January 23, 201214 yr محبتوں کو مشروط ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ کہ شرائط، عہدنامے، دھمکیاں، ڈراوے اور چیلنج جزبوں کی لطافت، گہرائی اور معنویت کو مجروح کر ڈالتے ہیں۔ ان میں کھردراپن اور دراڑیں پیدا کر دیتے ہیں۔ پھر اعتماد کی جگہ خوف بسیرا کرنے لگتا ہے۔ خوشی کی جگہ واہمے من آنگن میں لہرانے لگتے ہیں۔ طمانیت کی چھاؤں کے بجائے بےسکونی کی دھوپ رقص کرنے لگتی ہے۔ اعتبار ٹوٹ جاتا یے اور دھڑکے جی کا جنجال بنتے چلے جاتے ہیں۔ محبت کو آزاد ہونا چاہیے۔ ہر شرط سے، ہر خدشے کی زنجیر سے۔ جتنی محبت زیادہ ہوتی یے اتنا ہی محبت کرنے والے شخص کا ظرف اور دل کشادہ ہوتا ہے۔ وہ معاف کرنے اور معافی طلب کرنے میں کبھی تاخیر نہیں کرتا۔ جھوٹی انا کے خول میں لپٹ کر دوسری جانب سے "پہل" کا انتطار نہیں کرتا۔ اس کے بجائے خود صلح اور امن کا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ البتہ محبتوں کو محدود کرنے والا شخص ڈراوے، دھمکی اور حاکمیت پسندی سے کام لیتا ہے۔ چھوٹا ظرف، چھوٹا دل، اور چھوٹی محبت۔ وہ جزباتی بلیک میلنگ اور بے حسی دکھا کر مقابل کو اپنے دام میں کسنے کی سعی کرتا ہے۔ Edited January 23, 201214 yr by Waniya setting
January 24, 201214 yr جب محبت میں انا یا خود پرستی آجاتی ہے تو وہ محبت نہیں رہتی ضرورت یا نفسانی خواہش بن جاتی ہے۔
Create an account or sign in to comment