Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus ×
URDU FUN CLUB

اک پیغام محبت از مرحا خان


Recommended Posts

اک پیغام محبت از مرحا خان

 

آئیے آئیے جی جی "آپ".. ہم آپ ہی سے مخاطب ہیں۔ ارے ادھر کدھر دیکھ رہے ہیں۔ حیران مت ہوں،،، سیدھے چلیے۔ آئیے ملواتے ہیں آپکو "شاہ ہاؤس" کے مكینوں سے۔

اس خوبصورت سے گھر کے دالان میں کرسی پر اخبار کا مطالعہ کرتے جو صاحب براجمان ہیں وہ اس گھر کے سربراه "عدیل شاہ" ہیں۔

ان کے عقب میں جھانکئے تو گھاس پر لیٹا آنکھوں کو چھوٹا کیے آسمان کو تکتا انکا چھوٹا لاڈلا سپوت ہے جو عمر میں پندرہ سال کا ہونے کے باوجود اپنے بابا کا چھوٹو شا بےبی ہے۔

اب تھوڑا دائیں طرف جانے والے راستے پر مُڑیں۔ جی "آپ" ہی سے مخاطب ہیں ہم۔۔۔

اجی آگے بڑھ کر سامنے والے کمروں میں جھانکئے لیکن یہ کیا کمرے تو خالی ہیں تو باقی مكین کہاں گئے؟

ٹھہریے،،، زیادہ سوچئے مت۔۔ اپنے بائیں طرف باورچی خانے میں جھانکئے۔۔ یہ پانی کی بوتل پٹخ کر منہ میں کچھ بڑبڑانے والے صاحب، عدیل شاہ کے بڑے سپوت "شاہ ویر" صاحب ہیں جنکا غصہ اکثر انکی ناک پر سوار رہ کر بیچاری ناک کو هلكان کرتا ہے۔

بدمزاج بھی انتہا کے ہیں۔ انکے ایسا ہونے کی بھی کچھ وجوہات ہیں۔ صبر رکھیے،، بتائیں گے،، سب بتائیں گے۔

یہ دو بیٹے ہی "عدیل شاہ" کی کل کائنات ہیں۔ زوجہ محترمہ اس "دیارِ فانی" سے کوچ کر چکی ہیں۔

اب اسی خاموشی سے باہر چلیے کیوں کہ یہاں اب جنگِ عظیم کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ اب ہم چلتے ہیں۔ ہمیں گیا وقت سمجھ کر بھولیے گا مت۔ پھر ملیں گے۔۔

بابااااااااااا !! شاہ میر کے چیخنے پر عدیل شاہ نے رخ موڑ کر گھاس پر لیٹے اپنے لاڈلے سپوت کو دیکھ کر مسکراہٹ دبائی۔ جسکے چہرے پر گندی شرٹ اڑتی ہوئی آ کر گری اسکے معصوم چہرے کو بوسہ دے رہی تھی۔

اخبار میز پر رکھتے انہوں نے تنبیہی نظروں سے لان کے دہانے کھڑے شاہ ویر کو دیکھا۔ جو چہرے پر بیزاری کے تاثرات سجاۓ کھڑا تھا۔

ویر ۔۔۔؟ انہوں نے مزید گھوری سے نوازا تو ویر نے غصے سے شاہ میر کو دیکھا جو گھاس پر منہ پھلاۓ بیٹھا تھا۔۔

بابا۔۔۔؟ میر نے ناراض نظروں سے اپنے وجیهہ بھائی کو دیکھا جو بیزار نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

میرو ،، کب سے تمہیں بلا رہا ہوں۔ کان بند ہیں کیا تمھارے؟؟

کیا بھائی ،، اتوار کے دن بھی سکون سے نہیں بیٹھ سکتا اب انسان،،، عجیب مصیبت ہے۔۔

زیادہ بک بک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب پتہ ہے سب کام خود ہی کرنے ہیں تو زیادہ منہ بنانے کی ضرورت کیا ہے۔۔

