Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 22/04/20 in Posts

  1. کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ "عاشق بن کر اپنی زندگی برباد مت کرنا . . . . . . " لیکن وقت كے ساتھ ساتھ بربادی تو طے ہے ، جو میں نے خود اپنے لئے چنی . . . . میں نے وہ سب کچھ کیا ، جس کے ذریعے میں خود کو برباد کر سکتا تھا ، اور رہی سہی کسر میرے غرور نے پوری کر دی تھی . . . اپنی زندگی كے سب سے اہم چار سال برباد کرنے كے بَعْد میں آج اِس مقام پر تھا کہ اب کوئی بھی مقام حاصل نہیں کیا جا سکتا ، بابا چاھتے تھے کہ میں بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن جاوں . . . لیکن میں نے اپنی زندگی كے ان اہم عرصے میں جب میں کچھ کر سکتا تھا ، میں نے یوں ہی برباد کر دیا ، گھر والے ناراض ہوئے ، تو میں نے سوچا کی تھوڑے دن ناراض رہیں گیں بَعْد میں سب ٹھیک ہو جائیگا . . . . لیکن کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوا ، سب کے تانے دن بہ دن بڑھنے لگے . . . برباد ، ناکارہ کہہ کر بلاتے تھے سب مجھے گھر میں . . . اور ایک دن تنگ آکر میں گھر سے نکل گیا اور کراچی آ گیا اپنے ایک دوست كے پاس ، کراچی آنے سے پہلے سننے میں آیا تھا کی میرا بڑا بھائی سرور امریکہ جانے والا ہے ، اور اس کے ساتھ شاید امی اور بابا بھی جائے . . . . لیکن مجھے کسی نے نہیں پوچھا . . . شاید وہ مجھے یہی چھوڑ کر جانے كے پروگرام میں تھے . . . خیر مجھے خود فرق نہیں پڑتا اِس بات سے ، اور آج مجھے کراچی آئے ہوئے تقریباً دو مہینے سے اوپر ہو چکے ہے ، میرا بھائی امریکہ گیا کہ نہیں ، میرے بابا اور امی امریکہ گئے کہ نہیں ، مجھے کچھ نہیں پتہ اور نہ ہی میں نے ان دو مہینوں میں کبھی جاننے کی کوشش کی اور جہاں تک میرا اندازہ تھا وہ لوگ مجھے ناکارہ سمجھ کر شاید ہمیشہ كے لیے میرے بڑے بھائی كے ساتھ امریکہ چلے گئے ہوںگے . . . . کوئی مجھ سے پوچھے کہ دُنیا کا سب سے بیکار ، سب سے بڑا بے وقوف ، اور سب سے بڑا چوتیا کون ہے ، تو میں بنا ایک پل گنوائیں اپنا ہاتھ اوپر کھڑا کر دوں گا اور بولوں گا " میں ہوں " کسی کو اپنی زندگی کی جڑے خود برباد کرنی ہو تو وہ بے شک میرے پاس آ سکتا تھا ، اور بے شک میں اس کی مدد بھی کرتا . . . . . کراچی آئے ہوئے مجھے دو ماہ سے اوپر ہو گیا تھا ، جہاں میں رہتا تھا ، وہاں سے تقریباً بیس کلو میٹر کے فاصلے پڑ پورٹ قاسم تھا وہاں ایک نئی نئی سٹیل انڈسٹری شروع ہوئی تھی . . . کافی بھاگ دور کے بعد کسی بھی طرح میں نے وہاں اپنی نوکری پکّی کر لی ، بہت ہی بدذات قسم کی نوکری تھی ، بارہ گھنٹے تک اپنے جسم کو آگ میں سیکنے كے بَعْد بس گزارا ہو جائے اتنا ہی پیسہ ملتا تھا . . . . خیر مجھے کوئی شکایت بھی نہیں تھی . . . . جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ، میں اس فیکٹری کی آگ میں جل رہا تھا ، جینے كے سارے ارمان ختم ہو رہے تھے ، اور جب کبھی آسمان کو دیکھتا تو صرف دو فقرے میرے منہ سے نکل پڑتے . . . آسمانوں كے فلک پر کچھ رنگ آج بھی باقی ہے . . . . . . . . . ! ! ! جانے ایسا کیوں لگتا ہے کی زندگی میں کچھ ارمان آج بھی باقی ہے . . . . . . . . . ! ! ! اور میری سب سے بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ میرا نام بھی ارمان تھا ، جس کے ارمان پورے نہیں ہوئے ، یا پھر یوں کہے کہ میرے ارمان پورے ہونے كے لیے کبھی بنے ہی نہیں تھے . . . . . جاری ہے . . . .
  2. سعدیہ كے منہ سے اپنی انگلیاں نکالی اور اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ، جس سے اس کا چہرہ میرے قریب آ گیا ، میں اس کی ہوس سے بھری آنکھوں میں آخری بار اپنے لیے محبّت ڈھونڈ رہا تھا ، لیکن ہوا وہی ، میرے ارمانوں کا حقیقت سے نہ تو پہلے کوئی واسطہ تھا اور نہ ہی اب تھا اور جب مجھے یقین ہوگیا کہ وہ وہی پرانی سعدیہ ہے جس نے محبّت کو ہمیشہ ہوس کی پیاس سے نیچے سمجھا ہے ، تو میں اس کو ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . . . " جانور بن گئے ہو کیا . . . " مجھے دکھا دے کر وہ بولی اور اپنے ہونٹ ہاتھ سے سہلانے لگی . . . . " سوری . . . " میں وآپس اس کے قریب گیا اور اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی براہ کو اس کے سینے سے الگ کیا اور ایک بار پھر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . . سعدیہ نے اِس بار بھی پوری کوشش کی مجھے دور کرنے کی ، لیکن وہ اِس بار ناکام رہی . . . لیکن کچھ دیر كے بَعْد مجھے اس کی پرواہ ہونے لگی ، اس کا درد میرا درد بن گیا ، اور میں نے اس کے گلابی ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے الگ کر دیا اور اس کی گانڈ کو پکڑ لیا اور اس کی گانڈ پر ہاتھوں سے دباؤ ڈالا . . . . . " گندے بچے . . . . " میرے طرف جھک کر میرے کانوں كے پاس آ کر وہ بولی . میں نے سعدیہ سے کچھ نہیں کہا اور اسے پکڑ کر اُلٹا گھوما دیا ، اب اس کی پیٹھ میرے سینے سے اور اس کے کولہے میرے لنڈ سے ٹچ ہو رہے تھے ، . . سعدیہ شاید جان چکی تھی کی اب میں کیا اور کیسے کرنے والا ہوں ، اور ویسے بھی جس لڑکی کو ہر دن اپنے بستر کا ساتھی بدلنے کی بیماری ہو ، وہ کم سے کم سیکس كے پوزیشن تو جان ہی جاتی ہے . . . . سعدیہ نے میرے بولنے سے پہلے ہی اپنے دونوں ہاتھ سامنے کی طرف بستر پر تیکاے اور اپنی گانڈ میری طرف کرکے تھوڑا جھک گئی اور بولی . . . " اس کو کہتے ہے زبردست چودائی کرنا . . . اب کیوں روکے ہو ، ڈال دو اندر اور ایسا ڈالنا کہ اندر تک دستک دے جائے . . . . " دِل کر رہا تھا کہ سعدیہ کا قتل کر دوں اور پھر اس کی لاش كے پاس بیٹھ کر زندگی بھر رونا شروع کر دوں ، دِل کر رہا تھا کہ سامنے كے دیوار پر سعدیہ کا سَر اتنی زور سے دے ماروں کی اس کا سَر ہی نہ رہے . . . . وہ مجھ سے ایسے بات کیسے کر سکتی ہے ، جب کے میں اسے . . . . . . . . . . اور ایک بار پھر دِل كے ارمان ہوس میں دھول گئے ، یہ میرے لیے پہلی بار نہیں تھا . . . . . " چلو ارمان ، چودو مجھے . . . آئی ایم ویٹنگ . . . " اپنی گانڈ ہلاتی ہوئی سعدیہ بولی . . . میں نے اپنے کپڑے اتارے اور سعدیہ كے گانڈ پر اپنے ہاتھ سے دبائو بڑھانے لگا وہ ابھی سے مستی بھری آوازیں نکالنے لگی ، اس کی پینٹی کو نیچے کھسکا کر اپنے ہاتھوں سے اس کی چوت کو پھلایا ، اور اپنے لنڈ کو اس کی چوت سے لگایا اور آہستہ آہستہ سے اندر کی طرف دھکہ دیا . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ . . . . . . . " سعدیہ کی سیسکاریاں شروع ہوگئی ، اب کی بار خود میرے منہ سے بھی مستی بھری آوازیں باہر نکل رہی تھی . میرا آدھا لنڈ اس کی چوت میں دستک دے چکا تھا ، جب کہ سعدیہ اپنے کہولوں کو آگے پیچھے ہلا کر مزہ لے رہی تھی ، میں نے ایک اور دھکہ مارا اور پورا لنڈ اس کی چوت میں سماں گیا ، اس کے بَعْد میں نے اپنے ڈھکے تیز کر دیئے ، میرے تیز ڈھکوں كے وجہ سے اس کا پورا جسم بری طرح ہل رہا تھا ، میں جب بھی اپنا لنڈ اندر ڈالتا وہ اپنی کمر کو میری طرف پوش کرتی اور سامنے کی دیوار کی طرف اپنا چہرہ کرکے ایک لمبی سسکی بھرتی اور اس کے بَعْد جیسے ہی میں اپنا لنڈ باہر نکلتا ، وہ پھر مستی میں چار چاند لگا دینے والی آوازوں كے ساتھ پہلے والے پوزیشن پر آ جاتی . . . . . ایک پل كے لیے میں روکا اور اس کے گانڈ کے ابھاروں کو اپنے ہاتھوں سے مسلتے ہوئے اور پھر تیز رفتاری سے اسے چودنے لگا ، سعدیہ سے ایک لگاؤ سا ہوگیا تھا مجھے اس وقت ، اس لیے جب وہ چیختی تو میں تھوڑی دیر كے لیے روک جاتا اور پھر جب وہ وآپس نارمل ہو جاتی تو میں پھر سے شروع ہو جاتا . . . اور کبھی کبھی جب وہ درد سے چیختی تو میں اپنا لنڈ ایک تیز جھٹکے كے ساتھ اس کے چوت میں ڈال دیتا اور پھر اس کے مموں کو زور سے سے دباتے ہوئے اپنا لنڈ کو اس کی پھدی كے اندر ہی ہلانے لگتا ، میرا ایسا کرنے پر سعدیہ میری کمر کو پکڑ کر مجھے دور کرنے کی کوشش کرتی . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ . . . . اوئی ی ی ی ی. . . . . ارمان تھنکس اس کے لئے . . . " وہ یہ بولتے بولتے اِس بار بھی مجھ سے پہلے فارغ ہوگئی ، میرا لنڈ اب بھی اس کی چوت میں تھا ، جس کی وجہ سے اس کی چوت سے نکلتا گرم پانی مجھے اپنے لنڈ پر محسوس ہوا . . . . میں بھی اب گیم ختم کرنے والا تھا ، اس لئے میں نے سعدیہ کی کمر کو پکڑ کر اس کی طرف جھک گیا اور اسے بستر پر پورا الٹا لیٹا کر اس کے اوپر آ گیا ، اس کی چوت کا پانی پورے بستر میں پھیل رہا تھا ، میں نے اس کی گانڈ کے ابھاروں کو الگ کیا اور اپنے لنڈ کو ایک ہی جھٹکے میں اندر تک گھسہ دیا ، اور اپنی پوری طاقت كے ساتھ سعدیہ کو چودنے لگا ، وہ بری طرح چییخی . . . تو میں نے کہا کہ ، بس کچھ دیر کی بات ہے ، برداشت کر لو . . . . اس نے ویسا ہی کیا . . . بستر كے سرہانے کو پکڑ کر اس نے اپنے جسم کو ٹائیٹ کر لیا وہ بستر کو جکڑنے لگی تھی . . . . اور میں اس کی کمر ، اس کی پیٹھ پر تیزی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے فارغ ہوگیا ، میرا لنڈ سعدیہ کی چوت میں ہی تھا ، سعدیہ بہت تھک چکی تھی ، ساتھ میں میں بھی حانپ رہا تھا ، مجھے سعدیہ كے اوپر لیٹے لیٹے کب نیند آ گئی پتہ ہی نہیں چلا . . . . صبح میری آنکھ ایک گرم سرپرائز سے کھلی ، جسے اکثر لوگ بلوجاب کہتے ہے ، میں سعدیہ كے بستر پر ننگا لیٹا ہوا تھا اور وہ میرے لنڈ پر اپنے گرم گرم ہونٹ پھیر رہی تھی ، . . . " اسے اچھی اور خوشامد صبح کیا ھوگی ارمان ، جب کوئی تمہیں بلوجاب دے کر اٹھائے . . . " میرے لنڈ کو چُوسنا بن کرکے اپنے ہاتھ سے سہلاتے ہوئے سعدیہ بولی . . . تقریباً دس منٹ تک وہ میرے لنڈ کو چوستی رہی اور اس کے بَعْد میں اک بار پھر فارغ ہوگیا ، پچھلی رات تِین بار فارغ ہونے کی وجہ سے پیٹ میں بہت درد ہو رہا تھا ، کمزوری بھی محسوس ہو رہی تھی اور سَر بھی بہت بھاری ہو رہا تھا . . . . . " میں چلتا ہوں . . . " باتھ روم سے نکل کر میں نے اپنے کپڑے پہنے . . . " جاؤ ، اور اپنا خیال رکھنا . . . " میں اِس انتظار میں اب بھی کھڑا تھا کی کہی شاید اسے میری آنکھوں میں کچھ ایسا دِکھ جائے ، جسے وہ مجھے گلے لگا لے ، لیکن ایسا نہیں ہوا ، یہاں تک کہ اس نے میری آنکھوں کی طرف دیکھا تک نہیں ، اس کی نظر اب بھی میرے لنڈ پر تھی ، سعدیہ میرے لنڈ کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی . . . . . " تمہارا