Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

ارمان ایک طویل داستان

Featured Replies

  • Author

" میرا لنڈ میری غلطی ہے ،
تو ہی منہ پھاڑ کر ہنس رہا تھا . . . "

اظہر اپنی غلطی ماننے سے تو رہا اوپر سے جب ہمیں باہر کر دیا گیا تو وہ اپنی ہتھیلیاں رگڑتے  ہوئے مجھ سے سحرش میڈم كے بارے میں پوچھنے لگا کہ اس دن کمپیوٹر لیب میں کیا ہوا تھا ، 
میں نے کہا ٹچ کیا تھا . . . . 

وہ سیسکاریاں لے رہی تھی یا نہیں . . . .
 وغیرہ وغیرہ

"کمینی سیکسی مووی دکھا کر گرم کر رہی تھی مجھے . . . . "

" پھر کیا ہوا یہ بتا . . . "

" آگے کیا بتاؤں ، 
شروع میں میرا دل نہیں کر رہا تھا ، لیکن پھر وہ مووی دیکھ کر میرا لنڈ کھڑا
ہو گیا اور میں نے اس کے ممے پکڑ لیے. . . . "

" پھر ، . . . "

" پھر تھوڑا سا دبایا . . . "

" اچھا پھر . . . "

" پھر اس نے کھڑے لنڈ پر تھپڑ مار دیا ، 
اور بولی کہ اب جاؤ . . . "

" ایک بات سمجھ میں نہیں آئی . . . "
اپنے دماغ پر زور ڈالتے ہوئے اظہر نے کہا
 " جب تیرے اور اس کے درمیان میں اتنا
سب کچھ ہو چکا ہے ،
پھر وہ اسائنمنٹ كے لیے تجھے ہر روز باہر کیوں نکال دیتی ہے . . . . "

" آہستہ  بول ، . . . "

" تو کہی مجھے چوتیا تو نہیں بنا رہا . . . . "

" گانڈو ،
جو سچ تھا وہ بتا دیا . . . . "

وہاں کلاس كے باہر اور بھی کئی باتیں کافی دیر تک ہوئی ،. . . .
اور جب پیریڈ ختم ہوا تو سحرش میڈم باہر آ کر ہم دونوں كے پاس کھڑی ہوگئی اور ہم دونوں کا رول نمبر نوٹ کر كے بولی . . . .
" آج تو چھوڑ رہی ہو ، 
لیکن اگلی بار خیال رکھنا . . . . " 
یہ اس نے اظہر کی طرف دیکھ کر کہا اور پھر
میری طرف دیکھ کر وہ بولی
 " اور تم ،
 بریک ٹائم میں آکر کمپیوٹر لیب میں ملنا . . . ."

" جی  . . . جی میم . . . "
وہ ایک بار مسکرائی اور اپنی گانڈ مٹکاتے ہوئے چل دی . . . . . .

 اگلی  کلاس صدیقی سر کی تھی اور
وہ سبجیکٹ سے ریلیٹڈ پڑھانے کی بجاۓ آج دُنیا داری کی باتیں کرنے كے موڈ میں تھے ، پہلے انہوں نے پاکستان اور دوسرے ملکوں کی باتیں کی اور پھر ان کے سبجیکٹ کی اسٹڈی کیسے کرنا ہے ، 
یہ بتانے لگے اور آخر میں پلیس مینٹ كے ٹاپک پر آ پہنچے اور بولے کہ انجینیئرنگ كے چار سال کیسے نکل جائینگے پتہ نہیں چلے گا ،
 اس لئے ابھی سے پڑھائی کرنا شروع کر دو ، تاکہ مستقبل میں جاب كے لیے بھٹکنا نہ
پڑے . . . . 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج کل انجینئر اتنے زیادہ ہو گئے کہ اگر پتھر اٹھا كے سڑک پر ماروں گے تو وہ کتے کو نہیں ایک انجینئر کو لگے گا . . . . 

کمینے نے بےعزتی کر كے رکھ دی ،
ان کے کلاس سے جو ایک بات دماغ میں آئی وہ یہ تھی کہ میں نے ابھی تک ایک بھی سبجیکٹ کی بُک کھول کر نہیں دیکھی تھی ،
ایسے میں میں ٹوپ کیسے کروں گا . . . . . 

اس لئے میں نے آج ہاسٹل جا کر پڑھنے کا سوچا . . . .

" پڑھنا پڑے گا یار . . . . " 
صدیقی سر کا  لیکچر اب بھی جاری تھا ، 
" چل کل صبح چار بجے سے اٹھ کر پڑھائی
کرینگے . . . "

" لوڑا چار بجے تو میرے سونے کا ٹائم ہے . . . ."