عدیل شاہ نے گہری سانس لے کر اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھا۔ جو بنیان ٹراؤزر میں ملبوس ہاتھ میں گیلے کپڑے اٹھاۓ ہوئے تھا جو غالبًا ابھی دھو کے آیا تھا۔

اسکا كسرتی جسم اسکے دراز قد پر بہت بھلا لگتا تھا۔ ویر نے بےدیهانی میں صابن لگے ہاتھ سے ماتھے پر بکھرے بال سمیٹے۔۔۔

صابن کی جھاگ نے اسکے بالوں کو عجیب مضحکہ خیز بنا دیا۔ احساس ہونے پر اسنے جهنجهلا کر اپنے ہاتھ کو دیکھا۔۔

عدیل شاہ نے مسکراہٹ دبائی۔۔ میرو کو منہ چڑاتا دیکھ کر وہ پاؤں پٹختا ہوا گھر کے پچھلے حصے کی طرف چلا گیا۔

چلو میرو بیٹے ہم بھی کچھ خدمات انجام دیں۔ عدیل شاہ نے پینٹ کو ٹخنوں سے اوپر موڑتے ہوئے کہا۔

میرو بھی منہ بناتا انکے پیچھے چل دیا۔

میر تم دُھلے کپڑوں کو ڈرائیر میں ڈال کر سکھاتے جاؤ۔۔ ویر نے مڑ کر عدیل شاہ کو دیکھا جو میر کو ہدایت دیتے دُھلے کپڑے تار پر ڈالنے لگے تھے۔

ہلکی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے وہ دوبارہ مشین سے کپڑے نکال کر دھونے لگا۔

ویر کی مسکراہٹ دیکھ کر میر کو شرارت سوجھی۔ بابا۔۔۔ ویسے ۔۔۔

ویر نے آنکھیں سكیڑ کر اسے دیکھا جو پٹاخے پھوڑنے سے باز نہ آتا تھا۔

بابا سنیں تو،،،

ہاں بولو۔۔ انہوں نے مصروف سے انداز میں کہا۔

بابا، ویر بھائی شادی کے بعد بھی ایسے ہی کپڑے دھویا کریں گے ؟ بھابھی کہیں گی سنیے جی ذرا یہ بچوں کے "کچھے" تو دھو دیں۔ ہاہاہاہاہاہاہاہا ،،،، وہ دوہرا ہو کر ہنسنے لگا۔

اسے جیسے یہ سوچ کر ہی مزہ آیا تھا۔ عدیل شاہ نے ہاتھ میں پکڑا تولیہ اس کے منہ پر دے مارا۔ تهپ کی آواز کے ساتھ تولیہ اسکے منہ پر لگا۔

وہ جو دوہرا ہو کر ہنس رہا تھا توازن بگڑنے پر دھڑام سے نیچے گرا۔

اب کہ ویر کا قہقہہ گونجا تھا۔ عدیل شاہ نے شرارت سے ویر کو دیکھا جسکا چہرہ ہںسنے سے سرخ پر چکا تھا۔ سیاہ داڑھی سے ظاہر ہوتا ننھا سا ڈمپل اپنی ذرا سی جهلک دکھا کر شرماتے ہوۓ چھپ گیا۔

میر سے اپنی بے عزتی برداشت نہ ہوئی۔ اسنے ڈرائیر سے پینٹ کھینچ کر نکالی اور ویر کی طرف پھینکی جو اسکے منہ پر جا کر لگی۔

اب کہ عدیل شاہ کے منہ سے ہنسی کا فوارا ابلا۔ ویر نے کھڑے ہوتے صابن سے لتھڑے کپڑے میر کو کھینچ مارے۔

غلطی سے عدیل صاحب بیچ میں آ گئے اور یہ گئے سارے کپڑے انکے منہ پر۔۔۔۔ میر کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا۔ اب کہ عدیل شاہ بھی میدان میں اتر آئے۔

