August 21, 201114 yr Kuch Lafz Likhe Men Ne.. Woh Lafz Haqeeqqat Men.. Sachaai Pay Mabnni The. Koi Khoot Naa Thaa Un Men.. DIL Se Jo Nikaltti Haa Us Baat Men Khoot Kahaan.. Yeh Lafz Bhi Meri Jaan.. DIL SE HI TO NIKKLE THE.. Aur DIL Se Nikle Kar Woh . DIL Tak Hi To Pohnchhe The.. Un Lafzon Ko Kayun Too Ne.. Wo Jaghaa Nahi Di Jo.. Un Lafzon Ne Mangee Thi..? Jis Jaghaa Ke Kaabil The.. Woh Lafz Jo Likhhe Thee..??
August 21, 201114 yr وہ مجھ سے بچھڑ کر اب تک نہیں رویا واصی کوئی تو ہمدرد ہے اس کا جو اسے رونے نہیں دیتا
August 21, 201114 yr کھلے ہیں میری زندگی کے سارے ورق نا جانے کب کوئی آندھی اڑا کے لے جائے کسی کا درد کہاں تک میں اپنے پاس رکھوں یہ جس کا ہو وہ نشانی بتا کے لے جائے
August 21, 201114 yr اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں کیوں تیرے درد کو دیں تہمتِ ویرانئیِ دل زلزلوں میں تو بھرے شہر اُجڑ جاتے ہیں موسمِ زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے؟ ایسی رُت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں اب کوئی کیا میرے قدموں کے نِشاں ڈھونڈھے گا تیز آندھی میں تو خیمے بھی اُکھڑ جاتے ہیں شغلِ اربابِ ہنر پوچھتے کیا ہو، کہ یہ لوگ پتھروں میں بھی، کبھی آئینے جڑ جاتے ہیں سوچ کا آئینہ دُھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ چاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں شِدّتِ غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی کچھ دیے تُند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں وہ بھی کیا لوگ ہیں محسن جو وفا کی خاطر خود تراشیدہ اُصولوں پہ بھی اَڑ جاتے ہیں محسن نقوی
August 21, 201114 yr کبھی دامن کبھی پلکیں بھگونا کس کو کہتے ہیں کسی مظلوم سے پوچھو رونا کس کو کہتے ہیں کبھی میری جگہ خود کو رکھوپھر جان جاؤ گے کہ دنیا بھر کے غم دل میں سمونا کس کو کہتے ہیں میری آنکھوں میرے چہرے کو ایک دن غور سے دیکھو مگر مت پوچھنا ویران ہونا کس کو کہتے ہیں تمہارا دل کبھی پگھلے اگر غم کی حرارت سے تمہیں معلوم ہو جائے گا کھونا کس کو کہتے ہیں **>>~*~*~*~<<**
August 21, 201114 yr گردش کے بعد ذات کا محور ملا مجھے. جس سے نکل گیا تھا وہی گھر ملا مجھے، زرے کے اک جز سے کھلا راز-کائنات. قطرے کی وسعتوں میں سمندر ملا مجھے. کتنی عجیب بات ہے جو چاہتا تھا میں. قسمت سے اس طرح کا مقدر ملا مجھے. میں تھا کہ کیفیت کے پردوں میں قید تھا. وہ تھا کہ ہر لحاظ سے کھل کر ملا مجھے. دنیا کی وسعتوں میں اسے ڈوھنڈتا رہا. لیکن خدا میری ذات ک اندر ملا مجھے.
August 21, 201114 yr ان کو غم کا آخری قصہ سُنا کر رو دئے ضبط کر کے مسکرائے، مسکرا کر رو دئے آج اپنی بیکسی کا ہو گیا ہم کو یقین دِل کو دیکھا اور اُنہیں دل میں نہ پا کر رو دئے آگئیں گزری ہوئی باتیں نظر کے سامنے آنکھ اُٹھا کر اُن کو دیکھا، سر جھکا کر رو دئے آپ کیا جانیں کہ ضبطِ درد ممکن ہی نہیں رونے والے، آپکی نظریں بچا کر رو دئے کہہ رہے تھے اُن سے افسانے محبت کے شجیع کہتے کہتے اپنے افسانے پہ آکر رو دئے ************
August 21, 201114 yr عجیب چیز محبت کی واردات بھی ہے حدیثِ دل بھی ہے، رودادِ کائنات بھی ہے عبودیت تو ہمارا ہے شیوئہِ فطری اگر خدائی کریں ہم تو کوئی بات بھی ہے ادھر بھی اُٹھتی ہے اربابِ انجمن کی نظر کچھ آپ ہی نہیں محفل میں میری ذات بھی ہے میرے وجود سے ناممکنات کا عالم میرے وجود سے دنیائے ممکنات بھی ہے یہ ارتقائے بشر کی ہے کون سی منزل کہ اسکی زد میں خدا بھی ہے کائنات بھی ہے **<<~*~*~*~>>**
August 21, 201114 yr تنا تو ہوتا نہیں کوئی کھنڈر شام کے بعد جتنا ویران ہوا جاتا ہے گھر شام کے بعد ٹوٹ پڑتی ہے نئی روز خبر شام کے بعد وقت ہوتا ہے عزابوں میں بسر شام کے بعد میری آنکھوں سے برستے ہوئے دریاؤں میں ڈوب جاتی ہے تری راہ گزر شام کے بعد تیرے بخشے ہوئے اندوہ کی گھبراہٹ کا اور ہی رنگ سے ہوتا ہے اثر شام کے بعد تم نہیں ہوتے تو پھر درد زمانے بھر کے آن ملتے ہیں مجھے خاک بہ سر شام کے بعد شاہ ہو کوئی،گدا ہو یا ولی ہو سب کا فکر کے بوجھ سے جھک جاتا ہے سر شام کے بعد مل کہ اک شہر بھگو دیتے ہیں تنہائی کا ایک میں ایک میرا دیدہ تر شام کے بعد گھیر لیتے ہیں مجھے رستے تیری یادوں کے جب بھی کرتا ہوں ترے بعد سفر شام کے بعد دن بھی ویراں ہی گزرتا ہے ہمارا لیکن اور بڑھ جاتا ہے ویرانی کا ڈر شام کے بعد ہجر کے سائے تو ہر روز ہی آ جاتے ہیں کیا کبھی ہو گا تمہارا بھی گزر شام کے بعد ایک بس تم ہی نہیں رات کے گھائل فرحت خاک اڑتی ہے ہماری بھی ادھر شام کے بعد
August 21, 201114 yr تجھ سے میری چاہتوں کا سلسلہ اپنی جگہاور بدلتے موسموں کا مشورہ اپنی جگہمیں بھی تیرے بعد ہوں اک ماتمی ماحول میںٹوٹ جانے پر بضد ہے آئینہ اپنی جگہ عشق کے آگے یہ دوری تو کوئی دوری نہیںیہ زمین و آسماں کا فاصلہ اپنی جگہ لذت ہجراں کہاں اور وصل کا موسم کہاںہر زیاں اپنی جگہ ہر فائدہ اپنی جگہ تُو نہیں ہے تو غزل میں تشنگی ہی تشنگیخوبصورت ہیںردیف و قافیہ اپنی جگہ ہجرتوں کے دکھ اُٹھانے سے بھی کچھ حاصل نہیںآج بھی موجود ہے ہر مسئلہ اپنی جگہ
Create an account or sign in to comment