" سیدھا بول نہ کے دم نہیں ہے . . . "

" بَعْد میں بات کرنا ،
ابھی کہی سحرش میڈم کی طرح یہ بھی ہمیں باہر نہ کر دے . . . . " 
اظہر چُپ ہوگیا اور بڑے دھیان سے صدیقی سر کا لیکچر سننے لگا . . . . .


کچھ لوگ جنہوں نے صغیر کے ساتھ میری لڑائی دیکھی تھی ، 
وہ یہی سوچ رہے تھے کہ میں آج بریک ٹائم میں کینٹین جاؤں گا ،
لیکن میرا ایسا بالکل بھی موڈ نہیں تھا ،
اور ویسے بھی آج سحرش میڈم نے مجھے بلایا
تھا ، . . . 

پہلے دن تو میں دَر بھی رہا تھا اور تھوڑی سی جھجھک بھی تھی ،
 لیکن پھر میرے اندر بیٹھے مرد نے کہا کہ جب وہ عورت ہوکر ایسی حرکتیں کر رہی ہے تو تو کیا دَر رہا ہے ، 
مار دے کمینی کی چوت  . . . . . .

" میں اندر آجاؤں . . . . "
 اندر آنے كے لیے میں نے اجازت مانگی . . . .

" آؤ ارمان . . . . 
آجاؤ،
آجاؤ . . . .
 میں تو تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی . . . . "


" کمینی کتنا جلدی رنگ بدلتی ہے ،
ناگن کہی کی . . . . " 
اندر داخل ہوتے ہوئے میں نے اس دن کی طرح آج بھی یہ دیکھا کہ کوئی وہاں ہے یا نہیں ،
اور اس دن کی طرح آج بھی وہاں کوئی نہیں تھا ، . . . 

سحرش میڈم کرسی پر بیٹھی ناخن کٹر سے اپنے ناخنوں کا سائز برابر کر رہی تھی . . . . .

" آپ نے نے بلایا . . . . "

" اس دن کیسا لگا تھا . . . "

" بلکل بکواس . . . . . 
بلکل بھی مزہ نہیں آیا . . . 
" میں نے جان بوجھ کر ایسا کہا ،
 میں دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کا ری ایکشن کیا ہوتا ہے ،
 اور جیسا میں نے سوچا تھا تھا سحرش میڈم کا ری ایکشن بد سے بدتر ہوتا جا رہا تھا . . . 

آج تک میں نے صرف سنا تھا کہ عورتوں کو اپنی برائی بلکل بھی پسند نہیں ہوتی ،
اور آج دیکھ بھی لیا تھا اور تو اور سحرش میڈم کا غصہ اِس قدر بڑھ گیا کہ وہ تقریباً چلاتی ہوئے مجھے اسائنمنٹ کمپلیٹ نہ کرنے کی پنشمنٹ دیتے ہوئے میرا اسائنمنٹ  ڈبل کر دیا . . . . . .

" ویسے ایک ہفتے میں دو اسائنمنٹ مطلب کہ ایک مہینے كے  آٹھ اور اِس حساب سے چھے مہینے كے  اڑتالیس ہوئے ،
اور یہ اب ڈبل کر رہی ہے مطلب کہ چھیانوے  پھر چار اور دے دے ،
 سنچری مکمل ہوجاۓ گی" . . . . . 

" سحرش میڈم کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے اسے پورے خاندان کی گالیاں دے ڈالی اور پھر کہا " 
میم ،
 میں تو مذاق کر رہا تھا ،
دراصل اس دن بہت زیادہ مزہ آیا ،
 اس دن جیسے خوبصورت احساسات مجھے کبھی نہیں ہوئے . . . .
 آپ مجھے کبھی بھی ، 
کسی بھی وقت بلا لو ،
میں آ جاؤں گا . . . .
 میں تو بس مذاق کر رہا تھا . . . "

 کچھ دیر پہلے رنگ بدلنے والی ناگن میں نے سحرش میڈم کو کہا تھا ،
 لیکن اب رنگ میں بھی بَدَل رہا تھا . . . . .

" میں بھی مذاق ہی کر رہی تھی . . . . "
 ناگن کی طرح اس نے ایک بار پھر رنگ بدلہ اور اپنے ناخنوں پر پھوک مار کر ناخن کٹر کو اپنے پرس میں رکھا کر لپسٹک نکل کر بولی
 " کھڑے کیوں ہو ، 
بیٹھ جاؤ . . . . "

اپنے ہونٹوں پر لپسٹک لگاتے ہوئے وہ اس دوران اکثر مجھے دیکھتی اور پھر اپنے کام میں لگ
جاتی . . . . .

