August 17, 201114 yr Author ’’میں لایا تھا…چچا جان تو چلے گئے تھے۔ رات کو میں ہی اپارٹمنٹ میں تھا۔ سو تمہارے پڑوسی ڈاکٹر سعود کی مدد سے تمہیں یہاں پہنچایا تھا۔‘‘مسکرا کر اپنائیت سے کہہ رہا تھا۔گزرے وقت کا اس کے چہرے پر شائبہ تک نہ تھا جب کہ اس کی اپنائیت محسوس کرکے میری سوچیں عود آئیں۔ میں اس شخص سے انتہائی نفرت کرتی تھی لیکن یہ کہہ کیا رہا تھا۔ مجھے اسپتال لے کر آنے والا یہ شخص تھا۔ میری بے یقینی ابھی بھی قائم تھی جب کہ اس نے مسکرا کر میری کلائی تھامی تھی۔ شاید نبض چیک کرنے کو۔ میں اب مکمل حواس میں تھی ایک دم میں نے اپنی کلائی کھینچ لی۔اس کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوگئی تھی۔ ’’میں ڈاکٹر کو انفارم کرتا ہوں کہ تمہیں ہوش آگیا ہے۔‘‘اس کی آنکھوں میں کچھ ایسی بات ضرور تھی کہ میں نے فی الفور آنکھیں بند کر لیں۔ وہ کمرے سے جاچکا تھا اور میں ابھی تک کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔ کہاں وہ مجھ سے شدید نفرت کرتا تھا اور اب کہاں اس کی یہ مہربانیاں۔ ’’مجھے برین ہیمبرج ہوا تھا…‘‘مجھے حیرت ضرور ہو رہی تھی اس لیے کہ میں پھر بھی زندہ ہوں جب کہ مجھے مرنے کی خواہش تھی اور بابا…میں کل سے یہاں تھی۔ انہوں نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھاتھا کیا وہ اس قدر شدید نفرت کرتے ہیں مجھ سے کہ میرے مرنے اور جینے سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔ دیوار پر آویزاں کیلنڈر سے نظر آتی اگلے دن کی تاریخ دیکھ کر میرا دل غم و کرب کی اتھاہ گہرائی میں ڈوبتا جا رہا تھا۔ پھر وہی سوچیں تھیں اور وہی اذیت اور سلامہ شاہ…میںنے سر جھٹکا پھر میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا۔ سلامہ شاہ مجھے یہاں لایا تھا۔ میرے وجود کو چھونے والا وہ تھا جس سے میرا صرف نفرت کا رشتہ تھا۔ ایک دم میرا پورا وجود سنسنا اٹھا۔ اسی تصور سے کہ میں تو بے ہوش تھی اور وہ…میں مزید کچھ بھی نہیں سوچ سکی تھی کیونکہ میرا ذہن ہی نہیں آنکھیں بھی ایک گہرے اندھیرے میں ڈوب گئی تھیں۔ مجھے دوبارہ ہوش شاید آدھی رات کو آیا تھا۔ وہ شخص ابھی بھی وہیں کمرے میں تھا۔میں ابھی بھی مشینوں میں جکڑی ہوئی تھی۔ ڈرب بدستور لگی ہوئی تھی۔ سلامہ شاہ کرسی پر بیٹھا سو رہا تھا۔ میں کچھ زیادہ غوروفکر نہ کرسکی۔ میرے ذہن پر غنودگی چھائی ہوئی تھی۔ ’’پا…پ…پانی…‘‘ میرا حلق خشک ہو رہا تھا۔ ایک دم مجھے پانی کی طلب ہوئی۔لیکن وہاں کوئی بھی نہیں تھا جو میری آواز سنتا اور جو تھا وہ شاید گہری نیند میں تھا۔میں نے خود اٹھنے کی کوشش کی مگر ہاتھ ٹیبل پر رکھی دوائیوں سے الجھ گیا۔ نتیجتاً کتنی دوائیاں زمین پر جاگری تھیں۔میرا تنفس بری طرح الجھا ہوا تھا۔ نقاہت سے براحال تھا۔میں بے دم ہو کر واپس لیٹ گئی۔ کھٹکے کی آواز سے سلامہ شاہ بھی متوجہ ہوگیا۔ پہلی نظر مجھ پر پڑی تھی مجھے حواس میں پاکر وہ فوراً میرے قریب آگیا۔ ’’کیا ہوا ماورا…طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری؟‘‘مجھے بمشکل گہری سانس لیتے دیکھ کر اس نے پریشانی سے پوچھا تو میں رونے لگی۔ اٹھنے کی کوشش میں بازو میں لگی ڈرپ کی سرنج بھی کسی نس میں الجھ گئی تھی۔ ڈرپ میں خون کی آمیزش شامل ہونا شروع ہوچکی تھی۔ سلامہ شاہ کی نظر جیسے ہی ڈرپ پر پڑی اس نے سرعت سے سرنچ بازو سے نکال کر نس کے اوپر روئی رکھ دی۔ ’’میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں…‘‘میری کیفیت سے پریشان ہو کر وہ کہہ رہا تھا۔ ’’پانی…مجھے پانی پینا ہے۔‘‘میں بمشکل کہہ پائی تھی… وہ فوراً پانی لے آیا۔ سلامہ شاہ کے سہارا دے کر پانی پلانے پر میرے خشک کانٹے چبھتے حلق میں کچھ سکون آیا۔میںاس کے سہارے لیٹے ہوئے گہری سانس لے رہی تھی ساتھ ہی میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ ’’ماورا… تم ٹھیک تو ہونا…یا میں ڈاکٹر کو بلواؤں…کچھ تشویش سے دیکھتے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہ پوچھ رہا تھا۔میں نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور پھر سر ہلا دیا۔غنودگی ابھی برقرار تھی۔ وہ بستر پر ہی بیٹھ گیا۔ میرا ہاتھ پکڑ کر سہلانے لگا۔ مجھے ساتھ ساتھ اپنا ذہن پرسکون رکھنے کی بھی ہدایت کر رہا تھا۔ اس کی ہدایت کو سنتے سنتے مجھے پتا نہیں چلا کہ کب دوبارہ آنکھ لگ گئی۔ اگلے دن دوپہر کے قریب میں بیدار ہوئی تھی۔ کل کی نسبت میری طبیعت کچھ ٹھیک تھی۔ فاطمہ ماما کمرے میں تھیں اور ان کے ساتھ پاپا بھی تھے جب کہ سلامہ شاہ کہیں نہیں تھا۔ ’’کیسی طبیعت ہے اب آپ کی…‘‘مجھے پکارتے ہوئے ان کا یہ پرتکلف انداز ہوتا تھا۔ انہوں نے متوجہ دیکھ کر پوچھا تو میں ان کے اس قدر نارمل انداز پر سر ہلاگئی۔ اب تلخ سی مسکراہٹ میرے ہونٹوں پر سرائیت کرگئی تھی اور ساتھ ہی میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ میرے مکمل طور پر صحت یاب ہوتے ہی مجھے ڈسچارج کر دیاگیا۔ اس دوران سلامہ شاہ دوبارہ نہیں آیاتھا اور اس کے نہ آنے پر میں نے سکھ کی سانس لی۔ ورنہ اپنے جذبات و کیفیات پر قابو پانا میرے لیے مشکل ہو جاتا تھا۔ خواہ مخواہ میرا ذہن بھٹکنے لگتا تھا اور خود بخود میرے دل و دماغ میں نفرت کے جھکڑ چلنے لگتے تھے۔ طبیعت سنبھلی تو میں یونیورسٹی جانے لگی۔ میری تعلیم متاثر ہو رہی تھی۔ میں اکنامکس میں ماسٹر کر رہی تھی۔
August 17, 201114 yr Author سارا دن یونیورسٹی میں گزار کر گھر لوٹی تو فاطمہ ماما کھانا ٹیبل پر سجائے میری اور پاپا کی منتظر تھیں۔ ٹیبل پر کافی اہتمام کر رکھا تھا۔ لباس بدل کر اور نماز ادا کرکے ابھی میں ٹیبل پر پہنچی ہی تھی کہ کال بیل بجی۔ ماما مجھے کھانے کا کہہ کر چلی گئیں۔میں ابھی پلیٹ میں سالن ڈال رہی تھی جب ماما کے ساتھ سلامہ شاہ کو دیکھ کر میرا حلق تک کڑوا ہوگیا۔ ’’السلام علیکم…‘‘مسکرا کر اس نے مجھے کہا تو میں بس سر جھکا گئی۔ ’’آپ بیٹھیں نا، رہبان بھائی نے مجھے کال کر دی تھی اسی لیے میں نے ڈنر کا اہتمام کر لیا۔ وہ کچھ آفس ورک کی وجہ سے لیٹ ہو جائیں گے۔ آپ بیٹا بیٹھیں اور کھانا شروع کریں۔وہ تھوڑی دیر میں پہنچ جائیں گے…‘‘ماما کے انداز سے محسوس ہوا کہ اس شخص کو پاپا نے مدعو کیا تھا۔ میرا دل برا ہوا۔ وہ میرے سامنے ہی ٹیبل پر کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ میرا کوفت سے برا حال ہو گیا۔ میں پہلو بدل کر رہ گئی۔ ’’تمہاری طبیعت کیسی ہے اب ماورا!…‘‘ ماما نے اسے سالن ڈال کر دیا تو کھانے کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا۔ میرے چہرے کے اعصاب بھی کشیدہ ہوگئے تھے۔جب کہ ماما کچن سے نکل گئی تھیں۔ ’’ٹھیک ہوں…تھینکس…‘‘ کڑواہٹ میرے لہجے سے صاف عیاں تھی۔ وہ میرے کڑوے لہجے پر مسکرادیا اور اس کی مسکراہٹ دیکھ کر میرا چہرہ مزید سرخ ہو گیا۔ ’’اسٹوپڈ کہیں کا…‘‘میں دل ہی دل میں کڑھی۔ ’’انکل بتا رہے تھے کہ تم اکنامکس کی اسٹوڈنٹ ہو۔‘‘ کچھ توقف کے بعد اس نے پھر پوچھا اسے یا تو میرے چہرے کے تاثرات نظر نہیں آرہے تھے یا پھر سمجھ کر بھی انجان بن رہا تھا۔خواہ مخواہ بے تکلف ہونے کے چکر میں تھا۔ میں اور تپ گئی ۔ ’’ جی … میں…‘‘ اندر ہی اندر کڑھ کر رہ گئی۔ ادھر سے ادھر پہلو بدلا۔اس شخص کی موجودگی میرے لیے ناقابل برداشت تھی جلدی جلدی نوالے لینے لگی۔ ماما نہ جانے کہاں رہ گئی تھیں ابھی تک نہیں لوٹی تھیں۔ ’’اسٹڈی کیسی جا رہی ہے تمہاری…‘‘وہ شاید میرے ضبط کی حد دیکھنا چاہتا تھا۔ میں نے اسے گھورا۔ میں کھانے سے ہاتھ کھینچ چکی تھی۔ کرسی کھسکا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’میری ذات یا میری اسٹڈی سے آپ کو کوئی دلچسپی نہیں ہونی چاہیے مسٹر سلامہ شاہ۔ آپ اپنے انکل کے مہمان ہیں، اسی حد تک محدود رہیں تو بہتر ہے۔‘‘ پھنکار کر غصے سے کہتے مجھے اس کے قریب سے گزر کر باہر نکلنا تھا جب اس کے قریب سے گزرتے اس نے میری کلائی تھام لی تو میں ششدر سی پلٹی۔ بے یقینی سے اس پر نظر ڈالی۔ ایک دم سنجیدہ چہرہ لیے وہ مجھے بغور دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ آج تک کسی کے اندر اتنی جرأت کہاں ہوئی تھی کہ مجھے انگلی سے بھی چھولے اور یہ شخص… ’’اوہ… چھوڑو میرا بازو…‘‘ احساس توہین اور ذلت سے میرا زمین میں گڑ جانے کو جی چاہا۔ ایک دم ہاتھ کھینچا تھا۔اگلے ہی لمحے میرا ہاتھ اٹھا تھا کچھ بعید نہیں تھا کہ میرا اس پر ہاتھ اٹھ جاتا۔ میں اس جسارت پر اس کا حشر بگاڑ دیتی مگر اسی دوران فاطمہ ماما کچن میں داخل ہوئیں،ان کے ہمراہ پاپا بھی تھے۔ ’’معاف کرنا بیٹا کچھ دیر ہوگئی…‘‘پاپا سلامہ شاہ سے کہتے ہوئے آگے بڑھے۔ میں اس پر ایک ایک زہر بھری نظر ڈال کر اپنے کمرے میں آگئی۔ رات کو کھانا تیار کرنے کے لیے میں کمرے سے باہر نکلی تو کچن میں داخل ہوتے ہی پہلا سامنا اسی سے ہوا۔ میں تو سمجھی تھی کہ وہ چلا گیا ہوگا مگر اسے اس قدر بے تکلفی سے کچن میں چائے بناتے دیکھ کر حیرانگی ہوئی۔ نجانے ماما کہاں تھیں۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا۔ میرے چہرے کے زاویے خودبخود بدل گئے۔ ’’ہیلو…کیسے مزاج ہیں اب…دوپہر کو تو بڑی گرماگرمی والی کیفیت تھی۔‘‘ اسے نظرانداز کرکے میں فریج سے رات کے کھانے کا سامان نکالنے لگی۔ مجھے ایک دم غصہ آگیا گویا جان ہی تو جل گئی میری اس کی اس قدر بے تکلفی پر۔ ’’شٹ اپ…‘‘میں پلٹ کر پھنکاری۔’’میں تلملاتے ہوئے تمام چیزیں لے کر ٹیبل پر جا بیٹھی۔ وہ میرے اس قدر آگ بگولا انداز پربھی متبسم تھا۔میں جل کر رہ گئی جب سے آیا تھا میرا جی جلا رہا تھا۔
August 17, 201114 yr Author ’’اتنا غصہ… وہ بھی مجھ ناچیز سے…ویسے اتنی نازک سی ہو تم…اس قدر غصہ کرنے سے مزید غضب ڈھانے لگتی ہو۔‘‘ وہ بھی اپنے مگ میں چائے لے کر میری طرف آگیا۔ ’’سلامہ شاہ…‘‘میں حیرت سے گنگ رہ گئی۔ کس قدر بے تکلفی پر اتر آیا تھا یہ شخص۔ ’’میں جب سے آیا ہوں۔ تمہارا یہی مزاج دیکھ رہا ہوں جب کہ فاطمہ ماما تعریفیں کرتی نہیں تھکتیں تمہاری۔ ویسے غصے کے علاوہ اور کیا مشاغل ہیں تمہارے۔‘‘اس نے حد ہی تو کردی تھی۔ ’’بکواس بند کرو…میں پاپا کی وجہ سے آپ کو برداشت کر رہی ہوں اگر مزید آپ نے کوئی بے ہودگی کی تو میں آپ کا سر پھاڑ دوں گی…‘‘بے بسی کی حد ہی تو تھی۔ میں تلملا کر ایک دم ہونٹ بھینچ گئی وہ مسکرا کر کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ میرا رواں رواں نفرت سے جلنے لگا۔ ’’آپ کا پاپا سے رشتہ ہے اس کو اسی تک رکھیں…میں آپ لوگوں کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔‘‘ ’’کیوں ایسا کیا گناہ کر دیا ہے ہم لوگوں نے، تم کزن ہو میری سگی عم زاد، بہت قریبی تعلق ہے ہمارا…تمہارے کہہ دینے سے رد تو نہیں ہو جائے گا۔‘‘ وہ بہت ہی سنجیدہ ہو کر کہہ رہا تھا۔ میرے چہرے پر خودبخود اس کے الفاظ سے استہزائیہ مسکراہٹ آٹھہری۔ ’’بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہیں مسٹر سلامہ شاہ آپ تو۔‘‘ اس کی طرف دیکھتے ہوئے میں مسکرا دی جب کہ میری آنکھوں میں صرف نفرت ہی نفرت تھی۔’’آپ کی کزن وہ بھی میں، یعنی ماورا رہبان غفار شاہ۔ کیا مذاق ہے زبردست بھئی…‘‘اب میں باقاعدہ ہنس رہی تھی۔’’میں ماورا اسی سارہ کی بیٹی ہوں جو آپ جیسے اعلیٰ حسب نسب والے خاندان کے لیے کلنک کا ٹیکا ثابت ہوئی تھیں…حیرت ہے بھول گئے آپ تو… جب کہ مجھے تو اچھی طرح ازبر ہے بڑا اعلیٰ حسب نسب والا خاندانی خون ہے آپ کا تو جس میں میری ماں اور میری وجہ سے ملاوٹ ہوجانا تھی…چہ چہ چہ…‘‘ ہنسی کی بجائے اب میرے لہجے سے نفرت ہی نفرت جھلک رہی تھی وہ لب بھینچے مجھے دیکھ رہا تھا۔ ’’آپ نے بھی کیا خوب لطیفہ سنایا ہے۔ میں آپ کی عم زاد ہوں یعنی بہت گہرا تعلق ہے میرا آپ سے…یہ بھی خوب کہی آپ نے…‘‘ پھر میری ہنسی شروع ہوگئی تھی اور رکنے میں ہی نہیں آرہی تھی۔ میں نے برسوں پہلے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھی تھی۔ اس کے لہجے میں رچے نفرت کے زہر کو چکھا تھا اور اسی زہر نے میرا روم روم نیلا کر دیاتھا اور اب اچانک ’’یہ کزن‘‘ والی بات ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ ’’بس کرو ماورا…یہ کیا بے ہودگی ہے…‘‘ میرے مسلسل ہنسنے پر آخر کار وہ چیخ اٹھا اور میں یہی چاہتی تھی ایک دم ہنسی ضبط کیے اسے زہر بھری نظروں سے گھورا۔ ’’بے ہودگی نہیں سلامہ شاہ! حقیقت ہے۔ جسے آپ بھول رہے ہیں۔ کیوں مجھے میری اوقات سے باہر نکال رہے ہیں آپ۔محترم! جب کہ میں اپنی حدود اور قیود اچھی طرح پہچانتی ہوں اور میرا آپ کو بھی مخلصانہ مشورہ ہے کہ آپ بھی اپنی اوقات اچھی طرح جان لیجیے۔ورنہ حد سے تجاوز کریں گے تو منہ کے بل گریں گے۔ اونچے حسب نسب والے اعلیٰ خاندان کے پاک و صاف خون ہیں۔ کیوں آپ محترم مجھ گناہ گار کو مزید گناہ گار کر رہے ہیں۔‘‘ زہر بھرے انداز میں اس کی آنکھوں میں بے خوفی سے آنکھیں گاڑ کر کہتے میں نے دس سال کی عمر میں حویلی میں گزارے ان چند دنوں کا قرض اتارا جنہوں نے میری روح کو نفرت کے تیروں سے گھائل کیے رکھا تھا۔ وہ چند لمحے میری طرف دیکھتا رہا تھا پھر ایک گہری سانس خارج کرتا وہاں سے اٹھ گیا۔ اس کے چلے جانے پر میں نے سر جھٹکا۔ میرا خیال تھا کہ وہ مزید کچھ کہے گا مگر اس کے یوں بغیر کچھ کہے چلے جانے پر مجھے حیرت ہوئی۔ سلامہ شاہ ہوٹل چھوڑ کر اب یہیں رہنے لگا تھا۔ میرے ہی گھر میں رہتے، میرے ہی سامنے مالکانہ حقوق کا استعمال کرتے وہ مجھے مزید زہر لگنے لگا تھا۔ اس کی وجہ سے میں نے خود کو مزید مصروف کر لیا۔ میری پوری کوشش ہوتی تھی کہ اس سے کم سے کم سامنا ہو۔ بعض اوقات یونیورسٹی میں کلاسز کے بعد بھی لائبریری میں بیٹھی رہتی۔ گھر آتی تو کمرے میں بند ہو جاتی۔ اس دن میں روٹین سے کچھ لیٹ ہوگئی تھی بھاگم دوڑ میں تیار ہو کر گھر سے نکلی تو وہ بھی پاپا کی گاڑی لیے کہیں جانے کو تیار تھا۔ میں اسے نظرانداز کرکے تیزتیز قدموں سے آگے بڑھ گئی مگر چندمنٹ بعد ہی اس نے گاڑی میرے قریب ہی لاکر روک دی۔ ’’یونیورسٹی جا رہی ہو…آؤ بیٹھو میں تمہیں ڈراپ کردوں گا…‘‘ دروازہ کھول کر اس نے مجھے آفر کی۔ میں نے اسے دیکھا۔ اس دن کے بعد ہمارا سامنا بہت کم ہوا تھا لیکن مخاطب صرف چند ایک بار
August 17, 201114 yr Author ہی ہوئے تھے۔ اس کے باوجود اس کے رویے میں میری کسی بات کا اثر نہ تھا۔ ’’نو تھینکس…یہ میرا روزانہ کا معمول ہے…میں بآسانی چلی جاؤں گی…‘‘ کھردرے لہجے میں انکار کرکے میں نے اس سے مزید الجھے آگے بڑھنا چاہا تو اس کی بات پر رک گئی۔ ’’یہ ہر وقت کی ’’انا‘‘ بھی اچھی نہیں ہوتی ماورا ڈیئر…ماضی میں جو بھی ہوا اس میں نہ تو میرا قصور تھا اور نہ ہی تمہارا…کبھی غصے سے نکل کر بھی دیکھ لیا کرو…تمہاری صحت پر اچھا اثر پڑے گا۔‘‘مسکرا کر آنکھوں میں شرارت لیے وہ مجھے دیکھ رہا تھا۔ میرا تو برا حال ہونے لگا۔ ’’شٹ یور ماؤتھ…آپ کو کوئی حق نہیں میری ذات پر یوں کمنٹس پاس کریں۔‘‘ تڑخ کر میں نے کہا۔ وہ کھل کر ہنسا۔ میرا خون کھول اٹھا۔ ’’حق کی بھی تم نے خوب کہی ماورا! سگی عم زاد تو ہو ہی…مزید رشتہ بنانے میں دیر نہیں لگے گی۔ بشرط تم بھی اپنے دل میں تھوڑی سے گنجائش پیدا کر لو…‘‘ میں غصے میں آگے بڑھ آئی تھی۔ سارا دن یونیورسٹی میں میرا جلتے بھنتے گزرا۔اس کی اس قدر جرأت اور اپنی بے بسی پر کھل کر رونے کو جی چاہا…پیریڈ آف ہوتے ہی میں لائبریری میں چلی آئی۔ عجیب سی کیفیت سوار تھی مجھ پر۔ رہ رہ کر اس کے الفاظ میرا مذاق اڑا رہے تھے۔ میں بچی تو نہ تھی جو اس کے لفظوں کا مفہوم نہ سمجھتی۔ میں سارا وقت لائبریری میں بیٹھی رہی۔ گھر جانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا پھر وہاں تھا کون جو میری راہ تکتا سوائے فاطمہ ماما کے جب کہ پاپا کو میرے وجود سے نہ کوئی انسیت تھی اور نہ رغبت۔ تو پھر وہاں جاکر میں کیا کرتی۔ ایک لمحے کو میرا دل شدت سے چاہا کہ میں یہاں سے چلی جاؤں کسی ایسی جگہ جہاں کسی انسان کا وجود تک نہ ہو۔ بے بسی ہی بے بسی تھی۔ کتنی بار میری آنکھیں بہہ گئیں اور کتنی بار میں نے چپکے سے صاف کرلیں۔یہ پبلک پلیس تھی کھل کر رویا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ یونہی بیٹھے بیٹھے نجانے کتنا وقت گزر گیا۔ ’’اس طرح فرار اختیار کرنا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوا کرتا… مل بیٹھ کر مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔یوں چپکے چپکے رونے سے بہتر ہے کہ آپ کسی اپنے کے پاس بیٹھ کر کھل کر رولیں اپنا دکھ کہہ لیں۔ یہ فرار اپنے آپ کو سوائے منظر عام پر لانے کے کچھ نہیں…‘‘ ابھی میں بھیگی آنکھوں سمیت وقت کا تعین ہی نہیں کرپائی تھی۔ جب اس آواز نے میرے اعصاب تک کو جھنجوڑ ڈالا۔ سلامہ شاہ قریب ہی کھڑا بہت سنجیدگی سے کہہ رہا تھا جب کہ آواز کے برعکس آنکھیں استہزائیہ انداز میں میرے ضبط کو جھنجوڑ گئی تھیں اور اس کے الفاظ… ’’آپ…یہاں…‘‘مجھے توقع نہیں تھی کہ وہ یہاں کہیں ہوگا۔ وہ مسکرا کر اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پر جما کر میری آنکھوں میں بغور دیکھتے ٹیبل پر جھک گیاتھا۔ ’’فاطمہ آنٹی نے بھیجا تھا تمہیں تلاش کرنے کو…بقول ان کے کہ آج سے پہلے کبھی تم اتنی دیر گھر سے غائب نہیں ہوئیں۔انہی کی نشاندہی پر میں سیدھا یہاں پہنچا ہوں اور شکر ہے تم مل گئیں ورنہ مجھے خوار ہونا پڑتا…‘‘اب وہ سیدھا کھڑا ارد گرد کا جائزہ لے رہا تھا۔ میں بغیر کچھ کہے اپنی چیزیں اٹھا کر وہاں سے نکل آئی یہ دیکھے بغیر کہ وہ بھی آرہا ہے یا نہیں۔ روڈ کراس کرکے میں اسٹاپ کی طرف جاکر بس روٹ دیکھنے لگی۔ سلامہ شاہ گاڑی لیے منتظر تھا۔ میں نظر انداز کرگئی۔ تبھی وہ گاڑی لے کر میرے قریب آکر رک گیا۔ ’’چلو آؤ بیٹھو…‘‘ دروازہ کھول کر وہ یوں کہہ رہا تھا جیسے میں فوراً بیٹھ جاؤں گی۔ غصہ تو بہت آیا مگر میں لب سیے کھڑی رہی۔ ’’ماورا…‘‘ وہ گاڑی سے نکل آیا۔’’مانا کہ ماضی میں ہم سے بہت سی غلطیاں ہوئیں مگر ہر وقت حال کا ماضی کے تناظر میں جائزہ لینا عقل مندی نہیں کہلاتا… مانا کہ تم مجھ سے شدید نفرت کرتی ہو اتنی کہ میری صورت بھی نہیں دیکھنا چاہتی مگر میں تو تم سے نفرت نہیں کرتا۔ میں تو ہر وقت تمہاری صورت دیکھنا چاہتا ہوں یہ کیوں نہیں سمجھتی…‘‘اس کے اس غیر سنجیدہ انداز پر میں نے تڑپ کر اسے گھورا۔ ’’اس طرح گھورنے سے مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اس وقت میں خود نہیں آیا، بلکہ بھیجا گیا ہوں۔ مجھے کوئی شوق نہیں ہے یوں ہی سڑک پر کھڑے ہو کر تمہاری منتیں کرنے کا…اب میرا وقت ضائع نہیں کرو…اتنا فالتو نہیں ہوں کہ تمہارے نخرے برداشت کروں…‘‘ وہ اب بھی ہانک رہا تھا۔ میرا ضبط سے براحال تھا۔ کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا۔ ’’اوہ بیوٹی فل کپل…‘‘ میں اس طرح کھڑی تھی جب ایک ویسٹرن لڑکی اپنی ستائشی نظروں سے سراہتی بے باکی سے کمنٹس پاس کرتی آگے بڑھ گئی۔سلامہ شاہ تو ایک دم قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ جب کہ میرا خفت سے برا حال ہو گیا۔ میری چہرہ تپش سے جھلسنے لگا۔ ’’تم اگر نہیں چاہتی کہ ایسا مزید کوئی جملہ ہم سنیں تو پلیز مزید وقت ضائع کیے بغیر اندر بیٹھو۔ورنہ اردگرد لوگوں کو تم دیکھ ہی رہی ہو کہ کیسے ہمیں سراہ رہے ہیں…‘‘احساس توہین کی انتہا تھی مگر اس کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ میں نے دزدیدہ نظروں سے اطراف میں نگاہ دوڑائی تو واقعی بہت سی نظروں کو خود پر جمے دیکھا۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق میں اندر بیٹھ گئی۔ ’’سنیے میں آپ کو پہلے بھی کہہ چکی ہوں آپ کا تعلق صرف پاپا سے ہے۔ انہی تک محدود رکھیں تو بہتر ہے۔‘‘ گاڑی سلو رفتار سے چل رہی تھی جب اس کی کسی شوخ سی دھن پر بھنا کر کہا۔ ’’زہے نصیب… کچھ تو کفر ٹوٹا…ورنہ لگ رہا تھا کہ آج زبان کہیں رکھ کر بھول گئی ہو۔‘‘محظوظ انداز میں مسکراتا وہ جواباً بولا تو میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ یعنی میرے اس طرزعمل سے وہ لطف اندوز ہو رہا تھا۔ ’’پلیز سلامہ شاہ! انتہا ہوتی ہے کسی چیز کی۔ کیوں میرے پیچھے پڑگئے ہو…‘‘اب کے میرے انداز میں بے بسی و لاچاری تھی وہ چہرہ موڑ کر مجھے بغور دیکھنے لگا۔ ’’میں آپ کو صاف صاف کہہ رہی ہوں۔ آئندہ میرے رستے میں آنے کی قطعی ضرورت نہیں۔‘‘ ’’اور میں بھی تمہیں کہہ رہا ہوں۔ میرا ہر رستہ تم تک ہی آئے گا۔تم پہلی نظر سے ہی مجھے اچھی لگی ہو اور مجھے بہت کم چیزیں یوں اٹریکٹ کرتی ہیں۔‘‘ گاڑی روک کر وہ کہہ رہا تھا۔ میں حیرت سے اسے دیکھے گئی۔ ’’میں کوئی چیز نہیں ہوں۔ جیتی جاگتی انسان ہوں۔‘‘ ’’آئی نو…میں تمہیں کوئی چیز سمجھ بھی کب رہا ہوں…پھر محبت تو واقعی جیتے جاگتے انسانوں سے ہی ہوتی ہے۔‘‘ وہ ابھی بھی غیر سنجیدہ تھا۔ شوخ سی مسکراہٹ تھی لبوں پر۔ ’’کیا بکواس ہے یہ…شرم آنی چاہیے آپ کو ایسی باتیں کرتے ہوئے۔‘‘ اس کے لفظ’’محبت‘‘ استعمال کرنے پر میرا ضبط جواب دے گیا تھا۔ میری ذات کے کبھی پڑخچے اڑانے والا آج مجھ سے محبت کی بات کر رہا تھا۔’’ہونہہ آپ محبت کریں گے مجھ سے۔ نفرت کرتی ہوں میں آپ سے اور آپ کے پورے خاندان سے۔ میں آج بھی وہی ماورا ہوں جسے انتہائی حقارت سے اپنی حویلی کی چار دیواری میں کھڑے ہو کر آپ نے کہا تھا کہ میں اپنی اوقات سے آگے مت بڑھوں۔ وہی ماورا ہوں پھر آپ یہ سب کیسے بھول گئے۔ جب کہ میں نے ہر لمحے ان کی بازگشت اپنے اندر محسوس کرتے نفرت کے پودے کو جو آپ کی ہی دین تھا پروان چڑھایا ہے اور اب آپ بات کرتے ہیں محبت کی۔ مجھے وہ سب یاد ہے۔نفرت و اذیت کے زہر میں ڈوبا آپ کا کہا گیا ایک ایک لفظ۔ میں کبھی اپنی توہین نہیں بھولوں گی اور آپ نے ہی سلامہ شاہ مجھے اپنی حدود میں رہنے کی تلقین کی تھی اور اب آپ خود حدود کو پار کر رہے ہیں۔‘‘ بھرائی ہوئی چبھتی آواز میں بمشکل سب کہہ پائی۔ ’’ماورا…میں نادم ہوں۔ جو بھی کہا وہ بہت جذباتیت میں کہا تھا بالکل ناسمجھی میں۔تب میں بابا جان کے زیر اثر تھا۔ اب ایسی کوئی بات نہیں…میں سب اچھی طرح دیکھنے اور سمجھنے لگا ہوں، اب حقیقت آنکھیں بند کرکے دیکھنے کی بجائے آنکھیں کھول کر قبول کرنے لگا ہوں۔‘‘ ’’مجھے آپ کی کوئی معذرت نہیں چاہیے نہ ہی آئندہ آپ میرے سامنے ایسی باتیں کریں گے۔ میں اگرچہ یہاں پلی بڑھی ہوں مگر میری تربیت جن ہاتھوں میں ہوئی ہے۔انہوں نے مجھے ان لغویات سے نفرت کرنا ہی سکھایا ہے۔ آپ کچھ بھی کہیں مگر اپنے ماضی سے جدا نہیں ہو پائیں گے۔ لاکھ تاویلیں گڑھ لیں مگر میری نفرت تو ختم نہیں ہوگی۔‘‘ بات یہی ختم کرکے میں باہر دیکھنے لگی۔ وہ بھول سکتا تھا مگر میں نہیں…اس کے بعد ہمارے درمیان بالکل خاموشی رہی تھی۔ وہ مجھے گھر چھوڑ کر چلا گیا اور میں نے اس کے اتنی جلدی ٹل جانے پر شکر ادا کیا۔ سلامہ شاہ کچھ دن سے میرے روّیوں سے مایوس ہو کر شاید اپنی راہیں بدل گیا تھا۔ میںنے سکھ کا سانس لیا۔ ورنہ میں سوچ رہی تھی کہ اگر وہ باز نہ آیا تو میں پاپا سے ضرور شکایت کردوں گی۔مجھے اس کا بار بار اپنی راہ میں آنا اور یوں اظہار کرنا صرف فراڈ ہی لگ رہا تھا۔ شاید اپنے ماضی میں موجود روا رکھے گئے رویوں کی وجہ سے اب کسی حس کو تسکین پہنچانا مقصود تھا۔ مجھے تو اس کی یہ محبت صرف اور صرف زچ کرنے کا ایک انداز لگ رہی تھی۔ پاپا اپنے آفس میں تھے، فاطمہ ماما گھریلو خریداری کرنے گئی ہوئی تھیں۔ یورنیورسٹی سے آکر میں گھر پرتنہا تھی۔ کچھ دن سے سلامہ شاہ بہت مصروف رہنے لگا تھا۔ فاطمہ ماما سے ہی علم ہوا کہ وہ جس کام کے لیے آیا ہوا تھا اس کا آفس سیٹ ہو چکا ہے اب وہ جلد ملک واپس چلا جائے گا۔ کال بیل کی آواز پر میں نے دروازہ کھولا تو سلامہ شاہ کو سامنے دیکھ کر حیرانگی ہوئی۔ چند دن سے وہ اس وقت گھر میں کم ہی آتا تھا جب کہ آج تو لنچ ٹائم بھی اوور ہو چکا تھا۔ ’’السلام علیکم…‘‘ وہ اندر آگیا۔ میں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی وہ بھی پیچھے ہی چلا آیا۔
August 17, 201114 yr Author ’’ماورا…‘‘ میرے یوں نظرانداز کرنے پر اس نے ایک دم میرا بازو تھام کر رخ اپنی جانب کیا۔ ’’سلامہ شاہ! پلیز اپنی حد میں رہیں…آئندہ مجھے ہاتھ لگانے کی غلطی نہ کرنا ورنہ میں سچ مچ تمہارا سر پھوڑ دوں گی۔‘‘ اس کی بدتمیزی پر میرا دماغ تو کھول ہی اٹھا۔ ’’حد میں ہی تو ہوں ماورا! ابھی تک…ورنہ جس چیز کو میں ایک دفعہ اپنے لیے پسند کرتا ہوں اس کے لیے مجھے کبھی اتنا خوار نہیں ہونا پڑتا۔ وہ لمحوں میں میرے قبضے میں ہوتی ہے مگرتم مسلسل مجھے خوار کر رہی ہو۔‘‘ تحکم و نخوت لیے وہ کہہ رہا تھا۔ ’’مگر سلامہ شاہ! چیزوں اور انسانوں میں بہت فرق ہوتا ہے اور شاید آپ کو اس فرق کا اندازہ نہیں تبھی میرے سامنے اپنی حاکمانہ فطرت کا مظاہرہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ مگر یاد رکھیں میں آپ کے بابا جان کی جاگیر نہیں جس پر آپ اپنا حق جتائیں۔‘‘ میرا لہجہ زہرخند تھا۔ وہ لب بھینچے مجھے دیکھ رہا تھا۔ ’’جانتا ہوں…مگر تم میرے جذبات کو کیوں نہیں سمجھ رہیں…‘‘اپنے لہجے کو کنٹرول کرکے کچھ دھیمے پن سے کہا تو میں خاموش رہی۔ بار بار ایک ہی بات کو دہراتے اب مجھے خود بھی کوفت ہونے لگی تھی۔ ’’ماورا…‘‘ وہ میرے سامنے آکر میرے چہرے پر بکھرے بالوں کو پیچھے ہٹاتے مسکرا رہا تھا۔ میں ساکت سی اس کی جرأت پر گنگ رہ گئی۔ کتنا ڈھیٹ تھا یہ شخص۔ ’’میرے پاس بہت کم دن رہ گئے ہیں۔ میرا کام ختم ہو چکا ہے تقریبا…تم اگر…‘‘ اس کے ہاتھ کو جھٹک کر میں نے اپنے آپ کو کچھ بھی کہنے سے روکا۔ ’’ماورا…‘‘ میری لاتعلقی پر وہ زچ ہوگیا۔ ’’بہت ڈھیٹ انسان ہیں آپ…بڑا دعویٰ ہے آپ کو کہ محبت کرتے ہیں مجھ سے۔ کیا ہے محبت آپ کی۔ صرف مجھے جھکانا۔ درحقیقت میں نے پہلی ہی نظر سے آپ کی نفی کی تھی اور آپ کو یہی بات ہضم نہیں ہو رہی۔ میری نفرت کے جواب میں میری انا اور نسوانیت کو پامال کرنے کو محبت کہتے ہیں۔ کیا خوب ناٹک رچایا ہے آپ نے…مگر افسوس میں آپ کے لیول کی لڑکی ہوں ہی نہیں۔ مجھے آپ جسٹ فار انجوائے منٹ استعمال کرلیں۔‘‘ ’’ماورا…ماورا…غلط سمجھ رہی ہو تم…انتہائی غلط سوچ ہے تمہاری۔‘‘ ’’تو درست کیا ہے۔ آپ بتادیں…‘‘ میرا لہجہ طنزیہ و استہزائیہ تھا۔ ’’درست یہی ہے کہ میں دل کی تمام تر گہرائیوں کے ساتھ تمہیں اپنانا چاہتا ہوں۔ صرف تمہاری ہاں کا منتظر ہوں تاکہ میں پاکستان جاکر اپنے والدین سے تمہارے لیے بات کرسکوں مگر اس سے پہلے میں تمہارے اپنے متعلق تمام گلے شکوے دور کرنا چاہتا ہوں۔ تم جس خود ساختہ نفرت میں جکڑی کچھ او رسوچنا اور سمجھنا ہی نہیں چاہتیں۔ وہ تمام غلط فہمیاں دور کرنا چاہتا ہوں۔ اپنے گزشتہ تمام رویوں کی تلافی کرنا چاہتا ہوں۔ بشرطیکہ تم تحمل سے میری بات سنو تو سہی۔‘‘وہ انتہائی زچ انداز لیے کہہ رہا تھا اور میں نے اس کی تمام باتیں سن کر کوفت بھرے انداز میں اسے دیکھا۔ ’’اگر میں آپ کے رویوں کو بھول کر آپ کی باتوں پر یقین کر بھی لوں تو سلامہ شاہ یہ حقیقت ہے کہ آپ کا خاندان مجھے کبھی قبول نہیں کرے گا۔ سلامہ شاہ آپ کے اونچے حسب نسب کے دعویدار بابا جان کی انا بلبلا اٹھے گی۔ بڑا مان ہے انہیں اپنے اعلیٰ خاندانی خون پر…وہ میرا خون کیسے برداشت کریں گے۔ بتائیں آپ پھر کیا کریں گے۔‘‘ ’’اول یہ کہ وہ صرف میرا خاندان نہیں تمہارا بھی خاندان ہے۔‘‘ ’’ہاں ضرور ہوتا اگر وہ میری ذات کی نفی نہ کرتے مجھے اپنے اعلیٰ خون ہونے کا احساس نہ دلاتے میں ضرو خود کو ان سے نتھی کرتی اگر درمیان میں کچھ نہ ہوتا…‘‘میرے جواب پر اس نے ایک گہری سانس لی تھی اور ساتھ ہی مجھے یوں دیکھا جیسے میرا دماغ لاعلاج ہو۔ ’’تو تم طے کیے ہوئے ہو کہ اپنا دل صاف نہیں کرو گی۔‘‘ ’’نہیں، ضرور کروں گی، جب آپ کے بابا جان مجھے قبول کرلیں گے تب بات کیجیے گا۔ تب آپ کے متعلق میں کوئی جواب دوں گی۔ قبل از وقت کچھ بھی نہیں۔‘‘ کچھ دھیمے پڑتے میں نے کہا۔
August 17, 201114 yr Author ’’میں انہیں راضی کروں گا اور مجھے یقین ہے وہ ضرور راضی ہوں گے…‘‘ اس کا لہجہ عزم تھا۔ مجھے بہت برا لگا تبھی میں استہزائیہ ہنس دی۔ ’’ہونہہ…وہ راضی ہوں گے…میں آپ کے خاندان کو اچھی طرح جانتی ہوں سلامہ شاہ!آپ نفرت کے پانیوں پر ایک ناقص عمارت تعمیر کرنے کے صرف خواب بن رہے ہیں جب کہ میری ایسی کوئی حماقت کرنے کی خواہش نہیں۔ جس شخص نے پچیس سال گزرنے کے باوجود اپنے بیٹے کو معاف نہیں کیا۔ وہ شخص مجھے کیسے قبول کرے گا۔ بہت بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہیں آپ تو…‘‘نخوت سے سر جھٹکتے میں اپنے کمرے میں داخل ہو کر دروازہ لاک کرگئی تھی کہ اس بحث کا کوئی حل نہیں۔ اب تو شاید سلامہ شاہ نے بھی ہار مان لی تھی۔ اس دن تفصیلی گفتگو کے بعد اس نے دوبارہ اس موضوع کو نہیں چھیڑا۔ اول تو ہمارا سامنا ہی کم ہوتا تھا اگر کبھی ہو بھی گیا تو میں فوراً وہاں سے ہٹ جانے کی کوشش کرتی تھی۔ یہاں لندن میں اس کا کام ختم ہوگیاتھا۔ وہ واپس جا رہاتھا۔ ٹکٹ کنفرم ہوچکی تھی۔ پاپا اس کے چلے جانے کے احساس سے ہی رنجیدہ ہو رہے تھے جب کہ میں پرسکون ہوگئی تھی۔ خواہ مخواہ میں اپنے گھر میں ہی محتاط ہو کر رہ گئی تھی۔ سلامہ شاہ کی کل رات کی فلائٹ تھی۔ آج وہ سارا دن گھر پر ہی تھا۔ چھٹی کا دن تھا میںاور پاپا بھی گھر پر ہی تھے۔ فاطمہ ماما سے اس نے اپنی پیکنگ کر دینے کو کہا تھا۔ وہ گھر سے نکلا تو ماما نے مجھے آلیا اور کہا۔ ’’ماورا! سلامہ شاہ نے مجھے سامان کی پیکنگ کردینے کو کہا تھا مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ تم ہی میرے ساتھ آجاؤ…‘‘ میں چینل سرچنگ کر رہی تھی۔ انکار کرنا چاہا پھر خاموش ہوگئی۔ اب وہ اس عمر میں بے چاری تنہا کیا کیا کرتیں سارا گھر تو سنبھالاہوا تھا انہوں نے۔وہ مجھے چیزیں پکڑاتی گئیں اور میں ترتیب سے پیکنگ کرتی گئی۔ انہوں نے مجھے ایک فائل پکڑائی اسی وقت کال بیل بجی۔ ’’تم کام کرو میں دیکھتی ہوں…‘‘ مجھے اشارہ کرکے وہ باہر نکل گئیں۔ میں فائل کے اندر موجود کاغذات کو ترتیب دینے لگی تمام آفیشل پیپرز تھے تبھی کاغذات کے اندر رکھی کتنی تصاویر میرے ہاتھوں میں آگئیں۔ وہ ساری کی ساری میری تصاویر تھیں۔ میں حیران تھیں سب کی سب وقتاً فوقتاً مختلف مقامات پر لی گئی تھیں بچپن سے لے کر اب تک کی کئی تصاویر کچھ یونیورسٹی کی تھیں اور کچھ گزشتہ سالوں کی۔ نجانے اس کے ہاتھ کیسے لگ گئیں۔ ان دھندلگی آنکھوں میں اک تصویر سجا رکھی ہے اس دل کی دھڑکن میں بس تیرا نام سمویا ہے مت پوچھ اے جانِ دلبر! حال اس بے حال کا کبھی تھا جو وہ بہت فرحاں اب اکثر رات بھر وہ رویا ہے ایک تصویر کی پشت پر یہ اشعار درج تھے۔ اشعار پڑھنے کے بعد میں ابھی حیرتوں کے سمندر میں غرق تھی کہ جب پشت سے ہاتھ بڑھا کر کسی نے یہ تمام تصاویر کھینچ لی تھیں۔ پلٹ کر دیکھا تو وہ خونخوار چہرہ لیے کھڑا گھور رہا تھا۔ ’’میرے سامان کی اس طرح تلاشی لینے کا تمہارا کیا مقصد تھا؟…‘‘وہ پوچھ رہا تھا اور میں اس کے یوںالزام لگانے پر تپ چڑہی گئی۔ ’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔‘‘ ’’یہ تصاویر…‘‘ فی الحال لڑنے جھگڑنے کی بجائے میرا ذہن اسی میں الجھا ہوا تھا۔ ’’تمہاری ہیں…‘‘ آرام سے بتا کر اس نے تمام تصاویر اپنے کوٹ کی اندرونی جیب میں منتقل کیں۔ ’’میں اندھی ہوں جو مجھے اپنی صورت دکھائی نہ دی۔ یہ آپ کے پاس کیا کر رہی ہیں؟‘‘ تصاویر پر قبضہ جمانے سے مجھے طیش آگیا تھا۔ ’’کم از کم یہ بے جان تصاویر میرا کوئی کام کرنے یا باتیں کرنے سے تو رہیں۔البتہ تصویر والی کبھی کبھار میرے تصور میں آکر میری تنہا راتیں ضرور آباد کر دیتی ہے۔ اکثر تو میرے سینے پر سر رکھ کر…‘‘اس وقت مجھے اس سے اس گھٹیا جواب کی قطعی توقع نہ تھی اوپر سے اس کی جسم میں آگ لگادینے والی مسکراہٹ، شرم و حیاتو جیسے اس میں تھی ہی نہیں۔یوں گھور رہا تھا گویا آنکھوں سے ہی نگل
