Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

Kuch Lafz Likhe Men Ne..

Woh Lafz Haqeeqqat Men..

Sachaai Pay Mabnni The.

Koi Khoot Naa Thaa Un Men..

DIL Se Jo Nikaltti Haa

Us Baat Men Khoot Kahaan..

Yeh Lafz Bhi Meri Jaan..

DIL SE HI TO NIKKLE THE..

Aur DIL Se Nikle Kar Woh .

DIL Tak Hi To Pohnchhe The..

Un Lafzon Ko Kayun Too Ne..

Wo Jaghaa Nahi Di Jo..

Un Lafzon Ne Mangee Thi..?

Jis Jaghaa Ke Kaabil The..

Woh Lafz Jo Likhhe Thee..??

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 301.5k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

وہ مجھ سے بچھڑ کر اب تک نہیں رویا واصی

کوئی تو ہمدرد ہے اس کا جو اسے رونے نہیں دیتا

کھلے ہیں میری زندگی کے سارے ورق

نا جانے کب کوئی آندھی اڑا کے لے جائے

کسی کا درد کہاں تک میں اپنے پاس رکھوں

یہ جس کا ہو وہ نشانی بتا کے لے جائے

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں

کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں

کیوں تیرے درد کو دیں تہمتِ ویرانئیِ دل

زلزلوں میں تو بھرے شہر اُجڑ جاتے ہیں

موسمِ زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے؟

ایسی رُت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

اب کوئی کیا میرے قدموں کے نِشاں ڈھونڈھے گا

تیز آندھی میں تو خیمے بھی اُکھڑ جاتے ہیں

شغلِ اربابِ ہنر پوچھتے کیا ہو، کہ یہ لوگ

پتھروں میں بھی، کبھی آئینے جڑ جاتے ہیں

سوچ کا آئینہ دُھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ

چاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں

شِدّتِ غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی

کچھ دیے تُند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں

وہ بھی کیا لوگ ہیں محسن جو وفا کی خاطر

خود تراشیدہ اُصولوں پہ بھی اَڑ جاتے ہیں

محسن نقوی

کبھی دامن کبھی پلکیں بھگونا کس کو کہتے ہیں

کسی مظلوم سے پوچھو رونا کس کو کہتے ہیں

کبھی میری جگہ خود کو رکھوپھر جان جاؤ گے

کہ دنیا بھر کے غم دل میں سمونا کس کو کہتے ہیں

میری آنکھوں میرے چہرے کو ایک دن غور سے دیکھو

مگر مت پوچھنا ویران ہونا کس کو کہتے ہیں

تمہارا دل کبھی پگھلے اگر غم کی حرارت سے

تمہیں معلوم ہو جائے گا کھونا کس کو کہتے ہیں

**>>~*~*~*~<<**

📢 Post Your Ad Here

گردش کے بعد ذات کا محور ملا مجھے.

جس سے نکل گیا تھا وہی گھر ملا مجھے،

زرے کے اک جز سے کھلا راز-کائنات.

قطرے کی وسعتوں میں سمندر ملا مجھے.

کتنی عجیب بات ہے جو چاہتا تھا میں.

قسمت سے اس طرح کا مقدر ملا مجھے.

میں تھا کہ کیفیت کے پردوں میں قید تھا.

وہ تھا کہ ہر لحاظ سے کھل کر ملا مجھے.

دنیا کی وسعتوں میں اسے ڈوھنڈتا رہا.

لیکن خدا میری ذات ک اندر ملا مجھے.

ان کو غم کا آخری قصہ سُنا کر رو دئے

ضبط کر کے مسکرائے، مسکرا کر رو دئے

آج اپنی بیکسی کا ہو گیا ہم کو یقین

دِل کو دیکھا اور اُنہیں دل میں نہ پا کر رو دئے

آگئیں گزری ہوئی باتیں نظر کے سامنے

آنکھ اُٹھا کر اُن کو دیکھا، سر جھکا کر رو دئے

آپ کیا جانیں کہ ضبطِ درد ممکن ہی نہیں

رونے والے، آپکی نظریں بچا کر رو دئے

کہہ رہے تھے اُن سے افسانے محبت کے شجیع

کہتے کہتے اپنے افسانے پہ آکر رو دئے

************

عجیب چیز محبت کی واردات بھی ہے

حدیثِ دل بھی ہے، رودادِ کائنات بھی ہے

عبودیت تو ہمارا ہے شیوئہِ فطری

اگر خدائی کریں ہم تو کوئی بات بھی ہے

ادھر بھی اُٹھتی ہے اربابِ انجمن کی نظر

کچھ آپ ہی نہیں محفل میں میری ذات بھی ہے

میرے وجود سے ناممکنات کا عالم

میرے وجود سے دنیائے ممکنات بھی ہے

یہ ارتقائے بشر کی ہے کون سی منزل

کہ اسکی زد میں خدا بھی ہے کائنات بھی ہے

**<<~*~*~*~>>**

تنا تو ہوتا نہیں کوئی کھنڈر شام کے بعد

جتنا ویران ہوا جاتا ہے گھر شام کے بعد

ٹوٹ پڑتی ہے نئی روز خبر شام کے بعد

وقت ہوتا ہے عزابوں میں بسر شام کے بعد

میری آنکھوں سے برستے ہوئے دریاؤں میں

ڈوب جاتی ہے تری راہ گزر شام کے بعد

تیرے بخشے ہوئے اندوہ کی گھبراہٹ کا

اور ہی رنگ سے ہوتا ہے اثر شام کے بعد

تم نہیں ہوتے تو پھر درد زمانے بھر کے

آن ملتے ہیں مجھے خاک بہ سر شام کے بعد

شاہ ہو کوئی،گدا ہو یا ولی ہو سب کا

فکر کے بوجھ سے جھک جاتا ہے سر شام کے بعد

مل کہ اک شہر بھگو دیتے ہیں تنہائی کا

ایک میں ایک میرا دیدہ تر شام کے بعد

گھیر لیتے ہیں مجھے رستے تیری یادوں کے

جب بھی کرتا ہوں ترے بعد سفر شام کے بعد

دن بھی ویراں ہی گزرتا ہے ہمارا لیکن

اور بڑھ جاتا ہے ویرانی کا ڈر شام کے بعد

ہجر کے سائے تو ہر روز ہی آ جاتے ہیں

کیا کبھی ہو گا تمہارا بھی گزر شام کے بعد

ایک بس تم ہی نہیں رات کے گھائل فرحت

خاک اڑتی ہے ہماری بھی ادھر شام کے بعد

تجھ سے میری چاہتوں کا سلسلہ اپنی جگہ
اور بدلتے موسموں کا مشورہ اپنی جگہ
میں بھی تیرے بعد ہوں اک ماتمی ماحول میں
ٹوٹ جانے پر بضد ہے آئینہ اپنی جگہ

 

عشق کے آگے یہ دوری تو کوئی دوری نہیں
یہ زمین و آسماں کا فاصلہ اپنی جگہ



لذت ہجراں کہاں اور وصل کا موسم کہاں
ہر زیاں اپنی جگہ ہر فائدہ اپنی جگہ



تُو نہیں ہے تو غزل میں تشنگی ہی تشنگی
خوبصورت ہیںردیف و قافیہ اپنی جگہ



ہجرتوں کے دکھ اُٹھانے سے بھی کچھ حاصل نہیں
آج بھی موجود ہے ہر مسئلہ اپنی جگہ

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.