ہونے والا شوہر کیا کرتا ہے . . . . " " تم کیوں پُوچھ رہے ہو . . . " " جنرل نالج كے لیے ، کیا پتہ یہ سوال ، زندگی كے امتحان میں آ جائے " " یہ ’ مذاق نہیں ہے ارمان . . . تم جاؤ ، اور آج كے بَعْد سمجھ لینا كے ہم ایک دوسرے سے ملے ہی نہیں . . . " میں نے ایک جھوٹی مسکراہٹ سے سعدیہ کو دیکھا اور بولا . . . " تنہائی میں جینے والے لوگوں کو اکثر ان کے چھوٹے سے چھوٹے سہارے سے اتنی محبت ہو جاتی ہے کہ وہ ان کے لیے خود کو مٹا دیتے ہیں . . . . . تمہیں کبھی کسی سے محبّت ہو تو میری بات پر غور کرنا ، ورنہ لوگ تو اپنوں کو پل بھر میں بھول جاتے ہے ، میں تو ویسے بھی تمھارے لیے غیر ہوں . . . . " سعدیہ كے ذہن میں ہزاروں سوال چھوڑ کر میں اس کے گھر سے سیدھے باہر نکل گیا ، میں اپنے کواٹر کی طرف آ رہا تھا کہ کاشف نے مجھے کال کی . . . " کہاں ہے بھائی ، آنے کا ارادہ ہے یا اسی كے ساتھ ہی رہیگا . . . " میں نے کال ریسیو کی تو کاشف تانے مارتا ہوا بولا . . . " بس کواٹر میں ہی آ رہا ہوں . . . " " جلدی آ ، تیرے لیے سرپرائز ہے ، اور وہ سرپرائز اتنا بڑا ہے کہ ، تو . . . . " میں جہاں تھا وہی کھڑا ہو گیا اور کاشف سے بولا " کیا ہے وہ سرپرائز . . . " " ھممممممم . . . . تو پہلے کواٹر میں آجا ، . . " اور اس نے کال کاٹ دی " پاگل بنا رہا ہوگا کاشف . . . " یہی سوچتے سوچتے میں کواٹر میں آیا ، میں نے کاشف کو آواز دی لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور پھر جب باتھ روم كے اندر سے مجھے شاور كے چلنے کی آواز آئی تو میں سمجھ گیا کہ کاشف اندر ہے ، میں نے ٹائم دیکھا ساڑے نو بج رہے تھے ، اب اتنا ٹائم نہیں تھا کہ میں آج ڈیوٹی پر جاتا ، اور ویسے بھی آج میرا موڈ نہیں تھا . . . . میں نے کمرے کی کھڑکی کھولی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا . . . . تبھی مجھے ایک آواز سنائی دی جس نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ كر رکھ دیا . . . . ایسا لگا کہ دِل کی دھڑکنیں روک گئی ہو . . . " کیا بات ہے یار، بہت دنوں سے حویلی میں نہیں آیا . . . " میری جگہ اس وقت کوئی اور ہوتا تو شاید نظر اندازِ کر دیتا اِس آواز کو ، لیکن میرے لیے یہ الفاظ، یہ جملے بہت اہمیت کی حامل تھی . . . . میں پیچھے دیکھے بنا ہی جان گیا تھا کہ میرے پیچھے کون ہے ، لیکن اتنے مہینوں بَعْد وہ کیسے یہاں آیا . . . . . ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ میرے سَر پر ایک زوردار تھپڑ پڑا ، مارنے والے نے اتنی زور سے مارا تھا جیسے کہ نسلوں کا بدلہ لے رہا ہو . . . . . وہ کوئی اور نہیں بلکہ میرا خاص نہیں میرا سب سے خاص دوست اظہر تھا ، اور میں بھی اس کا سب سے خاص دوست تھا . . . . . " اوے کمینے لڑکیوں کی طرح ادھر ہی دیکھتے رہیگا یا پھر گلے بھی ملے گا . . . . " اس کی آواز میں مجھے اپنے لیے وہی اپنایت محسوس ہوئی ، جو کالج كے دنوں میں ہوا کرتا تھی، میں ایک جھٹکے سے پیچھے مڑا اور اظہر کو گلے لگا لیا . . . . . میں اور اظہر ایک دوسرے كے لیے اتنے خاص تھے کہ ہم دونوں gay ہوتے ( جو کہ نہیں تھے ) تو آج ایک دوسرے سے شادی کر لی ہوتی. . . . . . اپنے غصے اور مجھ سے ناراضگی کا ایک اور اظھار کرتے ہوئے اس نے مجھے زور سے ایک لات ماری اور بولا " بہن چود گانڈ مروا رہا تھا تو یہاں ، تیرا نمبر تبدیل ہوگیا ، گھر سے بنا بتائے غائب ہے اور یہاں تک کہ . . . یہاں تک کہ . . . " مجھ پر ایک لات کا پیار اور کرتے ہوئے بولا " یہاں تک کہ تو نے مجھے بھی نہیں بتایا ، کہا گئی تیری وہ بڑی بڑی باتیں . . . " ہماری دُنیا میں ایک کہاوت بہت مشہور ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ملے تو بھی بہت ہوتا ہے ، لیکن مجھے تو آج پورا کا پورا ایک جہاز مل گیا تھا اظہر كے روپ میں . . . . . " بھڑوے ، خود کو انجینئر بولتا ہے ، تو نے سب انجیرنز کا نام خاک میں ملا دیا . . . . " وہ اب بھی مجھ پر بہت غصہ تھا . . . . " چھوڑ پرانی باتوں کو اور بتا یہاں کیسے آیا اور کاشف کہاں ہے ، کہی تو نے اس کا قتل تو نہیں کر دیا . . . " " بلکل ، سہی سمجھا بے ، اس کی لاش باتھ روم میں پڑی ہے ، پلیز پولیس کو بتا دے . . . . " کچھ دیر تک ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ہنس پڑے . . . . " اب چال بتا ، تو یہاں کیوں ہے . . . " اپنی ہنسی روک کر اظہر بولا ، وہ اب سنجیدہ تھا . . . . " سب کچھ چھوڑ چھاڑ كے آ گیا میں ، گھر والے ملک سے باہر ہے ، نہ تو انہیں کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی مجھے . . . " " تیرے بھائی کی شادی ہونے والی تھی ، اس وقت جب تو گھر چھوڑ کر یہاں آ گیا تھا . . . " " کمینے میری غلطیوں کی فہرست پکڑ كے بیٹھ گیا ہے. . . اب جان نکال کر ہی دم لے گا " میں نے اندر ہی اندر سوچا . . . " وہ سب تو چھوڑ " اظہر کا چہرہ پھر لال ہونے لگا ، " مجھے یہ بتا کہ تو نے مجھے کال کیوں نہیں کی ، کالج میں تو میرا بیسٹ فرینڈ بنا پھرتا تھا . . . . " اظہر كے اِس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور میں اسے کچھ کہتا بھی تو کیا یہ کہتا کہ " مجھ میں اب جینے کی خوائش نہیں ہے . . . " یا پھر یہ کہتا کہ " سارہ كے جانے كے بَعْد جیسے میرے دِل نے دھڑکنا بند کر دیا ہے . . . " " کچھ بولے گا بھی یا نہیں . . . " وہ مجھ سے پھر مخاطب ہوا . . . . " وجہ جاننا چاہتا ہے ، تو سن . . . . جب میں اپنی بی۔ٹیگ کی خالی ڈگری لے کر گھر گیا تو جانتا ہے میرے ساتھ کیا سلوک ہوا . . . گھر میں بڑے بھائی کی شادی کی تیاری چل رہی تھی اس لئے گھر میں لوگوں کہ ہجوم سا رہتا تھا ، اور جب کوئی میرے بارے میں پوچھتا تو سب یہی کہتے کہ . . . . ہمارے خاندان میں سب سے خراب میں ہوں ، میں ہی ایک اکیلا شخص ہوں ، جس نے اپنے خاندان کا نام ڈوبا دیا . . . ایسا اس لئے ہوا کیوںکہ میرے پاس پیسہ نہیں تھا ، میرے پاس نوکری نہیں تھی . . . . . مجھ سے کہی بھی تھوڑی سی بھی غلطی ہو جاتی تو میری اس غلطی کو میرے پڑھائی سے جوڑ دیا جاتا . . . . میں اپنے ہی گھر میں رہ کر پاگل ہو رہا تھا ، اور پھر جس دن لڑکی والے ہمارے گھر آئے تو بھائی نے ایک چھوٹی سی بات پہ سب کے سامنے مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا . . . . بس اسی وقت میرے دِل اور دماغ دونوں نے ایک ساتھ چلا کر کہا کہ بس بہت ہو گیا ، اور مجھے سب سے برا تب لگا جب مجھے کسی نے نہیں روکا . . . سب یہی چاھتے تھے کہ میں ان کی زندگی سے چلا جاؤں ، سو میں نے وہی کیا . . . . " یہ سب بولتے بولتے میں بہت غم زدہ ہوگیا تھا ، اظہر کو اپنی زندگی كے کچھ گزرے وقت سنا کر میں نے اپنے زخم پھر سے تازہ کر لیے تھے . . . . کاشف بھی تب تک آ چکا تھا اور دروازے پر چُپ چاپ کھڑا میری باتیں سن رہا تھا . . . . . . کچھ دیر تک ہم تینوں میں سے کوئی کچھ نہیں بولا ، اور پھر اظہر نے اپنا بیگ اپنی طرف کھیچ کر کھولا اور شراب کی ایک بوتل نکال کر بولا . . . " یہ لے تیرا گفٹ . . . " میری نم آنکھوں میں ایک ہنسی جھلک آئی " تو کمینے ابھی تک بھولا نہیں . . . " یہ ہم دونوں کی ایک خاص عادت تھی کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو گفٹ كے طور پر ہمیشہ شراب ہی گفٹ کی تھی . . . اور سب سے بڑی بات یہ کی اظہر نے ہی مجھے شراب پینے کی عادت لگائی تھی . . . . . . " شباب سے زیادہ شراب اچھی . . . " یہ بولتے ہوئے میں نے اس کے ہاتھ سے بوتل چھینی اور کاشف کی طرف دیکھ کر بولا " آج رات کا جوگار ہوگیا بے . . . " میرے ایسا کہنے پر کاشف كے ساتھ ساتھ اظہر بھی ہنس پڑا . . . کاشف اور اظہر ہی میری موجودہ زندگی میں میرے اپنے تھے ، کاشف كے والد انسپیکٹر تھے اور اظہر ریلوے میں کسی اچھی پوسٹ پر تھا . . . " شادی ہو گئی تیری . . . " شراب کی بوتل کو ایک کنارے پر رکھ کر میں نے اظہر سے پوچھا . . . . " کہاں شادی ، ابھی تو زندگی کی انجویمنٹ باقی ہے . . . شادی کرتے رہینگے آرام سے . . . . " "کاشف ، لے پیگ تو بنا ، سَر دَرْد کر رہا ہے . . . . " " ارمان ، یہ سعدیہ کون بے " " ہے ، محلے میں رہنے والی ایک لڑکی . . . " میں نے بولا . . . . " میں نے سوچا نہیں تھا کہ اس کے جانے كے بَعْد تو کسی لڑکی كے ساتھ دوستی کرے گا . . . " اظہر جانتا تھا کہ مجھے اس کا نام لینا اب پسند نہیں ہے ، اس لئے اس نے اس کا نام نہیں لیا . . . . " سوچا تو میں نے بھی نہیں تھا ، لیکن معلوم نہیں یہ کیسے ہو گیا . . . . " " لو پکڑو . . . " اسی دوران کاشف نے ہم تینوں کا پیگ تیار کر دیا ، جسے پی کر کاشف بولا " یار اظہر ، میں نے اسے کتنی بار اس کی بیتے لمحوں كے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی ، لیکن اس نے مجھے ایک بار بھی نہیں بتایا اور ہر بار کسی نہ کسی بہانے سے ٹال دیا . . . . " " دماغ مت کھا یار تو اب ایک اور گلاس بنا . . . شراب بہترین ہے . . " میں نے ایک بار پھر کاشف کی بات کو ٹالنے کی کوشش کی . . . . لیکن شاید آج میں کامیاب نہیں رہوں گا اس کا مجھے اندازہ ہو گیا تھا . . . . . " آج تو خلاصہ ہوکر ہی رہیگا کاشف . . . " اپنا پیگ گلے سے نیچے اتار کر اظہر بولا " فکر مت کرو ، آج یہ سب کچھ بتاۓ گا. . . . " " میں کچھ نہیں بتانے والا . . . " " نہیں بتائے گا . . . " " بلکل بھی نہیں . . . " " اک بار اور سوچ لے . . . " " میں نے بول دیا نہ ایک بار . . . " " پھر وہ باتھ روم والی بات میں کاشف کو بتا دونگا ، سوچ لے . . . " اظہر نے میری کمزوری کو پکڑ لیا تھا ، دو تین گلاس پینے سے دماغ بھی ایک دم ریلکس ہو گیا تھا ، ایک دم بہترین . . . . . . شراب کی بوتل خالی ہوچکی تھی اور میں بھی اب بلکل تیار تھا کاشف کو وہ سب بتانے كے لیے ، جو میں نہیں بتانا چاہتا تھا . . . . " ایک اور گلاس بنا . . . . " میں نے کہا
