August 21, 201114 yr اپنے سینے سے لگائے ہوئے امید کی لاش مدتوں زیست کو ناشاد کیا ہے میں نے تو نے تو ایک ہی صدمے سے کیا تھا دوچار دل کو ہر طرح سےبرباد کیا ہے میں نے جب بھی راہوں میں*نظر آئے حریری ملبوس سرد آہوں میں تجھے یاد کیا ہے میں نے اور اب جب کہ مری روح کی پہنائی میں ایک سنسان سی مغموم گھٹا چھائی ہے تو دمکتے ہوئے عارض کی شعائیں لے کر گل شدہ شمعیں جلانے کو چلی آئی ہے میری محبوب، یہ ہنگامہء تجدید وفا میری افسردہ جوانی کے لیے راس نہیں میں نے جو پھول چنے تھے ترے قدموں کے لیے ان کا دھندلا سا تصور بھی میرے پاس نہیں ایک یخ بستہ اُداسی ہے دل وجاں پہ محیط اب مری روح میں باقی ہے نہ امید نہ جوش رہ گیا دب کے گراں بار سلاسل کے تلے میری درماندہ جوانی کی امنگوں کا خروش ریگ زاروں میں بگولوں کے سوا کچھ بھی نہیں سایہ ابرِ گریزاں سے مجھے کیا لینا بجھ چکے ہیں مرے سینے میں محبت کے کنول اب ترے حسنِ پشیماں سے مجھے کیا لینا تیرے عارض پہ یہ ڈھلکے ہوئے سیمیں آنسو میری افسردگیء غم کا مداوا تو نہیں تیری محبوب نگاہوں کا پیامِ تجدید اک تلافی ہی سہی۔۔۔۔میر ی تمنا تو نہیں
August 21, 201114 yr تیرے ملنے کا اک لمحہ بس اک لمحہ سہی – لیکن وفا کا بے کراں موسم ازل سے مہرباں موسم یہ موسم آنکھہ میں اترے تو رنگوں سے دہکتی روشنی کا عکس کہلاۓ یہ موسم دل میں ٹھہرے تو سنہری سوچتی صدیوں کا گہرا نقش بن جائے ترے ملنے کا اک لمحہ مقدر کی لکیروں میں دھنک بھرنے کا موسم ہے
August 21, 201114 yr وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں؟ وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں جنھیں اب تم چاہا کرتے ہو! تم کہتے تھے مری آنکھیں، اِتنی اچھی، اِتنی سچی ہیں اس حُسن اور سچائی کے سوا، دُنیا میں کوئی چیز نہیں کیا اُن آنکھوں کو دیکھ کے بھی تم فیض کا مصرعہ پڑھتے ہو؟ تم کہتے تھے مری آنکھوں کی نیلاہٹ اتنی گہری ہے ’’مری روح اگر اِک بار اُتر جائے تو اس کی پور پور نیلم ہوجائے‘‘ مُجھے اتنا بتاؤ آج تمھاری رُوح کا رنگ پیراہن کیا ہے کیا وہ آنکھیں بھی سمندر ہیں؟ یہ کالی بھوری آنکھیں جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے ’’یوں لگتا ہے شام نے رات کے ہونٹ پہ اپنے ہونٹ رکھے ہیں‘‘ کیا اُن آنکھوں کے رنگ میں بھی،یوں دونوں وقت مِلاکرتے ہیں؟ کیا سُورج ڈُوبنے کا لمحہ،اُن آنکھوں میں بھی ٹھہرگیا یا وہاں فقط مہتاب ترشتے رہتے ہیں؟ مری پلکیں جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے اِن کی چھاؤں تمھارے جسم پہ اپنی شبنم پھیلادے تو گُزر تے خواب کے موسم لوٹ آئیں کیا وہ پلکیں بھی ایسی ہیں جنھیں دیکھ کے نیند آجاتی ہو؟ تم کہتے تھے مری آنکھیں یُونہی اچھی ہیں ’’ہاں کاجل کی دُھندلائی ہُوئی تحریر بھی ہو__تو بات بہت دلکش ہوگی!‘‘ وہ آنکھیں بھی سنگھار تو کرتی ہوں گی کیا اُن کا کاجل خُود ہی مِٹ جاتا ہے؟ کبھی یہ بھی ہُوا کِسی لمحے تم سے رُوٹھ کے وہ آنکھیں رودیں اور تم نے اپنے ہاتھ سے اُن کے آنسو خُشک کیے پھر جُھک کر اُن کوچُوم لیا کیا اُن کو بھی
August 21, 201114 yr کہو اپنے وعدے وفا تم کرو گے جو کھائی تھیں قسمیں بھلا تو نہ دو گے مجھے بھی اُسی سمت جانا ہے ہمدم میں تیار ہو لوں، ذرا سا رکو گے میری بات چھوڑو، کچھ اپنی سناؤ مرے غم کی روداد کب تک سنو گے مجھے تم سے مل کر خوشی جو ہوئی ہے مری اس خوشی کو مٹا تو نہ دو گے بھلا وقت تھا تو مرے پاس تھے تم برا وقت آیا تو کیا ساتھ دو گے مجھے وقت نے کچھ بدل سا دیا ہے کہیں گر ملو گے تو پہچان لو گے؟