ویر نے اپنا بچاؤ کرتے بھاگنا چاہا لیکن میر نے اسے پاؤں سے پکڑ لیا جس سے ویر اسکے اوپر دھڑام سے گرا۔

میر اسے پیچھے ہٹاتا کھسکنے لگا لیکن عدیل صاحب نے صابن کی جھاگ دنوں کے منہ پر مل دی۔

اب ہوا "باقاعدہ جنگ" کا آغاز۔۔ یہ تو ہر "اتوار کی صبح" کا منظر تھا۔۔ بات بات پر نوک جھونک کرتے زندگی کو اپنے انداز سے جیتے اس گھر کے مكین ایک دوسرے کو کافی تھے۔

نانوووو۔۔۔ خوشی سے چہکتا وہ گھر کا بیرونی دروازہ کھولے آندھی طوفان کی طرح اندر داخل ہوا۔۔

آئمہ بیگم نے دہل کر جہان کو دیکھا جسکا چہرہ خوشی سے جگمگا رہا تھا۔ تمیز نام کی کوئی چیز ہے تم میں ہان ۔ ایسے گھر میں داخل ہ۔۔۔۔۔۔

انکا جملہ منہ میں ہی رہ گیا۔ جہان نے آگے بڑھ کر انہیں گلے سے لگا لیا۔ نانو مجھے جاب مل گئی۔۔

یہ سن کر آئمہ بیگم بہت خوش ہوئیں۔ اللّه کا شکر ہے۔ انہوں نے اسکا ماتھا چوما۔ اللّه پاک تمھیں کامیاب کریں۔

جہان کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔( کیا تم نے بہار میں کھلتے پھولوں کو دیکھا ہے ) نظر لگ جانے کے خوف سے آئمہ نے اسکے چہرے سے فوراً نظریں ہٹائیں۔

ایسی دلکش مسکراہٹ بھی کسی کی ہو سکتی ہے۔۔؟ ان کے دل نے بےاختیار نفی کی۔

میرا پیارا بیٹا،،، چلو شاباش نہا لو ،،، میں اپنے بیٹے کے لئے تب تک کھانا لگاتی ہوں۔ جہان فرمانبرداری سے سر ہلاتا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔۔

شاور لینے کے بعد وہ بغیر شرٹ کے باتھ روم سے باہر نکلا۔۔ آئینے کے سامنے آتے وہ نرمی سے اپنے سیاہ گھنے بالوں کو تولیے سے سکھانے لگا۔۔

اسکی سوچوں کا محور وہی تھی جو بہت چپکے سے اسکے دل میں آ سمائی تھی۔

میرے بارے میں جان کر اسکا ردعمل کیا ہوگا۔۔؟؟ یہ سوچ آتے ہی مسکراہٹ اسکے عنابی لبوں پر آنے کے لئے بیتاب ہوئی جسے اسنے ہونٹوں کے کنارے دبا لیا۔

وہ جب مسکراتا تھا تو اسکی آنکھیں بھی مسکراتی تھیں جو اسکے چہرے پر ایسی چمک پیدا کرتی تھیں کہ دیکھنے والا مسحور ہوجاتا تھا ۔۔

شرٹ پہن کر بکھرے بال سنوارتے اسنے باورچی خانے کا رخ کیا جہاں رکھی چھوٹی میز پر آئمہ گرم کھانا رکھ رہی تھیں۔۔

مسکراتے ہوئے وہ کرسی پر بیٹھا اور چھوٹے چھوٹے نوالے لیتا کھانا کھانے لگا۔ آئمہ اسکے سامنے بیٹھیں اسکے چہرے کو دیکھنے لگیں۔ کتنی معصومیت تھی اسکے چہرے پر۔۔ نظروں میں بےاختیار اس کی نظر اتاری۔

کیا ہوا نانو؟؟ آج آپکو زیادہ پیار نہیں آرہا مجھ پر ؟ شریر مسکان کے ساتھ اسنے پوچھا تو آئمہ نے مسکراہٹ دبائی۔۔

