Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

اپنے سینے سے لگائے ہوئے امید کی لاش

مدتوں زیست کو ناشاد کیا ہے میں نے

تو نے تو ایک ہی صدمے سے کیا تھا دوچار

دل کو ہر طرح سےبرباد کیا ہے میں نے

جب بھی راہوں میں*نظر آئے حریری ملبوس

سرد آہوں میں تجھے یاد کیا ہے میں نے

اور اب جب کہ مری روح کی پہنائی میں

ایک سنسان سی مغموم گھٹا چھائی ہے

تو دمکتے ہوئے عارض کی شعائیں لے کر

گل شدہ شمعیں جلانے کو چلی آئی ہے

میری محبوب، یہ ہنگامہء تجدید وفا

میری افسردہ جوانی کے لیے راس نہیں

میں نے جو پھول چنے تھے ترے قدموں کے لیے

ان کا دھندلا سا تصور بھی میرے پاس نہیں

ایک یخ بستہ اُداسی ہے دل وجاں پہ محیط

اب مری روح میں باقی ہے نہ امید نہ جوش

رہ گیا دب کے گراں بار سلاسل کے تلے

میری درماندہ جوانی کی امنگوں کا خروش

ریگ زاروں میں بگولوں کے سوا کچھ بھی نہیں

سایہ ابرِ گریزاں سے مجھے کیا لینا

بجھ چکے ہیں مرے سینے میں محبت کے کنول

اب ترے حسنِ پشیماں سے مجھے کیا لینا

تیرے عارض پہ یہ ڈھلکے ہوئے سیمیں آنسو

میری افسردگیء غم کا مداوا تو نہیں

تیری محبوب نگاہوں کا پیامِ تجدید

اک تلافی ہی سہی۔۔۔۔میر ی تمنا تو نہیں

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 300.5k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

2dhzk42.jpg

تیرے ملنے کا اک لمحہ

بس اک لمحہ سہی – لیکن

وفا کا بے کراں موسم

ازل سے مہرباں موسم

یہ موسم آنکھہ میں اترے

تو رنگوں سے دہکتی روشنی کا عکس کہلاۓ

یہ موسم دل میں ٹھہرے تو

سنہری سوچتی صدیوں کا گہرا نقش بن جائے

ترے ملنے کا اک لمحہ

مقدر کی لکیروں میں دھنک بھرنے کا موسم ہے

2dhzk42.jpg

وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں؟

وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں

جنھیں اب تم چاہا کرتے ہو!