  3. " سعدیہ. . . . " " میں اندر ہوں باتھ روم میں . . . " سعدیہ کی آواز نے میرا دھیان باتھ روم کی طرف کھینچا، " اِس وقت باتھ روم میں ، کیا کر رہی ہو . . . " " چوت صاف کر رہی ہو ، دلچسپی ہے تو آ کر صاف کر دو . . . " " ہاں ، جیسے دُنیا کی سارے دلچسپ کام ختم ہوگئے ہے ، جو میں اندر آ کر تمہاری چوت صاف کروں . . ." " پھر میرا ٹاول بستر پر پڑا ہے ، وہ دو . . . . " میں نے بستر پر نظر ڈالی ، وہاں ٹاول كے ساتھ ساتھ بلیک کلر کی براہ اور پینٹی بھی رکھی ہوئی تھی ، میں نے ٹاول اٹھایا اور سعدیہ کو آواز دی . . . " دو . . . " باتھ روم کا دروازہ پورا کھول کر سعدیہ نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ، وہ پوری کی پوری پانی میں بھیگی ہوئی ننگی کھڑی تھی ، جسے دیکھ کر میرے لنڈ نے ایک بار پھر سلامی دینا شروع کر دی پینٹ كے اندر . . . . " ارے دو نا . . . " مجھے اپنی طرف اِس طرح سے دیکھتا ہوا دیکھ کر وہ بولی " اتنے غور سے تو تم نے مجھے اُس وقت بھی نہیں دیکھا تھا ، جب میں تمھارے ساتھ پہلی بار ہم بستر ہوئی تھی . . . " میں نے کچھ نہیں کہا اور اس کے پورے ننگے گورے جسم کو آنکھوں سے چودتے ہوئے اسے ٹاول دے دیا ، اور بستر پر آکر لیٹ گیا . . . ایک بات جو میں اکثر سوچتا تھا کہ دُنیا بھر کی لڑکیاں باتھ روم میں جاتے وقت ٹاول باہر کیوں بھول جاتی ہے . . . . " براہ بھی دینا . . . . " ایک بار پھر باتھ روم سے آواز آئی اور باتھ روم کا دروازہ کھلا ، " یہ لو . . . " براہ اور پینٹی دونوں اس کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے میں نے کہا اور میری نظر سیدھے اس کے مموں پر جا ٹکی . . . . . " سائز معلوم ہے ، ان کا . . . " وہ دروازے کو پکڑ کر مستی میں بولی اور جب میں نے کچھ نہیں کہا تو وہ باتھ روم کا دروازہ بند کرنے لگی . . . . " سعدیہ . . . روکو . . . " " بولئے جناب . . . " " جلدی سے باہر آؤ ، تمھارے بنا چین نہیں ہے . . . " میں اپنی اِس حرکت پر خود شرما گیا . . . . . کچھ دیر كے بَعْد سعدیہ باہر آئی ، اور میرے بغل میں لیٹ کر میری طرح وہ بھی چھت کو دیکھنے لگی . . . " تم سچ میں شادی کرنے والی ہو . . . " سعدیہ کا ایک ہاتھ پکڑ کر میں بولا . . . وہ ابھی ابھی نہا كے آئی تھی ، جس کی وجہ سے اس کے پورے جسم سے خوشبو آ رہی تھی . . . . میرے سوال کو سن کر وہ تھوڑا حیران ہوئی اور میری طرف اپنا چہرہ کرکے بولی " یہ تم کیوں پُوچھ رہے ہو ، " " بس ایسے ہی . . . " " ہاں یار ، سچ میں شادی کر رہی ہے اور آج کی رات ہم دونوں کی آخری رات ھوگی . . . " " آخری رات . . . " میں نے دھورایا. . . " آخر تمھارے دل میں ہے کیا . . . " وہ حیران تھی کہ میں اب کیوں اسے اس کی شادی كے بارے میں پُوچھ رہا ہوں ، جب کے پہلی بار ہی اسے میں نے صاف منع کر دیا تھا ، خیر حیران تو میں خود بھی تھا . . . . " تم ایک عجیب قسم کے انسان ہو. . . لیکن آج کچھ زیادہ ہی عجیب حرکتیں کر رہے ہو . . . " میں نے اس کا ہاتھ جس ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا وہ اسے سہلاتے ہوئی بولی ، اس کا چہرہ اب بھی میری طرف تھا . . . . سعدیہ کو اکثر ایسا لگتا کہ دُنیا بھر کا سارا سسپنس میرے اندر ہی بھرا پڑا ہے . . . . " نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ، میں تو بس ایسے ہی پُوچھ رہا تھا . . . " کوئی تو بات تھی جو میرے اندر کھٹک رہی تھی ، یہ میں جانتا تھا . . . . " اب ساری رات ایسے ہی بور کروگے یا پھر کچھ اور . . . . . . . . " وہ آگے کچھ اور کہتی اس سے پہلے ہی میں نے اس کی چوت كے اوپر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اسے پینٹی کے اوپر سے ہی سہلانے لگا . . . . " ڈائریکٹ پوائنٹ پر ہاں . . . " وہ ایک بار پھر مسکراتے ہوئے بولی . . . " پوائنٹ تو اب آیا ہے . . . " میں نے اس کے پینٹی كے اندر ہاتھ ڈال کر اس کی چوت کو سہلاتے ہوئے بولا اور اپنی ایک انگلی چوت كے اندر ڈال دی . . . کچھ دیر پہلے كے واقعے سے ابھی بھی اس کی پھدی گیلی تھی . . . ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ، آج پہلی بار وہ مجھے بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی ، دِل کر رہا تھا کہ اسے چوم لوں ، لیکن سعدیہ کو کس پسند نہیں تھا . . . " تم کیا سوچ رہے ہو . . . " وہ کانپتی ہوئی آواز میں میری طرف دیکھ کر بولی . . . جواب میں میں نے اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے ہونٹوں پر رکھا کر اشارہ کیا کہ میں تمہارے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بھرنا چاہتا ہوں . . . . میرے اشارے سے سعدیہ تھوڑی بے چینی محسوس کرنے لگی اور مجھ میں کچھ دیر تک نہ جانے کیا دیکھتی رہی . . . . . " واقعے تم میرے ہونٹ پر کس کرنا چاہتے ہو . . . ؟ ؟ ؟ " اپنے ہونٹ پر عجیب سی حرکت لاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا ، میری ایک انگلی اب بھی اس کی چوت كے اندر باہر ہو رہی تھی . . . . . " ہاں . . . میں چاہتا ہوں کے تمہارے ہونٹوں پر کس کروں . . . " میں نے بس اتنا کہا اور وہ میرے ہونٹوں كے قریب آئی ، ہم دونوں ایک دوسرے کی سانسیں کی گرمائش محسوس کر رہے تھے ، جو کہ ہم دونوں کو اور بھی گرم کر رہی تھی . . . . آج پہلی بار سعدیہ كے لیے میرے دِل میں کچھ فیلنگس آئی تھی اور وہ فیلنگس اس لئے تھی کیوںکہ سعدیہ آج مجھ سے دور جا رہی تھی ، آج کی رات ہماری آخری رات تھی ، شاید اس لیے وہ مان بھی گئی . . . . . " تم سچ میں بہت عجیب ہو . . . " میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ٹچ کرکے وہ بولی " لیکن مجھے اچھے لگتے ہو . . . " اور اس کے بَعْد میں نے وقت نہ گواتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا . . . . اور اس کے اوپر آ گیا . . . . اسی دوران میں نے اس کو ایک بار چھوڑا تو وہ میرے ہونٹوں کو چوسنے کی وجہ سے حانپ رہی تھی اس کے سینے كے ابھار بہت تیزی سے اوپر نیچے ہو رہے تھے . . . . " ایک بات بتاؤ " میں نے بولا " جب تمہیں معلوم تھا کہ میں کچھ دیر بَعْد تمہاری براہ اور پینٹی کو اتار دوںگا تو تم نے پہنا ہی کیوں . . . . " میرے ایسا کہنے کی دیر تھی کی وہ کھلکھلا كے ہنس پڑی ، اور میرے سَر پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگی . . . . . " تم سچ میں بہت عجیب ہو . . . " " وہ تو میں ہوں . . . " میں نے دوبارہ اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چپکا لیا اور پھر چُوسنے لگا . . . . میں اس کے ہونٹوں کو اتنا زور سے چوس رہا تھا کہ اس کے ہونٹوں پر خون اترنے لگا ، اور ہونٹ كے کنارے پر مجھے خون کی کچھ بوندے بھی دکھی . . . لیکن میں روکا نہیں اور اسے پی گیا . . . . . . " بہت ٹیسٹی ہے . . . " " کیا . . . " " تمھارے ہونٹ . . . لیکن ذرا آرام سے ، درد ہوتا ہے . . . " سعدیہ بولی . سعدیہ كے بولنے کا لہجہ سیدھے میرے دِل پر لگا ، میں یہ تو جانتا تھا کہ سعدیہ كے لیے میں صرف اس کے جسم کی بھوک مٹانے كے لئے ہوں ، لیکن آج وہ کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی تھی . . . اس وقت جب اس نے کہا کہ " آرام سے کرو ، درد ہوتا ہے . . . . " تو میں جیسے اس وقت اس کا مرید ہو گیا ، دِل چاہتا تھا کہ میں بس ایسے ہی اس کے اوپر لیٹا اسے پیار کروں اور یہ رات کبھی ختم نہ ہو ، دِل چاہتا تھا کہ کل کی صبح ہی نہ ہو ، لیکن یہ ممکن نہیں تھا . . . . میرے دِل میں سعدیہ كے لیے آج کچھ اور جذبات تھے ، اک بار تو میرے دل میں خیال بھی آیا کہ کہی میں سعدیہ سے . . . . . . . . . . . نہیں یہ ہرگز نہیں ہو سکتا ، جن راستوں پر میں نے چلنا چھوڑ دیا ہے تو پھر ان راستوں سے گزرنے والی منزلیں مجھے کیسے مل سکتی ہے . . . . . . " یار اب اِس حسین پل میں کہاں کھو گئے ، کرو نہ. . . " " اتنی جلدی بھی کیا ہے سعدیہ . . . " میں نے بہت ہی پیار سے کہا ، اتنے پیار سے میں نے آج سے پہلے کبھی کسی سے بات کی تھی ، یہ مجھے یاد نہیں . . . . . " جلدی تو مجھے بھی نہیں ہے ، لیکن اس کا کیا کرے ، کمینی چین سے ایک پل جینے بھی نہیں دیتی . . . . " سعدیہ کا اشارہ اس کی گرم ہوتی چوت کی طرف تھا ، جو میرے لنڈ کی راہ تک رہی تھی کہ میں کب سعدیہ کو چودنا شروع کروں . . . لیکن میں سعدیہ كے اوپر سے ہٹ کر اس کے بغل میں لیٹ گیا اور اس میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ پسند تھی اسے سہلاتے ہوئے میں نے کہا . . . . " کچھ دیر بات کر لیتے ہے ، تب تک تم نارمل ہو جاؤ گی اور تمہیں درد بھی کم ھوگا . . . " آج سعدیہ کو میں نے ایک سے بڑھ کر ایک جھٹکے دیئے تھے اور مجھے پورا یقین تھا کہ اسے اب بھی جھٹکا لگا ھوگا ، میرا اندازہ سہی نکلا وہ مجھے حیران ہوکر دیکھ رہی تھی . . . . . " ارمان . . . آخر بات کیا ہے ، سب کچھ ٹھیک تو ہے نہ . . . " میرے چہرے کو سہلاتے ہوئے سعدیہ نے مجھ سے کہا . . . " ہاں ، سب ٹھیک ہے . . . " میں سعدیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا لیکن میرے دِل میں کچھ اور ہی تھا ، میں کچھ الگ ہی خواب سجا رہا تھا . . . . . بقول شاعر " آج پھر دِل کرتا ہے کی کسی كے سینے سے لپٹ جاؤں . . . . اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سارے غم پی جاؤں . . . . ہم دونوں رہے ساتھ ہمیشہ اس لئے . . . دِل کرتا ہے کی اس کی تقدیر کو اپنی تقدیر سے جوڑ دوں . . . . میں کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا سعدیہ سے لیکن اس نے مجھے آگے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا اور درمیان میں بول پڑی . . . . " پھر کیا بات ہے . . . جلدی کرو صبح ہونے والی ہے اور پھر ہم کبھی ایک ساتھ نہیں رہینگے . . . " سانسیں روک گئی تھی ، جب اس نے چھوڑ جانے كے لیے کہا . . . . . دِل نہ ٹوٹے میرا اس لئے . . . دِل کرتا ہے کی اپنے دِل کو اس کے دِل سے جوڑ دوں . . . . . " چلو یار ارمان . . . کیا سوچ رہے ہو ، وہ بھی اب " وہ مجھے بستر پر سوچ میں پڑا دیکھ کر جینجلا اٹھی ، تب مجھے احساس ہوا کہ سعدیہ كے لیے میں اب بھی سوائے ایک جسم کی بھوک مٹانے والے كے سوا کچھ نہیں ہوں اور اس کی طرف سے کہی گئی باتوں کا میں 101 % غلط مطلب نکال لیا تھا . . . مجھے برا تو لگا لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنی غلطی کا بھی احساس ہوا اور اپنی غلطی کا ازالہ کرنے كے لیے میں وآپس سعدیہ كے اوپر آ گیا. . . . . " یس اب آئے نہ لائن پڑ ، اپنی انگلی میرے منہ میں ڈالوں اور شروع ہو جاؤ . . . " وہ بولی اور میں نے ویسا ہی کیا ، میں نے اپنی انگلیاں اس کے منہ میں ڈالی اور اس کی زبان سے ٹچ کرنے لگا اور پھر کچھ دیر بَعْد اپنی انگلیاں نکل کر اس کو سَر سے پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچا . . . . . . بقول شاعر: " میرے دور جانے سے اے دوست خوشی ملتی ہے تجھے تو بتا دے مجھے . . . . . . تیری اِس خوشی كے لیے میں تجھے تو کیا اِس دُنیا کو چھوڑ كے چلا جاؤں . . . . .
