Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

کسی پتھر کی مورت سے

Featured Replies

  • Author

ہوں کہ سلامہ شاہ کی یہ فطرت نہیں کہ جس کو وہ اپنے لیے ایک دفعہ پسند کرلے اور پھر اس سے دستبردار ہو جائے۔ یہ میری محبت میری انا اور غیرت کو گوارا نہیں۔ تم سے محبت میری پوری زندگی کا معاملہ ہے۔ تمہیں چاہا ہے دل کی گہرائیوں سے۔ تمہاری پرستش کی ہے۔ تمہارے پیچھے ایک عرصہ خوار ہوا ہوں۔ جب یہ سب کچھ میری شخصیت کو زیب نہیں دیتا تھا۔ بار بار اپنی عزت نفس کو کچل کر تمہیں راضی کرنا چاہا۔ حتیٰ کہ تمہاری خاطر بابا جان جیسے سنگدل، ضدی، انسان کی ضد کو موم کیا۔ صرف تم تک رسائی پانے کے لیے۔ہر پل تمہارے احساسات کا خیال رکھا ہے۔ اب مزید نہیں۔ اتنا کچھ کرنے کے بعد انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں تمہیں جھکا کر یا تو ڑ کر حاصل نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اب… میری طلب، میری جستجو، میری آرزو تم ہو… ابھی تم نے میری ضدی فطرت اور شدت پسندی دیکھی نہیں…میں توڑنا بھی جانتا ہوں اور جھکانا بھی…ذہن میں رکھنا مائی ڈیئر…‘‘ وہ ایک دھمکی آمیز نظر ڈال کر آگ برساتے لہجے میں سب سنا کر زمین پر اپنے وزنی جوتوں کی دھمک پیدا کرتا اندر بڑھ گیا۔

vvv

پاپا اپنے بابا کی عیادت کے لیے آئے تھے لیکن یہاں آکر انہوں نے مستقل رہائش کا ارادہ کر لیا تھا۔ مجھے یہ جان کر بہت اذیت ہوئی مگر میں اب بھی ان کو کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہ تھی۔ ان کے فیصلے پر خاموش رہی۔ وہ لندن کچھ ضروری امور نمٹانے چلے گئے تو میرا دل نانو کے ہاں جانے کو چاہنے لگا۔ یہاں میں سب کی توجہ کے باوجود بولائی بولائی پھرتی تھی۔بس میرا دل چاہتا تھا کہ میں یہاں سے بھاگ جاؤں۔ سلامہ شاہ اپنے کام کے سلسلے میں زیادہ تر شہر میں ہی رہتا تھا مگر ہر دوسرے دن وہ حویلی میں ہوتا تھا۔ اس کا دن بدن بدلتا رویہ…طنزیہ فقرے و عامیانہ جملے میرے ضبط کی انتہا تھی۔ نجانے میں کیسے ضبط کیے ہوئی تھی۔ نانو کی تقریباً روز ہی کالز آرہی تھیں۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتی تھیں۔ پاکستان آکر میںنے ان سے سب سے پہلے رابطہ کیا تھا اسی لیے وہ بے قرار تھیں۔میں نے سبحان انکل سے جانے کی بات کی تو وہ مجھے لے جانے کو تیار ہوگئے۔سلامہ شاہ نے البتہ مخالفت کی مگر بابا جان اور بی بی جان کے کہنے پر چپ ہو گیا۔ اس طرح میں نانو کے ہاں چلی آئی۔ انکل مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔میرا کچھ دن رہنے کا ارادہ تھا۔

ماضی کے رویوں کے برعکس سب لوگ محبت سے ملے تھے۔ یہ نہیں تھا کہ میں گزشتہ رویوں کو بھول گئی تھی لیکن یہاں اب دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ جہاں دہرانا تھا وہاں میں بھولی نہیں تھی۔ ساری ممانیاں ٹھیک سے ملی تھیں۔ ان کے بچے سب ہی ملنسار تھے۔ ان سب کے لیے میرا لندن پلٹ ہونا خاص اہمیت رکھتا تھا۔ کچھ پاپا کا مضبوط خاندانی پس منظر توجہ کا حامل تھا جو بھی تھا یہاں آکر حویلی کی نسبت میں نے زیادہ اطمینان محسوس کیا تھا۔ سب ہی کزنز لڑکے اور لڑکیاں ہم عمر تھے۔ خوب رونق ہوتی تھی۔ البتہ ان سب میں مجھے طیبہ مامی کا بڑا بیٹا شہریار سخت برا لگا تھا۔ وہ شاید مجھ سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہوگیاتھا۔ بے چارہ ہر وقت مجھے امپریس کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا۔ وہاں حویلی میں سلامہ شاہ جان کا آزار، تھا اور یہاں شہریار نیا درد پیدا ہوگیا۔ مجھے حیرت بھی ہوتی اور ہنسی بھی آتی وہ طیبہ مامی جنہیں کبھی میرا یہاں مستقل رہنا بہت کھٹکا کرتا تھا۔ وہی اب مجھ پر دل و جان سے فریفتہ ہو رہی تھیں۔ دونوں ماں بیٹا کچھ زیادہ ہی متاثر ہوئے لگ رہے تھے۔ چلیں ان کے برعکس دیگر لوگ گزارے لائق تھے۔ اسی لیے میں انہیں نظرانداز کر جاتی تھی۔

رات کو میں اپنے کمرے میں تھی جب ملازمہ نے مجھے فون کی اطلاع دی۔ میں باہر آگئی۔

’’ہیلو…‘‘

’’السلام علیکم…میں سلامہ شاہ بات کر رہا ہوں…‘‘دوسری طرف سے فوراً تعارف کرایاگیا۔ تعجب کے ساتھ میں نے ایک گہری سانس لی۔

’’جی فرمائے… کیسے زحمت کرلی۔‘‘ حسب عادت میرا لہجہ سرد ہوگیا۔

’’تم کب واپس لوٹ رہی ہو؟‘‘ جواباً وہ بھی آرام سے پوچھنے لگا۔

’’فی الحال میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں… اس ہفتے تو میں بڑی خالہ کے ہاں جاؤں گی اس کے بعد چھوٹی خالہ کے ہاں اگر جلدی فرصت مل گئی تو سوچوں گی…‘‘ جس طرح وہ میرے رویے سے چڑ رہا تھا میرا دل بھی اس چڑانے کو چاہ رہا تھا۔میں نے اسے اپنا پروگرام سنایا۔

’’کوئی ضرورت نہیں تمہیں اس طرح ادھر اُدھر سیرسپاٹے کرنے کی۔جلدی واپس آؤ۔دو تین دنوں میں چچا جان واپس آرہے ہیں اور تمہیں ان کے آنے سے پہلے یہاں ہونا چاہیے۔ بہت مل لیا تم نے اپنے رشتہ داروں سے…‘‘وہ جس طرح حاکمانہ لہجے میں کہتا مجھ پر حکم چلا رہا تھا اس سے میرا خون کھولنے لگا۔

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

’’میں آپ کی پابند نہیں ہوں کہ آپ کے حکم پر دوڑی چلی آؤں گی… حاکم ہوں گے آپ اپنی جاگیر کے… جب جی چاہے گا آؤں گی…‘‘

’’ماورا! میں نے تمہیں کہا ہے نا کہ تم واپس آؤ۔سمجھ میں نہیں آرہا جو کہہ رہا ہوں وہ کرو۔‘‘میرے غصہ دلانے پر وہ بھی غصے سے کہنے لگا۔

’’اور شاید آپ کو بھی سلامہ شاہ میری بات سمجھ نہیں آرہی۔میں فی الحال نہیں آؤں گی اور نہیں کا مطلب ہوتا ہے نہیں…سمجھے آپ…‘‘ دو ٹوک انکار کرکے میں نے کھٹاک سے فون بند کر دیا۔ ابھی میں گہری سانس لے کر واپس پلٹی ہی تھی کہ دوبارہ گھنٹی بج اٹھی۔

’’اب کون ہے…؟‘‘

’’ماورا…میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا کہ میری ضد کو آواز مت دو…تمہیں یہ دھمکی مہنگی بھی پڑسکتی ہے۔ سوچ لیں۔ کل صبح میں واپس جا رہا ہوں…تمہیں بھی ساتھ چلنا ہے میرے۔لینے آؤں گا تمہیں تیار رہنا…بصورتِ دیگر جو بھی کروں گا پھر بھگتنا۔‘‘جیسے ہی میں نے فون اٹھایا تھا اس نے پھنکارتے ہوئے کہہ کر فون بند بھی کر دیا اور میں ریسیو کو گھور کر رہ گئی۔

اگلے دن ناشتہ کرکے میں دوبارہ سوگئی۔ دس بجے کے قریب نانو نے مجھے آکر اٹھا دیا۔

’’حویلی سے تمہارے دادا کا فون آیا تھا وہ کہہ رہے تھے کہ تم آج ہی حویلی پہنچو کل تک تمہارے پاپا پاکستان آرہے ہیں۔ تمہیں لینے تمہارا تایازاد سلامہ شاہ نیچے آیا بیٹھا ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا تو میں ہونق چہرہ لیے انہیں دیکھتی رہ گئی۔

’’مگر نانو مجھے تو ابھی کچھ دن رہنا تھا…‘‘

’’میں نے سلامہ شاہ سے کہا بھی تھا لیکن وہ مان ہی نہیں رہا…کہہ رہا تھا کہ تمہیں لے کر ہی جائے گا…پھر تمہارے دادا کا بھی فون آگیا اور میں انکار نہ کر سکی…جلدی سے تیار ہو جاؤ وہ نیچے انتظار کر رہا ہے۔‘‘

سلامہ شاہ یوں اپنی دھمکی پر عمل کر دکھائے گا۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا میں روہانسی ہوگئی۔یہ شخص مجھے اپنی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش لگا۔

’’تم باتھ لے لو میں اقرا کو بھیجتی ہوں وہ تمہاری پیکنگ کر دے گی۔‘‘ نانو ہدایت دے کر باہر نکل گئیں اور میں بے بسی سے سر تھام کر رہ گئی۔

’’کتنا چالاک اور حاکم طبیعت کا مالک ہے یہ شخص۔‘‘ میں کلستے ہوئے کپڑے لے کر باتھ روم میں گھس گئی۔تیار ہو کر اپنا بیگ لے کر نیچے آئی تو وہ نانا جان کے ساتھ بیٹھا باتیں بگھار رہا تھا۔ مجھے بمع سامان کے دیکھ کر اس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ چمکی۔ جب کہ میں اندر ہی اندر بل کھاتی رہی۔

اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے بھی میرا جی چاہ رہا تھا کہ میں اس شخص کو شوٹ کردوں نجانے کیسے خود پر ضبط کر رہی تھی۔

’’کہیے ماورا جی! کیسے گزرے یہ دن؟‘‘ گاڑی اسٹارٹ کرکے گیٹ سے نکالنے بعد بہت فاتحانہ مسکراہٹ لیے پوچھ رہا تھا میں تلملا کر رہ گئی۔