وہ اپنی عمر سے بہت کم دکھائی دیتی تھیں اور عمر کے اس حصّے میں بھی خوبصورت تھیں۔ ہاں تو تمھیں مسئلہ کوئی ؟؟ جہان نے نفی میں سر ہلایا۔۔

انا کو بتایا تم نے جاب کا ؟؟ انا کے نام پر اسکی آنکھوں کی چمک بڑھی جسے آئمہ خوب سمجھتی تھیں۔۔

تھوڑی دیر تک وہیں جاؤں گا۔۔

تایا سے بھی مل لینا،، گلہ کر رہے تھے کہ پچھلی دفعہ بغیر ملے ہی چلے گئے تھے۔۔

جی مل لوں گا۔۔۔

اک خواب نے آنکھیں کھولی ہیں^°•

•°کیا موڑ آیا ہے کہانی میں°•

وہ بھیگ رہی تھی بارش میں°•

\~اور آگ لگی ہے پانی میں\~

ہم پھر سے حاضر ہیں۔۔ کہیں آپ ہمیں بھول تو نہیں گئے؟؟ چلیں آپکو لے کر چلتے ہیں ایک نئے کردار کی طرف۔۔

گھر کے دروازے کو کیا ہونقوں کی طرح تک رہے ہیں،، اجی اندر چلئے،، بارش میں ساکت بیٹھی یہ دوشیزہ کون ہیں؟؟ انکا جائزہ لیجیئے،، ہم ابھی آتے ہیں۔

ایسی طوفانی بارش میں ایسی گہری خاموشی کے ساتھ وہ برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھی تھی۔ گہرے بھورے کمر تک آتے سلكی بال بارش کے پانی سے گیلے ہونے کی وجہ سے لٹوں کی صورت چہرے کے اطراف میں چپکے تھے۔

پانی کی ایک بوند اسکے ماتھے سے ہوتے اسکی تیکھی ناک میں پہنی نوز پن پر ٹھہری اور نیچے گر گئی۔

اسکے بھورے گلابی ہونٹ معصوم سی مسکراہٹ میں ڈھلے ہوئے تھے۔ اسکی بھوری آنکھوں میں ایک خاص تاثر تھا جو کبھی سرد ہوجاتا اور کبھی آنکھوں کو خوبصورتی بخشتا۔ اکثر ان آنکھوں میں کوئی تاثر ہی نہ ہوتا۔

وہ بہت خوبصورت نہیں تھی لیکن اسکی شخصیت میں عجیب جازبيت تھی جو مخالف صنف کو اپنی اوڑھ کھینچتی تھی۔

اہم اہمم ،، ہم پھر سے حاضر ھیں۔۔ انکو جانئے،، یہ "اَنا وقار" ہیں۔ جنکو اپنی 'انا' اور 'وقار' بہت ہی عزیز ہے۔ لیکن اس وقت یہ اتنی گم صم کیوں ہیں ؟؟ دور خلاؤں میں گھورتی انکی آنکھوں میں تو جهانكیے۔

یہ ایک "نویں جماعت" کے کمرے کا منظر تھا۔ اپنی جماعت کی دو قابل ترین لڑکیاں کرسی پر براجمان اپنی استانی کے سامنے روزمره کا سبق سنانے کی غرض سے کھڑی تھیں کہ يكلخت ان میں سے ایک کی ہنسی چھوٹی۔۔

میڈم کو دیکھ کر اس نے ہنسی ضبط کرنے کی کوشش کی لیکن ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

اسکے ساتھ کھڑی عائزہ بھی اب کی بار ہنسنے لگی۔ اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ وہ دونوں پیٹ پکڑے ہنستی جارہی تھیں۔

میڈم نے پہلے کڑی نظروں سے انہیں دیکھا اور پھر وہ خود بھی مسکرانے لگیں۔

چلو دفع ہوجاؤ اپنی جگہ پر بدتمیزو۔۔

اگر انکی جگہ کوئی اور ہوتا تو يقینًا ڈانٹ کا شکار ہوتا لیکن وہ تو اپنی میڈم کی لاڈلی تھیں۔ اپنے ڈیسک تک واپس آنے تک وہ ہنستی رہی تھیں۔ اور باقی طالبعلم انہیں دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔

منظر ہوا میں تحلیل ہوا۔ انا نے آہستگی سے آنکھیں جهپكی۔۔ وہ دن زندگی کے بہترین دن تھے۔ عائزہ اور ابیحہ کی سنگت میں گزرے سکول کے دن اسے بہت یاد آتے تھے۔۔

عائزہ نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا جب کہ وہ ابیحہ کے ساتھ کالج سے بی اے کررہی تھی۔ ابیحہ اسکے ساتھ ہی ہوتی تھی لیکن عائزہ کو وہ اکثر بہت یاد کرتی تھی۔۔

ان تینوں کی دوستی بہت پرانی تھی۔ ایسے پیارے دوست بھی کسی کے ہوا کرتے ہیں؟؟ اس معاملے میں بلاشبہ وہ بہت خوش قسمت تھی۔۔

بارش اب رک چکی تھی۔۔ وہ اندر جانے کی نیت سے کھڑی ہوئی،، اسکے کپڑے اسکے وجود سے چپکے ہوئے تھے،، اسنے ہاتھ کی مدد سے قمیض کو کمر سے الگ کیا جو اسکی کمر سے چپکی اسکی نہایت پتلی کمر کو اور بھی واضح کررہی تھی۔۔

اپنی قمیض سیدھی کرتی وہ جیسے ہی پلٹی تو اسکی نگاہ جہان پر پڑی جو سینے پر ہاتھ باندھے اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔

انا نے فورًا دوپٹہ پھیلا کر اپنے آپکو ڈھانپا۔

ہان بھائی آپ۔۔؟

وعلیکم السلام۔۔ جہان نے سنجیدگی سے کہا تو انا کے چہرے پر شرمندہ سی مسکراہٹ ابھری۔

میں تمھیں کچھ بتانے آیا تھا۔ انا جو اسکی نظروں سے پزل ہورہی تھی سواليہ نظروں سے اسکی جانب دیکھنے لگی۔۔

مجھے جاب مل گئی ہے۔۔

سچ ہان بھائی،،، انا نے چہک کر کہا۔۔

ہمم بالکل سچ ۔۔

ہان بھائی میں بہت خوش ہوں۔ اللّه تعالٰی کا بہت بہت شکر ہے۔

اسکے "بھائی بھائی" کی تكرار پر اسکا حلق تک کڑوا ہوگیا۔۔ انا تم مجھے بھائی نہ کہا کرو ۔۔ اسنے سنجیدگی سے کہا تو انا نے حیران نظروں سے اسے دیکھا۔۔

ہان بھائی آپ میرے بھائی ہیں تو بھائی ہی کہوں گی نہ،،، عجیب باتیں کرتے ہیں آپ بھی۔ اسکا موڈ سخت آف ہو چکا تھا۔

وہ اسکی طرف دیکھے بغیر اندر کی جانب بڑھ گئی۔ جہان گہری سانس لیتے تیز قدموں سے بیرونی دروازہ عبور کر گیا۔

Link to comment

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے کسی بھی گروپ یا اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر ثانی سے شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین کر دیا جائے گا ۔ اور دوبارہ ایکٹو بھی نہیں کیا جائے گا ۔ موجودہ اکاؤنٹ کینسل ہونے پر آپ کو نئے اکاؤنٹ سے کسی بھی سیئریل کی نئی اپڈیٹس کے لیئے دوبارہ قسط 01 سے ادائیگی کرنا ہو گی ۔ سابقہ تمام اقساط دوبارہ خریدنے کے بعد ہی نئی اپڈیٹ آپ حاصل کر سکیں گے ۔ اکاؤنٹ بین ہونے سے بچنے کے لیئے فورم رولز کو فالو کریں۔ اور اپنے اکاؤنٹ کو محفوظ بنائیں ۔ ۔ ایڈمن اردو فن کلب

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...