  4. " لنڈ . . . . " " بلکل سہی جواب اور آپ کو ملتی ہے ایک عدد چوت ، جسے آپ آج پوری رات چود سکتے ہے . . . . " سعدیہ کی ان چند جملوں نے مجھے اور بھی زیادہ پاگل اور مدھوش کر دیا اور ایک یہی وقت تھا ، جب مجھے اس کی چدائی کرنے كے علاوہ اور کچھ بھی یاد نہیں رہتا ، انہی چند لمحوں كے لیے میں آج بھی سعدیہ كے ساتھ تھا . . . . " میرے انعام کو پردے میں کیوں رکھا ہے . . . " یہ کہتے ہوئے میں نے اسی وقت سعدیہ کو پکڑ کر زمین پر لٹا دیا ، اور اس کی رس بھری گلابی چوت کو پردے سے باہر کیا . . . یہ سب کچھ میں نے اتنی جلدی کیا کہ سعدیہ حیران رہ گئی . . . اور پھر مسکراتے ہوئے بولی . . . " بہت جلدی ہو رہی ہے تم کو . . " " تم چیز ہی ایسی ہو قسم سے . . . " میرا ایسا کہتے ہی وہ خوشی سے مچل اٹھی ، سعدیہ کو زمین پر لیٹا کر میں نے ایک بار پھر اس کی چھاتیوں کو مسلنا شروع کیا . . . " آہ ہ ہ ہ . . . . وووہ ہ ہ ہ. . . . . " سعدیہ کی پیار بھری مستی پھدک رہی تھی اور وہ مزے كے سمندر کی انتہا پر جا کر دستک دے رہی تھی ، وہ اِس وقت اتنی مدھوش ہوگئی تھی کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے سینے كے ابھاروں کو مسلنے لگی اور مجھے اشارہ کیا کہ ، میں وہ سب کچھ کروں ، جس کے لیے آج رات میں یہاں تھا . . . . میں نے سعدیہ کی گوری چکنی کمر کو پکڑا اور اسے اپنے لنڈ كے بلکل اوپر بیٹھا لیا ، اس کی چوت اِس وقت میرے لنڈ كے ملن كے لیے تڑپ رہی تھی . . . میں نے اس کی تڑپ کم کرنے كے لیے اپنے ہاتھوں سے اس کے چوت کو تھوڑا پھیلایا اور سیدھا اپنا لنڈ ایک تیز ڈھکے كے ساتھ اندر داخل کر دیا . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ ہ . . . . . . . اوئی ی ی ی ی " اپنی انگلی کو دانتوں میں دباتے ہوئے وہ بولی ، اس كا چہرہ اِس وقت لال پیلا ہو رہا تھا ، . . . میں زمین پر لیٹا ہوا تھا اور سعدیہ میرے اوپر بیٹھی ہوئی اپنی گانڈ ہلا کر مزے لوٹ رہی تھی . . . اِس طرح اس کا درد بھی کچھ کم ہو گیا تھا ، اور اب وہ مستی بھری سیسکاریاں لے رہی تھی . . . میں نے ایک بار پھر سے اپنے سب سے پیاری جگہ کو پکڑا اور زور زور سے دبانے لگا اور تیزی سے اپنا لنڈ اس کی پھدی كے اندر باہر کرنے لگا ، . . . کبھی سعدیہ میرے ہاتھوں کو پکڑ لیتی تو کبھی اپنی چکنی گانڈ کو مٹکاتے ہوئے آگے پیچھی کرتی . . . . میرے تیز ڈھکوں كے ساتھ اس کی سسکاریاں بھی بڑھتی جا رہی تھی ، اسی دوران میں نے اس کے مموں کو کئی بار بہت زور سے مسئلہ ، اتنا زور سے کہ اس کی مستی بھری سسکاریوں میں اب درد جھلک رہا تھا ، لیکن یہ درد وہ اپنی بھاری گانڈ کو آگے پیچھے کرکے برداشت کر رہی تھی ، ہم دونوں اِس حالات میں بہت دیر تک چودائی کرتے رہے ، اس کے بَعْد میں نے سعدیہ کو الگ کیا اور ٹانگیں پیچھے کی طرف موڑ کر بیٹھ گیا اور اس کی گانڈ کے سوراخ کو سہلاتے ہوئے اسے بھی اپنے اوپر بیٹھا لیا . . . . " ش ش ش ش . . . یہ کیا کر رہے ہو . . . " سعدیہ بولی . . . " کچھ نہیں ، بس اپنا کام کر رہا ہوں . . . " اس کے ننگے بدن کو چومتے ہوئے میں نے بولا اور پھر اپنے لنڈ کو اس کی چوت سے لگایا اور ایک زور دھکہ مارا اِس پوزیشن میں میں پہلی بار سعدیہ کو چود رہا تھا ، اس لئے وہ تیار نہ تھی ، اور جیسے ہی میرا لنڈ پورا اندر گیا وہ درد كے مارے زور سے چیخی ، وہ درد سے تڑپ اٹھی اور مجھ سے خود کو چھوڑوانے کی کوشش کرنے لگی ، لیکن میں نے اس کی کمر کو کس کر پکڑا اور اسکی چوت میں لنڈ اندر باہر کرنے لگا . . . . سعدیہ نے اپنے ہاتھوں سے میرے لنڈ کو نکلنے کی بھی کوشش کی ، لیکن اس کے ہاتھ میرا کام بیگاریں اسے پہلے ہی میں نے اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر پیچھے جکڑ لیا ، اب اس کے پاس اسی طرح چودنے كے علاوہ اور کوئی رستہ نہیں تھا ، . . . سعدیہ کی سیسکاریاں اِس دوران مسلسل نکل رہی تھی ، جو مجھے اور مزید جوشیلا کر تھی ، سعدیہ کی سیسکاریوں میں درد صاف جھلک رہا تھا . . . . میں نے سعدیہ کو زمین پر وآپس لٹایا اور اس کی ٹانگوں کو پکڑ کر اس کو اپنی طرف کھینچا ، اس کے بَعْد میں نے اس کی دونوں ٹانگوں کو اوپر اُٹھا کر اس کی طرف موڑ دیا ، جس سے اس کی چوت میرے سامنے کی طرف آ گئی اور بنا ایک پل گنواے میں نے اپنا لنڈ اندر ڈال دیا ، سعدیہ کی چیخ ایک بار پھر پورے گھر میں گونجی ، اس کا گورا جسم ، درد اور مستی سے لال پیلا ہو رہا تھا " میں . . . اب . . . آہ ہ ہ ہ . . . . ارمان . . . آئی لوو یو . . . . س س س س س . . . . یس س س س . . . . . " سعدیہ فارغ ہوگئی اور اس کی گلابی چوت سے پانی باہر رسنے لگا ، اب میں نے اس کے گالوں کو زور سے سہلایا اور بری طرح سے سعدیہ سے لپٹ کر اور بھی زور سے اپنا لنڈ داخل کرنے لگا . . . وہ مجھے روکنے کی کوشش کرنے لگی ، لیکن میں نہیں روکا اور لگاتار اپنا لنڈ اس کی پھدی میں اندر باہر کرتا رہا ، اور کچھ دیر كے بَعْد میں بھی فارغ ہوگیا . . . . میں اور سعدیہ اب بھی ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے . . . ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہ جانے کیا دیکھ رہے تھے . . . . پھر اس نے ایسا کچھ کہا ، جس کی میں نے کبھی توقع تک نہیں کی تھی . . . . . . . . . . . " دل والوں كے گھر تو کب كے اجڑ چکے . . . . دِل كے آشیانے تو کب كے جل چکے . . . . . " سعدیہ سے میں نے صرف اتنا ہی کہا ، جب اس نے مجھ سے شادی کرنے كے لیے کہا . . . سعدیہ ، مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے ، یہ سن کر میں کچھ دیر كے لیے جیسے گھوم گیا تھا ، میں اب بھی زمین پر سعدیہ كے اوپر لیٹا ہوا تھا اور میرا لنڈ اب بھی اس کی چوت میں اندر تک دھنسا تھا . . . . میرے اس دو مصرے کے شعر کو سن کر وہ پل بھر كے لیے مسکرائی اور پھر میرے سَر پر ہاتھ پھیرتے ہوئی بولی " تم نے ابھی جو کہا ، اس کا مطلب کیا ہوا . . . " " میں تم سے شادی نہیں کر سکتا . . . " جب میں نے اسے ایسا کہا تو میں نے سوچا کہ شاید اس کے چہرے پر ناراضگی كے اثرات آئیں گے ، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ، وہ میرا سَر سہلاتی رہی . . . . . " میں مذاق کر رہی تھی . . . " وہ بولی " اصل میں ، بابا نے میری شادی کہی اور فکس کر دی ہے اور اگلے ہفتے شاید لڑکے والے مجھے دیکھنے بھی آ رہے ہے . . . . " " گڈ ، لیکن پھر مجھ سے کیوں پوچھا کہ میں تم سے شادی کروں گا یا نہیں . . . " میرے ہاتھ دھیرے دھیرے اس کے پورے جسم کو سہلا رہے تھے . . . . " میں جاننا چاہتی تھی کہ ، تُم مجھ سے پیار کرنے لگے ہو یا نہیں . . . " میرے ہاتھ کی حرکتوں سے تنگ آ کر اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ، اور ہستی ہوئی بولی . . . " اور میں تم سے پیار کرتا ہوں یا نہیں ، یہ تُم کیوں جاننا چاہتی تھی . . " میں نے اس کے ہاتھ کو دور کیا اور پھر سے اپنا کام شروع کر دیا ، اس کی آنکھوں میں جنسی پیاس پھر سے اترنے لگی . . . " میں نے یہ اس لئے پوچھا کیوںکہ ، میرے جتنے بھی بوائے فریںڈ ہے ، جب میں نے انہیں کہا کہ اب میں ان کے ساتھ تعلقات نہیں رکھ سکتی ، تو وہ بہت اُداس ہوئے ، کئی تو بچوں کی طرح رونے لگے اور بولنے لگے کہ ، . . . . سعدیہ پلیز مت جاؤ ، میں تم سے پیار کرنے لگا ہوں ، تو بس میں یہی جاننا چاہتی تھی کہ ، کہی اوروں کی طرح تمہیں بھی مجھ سے پیار تو نہیں ہوا ہے ، ورنہ آج کی رات كے بَعْد تُم بھی ان لڑکوں کی طرح رونا دھونا شروع کرتے . . . . " " بے فکر رہو ، میں ایسا کچھ بھی نہیں کروںگا . . . . " میں نے سعدیہ كے دونوں ہاتھوں کو کس کر پکڑا اور اپنا لنڈ جو اسکی چوت میں پہلے سے ہی گھسہ ہوا تھا ، میں اسے پھر سے اندر باہر کرنے لگا . . . . میری اِس حرکت پہ وہ ایک بار پھر مسکرا اٹھی . . . . تمہیں ، اک بات بتاؤں . . . آہ ہ ہ ہ . . . " " ہاں بولو . . . " " ان لڑکوں نے کال کر کر كے مجھے اِتنا پریشان کر دیا کے مجھے اپنا نمبر تک تبدیل کرنا پڑا . . . . تھوڑا آرام سے ڈالو ، ابھی ابھی فارغ ہوئی ہوں تو تھوڑا درد ہو رہا ہے . . . " " اِس کام میں درد نہ ہو تو پھر مزا کیسے آئیگا ، . . . " میں نے اور بھی زور سے اپنا لنڈ اس کی چوت كے اندر باہر کرنے لگا ، سعدیہ سسکی لیتے ہوئے حانپ بھی رہی تھی ، اور اپنے ہونٹوں کو دانتوں سے کاٹنے لگی . . . . " پلیز اسٹاپ . . . . " " اِس گاڑی کا بریک فیل ہو گیا ہے . . . " " اِس گاڑی کو ابھی روکو ، رات بہت لمبی ہے اور سفر بھی بہت لمبا ہے . . . . " اس نے میرے کمر کو کس کر جکڑ لیا اور بولی " تمہیں کیا ، تم تو میرے اوپر لیٹے ہوئے ہو ، یہاں زمین پر نیچے تو میں لیٹی ہوئی ہوں . . . اٹھو ابھی . . . " دِل تو نہیں چاہتا تھا کہ میں اسے چھوڑوں ، لیکن اس کا احساس مجھے ہو گیا تھا کہ وہ زمین پر نیچے لیٹ کر بہت دیر تک مجھ سے چودائی نہیں کر سکتی ، اس لئے میں نے اپنا لنڈ نکالا اور کھڑا ہوا ، اس کے بَعْد میں نے سہارا دے کر اسے بھی اْٹھایا . . . . " اب باقی کام بستر پر کرتے ہے . . . " وہ ایک بار پھر مسکرائی ، اور اپنے کپڑے اُٹھا کر اپنے بیڈروم كے طرف بڑھی . . . . دِل کیا کہ سعدیہ کو پیچھے سے پکڑ کر وہی لیٹا کر چود دوں، لیکن