’’بات نہیں کریں مجھ سے…‘‘ بے بسی نے آنکھوں میں مرچیں لگادی تھیں۔

’’اف اتنا غصہ…‘‘ وہ ہنس رہا تھا۔’’یار تم سے بات نہیں کروں گا تو پھر کس سے کروں گا۔اس وقت تم ہی مجھے دستیاب ہو۔ یوں بھی اب تم ایسی بے مروت تو مت بنو…میں تمہارے اس گھونچو کزن سے لاکھ درجے بہتر ہوں۔ فرسٹ کزن ہوں، بہت حق بنتا ہے میرا…‘‘وہ مسلسل سلگتے ہوئے لہجے میں مسکرا کر میرا جی جلا رہا تھا۔

’’میں نے آپ کو کہا بھی تھا کہ ابھی میں کچھ دن رہنا چاہتی ہوں۔‘‘ بے بسی سے میرا برا حال تھا۔

’’رات فون کرکے میں نے تمہیں اسی لیے خبردار کر دیا تھا۔ اب کچھ کہنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔‘‘میرا جی جل کر رہ گیا۔

’’آپ…کتنے برے ہیں، میرا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے…کیوں میری جان کو آگئے ہیں…‘‘ میری آواز یکدم بھرا گئی تو اس نے بھی گاڑی کو بریک لگائے۔

’’محبت کرتا ہوں تم سے‘ کیسے چھوڑ دوں تمہیں… بہت آگے آکر اب پیچھے پلٹنا میرا شیوہ نہیں۔ تمہاری عقل میں میری یہ بات نہیں آرہی…‘‘

’’میں کچھ نہیں سمجھتی اور نہ ہی سمجھنا چاہتی ہوں۔ میں نہ ماضی سے جدا ہو کر جی سکتی ہوں اور نہ آپ کر سکتے ہیں۔ خدا کے لیے میرا پیچھا چھوڑ دیں، مجھے معاف ہی رکھیں۔‘‘ اب کے بے بسی کے گہرے احساس سے میں واقعی رو دینے کو تھی۔ میری آنکھوں میں آنسو آٹھہرے تھے۔ جنہیں میں روکنے کی کوشش میں تھی۔

  • Author

’’تم ایسی ادائیں دکھاؤ گی تو سچ کہہ رہا ہوں ہمارا منزل تک پہنچنا ضرور مشکل ہو جائے گا۔‘‘میں کہیں راستے میں ایکسیڈنٹ ضرور کر بیٹھوں گا۔ بہتر ہے خود پر کنٹرول رکھو۔‘‘

میرے آنسوؤں کی جانب اشارہ کرتے سلگتے انداز میں اس نے مجھے بری طرح ٹوک دیا۔میں نے فوراً اپنا چہرہ صاف کیا۔ نجانے کیا ہو رہا تھا مجھے جو خود پر کنٹرول کرنا مشکل لگ رہا تھا۔میں بھری آنکھوں سمیت رخ موڑ کر دوسری جانب دیکھنے لگی۔ وہ گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا۔

کسی پتھر کی مورت سے محبت کا ارادہ ہے

پرستش کی تمنا ہے عبادت کا ارادہ ہے

وہ دھیمے سروں میں ڈرائیونگ کرتے ’’اسٹیرنگ پر اپنی انگلیاں بجاتے شوخ سی آواز میں گنگنانے لگا۔‘‘ گاڑی کے خاموش ماحول میں میری ’’سوں، سوں‘‘ کے ساتھ اس کی آواز عجیب ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔

جو دل کی دھڑکنیں سمجھے، نہ آنکھوں کی زباں سمجھے

نظر کی گفتگو سمجھے، نہ جذبوں کا بیاں سمجھے

اسی کے سامنے اس کی شکایت کا ارادہ ہے

میرا دل دھک سے رہ گیا۔میں پہلو بدل کر رہ گئی۔وہ اس درجہ شوخ جسارت پر اتر آئے گا میں لق و دق تھی۔ اپنی ظاہری شخصیت کے ساتھ بلاشبہ ایک خوبصورت گنگناتی آواز کا بھی مالک تھا۔ گیت کے بول ماحول کے ہم آہنگ تھے۔ مجھے یکدم اس کا خط یاد آگیا جو اس نے لندن بھیجا تھا۔اس میں بھی یہی اشعار تھے۔ میں صرف اپنے اوپر ضبط کیے سنتی رہی۔

یہ سوچا ہے کہ دل کی بات اس کے روبرو کہہ دیں

نتیجہ کچھ بھی نکلے آج اپنی آرزو کہہ دیں

اس کی شوخ آواز مسلسل میرے اعصاب کو جھنجوڑ رہی تھی۔ میں بالکل لاتعلقی ظاہر کیے باہر دیکھتی رہی جب کہ ذہن اس کے صرف ایک لفظ میں کھویا ہوا تھا۔

محبت بے رخی سے اور بھڑکے گی وہ کیا جانے

طبیعت اس ردا سے اور پھڑکے گی وہ کیا جانے

وہ کیا جانے کہ اپنا کس قیامت کا ارادہ ہے

شوخ آواز میں گاتے اس نے میری طرف دیکھا تھا اسی دوران میں نے بھی پلٹ کر دیکھا تو وہ بھرپور انداز میں ہنس دیا۔ میں فوراً نظر پلٹ گئی۔ نجانے میں کیسے خود کو سنبھال رہی تھی۔اپنی خودداری و انا اور نسوانیت کا پاس نہ ہوتا تو ایک لمحے کی دیر میں ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوتے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتی تھی ۔ میں بھی انسانی جذبات و احساسات کی مالک کب تک خود کو پتھر بنائے رکھتی جبکہ وہ مسلسل میرے پتھر جذبات کو پگھلانے کے درپے تھا۔

کسی پتھر کی مورت سے محبت کا ارادہ ہے

پرستش کی تمنا ہے، عبادت کا ارادہ ہے

وہ شوخ آواز میں مسلسل ان لفظوں کی تکرار کر رہا تھا۔میری آنکھوں سے میرا دل بھی قطرہ قطرہ ٹپکنے لگا۔ آخر یہ شخص چپ کیوں نہیں ہو جاتا۔ چہرہ موڑے میں صرف رو رہی تھی۔ جب کہ میرے دل کی ہستی نجانے کن طغیانیوں کے زیر اثر تھی۔ پہلی بار مجھے اپنی شکست کا احساس ہو رہا تھا کہ اگر اس طرح وہ میرے ضبط کو آزماتا رہا تو کسی دن میں واقعی ہار جاؤں گی۔

’’ماورا…‘‘کچھ توقف کے بعد اس نے پکارا۔’’ماورا…‘‘ اب کے اس نے میرا کندھا تھاما تو میں چیخ اٹھی۔

’’کیا چاہتے ہیں آپ مجھ سے…میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتی…نہیں کرسکتی قبول میں آپ کی محبت… میرے دل میں نہیں بنتی آپ کے لیے گنجائش… جب سب جانتے ہیں تو پھر بھی کیوں میرا سکون برباد کر رہے ہیں…کیوں میری جان لینے کے درپے ہیں…‘‘

  • Author

میں پھوٹ پھوٹ کر رو دی…وہ بغیر جواب دیے مسلسل گاڑی ڈرائیو کرتا رہا۔

’’ساری بات یہ ہے ماورا کہ میں سب کچھ بھول کر بھی تمہاری جانب سے اس بری طرح ہونے والے ردعمل کے اظہار کو نظرانداز نہیں کر پا رہا…تمہیں حاصل کرنا میرے لیے مشکل نہیں ہے۔میں آج بی بی جان سے بات کروں تو تم آرام سے میری زندگی میں شامل ہو جاؤ گی۔ تمہارا حصول میرے لیے نہ ہی مشکل ہے اور نہ ہی ناممکن… ساری بات دل کے تعلق کی ہے جو مجھے کوئی انتہائی قدم اٹھانے نہیں دیتا…مجھے نہ جانے کیوں آج بھی یقین ہے تم ضرور بدلو گی۔ شاید اس لیے میں مسلسل خود کو تمہاری نظروں سے گراتا چلا جا رہا ہوں لیکن یہ سچ ہے۔ نہ میری محبت کوئی فریب ہے اور نہ میرے جذبوں کی شدت میں کوئی کھوٹ، میں صرف تمہیں راضی کرنا چاہتا ہوں۔ اتنی گہری نفرت کی وجہ اب سمجھ میں نہیں آتی جب کہ اب تو سب حالات نارمل ہو چکے ہیں تو پھر تمہارا یوں رد کرنا آخر کیا وجہ ہے۔ جب تک تم وجہ نہیں بتاؤ گی میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔‘‘ کچھ دیر بعد میرے چپ ہونے پر اس نے یہ سب کہا تھا۔

’’آپ صرف ایک لاحاصل کے لیے بھاگ رہے ہیں اور کچھ نہیں…اگر آپ کا یہی ارادہ ہے تو بخوشی بھاگتے رہیں مگر میں وہی رہوں گی…‘‘ اب میں خود کو سنبھال چکی تھی۔ وقتی جذبات کا سمندر اترچکا تھا۔ شاید سلامہ شاہ نے میری طرف دیکھ کر کچھ کہنا چاہا پھر وہ لب بھینچ گیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سرد کیفیت اتر آئی تھی جو میری سمجھ سے بالاتر تھی۔

اگلے ہی دن پاپا بھی لوٹ آئے۔ سلامہ شاہ کا رویہ کبھی بے حد لونگ ہو جاتا اور کبھی بے حد سرد۔ انہی دنوں نانا نانی اور ماموں ممانی شہریار کا رشتہ لے کر آگئے۔ میں جو سلامہ شاہ کی طرف سے پریشان تھی اب شہریار کے نام کے درد سر نے آلیا۔ میں شش و پنج میں تھی پاپا اور دیگر لوگوں نے سوچ کر جواب دینے کو کہا تو وہ لوگ پرامید انداز میں واپس لوٹ گئے۔ تیسرے دن سلامہ شاہ آگیا۔ میرا خیال تھا کہ آتے ہی وہ ضرور بازپرس کرے گا طنز وتمسخر سے نوازے گا مگر رات تک خیرخیریت ہی رہی۔ سارا دن تو نہیں البتہ رات کو میرے کمرے میں آیا۔میں بستر پر لیٹی ہوئی تھی اسے دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گئی۔

’’کسی کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے شاید دستک دی جاتی ہے۔ لگتا ہے آپ کو ایسے آداب سکھائے نہیں گئے…‘‘اس کے یوںدندناتے کمرے میں گھس آنے پر مجھے بہت غصہ آیا۔ جتنی میں کوشش کرتی تھی کہ اس سے منہ ماری کم ہو اتنا ہی وہ مجھے اشتعال دلاتا تھا۔

