Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 18/09/17 in Posts

  1. 1 like
    لڑکیوں کے اسکول میں آنے والی نئی ٹیچر انتہائی خوبصورت اور تعلیمی طور پر بھی مضبوط تھی لیکن اس نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی ... تمام لڑکیاں اس کے ارد گرد جمع ہو گئیں اور مذاق کرنے لگی کہ میڈم آپ نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی ...؟ میڈم نے داستان کچھ یوں شروع کی- ایک عورت کی پانچ بیٹیاں تھیں، شوہر نے اس کو دھمکی دی کہ اگر اس بار بھی بیٹی ہوئی تو اس کی بیٹی کو باہر کسی سڑک یا چوک پر پھینک آؤں گا، خدا کی مرضی وہ ہی جانے کہ چھٹی بار بھی بیٹی ہی پیدا ہوئی اور شوہر نے بیٹی کو اٹھایا اور رات کے اندھیرے میں شہر کے بیچوں بیچ چوک پر رکھ آیا، ماں پوری رات اس ننھی سی جان کے لئے دعا کرتی رہی اور بیٹی کو خدا کے سپرد کر دیا. دوسرے دن صبح والد جب چوک سے گزرا تو دیکھا کہ کوئی بچی کو نہیں لے گیا ہے، باپ بیٹی کو واپس گھر لایا لیکن دوسری رات پھر بیٹی کو چوک پر رکھ آیا لیکن روز یہی ہوتا رہا، ہر بار والد باہر رکھ آتا اور جب کوئی لے کر نہیں جاتا تو مجبورا واپس اٹھا لاتا، یہاں تک کہ اس کا باپ تھکا ہوا اور خدا کی مرضی پر راضی ہو گیا. پھر خدا نے کچھ ایسا کیا کہ ایک سال بعد ماں پھر پیٹ سے ہو گئی اور اس بار ان بیٹا ہوا، لیکن چند دن بعد بیٹیوں میں سے ایک کی موت ہو گئی، یہاں تک کہ ماں پانچ بار پیٹ سے ہوئی اور پانچ بیٹے ہوئے لیکن ہر بار اس کی بیٹیوں میں سے ایک اس دنیاں سے چلی جاتی. صرف ایک ہی بیٹی زندہ بچی اور وہ وہی بیٹی تھی جس باپ جان چھڑانا چاہ رہا تھا، ماں بھی اس دنیاں سے چلی گئی ادھر پانچ بیٹے اور ایک بیٹی سب بڑے ہو گئے. ٹیچر نے کہا پتہ ہے وہ بیٹی جو زندہ رہی کون ہے؟ "وہ میں ہوں" اور میں نے ابھی تک شادی اس لیے نہیں کی، کہ میرے والد اتنے بوڑھے ہو گئے ہیں کہ اپنے ہاتھ سے کھانا بھی نہیں کھا سکتے اور کوئی دوسرا نہیں جو ان کی خدمت کریں. بس میں ہی ان کی خدمت کیا کرتی ہوں اور وہ پانچ بیٹے کبھی کبھی آکر باپ کا حال چال پوچھ جاتے ہیں. والد ہمیشہ شرمندگی کے ساتھ رو-رو کر مجھ سے کہا کرتے ہیں، میری پیاری بیٹی جو کچھ میں نے بچپن میں تیرے ساتھ کیا اس کے لئے مجھے معاف کرنا. میں نے کہیں بیٹی کی باپ سے محبت کے بارے میں ایک پیاری سی قصہ پڑھا تھا کہ ایک باپ بیٹے کے ساتھ فٹ بال کھیل رہا تھا اور بیٹے کا حوصلہ بڑھانے کے لئے جان بوجھ کر ہار رہا تھا. دور بیٹھی بیٹی باپ کی شکست برداشت نہ کر سکی اور باپ کے ساتھ لپٹ کے روتے ہوئے بولی بابا آپ میرے ساتھ کھیلیں، تاکہ میں آپ کی جیت کے لئے ہار سکوں. سچ ہی کہا جاتا ہے کہ بیٹی باپ کے لئے رحمت ہوتی ہے ...
