March 2, 201214 yr zabrdst yaar... ap ki tehreer parhnay waly ko apny sehar mey lay leti hai... keep update dear... thanks
March 4, 201214 yr Author السلام علیکم! کیسی ہو؟ آج تمہیں گئے ہوئے پورا سال ہو گیا ہے۔۔ وقت کتنی جلدی گُزر جاتا ہے ۔ مجھے لگتا تھا جیسے میں تم بن کبھی جی ہی نہ پاؤں گا۔۔ اور آج تمہیں گئے پورا ایک سال ہو گیا۔ تمہارے جانے کے بعد یوں لگتا تھا جیسے وقت تھم ساگیا ہو۔۔۔ میں گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھے وقت کے گُزرنے کا انتظار کیا کرتا تھا لیکن یہ گُزرتا ہی نہ تھا۔۔۔ اس ایک سال نے مجھے بہت کمزور کر دیا ۔ تمہارے بعد۔۔ آج۔۔۔ ایک سال بعد۔۔۔ میں کسی سے بات کر رہا ہوں روشنی۔۔۔ تمہارے بعد کوئی مجھ سے بات نہیں کرتا، کوئی میرے اندر جھانکنے کی۔۔۔ مجھے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں روشنی کہ تمہی سے میری زندگی میں روشنی تھی، خوشیاں تھیں۔۔ محبتیں تھیں۔۔۔ جب تم یہاں ہوتی تھی تو مجھے کسی کی کڑوی بات بھی بُری نہیں لگتی۔۔ کیونکہ جب مجھے سُنائی جانے والی باتوں پر میں تمہارا اُترا ہوا چہرا دیکھتا تھا تو وہ سُنا ہوا سب کہیں پس منظر میں چلا جاتا تھا۔۔ جو حواس پر رہتا تھا وہ تھا میرے لیے تمہارا یوں پریشان ہونا۔۔۔ میں بہت خُود غرض ہوں نا ؟ لیکن سچ یہی ہے ۔۔ مجھے تمہارا میرے لیے فکر مند ہونا، میرے لیے پریشان ہونا اور سب سے لڑنا، بہت اچھا لگتا تھا۔ یہ محبت ہے یا نہیں یہ میں نہیں جانتا، بس اتنا پتہ ہے۔۔ میرے لیے میری ذات سے بڑھ کر کچھ اہم تھا تو وہ تم تھیں۔۔ اور ہمیشہ رہو گی۔۔ لیکن میں تمہیں اپنا نہیں سکتا تھا۔۔۔ میں مجبور ہوں اور یہ تم بھی جانتی ہو۔۔ تمہیں ڈوبنے کا شوق تھا اور میرے نصیب میں دشت کا سفر تھا، ہم کیسے مل سکتے تھے۔۔۔؟ لیکن پھر بھی میں تم سے معافی کا طلبگار ہوں۔ کبھی ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔ تمہارا قصور وار۔۔۔علی ********** اور یوں ایک سال بعد علی نے روشنی کو دوسرا خط لکھا۔۔ اس کے بعد وہ عموماً ہی اُس سے پہلے کی طرح حالِ دل کہنے لگا تھا۔۔۔ جب ساری دُنیا نے اُسے خود سے الگ کر دیا تو اُسے روشنیاں بخشنے والی اب بھی وہی تھی جو سالوں پہلے اُس کی ذات کو روشن کر کے چلی گئی۔۔۔ "صاحب یہ آپ کے نام کوئی خط آیا ہے۔۔۔" خان بابا ہاتھ میں ایک نیلا لفافہ لیے علی کو کسی پیغام کی نوید سُنا رہے تھے۔ اُنکی پریشانی دیدنی تھی، کیونکہ وہ شروع سے ہی اس گھر میں ملازم تھے۔۔۔ اور ایسا پہلی بار ہوا کہ گھر میں خط آیا ہو۔۔۔ ورنہ اب تو سب ٹیلی فون اور ای میلز پر ہی آدھی ملاقاتیں کر لیا کرتے تھے۔۔۔ اور یوں کسی کا خط آنا۔ ۔ وہ بھی علی کےنام۔۔۔؟ علی نے فوراً آگے بڑھ کر خط بابا کے ہاتھ سے لیا۔۔ اور اُنکے جانے کے بعد اُسے کھول کر پڑھنے لگا۔۔ اُس میں درج حرف حرف زندگی تھا۔۔ وہی انداز جو اُسکا ہوا کرتا تھا۔۔ وہی اُمید دلانے والی باتیں۔۔۔ سبھی کچھ ویسا ہی تو تھا۔۔۔ اور یوں ایک ایسے رشتے کا آغاز ہوا جس کا تعلق رُوحانی اور ساتھ کاغذی تھا۔۔ ********** وہ یونہی میز پر سر رکھے کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔۔۔ شدید ٹھنڈ تھی اور سرد ہوائیں چیخ چیخ کر ہونے والی بارش کا پتہ بتا رہی تھیں تاکہ بچاؤ کی تدبیر کی جا سکے۔۔۔ وہ بے حس و حرکت یونہی کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا۔۔۔ اُسکے تمام خطوط ان ہواؤں کا مقابلہ نہ کر سکے۔۔ اور اُڑ کر اُس کے چاروں طرف پھیل گئے۔۔۔ ماضی اور حال کے منظر آپس میں گُڈ مُڈ ہو رہے تھے۔۔ وہ ہوا، اُڑتے خط، بہتی آنکھیں۔۔۔ کسی چیز کی طرف توجہ نہ دے رہا تھا۔۔۔ بہت سے شکوے تھے جو اُس کے دل میں مچل رہے تھے۔۔۔ بہت سے الفاظ تھے جو ادا نہ ہو پا رہے تھے۔۔۔ "میں نے کیا کِیا تھا۔۔۔ میں تو اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی زندگی کو خاموشی سے جیتا رہا۔۔۔ رشتوں کی جُدائی کو۔۔۔ ہر تکلیف کا چُپ کر کے سہتا رہا۔۔۔کسی سے کچھ بھی تو نہ کہا۔۔۔ اپنی ذات سے کسی کو کوئی تکلیف نہ دی۔۔۔ پھر کیوں۔۔ کیوں اس دُنیا نے مجھے ہمیشہ خود سے الگ رکھا۔۔۔ کینسر ایسا مرض تو نہیں تھا جو مجھ سے بات کرنے سے کسی کو لگ جاتا۔۔۔ خُدا نے تو مجھ سے میری گویائی لی۔۔۔ لیکن الفاظ اور جذبات تو اس دل میں پنپتے تھے، اس دُنیا نے تو وہ بھی چھین لیے۔۔۔ میرے یہ سارے حرف جو میرے ارد گرد پھیلے ہوئے ہیں یہ دُنیا والوں پر میرا قرض ہیں۔۔۔ خُدا نے انسان کو صرف آواز ہی نہیں سماعتیں بھی دی ہیں کہ کسی کا درد سُن سکے۔۔۔ لیکن کوئی مجھے سُنتا بھی کیسے۔۔؟ میری آواز تو سالوں سے کھوئی ہوئی ہے۔۔۔ ملتی ہی نہیں۔۔۔ اور میرے حیات سے عاری حرف کوئی کیونکر پڑھتا۔۔۔ کہ اُن میں۔۔۔ زندگی ہی نہیں۔۔۔ مجھے کسی سے۔۔۔ کوئی شکوہ نہیں۔۔۔ اُس کے ارد گرد پھیلے وہ خط ہوا میں اُڑتے پھر رہے تھے۔۔۔ ہر طرف ایک شور سا برپا تھا، جیسے اُس کی آواز بن کر کسی کو اس کا درد سُننے کے لیے بُلاتے ہوں۔۔۔۔ کچھ خط حیرت سے ایک دوسرے کا مُنہ تکتے کہ اُن پر رقم تحاریر میں لکھائی ایک ہی۔۔۔ لیکن نام الگ الگ تھے۔۔۔ کیونکہ بھیجنے والے اور موصول شُدہ خطوں کا لکھاری ایک ہی تھا۔۔۔۔ باہر ہوائیں اور تیز ہو گئیں۔۔۔ بارش بھی پورے زور و شور سے برسنے لگی۔۔۔ کمرے کے اندر کاغذوں کا اور باہر تمام کائنات میں۔۔۔ ایک شور برپا تھا۔۔۔ ایک ہی پُکار تھی۔۔۔ آسمان اشکبار تھا۔۔۔ کہیں چاروں طرف ایک طوفان تھا۔۔۔ اور کہیں ایک زندگی ساکت ہو چُکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد **********
March 4, 201214 yr Many many Thanks Guru Jeee.... Ap ne Buhat Achi Story Likhai hai Par end Kafi Sad Howa... Buhat Buhat Shkuria Janb
Create an account or sign in to comment