’’ایسی اخلاقیات کا مظاہرہ اجنبیوں کے لیے کیاجاتا ہے تم تو پھر میری اپنی…‘‘

’’کیوں آئے ہیں یہاں؟‘‘ اس سے پہلے کہ کوئی ناقابل برداشت جملہ اس کے منہ سے نکلتا میں نے گھبرا کر پیش بندی کرتے ہوئے پوچھا۔ اس کا مسکراتا چہرہ مزید چمکنے لگا۔

’’تمہیں مبارکباد دینے آیا ہوں۔ خیر سے تمہاری شادی کی تاریخ طے پاگئی ہے۔ عیدالاضحیٰ کے پورے آٹھ دن بعد…‘‘ بڑے آرام سے میرے حواس پر بم پھوڑے وہ کرسی پر ٹک گیا اور میں ہونق بنی دیکھ رہی تھی۔

’’تو گویا پاپا نے تن تنہا ہی میری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ مجھ سے پوچھے، میری رضا مندی جانے بغیر کر دیا…‘‘ میں بے یقین تھی۔

’’یہ تو میرے کل ہی فون کرنے پر اماں جی نے یہاں کی صورتحال بتائی تھی۔ فوراً سب کام چھوڑ کر بھاگا ہوں۔ ورنہ وہ گھونچو شخص سچ مچ تمہیں لے اڑتا اور میں تمہارے راضی ہونے کے انتظار میں ہاتھ ملتا رہ جاتا…‘‘ وہ مزید کہہ رہا تھا اس کے اگلے جملوں نے میرے چھکے چھڑا دیے تھے۔ کتنا مطمئن تھا۔ اب کے میں نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔

’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ میں ایک دم بے چین ہوگئی۔ سلامہ شاہ کے چہرے کی گہری مطمئن، آسودہ حال فتح مند مسکراہٹ بہت سے ان کہے بھید کھول رہی تھی۔

’’میں نے بابا جان وغیرہ کو منع کر دیا ہے جب خاندان میں متبادل رشتہ موجود ہے تو پھر وہ لوگ باہر دیکھتے بھی کیوں…چچا جان تو خود یہی چاہتے تھے اور میرے لیے تو یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے پھر کیسے چوک جاتا۔ تم سے محبت کی ہے ماورا شاہ۔ تم میری ہو اور ہمیشہ رہو گی۔ کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔ اس طرح منگنی وغیرہ کے تھروآؤٹ شادی کی تاریخ طے ہو چکی ہے۔‘‘

وہ انکشاف پر انکشاف کر رہا تھا اور میرا مارے صدمے و حیرت کے برا حال تھا۔ سارے حواس گویا مختل ہوگئے تھے۔ پاپا یوں بھی کریں گے۔ ساری زندگی ہمیشہ لاتعلق رہے۔ میرے ساتھ ناانصافی کی مجھ سے نفرت بھرا رویہ رکھا اور اب میری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ بغیر مجھ سے پوچھے۔ میری رضا جانے، مجھے بتائے بغیر کر دیا۔ جیسے میں کوئی پتھر کی مورت ہوں جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ میرے ذہن کو شدید جھٹکا لگا۔ سلامہ شاہ کی طرف سے نہیں پاپا کی جانب سے۔

’’ماورا… لگتا ہے… اس خبر نے تمہارے حواس پر کچھ زیادہ ہی اثر کر دیا ہے۔‘‘

’’مجھے یوں بے حواس اپنی طرف گھورتے دیکھ کر وہ کرسی سے اٹھ کر میری طرف آیا۔

’’نہیں…پاپا مجھ سے پوچھے بغیر اتنا بڑا قدم نہیں اٹھاسکتے…ہرگز نہیں…جھوٹ بولتے ہیں آپ…‘‘ یکدم حواسوں میں آکر میں اس پر الٹ پڑی۔

’’دھیرج سے…کول ڈاؤن ڈیئر…ایسا تو ایک دن ہونا ہی تھا۔ وہ اگر تم سے پوچھتے تو اتنا بڑا فیصلہ کبھی نہ ہوتا…ویسے بھی ہمارے خاندان میں لڑکیوں سے ان کی مرضی نہیں پوچھی جاتی۔ فیصلہ سنایا جاتا ہے۔‘‘ انتہائی غرور سے کہتا وہ میری حالت سے لطف اٹھا رہا تھا۔

’’میں کبھی تم سے شادی نہیں کروں گی۔ سنا تم نے…وہ اور ہوتی ہوں گی جنہیں فیصلے سنائے جاتے ہوں…ماورا ان میں شامل نہیں ہو سکتی…‘‘ اس کے الفاظ اور صدمے سے میرا برا حال تھا۔ دل چاہ رہاتھا کہ چیخ چیخ کر سارے عالم کو بتادوں کہ مجھے اس سے شادی نہیں کرنی۔

’’جانتا ہوں میں…مگر میں تم سے شادی کروں گا اور اسی طے شدہ تاریخ پر ہی ہوگی۔میں نے وعدہ کیا ہے اور نبھاؤں گا۔ تمہیں کسی اور کے نام کا ہونے دوں یہ میری غیرت کو کبھی گوارا نہیں…تم میری محبت کو مانو یا نہ مانو…میرے وجود سے لاکھ انکار کرو۔ نفرت کا اظہار کرو میں سب سہہ لوں گا…لیکن ماورا یہ کبھی گوارا نہیں کروں گا کہ تم میرے علاوہ کسی اور کے سنگ رخصت ہو، فیصلہ ہو چکا ہے اور تمہیں ہر حال میں ماننا بھی ہوگا۔ تم اب اس خاندان کا حصہ ہو۔ یہاں کی ایک فرد ہو اور ہماری خاندانی روایتیں اپنے فیصلے بدلا نہیں کرتیں۔ خاص طور پر اس طرح کے فیصلے تو ساری عمر برقرار رہتے ہیں چاہے کوئی خوش ہو یا ناخوش…سمجھیں تم…‘‘

اس کا مسکراتا لہجہ یک دم دوآشتہ ہو گیا۔ تلخی و تندی سے کہتے وہ کمرے سے نکل بھی گیا۔اور میں منہ پر ہاتھ رکھے دیکھتی رہ گئی۔

’’ہماری خاندانی روایتیں اپنے فیصلے بدلا نہیں کرتیں…خاص طور پر اس طرح کے فیصلے تو ساری عمر برقرار رہتے ہیں… چاہے کوئی خوش ہو یا ناخوش…سمجھیں تم…‘‘اس کے یہی الفاظ مسلسل میرے دماغ میں گردش کر رہے تھے۔

’’نہیں…اگر ایسا ہوا تو میںبے موت مرجاؤں گی…پاپا آپ اس موڑ پر میرے ساتھ اتنی بڑی زیادتی نہیں کر سکتے…اب مزید نہیں…بالکل نہیں…‘‘ میں زور سے چیخنے اور رونے لگی۔ یوں لگ رہا تھا کہ پاپا نے یہ آخری کیل ٹھونک کر میرے بالکل مردہ وجود کو تابوت کی نذر کر دیا ہو۔ میں بلک بلک کر رو دی مگر میری آواز سننے والا کوئی نہ تھا۔ میری روتی بلکتی سسکتی آواز دیواروں سے ٹکرا کر پلٹ آتی تھی اور میں روتے روتے بستر پرگر گئی۔

vvv

’’آپ نے کیا سمجھ رکھا ہے کہ میں مٹی کا کوئی بے جان بت ہوں۔ایک بے روح گڑیا ہوں جو کچھ محسوس نہ کرتی ہو۔ میں نے اپنی زندگی کے تیئس چوبیس سال آپ کی نفرت کا عذاب سہا ہے۔ اس لیے کہ باپ تو صرف باپ ہوتے ہیں کبھی تو اس پتھر میں بھی شگاف پڑے گا۔کبھی تو آپ موم ہوں گے میری چپ، میرا خاموش احتجاج، میری نظروں کی بے بسی آپ کا سینہ چیر دے گی مگر آج آپ نے ثابت کر دیا ہے کہ باپ پتھر بھی ہوتے ہیں۔ آپ جیسے ظالم بھی ہوتے ہیں۔ آئی ہیٹ یو پاپا۔ رئیلی آئی ہیٹ یو…‘‘

ساری رات اپنی قسمت کو کوستے ہوئے میں نے پاپا کے کمرے کے دروازے پر دستک دے دی۔ کچھ دیر بعد کھل بھی گیا۔ پاپا مجھے یوں اپنے سامنے دیکھ کر حیران تھے مگر میں کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے قاصر تھی۔ غم نے میرا دماغ شل کر دیاتھا۔ میں اندر آگئی اور اب میرے منہ سے جو نکلتا جا رہا تھا میں کہتی جا رہی تھی۔ ساری رات روتی رہی تھی اور اب بھی میری آنکھیں بہہ رہی تھیں۔

’’ماورا…یہ کیا بدتمیزی ہے۔ تمیز سے بات کرو۔ کیا کہہ رہی ہو تم…‘‘انہوں نے مجھے میرے بے باک، بدتمیزانہ انداز پر ٹوکا تو میں پہلے سے زیادہ چیخ اٹھی۔

’’مت کہیں مجھے ماورا… کچھ نہیں لگتی میں آپ کی… آپ جیسے پتھر، بے ضمیر انسان کیا جانیں کہ تمیز کیا ہے۔ مت رسوا کریں میرے اور اپنے رشتے کو۔ کوئی حق نہیں آپ کو میرا نام لینے کا بھی۔ میں نے بچپن سے اب تک آپ سے صرف محبت کی ہے۔ بت کی طرح پوجا ہے آپ کو مگر جواباً آپ نے مجھے کیا دیا۔ نفرت۔صرف اور صرف نفرت۔ اتنی گہری کہ بارہا میرا مر جانے کو جی چاہا۔ ماما مرگئیں تو کیا میرا قصور تھا۔ نہیں پاپا اس سارے معاملے میں میرا کہیں بھی کوئی قصور نہ تھا مگر آپ نے صرف اور صرف مجھے سزا دی۔ آپ کتنے ناشکرے انسان ہیں پاپا…ماما کی موت تو امرِ ربی تھی جس میں کسی کا کوئی دوش نہ تھا لیکن نہ صرف آپ نے اس کے حکم کو نہ مان کر اس کے حکم سے انکار کیا بلکہ اس کی وحدۂ لاشریک ذات سے بھی منکر ہوگئے۔ آپ ساری عمر سوگ مناتے رہے۔ خود پر ساری زندگی کی خوشیاں حرام کرلیں صرف ایک بات کے پیچھے سب کچھ ختم کر دیا۔

’’بکواس نہیں کرو ماورا… حواس میں تو ہو تم…‘‘ پاپا نے مجھے یوں کہنے پر ٹوک دیا تھا۔