پھر سوچا کہ جب رات لمبی ہے تو پوری رات سو کر اسے چھوٹی کیوں بنائی جائے . . . . . . . جیسے کہ اکثر امیروں كے گھر میں کسی کونے میں شراب کی کچھ بوتلیں رکھی ہوتی ہے ، ویسا ہی ایک چھوٹا سا شراب خانہ سعدیہ كے گھر میں بھی تھا . . . جہاں ایک سے بڑھ کر ایک برانڈڈ شراب رکھی ہوئی تھی ، . . . میں اس چھوٹے سے شراب خانے کی طرف بڑھا اور وہاں موجود کرسی پر بیٹھ کر اپنا پیک بنانے لگا ، دو تِین پیک پی کر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور سعدیہ كے پورے گھر کو دیکھا ، سعدیہ کا گھر باہر سے جتنا بڑا نظر آتا تھا ، وہ اندر سے اور بھی بڑا اور عالیشان تھا ، ہر ایک چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑی سے بڑی چیز برانڈڈ تھی ، . . . شراب پینے كے بَعْد میں کیا سوچنے لگتا ہوں یہ میں خود آج تک نہیں سمجھ پایا ، شراب پینے كے بَعْد میرے پورے دماغ میں دنیا بھر کی باتیں آتی ہے ، کبھی کبھی کسی سیاست دان کی باتیں تو کبھی کبھی کسی دوست كے پوزیشن ، کبھی کوئی فیلم اسٹار اداکارہ تو کبھی کوئی سوشل ورکر . . . . . لیکن اِس وَقت ابھی جو میرے خیال میں آ رہا تھا ، وہ سعدیہ کے بارے میں تھا ، . . . شراب اور سعدیہ دونوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا تھا . . . . . سعدیہ میں ایک عجیب سی کشش تھی ، جو کسی بھی مرد کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے ، پھر چاھے وہ سعدیہ كے آزادانہ راویے سے متاثر ہو یا اس کی عجیب سی شکل میں ڈھلی ہوئی چھاتیوں سے یا اس کی گداز جسم سے . . . . میں سعدیہ سے اس کی چھاتیوں کی وجہ سے متاثر ہوا تھا ، اور یہی وجہ تھی کہ میں اکثر اس کے ساتھ سیکس کرتے وقت اس کے سینے كے ابھاروں کو پکڑ کر مسلنے لگتا تھا ، . . . " ارمان ، ذرا اوپر تو آنا . . . . " " کون . . . " آواز سن کر میں بھوکلایا ، لیکن پھر ایسے لگا جیسے کے مجھے سعدیہ نے آواز دی ہو ، . . . " اسی نے بلایا ھوگا . . . " میں نے خود سے کہا اور اُٹھ کر سیڑھیوں سے اوپر جانے لگا ، مجھے سعدیہ کا بیڈروم معلوم تھا ، اس لئے میں سیدھے وہی پہنچھا . . . .
  5. " ارمان . . . ارمان . . . اٹھ ، ورنہ لیٹ ہو جائیگا . . . " کاشف نہ جانے کب سے مجھے اٹھانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا ، اور جب میں نے بستر نہیں چھوڑا تو ہمیشہ کی طرح آج بھی اس نے پانی کی ایک بوتل اٹھائی اور سیدھے میرے چہرے پر ڈال دی . . . . " ٹائم کتنا ہوا ہے . . . " آنکھیں ملتے ہوئے میں اُٹھ کر بیٹھ گیا ، اور گھڑی پر نظر گھمائی ، صبح كے آٹھ بج رہے تھے . . . . بوجھل دل سے میں نے بستر چھوڑا اور باتھ روم میں گھس گیا . . . . کاشف میرے بچپن کا دوست تھا اور اسی کی وجہ سے میں کراچی میں تھا ، جہاں ہم رہتے تھے ، وہ ایک پوش علاقہ تھا ، جس کا نام گلشن حدید تھا جو کہ اندرون شہر سے دور بنا ہوا تھا ، . . . اِس علاقے میں بہت بڑے بڑے امیر لوگ بھی رہتے تھے ، تو کچھ میری طرح گھٹ گھٹ کر زندگی گزرانے والوں میں سے بھی تھے . . . . میرے ساتھ کیا ہوا ، میں نے ایسا کیا کیا ، جس سے سب مجھ سے دور ہو گئے ، یہ سب کاشف نے کئی بار جاننے کی کوشش کی . . . لیکن میں نے ہر بار بات ٹال دی . . . کاشف پریس میں کام کرتا تھا ، اس کی حالت اور اس کے شوق دیکھ کر اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس کی تنخواہ کتنی ھوگی اور مجھے کبھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو وہ بنا کچھ بولے مجھ پر پیسے اڑا دیتا ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اس کے پیسے کبھی واپس نہیں کروں گا . . . . . " اب ناشتہ کیا خاک کرے گا ، ٹائم نہیں بچا ہے . . . . " میں باتھ روم سے نکلا ہی تھا کہ اس نے مجھے ٹوکا . . . " اور پی رات بھر شراب، کمینے خود کو دیکھ ، کیا حالت بنا رکھی ہے . . . " " اب تو صبح صبح تقریر نہ کر . . . " میں نے شرٹ پہنتے ہوئے کہا . . . . " اکڑ دیکھو اِس انسان کی ، . . . " کاشف بولتے بولتے روک گیا ، جیسے اسے کچھ یاد آ گیا ہو . . . . وہ تھوڑی دیر روک کر بولا . . . " وہ تیری بچی آئی تھی ، صبح صبح . . . . " " کون . . . " میں جانتا تھا کہ وہ کس کی بات کر رہا ہے ، لیکن پھر بھی میں نے انجان بننے کی کوشش کی . . . " سعدیہ . . . " " سعدیہ . . . . " میں نے اپنا موبائل فون اٹھایا ، تو دیکھا کہ سعدیہ کی بہت ساری مس کال آئی ہوئی تھی . . . . " کیا بول رہی تھی وہ . . . " " مجھے تو بس اتنا ہی بول كر گئی کہ ، ارمان جب اٹھ جائے تو مجھے کال کرے . . . " " اوکے . . . . " سعدیہ ہمارے ہی کالونی میں رہتی تھی ، وہ ان عیاش لڑکیوں میں سے تھی ، جن کے ماں باپ كے پاس بے شمار دولت ہوتی ہے ، جسے وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے بھی لٹائے تو بھی ان کا بینک بیلنس پر کوئی فرق نہ پڑے . . . . . سعدیہ سے میری پہلے ملاقات علاقے کے پارک میں ہی ہوئی تھی ، اور جلد ہی ہماری یہ پہلی ملاقات بستر پر جا کر ختم ہوئی ، . . . سعدیہ ان لڑکیوں میں سے تھی ، جن کے ہر گلی ، ہر محلے میں مجھ جیسا ایک بوائے فریںڈ ہوتا ہے ، جسے وہ اپنی ہوس مٹانے كے لیے استعمال کرتی ہے . . . اِس علاقے میں میں سعدیہ کا بوائے فریںڈ تھا ، یا پھر یوں کہے کہ میں اس کا ایک طرح سے غلام تھا . . . . . وہ جب بھی ، جیسے بھی چاھے میرا استعمال کرکے اپنے جسم كے بھوک کو پورا کرتی تھی . . . دِل میں کئی بار آیا کہ اسے چھوڑ دوں ، اسے بات کرنا بند کر دوں ، لیکن میں نے کبھی ایسا کچھ بھی نہیں کیا . . . . کیوںکہ سعدیہ كے ساتھ بستر پر گزرا ہوا ہر ایک پل مجھے اپنی بےکار زندگی سے بہت دور لے جاتا تھا ، جہاں میں کچھ وقت كے لیے سب کچھ بھول سا جاتا تھا . . . . " چل ٹھیک ہے ، ملتے ہے بارہ گھنٹے كے بَعْد . . ." کاشف نے مذاقیا اندازِ میں کہا . . . . ہر روز کی طرح میں آج بھی اس اسٹیل پلانٹ میں اپنا خون جلانے كے لیے نکل پڑا ، . . . میں ابھی کواٹر سے نکلا ہی تھا کہ سعدیہ کی کال پھر آنے لگی . . . " ہیلو . . . " میں نے کال ریسیو کی . . . " گڈ مارننگ شہزادے . . . اٹھ گئے آپ . . . " " اتنی تمیز سے کوئی مجھ سے بات کرے ، اس کی عادت نہیں مجھے . . . کال کیوں کی . . . " " اوہ ہو . . . تیور تو ایسے جیسے سچ میں شہزادے ہو . . . آج ممی پاپا رات میں کسی پارٹی كے لیے جا رہے ہے . . . . . گھر بلکل خالی ہے . . . . " " ٹھیک ہے ، رات کو كھانا کھانے كے بَعْد میں آ جاؤںگا . . . " کچھ دیر تک سعدیہ کی طرف سے کوئی آواز نہیں آئی اور جب میں کال بند کرنے والا تھا تبھی وہ بولی . . . " كھانا ، میرے ساتھ ہی کھا لینا . . . " " ٹھیک ہے ، میں آ جاؤںگا . . . " سعدیہ نے مجھے آج رات اپنے گھر پر بلایا تھا ، جس کا صاف مطلب تھا کہ آج مجھے اس کے ساتھ اسی كے بستر پر سونا ہے سعدیہ سے بات کرنے كے بَعْد میں اسٹیل پلانٹ کی طرف چل پڑا ، جہاں مجھے بارہ گھنٹے تک اپنا خون جلانا تھا ، . . . میں ہر رات اِس آس میں سوتا ہوں کہ ، صبح ہوتے ہی میرا کوئی بھی خاص دوست میرے گانڈ پر لات مار کر اٹھائے اور پھر گلے لگا کر بولے کہ " ریلکس بھڑوے ، جو کچھ بھی ہوا ، وہ سب ایک خواب تھا . . . اب جلدی سے چل ، فرسٹ پیریڈ سحرش میڈم کا ہے ، اگر لیٹ ہوئے تو لوڑا پکڑ کر پورے پیریڈ باہر کھڑا رہنا پڑیگا . . . . " لیکن حقیقت کبھی سپنے یا خواب میں تبدیل نہیں ہوتی . . . میں نے اپنے ساتھ بہت برا کیا تھا . . . یہ بھی ایک حقیقت تھی . . . . جس اسٹیل پلانٹ میں میں کام کرتا تھا ، وہاں میری کسی سے کوئی جان پہچان نہیں تھی اور نہ ہی کبھی میں نے کسی سے ملنے جلنے کی کوشش کی . . . . جب کبھی کسی کی مدد کی ضرورت پڑتی تو " ہیلو . . . اوئے . . . گرین شرٹ . . . بلو شرٹ . . . " ان سب ناموں سے پکار کر اپنا کام چلا لیتا . . . . اس دن میں رات کو نو بجے اپنے کواٹر میں آیا . . . کاشف مجھ سے پہلے آ چکا تھا . . . . " چل ، ہاتھ منہ دھو لے . . . شراب پیتے ہے . . . " ایک ٹیبل کی طرف کاشف نے اشارہ کیا ، جہاں شراب کی بوتل رکھی ہوئی تھی . . . " میں آج سعدیہ كے گھر جا رہا ہوں . . . " " ارے واہ. . . مطلب آج پوری رات ، لیو میچ ہونے والا ہے . . . " " لیو میچ تو ھوگا ، لیکن تماشائی صرف ہم دونوں ہوںگے . . . " " کمینے ، مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ سعدیہ جیسے ہائی پروفائل کلاس والی لڑکی ، تجھ سے کیسے سیٹ ہو گئی . . . . میں مر گیا تھا کیا . . " شراب کی بوتل کو کھولتے ہوئے کاشف نے کہا " ارمان ، ایک کام کر . . . تو سعدیہ سے شادی کر لے . . . لائف سیٹ ہو جائے گی . . . . " " مشورہ اچھا ہے ، لیکن مجھے پسند نہیں . . . " " تو پھر ایک اور سریا اٹھا كر گانڈ میں ڈال لینا ، زندگی اور بھی اچھی گزرے گی . . . " کاشف غصے میں بولا . . . . " میں چلتا ہوں . . . " یہ بول کر میں کواٹر سے باہر آگیا . . . سعدیہ کی طرح میں بھی چاہتا تھا کہ وہ ہر رات میری ساتھ ہی گزارے ، یہی وجہ تھا کہ میں نے اسے ابھی تک چھوڑا نہیں تھا . . . اور ایک مضبوط جوان انسان سے چودائی کرنے کی خوائش نے اسے بھی مجھ سے باندھ رکھا تھا . . . . وہ ہمیشہ جب بھی مجھ سے ملتی تو یہی کہتی کہ ، تمھارے