August 27, 201114 yr Author دیتاتھا۔ وہ سرشاری سے سوچے گئی۔ vvv ’’بھابی !آپ۔‘‘ عظمیٰ بیگم کو انیکسی میں دیکھ کر مژگان ششدر رہ گئی۔ جب سے وہ یہاں شفٹ ہوئی تھی۔ عظمیٰ بیگم نے یہاں قدم تک نہیں رکھا تھا۔ ’’تمہارے لئے ایک خوشخبری ہے۔‘‘ عظمیٰ بیگم سپاٹ چہرے سے بولیں۔ ’’میرے لئے خوشخبری؟‘‘مژگان متعجب ہو کر بولی۔ ’’ہاں بھئی‘ شکر کرو تمہیں کسی نے پوچھا تو سہی۔‘‘ بھابی استہزائیہ انداز میں بولیں۔ مژگان ان کی مبہم باتوں سے الجھ گئی۔ ’’بھابی! صاف صاف بتائیے کیابات ہے؟‘‘ مژگان کاتجسس عروج پر پہنچ گیا۔ ’’تمہارے لئے ایک رشتہ آیا ہے اور میرے خیال میں تم اس سے خوب واقف ہو۔‘‘ عظمیٰ بیگم بھنویں اچکا کر بولیں۔ ’’میرے لئے بھلا کس کا رشتہ آسکتا ہے۔‘‘ وہ خود سے بولی۔ ’’تمہارے آفس سے ہی آیا ہے۔ اچھا ہے تم نے اپنا انتظام خود ہی کرلیا۔‘‘ بھابی کے لفظوں کے سنسناتے تیر اس کے دل میں پیوست ہوگئے۔ اس نے زخمی نگاہوں سے بھابی کو دیکھا لب کچھ کہنے کی چاہ میں زخمی پرندے کی مانند محض پھڑپھڑا کررہ گئے۔ ’’اگلے جمعے کو ہم سادگی سے تمہارا نکاح کررہے ہیں۔‘‘ بھابی گویا ہزاروںاحسان جتاتے ہوئے بولیں۔ ’’مگر رشتہ کس کا آیا ہے؟‘‘ مژگان نے الجھ کر پوچھا۔ ’’وہ رشید صاحب کا۔‘‘ ’’کیا…؟‘‘ وہ جہاں کی تہاں کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ تحیر کی زیادتی سے آنکھیں پھٹی اور منہ کھلا کاکھلا رہ گیا۔ معاً اشتعال کی ایک تیز لہر اندر سے ابھری جس نے اس کی رگوں میں شرارے بھردیئے۔ ’’بھابی! میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں مجھے میرے حال پرچھوڑ دیں۔‘‘ مژگان نے چڑ کر باقاعدہ عظمیٰ بیگم کے سامنے ہاتھ جوڑدیئے۔ عظمیٰ بیگم بری طرح تپ گئیں۔ ’’تم کیا سمجھتی ہو کہ تمہیں کوئی دوبارہ کنوارہ اور ہینڈسم شوہر ملے گا یا پھر کوہ قاف سے کوئی شہزادہ مہارانی کو بیاہنے آئے گا۔‘‘ وہ ہاتھ نچا نچا کر منہ سے آگ اگلنے لگیں۔ مژگان انتہائی غصے کے عالم میں انہیں وہیں چھوڑ کر دوسرے کمرے میں بند ہوگئی۔ vvv وہ بے تحاشا ہنسے جارہی تھی۔ ہنس ہنس کر اس کی خوبصورت کنچوں کی مانند آنکھوں میںپانی بھرگیا تھا۔ ’’آخر تمہاری ہنسی کو بریک کیوں نہیں لگ رہے۔‘‘ وہ اتنی دیر سے اسفر کے سامنے بیٹھی ہنسے جارہی تھی اور اسفر کتنی دیر سے اس کی ہنسی تھمنے کا انتظار کررہاتھا۔ لیکن وہ چپ ہی نہیں ہو رہی تھی۔ اسفر کا ضبط جواب دے گیا تو وہ اتنہائی جھنجلا کر بولا۔ ’’وہ…وہ مژگان۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ پھر ہنس دی۔ ’’مژگان۔‘‘ یہ نام سن کر نجانے کیوں اسفر کی تمام حسیں تیز ہوگئیں۔ ’’ارے مژگان نے رشید صاحب کو آج خوب کھری کھری سنائیں۔‘‘ ’’اچھا‘ وہ کیوں؟‘‘ اسفر نے سرسری انداز میں استفسار کیا۔ حالانکہ وہ بات فوراً جاننا چاہتاتھا لیکن ظاہر ایسے کیا جیسے اس ذکر میں اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ‘‘موصوف اپنارشتہ لے کر مژگان کے گھر پہنچ گئے۔‘‘ ’’واٹ!رشید صاحب؟‘‘ وہ حیران رہ گیا پھر ناگواری کی لہر عود کر آئی تھی۔ اسفر کے اعصاب تن سے گئے۔ ’’مژگان ان کی بیٹی کی عمر کی ہے۔‘‘ اسفر کو نجانے کیوں سخت برا لگا تھا۔ ’’لیکن طلاق یافتہ بھی تو ہے۔‘‘ لیلیٰ نے آگے ٹکڑا لگایا۔ اچانک اسفر کے دل سے کوئی آواز آئی۔ شاید اسفر کے دل کی کھڑکی لفظ طلاق یافتہ کی ہوا سے بند ہوئی تھی جونجانے کب اور کیسے مژگان کے لئے کھلی رہ گئی تھی۔ ’’میں تو کہتی ہوں کہ مژگان کو یہ رشتہ فوراً قبول کرلینا چاہئے ورنہ آج کل کے دور میں مطلقہ لڑکیوں کو پوچھتا کون ہے۔‘‘ وہ نخوت سے اپنے برائون بال جھٹکتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ اسفر کو لیلیٰ کا انداز پسند نہ آیا لیکن خاموش رہا۔ ’’رشید صاحب بتارہے تھے کہ بیچاری کو شادی کی دوسری صبح ہی طلاق ہوگئی تھی۔ حالانکہ لڑکا بہت ہینڈسم اور پیسے والا تھا۔‘‘لیلیٰ نے مژگان کے متعلق اسفر کی معلومات میںاضافہ کیا جسے سن کر وہ انتہائی متعجب ہوگیا۔ ’’آخر کیا وجہ تھی جو اس کے شوہر نے اسے شادی کے دوسرے دن ہی طلاق دے دی؟ وہ یہ بات جاننے کو سخت بے چین ہوگیا۔ لیلیٰ اسفر کا غیر معمولی انداز دیکھ کر کھٹک سی گئی۔ ’’اسفر تم کیوں مژگان جیسی طلاق یافتہ لڑکی کے ذکر میں اتنی دلچسپی لے رہے ہو؟‘‘وہ آبرو اچکا کر بولی۔ ’’اوکم آن لیلیٰ ‘ یہ بات کافی حیرت انگیز ہے کہ اسے ایک ہی دن میں کس جواز کی بناء پر طلاق ہوئی۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ لیلیٰ سے زیادہ خود کو صفائی دینے لگا۔ ’’وہ تو کسی کو نہیں معلوم۔‘‘ لیلیٰ سوچتے ہوئے بولی۔’’رشید صاحب بتارہے تھے کہ اس نے اپنے گھر والوں تک کو نہیں بتایا۔ اس کی ماں بھی اس صدمے سے مرگئی کہہ رہے تھے میں تو آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کو تیار تھا لیکن ان محترمہ کے مزاج تو عرش اعلیٰ پر پہنچے ہوئے ہیں۔ یہ بھی سنا ہے کہ محترمہ گھر والوں سے قطع تعلق کئے انیکسی میں رہتی ہیں۔ کافی بدزبان اور تنک مزاج ہے۔‘‘ لیلیٰ جو کچھ مژگان کے بارے میں بتارہی تھی اسفر کا دل اس کی ہر بات کی نفی کررہاتھا۔ اسفر نے تو اس کی سمندر جیسی گہری آنکھوں میں ہمیشہ اضطراب ‘ بے بسی وخوف اور تنہائی کے کرب کی لہریں دیکھی تھیں۔ ’’اور رہی دوسرے ہی دن طلاق کی وجہ تو اس کی قصور وار بھی یہی ہے۔‘‘ لیلیٰ اپنی بات پر زور دے کر بولی تو اسفر نے اسے بے حد چونک کر دیکھا۔ ’’بھئی اس کی خاموشی ہی اس بات کا چیخ چیخ کر اعلان کررہی ہے کہ وہی قصور وار ہے وگرنہ وہ اپنے ہونٹوں پر اس طرح چپ کا قفل نہ ڈالتی۔‘‘ لیلیٰ دور کی کوڑی لائی۔ ’’نہیں…اگر وہ اس ٹائپ کی لڑکی ہوتی تو کب کی ارباز آصف کی طرف پیش قدمی کرچکی ہوتی۔ جو اس کے آگے پیچھے پھرتا ہے۔ یقینا کوئی بڑی مجبوری ‘ جس نے اس کے ہونٹوں کو گونگا کردیا ہے لیکن اس کی آنکھیں تو بولتی ہیں۔ اسفر علی خان کے اندر گویا جنگ سی چھڑ گئی تھی۔ اس کی تمام سوچیں مژگان کے اردگرد گھومنے لگیں۔ vvv وہ انتہائی انہماک سے حسب معمول اپنے کام میں مصروف تھی معاًموبائل کی بپ بجی۔ مژگان نے اپنی ضرورت کے تحت موبائل خرید لیاتھا۔ موبائیل اسکرین پر گھر کا نمبر دیکھ کر اس کی چھٹی حس نے گویا خطرے کا الارم بجایا۔ کیونکہ گھر سے آج تک کسی نے اسے فون نہیں کیا تھا اور یہ نمبر بھی اس نے صرف عبیر کودیا تھا۔ اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ ’’یس‘‘ کا بٹن پش کیا اور دوسری طرف عبیر نے جو اسے اندوہناک خبر سنائی وہ اس کے حواسوں پر بجلی بن کر گری۔ جس نے اس کے حواس کومختل کردیا۔ یک لخت موبائل اس کے لرزتے ہاتھوں سے چھوٹ کر زمین پر گر گیا ۔ اس نے کرسی سے اٹھنا چاہا لیکن پیروں نے گویا اس کا وزن اٹھانے سے انکار کردیا۔ انتہائی دقتوں سے اس نے خود کو اٹھایا اور بنا پرس اور موبائل اٹھائے وہ تیزی سے دروازے کی طرف بھاگی۔ آفس کے اسٹاف نے اسے انتہائی متعجب ہو کر دیکھا۔ وہ یونہی اپنے آپ سے بے پروا بھاگتی ہوئی لفٹ تک آئی جو نیچے کی طرف جانے کااشارہ دے رہی تھی۔ وہ لفٹ کو چھوڑ چھاڑ کر سیڑھیوں کی طرف بھاگی۔ مژگان کے قدم اٹھ کہیں رہے تھے اور پڑ کہیں اور رہے تھے۔ اسی دم دوسری لفٹ سے اسفر اوپر آیا اور پہلی ہی نگاہ مژگان کے ڈولتے وجود پر پڑی۔ اسے یوں دیوانوں کی طرح بھاگتے دیکھ کر وہ متحیر رہ گیا۔ ’’مژگان۔‘‘ بے ساختہ اس کے ہونٹ چلا اٹھے لیکن وہ سن کہاں رہی تھی۔اسفر بے اختیارانہ انداز میں اس کے پیچھے لپکا۔ لیکن وہ اپنے ڈگمگاتے قدموں کی بدولت سیڑھیوں سے نیچے گر چکی تھی۔ اومائی گاڈ… اسفر انتہائی پریشانی کے عالم میں تیز تیز قدموں سے سیڑھیاں طے کرکے آیا جو اوندھے منہ زمین پر پڑی تھی۔ جس کاماتھا کارنر پر رکھے گملے سے ٹکرا کر خون آلود ہوگیاتھا۔ سفید براق سوٹ اس کے لہو سے تیزی سے سرخ ہو رہاتھا۔اسفر جواس پر ایک نگاہ بھی نہ ڈالنے کا دعوے دار تھا اس نے انتہائی بدحواسی کے عالم میں اسے اپنے بازوئوں پر اٹھایا۔ اور بجلی کی سرعت سے لفٹ کی طرف بھاگا۔ نیچے اس کا باوردی ڈرائیورپہلے ہی سے موجود تھا۔ وہ آناً فاناً اسے اپنے دوست کے پرائیویٹ ہوسپٹل لے گیا۔ ’’ہائے میری روما… بھری بہار میں کیسے خزاں نے آکر اس کی زندگی میں پنجے گاڑ دیئے۔ میری پیاری بہن کی خوشیوں کو نجانے کس کی نظر کھاگئی۔ کس بدبخت کی نگاہ نے اس کا سہاگ اجاڑ دیا۔ اور اس چند ماہ کی بچی کو باپ کے سائے سے محروم کردیا۔‘‘ عظمیٰ بیگم بین کررہی تھی۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کامران کے دوست کا آسٹریلیا سے فون آیا تھا‘ جس نے کامران کے ایکسیڈنٹ میں موت ہونے
August 27, 201114 yr Author کی خبر سنائی تھی جبکہ روما کی حالت انتہائی دگرگوں تھی ۔ مہران حیدر آج شام کی فلائیٹ سے ہی اپنے بھائی کے تابوت اور بھاوج وبھتیجی کو لینے جارہے تھے۔ عبیر نے ہی یہ منخوس خبر مژگان کو بھی سنادی تھی۔ آخر وہ کامران حیدر کی بہن تھی۔ حیدر ہائوس اس وقت رنج وغم کی لپیٹ میں ڈوبا ہوا تھا۔ عظمیٰ بیگم کے میکے اورخاندان والے آناً فاناً جمع ہوگئے تھے۔ گھر میں صف ماتم بچھ گئی تھی۔ ہر آنکھ کامران کی جواں مرگی پر اشکبار تھی۔ ایسے میں صرف عبیر کو ہی مژگان کی غیر حاضری ستارہی تھی۔ دوگھنٹے ہوچکے تھے اسے مژگان کو اطلاع کئے ہوئے لیکن وہ ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔ عبیر نے دوبارہ مژگان کے موبائل پر ٹرائی کیا جو رسپانس نہیں دے رہاتھا۔ زمین پر گر کرمو بائل ناکارہ ہوچکاتھا۔ vvv اسے بے ہوش ہوئے تین گھنٹے سے زائد گزرچکے تھے۔ لیکن اسے ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا۔ اسفر علی خان مسلسل تین گھنٹے سے کاریڈور میں کھڑا تھا۔ ذہن کی اسکرین پر بار بارمژگان کا بے تحاشا ہو کر بھاگنا ریوائنڈ ہو کر سامنے آرہاتھا۔ ’آخر ایسی کیا بات ہوئی جو یہ اتنی بدحواس ہو کر بھاگی۔ ‘اسفر اسی نقطے پر سوچے جارہاتھا۔ معاً ذہن‘ میں اسپارک ہوا۔ شاید کوئی بری خبر۔ وہ زیر لب بڑبڑایا پھر تیزی سے موبائل پر بٹن پش کرنے لگا۔ یس سر…رشید صاحب کی خوشامدانہ آواز ابھری۔ رشید صاب ذرا مژگان کی ٹیبل پر جائیے وہاں کوئی سامان ہے۔‘‘ وہ بارعب لہجے میں بولا۔ تھوڑی دیر خاموشی کے بعد رشید صاحب کی آواز آئی۔سر ان کا پرس ہے اور زمین پرموبائل پڑا ہے جو گر کرناکارہ ہوچکا ہے۔ نجانے کیابات ہوئی جو وہ اتنی عجلت میں باہر بھاگی تھیں۔‘‘ رشید صاحب بھی حیران حیران سے بولے۔اسفر کے یقین پر مہر ثبت ہوگئی تھی کہ یقینا مژگان کوئی بہت بری خبر سن کر اپنے حواس چھوڑ کر بھاگی تھی اوکے…اسفر نے کہہ کر لائن ڈراپ کردی۔ پھر اپنے ڈرائیور کو اس کے گھر اطلاع دینے کے لئے بھیجا۔ اسی اثناء میں ڈاکٹر عامر باہر آیا جو اسفر کا بہت اچھا دوست بھی تھا۔ اب کیسی ہے وہ۔ لہجے میں بے چینیاں ہی بے چینیاں تھیں۔ ’’ریلیکس اسفر! ‘‘وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کربولا۔اسی اثناء میں ایک نوعمر لڑکی حواس باختہ سی ان کے پاس آئی۔ ’’کیا ہوا پھوپوکو؟‘‘ وہ لڑکی بے تحاشا اندیشوں میں گھر کر کپکپاتی ہوئی آواز میں بولی۔ ’’دیکھئے‘ فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے بے ہوش ہوگئی ہے۔ البتہ کوئی بڑا صدمہ بھی انہیں پہنچا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ اب تک ہوش میں نہیں آرہیں۔‘‘عبیر نے انتہائی دکھ سے سامنے کھڑے اس بارعب سے بندے کو دیکھا جس کی پیچ کلر کی قمیص پر جابجا خون کے دھبے تھے جو یقینا مژگان کے تھے ۔ پھر شیشے کے پارمژگان کی دگرگوں حالت دیکھ کر وہ بلک بلک کر رونے لگی۔ اسے یوں روتا دیکھ کر دونوں گھبرا گئے۔ ’’پلیز اپنے آپ پر کنٹرول کیجئے۔ انہیں ابھی ہوش آجائے گا۔‘‘اسفر اسے تسلی دیتے ہوئے بولا۔ ’’لیکن انہیں صدمہ کیا پہنچا ہے۔‘‘ عامر نے اسفر کے منہ کی بات چھین لی تھی۔ ’’وہ ڈاکٹر صاحب! میرے چاچو روڈ ایکسیڈنٹ میں۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ بری طرح رودی۔ ’’اوہ۔‘‘دونوں کے ہونٹ سکڑ گئے۔ ’’ہمیں افسوس ہے اور شاید یہی صدمہ…‘‘ ’’ڈاکٹر صاحب پیشنٹ کوہوش آگیا ہے۔‘‘ ڈاکٹر عامر کی بات بیچ میں ہی رہ گئی جب نرس بھاگتی ہوئی باہر آکر بولی۔ تینوں اندر کی طرف بھاگے تھے۔ مژگان عبیر کودیکھ کر اتنی بری طرح بکھری کہ پھر تینوں کو اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا۔ آج وہ اپنے اندر جمع سارے آنسو بہادینا چاہتی تھی۔ اسفر کو مژگان کی یہ حالت دکھ کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل رہی تھی۔ مجبوراً ڈاکٹر عامر نے زبردستی مژگان کو نیند کاانجکشن لگادیا۔ وہ ایک بار پھر ہوش وخرد سے بیگانہ ہوگئی۔ سوتے ہوئے بھی کچھ کچھ دیر میں ایک آدھ سسکاری اس کے بھنچے ہوئے لبوں سے آزاد ہوجاتی سرسوں کے پھول کی مانند زرد چہرہ کپکپاتے بے بس ہونٹ اور دکھ سے لرزتی پلکیں اس کی نگاہوں کی گرفت میں تھی۔ ’’سرآپ جائیں۔میں مژگان پھوپو کے پاس ہوں۔‘ ‘عبیر جان گئی تھی کہ یہ مژگان کے باس ہیں جو انہیں اسپتال لائے ہیں۔ کاش میں پھوپو کو یہ خبر فون پر نہ بتاتی۔ وہ پچھتائووں میں گھری ہوئی تھی۔اسفر نے بھی اپنا جانا مناسب سمجھا اورڈاکٹر عامر کو اس کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت کرکے چلا گیا۔ عبیر کو رہ رہ کر ماں کا سنگدلانہ رویہ یاد آرہاتھا جب ڈرائیور نے آکر انہیں مژگان کے حادثے کے بارے میں بتایا تو انہوں نے کتنی نفرت سے کہاتھا۔ پڑا رہنے دو اسے اسپتال میں اس کی نحوست ہی اس گھر کی خوشیوں کو کھاگئی لیکن عبیر ایسی سنگدلی کا مظاہرہ نہ کرسکی۔ اور ڈرائیور کے ساتھ چلی آئی۔ رات گئے مژگان کی حالت سنبھلی تو وہ ایک بار پھر رودی۔ اس وقت اسے عبیر کا سہارا بہت بڑی نعمت لگ رہاتھا۔
August 27, 201114 yr Author ’’پھوپو پلیز اپنے آپ کو سنبھالئے۔‘‘ وہ نازک سی کم عمر لڑکی اسے سنبھالنے کی کوشش کررہی تھی۔ مژگان نے اپنے منتشر وجود کو ایک بار پھر سنبھالنے کی کوشش کی۔ ’’اب جوہوچکاتھا اسے بدلاتو نہیں جاسکتاتھا۔ نشاء کی معصوم آہیں اور بے بس سسکیاں کامران حیدر کو لے ڈوبی تھیں۔ اس رات زبردستی ڈسچارج ہوتے وقت اسے اسپتال کے بل کا خیال آیا تو وہ ہراساں ہوگئی۔ اتنا بھاری بل وہ کیسے ادا کرے گی۔ ’’پھوپو چلئے۔‘‘ عبیر کی آواز نے اس کی سوچوں کا ارتکاز توڑا۔ ’’لیکن عبیر وہ بل۔‘‘ وہ ہکلاسی گئی۔ ’’وہ آپ کی کمپنی نے ادا کردیا ہے۔‘‘ عبیر دھیرے سے بولی۔ ’’کمپنی والوں نے؟‘‘ اسے خاصا اچنبھا ہوا لیکن یہ وقت ایسی باتیں سوچنے کا نہیں تھا۔ وہ عبیر کے ہمراہ گھر آگئی۔ vvv وہ تھکے تھکے قدموں سے گھر میں داخل ہوا تو دینو بابا کو متفکر پایا ۔’’اسلام علیکم بابا۔‘‘ اسفر نے نہایت آہستگی سے سلام کیا دینو بابا اس کا مضمحل اور نڈھال نڈھال سا انداز دیکھ کر چونک گئے۔ معاً ان کی نگاہ اسفر کے گریبان پر لگے خون کے دھبوں پرپڑی تو وہ سخت پریشان ہوگئے۔ ’’ارے اسفر بیٹا! یہ خون کیسا ہے؟‘‘ اسفر ان کی بے چینی و پریشانی دیکھ کر مسکرادیا جو ان کے چہرے سے ہویدا تھی۔ ایک ان کا ہی تو وجود تھا جنہیں اسفر اپنا سمجھتا تھا۔ دینو بابا یہاں کے بہت پرانے اور وفادار ملازم تھے۔ اسفر کو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے پالا تھا۔ وہ اسفر سے بہت محبت کرتے تھے اور اسفر بھی ان کی بہت عزت واحترام کرتاتھا۔ سات سال پہلے پلین کریش میں اسفر کے والدین جاں بحق ہوگئے تھے چونکہ دونوں نے سماج اور خاندان سے ٹکرا کر شادی کی تھی لہٰذا اسفر کا اپنے ننھیال وددھیال سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ البتہ ڈیتھ کے بعد کچھ لالچی رشتے داروں نے اسفر سے ملنا چاہا لیکن اسفر اتنا ناسمجھ نہیں تھا جو ان کی نیتوں کو نہ بھانپ سکتاتھا۔ وہ کسی سے بھی ملنا پسند نہیں کرتا تھا صرف دینو بابا ہی اس کے ماں باپ اور خاندان تھے۔ کتنا اکیلا اور تنہا رہ گیا ہے۔ پیار‘ محبت توجہ جیسے جذبوں سے کوسوں دو ر صرف پیسہ کمانے کی مشین بن گیا ہے۔ دینو بابا اسفر کی شکستہ حالت کو دیکھ کر دکھ سے سوچ رہے تھے۔ ’’بیٹا تم نے بتایا نہیں یہ خون کس کا ہے؟‘‘دینو بابا نے پھر اپنا سوال دہرایا تو اسفر جیسے سنبھلا۔ ’’وہ بابا‘ میرے دوست کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا تو میں نے اسے ہوسپٹل پہنچایا۔ بس اسی کے ماتھے کاخون۔‘‘ وہ نپے تلے انداز میں اتنا کہہ کر خاموش ہوگیا۔ ’’اوہ اب کیسا ہے تمہارا دوست؟‘‘ دینو بابا نے فکرمندی سے پوچھا تو یکدم اسفر کی آنکھوں کے پردے پر روتی بلکتی مژگان آگئی۔ اس وقت وہ کتنی ٹوٹی ہوئی اور بکھری بکھری لگ رہی تھی۔ ’’جی بابا اب ٹھیک ہے۔‘‘ اسفر گم صم سا ہو کر بولا تو دینو بابا نے اطمینان کا سانس لیا۔ ’’اچھا تم کپڑے چینج کرلو میں کھانا لگواتا ہوں۔‘‘ اسفر ان کی بات پر سر ہلا کر اٹھ کھڑاہوا۔ بیڈروم کے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اپنی خون آلود شرٹ کو بغور دیکھا۔ کتنی قریب تھی وہ میرے ان بازوئوں پر اس کا وجود تھا۔ وہ اپنے بازو دیکھتا ہوا سرگوشی میں بولا۔ کیوں؟ دماغ نے سوال داغا وہ کیوں میرے قریب تھی۔ کیونکہ میری بانہوں میں تھی۔ میں جو اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھنا نہیں چاہتا صرف اس کی خاطر ہوسپٹل کے سنسان کوریڈور میں اتنے گھنٹوں تک کیوں کھڑا رہا۔ دماغ سوال پر سوال کررہا تھا اوراس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ میں نے وہ سب انسانیت کے ناتے کیا تھا۔ اس نے گویا بڑی دقتوں سے دماغ کو جواب دے کر اسے مطمئن کرنا چاہا۔ ’انسانیت کے ناتے‘ دل یکدم تڑپ سا گیا اور دہائیاں دینے لگا۔ اچھا…پہلے تو تم نے کبھی یہ انسانیت نہیںدکھائی۔ دماغ استہزائیہ انداز سے بولا۔ دیکھو اسفر علی خان جو لوگ دل میں بستے ہیں ان کے دکھ وتکلیف میں ہم یونہی حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔ وہ تمہارے دل کی مکین نہیں‘ یہ غلط ہے وہ بدکار‘ لیلیٰ کی باتوں سے تمہارے دل کی کھڑکی ضرور بند ہوئی تھی لیکن دروازہ تو کھلا رہ گیاتھا۔ وہ تم نے بند کیوں نہیں کیا۔ اس کا دل اسے کھری کھری سنا رہاتھا لیکن… وہ طلاق یافتہ… وہ اپنے دل سے بولا… تو کیا اس سے محبت کرنا جرم ہے۔ اس سے شادی کرنا گناہ ہے؟ کیا وہ پیار کرنے کے لائق نہیں۔ محض اس بات پر کہ وہ تمہارے لئے ان چھوئی کلی نہیں۔ واہ اسفر علی خان واہ۔ تم مردبھی کمال کی چیز ہو خود تو گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے ہو اور چاہتے ہو کہ خود کو بارش کی پہلی بوند کی مانند شفاف وپاک اور ان چھوئی لڑکی ملے جو آسمان سے اتر کر صرف تمہاری دسترس میں آئے۔ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تمہیں ان چھوئی کلی ملے تو کیا وہ نہیں چاہ سکتی کہ اس کاچاہنے والا بھی کسی کو نہ چھوئے۔ وہ بھی تو تمہیں استعمال شدہ کہہ کر تمہاری ہستی کی دھجیاں اڑا سکتی ہے۔ اسفر سرتھامے بیٹھاتھا۔ اس کے اندر ایک گھمسان کارن پڑا ہوا تھا۔
August 27, 201114 yr Author vvv حیدر ہائوس اس وقت لوگوں سے بھرا ہواتھا۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی تھیں وہ سب سے الگ تھلگ چپ چاپ گھٹنوں میں سردیئے آنسو بہارہی تھی۔کسی نے بھی اس سے جھوٹے منہ یہ تک نہیں پوچھا کہ تمہارے ماتھے پر چوٹ کیسے لگی۔ کجا کہ اسے گلے لگا کر اس کے بھائی کا پرسا دیتے۔ تقریباً شام کو کامران حیدر کا تابوت گھر آگیا ۔گھر میں جیسے کہرام برپا ہوگیا۔ روما کو شدت غم سے غش آرہے تھے اور چند ماہ کی زویا اس سارے ہنگامے سے بے خبر اس بھیانک حقیقت سے انجان فرشتوں جیسی نیند سو رہی تھی۔ا سفر بھی جانے کون سے جذبے کے تحت مژگان کے بھائی کی میت پر شریک ہونے چلا آیاتھا۔وہیں اسے مہران حیدر کودیکھ کر سو والٹ کا کرنٹ لگا۔ بزنس دنیا کے حوالے سے وہ مہران حیدر سے اچھی طرح واقف تھا اور یہ جان کر کہ مژگان مہران حیدر جیسے کامیاب بزنس مین کی بہن ہے وہ متحیررہ گیا۔ مژگان کو بھلا اتنی معمولی نوکری کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اسفر بری طرح الجھ ساگیا۔ آج کامران حیدر کو اس دنیا سے گئے پندرہ دن ہوچکے تھے۔ وہ چپ چاپ انیکسی میں پڑی بے آواز آنسو بہارہی تھی کہ یکدم دھماکے سے دروازہ کھلا اور روما بپھری ہوئی شیرنی کی مانند اندر آئی اور اندر آتے ہی مژگان پر چیل کی طرح جھپٹ پڑی۔ ’’تمہاری وجہ سے تمہاری وجہ سے میرا سہاگ اجڑ گیا میری کلائیوں کی ساری چوڑیاں ٹوٹ گئیں تم نے مجھ سے ست رنگی چنری چھین کربیوگی کی سفیدچادر میرے اوپر ڈال دی۔‘‘ روما اپنے آپے میں نہیں تھی۔ ’’بھابی کیا ہوگیا ہے آپ کو۔‘‘ وہ اپنے آپ کو بچاتی ہوئی بمشکل بولی۔ عظمیٰ بیگم بھی دروازے پر کھڑی اسے خون آشام نگاہوں سے گھور رہی تھی۔ ’’تم ہی نے وہاں آنے کی ضد کی تھی اور بیچارا کامران رات دن کا فرق بھلائے تمہیں وہاں بلانے کی کوشش کررہاتھا اور اسی کوشش میں ایک دن وہ گھر سے نکلا اور پھر زندہ واپس نہ آیا۔‘‘ روما تھک کر زمین پر بیٹھ گئی۔ اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ’’اونہہ ‘ اپنے سر سے شوہر کے نام کی چادر چھن گئی تو میری بہن کے سائبان پر اپنی حسد کی چنگاری سے آگ لگادی۔‘‘ ’’بھابی!‘‘ عظمیٰ بیگم کے زہر اگلتے جملوں کی وہ تاب نہ لاکر چلا اٹھی۔’’وہ میرا بھائی تھا۔ میرا ماں جایاتھا‘ میں بھلا کیوں اس کے گھر پرنظر لگاتی۔ میں تو اس کا گھر…‘‘ اتنا کہہ کر وہ زور زور سے رونے لگی۔ بھیا صرف تمہارا گھر بچانے کی خاطر ہی تو میں نے اپنی زبان پر خاموشی کے قفل ڈالے تھے لوگوں کی تیغ وتلوار جیسی کاٹ دار باتیں اپنی روح پر سہی تھیں ان کی نفرت وحقارت سے لبریز آنکھیں اپنے دل پر سہی تھیں اور اب جب تم چلے گئے تو بھی میں ہی معتوب ٹھہرائی گئی۔ وہ دل میں چلاتے ہوئے روئے گئی۔ مژگان نے دوبارہ آفس جوائن کرلیاتھا۔ اسفر نے آفس کے اسٹاف کو مژگان کے بھائی کی ڈیتھ کی خبر دے دی تھی ۔ البتہ اس کے گھر کاایڈریس نہیں بتایا تھا ورنہ وہ سب اس کی اتنی مستحکم پوزیشن دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جاتے۔ لہٰذا آج جب وہ آفس آئی تو سب ہی نے اس سے تعزیت کی ۔ لیلیٰ اور ارباز نے بھی رسمی انداز میں افسوس کیا۔ مژگان اس بات سے انجان تھی کہ اسفر اس کے بھائی کی میت پر گھر آیاتھا۔ البتہ عبیر نے اسے یہ بات بتادی تھی کہ اسفر ہی اسے ہوسپٹل لے کر آیا تھا۔ جسے سن کر وہ اب اس کا سامنا کرنے سے ہچکچارہی تھی۔ البتہ دل ہی دل میں اس کی احسان مند تھی کہ وہ اسے ہوسپٹل لے گیاتھا اوراس حادثے سے آفس کے تمام اسٹاف کوبھی بے خبر رکھا گیاتھا۔ سوائے آفس کے باہر موجود گارڈ اور اسفر کے ڈرائیور کے اس واقعے کاکسی کو علم نہیں تھا۔ اتنے دنوں کا کام جمع ہوگیا تھا وہ تندہی سے اپنے کام میں جت گئی۔ آف ٹائم پر اس نے سر اٹھایا تو یکدم بے تحاشا تھکن کا احساس ہوا۔ وہ ایک ہاتھ سے اپنی دکھتی گدّی کو دباتی ہوئی سیٹ سے اٹھی۔ سوائے ایک دو ورکرز کے تمام اسٹاف جاچکاتھا۔ وہ فائل لے کر اسفر کے روم میں گئی۔ دوتین بار ناک کیا لیکن جواب ندارد۔ اس نے دروازہ کھول کر اندر جھانکا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ وہ یہ سوچ کر اندر چلی آئی کہ اسفر کی ٹیبل پر فائل رکھ کر چلی جائے گی۔ ابھی وہ میز پرفائل رکھ ہی رہی تھی کہ کھٹ سے دروازہ بند ہونے کی آواز پروہ بجلی کی سرعت سے پیچھے پلٹی اور مقابل کو دیکھ کر اس کی روح جیسے جسم سے کھنچ گئی۔ ’’اوہو‘ کتنی خوبصورت گھڑی ہے یہ کہ میں اور تم اس کمرے میں تنہا ہیں۔‘‘ وہ بے باکانہ نگاہوں سے اس کے سراپے کا جائزہ لیتے ہوئے بولا۔ مژگان کا پورا جسم کانپ اٹھا۔ دماغ سائیں سائیں کرنے لگا۔ کالے کپڑوں میں ملبوس کالی گہری آنکھوں میں سوگواری کی دبیز تہہ لئے جس کے اندر سے چھلکتی گلابیوں نے اس کی آنکھوں کو مزید قاتل بنادیا تھا۔ ارباز کو بہکاگئی۔ ’’بند کرئیے اپنی یہ فضول بکواس۔‘‘ مژگان درشتگی سے بولتی ہوئی تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی لیکن یہ کیا؟ ارباز نے آگے بڑھ کر فرار کے سارے راستے مسدود کردیئے۔ ’’مسٹر ارباز ہوش کیجئے‘ چھوڑئیے میرا راستہ۔‘‘ مژگان کانپتی ہوئی لڑکھڑاتی آواز میں بے ربط سی ہو کربولی۔ ’’ارے جان‘ تمہارے اس حسین مکھڑے اور دلکش سراپے نے مجھے خود سے بیگانہ کردیا ہے اور تم کہتی ہو کہ ہوش کروں۔‘‘ ارباز گنگنا کربولتے ہوئے ا س کی طرف بڑھا۔
August 27, 201114 yr Author ’’خبردار‘ جو ایک قدم بھی آگے بڑھایا مم…میں شور مچادوں گی۔‘‘ وہ ہکلا کر بولی۔ ارباز قہقہہ لگاکر ہنس پڑا۔ اس وقت باہر کوئی بھی نہیں ہے اور ویسے بھی کمرہ سائونڈ پروف ہے اور تمہارا باس مسٹر اسفر علی خان بھی ابھی ہی نکلا ہے۔‘‘ اوہ تو یہ میری تاک میں تھا۔ اب کیا کروں۔ اے میرے مالک! مجھے اس خونی بھیڑیے سے بچالے۔ مژگان دل ہی دل میں دعائیں مانگنے لگی۔ یکدم اس نے مژگان کی پھول جیسی کلائی اپنے درندے نما ہاتھوں میںجکڑلی۔ ’’ارباز! چھوڑو مجھے ۔‘‘وہ حلق کے بل دھاڑی۔ اورشاید یہ قبولیت کا وقت تھا کہ یک لخت دروازہ زور زور سے بجایا جانے لگا۔ ارباز اورمژگان دونوں نے بے ساختہ دروازے کی طرف دیکھا۔ اسفر جو گھر جانے کے لئے آفس سے کافی دور نکل آیا تھا کہ معاً اپناموبائل یاد آنے پر گاڑی ریورس کرکے آفس آیا۔ جو وہ اپنے کمرے میں بھول آیا تھا۔ پارکنگ پر ارباز کی گاڑی دیکھ کر وہ بری طرح چونک گیا۔ پھر جیسے کوئی خیال بجلی کی مانند کوندا۔ جس وقت وہ عجلت میں اپنے روم سے باہر نکلا تھا مژگان فائل میں سرنیہواڑے دنیا ومافیہا سے بے خبر کام میں مصروف تھی۔ اسے اسفر کے جانے کا بھی احساس نہ ہوا۔ وہ تیر کی تیزی سے تقریباً بھاگتے ہوئے اندر آیا اور اپنے روم کا دروازہ لاکڈ دیکھ کر اسے بے تحاشا انداز میں پیٹ ڈالا۔ اس کا خیال سو فیصددرست ثابت ہوا۔ سرخ آنکھیں لئے ارباز نے کافی گھبرا کر دروازہ کھولا۔ اسفر جس تیزی سے اندر آیا اسی تیزی سے کوئی وجود اس سے بری طرح ٹکرایااور اس کے شانے سے لپٹ کر بری طرح سسک اٹھا۔ ’’سر پلیز مجھے اس وحشی سے بچالیں پلیز سر‘ مجھے یہاں سے لے چلیے۔‘‘مژگان انتہائی خوف وبے بسی کے عالم میں روتے ہوئے بول رہی تھی اوراسفر کو اس سمے یوں لگا جیسے کوئی آتش فشاں اس کے اندر پھوٹ پڑا ہو۔ اس نے کینہ توز نگاہوں سے ارباز کودیکھا۔ ارباز گڑبڑا ساگیا۔ ’’دیکھو اسفر۔‘‘ ’’شٹ اپ ارباز آصف۔‘‘وہ اس کی بات کاٹ کر شیر کی مانند دھاڑا۔ ’’تمہیں ہمت کیسے ہوئی کہ میرے روم میں میرے ہی ورکر کے ساتھ یہ بدتمیزی کرو۔‘‘ ارباز اس کے اشتعال کو دیکھ کراندر ہی اندر خائف ہو کر بولا تھا جسے سن کراسفر جیسے گرم تندور میں جاگرا تھا۔ ’’یار یہ سب تو چلتا ہی ہے۔ اور پھر یہ سب تو تمہارے لئے بھی نیا نہیں ہے۔‘‘ ’’ارباز اپنی زبان یہیں روک لو۔ وگرنہ میں کچھ کربیٹھوں گا۔ میں تمہاری طرح اتنارزیل اور کمینہ نہیںہوں کہ کسی مجبور اور بے بس لڑکی کے ساتھ زبردستی کروں۔‘‘ جبکہ مژگان اسفر کے شانے سے علیحدہ ہو کرایک جگہ ہراساں سی کھڑی ساری کارروائی دیکھ رہی تھی۔ ’’اوہ تو پھر یوں کہو نہ کہ تم بھی اس کے طلبگار ہوگئے۔ اس کے حسن کی کشش نے تمہارے سارے اصولوں کو پانی میں بہا کر تمہیں…‘‘ ’’ارباز۔