  • Author

’’یہ بکواس نہیں پاپا!… کبھی آپ اپنا محاسبہ کریں تو احساس ہو گا کہ کتنے بڑے گناہ گار ہیں آپ۔ آپ کے سلوک نے مجھے پاگل بنادیا ہے۔یہ سب کچھ تو صرف ایک احساس ہے اور یہ احساس وہ تازیانہ ہے جو ہر لمحے آپ نے پاپا میرے وجود پر اپنی نفرت کی صورت میں برسایا ہے۔ بڑی نفرت تھی نا آپ کو میرے وجود سے اور بڑی محبت کرتے تھے ماما سے۔تو کہا ہوتا اﷲ سے کہ وہ مجھے اٹھا لے اور ماما کو بھیج دے۔آپ اس کے حکم پر راضی ہی نہ ہوئے تو مجھے نانو کے گھر پھینک دیا۔ آپ کیا جانیں کہ وہاں گزرا ایک ایک لمحہ میری رندگی میں کتنی محرومیاں دے گیاتھا۔کس قدر جذباتی بن گئی ہوں میں، نفرت ہی نفرت اگنے لگی تھی میرے اندر۔ اور یہ سب کچھ آپ کی بدولت ہوا۔ وہاں لوگوں کی باتیں، ممانیوں کے طنز، ان کے بچوں کے رویے سب میرے اندر کی لڑکی کو زندہ درگور کرتے گئے۔ کیا کیا نہ بیتی مجھ پر۔ میں نے آپ کے زندہ ہونے کے باوجود یتیموں کی سی حسرت بھری زندگی گزاری اور اب اس موڑ پر آکر کیا خیال ہے آپ کا کہ آپ کے فیصلے پر سرجھکادوں گی۔ آپ کی بدولت مجھے یہ خاندان بھی قبول نہیں…سلامہ شاہ سے تو میں نے زندگی میں کبھی شادی کرنے کا سوچا بھی نہیں۔پاپا میں سب سہہ لیتی اگر آپ مجھے اس موڑ پر رد نہ کرتے جس شخص کا نام لینا بھی میں قابل نفرت گردانتی ہوں، آپ اسی کے ساتھ مجھے ساری زندگی کے لیے باندھ رہے ہیں۔ آپ کے خاندان نے مجھے کبھی تسلیم نہیں کیا اور آج آپ ان کی ذرا سی عنایت پر مجھے قربان کر رہے ہیں تاکہ آپ ماضی کی تلخیوں کو مٹا کر اپنے لیے بہتر جگہ تلاش کرسکیں۔میں تو اس خیال سے یہاں آگئی تھی کہ شاید آپ کبھی مجھے میری ذات کا مان سونپ دیں۔ سب نظر انداز کیے خود پر ہزاروں پہرے بٹھائے یہاں رہ رہی ہو اور آپ کا خیال ہے میں اس شحص سے شادی کر لوں گی جس سے میری نفرت کا صرف اور صرف ایک ہی سبب ہے کہ وہ آپ کا بھتیجا ہے۔ اس خاندان کا بیٹا ہے…‘‘

میں یکم دم چپ ہوگئی، بولتے بولتے میرا حلق خشک ہو گیا۔ پاپا بالکل خاموش تھے۔ بس مجھے دیکھ رہے تھے۔ میں نے نفرت سے چہرہ دوسری طرف کر لیا۔

’’بہت جنونی ہیں پاپا آپ! آپ نے صرف ایک محبت کی تھی اور کیا کیا آپ نے۔ آپ تو صرف ماضی میں جینے والے انسان ہیں اور مجھے بھی ایسا ہی بنادیا…آپ نے اپنی ساری زندگی ماضی پر ماتم کرتے کرتے گزار دی۔ حتیٰ کہ اب تک یہ خیال نہ آیا کہ میں کون ہوں؟ کیا رشتہ ہے میرا آپ سے۔ کبھی احساس نہ جاگا آپ کے اندر کہ بیٹی کی صورت میںایک جیتا جاگتا وجود بھی ہے آپ کے اردگردہے ۔ جسے کھانے پینے، تعلیم، رہائش وغیرہ کے علاوہ کچھ اور بھی چاہیے…میں تو ہمیشہ بوجھ کی طرف آپ پر مسلط رہی ہو۔ بیٹی تو کبھی تھی ہی نہیںاور اب بھی یہی بوجھ آپ اتار پھینکنا چاہتے ہیں۔ بڑا دعویٰ ہے کہ آپ نے ماما سے بڑی انمول اور باوفا محبت کی ہے۔ ان کی محبت کے بعد بھی ان کی محبت کا عہد نبھاتے رہے ہیں مگر مجھ سے پوچھیے کہ درحقیقت آپ ہیں کیا…آپ تو اچھے انسان بھی نہیں باپ کیا بنتے؟

میرے ساتھ ناانصافیاں کیں اور اب چاہتے ہیں کہ آپ کی ہی طرح کے ایک جنونی شخص سے شادی کر لوں…نہیں پاپا…ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ نفرت کرتی ہوں میں اس سے اس خاندان سے بھی اور آپ سے بھی…اور آپ کو بھی اس زیادتی پر کبھی معاف نہیں کروں گی۔‘‘میں روتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی تھی مگر دروازے ہی پر سلامہ شاہ کو کھڑے دیکھ کر میرے قدم ٹھٹکے۔ ایک نفرت بھری نظر میں نے اس پر ڈالی۔

’’ماورا…‘‘ اس نے مجھے پکارا مگر میں اپنی ہی آنکھوں کو سختی سے رگڑ کر بغیر پلٹ کر اسے دیکھے بھاگ کر اپنے کمرے میں چلی آئی۔

میں ساری رات روتی رہی۔ میرا دل اندر ہی اندر ٹوٹ چکا تھا۔ سر اب درد سے پھٹ رہا تھا۔میری سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں مفقود ہو چکی تھیں۔ ادھر سے اُدھر ٹہلتے نجانے میرے ذہن میں یکدم کیا آسمائی تھی۔میں بابا جان کے کمرے میں آئی تو انہیں جائے نماز پر بیٹھے دیکھا۔ میری نظر ان کی دوائیوں پر جا پڑی۔ ان دوائیوں میں سے میں نے ایک شیشی اٹھا لی۔میں انہیں انکار کرنے کے ارادے سے آئی تھی مگر اب ان کو نماز میں دیکھ کر میں کچھ اور سوچنے لگی۔

’’اگر یہ زندگی ہی نہ ہوگی تو سب دکھ ہی ختم ہو جائیں گے۔‘‘ شیشی لے کر میں واپس اپنے کمرے میں آگئی۔ موت بہت سے مسئلوں کا حل ہوتی ہے۔ ایک میرے مرجانے سے اگر پاپا کو سکون مل جاتا ہے تو یہ سودا اتنا مہنگا بھی نہ تھا۔

ماضی میں چکر لگاتا میرا دماغ حقیقت کی دنیا میں آگیا۔ گہری طویل سانس خارج کرکے میں نے اپنے بہتے آنسو صاف کیے۔ کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ سوائے میرے۔ سو مجھے اتنا طویل وقفہ مل گیا تھا کہ میں گزشتہ واقعات کا اعادہ بآسانی کر سکتی۔

اس دن میں نے بابا جان کی خواب آور گولیاں کافی مقدار میں نگل لی تھیں اور اس کے بعد مجھے اسپتال کے اس کمرے میں ہوش آیا تھا۔ ایک عرصہ میں نے نفرت کی وادیوں میں بھٹکتے زندگی گزاری تھی۔ اب پاپا کا رویہ بدلا ہوا اور محبت سے بھرا ہوا تھا۔ میرے لیے بہت اجنبی تھا۔ میرے اندر کے جذبات اب ختم ہو چکے تھے۔ نفرت محبت اب کچھ بھی باقی نہیں تھا مگر میں اپنے اندر کی تلخی ابھی تک

ختم نہیں کر پا رہی تھی۔ تین دن سے میں کچھ نہیں بولی تھی۔ کسی سے کچھ نہیں کہا تھا۔پاپا سلامہ شاہ، بی بی جان، سلامہ کی والدہ کوئی بھی آتا تو میں آنکھیں بند کیے لیٹی رہتی۔ کسی سے بات کرنے، نظر ملانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ نفرت کرتے کرتے اب کچھ بھی کرنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ عجیب بے بسی کا مقام آگیاتھا زندگی میں۔

پاپا کو میں نے ان کی غلطیوں کا احساس دلادیاتھا مگر ساتھ ساتھ اپنی بھی بہت سے غلطیاں تین دن سے مجھے باور ہو رہی تھیں، سب سے بڑی لغزش تو خودکشی کرنے کی یہ کوشش تھی میں بھی پاپا کی طرح وہی غلطی کرنے جا رہی تھی۔ سب کچھ جانتے ہوئے بھی کہ یہ کتنا قابل مذمت فعل ہے۔ اﷲ کے ہاں ایسے لوگوں کی کبھی بخشش نہیں۔ جہنم ہی صرف حصے میں آتی ہے۔ جذبات میں انسان واقعی ہوش کھوبیٹھتا ہے۔ تبھی تو ہمارا اسلام ہمیں ہر حالت میں ہوش سے، سوچ سمجھ کر کام کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ جذبات اندھے ہوتے ہیں،چاہے وہ بے پناہ محبت کے ہوں یا نفرت کے۔ پاپا کی نفرت نے مجھے کس قدر اندھا بنادیاتھا کہ اپنی زندگی داؤ پر لگانے چلی تھی۔ اگر اﷲ مجھے نہ بچاتا تو میں تو اپنے جذبات کے ہاتھوں اپنی آخرت تباہ کر چکی تھی۔مجھ جیسے جذباتی لوگوں کا شاید یہی المیہ ہوتا ہے کہ صرف پچھتاوے ہی ان کا مقدر بنتے ہیں۔ یہ زندگی تو صرف آزمائش کا گھر ہے اور میں بھی کتنی ناشکری ہوں۔ سب کچھ تو تھا میرے پاس اس کے باوجود میں اﷲ سے شکوہ کرتی رہی…وہ ذات تو بے نیاز رحمان و رحیم ہے اور ہم بندے اپنی کم فہمی و کم عقلی سے نقصان اٹھالیتے ہیں۔

’’یااﷲ تو مجھے معاف کردے…بے شک تو رحمان ہے…میں غلط تھی…جذبات میں بہت بڑا فعل سرزد ہوگیا…یا اﷲ احسان ہے تیرا…شکر ہے تیری ذات کا کہ تو نے مجھے بچا لیا ورنہ جہنم کی گہری کھائی ہی میرا مقدر ہوتی…‘‘ سرہانے میں منہ دیے میں مسلسل رو رہی تھی۔

اسپتال سے حویلی پہنچ کر بھی ماورا کی چپ نہیں ٹوٹی۔ وہ کسی سے کچھ نہیں کہتی۔ نہ ہی کوئی الزام اور نہ ہی کوئی ناراضگی بس مسلسل چپ سی تھی جو کسی کو بھی کچھ کہنے نہیں دیتی تھی۔ بابا جان سے لے کر پاپا تک سب ہی اندر ہی اندر پچھتا رہے تھے۔ سلامہ شاہ سے بھی سامنا کم ہوتا تھا وہ محسوس کرنے لگی تھی کہ وہ خود ہی اس کے سامنے نہیں آتا تھا۔

