے ہی سے علم ہو پھر تم کیا کرو گے؟ الٹا تمہارے گلے مصیبت پڑ جائے گی ... سلطان جہانزیب کے خونخوار کار پرداز ہاتھ دھو کر تمہاری جان کے درپے ہو جائیں گے۔“
"تم بھی میرے ساتھ چلو گے۔“ میں نے حتمی لہجے میں کہا۔۔۔۔
ذیشان چند ثانئے پر سوچ خاموشی کے بعد بولا۔ مجھے تمہارے ساتھ جانے میں کوئی اعتراض نہیں لیکن میرا مشورہ تو یہی ہے کہ .... اگر ہم سیٹھ اصغر خان سے ملنے کے بجائے اس کی بیٹی صبا سے ملیں تو زیادہ بہتر رہے گا۔۔۔۔
میں نے اس کی بات پر چند ٹانئے سوچ کر کہا۔ "اس کا کیا فائدہ ؟ حکم تو اس کے باپ کا ہی چلے گا۔“
"ہر گز نہیں۔صبا اس کی اکلوتی اولاد ہے۔ وہ اس پر اپنی مرضی ہرگز نہیں مسلط کر سکتا "
"تو پھر اس لنگور نما شخص سے شادی پر وہ کیسے راضی ہوگئی" میں نے کہا۔۔۔۔
ہاں یہ تو سوچنے والی بات ہے۔ ذیشان بولا۔ ” مجھے واقعی حیرت ہے کہ آخر اس نے اس لنگور نما شخص سے شادی کرنے کی حامی کس طرح بھری ... مجھے تو کسی اور ہی چکر کی بو آ رہی ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ یہ صرف اور صرف صباہی بتا سکتی ہے۔ اس لئے میرا تمہیں مشورہ یہی ہے کہ تم تنہا صبا سے ایک ملاقات کرنے کی کوشش کرو اور اسے اعتماد میں بھی لینے کی کوشش کرو۔" میں نے اس کی بات پر ایک گہری ہنکاری خارج کرتے ہوئے پر سوچ انداز میں سر کو جنبش دی.
ایک آرمی آفیسر کی حیثیت ہے تو میرے اندر جذبہ حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ہی لیکن ایک عام پاکستانی ہونے پر بھی مجھے اپنے وطن کی مٹی سے عشق تھا۔ اور فخر کرتا تھا کہ میرا خمیر جیالوں کی سرزمین سے ہی گندھا ہوا تھا۔ جنہیں اپنی سرزمین، وطن کی آن بان اور شان پر بے دریغ اور پروانہ وار قربان ہونے پر ہمیشہ سے فخر محسوس ہوتا رہا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ میں یہی چاہتا تھا کہ صبا جیسی معصوم صورت لڑکی تباہ ہونے سے بچ جائے ورنہ تو میرا اس سے کسی قسم کا کوئی بھی جذباتی لگاؤ نہ تھا۔ صرف اس حد تک کہ ... خوشنما پھولوں کا حق دید میں بھی رکھتا تھا۔۔
بہر طور... میں نے ایک روز صبا سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔ میں چاہتا تو اپنی بہن سلطانہ کی معرفت اس سے ملاقات کر سکتا تھا لیکن میں نے ایسا کرنا مناسب نہ سمجھا تھا۔ مگر حسن اتفاق کہ مجھے یہ موقع میسر آ ہی گیا۔۔۔۔
وہ گلابی جاڑوں کی ایک دو پہر تھی۔ میں اپنے دوست ذیشان سے مل کر گھر کی طرف لوٹ رہا تھا۔ ایک چورا ہے سے موڑ کاٹ کر میں نے اپنی جیپ کو فل ایکسیلیٹر دیا مگر دوسرے ہی لمحے مجھے فوراً بریک پر پاؤں رکھنا پڑ گئے تھے۔ وجہ اس کی تھی جسے میں نے سڑک کے کنارے فٹ پاتھ کے قریب اپنی کار کے باہر پریشان کھڑے پایا .... غالبا اس کی کار میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی تھی۔ یہ ون وے تھا۔ چنانچہ میں اپنے ہاتھ پر رہتے ہوئے جیپ ریورس کرتا ہوا چوراہے پر آیا۔ دوسری طرف سروس روڈ تھی۔ میں وہاں سے گزرتا ہوا... صبا کے قریب جا پہنچا اور جیپ سے اتر کر فوراً اس کی طرف بڑھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے اچانک دیکھ کر پہچان نہیں پائے گی . بھلا سالگرہ کی تقریب میں پہلی بار اور وہ بھی سرسری سی ملاقات میں کون کسے یاد رکھتا ہے؟ مگر اس وقت مجھے خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا جب مجھے قریب آتا دیکھ کر صبا کے قبیح چہرے پر شناسائی کے آثار ابھرے تھے اور وہ دھیرے سے مسکرائی۔
آپ شاید مجھے پہچان گئیں۔ چلیں پھر بھی میں اپنا تعارف کرائے دیتا ہوں میں در حقیقت"