ساتھ بہت مزا آتا ہے اور اس کے ایسا کہنے كے بَعْد میں ایک بناوٹی مسکراہٹ اس پر پھینک كے مرتا ہوں ، جس کا نشانہ ہر بار ٹھیک لگتا تھا . . . . . . " آ جاؤ . . . " سعدیہ نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا ، اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جلدی سے اندر کھینچ لیا . . . . " صبر کرو تھوڑی دیر . . . . " میں نے اندر ہی اندر ہزار گالیاں سعدیہ کو دی اندر آ کر ہم دونوں ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے ، وہ میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھی مجھے شرارت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ، میں نے بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی اور اشارہ کیا کہ میں تیار ہوں . . . میرا اشارہ پہ کر وہ ایکدم سے اٹھی اور کھانے کی پلیٹ کو ڈائیننگ ٹیبل پر رکھا کر سیدھے میرے اوپر بیٹھ گئی " تم ڈاکٹر ہو . . . " اپنے گہرے لال رنگ كی شرٹ کی بٹن کو کھولتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا . . . . " نہیں ، میں پاکستان کا وزیراعظم ہوں . . . کچھ کام تھا کیا . . . " میں نے بھی اپنی کھانے کی پلیٹ ڈائیننگ ٹیبل پر رکھی اور اس کے جینس کا لوک کھولتے ہوئے بولا . . . اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے سَر کو پکڑا اور پیار سے سہلانے لگی . . . . " ارمان ، تم جانتے ہو مجھے سب سے زیادہ کیا پسند ہے . . . " " چدائی . . . " میں نے دل ہی دل میں سوچا اور سعدیہ کی طرف دیکھ کر نہ میں سَر ہلایا ، اب میری نظر سعدیہ كے چہرے سے ہوتے ہوئے اس کے سینے پر جا اٹکی ، جہاں اسکی چھاتی كے دونوں پُھول باہر کھلنے كے لیے تڑپ رہے تھے . . . . سعدیہ کی کومل گوری کمر کو سہلاتے ہوئے میں نے اس کی کمر کو پکڑا اور اسے اوپر اٹھا کر اس کی جینس کو اس کے گھٹنوں سے بھی نیچے کر دیا ، اب وہ میرے سامنے صرف ریڈ براہ اور پینٹی میں تھی ، اس کے خالص گورے جسم پر یہ رنگ قیامت ڈھا رہا تھا . . . میرے سینے کو سہلاتے ہوئے سعدیہ نے میری شرٹ کو اتار کر پھینک دیا اور بے تحاشہ میرے سینے کو چومنے لگی ، اِس وقت میرے ہاتھ اس کی چھاتیوں پر اٹکے ہوئے تھے ، میں نے سعدیہ كے سینے كے ان دونوں ابھاروں کو کس کر پکڑا اور دبا دیا . . . . " آہ ہ ہ ہ . . . . دھتھ . . . " وہ مصنوئی غصے كے ساتھ بولی . . . " نائس براہ ، کافی اچھا لگ رہا ہے ، تم پر . . . . " اس کے براہ کو اس کے جسم سے الگ کرتے ہوئے میں نے کہا . . . " ارمان یہ براہ ، میرے جسم پر اتنا ہی اچھا لگ رہا تھا تو پھر اسے اتارا کیوں . . . . " " کیوںکہ اِس براہ كے پیچھے جو چیز ہے وہ اسے بھی زیادہ خوبصورت ہے " اس کی چھاتیاں اب میرے سامنے ننگی تھی ، اور میں اس کے ابھاروں کو جب چاہے جیسے چاہے دبا سکتا تھا ، ویسے تو میں خود کو اس کا غلام مانتا تھا تھا ، لیکن چودائی کرتے وقت وہ میری غلام ہو جاتی تھی . . . سعدیہ كے سینے كے ایک ابھار کو میں نے پیار سے اپنے منہ میں بھر لیا اور دوسرے کو ہاتھ سے مسلنے لگا . . . " منع کیا نہ . . . آہ ہ ہ اوں " سعدیہ میرا ہاتھ ہٹھاتے ہوئے بولی " کتنی بار منع کیا ہے ، زیادہ زور سے مت دبایا کرو . . . " میں اِس وقت سعدیہ سے بحث نہیں کرنا چاہتا تھا ، اس لئے میں نے اس کی بات مان لی اور اپنے ایک ہاتھ کو اس کے چھاتی پر سے ہٹا لیا اور اپنے ہاتھوں سے سعدیہ کی ننگی پیٹ کو سہلاتے ہوئے اس کی چوت پر اپنا ایک ہاتھ رکھ دیا اور اس کو مسلنے لگا . . . میرے ایسا کرنے پر وہ کسی مچھلی کی طرح اُچھل پڑی اور سیسکاریاں لینی لگی ، . . . میرے پینٹ میں بنے ہوئے تامبو کا اسے احساس ہو گیا تھا ، وہ دھیمی سی آواز میں بولی . . . " جلدی . . . . . پلیز . . . میں زیادہ انتظار نہیں کر سکتی’ . . . . . " میرے لنڈ کو پینٹ كے باہر سے ہی سہلاتے ہوئے سعدیہ نے کہا . . . . اس کی آواز کانپ رہی تھی . . . جو مجھے مدھوش کر رہی تھی . . . میں نے سعدیہ کو اوپر اٹھایا اور میں خود وہاں کھڑا ہو گیا ، کرسی کو پیچھے کرنے كے بَعْد وہ میرے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی اور میری طرف دیکھتے ہوئے میرے لنڈ پر اپنا ہاتھ پھیر رہی تھی ، اس کے بَعْد اس نے میرے لنڈ کو پینٹ سے باہر نکالا اور اپنے ہاتھوں میں تھام کر آگے پیچھے کرنے لگی . . . . . " تم جانتے ہو ، تم میں سب سے خاص چیز کیا ہے . . . . " میرے لنڈ کو اپنے ہاتھوں سے سہلاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا . . . .
  6. Part 5 Ma study table par sar rakh kar leta hua tha jab madam na aakar mujhe hilaya or boli Madam:Razi ye lo chai piyo Ma chai peene laga or madam meri books or copies check karne lagi.Ma chai ka aik sip lekar bola Me:ye science subjects pata nahi kaisi balaen hn mujhe to kuch samajh nahi aa raha. Madam:kiun samajh nahi aati tumhe sciences ki Me:ma na pehle kabhi science parhi hi nahi. Madam: ye to koi maslaa hi nahi ha.ma tumhe shuru sa teeno books ka start karwa deti hn.jahan sa samajh naa aage mujhe btate jaana hum use tasali sa dubara dekh Lein ge. Me:theek ha Madam:chalo phir nikalo Me:kya nikaloo??? Madam:chemistry ki book nikalo.pata nahi kya kya sochte rehte ho. Ma na book nikalo or phir parhne beth gae.Takreebn 11 baje him soo gae. Agle din utha tayar hua or school chala gaya wahan saim or Hira ke saath wakat acha guzra koi khas baat naa hui.phir chuti hui ghar aaya or orphanage chala gaya.shaam ko wahan sa aaya or khana khaya.Madam ke saath double meaning baatein hoti rahi or phir parhne ka baad so gae. Takreebn aik hafte tak koi khas wakia pesh naa aya.Hafte baad aik din ma break time ground ma bench pa betha hua tha.aaj mere saath Hira bhi bethi hui thi.Hum dono normal way ma baatein kar rahe the ke achanak Hira uth khari hui or phir mujhe bhi mera haath pakar kar uthaya or phir mujhe lekar ground ki dusari taraf majood classes ki taraf le gae.Ground floor sa hote hue first floor or phir second puhnche.wahan sa upar ki taraf barhe.upar classrooms abhi tak under construction the or kissi ko wahan aane ki ijazat nahi thi.wo mujhe lekar sab sa aakhiri class room ke darwaze tak gae or phir mujhe kaha ke andar jhanko binaa koi awaz paida kiye.Ma na andar jhaankaa ko dekha ke hamari class ka hi aik larka aur 10 class ki aik larki kamre ma the.Larki dewaar ke saath sahara lekar apni gaand bahir ko nikale jhuki hui thi.uski skirt upar utha kar uski panty ko ghutno take neche ki hui ha. Larke na apna lun zip khol ke nikala or larki ki chut ke laboo pa topi ragarne lava.phir usne aik jhatka lagaya or apna adha lun andar chut ma daal diya.larki ke my sa aik mazedaar kisam ki Siskari Nikli AAAAAAAAAHHHHHHH SSSSSIIIIIIII Larke na der kiye bagair dusara jhatka Mara or pura lun andar kar diya or phir tezi sa lun andar bahir karne laga AAAAAAAAHHHHHHH UUUUUFFFFFF AAAHHHH HHHHAAANNN OOORRR TTTEEEZZ HHHAAANNN AAAIISSSEEE HHIIII AAAAHHHH HHHAAA Lrki dabi awaz ma siskariya bhar rahi thi.phir Hira mujhe peche kar ke khud aage ho kar andar jhankane lagi.Hira thora aage ko jhuki hui thi jiski waja sa uski gaand thora bahir ko nikli hui thi.Ma uske bilkul peche khara ho kar andar jhankane laga to mera lun uski gaand sa touch hone laga. Udhar WO dono ab chutne waale the is I liye unki raftar tez ho chuki thi.phir wo larka larki ki gaand pa choot gaya.ye scene dekh kar mujh sa control na ho paya or ma na apna lun uski gaand pa zor sa ragar diya.usne aik dam sa mur kar meri taraf dekha or phir seedhi khari hui or kuch kahe bina waapis ground ki taraf bhag gae. Ma na uske jaane ke baad andar jhaanka to dono apni safai karne ke baad kapre theek kar rahe the.Ma bhi wahan sa nikla or class ma aakar beth gaya.agle dono periods mere or Hira ke bech koi baat na hui.chuti time gate ki taraf jaate hue Saim hum sa thora fasle par tha.ma moka dekh kar Hira sa bola Me:I'm sorry Hira.ma me WO jaan boojh ke nahi kiya tha.bus khudi...... Hira meri baat katate hue boli Hira:ma jaanti hn.Lekin us wakat agar ma na jaati to jaise him in dono ko dekh rahe the waise hi koi hume dekh raha hota. Ma gate sa bahir niklte hue bola Me:acha to phir kahan mile tumhare ghar ya mere ghar WO mujhe ghoorte hue boli Hira:itni jaldi nahi hota ye sab. Is se pehle ke ma kuch kehta saim na Hira ko awaz di or WO nujhe bye bol kar apni gari ki taraf chali gae or ma bhi road cross kar ke madam ki taraf barha.....