عیدالاضحیٰ قریب آرہی تھی۔ سب اس کی طرف سے توجہ ہٹا کر دیگر امور کی طرف متوجہ ہوگئے تو اسے بالکل ہی چپ لگ گئی۔ ام رومان اور صبا دونوں ہی عید کرنے حویلی آئی ہوئی تھیں۔ ام رومان کا زیادہ تر وقت ماورا کے ساتھ ہی گزرتا تھا۔ اس کے باوجود ماورا کا خود ساختہ خول نہیں ٹوٹ پایا تھا۔ ام رومان اٹھ کر گئی تو وہ کھڑکی کھول کر باہر دیکھنے لگی۔ صبا اور رومان کے بچے لان میں کھیل رہے تھے۔ ان کی معصوم سی چہکاریں ماورا کے اندر مزید محرومیاں پیدا کرگئیں۔ وہ جھلملاتی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔

’’ماورا…‘‘ پاپا کی آواز تھی وہ یکدم پلٹی وہ مسکرا کر دیکھ رہے تھے۔ گزرے دنوں میں کس قدر شفیق و مہربان ہوگئے تھے۔

’’کیا دیکھ رہی ہو باہر؟‘‘ خوشگوار موڈ لیے انہوں نے پوچھا تو وہ بستر پر آبیٹھی۔ لب بالکل ساکت تھے۔

’’ماورا…کیا تم مجھے معاف نہیں کر سکتیں…کیا میرے گناہ و غلطیاں ناقابل معافی ہیں۔ اب میرے پاس سوائے پچھتاوے و پشیمانی و ندامت کے کچھ بھی نہیں…کیا تم میری جھولی میں معافی کے چند لفظ بھی نہیں ڈال سکتی…کچھ تو کہو…یہ چپ تو توڑو… بے شک میرے گزشتہ تمام رویوں پر مجھے برا بھلا ہی کہو…‘‘اس کے یوں پتھر رویے پر آزردہ ہو کر کہہ رہے تھے۔وہ یکدم ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو پڑی۔اب وہ اتنی پتھر بھی نہیں تھی کہ اپنے باپ کو اپنے سامنے یوں گڑگڑاتے دیکھتی۔

’’ماورا…میری بیٹی…میری جان۔‘‘ اس کے یوں پھوٹ پھوٹ کر رونے پر وہ تڑپ کر آگے بڑھے اور اس کا سر اپنے سینے سے لگالیا۔

’’پاپا…کیوں کیا آپ نے میرے ساتھ ایسا…ایک بار بھی آپ کے دل میں میری محبت نہیں جاگی۔ کیا ایک دفعہ بھی آپ کا دل مجھے پیار کرنے کو نہیں چاہا۔ بتائیں پاپا کیوں کرلیا تھا آپ نے خود کو یوں پتھر کہ میری محبت بھی کسی کام نہ آئی۔‘‘ آج وہ بالکل نارمل ہو کر ایک ننھی سی بچی کی طرح ان کے سینے سے لگی گلے شکوے کر رہی تھی۔ بڑی حسرت تھی اسے پاپا کے سینے سے لگ کر ان سے اپنے دل کی ساری باتیں کرنے کی اور آج اس کی برسوں پرانی خواہش پوری ہو رہی تھی۔

’’بس…میری بیٹی بس…اب نہیں رونا… میں پلٹ آیا ہوں۔ مجھے احساس ہو گیا ہے اپنی غلطیوں کا… بہت دفعہ ایسا ہوا کہ میرا دل تمہاری طرف مائل ہوا۔ تم سے ڈھیروں باتیں کرنے کو چاہا، تمہیں سینے سے لگانے کی خواہش نے جنم لیا لیکن ہر بار میری اَنا نے مجھے روک دیا۔‘‘

پاپا بھی رو رہے تھے۔

’’آئی ایم سوری پاپا…میں نے آپ کو بہت دکھ دیا…مگر میں کیا کرتی…آپ کے سوا میرا تھا ہی کون…آپ کی یہ مسلسل لاتعلقی مجھے اندر ہی اندر مارے جا رہی تھی اور پھر اس دن آپ کے

  • Author

کمرے سے نکلنے کے بعد میرا دل چاہا تھا کہ میں اپنے آپ کو ختم کر لوں اور پھر کچھ سمجھ نہ آئی…میرا دل بہت دکھی ہو رہا تھا اور میں نے وہ کچھ کر لیا جو اﷲ کو کبھی پسند نہیں آتا۔‘‘

’’چپ… بس اب کچھ نہیں کہنا…مجھے احساس ہوگیا ہے۔ انشاء اﷲ اب کوئی کوتاہی نہیں ہوگی…بس اب تو ازالے کا وقت ہے۔‘‘

’’پاپا نے اسے مزید کچھ بھی کہنے سے روک دیا۔‘‘

رومان کے زبردستی کرنے پر وہ کمرے سے باہر نکلی۔ منشی عید پر ذبح ہونے والے بکرے لے کر آیا جو خاص طور پر سارا سال پالے ہی اسی مقصد کے لیے گئے تھے۔ ساری خواتین بکرے دیکھ رہی تھیں۔ رومان بھی ادھر چلی گئی۔ جہاں بکرے بندھے تھے وہ ستون سے لگ کر دیکھنے لگی۔علی، رومان، صبا باجی، رضا سارے ہی افراد جمع تھے۔ خوش ہو رہے تھے۔صبا اور رومان کے بچے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے شور کیے جا رہے تھے۔ بہت عرصے بعد ماورا کو یہ پرشور زندگی کی مسرتوں سے مزین ماحول خوبصورت لگا۔ورنہ زندگی تو گویا اس کے اندر سے ختم ہوگئی تھی۔ پاپا کی محبت کیا ملی تھی ساری دنیا اچھی لگنے لگی تھی۔ رومان اسے یوں کھڑے دیکھ کر مسکراتی اس کے قریب آکھڑی ہوئی۔

’’دیکھنا تم ماورا!…یہاں حویلی میں بقرعید پر میٹھی عید سے بھی زیادہ رونق ہوتی ہے۔ قربانی ہوتی ہے۔ گوشت بانٹا جاتا ہے۔ طرح طرح کے پکوان پکتے ہیں۔ ہم لوگ تو گوشت کی خوشبو سے پیٹ بھر لیتی ہیں۔ پہلے دن بکرے ذبح کیے جاتے ہیں پھر دوسرے دن بڑے جانور کی قربانی کی جاتی ہے۔ تین دن تو اس مصروفیت میں گزر جاتے ہیں۔ یقین مانو ہم عورتوں کی شامت آئی رہتی ہے۔‘‘ وہ اسے بتا رہی تھی اور وہ صرف مسکراتی رہی۔

’’ویسے یہ عید پہلے سے زیادہ خوشیاں لے کر آرہی ہیں۔ تمہاری اور بھائی کی شادی جو طے ہے سمجھ نہیں آرہی کہ عید کی تیاریاں کریں یا شادی کی…‘‘ وہ مزید کہہ رہی تھی ماورا کے مسکراتے لب بھینچ گئے۔ اتنے دن ہوگئے تھے مگر اس موضوع پر تو اس نے سوچا بھی نہ تھا۔ انکار کی اب کوئی بھی وجہ نہیں رہی تھی مگر اس کا دل سکڑ کر پھیلا تھا۔

سلامہ شاہ! کے تمام رویے کیسے بھول جاتی۔ اس کا یوں فخریہ طور پر بتانا کہ ان کے فیصلے بدلا نہیں کرتے نے ہی اسے اتنا بڑا قدم اٹھانے پر مجبور کیا تھا اور اب رومان کا یہ کہنا اس کے دل میں بہت سی اذیت ناک لہریں اٹھیں۔

’’ہمارے ہاں بڑی روایتی قسم کی عید ہوتی ہے۔ عید والے دن کوئی آرہا ہے، کوئی جا رہا ہے۔ ملازموں کے ساھ سارا دن کچن میں ہی گزر جاتا ہے۔ میں نے تو آتے ہی اعلان کر دیا ہے کہ اب میں کچن میں نہیں گھسوں گی۔ میرے دونوں بیٹے تو ایسے آفت کے پرکالے ہیں۔ ایک منٹ بھی ان سے آنکھ ہٹادوں تو طوفان برپا کر دیتے ہیں۔انگلی پر نچاتے ہیں مجھے۔ ایک پاؤں ادھر تو دوسرا ادھر بالکل اپنے باپ پر گئے ہیں۔ وہ بھی ایسے ہی ہیں۔ ویسے اماں جی نے تمہاری بری تیار کرنے کی ذمے داری لگادی ہے۔ صرف انہی تین چاردنوں میں۔ کچھ نہ پوچھو ہماری شامت آئی ہوئی ہے۔‘‘ وہ ہنس ہنس کر بتا رہی تھی اور ماورا کا ضبط جواب دینے کو تھا۔

’’میں اندر جا رہی ہوں…میرا دل گھبرا رہا ہے۔‘‘ نجانے کیوں وہ اس ذکر سے بھاگ رہی تھی۔

’’کیوں…خیریت…کیا ہوا؟…‘‘اس نے فوراً پرتشویش انداز میں پوچھا۔

’’کچھ نہیں…ویسے ہی…‘‘ وہ سرہلاتی اندر اپنے کمرے میں آگئی۔ تھوڑی دیر بعد پاپااندر آئے تو وہ بالکل گم صم سی بیٹھی تھی۔

’’پاپا!…میں سلامہ شاہ سے شادی نہیں کرو گی…‘‘ انہیں دیکھ کر اس نے کہا۔

’’مگر ماورا…‘‘

’’پاپاپلیز…میں کہہ رہی ہوں نا…مجھے وہ بالکل پسند نہیں…بہت برا لگتا ہے وہ مجھے…اس کے لیے مجھے مجبور مت کریں… میرا دل نہیں مانتا…‘‘ میرا انداز قطعی تھا۔

’’تو پھر کیا کرو گی…تمہاری نانو نے شہریار کے لیے کہا تھا…تم راضی ہو تو پھر میں ان سے بات کرتا ہوں…‘‘ اس کے انکار سے انہیں بہت تکلیف ہوئی تھی اس کے باوجود انہوں نے بردباری سے کہا تو وہ رونے لگی۔

’’نہیں پاپا…مجھے نہیں پتا…مجھے کسی سے بھی شادی نہیں کرنی…کسی سے بھی نہیں،نہ سلامہ سے، نہ ہی شہریار سے…‘‘ اس کی اس بچکانہ بات پر رہبان شاہ ہنس پڑے۔

’’اچھا۔ یہ بتاؤ تم سلامہ شاہ کو کیوں ناپسند کر رہی ہو…پہلے تو میں وجہ تھا اب…‘‘انہوں نے ملائمت سے پوچھا تو وہ سر جھکاگئی۔