 مجھے نہیں پتہ تھا کہ میں اتنا شریف تھا یا شریف بننے کا ڈرامہ کر رہا تھا ،
پر میں جو بھی تھا بہت عجیب ہی تھا ،
کیونکہ اگر میری جگہ وہاں کوئی اور ہوتا ،
 تو وہ میری طرح سحرش میڈم كے
سامنے والی کرسی پر خاموش نہیں بیٹھا رہتا ، 
اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا اگر  اظہر ہی ہوتا تو میں یقین كے ساتھ کہہ سکتا ہوں وہ سحرش میڈم پر جھپٹا مار کر انہیں چود دیتا ،
لیکن میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ،
میں خاموش ،
چُپ چاپ وہی سحرش میڈم كے سامنے بیٹھا رہا . . . . . . .

" تم اسائنمنٹ کمپلیٹ کیوں نہیں کرتے ،
 پڑھتے نہیں ہو کیا ہاسٹل میں . . . "

" نو میم ،
 ایسی بات نہیں ہے . . . "
میری نظر اب بھی ان کے ہونٹوں پر تھی ،
جو لپسٹک لگانے كی وجہ سے گلابی ہو گئے
تھے "
 وہ اصل میں  آج کل ٹائم کی تھوڑی کمی ہے . . . . "

" لڑائی جھگڑے كے لیے ٹائم مل جاتا ہے ،
پڑھائی كے لیے 
نہیں . . . .
 ایسا کیوں ؟ "
میں تھوڑا سا گھبرا گیا ،
جب اس نے ایسا کہا تو
 " آپکو کیسے پتہ . . . "

" کالج کا اسٹوڈنٹ کیا کرتا ہے ،
 کیا نہیں کرتا وہ کالج اسٹاف کو ہر وقت معلوم ہوتا ہے ،
 لیکن ہم کچھ نہیں بولتے . . . . "
 لپسٹک لگانے كے بَعْد سحرش میڈم نے اپنے دونوں ہونٹوں کو جوڑا . . . .

" مطلب کے سب کو پتہ ہے کہ میں نے اس کمینے کاشف کو "

" جی . . . . 
اور ایک طالب علم کی طرح برتاؤ کرو ،
کمینے اور ابے تابے جیسے لفظوں کا استمعال میرے سامنے دوبارہ مت کرنا . . . "

" سوری میم . . . "

" تو اب تمہارا اگلا پلان کیا ہے . . . . "

" کس بارے میں . . . " 
میں نے سوچا کہ وہ اب اس دن کی طرح چدائی کی بات کریگی ،
" کاشف اور اس کے دوست تمہیں ایسے نہیں چھوڑیں گے . . . . "

" پھر سے پیل دوں گا کمینوں کو ، . . . "
میں نے جوش میں آتے ہوئے کہا. . .

" میں نے بولا نہ ،
 اس طرح کے لفظوں کا استمعال مت کرو کمینے ، ابے . . . . . 
اور یہ کیا ہے پیل دوں گا. . . "

" سوری میم . . . . "

" سمیرہ كے ساتھ تم نے بدتمیزی کی . . . . "

" اس کو تو سب پتہ ہے " 
میں چُپ ہی رہا . . . .

" وہ میری دوست ہے اور اسی نے بتایا مجھے . . . . "
 

 

" سب کچھ بتا دیا ؟ "

" ہاں . . . . "
 اپنا میک اپ بند کر کے انہوں نے اب پہلی بار  مجھے اچھی طرح سے دیکھا ،
 ان کی پرفیوم کی خوشبو بہت شاندار تھی اور نہ چاھتے ہوئے بھی میں نے اپنا چہرہ سحرش میڈم کی طرف کیا . . . . .

" آج رات کیا کر رہے ہو . . . . "

" کچھ نہیں . . . "
 میں یہ بولنا چاہتا تھا ،
 لیکن اتنی دیر میں سحرش میڈم اپنی کرسی سے اٹھ چکی تھی اور میری ہی کرسی پر میری  طرف اپنا چہرہ کر کے میرے اوپر بیٹھ گئی تھی ،
 اور وہ پہلا موقع تھا جب ان کی گانڈ کا احساس مجھے اپنی رانوں پر محسوس ہوا . . . . 

اس وَقت نہ چاھتے ہوئے بھی مجھے بہت اچھا لگا ،
بہت ہی اچھا محسوس ہو رہا تھا .