August 21, 201114 yr کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تیرا خیال بھی دل میں* خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی چاند بھی عین چیت کا، اس پہ تیرا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا اک دفعہ تو رک ہی گئی گردشِ ماہ و سال بھی میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں* ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں* گرا بھول گیا سوال بھی اس کی سخن طرازیاں میرے لئے ڈھال تھیں اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی گاہ قریبِ شاہ رگ، گاہ بعیدِ وہم و خواب اس کی رفاقتوں میں رات، ہجر بھی وصال بھی اس کے ہی بازوں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی پروین شاکر
August 21, 201114 yr اب کس کا جشن مناتے ہو اس دیس کا جو تقسیم ہوا اب کس کا گیت سناتے ہو اس تن من کا جو دونیم ہوا اس خواب کا جو ریزہ ریزہ ان آنکھوں کی تقدیر ہوا اس نام کا جو ٹکرے ٹکرے گلیوں میں بے توقیر ہوا اس پرچم کا جس کی حرمت بازاروں میں نیلام ہویی اس مٹی کا جس کی حرمت منسوب عدو کے نام ہویی اس جنگ کا جو تم ہارچکے اس رسم کا جو جاری بھی نہیں اس زخم کا جو سینے پہ نہ تھا اس جان کا جو واری بھی نہیں اس خون کا جو بدقسمت تھا راہوں میں بہایا تن میں رہا اس پھول کا جو بے قیمت تھا آنگھن میں کھلایا بن میں رہا اس مشرق کا جس کا تم نے نیزے کی انی مرہم سمجھا اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا کم سمجھا ان معصوموں کا جس کی لہو سے تم نے فروزاں راتیں کی یا ان مظلوموں کا جن سے خنجر کی زباں میں باتیں کی اس مریم کا جس کی عفت لٹتی ہے بھرے بازاروں میں اس عیسا کا جو قاتل ہے اور شامل ہے غم خواروں میں ان نوخہ گروں کا جن نے ہمیں خود قتل کیا خود روتے ہیں ایسے بھی کہی دم ساز ہویے ایسے جلاد بھی ہوتے ہیں ان بھوکے ننگھے ڈانچوں کا جو رقص سر بازار کریں یا ان ظالم قزاقوں کا جو بھیس بدل کر وار کرے یا ان جھوٹے اقراروں کا جو آج تلک ایفا نہ ہویے یا ان بے بس لاچاورں کا جو اور بھی دکھھ کو نشانہ ہویے اس شاہی کا جو دست بدست آیی ہے تمھارے حصے میں کیوں ننگ وطن کی بات کرو کیا رکھا ہے اس قصے میں آنکھوں میں چپھایے اشکوں کو ہونٹوں پہ وفا کے بول لیے اس جشن میں شامل ہوں میں بھی نوخوں سے بھرا کشکول لیے۔
August 21, 201114 yr انتظار شاید محبت کا نصیب ہے لیکن جب محبت انتظار کرتی ہے لمحے تھم جاتے ہیں زمانے رُک جاتے ہیں محبت ضدی ہے آخری سانس ، آخری دھڑکن آخری پل تک انتظار کرسکتی ہے اور کبھی کبھی
August 21, 201114 yr وہی حساب ِ تمنا ہے،اب بھی آجاووہی ہے سر وہی سودا، اب بھی آجاو جسے گئے ہوئے خود سے اب ایک زمانہ ہواوہ اب بھی تم میں بھٹکتا ہے،اب بھی آجاو وہ دل سے ہار گیا ہے پر اپنی دانش میںوہ شخص اب بھی یگانہ ہے، اب بھی آجاو وہی کشاکش ِ احساس ہے بہ ہر لمحہوہی ہے دل، وہی دنیا ہے، اب بھی آجاو کسی سے کوئی شکوہ نہیں مگر تم سےابھی تلک مجھے شکوہ ہے، اب بھی آجاو یہ میرے دل کی گزارش کہ مجھے مت چھوڑویہ میری جاں کا تقاضا ہے، اب بھی آجاو
August 21, 201114 yr ہے بیمار تو ایک بچنے کے قابل گر اپنی خط کو خطا جانتا ہے مگر ایسے نادان کا کیا ٹھکانہ کہ جو درد ہی کو دوا جانتا ہے برا مانتا ہے جو سمجھائے کوئی برائی کو اپنی بھلا جانتا ہے وہ انجام کو روئے گا سر پکڑ کر نہیں اس میں دھوکہ خدا جانتا ہے **<<~*~*~*~>>**
August 21, 201114 yr محبت ریت جیسی ہے، کسی بھی بند مٹھی میں مگر یہ بھی حقیقت ہے اچانک بے خیالی میں بنا سوچے، بنا سمجھے یونہی بس بےارادہ ہی، یہ مٹھی کھل بھی جاتی ہے ~*~*~*~*~*~*~*~*~
Create an account or sign in to comment