’’پاپا آپ کو شاید برا لگے لیکن میں اس خاندان میں خود کو کبھی ایڈجسٹ نہیں کر پاؤں گی۔جذباتی طور پر مجھ میں برداشت بہت کم ہے۔ میں یہاں کے طور طریقوں ریت رواجوں کو کبھی قبول نہیں کرپاؤں گی۔ اس خاندان نے چوبیس سال تک مجھے قبول نہیں کیا۔اب اگر قبول کیا بھی ہے تو سب کی اپنی اپنی غرض ہے اور میں کسی کی غرض کی بھینٹ نہیں چڑھوں گی۔‘‘

صاف اور دو ٹوک انداز میں اس نے بات کی تھی۔ اس نے صرف ایک کو موردِالزام نہیں ٹھہرایا تھا سب کو ہی شامل کیا تھا۔ رہبان شاہ صاحب چپ چاپ دیکھتے رہ گئے۔وہ کیا کرسکتے تھے یہ سب کچھ ان کا اپنا ہی تو کیا دھرا تھا۔

رہبان شاہ نے سب کو ماورا کا فیصلہ سنادیا۔ اس کا انکار سب تک پہنچادیا۔ سب ہی چپ چاپ دیکھتے رہ گئے۔

’’چچا جان وہ جذباتی ہے۔ صرف ایک سطحی بات سوچ رہی ہے۔ ضروری نہیں کہ اس کی بات مانی بھی جائے۔ سلامہ شاہ نے کہا۔

’’نہیں سلامہ شاہ! تم میرے داماد بنتے یہ میری خوش نصیبی تھی مگر اب میں اپنی جانب سے ماورا کو کوئی دکھ نہیں دینا چاہتا…‘‘وہ کہہ کر خاموشی سے اٹھ گئے بعد میں ان لوگوں کے درمیان مزید گفتگو ہوتی رہی۔

اماں جی، بی بی جان صابر اور رومان سب ہی بہت دکھی تھیں اتنے عرصے بعد سلامہ شاہ کسی لڑکی کے لیے راضی ہوا تھا خود اپنی زبان سے کہا تھا لیکن ماورا…

ماورا اس رشتے سے انکار کرکے پہلے سے زیادہ ذہنی طور پر پریشانی کا شکار ہوگئی۔ پہلے تو سلامہ شاہ کا رویہ تنگ کرتا تھا مگر اب…وہ جو رومان سے تھوڑی بہت گھلی ملی تھی ان دو دنوں میں پھر کمرہ نشین ہوگئی تھی۔ رات کو وہ اپنے کمرے سے نکل کر لان کی سیڑھیوں پر آبیٹھی۔سردیاں زوروں پر تھیں۔ موسم دن بدن ٹھنڈا ہوتا جا رہا تھا۔ رات کوبھی اوس پڑتی تھی ساتھ میں دھند بھی۔ اس وقت سیڑھیاں بھی گیلی تھیں ماورا اگرچہ مکمل طور پر گرم کپڑوں میں لپٹی تھی اس کے باوجو سرد لہر اندر تک اترتی جارہی تھی۔ اس معاملے میں وہ کافی حساس تھی موسم اس پر بہت جلد اثر انداز ہوتا تھا۔

دھند کی لپیٹ میں چاند بہت مدھم دکھائی دے رہا تھا۔ وہ ابھی یونہی بیٹھی تھی جب گیٹ کھلنے پر گاڑی اندر داخل ہوئی۔ سلامہ شاہ صبح کا شہر گیا ہوا تھا اور اب رات گئے لوٹا تھا۔ ماورا اسے گاڑی کھڑی کرکے سیڑھیوں کی طرف آتے دیکھتی رہی۔

’’اتنی سردی میں، اس وقت تم یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘ اتنے دنوں بعد وہ براہِ راست مخاطب ہوا تھا۔ اپنی طرف سے تو سلامہ شاہ نے آرام سے ہی پوچھا تھا مگر غصے کی ہلکی سی رمق ضرور تھی۔ جب سے اس نے رشتے سے انکار کیا تھا سلامہ شاہ کا غصہ حد سے بڑھا ہوا تھا صرف چچا کا احساس تھا ورنہ لمحوں میں اس کا دماغ درست کر دیتا۔

’’نظر تو آپ کو بھی آگیا ہے کہ میں کیا کر رہی ہوں۔‘‘ سلامہ کے غصے سے استفسار پر اس نے اسی کے لہجے میں جواب لوٹایا۔ ’’کم از کم اس وقت واک کرنے سے تو رہی۔‘‘

’’اٹھو یہاں سے اور اندر چلو…مرنے کا ارادہ ہے کیا…اوس پڑ رہی ہے اس قدر دھند ہے…‘‘ ماورا کو گھور کر اس نے ڈپٹا تھا۔

’’آپ جائیں آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ سلامہ شاہ کے ڈپٹنے پر اس نے بھی روکھے پن سے کہا تو سلامہ شاہ کا دماغ بھنا گیا۔ غصہ تو پہلے بھی تھا۔

’’فکر کی بچی…اٹھو یہاں سے ورنہ دوں گا الٹے ہاتھ کا ایک جھانپڑ…عجیب شوق ہیں تمہارے۔ سارا عالم سردی سے بچنے کی کوشش میں بستروں میں دُبکا بیٹھا ہے اور تم ہو کہ…‘‘ آگے بڑھ کر ماورا کا بازو تھام کر کھڑا کرتے اس نے سخت خشمگین نظروں سے گھورا تو ماورا ایک لمحے کو سچ مچ خوفزدہ ہوگئی۔ اس سے کیا بعید تھا اتنا تو حاکم و خود سر ہے اگر واقعی ایک جھانپڑ لگادیا تو۔

’’خواہ مخواہ… ایسے ہی رعب مت جمائیں…ہاتھ تو لگا کر دیکھیں مجھے… بڑے آئے کہیں کے دھمکیاں دینے والے…‘‘ اپنا بازو چھڑوا کر پیچھے ہٹی تو سلامہ شاہ نے گھورا۔

’’یہ دھمکیاں نہیں ہیں عمل بھی کرتا ہوں۔ تمہیں شاید یوں قسطوں میں مرنے کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔ اسی لیے آئے دن نئے نئے معرکے سر کیے اسپتال پہنچی ہوتی ہو…‘‘ وہ طنز کر رہا تھا دراصل غصہ تو اس بات کا تھا کہ اس نے آخر انکار کیوں کیا۔ سب کچھ تو اب نارمل تھا پھر وہ کیوں اب تک وہی پتھر کی مورت بنی ہوئی ہے۔

’’آپ اپنی حد میں رہیں سلامہ شاہ!… مجھ پر طنز کرنے کا آپ کو کوئی حق نہیں۔‘‘اس کی پچھلی بات پر سیخ پا ہوتے ہوئے اس نے کہا تو سلامہ ہنس دیا۔

’’حق کی بھی تم نے خوب کہی… سارا سارا دن اور ساری ساری رات اسپتال میں خوار ہوتا رہا ہوں۔ آرام سے اندر چلو ورنہ اٹھا کر لے جاؤں گا…‘‘ دھمکی دیتے اس نے کہا تو وہ تلملا گئی۔ اس کے ساتھ مغز ماری کرنے کی بجائے پاؤں پٹختے اندر آگئی…اپنے کمرے میں بھی آکر وہ خود سے الجھتی رہی۔

عید میں صرف دو دن باقی تھے۔ حویلی میں خوب رونق لگی ہوئی تھی۔ ام رومان اسے کمرے سے زبردستی باہر نکال لائی۔ ان سب میں سے کسی کے بھی رویے میں رشتے سے ناراضگی کا شائبہ تک نہ تھا۔

  • Author

وہ جو پہلے ہی انکار کرکے خود سے الجھی ہوئی تھی ان کے رویے دیکھ کر مزید شرمندہ ہوتی چلی گئی۔ صبا، رومان، اماں جی، بی بی جان ڈھیروں کپڑے پھیلائے بیٹھی تھیں۔وہ بھی بیٹھ گئی۔ دلچسپی سے دیکھتی رہی۔ بی بی جان نے شہر سے سب کے لیے عید کے لیے کپڑے منگوائے تھے اس کے لیے بھی کتنی ساری چیزیں تھیں۔ وہ تو ہمیشہ ایک سادہ سے حلیے میں رہی تھی۔ اگر بہت ضرورت پڑی تو ہونٹوں پر لپ اسٹک لگالی۔ اب اپنے لیے یہ ڈھیروں چیزیں دیکھ کر حیران ہوئی۔

’’یہ سب میرے لیے ہے…‘‘

’’تو اور کیا…یہ سب تم پہنو گی بہت سجے گا تم پر…‘‘ بی بی جان نے اسے اسے ساتھ لگاتے محبت سے کہا تو صبا نے مسکرا کر سوٹ اٹھا کر اس کے ساتھ لگادیا۔ رومان اس کا ہاتھ پکڑ کر چوڑیاں پہنانے لگی۔

’’اوہ مائی گاڈ…اتنا سب کچھ میں نہیں پہنوں گی…نو…نیور…اتنا آکورڈلگے گا۔اتنا ہیوی ہے یہ سب کچھ۔مجھ سے نہیں سنبھالا جائے گا یہ سب کچھ کوئی سادہ سا سوٹ ہو توبھی…‘‘

’’تم تو آرام سے بیٹھی رہو…عجیب شوق ہیں تمہارے مائیوں والے…میں شادی نہیں کروں گی۔ یہ نہیں پہنوں گی…تو پھر کیا کرو گی…‘‘رومان نے اس کے لہجے کی نقل اتارتے ہوئے اسے ایک دم چپ کرادیا۔ وہ خجل سی ہوگئی۔

’’دیکھیں تو سہی…کیسی لگتی ہے یہ بندیا تم پر…‘‘صبا باجی نے بندیا اٹھا کر اس کے ماتھے پر سجادی۔وہ ’’ناں‘‘،’’ناں‘‘ کرتی رہ گئی تھی مگر کسی نے بھی دھیان نہ دیا۔

’’دوپٹہ جس پر بہت ہیوی کوڑی اور موتیوں کا کام تھا۔ اماں جی نے بھی اس کے سر پر اوڑھایا تو وہ لجا سی گئی۔

’’دیکھیں بی بی جان آپ کی یہ پوتی بن سنور کر کیسی شہزادی لگنے لگی ہے۔‘‘ رومان اسے چھیڑ رہی تھی۔ بی بی جان نے اسے مزید لپٹا لیا۔ماورا کا شرم سے برا حال تھا۔ یوں ہی گرتی پڑتی پلکیں اٹھا کر اماں جی کی طرف دیکھنا چاہا تو ان کے عقب میں کھڑے سلامہ شاہ کو دیکھ کر وہ مزید سٹپٹاگئی۔ وہ نجانے کب اندر آیا تھا۔ بڑی گہری نظروں سے تک رہا تھا۔

’’ماشاء اﷲ! میری بچی ہے ہی پیاری…شہزادی ہی تو ہے۔ اﷲ میرے رہبان کی خوشی سلامت رکھے…‘‘ بی بی جان نے ایک دم اس کی پیشانی چومی۔