تم کہتے تھے

مری آنکھیں، اِتنی اچھی، اِتنی سچی ہیں

اس حُسن اور سچائی کے سوا، دُنیا میں کوئی چیز نہیں

کیا اُن آنکھوں کو دیکھ کے بھی

تم فیض کا مصرعہ پڑھتے ہو؟

تم کہتے تھے

مری آنکھوں کی نیلاہٹ اتنی گہری ہے

’’مری روح اگر اِک بار اُتر جائے تو اس کی پور پور نیلم ہوجائے‘‘

مُجھے اتنا بتاؤ

آج تمھاری رُوح کا رنگ پیراہن کیا ہے

کیا وہ آنکھیں بھی سمندر ہیں؟

یہ کالی بھوری آنکھیں

جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے

’’یوں لگتا ہے شام نے رات کے ہونٹ پہ اپنے ہونٹ رکھے ہیں‘‘

کیا اُن آنکھوں کے رنگ میں بھی،یوں دونوں وقت مِلاکرتے ہیں؟

کیا سُورج ڈُوبنے کا لمحہ،اُن آنکھوں میں بھی ٹھہرگیا

یا وہاں فقط مہتاب ترشتے رہتے ہیں؟

مری پلکیں

جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے

اِن کی چھاؤں تمھارے جسم پہ اپنی شبنم پھیلادے

تو گُزر تے خواب کے موسم لوٹ آئیں

کیا وہ پلکیں بھی ایسی ہیں

جنھیں دیکھ کے نیند آجاتی ہو؟

تم کہتے تھے

مری آنکھیں یُونہی اچھی ہیں

’’ہاں کاجل کی دُھندلائی ہُوئی تحریر بھی ہو__تو

بات بہت دلکش ہوگی!‘‘

وہ آنکھیں بھی سنگھار تو کرتی ہوں گی

کیا اُن کا کاجل خُود ہی مِٹ جاتا ہے؟

کبھی یہ بھی ہُوا

کِسی لمحے تم سے رُوٹھ کے وہ آنکھیں رودیں

اور تم نے اپنے ہاتھ سے اُن کے آنسو خُشک کیے

پھر جُھک کر اُن کوچُوم لیا

کیا اُن کو بھی

کہو اپنے وعدے وفا تم کرو گے

جو کھائی تھیں قسمیں بھلا تو نہ دو گے

مجھے بھی اُسی سمت جانا ہے ہمدم

میں تیار ہو لوں، ذرا سا رکو گے

میری بات چھوڑو، کچھ اپنی سناؤ

مرے غم کی روداد کب تک سنو گے

مجھے تم سے مل کر خوشی جو ہوئی ہے

مری اس خوشی کو مٹا تو نہ دو گے

بھلا وقت تھا تو مرے پاس تھے تم

برا وقت آیا تو کیا ساتھ دو گے

مجھے وقت نے کچھ بدل سا دیا ہے

کہیں گر ملو گے تو پہچان لو گے؟

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تیرا خیال بھی

دل میں* خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی

چاند بھی عین چیت کا، اس پہ تیرا جمال بھی

سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا

اک دفعہ تو رک ہی گئی گردشِ ماہ و سال بھی

میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں* ملا تو پھر

ہاتھ دعا سے یوں* گرا بھول گیا سوال بھی

اس کی سخن طرازیاں میرے لئے ڈھال تھیں

اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی

گاہ قریبِ شاہ رگ، گاہ بعیدِ وہم و خواب

اس کی رفاقتوں میں رات، ہجر بھی وصال بھی

اس کے ہی بازوں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے

جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی

پروین شاکر

📢 Post Your Ad Here

اب کس کا جشن مناتے ہو

اس دیس کا جو تقسیم ہوا

اب کس کا گیت سناتے ہو

اس تن من کا جو دونیم ہوا

اس خواب کا جو ریزہ ریزہ

ان آنکھوں کی تقدیر ہوا

اس نام کا جو ٹکرے ٹکرے

گلیوں میں بے توقیر ہوا

اس پرچم کا جس کی حرمت

بازاروں میں نیلام ہویی

اس مٹی کا جس کی حرمت

منسوب عدو کے نام ہویی

اس جنگ کا جو تم ہارچکے

اس رسم کا جو جاری بھی نہیں

اس زخم کا جو سینے پہ نہ تھا

اس جان کا جو واری بھی نہیں

اس خون کا جو بدقسمت تھا

راہوں میں بہایا تن میں رہا

اس پھول کا جو بے قیمت تھا

آنگھن میں کھلایا بن میں رہا

اس مشرق کا جس کا تم نے

نیزے کی انی مرہم سمجھا

اس مغرب کا جس کو تم نے

جتنا بھی لوٹا کم سمجھا

ان معصوموں کا جس کی لہو

سے تم نے فروزاں راتیں کی

یا ان مظلوموں کا جن سے

خنجر کی زباں میں باتیں کی

اس مریم کا جس کی عفت

لٹتی ہے بھرے بازاروں میں

اس عیسا کا جو قاتل ہے

اور شامل ہے غم خواروں میں

ان نوخہ گروں کا جن نے ہمیں

خود قتل کیا خود روتے ہیں

ایسے بھی کہی دم ساز ہویے

ایسے جلاد بھی ہوتے ہیں

ان بھوکے ننگھے ڈانچوں کا

جو رقص سر بازار کریں

یا ان ظالم قزاقوں کا

جو بھیس بدل کر وار کرے

یا ان جھوٹے اقراروں کا

جو آج تلک ایفا نہ ہویے

یا ان بے بس لاچاورں کا

جو اور بھی دکھھ کو نشانہ ہویے

اس شاہی کا جو دست بدست

آیی ہے تمھارے حصے میں

کیوں ننگ وطن کی بات کرو

کیا رکھا ہے اس قصے میں

آنکھوں میں چپھایے اشکوں کو

ہونٹوں پہ وفا کے بول لیے

اس جشن میں شامل ہوں میں بھی

نوخوں سے بھرا کشکول لیے۔

انتظار شاید محبت کا نصیب ہے

لیکن جب محبت انتظار کرتی ہے

لمحے تھم جاتے ہیں

زمانے رُک جاتے ہیں

محبت ضدی ہے

آخری سانس ، آخری دھڑکن

آخری پل تک انتظار کرسکتی ہے

اور کبھی کبھی

وہی حساب ِ تمنا ہے،اب بھی آجاو
وہی ہے سر وہی سودا، اب بھی آجاو


جسے گئے ہوئے خود سے اب ایک زمانہ ہوا
وہ اب بھی تم میں بھٹکتا ہے،اب بھی آجاو


وہ دل سے ہار گیا ہے پر اپنی دانش میں
وہ شخص اب بھی یگانہ ہے، اب بھی آجاو


وہی کشاکش ِ احساس ہے بہ ہر لمحہ
وہی ہے دل، وہی دنیا ہے، اب بھی آجاو


کسی سے کوئی شکوہ نہیں مگر تم سے
ابھی تلک مجھے شکوہ ہے، اب بھی آجاو


یہ میرے دل کی گزارش کہ مجھے مت چھوڑو
یہ میری جاں کا تقاضا ہے، اب بھی آجاو

ہے بیمار تو ایک بچنے کے قابل

گر اپنی خط کو خطا جانتا ہے

مگر ایسے نادان کا کیا ٹھکانہ

کہ جو درد ہی کو دوا جانتا ہے

برا مانتا ہے جو سمجھائے کوئی

برائی کو اپنی بھلا جانتا ہے

وہ انجام کو روئے گا سر پکڑ کر

نہیں اس میں دھوکہ خدا جانتا ہے

**<<~*~*~*~>>**

محبت ریت جیسی ہے، کسی بھی بند مٹھی میں

مگر یہ بھی حقیقت ہے

اچانک بے خیالی میں

بنا سوچے، بنا سمجھے

یونہی بس بےارادہ ہی،

یہ مٹھی کھل بھی جاتی ہے

~*~*~*~*~*~*~*~*~

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.