  7. Part 4 School ma mujhe zayada pareshaani to naa hui lekin aik akela pan zaroor mahsoos hua.WO bhi dusare hi din khatam ho gaya.hamari class ma total 34 bache the.jin ma 18 larkiya or 16 larke the.class ke takreebn sabhi larke mummy daddy type ke the jin ka class ma sirf aik hi maksad tha ke kabhi teacher ko daantane ka moka na diya jae or sabhi students sa zayada marks liye jaen.Is ke liye chahe pagal hona pare. Isi liye zayada tar larke or larkiya sara din kitaboo ma guzarte the lekin mere liye aise kissi larke sa dosti karna naamumkin tha aur school ma dost ka bagair parha hi nahi jaata. Dusare din ki baat ha kema sab sa aakhir ma betha hua tha.pehla period chemistry ka tha.hamari chemistry ki teacher Teacher Nida aik kisaam ka larka hi thi.Boy cut hairs,bhari awaz,lambe kad or mardaan dressing ma WO aik mard hi dekhti thi.to baat kuch yun hui ke madam ne attendanc li.Roll call hui sab sa aakhir ma mera name aaya.ma na YES MAM kaha.madam na meri taraf aankh uthaa kar dekha or mujhe sab sa aakhir ma akele betha dekh kar boli T.Nida:Razi wahan aakhir ma akele kiun bethe hue ho.idhar front ma Saim or Hira ke saath aakar betho Me:no mam I'm feeling comfortable here. T.Nida:tum sa ye nahi pucha ke comfortable ho ya nahi.apna bag uthao or aage aao Ma na bina kuch kahe bag uthaya or usi row ma pehle desk pa jaakar beth gaya.Mere aik taraf larka tha or dusari taraf larki thi.Dono ke chehre milte julte the.shayad dono behen bhai the. Teacher na lecture shuru kiya.ma na book nikali topic nikala or desk pa rakh kar khud chair sa tek laga kar seene pe haath bandh liye white board ki taraf dekhne laga.kuch der bad ma na apne saath bethe dono ki taraf bari bari dekha to dono kabhi board ki taraf dekhte or kabhi book ki taraf dekh kar book pa nishaan lagate jaate.Ma maze sa kabhi larke ki taraf dekhta or kabhi larki ki taraf.sara lecture yunhi guzar gaya.bell baji lecture khatam hua next period English ka hua phir Urdu phir Physics or phir break.break tak ma sirf un dono ko hi dekhta raha or wo book or board ki taraf hi matwaja rahe. Break hui to dono na apne sar desk pe rakhe or zor zor sa sans lene lage.thori der baad larke na sar uthaya or meri taraf dekh kar bola Larka:hye Razi I'm Saim or ye saroo meri behen ha Hira. Me:aap dono na race lagai hui thi kya?? Meri baat sun kar Hira na bhi apna sar table sa uthaya or Herat sa meri taraf dekhte hue boli Hira:han race to lagai thi ke kon lectures ka tamaam important points kon note karta ha lekin tumhe kaise pata chala Me:jaise tum dono pagaloo ki tarha lage hue the kabhi board ki taraf or kabhi book ki taraf us sa saaf zahir ho raha tha Hira:to or kya karain??position leni ha to mehnat karni pare gi. Me:mehnat karo mukabila to naa karo Saim:mtlb?? Me:yar mehnat karo lekin ye nahi karo ke is student sa zayada lene hn.aage position aati ha to theek warna next year to ha naa. Itna keh kar ma khara hua or bola Me:recess ho gae ha tum log bahir cafeteria nahi jao ge Saim:nahi agle period ma bio ka test ha.wohi revise karain ge Me:yar tum dono thake nahi ho kya itna deemag khapa ka bhi Hira:thak to gae hn lekin kya karain agar test acha na hua to madam to daantein gi hi.tutor sa alag daant khane ko mile gi. Me:ghar sa yaad kar ke aaye ho naa??? Saim:han yaad to sara kiya ha lekin aik dafa to revise karna banta ha naa Me:karo phir beth KA revise mujhe to jaane do.bohot bhook lagi ha. Saim na apni taangein side pe ki or ma wahan sa nikla or canteen ki taraf chal diya.Corridor sa ground tak ke safar ma mujhe goori taangein or choti choti uchalti kudaati chaatiyaa hi dekhne ko milli. Cafeteria ma puhncha thori bohot pait pooja ki or phir ground ma aik bench pe jaa kar beth gaya.Wahan larkiyo ki uchalti chatiyoo sa khoob dil behlaya or phir jab bell baji to wapis class ma aakar beth gaya. Phir bio or Isl ka period hua or bhi off.Hum teeno bahir jaane ke liye uthe to ma na dono behen or bhai ko goor sa dekha.Saim takreebn 5 feet ka tha or dubla patla sa tha.jabke Hira takreebn 4.5 feet ki ho gi lekin bhare bhare jisam ki maalkin thi.school ki jitni bhi larkiyan ma na ab tak dekhi thi un ma se sab sa zayada ubhari hui chati isi ki thi.lekin uski sehat KA hisaab sa theek thi.chehra gool or gool sheshoo wali ainak ma bohot masoom lag raha tha. Ma na aik nazar ma dono ka jaiza liya or phir Saim sa bola Me:yar saim tum to ise SAROO keh rahe the lekin iske mukable ma tum saaree hue lagte ho Saim:nahi ma to ise is ki nakchiri tabiyat ki waja sa aisa kehta hn Hum baatein karte hue class sa nikle or corridor ma chalne large Me:nahi yaar itni bhi nak chiri nahi ha ye Hira:kya mtlb ha tumhara ke itni bhi nakchiri nahi hn ma?? Me:mera matlb ha ke baki larkiyo me mukabale ma tum bohot kam bolti ho isi waja sa tum thori..... Wo meri baat katate hue boli Hira:yani jo aurat kam bolti ha wo nak chiri ha kya??tum samajhte kya ho agar ma zayada bolti to tum na kehna tha ke bohot baatooni ho tum ab kam bolti hn to bhi masala.......... Abhi shayad wo lecture dena shuru kar deti ke ma bola Me:mujhe lene aa gae hn.ma chalta hn.kal mulakaat ho GI.Byeee Wo meri taraf dekhte reh gae or ma bhag ke gate sa bahir nikla to same hi Madam Asma gari ke darwze sa tek laga kar dhoop ma khari mera intezaar kar rahi thi. Ma na bhag kar sarak cross ki or unke kareeb jaa kar ruk gaya or bola Me:madam you are looking gorgeous in white dress but...... Madam:but kyaaa??? Me:but... Your your black brazzer is not looking good under these clothes. Madam:really Me:yes madam Madam:idhar hi utaar dn ya ghar jaa kar change karun?? Ma na sar jhukaa kar kaha Me: madam ghar ma hi behter rahe ga Madam muskara di or boli Madam:chalo phir betho car ma Wahan sa seedha ghar gae.ma kapre change kar ke orphanage ki taraf chala gya.wahan shaam tak khela phir waapis aaya to Madam kitchen ma khaanaa bna rahi thi. Ma wahi kitchen slab pe beth gya or bola Me:Madam kya bna rahi hn aap??? Madam:tumhe do dino ma hazaar dafa keh chuki hn ke mujhe madam mat kaha karo plz Me:to phir kya kaha karun??? Madam:Asma keh liya karo. Me:lo bhi agar aise kisi ka same aapko name lekar pukaara to aap pa hi ungli uthaye ga ke bache ko tameez hi nahi sikhaye.Baro ko name lekar bulata ha. Madam:itne bhi bache nahi ho ab. Me:mtlb??? Madam:dopeher ma jahan jahan tumhari nazrein jaa rahi thi naa wahan koi bacha nahi dekhta. Me:han bache to paida hote hi unho mu ma le kar chuste hnn....by the way app bagair braizzer ka zayada khubsurat lag rahi hn Madam:thero tumhe btati hn mabesharam kahi ke Wo haath ma chamcha liye meri taraf barhi lekin ma chalang laga kar neche utra or kitchen sa bahir bhag gaya aur drawing room sa awaz lagai Me:waise aap ko bra pehen ke kitchen ma jana chahye paseene ki waja sa sab kuch saaf saaf dikh raha ha Thori der baad madam ki awaz aai Madam:bohot hi besharam ho tum.kabhi haath lage to dil khol ke pitae karun GI Me:app sa mar khane ke liye hi to betaab hn. Madam ki awaz aai Madam:ab chup karo ge ya aao idhar Me:OK bas aaj ke liye itna kafi ha.dil bhar gaya baki subah ko dekh lein ge sab. Madam:lagta ha mujhe aana hi pare ga Me:nahi nahi aap khana bnae ma jaa raha hn nahane Madam:washroom ma koi gandi harkat ki to bhot maarn gi. Ma na mazaak ma kaha Me:ma saaf hone jaa raha hn.ganda to gari ma hi ho gaya tha. Ab ki dafa dhamki ki bajae khud madam kitchen sa bahir aai or boli Madam:Ruko btati hn tumhe. Ma bhag kar kamre ma ghuss gaya or phir 15 mint baad ma naha dhoo ka bahir aaya tab tak wo rootiyan pakka rahi thi.Ma lounge ma TV on kar ke dekhne lag gaya.TV ki awaz sun kar wo boli Madam:Naha liya ha kya??? Me:jee or washroom ma koi gandi harkat bhi nahi ki. Madam:achi baat ha.ab aao idhar or ye plates table pa rakho. Me:acha aata hn Khanna khate hue koi ahaam baat naa hui.khane ke baad wo boli Madam:acha ma bartan dho kar or chai bna kar lati hn.tum jaa kar parho. Me:parhna zaroori ha kya??? Madam:jee bilkul bohot zaroori ha. Ma na bedilli sa kaha Me:acha theek ha Ma na bag khola or kitaabein lekar beth gaya.English,Urdu,Isl or pak studies to zayada mushkil nahi thi lekin asal masla to science subjects ka tha.Pehle kabhi science ka name bhi nahi suna that or upar sa mera admission tab hua jab 2 2 chapters parhae jaa chuke the. Jab tak madam chae lekar aati ma Sciences ke ilawa baki sab kaaam yaad kar chuka tha......
  8. Part 3 Ma Aga jee ka kamre ma gaya to usi madam ko wahan betha dekh kar heran reh gaya.Ma unke saath wali chair pe jaa betha.Aga jee mujhe dekh kar bole Aga jee:Aao Razi aao betho Me:khairiyat to ha naa Aga jee??? Aga jee:han beta khairiyat hi ha. Kuch der Aga jee khamosh rahe phir usi madam ko taraf ishara kar ke bole Aga jee:Razi beta ye Asma madam hn.ye jo saath wali kothi ha naa wahi rehti ha ye. Me:jee ma jaanta hn.aate jaate aik do bar inhe ghar ma dakhil hote or nikalte dekha ha.lekin ye aap mujhe kiun bta rahe hn???? Aga jee:beta takreebn 6 maah pehle inke husband aik accident ma maare gae.ab ye apne ghar ma akeli rehti hn. Me:lekin ye sab aap mujhe kiun bta rahe hn????? Aga jee:ye koi bacha adopt karna chahti hn. Me:WO to aap ka kaam ha mujhe kiun bulaya ha??? Aga jee:beta ye tumhe hi adopt karna chahti hn?? Ma aik dam sa seat sa khara hote hua or herani sa bola Me:kyaaaaaa???? Aga jee:beta aaram sa beth kar aik dafa meri baat to sun lo Ma phir sa chair pe beth gaya.kuch der baad Aga jee bole Aga jee:dekho Razi aaj nahi to kal tumhe yahan sa jaanaa hi ha.15 saal ke to tum ho gae ho.agle saal waise bhi tumhe yahan sa jaana hi pare ga.tum jaante ho 16 saal sa bari umar ke larke ko ma orphanage ma nahi rakhta.isi liye ma keh raha hn ke tum aik saal baad pata nahi kahan kahan dhaake khao ge. Me:lekin WO Hania or Rafi?? Aga jee:are beta saath hi to ghar ha.tumhe kon roke gaa jab dil chahe tabhi aa jaya karna Me:lekin wooo maa.... Mujhe in madam sa akele ma koi baat karni ha Aga jee:koi baat nahi ma bhi zara kaam sa baahir jaa raha hn.aaram sa yahi beth kar jo baat bhi karni ha kar lo Me:theek ha Aga jee Phir Aga jee bahir chale gae.kamre ma kuch der khamoshi chaye rahi.kuch der baad ma bola Me:aap us raat ki waja sa mujhe adopt karna chahti hn naa.aap samajhti hn ke ma na aap par ahsaan kiya ha or ab aap uska badla chukaane ka liye mujhe adopt karna chahti hn Asma madam:nahi ma to akelepan sa uktaa gae hn.or ma nahi chahti ke jaise aik dafa mere saath ho chuka ha wohi dobara ho. Me:to mujhe hi kiun adopt karna chahti hn aap??itne bache hn orphanage ma kissi ko bhi mere ilawa adopt kar sakti thi aap Madam Asma:ma na sirf bacha adopt karne ki baat ki thi.Aga jee na tumhara naam liya tha. Me:yani Aga jee chahte hn ke aap mujhe adopt karain???? Madam Asma:han bilkul Me:to phir theek ha.jaise Aga jee chahain ge waise hi ho ga.lekin aik baat thora pareshaan kar rahi ha mujhe??? Madam Asma:kaisi baat?? Me:yehi ke hamare aik dusare ke saath relation konsa ho ga??? Madam Asma:mtlb??? Me:mtlb yehi ke ma aap ko kis name sa bulaya karun ga???Asma madam ya Asma aunty ya koi or aisa waisa name??? Madam Asma:mtlb??? Me:dekhein ab hamara age difference itna to ha nahi ke hamare darmayan maa bete ka rishta kaem ho.ap ki age koi 30 saal ke lag bhag ha or meri 15 saal.isi liye puch liya ma na. Madam Asma:are choro ye sab hum friends ki tarha rahein ge.aise jaise do friends aik kamra share kar lete hn hostel ma waise hi hamare darmayan ho ga Me:yani aap keh rahi hn ke aap meri girl friend hn gi or ma aap ka boy friend???? Madam na bedheyani ma jawab diya Madam Asma:han bill.... Madam na bolte bolte achanak apni zubaan daanto tale daba li or phir kuch der baad masnui gassele andaz ma boli Madam Asma:kya mtlb ha tumhara??? Ma Madam ki taraf jhuka or unki right cheek pa halki si kiss kar ke bhag gaya Peche sa Madam ki awaz aaye Madam Asma:theroo zara tum ma btati hu tumhe Phir agle hi din ma aankho ma aansoo liye kissi dulhan ki tarha orphanage sa rukhsat ho kar madam ke ghar aa gya.pehle to orphanage ma hi aik sir or aik madam hume English Urdu or Maths parha dete the.lekin madam na mujhe do dino ke andar hi aik ache Elite class school 9 class ma daakhil karwa diya. Kuch dino ma hi meri zindagi aik dairey ma ghoomne lag gae.subah school jata waapsi pe seedha orphanage wahan Hania or Rafi ke saath shaam tak khelta or phir ghar waapis aa kar khaana khata homework karta or soo jata.....