’’سلامہ بھائی! اب آپ بھی بتادیں کیسی لگ رہی ہے ماورا؟…‘‘ ام رومان سلامہ کی آنکھوں میں چھلکتے جذبے دیکھ کر شرارت سے بولی تو سلامہ سمیت سب ہنس دیے۔ اس پر گھڑوں پانی پڑگیا۔ اماں جی نے رومان کو ڈانٹا۔

’’چلو…میری بیٹی کوزیادہ تنگ نہیں کرو…‘‘ انہوں نے دلار سے کہا تو وہ دوبارہ سر بھی نہ اٹھاسکی۔ سلامہ شاہ کمرے سے باہر نکلا تو وہ بھی سب کچھ وہیں چھوڑے اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔

جذبے نجانے کیوں بے لگام ہوئے جا رہے تھے۔ خوش رنگ خوشبو جیسے۔ سلامہ شاہ کی شخصیت کبھی بھی نظرانداز کیے جانے والی نہ تھی تو پھر وہ کیوں پتھر بنی رہی جب کہ وہ ابھی بھی اسی کے تصور میں غرق تھا۔

’’کیا میں واقعی سلامہ شاہ سے کبھی نفرت کرتی تھی اتنی گہری کہ کوئی گنجائش نکلنا بھی مشکل تھی اور جب کہ اب تو حالات نارمل تھے۔ پاپا کا رویہ بھی بہتر تھا تو میں کیوں اڑی رہی اپنی ضد پر…‘‘تین دنوں میں پہلی دفعہ یہ سوال وہ خود سے کر رہی تھی اور اندر سے جو جواب آیا تھا اسے سن کر وہ کئی لمحے ساکت بیٹھی رہی۔

ان دو دنوں میں یہی ہوا تھا کہ اس کے جذبے رخ بدل گئے تھے شاید اس رات جب سلامہ شاہ اس کمرے میں جانے کا کہہ رہا تھا کس قدر احساس تھا اسے کہ وہ کہیں سردی میں بیمار نہ پڑ جائے جب کہ وہ غصے میں تھا اور غصے میں تو وہ خود بھی تھی شاید گزرے دنوں کی وجہ سے تھا۔ پاپا سے سب کچھ کہہ کر دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعد نفرت جیسے کسی جذبے کا اب تصور بھی نہیں تھا۔ بس سلامہ شاہ کی وجہ سے انکار کر دیا تھا لیکن اب بد دل…

’’کیا میں واقعی اپنا فیصلہ کرکے مطمئن اور خوش ہوں۔‘‘ وہ کمرے میں ٹہلتی رہی۔اس کے سامنے ایک ایسا موڑ تھا جس کے بارے میں اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ جس سلامہ شاہ سے اس نے کبھی بے پناہ نفرت کی تھی اب اس کے نام کے جذبے اس کے اندر سر ابھارنے لگے تھے جب کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی ساری راہیں بند کرچکی تھی۔

عید والے دن حویلی میں خوب رونق تھی۔ اس کی دونوں پھوپھیاں بھی اپنے بچوں سمیت آئی ہوئی تھیں۔ قربانی کے بعد گوشت بانٹنے اور پکوان بنانے میں سبھی مصروف ہوگئے تھے۔ وہ بھی بجھے دل کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔نجانے کیوں باہر جانے کو موڈ نہیں بن رہا تھا۔ اماں جان کی لائی ہوئی تمام چیزیں زیب تن کی ہوئی تھیں۔پہلی دفعہ وہ یوں سجی سنوری تھی۔ بہت منفرد و

خوبصورت بھی لگ رہی تھی۔ پاپا اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے کہ کسی اور سے ابھی تک سامنا ہی نہیں ہوا تھا پھر و ہ خود بھی بچنے کی کوشش میں تھی۔بستر سے اٹھ کر الماری کی طرف آگئی۔ ادھر سے اُدھر تلاش کرکے اسے وہ چیز مل گئی تھی جس کی اسے تلاش تھی۔ بستر پر بیٹھ کر اس نے ڈبے میں سے تمام چوڑیاں نکال کر اپنے دائیں ہاتھ میں پہننا شروع کردیں۔ یہ وہی چوڑیاں تھیں جو لندن میں سلامہ شاہ اس کے کمرے میں چھوڑ آیا تھا۔ یہاں آتے ہوئے وہ انہیں اپنے ساتھ لے آئی تھی۔ یہ سوچ کرکہ سلامہ شاہ کو واپس کردوں گی مگر یہاں آکر ادھر کے مسئلوں میں الجھنے میں واپس ہی نہ کرپائی تھی اور اب جب کہ کچھ نہیں بچا تھا تو خود سے بہت لڑنے کے بعد اس نے آج پہلی بار یہ چوڑیاں پہن لی تھیں۔

’’ارے تم کیا آج بھی کمرہ نشین ہوئی بیٹھی ہو۔باہر چلو سب تمہارا پوچھ رہے ہیں۔‘‘ صبا باجی اندر آئیں اور اسے چوڑیاں پہنے دیکھ کر چونکیں۔

’’ارے یہ اتنی پیاری گولڈ کی چوڑیاں کہاں سے لیں تم نے۔؟ انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔وہ جھینپ گئی جواب بھی نہ بن پڑا۔

’’اچھا اب باہر چلو وہاں تمہاری سسرال آئی بیٹھی ہے۔‘‘ اگلے ہی لمحے انہوں نے مزید کہا تو وہ حیران ہوئی۔ چونک کر انہیں دیکھا۔

’’کیا مطلب؟‘‘

’’مطلب یہ کہ چچا جان نے تمہارے ننھیال والوں کو ہاں کہہ دی تھی۔ آج وہ نکاح کی تقریب کرنے آئے ہیں۔ تم تو اندر بند ہو۔ تمہیں کیا خبر؟‘‘

’’صبا باجی…‘‘ وہ منہ کھولے ہکا بکا تھی۔ ابھی تو اسے اپنے جذبوں کی خبر ہوئی تھی۔ ابھی تو اسے پاپا کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرنا تھا لیکن یہ کیا…

’’اماں جی اور بی بی تمہیں تیار کرکے لانے کو کہہ رہی ہیں۔ اب جلدی کرو وقت نہیں ہے میرے پاس۔‘‘ انہوں نے جیسے اس کے اڑے اڑے حواس دیکھے ہی نہ تھے۔ ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا۔

’’مگر صبا باجی…‘‘ وہ رو پڑی۔

’’اگر مگر کچھ نہیں۔ تم سلامہ بھائی کے لیے راضی نہ تھیں ہم نے زبردستی نہیں کی۔ جب تم ہی راضی نہیں تو پھر کیا فائدہ۔ یہ بندھن باندھنے کا۔ چچا جان تو ادھر بھی راضی نہ تھے مگر ہم سب کے سمجھانے پر راضی ہوگئے؛‘‘ صبا باجی نے سنجیدگی سے اسے بتایا۔ اس کے آنسو مسلسل بہنے لگے۔

’’صبا باجی! پلیز کچھ کریں…مجھے نہیں پسند یہ شہریار…اتنا برا ہے وہ…سلامہ شاہ تو اس سے کئی درجے بہتر ہیں…میں نادم ہوں، میں واقعی غلطی پر تھی۔ مگر میری غلطی کی اتنی بڑی تو سزا نہ دیں۔‘‘ وہ ایک دم اپنے جذبے عیاں کر گئی۔ صبا خاموشی سے اسے دیکھے گئیں۔ پھر نفی میں سر ہلایا۔

’’اب میں کچھ نہیں کر سکتی… فیصلہ ہو گیا ہے۔ مہمان آئے ہوئے ہیں۔ اب واقعی کچھ نہیں ہو سکتا۔ تم ہماری بھابھی بنتی یہ ہمارے لیے خوشی کا مقام تھا کیونکہ ہمارے بھائی کی خوشی تم سے ہے لیکن ہمارے بڑوں کی زبان بھی کوئی اہمیت رکھتی ہے۔ کاش تم سمجھ سکتیں۔‘‘انہوں نے اسے چپ کرادیا۔

نجانے انہوں نے اسے کب تیار کیا تھا۔ سجایا سنوارا تھا۔ دلہن بنا کر وہ اسے ہال کمرے میں لے گئی تھیں جہاں ساری حویلی والی اور مہمان عورتیں جمع تھیں۔ نانو ممانیاں اس سے بہت محبت سے ملیں۔ وہ ٹھنڈے یخ ہاتھوں کو جکڑے واقعی پتھر کی مورت بنی بیٹھی تھی۔ سب اس کی تعریف کر رہے تھے۔ سراہ رہے تھے مگر وہ یہاں کہاں تھی۔ اس غائبانہ ذہنی حالت میں اس کا نکاح بھی ہو گیا۔ پاپا اس کے پاس نکاح کا رجسٹر لے کر آئے ان کی طرف شکایتی نظروں سے دیکھتے اس نے دستخط کر دیے۔ پھر پتا نہیں وہ کب تک وہاں بیٹھی رہی تھی اور کیا کیا ہوتا رہاتھا۔

صبا باجی اس کی ذہنی حالت محسوس کرکے اسے وہاں سے نکال کر دوبارہ اس کے کمرے میں لے آئیں۔

’’صبا باجی…‘‘ ان کے کندھے سے لپٹ کر وہ خوب روئی۔ سب اس کے ساتھ زیادتیاں کرتے آئے مگر اس نے پہلی دفعہ کسی کے ساتھ زیادتی کی تھی اس کی بھی فوراً سزا مل گئی تھی۔ ساری عمر کے رونے کی صورت میں۔

’’اب بس بھی کرو ماورا… اور کتنا رو گی۔ جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا…‘‘ انہوں نے کافی دیر بعد خود سے جدا کرتے ہوئے کہا تو وہ پھر بلک اٹھی۔

’’یہ میرے ساتھ ہی کیوں ہوا ہے…اوروں کے ساتھ کیوں نہیں ہوتا…کیا ساری محرومیاں میرے ہی مقدر میں ہیں۔‘‘

’’ماورا…صبر سے کام لو…تم تو خود خاصی سمجھدار ہو…اتنی جذباتیت کیوں…‘‘ انہوں نے کہا تو وہ سر جھکائے روتی رہی۔ حتی کہ وہ اٹھ کر خاموشی سے باہر نکل گئیں۔ غصے میں آکر اس نے بھاری دوپٹہ نوچ کر پھینک دیا۔ بھاری کام سے مزیں فراک اور پاجامے میں اس کا وجود دیکھنے کے لائق تھا۔ اس نے ایک ایک کرکے سارے زیورات اتار کر بستر پر پٹخ دیے۔ دائیں ہاتھ میں صرف اب وہیں