‘‘ وہ اتنے زور سے دھاڑا کہ مژگان کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔ اور پھر اگلے ہی لمحے وہ دونوں گتھم گتھا ہوگئے۔ مژگان بری طرح حواس باختہ ہوگئی اور لرزتے ہاتھوں سے انٹر کام کے ذریعے باہر کھڑے گارڈ کو اوپر بلالیا۔ جس نے بمشکل دونوں کو علیحدہ کیا۔ ’’دیکھ لوں گا اسفر تم کو۔تم نے اس دوٹکے کی لڑکی کی خاطر میری دوستی پر لات ماری ہے۔‘‘ اسفر دوبارہ بپھر کر پھر اس کی طرف لپکا لیکن گارڈ نے اسفر کومضبوطی سے پکڑلیا۔ ارباز سنگین نتائج کی دھمکی دیتا فوراً رفوچکر ہوگیا۔ گارڈ بھی اسفر کوٹھنڈا کرکے باہر چلا گیا۔ اسفر اپنے ہونٹوں کے کنارے سے نکلتے خون کو اپنی آستین سے صاف کرنے لگا جبکہ مژگان کونے پر ڈری سہمی کھڑی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ وہ یہاں سے بھاگ نکلے یا اس مہربان کا شکریہ ادا کرے جس نے اس کی عزت بچائی تھی۔ معاً اسفر کی نگاہ ہراساں سی مژگان پر پڑی۔’’کیا ضرورت تھی ارباز کی موجودگی میں تنہا اندر آنے کی۔‘‘ وہ اس پربرس پڑا۔ مژگان حیران رہ گئی۔ ’’سر! آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ جب میں فائل رکھنے آئی تھی تو کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ اس نے پیچھے سے آکر۔‘‘ وہ محض منمنا کررہ گئی۔ ’’آئیے میرے ساتھ۔‘‘ وہ سختی سے بولتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر آگیا تومژگان بھی باہر ٹیبل سے اپنا پرس اُٹھا کر تقریباً اس کے پیچھے بھاگی اور چپ چاپ اس کے ہمراہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر پہلے گزرنے والا اعصاب شکن واقعہ ابھی تک اس کے حواسوں کو مختل کئے ہوئے تھا۔ اسفر انتہائی دھیمی رفتار سے ڈرائیونگ کررہاتھا۔ قمیص کے اوپری دوتین بٹن ٹوٹ چکے تھے جبکہ ہونٹ کا کنارہ زخمی تھا۔ ’’مژگان! کیا آپ مہران حیدر کی سگی بہن ہیں؟‘‘ سوال انتہائی غیر متوقع تھا۔ مژگان اسے اچنبھے سے دیکھنے لگی۔ ’’یس سر! وہ میرے سگے بھائی ہیں۔‘‘ مژگان گہری سانس لیتے ہوئے بولی۔ ’’تو پھر آپ کیوں اتنی معمولی سی جاب کررہی ہیں۔ آخر ایسی کیامجبوری ہے۔‘‘ دماغ میں کئی دنوں سے کلبلاتا سوال آج اسفر کے ہونٹوں میں آکر آزاد ہوگیا۔
August 27, 201114 yr Author ’’آپ نہیں سمجھیں گے سر۔‘‘ کیوں کہ آپ ایک مرد ہیں اور ایک مرد کبھی بھی عورت کے دکھ اور اس کی مجبوری کو نہیں سمجھتا۔ البتہ اس کی مجبوری کافائدہ ضرور اٹھاتا ہے۔‘‘لہجہ تھا یا پھر بہت سارے ٹوٹے ہوئے کانچ اسفر محض اسے دیکھ کررہ گیا۔ بھیگی ہوئی آواز میں نجانے کتنی آہیں اور گونگی سسکیاں گونج رہی تھیںاور گیلی آنکھوں سے برسات بس برسناہی چاہتی تھی۔ ’’دیکھئے مژگان آپ اپنے دل کا بوجھ مجھ سے کہہ کر ہلکا کرسکتی ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں بہت اچھا انسان ہوں آپ کی ضرور مدد کروں گا۔ لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ آپ کی مجبوری کا کبھی ناجائز فائدہ نہیں اٹھائوں گا۔‘‘ وہ مضبوط لہجے میں بولا۔ وہ بھی اپنے دل میں بوجھ لئے لئے تھک گئی تھی۔ کبھی کبھی اسے یوں محسوس ہوتا کہ اس بوجھ تلے کہیں اس کا دل ہی نہ بندہوجائے۔ اوراسفر نے اسے ارباز سے بچا کر یہ بخوبی ثابت کردیاتھا کہ وہ اس کی کمزوری سے فائدہ نہیں اٹھائے گا۔ یک لخت مژگان نے اسے سب کچھ بتانے کا فیصلہ کرلیا۔ اپنی بھابیوں اور بھائی کی کج ادائیاں ‘طلاق کے بعد ماں کی موت‘ خاندان والوں کے رویے سب کچھ بتادیا۔ لیکن وہ نہیں بتایا جو اسفر جاننا چاہتاتھا۔ ’’لیکن مژگان‘ اس شخص نے آپ کو شادی کی دوسری صبح ہی طلاق کیوں دے دی۔‘‘ اسفرالجھتے ہوئے استفسار کررہاتھا۔ ’’آپ جان کر کیا کریں گے۔ یہ راز میں کسی کو نہیں بتائوں گی سر۔‘‘ وہ قطعیت سے بولی تو اسفر محض اسے دیکھ کر رہ گیا۔ ’’لیکن اتنا بتادوں کہ …‘‘ وہ اٹک سی گئی لیکن پھر تھوڑا سنبھل کر بولی۔’’وہ شخص مجھے اپنے گھر رخصت کرکے لے جانے کے بعد صبح ہی کمرے میں آیا تھا۔ اور طلاق کا جھومر رونمائی کے تحفے کے طور پر میری پیشانی پر سجا گیا لیکن میری اس بات پر کسی نے یقین نہیں کیا۔‘‘وہ رندھے ہوئے لہجے میں بولی۔ ’’کیا نام تھا اس شخص کا؟‘‘ موڑکاٹتے ہوئے اسفر نے یونہی پوچھ لیا۔ ’’آذر ملک۔‘‘ اسفر کاپیر یکدم بریک پر جاپڑا اور گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔ مژگان نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا۔ جس کا چہرہ انتہائی متغیر ہورہاتھا۔ ’’سر‘ آپ ٹھیک تو ہیں؟‘‘ مژگان کی پریشان سی آواز اسفر کے کانوں میں آئی تو بمشکل اسفر نے اپنے آپ کو سنبھالا۔ ’’یس آئی ایم اوکے۔‘‘…’ ’مژگان مجھے تمہاری طلاق کی وجہ معلوم ہوگئی ہے۔‘‘ وہ دل ہی دل میں مژگان سے مخاطب ہو کربولا اور پھر اگلے ہی پل گاڑی فل اسیپڈ پر دوڑا دی۔ جبکہ اسی اسپیڈ سے اسفر کا ذہن بھی دوڑ رہاتھا۔ دوسرے دن ہی آفس سے واپسی پر ارباز آصف نے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے اسفر پر حملہ کروادیا۔ خوش قسمتی سے اسفر بال بال بچ گیا۔ گولی اس کے بازو کو چیرتی ہوئی نکل گئی تھی۔ پولیس نے ارباز کوگرفتارکرلیا تھا۔ اس وقت اسفر ہوسپٹل میں ایڈمٹ تھا جبکہ اس حادثے کے بارے میں مژگان کے فرشتوں تک کوخبرنہیں تھی۔ اگلے دن وہ آفس آئی تو ہر ایک کی زبان پر اسفر کے ساتھ ہونے والے حادثے کا ذکر تھا۔ جسے سن کروہ سناٹے میں آگئی۔ دماغ جیسے مائوف ساہو گیا ۔ یہ سب میری وجہ سے ہوا۔ بھابی ٹھیک کہتی ہیں میں ہوں ہی منحوس‘ ہر کوئی میری بدولت دکھ اورمشکل میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ وہ شرمندگی وندامت کے سمندر میں ڈبکیاں کھانے لگی ۔ vvv ’’ارے آذر تم ! پاکستان کب آئے؟‘‘اسفر جو ہوسپٹل کے بیڈ پر لیٹامیگزین دیکھ رہاتھا آذر کو اپنے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر انتہائی متعجب ہوکربولا۔ جبکہ لہجہ جوش وخوشی سے بالکل عاری تھا۔ ’’پہلے تم یہ بتائو‘ تم ٹھیک تو ہو۔‘‘ وہ اس کی حیرانی کو نظر انداز کرتے ہوئے انتہائی متفکرانہ انداز میں بولا۔ ’’میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘ اسفر اس کی پریشانی دیکھتے ہوئے دھیرے سے مسکرادیا۔ ’’یہ تم نے بیٹھے بٹھائے کس بات پر اپنے بزنس پارٹنر سے دشمنی مول لے لی۔ میں کل شام ہی بزنس کے سلسلے میں یہاں آیا اور آج تمہارے گھر گیا تو دینو بابا سے معلوم ہوا کہ موصوف اسپتال میں زخمی پڑے ہیں۔ آذر تفصیل سے بولا۔ ’’بس یار ایسا بھی ہوجاتا ہے۔‘‘ وہ ٹالنے والے انداز میں بولا۔’’اور تم سنائو کیسے ہو اور فرحین کیسی ہیں؟‘‘اسفر کے استفسار پر آذر کے مسکراتے ہونٹ یک لخت سمٹ گئے۔ اسفر ‘آذر اور فرحین یہ تینوں یونیورسٹی کے زمانے کے گہرے دوست تھے جبکہ فرحین اور آذر ایک دوسرے کو بہت پسند کرتے تھے۔ ایم بی اے کرنے کے بعد فرحین اپنے والدین کے ساتھ لندن سیٹل ہوگئی تو آذر بھی اعلیٰ تعلیم کے حصول اور فرحین کی کشش میںلندن چلاگیا۔ جبکہ اسفر علی خان نے اپنے باپ کابزنس سنبھال لیا۔ آذر کے جانے کے کچھ عرصے بعد ہی اس کی بہن کے ساتھ بہت بڑا حادثہ ہوگیا چونکہ اسفر آذر کے گھر آتا جاتاتھا لہٰذا ہر بات سے واقف تھا۔ اسے بھی نشاء کی بے بس موت کا سخت رنج ہوا۔ وہ دیکھ رہاتھا کہ آذر نشاء کے قاتل سے بدلہ لینے کے لئے سخت بے چین ہے لیکن وہ یہ
August 27, 201114 yr Author نہیں جانتاتھا کہ وہ اپنی معصوم بہن کاانتقام اسی جیسی ایک معصوم اور بے گناہ لڑکی یعنی اس شخص کی بہن سے لے گا۔جس کانام مژگان حیدر تھا۔ جوآذر کے انتقام کی بھینٹ چڑھ گئی تھی۔ کتنی مماثلت تھی نشاء اور مژگان میں ایک ابن آدم کی ہوس کا نشانہ بنی اوردوسری ابن آدم کے ہی اندھے انتقام کاشکار ہوئی۔ ایک نے اس سے زندگی کا حق چھین کر موت کے ہولناک اندھیروں میں دھکیل دیا اور دوسرے نے اس کا مان‘ غرور اور اس کے پندار کو چھین کر اسے اذیت ناک زندگی گزارنے پرمجبور کردیا لیکن مژگان نشاء سے کہیں زیادہ بہادر نکلی اس نے رسوائیوں کے خوف سے خودکشی نہیں کی۔ بلکہ ہر تیر ہر وار کواپنے دل میں سہا۔ اس نے زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حالات کامقابلہ کیا۔ ’’اسفر‘ اسفر۔‘‘ ’’آں ہاں۔‘‘ اسفر‘ آذر کی آواز پر جیسے گہری نیند سے جاگا۔ ’’تم ٹھیک تو ہو۔‘‘ آذر پریشان ہوکربولا۔ ’’ہاں ٹھیک ہوں‘ کیوں کیا ہوا؟‘‘ اسفر دھیرے سے بولا۔ ’’اتنی دیر سے میں بول رہا ہوں اور تم نجانے کن بھول بھلیوں میں گم ہو۔‘‘ وہ خفا خفا سا بولا ۔ ’’سوری یار۔‘‘ وہ شرمندہ ہوگیا۔’’تم نے بتایا نہیں فرحین کیسی ہے؟‘‘ اچانک اسے اپنا سوال یاد آگیا۔ ’’فرحین ٹھیک نہیں ہے اسفر۔‘‘ آذر کے لہجے میں جیسے دکھ سمٹ آیا۔ ’’کیوں کیا ہوا؟‘‘ ’’اسفر فرحین کبھی ماں نہیں بن سکتی۔‘‘ آذر انتہائی آزردگی سے بولا۔ ’’اوہ۔‘‘ یہ سن کر اسے بھی دکھ ہوا۔ ’’جانتے ہو اسفر‘ وہ کہتی ہے کہ ہمیں اس کی بددعا لگی ہے‘ اسفر اس کی سسکیوں نے ہماری زندگی سے قہقہوں کو چھین لیا‘ ہمیں اس کے آنسوئوں نے ہماری خوشیوں کے رنگوں کو بہادیا‘ اس کی آہوں نے ہمیں ٹھنڈی بہاروں سے نکال کر جلتے ہوئے خزاں کے موسم میں دھکیل دیا۔‘‘ آذر بکھرا بکھرا سا بولے جارہاتھا۔اوہ تو تم بھی مژگان کو دکھ دے کر خوش نہیں رہے اور خوش رہ بھی کیسے سکتے تھے۔ ایک معصوم اور بے گناہ کو تم نے اپنے بدلے کی صلیب پرجو چڑھادیاتھا۔وہ تاسف سے سوچے گیا۔ ’’اسفر‘ جن دنوں تم مانچسٹر گئے تھے میں پاکستان آیا تھا۔ میں نشاء کا انتقام لینے کے لئے بالکل اندھا ہوگیا تھا۔ میں فول پروف پلان کے ساتھ یہاں آیا اور اس ذلیل انسان کی بہن سے شادی کی اور پھر اگلی صبح ہی طلاق نامہ اس کے ہاتھوں میں تھما کر اپنا انتقام پورا کرلیا۔ لیکن اسفر یقین کرو‘ اس دن کے بعد سے ہی میںبہت بے سکون ہوگیا۔ میرا ضمیر مجھے ہروقت سرزنش کرتا ہے مجھے ڈائریکٹ کامران حیدر سے انتقام لینا چاہئے تھا لیکن میں انتقام کی آگ میں بالکل اندھا ہوگیاتھا۔‘‘ وہ ندامت سے چور لہجے میں بولا۔ اسفر بالکل خاموش بیٹھا اس کی کتھا سن رہاتھا۔ جو وہ پہلے سے ہی جانتاتھا۔ ’’مجھے اس کی بہن کومہرہ نہیں بنانا چاہئے تھا‘ بلکہ اس کمینے سے۔‘‘ ’’وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے۔‘‘ اسفر اس کی بات کاٹ کر آہستگی سے بولا۔ آزر جیسے بھونچکا سا رہ گیا۔ ’’تمہیں کیسے معلوم کہ کامران حیدر۔‘‘ ’’اسفر کو آذر کے سوال کا جواب دینے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ کوئی دروازے پر دستک دے کراندر داخل ہوا‘ جسے دیکھ کر آذر کے سر پر ساتوں آسمان گر پڑے اور مقابل کی حالت بھی آذر سے مختلف نہیں تھی۔ساکت ہاتھوں سے یک لخت پھولوں کابوکے گرا اور وہ الٹے پائوں تیزی سے باہر کی طرف بھاگی۔ ’’مژگان…!‘‘ آذر انتہائی بے چینی کے عالم میں اسے پکارتا ہوا باہر کی طرف لپکا لیکن وہ ہوا کے جھونکے کی مانند یہ جا وہ جا ۔ ’’اسفر! یہ یہاں کیسے آئی؟کیاتم اسے جانتے ہو‘ اسفر پلیز ٹیل می۔‘‘ آذر تڑپ کر اسفر کے قریب آیا اور اس کو اپنے ہاتھوں سے جھنجوڑ ڈالااور پھر اسفر نے اسے سب کچھ بتادیا۔ ’’تم میں اور کامران حیدر میں کیا فرق ہے آذر‘ کامران حیدر نے نشاء کو رسوائیوں کے اندھیرے میں دھکیلا اور تم نے مژگان کو بدنامیوں کے غار میں لیکن مژگان بہت عظیم نکلی۔ اس نے کسی کے بھی سامنے تمہیں برابھلا نہیں کہا اور مجھے یقین ہے کہ اس نے تمہیں کبھی بددعا بھی نہیں دی ہوگی۔ اس نے تو انتہائی ضبط وصبر کے ساتھ اپنے بھائی کے گناہ کو اپنے بے داغ دامن مین چھپالیا اورتمہاری کم ظرفی