  9. Part 2 Hum dono kamre ma dakhil hue to dekha ke wo aadmi apne haath ma pakre mobile ma tezi sa kuch kar raha tha jabke wo auret uske kadmoo ma bethi roo rahi thi.Admi ki umar takreebn 40 saal thi jabke auret 35 saal ka lag bhag umer ki maalik thi.Auret ka kameez gireban sa phata hone ke bais Kali bra ma qaid uske boobs bahir ko ubhre hue the. Admi ka rukh darwaze se mukhalif simat mactha jabke auret ka rukh darwaze ki taraf hi tha.jaise hi him andar dakhil hue auret na humme dekh liya or wo kuch bolne hi lagi thi ke ma na usse chup rehne ka ishara kiya.hum aahista aahista aage bharte gae or phir hum na us aadmi ko peche sa jakar liya.us na taangein hila kar khud ko churane ki koshish ki lekin us auret na us ki taangoo ko japhi daal li or phir hum na usse neche lita diya orRafi us ki chaati pa beth gya dusari taraf wo auret bhi us aadmi ki taango ka upar beth gai.ma na jaldi sa us auret ka farash pa gira hua dupata uthaya or us aadmi ki taangein baandh dein. Ma na us auret ko rasi laane ka kaha or phir khud us bekaabo hotel hue saand ki taraf barha or phir kuch der baad wo aadmi farsh pa bebas leta hua tha.use baandh kar hum us auret ki taraf mutwaja hue to dekha ka us auret ka kameez pehle sa zayada phat chuka ha aur uska saaf shafaf gora pait chamak raha tha.hum dono us ke jisam dekhne ma magan the ke achanak wo bhagti hui kamre sa bahir chali gae.kuch der baad wo waapis aaye to dekha ke unho na apne kapre change kar liye the. Ma un se kehne laga Me:Madam aap police ko call kar ke bula lein. Madam:na.. na... Nahi police ko mat bulana warna ma kisi ko mu dekhane ka kabil nahi rahun gi. Me:chalain theek ha nahi bulate.aap batana pasand karain gi ke ye sab jo hua wo kya tha? Madam:wo wo ye wo.... Itna bolte hi wo rone lag gae.Ma bola Me:madam mera yakeen karain agar aap sara maamlaa mujhe samjha dein gi to ma abhi idhar hi aap ka masla hal kar dn ga. Madam na aik dafa khofzada nazrn sa us aadmi ki taraf dekha or phir boli Madam:na.. na.. Nahi nahi ye wooo video wo.... Ma na kamre ke farash pa idhar udhar nazar daurai to mujhe aik mobile nazar aaya.ma na usse uthaya or phir Madam sa pucha Me:kya yehi ha iska mobile??? Madam:han haaan haan yehi ha.isi ma is na wo video bnai hui ha. Ma na mobile check kiya to video mili jis ma wo auret naha rahi thi.ma na wo video us auret ko dekhai or bola Me:kya yehi ha wo video Madam haan ma sar hilane lagi or saath ma mu pa haath rakh ke rone lagi.Ma na video delete ki or phir mobile ko dewar ma mar kar tor diya or us ka memory card or sim dono tor kar phenk di or phir bola Me:madam ab ye aapko kabhi pareshaan nahi kar pae ga.ab bataen ye sab kaise hua???? Madam na apne aanso saaf kiye or phir boli Madam:mere husband 7 maah pehle aik accident ma maare gae the.ye aadmi unki factory ma manager tha.2 hafte pehle aik raat ye aadmi pata nahi kaise ghar ma ghus gya or meri ye video bna li.ma naha ke bahir nikli to is na mujhe video dekhai or bola ka jaisa ye kahe agar ma waisa hi karun to ye meri video delete kar de ga. Madam aik dafa phir rone lagi.ma na madam ka kandhe par haath rakh kar unhe tasali di or bola Me:phir kya hua??? Madam:phir ye chala gya or aik hafte baad aaya or mujhe kuch papers diye or bola ka in papers pa sign kar do warna tumhari video dunya ko dikha dn ga.wo factory ka papers the.ma na chup chap sign kar diye or phir aaj ye dubara aa gya or mujhe bola ke ke..... Madam dubara rone lag gae.age ki sari baat meri samajh ma aa chuki thi.ma kuch der khamosh raha phir bola Me:madam roye mat.ab video to delete ho gae ha.ye bataein is ka kya karna ha Madam:is sa factory waapis chein lo Me:aisa karte hn ise isi tarha baandh ke kissi kamre ma band kar dete hn.subah aap factory ka papers bnwa kar le aaye ga.is ke signature karwa ka isse chor dein ge. Phir agle din dopeher tak sab mammlaat nipat chuke the.us aadmi ko chorne sa pehle hum na uske kapre utar kar aik pic le li taake wo dubara hamme tang naa kar sake. Ye maamla to asaani sa nipat gya lekin is wakiye ka 4 din aik din mujhe Aga jee na apne kamre ma bulaya.ma gya to andar bethi shaksiyat ko dekh kar heran reh gya.........
  10. Part-1 AAAAAHHHH AAAHHH HHHAAAN OOOHHH YYEEESSSS YEEAAAH FUCK MEE HAARRRDEERRR OOHH YEEEE Kamre sa aane waali in aawazoo na mere kadam jama diye.Ma kuch der wahi khara un aawazoo ko sunta raha phir corridor sa hota hua usi kamre ki dusari side pe majood khirki sa andar jhanka to mera chehra gusse sa laal tamatar jaise ho gya.kiun ke andar Orphanage ka attendant mere bhaiyo jaise dost Rafi ko good ma bethaye aik saath sa uski taangein sehla raha tha jabke dusare haath ma mobile phone pakar rakha tha jis ma blue film chal rahi thi. Kuch der ma ye sab dekhta raha phir ma waha sa seedha Aga jee ka kamre ma puhncha.Aga jee ko lekar ma dubara usi khirki ka samne le aaya.Aga jee na jab andar ka manzir dekha to mujhe security guard ko bulane ke liye bheja.jab tak ma waapis aata tab tak Aga jee us attendent ko kamre sa nikal kar corridor ma me aaye the aur uske chehre ko thaparo sa laal kar chuke the.phir security guard na us aadmi ko dhake maarte hue bahir nikaal diya. OH SHIT ma apna introduction to karwana bhool hi gya. Ma na hosh sambhala to khud ko aik Orphanage ma paya.jahan Aga jee mere baap the or baki bache mere bhai behen.Aga jee na hu mera naam Razi rakha.Aahista aahista umar bharti gae to kuch logo sa mera talluk gehra hota gaya jin ma sa sab sa pehla mera dost Rafi phir hum dono ki behen Hania.Hum 3 log pure orphanage ka bacho ma sa aik dusare sa close the. Jab Rafi wala wakiya jo upar biyaan kiya ha wo hua us wakat meri age 14 saal thi jabke Rafi 13 saal ka tha or Hania 10 saal ki thi. ----------------------------- Rafi wale wakiye ka baad hum teeno na apne ird gird ka mahool pa goor karna shuru kiya to hummein us jaise kae or cases dikhae diye lekin wo hamare orphanage ka nahi the is liye hum na un par zayada goor naa kiya lekin phir chand maah baad aik aisa case samne aaya ke na chahte hue bhi mujhe involve hona para. Hua kuch yun ka aik raat ma Rafi or Hania raat der tak orphanage ka do aur bacho Asif or Aleena ke saath mil kar ludo khelte rahe.Aleena Rafi ki hum umar thi jabke Asif Hania ka hum umar tha. Orphanage ma aik kamre ma 5 bache sote the.hum paanchoo aik hi kamre ma hote the.to ma keh raha tha ke us raat wo chaaro ludoo khel rahe the jabke ma unke kareeb betha dekh raha tha.Kamre ki khirki sa thandi hawa ka jhonka aya to Hania kapkapate hue bola Hania:Razi bhai khirki band kar do naa.aaj bohot thand lag rahi ha. Ma khirki band karne ka liye utha.khirki ka aik pat band kar ke dusara band karne laga hi tha ke achanak meri nazar orphanage ke samne waale makaan ke kamre ki khirki pa pari to mujhe kamre ma koi ghairmamooli halchal mehsoos hui.mujhe do sae aapas ma larte hue nazar aaye.jin ma sa aik saye ke lambe baal is baat ka saboot tha ke wo aurat ha.ma na Rafi ko awaz di to Hania Asif or Aleena bhi khirki pa aa gae.ma na unki tawaja khirki ki taraf dilwai to Hania boli Haina:bhaiya koi Mian bivi hon he naa chorein ludoo khelte hn Me:nahi Hani agar Mian bivi hote to yun aapas ma ghutam ghutha hone ki kya zarorat thi.koi aur masla ha.chalo chal kar dekhte hn. Aleena:lekin agar koi masla ho gya to??? Me:iska bhi hal ha mere pass Rafi:kaisa hal??? Me:dekho Hania aur tum yahan kamre ki khirki ma khari raho ma Rafi or Asif neche jaate hn or Asif banglow or orphanage ki dewar ka pass khara ho jaata ha.Ma aur Rafi dewar sa bungalow ma dakhil hote hn or chup kar sari Surat e haal dekhte hn agar to koi unka personal masla hua to hum waapis aa jae ge warna agar koi aur baat hui to hum ullu ki awaz nikalein ge or tum dono Aga jee or guard ko bta dena sab Hania:lekin bha.... Me:lekin wekin kuch nahi bas jaise ma ne kaha ha bas waise hi karna ha tum dono na. Phir kuch der baad hum Asif ko dewar ka pas jhariyo ma bitha kar dewar sa chalang laga chuke the.hum aahista aahista chalte hue lounge ka darwaze pa puhnche to wo khula hua tha wahan sa lounge ma dakhil hue or phir aahista aahista apne matlooba kamre ki taraf barhe.TV lounge ma bikhri hui ashiya hamari rehnumae kar rahi thi. Hum kamre ka darwaza pa puhnche to aik roti hui zanana awaz hamare kaano ma park PLZ MUJHE CHOR DO TUMHEIN JO CHAHYE WO LE LO LEKIN MERI JAAN BAKHSH DO PLZ is ke jawab ma aik mardana awaz gunji SAAALI RAANDI KAHI KI YEHI BAAT AGAR TO MAIN KAH RAHA HN KE JAISE HAR DAFA PEHLE MERE AANE PA CHUP CHAP KAPRE UTAAR DETI THI USI TARHA AAJ BHI UTAAR DETI TO ITNA MASLA NA HOTA Phir kuch wakfe ke baad dubara usi aadmi ki awaz aaye CHAL UTAR KAPRE JALDI KAR PEHLE ITNA TIME BARBAAD KARDIA HA Iske jawab ma wohi khof sa kapkapati hui zanaana awaz dubara aae PEHLE MERI VIDEOS DELETE KARO PHIR UTAARO GI MA APNE KAPRE WARNA..... admi gusse sa bola AUR AGAR KAPRE NAA UTAARE TO TERI VIDEOS LEAK KAR DN GA.BALKE ABHI KARTA HN YE DEKH ma na Rafi ki taraf ishara kiya or phir hum dono naapni shirts utar kar apna chehra dhaka or kamre ma daakhil ho gae...... Sorry friends Urdu ma typing mushkil ha isi waja sa Roman ma hi post kar di ha.Hope you will forgive me for this.THANKS.
  11. پردیس صرف پچیس فیصد فری ہے باقی پیڈ ہے۔ جہاں تک فری ہے وہ کم از کم پانچ سال پرانا ہے۔ اس کے علاوہ ہوس بھی چار سال پرانا ہے۔ آہنی گرفت چھ سات سو صفحات پہ مشتمل ہے۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.