  • Author

چوڑیاں تھیں جو سلامہ شاہ نے دی تھیں۔ روتے ہوئے وہ پلٹی تو نظر دروازہ بند کیے اس کے ساتھ پشت ٹکا کر کھڑے سلامہ شاہ سے جا الجھی۔ وہ بڑی دلچسپ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ گھنی مونچھوں تلے کشادہ لب نجانے کیوں مسکرا رہے تھے جب کہ ماورا کے خیال میں اسے رنجیدہ ضرور ہونا چاہیے تھا۔ آخر کو اتنے دعوے کیے تھے اس نے اور اب…مگر یہ یہاں آیا کیوں اور یہ ہنس کیوں رہا ہے۔ اپنا بھیگا چہرہ صاف کرکے اسے دیکھا وہ ایک ایک قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔

’’آپ…آپ…‘‘سلامہ شاہ کے تیور اور اس کی یہ پیش قدمی وہ گھبراگئی۔ کہیں غم سے میری طرح اس شخص کا دماغ تو نہیں چل گیا۔ ماورا نے مشکوک نظروں سے دیکھا۔

’’آپ…آپ…کب آئے…‘‘ ماورا کے اوسان خطا ہونے کو تھے۔ لڑکھڑاتا لہجہ تھا۔ سلامہ شاہ کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ وہ مزید بد حواس ہوئی۔

’’اگر تم یہ پوچھتیں کہ کیوں آیا ہوں تو بہت اچھے انداز میں جواب دیتا۔‘‘سینے پر ہاتھ باندھ کر بے باک نظروں سے دیکھتے اس نے گلی افشانی کی تو وہ جزبز ہوگئی۔پہلے بھی جو ہوا تھا ناقابل قبول تھا۔ اب یہ سلامہ شاہ اور اس کے تیور…‘‘ آخر یہ اتنا خوش کیوں ہے۔‘‘ اسے الجھن ہوئی۔

’’جب تم رونے دھونے میں اور زیور اتار کر پھینکنے میں مصروف تھی تو اندر آیا تھا۔ صبا باجی نے بڑی ڈرامائی سیچویشن بتائی تھی۔انہیں خدشہ تھا کہ کہیں تم غم کی شدت سے کوئی اوٹ پٹانگ حرکت نہ کر بیٹھو۔‘‘ آخر کو ہم تمہاری ایک ایسی حرکت بھگت چکے ہیں… لیکن یہاں آکر دیکھا تو ایسی کوئی صورتحال نہ تھی، تم تو مرنے مارنے والے موڈ میں ہو…‘‘ وہ شاید صرف اس کا جی جلانا چاہتا تھا۔ آخر کو بڑے دعوے تھے محبت کے۔ اب اتنی جلدی کیسے جان بخشی کر دیتا۔ اس نے اس کی اس ساری بکواس پر شکایتی نظروں سے دیکھا۔ لیکن اگلے ہی لمحے اسے نظریں جھکانا پڑیں۔ سلامہ شاہ کی نگاہوں میں کوئی شریفانہ تیور نہ تھے۔ اس نے گھبرا کر رخ بدلنا چاہا تو سلامہ شاہ نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے مزاحمت بھی نہ کرنے دی۔

’’یہ…یہ…آپ…‘‘ بے بسی کے احساس سے اس کی آنکھیں بھرآئیں۔ ماورا کی اس شخص کے ساتھ ایک بھی خوش کن یاد نہ تھی۔ ہمیشہ دونوں محاذآرائی کی ہی حالت میں رہے تھے اور اب اس کی یہ جسارت جب کہ درمیان میں کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ ہمیشہ کی طرح وہ اس پر چیخ بھی نہ سکی۔ اس کی حدود کا کہہ کر اسے باز بھی نہ رکھ سکی۔ دل عجیب طوفانوں کی زد میں تھا۔

’’آپ جائیں یہاں سے…مجھے تنگ نہ کریں۔‘‘ رندھی آواز میں کہتے اس نے اس کے ہاتھ جھٹکنا چاہے تو سلامہ شاہ ہنس دیا۔

’’تم چاہے مجھے جتنا مرضی تنگ کر لو اور اب بھی وہ کہتے ہیں نا کہ رسی جل گئی پر بل نہ گیا۔ رو دھو کر ان خوبصورت آنکھوں کا ستیاناس مار لوگی منہ سے نہیں پھوٹو گی۔‘‘ہنسی روک کر اس نے کہا تو وہ ششدر سی دیکھتی رہ گئی۔’’اس شخص کو صبا باجی نے سب بتا دیا ہے اب یقیناً یہ مجھے طنز کی مار مارے گا۔ کیسا ظالم ہے یہ بھی…‘‘

’’کیا مطلب ہے آپ کا؟…‘‘ سلامہ کی بات نے اس کے اعصاب جھنجوڑ دیے تھے فوراً چہرہ صاف کرکے پوچھا۔

’’مطلب بھی میں سمجھاؤں یا تم سمجھاؤ گی…‘‘اس کے گھمبیر لہجے پر ماورا واقعی کچھ مزید الجھ گئی۔ آنسوؤں کی روانی میں ایک دم اضافہ ہوا۔

’’پلیز۔ چھوڑ دیں مجھے…جائیں یہاں سے…‘‘ اپنے کندھوں سے اس کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش میں ناکام ہو کر اس نے چٹخ کر کہا۔

’’ماورا…اب بس بھی کرو…سچ مچ کتنا پانی ہے تمہاری آنکھوں میں ایک عرصے سے اپنے پیچھے خوار کیا ہے تم نے مجھے اور اب آنسو بہا بہا کر جان لینے کے درپے ہو۔‘‘

اس کے مہکتے جذبوں سے اٹی آواز پر وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رودی۔

’’پاپا نے بہت غلط کیا میرے ساتھ…میں نے انہیں منع بھی کیا تھا مگر پھر بھی انہوں نے آج نکاح کر دیا…مگر مجھے نہیں کرنی اس شہریار گھونچو سے شادی…سن لیں۔ آپ بھی…کوئی زبردستی تھوڑی ہے۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اسے بتا رہی تھی۔

سلامہ شاہ شہریار کو گھونچو کہنے پر زور دار قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔

’’آپ ہنس کیوں رہے ہیں‘‘اس نے غصے سے پوچھا۔

’’اب تم یوں احمقوں والی حرکتیں کروگی تو میں ہنسوں بھی نہیں…‘‘ہنسی دبا کر اس نے ماورا کی آنکھوں میں جھانکا پھر اس کے تمام آنسوؤں کو پوروں سے چن لیا۔ وہ کوئی مزاحمت بھی نہ کر سکی۔صرف اسے دیکھتی رہی۔ اس کی آنکھوں میں ان گنت جذبوں کی روشنی تھی۔

’’تمہارا کسی شہریار وغیرہ سے نکاح نہیں ہوا…‘‘ اس نے ایک دم ماورا کے حواس پر بم پھوڑا۔

’’کیا…توپھر؟‘‘ وہ پھیلی آنکھوں سے حواس باختہ تھی۔

’’تو پھر مجھ سے ہوا ہے۔ میں نے کہا تھا نا کہ میرا تم سے وعدہ ہے محبت تم سے کی ہے تو شادی بھی تم سے کروں گا دیکھ لو کتنا سچا ہوں میں اپنی محبت میں بقول شاعر

میں اپنے عشق میں سچا ہوں اور کہتا ہوں

میرے لہو میں بہت زہر ہے رقابت کا

ہزار اس نے چاہا میں بکھر جاؤں

پر میں نے صبر کیا، صبر بھی قیامت کا

تم سے محبت کی ہے۔ تمہارے احمقانہ انکار پر بہت غصہ آیا‘ جی تو چاہا منٹوں میں دماغ سیدھا کردوں۔ اس طرح تمہارے سارے کل پرزے ٹھیک ہو جائیں گے مگر پھر سوچا، ہو تو تم پتھر کی مورت ہی۔ اتنے عرصے سے سر پھوڑ رہا ہوں کیا فائدہ ہوا ہے۔ تھرو آؤٹ پراپر چینل استعمال کرو۔ اب افسوس ہو رہا ہے کہ یہ پراپر طریقہ کاش پہلے استعمال کیا ہوتا تو کب کی ہماری دسترس میں ہوتی۔‘‘

وہ ہزارہا جذبوں میں گھرا اسے بتا رہا تھا اور ماورا کی وہ حالت تھی گویا کاٹو تو بدن میں خون نہیں۔ مرتے مرتے دوبارہ زندگی ملی تھی۔ خدا کیسے پل میں مہربان ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو بہہ نکلے

’’اب کیوں رو رہی ہو؟‘‘ روتے میں ہنس دی۔

’’ہیں اب کیاہوا ہے…؟‘‘ اس نے گھورا۔

’’یہ بھی کوئی انسانوں والا طریقہ تھا میری جان نکال کے رکھ دی اور صبا باجی بھی کیسی ڈکٹیٹر بن بیٹھی تھیں۔ ذرا بھی میرے رونے کا احساس نہ کیا۔ اتنا نہ ہوا کہ مجھے بتا ہی دیں۔‘‘ہنسی روک کر کچھ خفگی سے اسے دیکھا تو وہ ہنس دیا۔

’’تمہیں اگر وہ بتادیتیں تو یہ سارا معاملہ کیسے سلجھتا۔ تم نے تو اچھا خاص چوپٹ کر دیا تھا وہ تو بھلا ہو میرے بڑوں کا کہ ان کی عقل تمہاری طرح گھاس چرنے نہیں گئی تھی۔ بہتر فیصلہ کیا۔ میری یہی رائے تھی کہ تمہیں لاعلم رکھا جائے۔ تمہارا کیا تھا تم پھر کوئی کھڑاک دیتیں بمشکل ہی تو قابو میں آئی ہو۔ ویسے تمہیں شرم آنی چاہیے تھی یوں مجھ سے اپنے جذبات چھپانے پر۔ جب میں نے تم سے کچھ نہیں چھپایا ایک ایک جذبہ تمہارے سامنے تھا تو تم نے یہ بے ایمانی کیوں کی؟‘‘وہ ایک دم یوں باز پرس پر اتر آیا تھا جیسے درمیانی تعلقات ہمیشہ ہی سے اسی طرح قائم دائم تھے۔ ماورا نے گھورا۔

’’میں نے کوئی بے ایمانی نہیں کی ۔ مجھے خود علم نہیں تھا وہ تو ان ہی دو تین دنوں میں علم ہوا کہ…‘‘وہ کہتے کہتے ایک دم رک گئی۔ سلامہ شاہ کو دیکھا وہ پوری طرح متوجہ تھا۔

’’کہ محترمہ ہمارے عشق میں مبتلا ہوچکی ہیں۔‘‘ وہ ہنسا۔وہ زچ ہوئی اس کی خوش فہمی پر۔

’’میں کوئی مبتلا وبتلا نہیں ہوئی بس بات ساری یہ ہے کہ پوری ایمانداری سے سوچا تو آپ کی محبت اور آپ کی شخصیت اتنی بری بھی نہ تھی۔ اسی لیے…‘‘ وہ شرارتی انداز میں مزید کچھ کہتی جب سلامہ شاہ نے اس کے ہونٹوں پر اپنا بھاری ہاتھ رکھ دیا۔‘‘

ختم شد

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.