  2. درست فرمایا جناب۔ واقعی دیکھا تو یہی گیا ہے کہ پردیس کو عموماً وہی زیادہ رپلائی سے نوازتے ہیں جو کہ پیڈ ممبر ہیں۔ خیر، جو فورم انتظامیہ بہتر سمجھے ،وہ کر گزرے۔
  3. مجھے تو امید تھی کہ ان دو سوالوں کے جواب میں رپلائی کا تانتا بندھ جائے گا مگر یہاں تو ایسی کوئی بات نہیں۔ سوالات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ لوگ جمیل کی فطرت اور سوچ سے کس حد تک واقف ہوئے ہیں۔ خیر،ان کا جواب خود جمیل جلد ہی دے گا۔
  4. ایک اپڈیٹ آج دے دی ہے جناب۔ باقی کل دوں گا۔ کوشش ہے آج مزید بھی لکھ لوں۔ ایک سوال آج پوچھنا مقصود ہے تمام قارئین سے۔ سوال ہے کہ جمیل نے صابو گینگ کو کیوں ختم کیا؟ اب جمیل کا اگلا ٹارگٹ کیا ہے؟
  5. نصف درجن بندے پھڑک گئے فائزہ کو اسی بچی کی ویڈیو کی فکر ہے۔ او بھئی صبر کر لو اگر ایک کریکٹر کہانی میں ایک زیادہ بار ذکر میں آیا ہے تو کوئی نہ کوئی وجہ ہو گی ہی۔ یہ البتہ ضروری نہیں کہ جمیل اس کی بھی لے۔
  6. لیں جی طاری صاحب لڑائی سے بھرپور اپڈیٹ حاضر خدمت ہے۔
  7. شاکر صاحب! لیں جی آج تو لمبی اپڈیٹ کر دی آپ کے لیے۔
  8. سارا کی اچانک لاہور آمد۔جمیل کا گرم جوشی سے ویکلم۔
  9. جی کوشش تو یہی ہے کہ اسے مستقل سلسلہ بنایا جائے مگر ہر سلسلے کو ایک دن مکمل ضرور ہونا چاہیے۔ میں نے کئی مشتقل سلسلے پڑھے جن میں آتش فشاں،سرکش ،اناڑی وغیرہ شامل ہیں۔ وہ نہایت اچھے لکھے گئے مگر ان میں بری بات یہ تھی کہ وہ یہ سوچ کر لکھے جاتے تھے کہ وہ کبھی ختم ہی نہیں ہوں گے۔دوم ان کی رفتار بہت سلو ہوا کرتی تھی،یہاں ایسا نہیں ہے ۔ان کی تمام خامیوں کو یہاں ختم کر کے لکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ویسے بھی اس کہانی میں میری کوشش یہ ہے کہ مکمل حقیقت نگاری کی جائے۔ جمیل ایک نہ ایک دن ضرور کسی ایسے مقام پر پہنچے گا کہ اسے پردیس سے رخصت لینا پڑے گی۔
  10. بالاخر اسلم قریشی کا باب بند ہو گیا۔جمیل نے اسے انجام تک پہنچا دیا۔
  11. دعا یہی کیا کیجیے کہ چاہے تھوڑا ہی سہی مجھے ہر روز وقت ملتا رہے۔ کہانی سو فیصد تازہ تازہ نازل ہوتی ہے اور میں لکھتا ہوں۔ یعنی ایک پلان سوچا ہوتا ہے کہ جمیل نے یہ یہ کرنا ہے اب اسے الفاظ میں ڈھال ڈھال کر لکھتا جاتا ہوں،جونہی کچھ صفحات بنے پوسٹ کر دیئے۔ ویسے سوچ رہا ہوں کہ پردیس کے متعلق کوئز کانٹسٹ شروع کرا دیا جائے اور سوال پوچھے جائیں تاکہ پتا چلے کہ لوگ اگلے کے چکر میں پچھلا بھول تو نہیں گئے۔
  12. ڈئیر شاکر صاحب!کوشش تو ہمیشہ یہی ہوتی ہے کہ لمبی اپڈیٹ کروں مگر سب مہلت اور فرصت پر منحصر ہوتا ہے۔ کہانی لکھنا بھی کافی وقت مانگتا ہے اور ہر روز اتنا وقت نکالنا بھی کبھی کبھار ممکن نہیں ہوتا۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.