August 27, 201114 yr Author اور درندگی کو اپنے آنچل میں باندھ لیا بلکہ درپردہ اس نے تمہاری بہن کی رسوائیوں کوبھی اپنے سینے میں چھپالیا وگرنہ حقیقت کھلنے پر لوگ تمہاری معصوم بہن پر بھی کیچڑ اچھالنے سے دریغ نہیں کرتے۔ نہیں آذر ملک ! وہ عظیم لڑکی کبھی بددعا نہیں دے سکتی۔ اس کا ضبط و صبر تم دونوں کو لے ڈوبا۔‘‘ اسفر بولتا چلا گیا اور آذر گویا ندامت اور شرمندگی کے گہرے کنویں میں اتر گیا۔ vvv ٹھنڈی ٹھنڈی خوشبوئوں سے بوجھل ہوائیں میرے تن من کو مہکاجاتی ہیں۔میرے دل کے آنگن میں مسرت وطمانیت اور چاہتوں کے پنچھیوں نے ڈیرہ جمالیا ہے۔ میری آنکھوں میں سکون وطمانیت اور چاہے جانے کا رنگ ہمیشہ کے لئے ٹھہر گیا ہے۔ میرے ہونٹوں پر الوہی مسکراہٹ نے اپنا بسیرا کرلیا ہے اور میرے دامن میں قدرت نے اتنی خوشیاں بھردی ہیں کہ جنہیں سنبھالنا مشکل ہوگیا ہے اور ان سب چیزوں کا کارن صرف اسفر علی خان کی ذات ہے جس نے مجھے فرش سے اٹھا کر اپنی پلکوں کے عرش پر انتہائی شان وفخر سے بٹھادیا ہے۔ جس نے میرے ادھورے وجود کو اپنی چاہت وتوجہ سے مکمل کردیا ہے۔ اور میری دونوں بھابیاں جو مجھے منحوس اور قابل نفرت سمجھتی تھیں آج مجھ سے انتہائی مرعوب نظر آتی ہیں۔ مہران بھیا بھی مجھ سے بڑے لحاظ ومروت سے ملتے ہیں۔ کیونکہ اب میں درخت سے ٹوٹا وہ خزاں رسیدہ پتہ نہیں ہوں جوزمانے کی تندوتیز ہوائوں میں اُڑ رہا تھا بلکہ ڈال میں کھلے اس گلاب کی مانند ہوں جس کامالی دن ورات اس کی حفاظت کرتا ہے۔ میں مژگان حیدر نہیں بلکہ مسز مژگان اسفر ہوں ہاں اسفر! میرا شوہر میرا غرور میری ادھوری ذات کو مکمل کرنے والا اور یہ سچ ہے کہ اگر اس دن میں اسفر کی بات نہ مانتی تو وہی بے چینی وبے سکونی کے کالے سائے میری زیست پر ہمیشہ کے لئے چھاکر میرے دامن میں وہی کسک واضطراب ڈال جاتے جو بھیا‘ آذر اور فرحین کی زندگی کو کھوکھلا کررہے تھے۔ کتنی عجیب بات ہے نا کہ ایک وہ مرد ‘آذر ملک تھا جس نے مجھے تپتی دھوپ کے نیچے لاکھڑا کیا تھا اورایک مرد اسفر علی خان ہے جس نے اس سلگتی اور جلتی دھوپ سے مجھے کھینچ کر اپنی محبت کی ٹھنڈی چھائوں میں پناہ دی۔ اس دن‘ ہوسپٹل میں‘ میں آذر اور اسفر کو ایک ساتھ دیکھ کر اسفر سے سخت بدگمان ہوگئی‘ میں سمجھی کہ آذر مجھے پھر برباد کرنے کے لئے کوئی چال چل رہا ہے اوراسفر اس کا ساتھ دے رہا ہے ۔میرا خودساختہ انکشاف میرے لئے سخت اذیت کاباعث تھا۔ کیونکہ میں انجانے میں اسفر کو چاہنے لگی تھی۔ پھر ایک دن اسفر میرے پاس آیا اور تمام حقیقت سے مجھے آگاہ کیا۔ سچائی اس کے چہرے اور آنکھوں سے بخوبی جھلک رہی تھی۔ اس نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ ’’مژگان تمہیں دکھ دے کر آذر بھی سکون سے نہیں ہے‘ یہ نفرت اور محبت دونوں ہی ایسی ہیں جو انسان کو کسی پل چین نہیں لینے دیتیں میں جانتا ہوں کہ تمہارا آذر کے ساتھ نفرت کا رشتہ ہے جو تمہیں اسے کبھی بھولنے نہیں دے گا۔ تم نفرت کی آگ میں جل کر خودبھی بے سکون وبے قرار رہوگی۔ میری درخواست ہے کہ تم اسے معاف کردو۔ کیونکہ معاف کردینے کاپرکیف احساس تمہاری زندگی کوسکون وطمانیت سے بھردے گا۔ وگرنہ تم بھی نفرت کے احساس میں تاحیات سلگتی رہوگی۔‘‘ اورمیں جیسے مسمریزم کی کیفیت میں اسفر علی خان کی باتیں سنے جارہی تھی۔ اس کا ایک ایک لفظ میرے دل میں اتر رہاتھا جو کہہ رہاتھا۔ ’’مژگان تمہاری زندگی میں یہ غموں اور دکھوں کی دھوپ ڈھل جائے گی۔ تمہاری زندگی میں صرف خوشیاں مسرتیں اور اطمینان ہوگا تم آذر کو معاف کردو اورمیری بانہوں کی چھائوں میں آکر پناہ لے لو‘ میرا یقین کرو مژگان! یہ دھوپ ڈھل جائے گی۔‘‘ اسفر کی آخری بات پر میں نے سخت متعجب ہو کراسے دیکھا جو کہہ رہاتھا۔ ’’مژگان میں تم کوچاہتا ہو آج سے نہیں بلکہ اس وقت سے جب مجھے تمہاری طلاق ہونے کی وجہ بھی معلوم نہیں تھی‘ میں اپنے سابقہ خیالات پر نادم ہوں مژگان۔‘‘ وہ آہستگی سے بولا۔ یہ آخری پھانس بھی میرے دل سے نکل گئی اور پھر میں نے آذر کو خلوص دل سے معاف کرکے اسفر کی بانہوں میں پناہ لے لی اور پھر میری زندگی سے دکھوں اور تکلیفوں کی دھوپ واقعی ڈھل گئی۔ وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کھولے جانے کتنی دیر سے سوچے جارہی تھی۔ معاً اسفر کی گاڑی کا ہارن بجا تو وہ یک لخت ماضی کی گلیوں سے باہر آگئی اور انتہائی سرشاری سے اسفر کااستقبال کرنے باہر چلی گئی۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ آفس سے آتے ہی وہ صرف اس کی صورت دیکھنا چاہتا ہے اورنیلگوں آسمان کے سینے پربیٹھے ستاروں کے قافلے اسفر کے والہانہ پن کودیکھ کر مسکرادیئے۔ ختم شد
Create an account or sign in to comment