جی میں آپ کو پہچان گئی ہوں آپ کیپٹن عمران صاحب ہیں۔ میری بہت عزیز سہیلی سلطانہ کے بڑے بھائی وہ میری بات کاٹ کر مسکراتے ہوئے بولی۔ اور میں نے بھی جو ابا ہلکی مسکراہٹ سے کہا۔صرف .. عمران صاحب ۔ خیر میں یہاں سے گزر رہا تھا کہ آپ کو یوں کھڑے پاکر کشاں کشاں ادھر چلا آیا۔ شاید آپ کی کار .....میں نے آخر میں دانستہ اپنا جملہ ادھورا چھوڑا تو وہ بولی۔۔۔ ہاں پتہ نہیں کیا خرابی ہو گئی ہے۔ ویسے میں نے گھر موبائل پر اطلاع دے دی ہے پاپا کا ڈرائیور آنے ہی والا ہو گا۔۔۔
" کیا آپ کے ساتھ ڈرائیور نہ تھا۔؟"
"نہیں میں کار عموماً خود ہی ڈرائیو کرتی ہوں۔ اپنی سہیلی کے ہاں گئی تھی ... واپس لوٹ رہی تھی کہ نہ جانے کیا ہوا چلتے چلتے جھٹکے مارنے لگی "
اوہ اچھا میں ذرا خرابی ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں . میں نے شستہ مسکراہٹ سے کہا اور کار کا بونٹ اٹھا کر اس پر جھک گیا۔ خرابی معمولی نہ تھی کسی مکینک کو دکھائے بغیر دور نہیں ہو سکتی تھی ۔ اس لئے میں نے اچانک اس سے کہا۔
اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو جب تک آپ کا ڈرائیور نہ آ جائے ہم وہ سامنے والے ریسٹورنٹ میں چل کر بیٹھ جاتے ہیں۔ مکینک بھی ساتھ ہی ہے جیسے ہی آپ کا ڈرائیور آئے گا میں اسے کار مکینک تک پہنچانے کا کہہ دوں گا۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے راضی ہو گئی۔
"ہم دونوں ریسٹورنٹ میں آ کر ایسے کونے پر اچھی میز کرسیوں پر براجمان ہو گئے جہاں سے سڑک پر کھڑی کا رصاف نظر آتی تھی ۔" میں نے چائے کے آرڈر کے ساتھ کچھ اسنیکس بھی منگوانے چاہئے مگر صبا نے معذرت کرتے ہوئے صرف چائے پر اکتفا کیا۔ اور سنائیں آپ کیسی ہیں؟ میں نے اپنے دل کی بے طرح
دھڑکنوں پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ سنائیں۔ آپ کی سروس کیسی چل رہی۔۔۔۔
ایک دم فرسٹ کلاس میں نے کہا۔ پھر میں نے ہولے سے کھنکار کر اس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا اور مزید بولا۔
"صبا صاحبہ ! درحقیقت میں آپ سے ایک بہت اہم بات کرنا چاہتا تھا۔ اور موقع کی تلاش میں تھا۔ پتہ نہیں آپ اسے کہیں میرے عامیانہ رویے پر محمول نہ کریں مگر مجبوراً بھی کچھ اہم باتیں کرنے کیلئے بسا اوقات ایسے عمومی سہاروں کی ضرورت پڑتی ہے۔"
وہ میری بات پر کھلکھلا کر ہنس دی۔ "ارے .. عمران صاحب ! آپ تو واقعی بہت سنجیدہ نظر آنے لگے....خیر میں سن رہی ہوں "
میں نے کہا۔ صبا صاحبہ شاید آپ کو برا لگے لیکن کیا آپ مجھے یہ بتائیں گی کہ آپ کے پاپا سیٹھ اصغر صاحب ... سلطان جہانزیب کو کب سے جانتے ہیں ...
میری بات پر وہ قدرے چونک کر میرا چہرہ تکنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں پہلے ایکا ایکی اداسی کی ایک رمق سی ابھری۔ پھر جب وہ ہولے سے مسکرا کر بولی تو مجھے اس کی مسکراہٹ .... بے تاثر ہی محسوس ہوئی۔
" کچھ زیادہ پرانی جان پہچان تو نہیں مگر بہر حال جتنی بھی ہے.....بہت مضبوط ہے..."
اس تھوڑے عرصے میں اچانک ہونے والی مضبوط دوستی کی کوئی خاص وجہ یا میرا مطلب ہے. کوئی کاروباری مجبوری میں نے اس کی سرمگیں آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔ تو اس بار وہ یوں آنکھیں پھیلا کر مجھے حیرت سے دیکھنے لگی جیسے میں نے کوئی انہونی کہہ ڈالی ہو۔ پھر دوسرے ہی لمحے وہ اپنے مخصوص کھلنڈرے پن والی ہنسی کے ساتھ بولی۔
"ارے واہ عمران صاحب آپ تو غضب کے قیافہ شناس ہیں۔ آپ کو کیسے علم ہوا کہ میرے پپا نے کسی کار باری مجبوری کی وجہ سے انکل سلطان کے ساتھ تھوڑے عرصے میں گہری دوستی بنالی ہے؟"
"یہ قیافہ شناسی نہیں ہے. صبا صاحبہ ! بلکہ حقیقت ہے کہ سلطان جہانزیب کی شخصیت ملک دشمن عناصر کے حوالے سے مشکوک ہے۔“ محض افواہ ہے۔ وہ پہلی بار متانت سے بولی۔ میں نے کہا۔ "کیا آپ وہ کاروباری مجبوری بتائیں گی کہ...."
عمران صاحب ! میرا خیال ہے. اتنا ہی کافی ہے۔ اس نے اچانک کہا۔