August 17, 201114 yr Author لے گا۔ میرا چہرہ سرخ انگارہ ہو گیا۔ شرم سے برا حال تھا۔ ’’واپس کریں شرافت سے میری تصویریں…‘‘ ’’نکال سکتی ہو تو نکال لو…‘‘ جیب کے اوپر ہاتھ رکھ کر تھپتھپاتے ہوئے مسکرا کر چیلنجنگ انداز میں گویا تھا۔ تمام شرم و حیات گویا گھول کر پی گیا تھا اور میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کے پڑخچے اڑادوں۔ ’’ڈوب مرو تم… اچار ڈال لیجیے گا ان تصویروں کا مگر یاد رکھیں آپ کے یہ حربے اور ایسی باتیں میرے دل میں مزید شدید نفرت پیدا کریں گی ‘‘۔ میں پھٹ ہی تو پڑی تھی۔ اس کی اس قدر عامیانہ نظریں مزید برداشت سے باہر تھیں۔ وہ یکدم میرے قریب آگیا۔ ’’بہت توہین کی ہے تم نے میرے جذبوں کی…تمہارا کیا خیال ہے میں کوئی گرا پڑا اور فلرٹ طبیعت کا حامل ایک جذباتی انسان ہوں…نہیں ماورا ڈیئر…میں کبھی عام سے عام چیز کے لیے بھی اپنے معیار سے نہیں گرا اور تم سے محبت کرنا میری زندگی کی سب سے پہلی اور بڑی حماقت ہے۔ کبھی کسی کے سامنے اس طرح اپنا مدعا بیان نہیں کیا۔ تم نے ہر بار میری پیش رفت پر میری تضحیک کی۔ میری بے لوث محبت پر شک کیا۔ یوں مذاق اڑایا۔ مگر اب نہیں…میں بار بار اگر تمہاری راہ میں اپنے مقام و مرتبے کو بھول کر حائل ہوا بھی ہوں تو صرف اس لیے کہ شاید اسی طرح تمہارے دل سے نفرت کا رنگ اتر جائے مگر اب مزید نہیں…محبت تم سے کی ہے اور شادی بھی تم سے ہی کروں گا وعدہ ہے میرا۔ تم سے…اپنی عزت نفس کو کچل کر مردانگی و انا کو پس پشت ڈال کے تمہاری نفرت کو برداشت کیا ہے تو صرف اس لیے کہ مجھے تم سے محبت تھی…تمہیں اپنااسیر نہ کیا تو کہنا…بے شک چیلنج سمجھ لو اسے…‘‘ مجھے وہ اچھی طرح سنا کر کمرے سے نکل گیا تو مارے حیرت کے میں وہیں دیکھتی رہ گئی۔ جہاں سے وہ چند سیکنڈ پہلے نکل کر گیا تھا۔ سلامہ شاہ پاکستان چلا گیا۔ جس دن اس کو جانا تھا اس دن میں سارا دن اپنے کمرے میں بند رہی تھی۔ وہ چلا گیا تو میں باہر نکلی ۔ اگلے دن یونیورسٹی سے آکر میں اپنے کمرے میںآگئی۔ رات کو پڑھنے کے لیے کتابیں نکالنے ریک کی طرف آگئی۔ تین دن ہوگئے تھے مجھے کسی بک کو ہاتھ لگائے۔ ابھی میں کتابیں دیکھ ہی رہی تھی جب کتابوں کے ایک جانب گفٹ ریپر میں لپٹا گفٹ دیکھ کر میں ٹھٹک گئی۔ یہی وہ گفٹ تھا جو میری سالگرہ والے دن سلامہ شاہ نے مجھے دینا چاہا تھا اور میں نے انکار کر دیا تھا اور اب یہ گفٹ یہاں کیسے پہنچا۔ کون رکھ کر گیا۔میرا ذہن الجھ گیا تھا۔ تمام کتابیں چھوڑ کر میں نے گفٹ اٹھا لیا۔ گفٹ کے نیچے ہی ایک بند لفافہ بھی دکھائی دے گیا۔ میں دونوں چیزیں لے کر بستر پر آبیٹھی۔ ’’ماورا ڈیئر! ہوسکتا ہے جب تک یہ گفٹ تمہاری نظروں میں آئے میں یہ سرزمین چھوڑ جاؤں۔ تمہارے رویوں سے تو اندازہ ہوگیا ہے کہ تم کبھی میری بات نہیں سنو گی۔ تمہاری نفرت اتنی گہری ہے کہ میری بے پناہ محبت اور لاتعداد کوششیں بھی اسے ختم نہ کرسکیں۔ تم مجھ سے نفرت کرتی ہو اور تم اس سلسلے میں حق بجانب بھی ہو۔ پہلی دفعہ جب تم ہماری حویلی آئی تھیں تو اس وقت میں نے جو کہا تم سے، جو رویہ رکھا وہ بھی سچ ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ اپنے ابا جان کی بجائے میں بابا جان کے زیادہ قریب رہا ہوں۔ بابا جان کی طرح میری سوچ بھی تنگ نظر ہوتی گئی۔ مگر پھر جب خود سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جاگی تو علم ہوا کہ بابا جان کہاں کہاں غلط ہیں اور ساتھ ہی اپنی کوتاہیاں بھی۔ میںاپنے متعلق کوئی صفائی نہیں دوں گا۔ جب میں نے مانا کہ میں غلط ہوں تو وہیں سے میں نے واپسی کی طرف سفر شروع کر دیا۔ یہاں آنا تم لوگوں سے ملنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ میں جب یہاں آیا تھا تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کبھی تم سے محبت کر بیٹھوں گا۔ تمہیں دیکھا اور جانا اور تب ہی بہت آگے تک سوچا…مگر تمہاری سوچ نے مجھے بہت ٹھیس پہنچائی۔ یہ گفٹ تمہارے لیے ہی خریدا تھا۔ اب واپس لے جاکر کیا کروں گا۔ امید تو نہیں کہ تم قبول کرو بے شک پھینک دینا۔ ہاں جب سے میں یہاں آیا ہوں ایک دفعہ بھی تمہیں جیولری کے نام پر کوئی چیز پہنے نہیں دیکھی۔ ہماری حویلی میں بی بی جان،اماں جی اور دونوں بہنیں سب ہی کچھ نہ کچھ پہنے رکھتی ہیں۔ خاص طور پر چوڑیاں تو ہر وقت۔ تمہیں یوں ہر وقت سر جھاڑ منہ پھاڑ رہتے دیکھ کر اکثر میرا دل چاہا تھا کہ دیکھوں تو سہی تم چوڑیاں پہن کر کیسی لگتی ہو۔ یہ تحفہ بھی اسی خواہش کی تکمیل کے لیے خریدا تھا۔ مگر افسوس…اﷲ حافظ۔ خط لفافے میں رکھ کر میں نے گفٹ ریپرپھاڑا۔ اندر کیا ہے علم تو ہو ہی چکا تھا۔ اب دیکھنے میں حرج ہی کیا تھا۔ سنہری ڈبیہ تھی ڈھکن کھولا تو گولڈ کی جگمگاتی بیرک کانچ کی طرح کی ڈھیروں چوڑیاں تھیں۔ شاید درجن بھر…میں حیران دیکھتی رہ گئی…اتنی قیمتی سونے کی چوڑیوں کی مجھے امید نہ تھا۔ میرے تصور میں صرف کانچ کی چوڑیاں تھی اور یہ تحفہ خوبصورت بھی تھا اور قیمتی بھی۔ میں نے بے دلی
August 17, 201114 yr Author سے ڈھکن بند کرکے بیڈ پر ڈال دیا۔ نہ سلامہ شاہ کے خط نے میرے دل و دماغ پر کوئی اثر ڈالا اور نہ ہی تحفے نے۔ میں خاموشی سے کتابیں لینے دوبارہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ پاپا نے سلامہ شاہ کے چلے جانے کا بہت اثر لیا۔ اس کی فون کالز اور خطوط والی میلز کا وہ اکثر بے چینی سے انتظار کرنے لگے تھے، نجانے انہیں کون سی چیز بے چین رکھتی تھی۔ بارہا میرا جی چاہا کہ خود سے پوچھ لوں مگر برسوں کی سرد مہری و اجنبیت کی دیوار ہم دونوں میں حائل تھی وہ کچھ بھی پوچھنے نہیں دیتی تھی۔ vvv آہستہ آہستہ وقت آگے بڑھنے لگا۔دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میںبدلنے لگے۔ سلامہ شاہ کی پیش قدمیاں اسی طرح قائم دائم تھیں۔ اکثر اس کے خطوط آتے رہتے تھے۔ کوئی خط میرے نام بھی ہوتا تھا۔ جس میں اکثر سلامہ شاہ نے اپنے جذبات کا اظہار شاعری کی زبان میں کر دیا ہوتا۔ شروع شروع میں جب اس کے خط آنے لگے تو اکثر میری کیفیت بدلنے لگی تھی مگر جب یہ معمول بنتا چلاگیا تو میں نے بھی خود پر قابو پالیا۔ میں سلامہ شاہ کو روک نہیں سکتی تھی مگر اس سے محبت کرنا بھی میرے اختیار میں نہیں تھا۔ وہ اسی خاندان کا لڑکا تھا جنہوں نے نہ صرف مجھے بلکہ میری ماما کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ میں سلامہ شاہ کی تمام باتوں کو بھی سچ مان لیتی تو یہ فراموش نہیں کرسکتی تھی کہ میری ذات کو ابھی تک پاپا نے بھی تسلیم نہیں کیا تو ان لوگوں سے کیا توقع۔ میرے سالانہ امتحان اسٹارٹ ہوئے تو ہر بات بھلا کر یکسوئی کے ساتھ اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوگئی۔ امتحان کے بعد کچھ تھیسس پروجیکٹ رہ گیا تھا۔ اسے کمپلیٹ کرنے لگی۔ دن رات میرے ادھر صرف ہونے لگے۔ خدا خدا کرکے یہ کام مکمل ہوا تو میں نے سکھ کا سانس لیا۔ یونیورسٹی کے بعد میں نے تھوڑا عرصہ آرام کیا اور پھر ایک کمپنی میں ملازمت ڈھونڈ لی۔ اس دن تھکی ہاری گھر لوٹی تو روزانہ کی ڈاک چیک کی۔ پاکستان سے میرے نام آنے والا خط میں بغیر کھولے ہی بتاسکتی تھی کہ بھیجنے والا کون ہے۔ ’’مایوس نہیں ہوتا یہ شخص…‘‘ ہمیشہ کی طرح لفافہ چاک کرنے سے پہلے میں نے ضرور سوچا تھا۔ ڈیئر ماورا! میری اس قدر پیش رفتی پر بھی وہی سرد موسم ہے لگتا ہے اپنا سکھ چین، قرار و سکون سب وہیں تمہارے پاس ہی چھوڑ آیا ہوں دیکھ لو تمہارے سلوک نے مجھ جیسے خرد مند کا کیا حشر کر دیا ہے۔ یہاں تو صرف خالی خولی وجود ہی لے کر آیا ہوں۔ اب مہینوں گزرنے کے بعد بھی وہی کیفیت ہے۔میرے سب جذبے تو تمہارے پاس ہی رہ گئے ہیں۔اب تو بخدا بہ زبانِ شاعر سچ مچ یہی صورتحال محسوس ہوتی ہے کہ کس پتھر کی مورت سے محبت کا ارادہ ہے پرستش کی تمنا ہے، عبادت کاارادہ ہے جو دل کی دھڑکنیں سمجھے نہ آنکھوں کی زبان سمجھے نظر کی گفتگو سمجھے نہ جذبوں کا بیان سمجھے اسی کے سامنے اس کی شکایت کا ارادہ ہے اور کیا فائدہ ڈیئر! ایسی شکایت کا جس سے محبوب کے سر پر جوں تک نہ رینگے۔اب تو میری بے سکونی پر ماں جی، بہنیں اور بی بی جان تک سب استفسار کرنے لگی ہیں۔ تمہارا نام لے تو لوں تمہاری جانب سے پیش رفت تو ہو… نہ میرا مقصد تمہیں رسواکرنا ہے اور نہ ہی تمہاری تضحیک میری مراد ہے۔ یوں سمجھ لو عشق کے اپنے ہی آداب ہوا کرتے ہیں مائی ڈیئر…بس اتنی چھوٹی سی التجا ہے کہ اتنا پتھر مت بن کہ خود ہی ٹوٹ گرے اک روز احساس کے آئینے میں اک ٹھیس ہی کافی ہے انتظار کی صلیب پر جاں بلب، اپنے وعدے کے ایفا ہونے کا منتظر سلامہ شاہ خط تھا یا لفظوں کی صورت میں جذبات کا ایندھن ۔ میرے اندر خط پڑھ کر احساس کی کئی تندوتیز لہریں برپا ہوگئی تھیں۔ بہت کوشش کے باوجود میں اپنے ذہن سے تمام الفاظ کو جھٹک نہیں سکی تھی۔
August 17, 201114 yr Author خیالات و احساسات اور جذبات کا ایک سیلاب تھا جو میرے اندر موجزن اک نیا تلاطم خیز طوفان برپا کر گیاتھا۔ ’’نہیں…مجھے خود کو سنبھالنا ہے…ورنہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا…‘‘ اس سے پہلے کہ میں تباہی مچا دینے والے طوفان کی نذر ہوتی جذبات کے سمندر میں بہہ نکلتی ہوش کے ناخن لیتے عقل کا دامن تھاما تھا۔ سلامہ شاہ کو گئے ایک سال ہونے کو تھا۔ اس ایک سال میں وہ صرف ایک دفعہ دو دن کے لیے لندن اپنے کسی آفس ورک کے لیے آیا تھا ان دنوں میرا رزلٹ آیا ہوا تھا۔ فاطمہ ماما کے ساتھ میں ان کے بھائی کے ہاں گئی ہوئی تھی۔ اکثر ماما کے ساتھ میں ان کے رشتہ داروں کے ہاں چلی جاتی تھی۔ ماما مجھے اپنی بیٹی کہتی تھیں۔ اسی لیے جہاں بھی جاتیں مجھے ساتھ لیے رکھتی تھیں۔ ہم واپس لوٹیں تو معلوم ہوا کہ وہ آیا تھا ۔ماما کو بہت دکھ ہوا کہ وہ اتنے دن اپنے بھائی کے ہاں کیوں رہیں۔ جلدی آجاتیں تو سلامہ شاہ سے بھی ملاقات ہو جاتی… وقت کے ساتھ ساتھ میں نے خو دکو بہت مضبوط کر لیا تھا۔ پاپا کی نفرت اور سرد رویے نے میرے دل میں کسی کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں رکھی تھی۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے میں پاپا کے کسی بھی رشتہ دار کو قبول نہیں کروں گی جس طرح یہ لوگ لمحہ بہ لمحہ میرے لیے اذیت کا باعث بنے تھے اسی طرح میں بھی انہیں ٹھکرادوں گی۔ جب سے مجھے علم ہوا تھا کہ پاپا بھی سلامہ شاہ کو میرے لیے پسند کرنے لگے ہیں تب سے میں نے پکا ارادہ کرلیاتھا کہ چاہے پاپا کا خاندان مجھے قبول کرے یا نہ کرے مگر میں سلامہ شاہ کو کبھی قبول نہیں کروں گی۔ جب پاپا کے دل میں میرے لیے کوئی گنجائش نہیں تو دوسرے جائیں بھاڑ میں…میری نفرت مزید بڑھ گئی تھی۔ پھر ایک دن سلامہ شاہ کا فون آیا کہ اس کے بابا جان کو فالج کا اٹیک ہوا ہے۔ پاپا یہ سن کر بہت بے چین ہوئے۔ان کی بے چینی دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ ان کے باپ نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اور اب وہ سب بھلا کے ان کے پاس جانے کے لیے بے تاب تھے۔ سلامہ شاہ نے پاپا کو پاکستان آنے کو کہا تھا اور پاپا اسی چکر میں بھاگ دوڑ کر رہے تھے۔ میں بھی ساتھ ہی جا رہی تھی۔ دل تو نہیں چاہ رہا تھا مگر فاطمہ ماما کے سمجھانے اور پھر اس مقصد نے مجھے بابا جان سے اپنا آپ تسلیم کروانا ہے۔ میں جانے کو راضی ہوگئی تھی۔ میرے اور پاپا کے بے پناہ اصرار پر بھی ماما ساتھ چلنے کو تیار نہ ہوئی تھیں۔ یہاں ان کے بہن بھائی تھے وہ ان کے پاس جانے کی تیاریاں کرنے لگیں۔ پاپا پاکستان اپنی آمد کی اطلاع کرچکے تھے۔ ہمیں ایئرپورٹ سے ریسیو کرنے والا سلامہ شاہ ہی تھا۔ ایک سال کے عرصے میں اس کا رنگ روپ مزید نکھرا تھا۔ پہلے ہی پُروجاہت تھا۔ اب مزید غضب ڈھانے لگا۔میں دیکھ کر رہ گئی۔ پاپا سے معانقہ کرنے کے بعد مجھے بغور دیکھنے لگا۔ ’’کیسی ہو تم ماورا…‘‘ بظاہر سادہ سادہ انداز تھا مگر اس کی آنکھیں۔میں لمحہ بھر کو یہی دیکھ پائی۔ ’’آئی ایم فائن…‘‘جواب دینا ہی تھا۔ ایک عرصہ بعد سامنا ہو رہا تھا اس کے باوجود میرا لہجہ خود بخود سرد ہوچکا تھا۔یہ میں لندن سے ہی طے کرکے چلی تھی کہ سلامہ شاہ کے لیے مجھے اپنے رویے و انداز میں ذرا بھی تبدیلی گوارا نہیں۔ وہ میرے سرد انداز پر مسکرا دیا۔ ’’ذرا بھی نہیں بدلیں…بالکل ویسی کی ویسی ہو۔‘‘ سر سے پاؤں تک میرا بغور جائزہ لیتے اس نے کہا تو میں اندازہ نہ کر سکی کہ یہ کمنٹس میرے ’’سر جھاڑ منہ پہاڑ‘‘ حلیے پر ہیں یا سرد انداز پر۔ ’’چلیں۔‘‘ وہ سامان اٹھا کر پاپا کے ساتھ چلنے لگا۔ حویلی پہنچنے پرہمارا خوب اچھی طرح خیر مقدم کیاگیا۔ سب کے رویے بظاہر نارمل ہی تھے۔خاص طور پر بابا جان کو دیکھتے ہوئے۔ پاپا سے مل کر وہ خوب روئے تھے، بار بار اپنے روپے پر معافی مانگ رہے تھے۔ میں خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی۔یہی وہ شخص تھا جس نے انتہائی حقارت و نفرت سے اپنے خاندانی مرتبے اور خون پر فخر کرتے میرے وجود سے انکار کیا تھا اور اب۔ وہ مجھ سے بھی اپنے گزشتہ رویوں کی معافی مانگ رہے تھے۔ رو رہے تھے۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ ان کی جانب سے نفرت سے منہ موڑ لوں۔ چیخ چیخ کر کہوں کہ میں آپ کی کچھ نہیں لگتی۔ میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں مگر کس بنیاد پر… جب کہ مجھے تو میرے باپ نے بھی قبول نہیں کیا تھا وہ تو ان کے ہی ساتھ رہی تھی ایک عمر گزار دی تھی اور یہ تو پھر دادا تھا۔ میں خاموشی سے سرد و جامد تاثرات لیے بیٹھی رہی۔ رات کھانے کے بعد میں لان میں آگئی۔سلامہ کی دونوں بہنیں شادی شدہ اور سسرال میں ہی تھیں۔ علی اور رضا بھی میرے مقابل تھے قد کاٹھ میں سلامہ شاہ کی طرح کے تھے مگر مزاج میں قدرے مختلف تھے۔ تھک کر میں سیڑھیوں پر آبیٹھی…میں یہاں تو آگئی تھی مگر اندر ہی اندر ماضی کے حوالے سے میں شکست و ریخت کا شکار تھی۔ پاپا کی سرد مہری ماضی کے بابا کے رویے مسلسل میری سوچوں کا مرکز
August 17, 201114 yr Author بنے ہوئے تھے۔ ’’کیا سوچ رہی ہو؟…ایسے کیوں بیٹھی ہو…‘‘ حساب کتاب کرتے کچھ وقت سرکا تھا جب سلامہ شاہ کی آواز پر پلٹ کر میں نے دیکھا، وہ میرے عقب میں ہی ستون سے ٹیک لگائے مجھ پر ہی نظریں جمائے ہوئے تھا۔ چاند اپنی آخری تاریخوں میں تھا بالکل مدھم روشنی میں وہ بھی کچھ اداس سا تھا جب کہ ستون کے اوپر نصب الیکٹرک ٹیوب کی دودھیا روشنی میں اپنی مونچھوں کو انگلیوں سے سنوارتے سلامہ شاہ ایک خواب ناک تصور ہی تو لگا تھا۔ سرمئی رنگ کے سوٹ میں اس کی پررعب چھا جانے والی شخصیت واقعی متاثر کن تھی۔ مجھے اس بات کا اعتراف دل ہی دل میں ضرور کرنا پڑا۔ ایک نظر ڈال کر آسمان کی جانب زرد سے چاند کو دیکھنے لگی۔ ’’ماورا…کچھ پوچھا ہے میں نے تم سے؟…‘‘وہ کچھ دیر میری جانب سے شاید جواب کا منتظر رہا تھا۔ جب کافی دیر تک بھی میں نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ جھنجلا گیا۔ خاصا حق جتانے والا انداز تھا۔ ’’میں تمہارے کسی بھی سوال و جواب کی پابند نہیں…‘‘ اس کے یوں حق جتانے پر میں نے خفگی سے دیکھا تو وہ مسکرا کر میرے پاس آبیٹھا۔ ’’ذرا بھی نہیں بدلی تم…میرا خیال تھا کہ وقت و حالات تمہاری سوچوں پر ضرور اثر انداز ہوں گے مگر تم تو…اس طرح سرد گلیشیئر جذبات لیے ہوئے ہو۔‘‘ وہ مسلسل مسکرا رہا تھا۔ ’’ہاں سچ کہا آپ نے…میرا ظاہر و باطن ایک سا ہے پھر میں کیسے بدل جاتی… شاید وقت ضرور مجھ پر اثر انداز ہوتا اگر ایک عرصے آپ لوگوں کی نفرت کا ذائقہ نہ چکھا ہوتا۔ یہ تذلیل و رد کیے جانے کا دکھ اتنی جلدی تو نہیں مٹے گا۔نفرت کی گہری تہہ ہے جو میرے دل و دماغ پر جمی ہوئی ہے یہ پیش رفت تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں۔‘‘ میں ایک عام سی لڑکی نہیں ہوں جو یہ سب دیکھ کر گزشتہ بھول جائے۔‘‘ ’’اور ماضی کو مسلسل یاد کرکے صرف اس میں جیے جانا بھی عقل مندی نہیں ہے۔‘‘ میری بات کے جواب میں اس نے بھی طنزاً کہا تھا۔ ’’آپ کہہ سکتے ہیں میری جگہ اگر آپ ہوتے تو کیا کرتے…‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔میرا لہجہ طنزیہ تھا۔ ’’میں ماضی پر ماتم کرنے کی بجائے حال کو سازگار بنانے کی کوشش ضرور کرتا کیونکہ یہ میرے اختیار میں تھا۔‘‘ اس نے بغیر میرے طنز کا برا مانے مسکرا کر کہا تو مجھے اپنے اندر آگ سی سلگتی محسوس ہوئی۔ ’’میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ میں بابا جان کو راضی کر لوں گا۔ آج میں سرخ رو ہوں تم کیا کہتی ہو۔ تم نے ہی تو کہا تھا کہ اگر بابا جان تمہیں قبول کرلیں تو تب بات کروں۔ اب سب کچھ نارمل ہے۔ تم اس خاندان کا ایک حصہ ہو اب کیا کہتی ہو؟‘‘ اس کے سوال پر میں کچھ بھی بول نہیں سکی تھی یہ نہیں تھا کہ میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔ طے تو میں لندن سے ہی کرکے آئی تھی مگر اب سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کہوں۔ ا مید نہیں تھی کہ وہ میری ہی بات کو میرے سامنے دہرائے گا۔ ’’سلامہ شاہ! جب لندن میں آپ کے لیے میں نے انکار کیا تھا تو اس کی بنیاد آپ خود تھے اور اب… میں کبھی بھی اس خاندان کا حصہ نہیں رہی اور نہ ہی کبھی بننا چاہوں گی۔ کہنے کو میری بنیاد، میرا تشخص یہیں سے ہے۔ میں کبھی اس حویلی میں قدم نہ رکھتی اگر مجھے اپنی ذات کی پہچان نہ چاہیے ہوتی۔ یہ خاندان آپ کا ہے۔ پس اس خاندان کا فرد ہونے کے باوجود یہاں کے لیے اجنبی ہوں اور ہمیشہ رہوں گی۔ میں کل بھی سارہ کی بیٹی تھی جس کے لیے آپ کے چچا نے سب کو ٹھکرا کر شادی کی تھی، میں آج بھی اس کی بیٹی ہوں اور کل بھی رہوں گی۔ برسوں بعد آپ کے بابا جان نے بیماری کے ہاتھوں مجبور ہو کر مجھے تسلیم کر بھی لیا ہے مگر میں کبھی تسلیم نہیں کروں گی۔ میں صرف اسی لیے یہاں آئی ہوں۔ اب مجھ سے یہ سوال دوبارہ مت کیجیے گا۔ تب بھی یہی جواب ہوگا۔‘‘ انکار کرکے میں اپنی جگہ سے اٹھنے لگی تھی جب سلامہ شاہ نے تلملا کر میرا بازو تھاما۔ ’’تم میری اور میری محبت کی مسلسل توہین کر رہی ہو ماورا!…‘‘ اس کی اس حرکت پر میں بھڑک اٹھی۔ ’’کیسی توہین سلامہ شاہ!…چھوڑیں میرا بازو۔ بارہا میں آپ سے کہہ چکی ہوں مجھ سے اس طرح پیش مت آیا کریں۔ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ میرا دل نہیں مانتا آپ کے لیے تو زبردستی ہے کیا۔ میں آپ کے لیے راضی ہوتی ہوں یا نہیں یہ میرا حق ہے۔ آپ کون ہوتے ہیں چیخنے والے۔ اس طرح کی حرکتیں کرکے آپ مجھ پر اپنا عامیانہ و گھٹیاپن تو ثابت کریں گے سوائے محبت کے۔نہ مجھے آپ سے غرض ہے اور نہ ہی آپ کی محبت سے۔‘‘اس کے شکنجے سے اپنا بازو چھڑا کر، میں اس سے زیادہ مشتعل ہوئی تھی۔ وہ مجھے گھور رہا تھا۔میں اٹھ کر اندر کی جانب بڑھنے لگی تو ایک دم اس نے میرا راستہ روکا۔ ’’سنو ماورا…آج تک تمہاری نفرت میں نے محبت سمجھ کر جھیلی ہے صرف یہی سوچ کرکہ بعض اوقات شدید ترین نفرت بھی شدید ترین محبت کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ میں تم پر اچھی طرح واضح کر چکا
Create an account or sign in to comment