میری رانوں پر دبتے ان کے کولہے مجھے کچھ الگ ہی احساسات کرا رہے تھے ، 
جو میں نے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں کیا تھا ،
میں اپنی دونوں رانوں کو جوڑے ان کے کولہوں  کو دبانے لگا اور اس وَقت میرے دل و دماغ پر شہوت سوار ہوگئی تھی اور میں نے سحرش میڈم سے کہا کہ میں انہیں بنا کپڑوں كے دیکھنا چاہتا ہوں تو جواب میں وہ صرف مسکرا دی ، 
اب مجھے ان کی مسکان ،
ان کی صورت ،
 ان کے گلابی رس بھرے ہونٹ اچھے لگنے لگے
تھے . . . . 

اب میں بھی سحرش میڈم کو وہی پر چودنا چاہ رہا تھا . . . . .

" ایک چومی لے لوں کیا . . . "
 ان کے کمر کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑتے  ہوئے میں نے سوچا ، 
اور سحرش میڈم جو کہ میرے اوپر سوار تھی انہیں اپنے قریب کھینچ لیا . . . . .

 اس وَقت ایسا میں نے اس لئے کیا تھا کیوںکہ
میں نے ، فلموں میں یہ سب دیکھا تھا . . . . 

لیکن سحرش میڈم کو اصل تجربہ تھا ،
 وہ حَسِین ہونے كے ساتھ ساتھ کسی قاتل حسینہ کی طرح بہت چالاک بھی تھی ،
 انہیں سب معلوم تھا کہ کب ،
 کیا اور کہاں کرنا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ آج تک اِس کالج میں تھی ،
ورنہ ایسی ٹیچر ،
جو ہر ہفتے نئے لنڈ کی تلاش میں رہتی ہو ،
  کالج منیجمنٹ چود چود كر باہر نکال دیتی ہے ،
اور میری کم علمی كے مطابق کالج منیجمنٹ كے کئی ہائی پوسٹ والوں مردوں سے بھی سحرش میڈم کا چکر تھا . . . . . 

سحرش میڈم كے پورے جسم میں ہوس بھری تھی ،
جو اس وَقت میں محسوس کر رہا تھا ،
 وہ میرے اوپر بیٹھی ہوئی میرے سَر کو بہت پیار سے سہلاتے ہوئے میرے بال خراب کر رہی تھی . . . . 
وہ تو اپنے کام میں لگی ہوئی تھی ،
 لیکن میں کیا کروں یہ مجھے نہیں سمجھ آ رہا تھا . . . .
 کبھی میں سوچتا کہ اس دن کی طرح آج بھی
ان کی چھاتیوں کو داباو ،
لیکن پھر سوچتا کہ ان کی گانڈ کو مسلتا ہوں ،
اور بَعْد میں سوچا کہ پہلے ایک کس لے لی جائی ،
اس وَقت میں اسی الجھن میں تھا کہ شُرُوع کہاں سے کروں . . . .
 وہ تو اپنی گانڈ اوپر نیچے کرکے میرے
سَر پہ اپنا ہاتھ پھیر رہی تھی اور میں کسی بچے کی طرح انہیں  ایسا کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا . . . . . . . . .

" میم . . . . "
 بہت ہمت سے کام لینا پڑا انہیں روکنے كے لیے ،
اِس وَقت میں نے ان کی کمر کو کس کر پکڑ رکھا تھا اور انکی طرف دیکھ رہا تھا . .


" کیا ہوا . . . "

" چومی لینی ہے . . . . 
اوہ میرا مطلب ایک کس . . . . "

" کدھر گال پر یا . . . " 
اپنے ہونٹ پر انگلی رکھتے ہوئے انہوں نے کہا" یا پھر یہاں . . . . "

سحرش میڈم كے ہونٹوں کو دیکھ کر میں نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری ،

" لپسٹک کا رنگ تمھارے ہونٹوں میں لگ جائیگا . . . . 
سوچ لو "

" مطلب کہ . . . . "

" مطلب کہ بے عزتی . . . . " 
مجھے درمیان میں روک کر وہ بولی . . .
 اور مجھے اُداس دیکھ کر انہوں نے میرا ہاتھ
پکڑا اور اپنی چوت كے پاس لے جاتے ہوئے بولی " اسے مسلو . . . .
 باہر سے ہی انگلی ڈالنے کی کوشش کرو . . . . "

" آپ نے وہ نہیں پہنا ہے کیا . . . . "

" کیا . . . "

" وہ کیا بولتے ہے ،
جو لڑکیاں ادھر پہنتی ہے . . . " 
ان کی پھدی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میں نے کہا
 " وہ جو پانی خشک کر لیتا ہے . . . . "

" بے وقوف اسے پیڈ کہتے ہے . . . . " 
میرے گال پر دھیرے سے تھپڑ مارتے ہوئے انہوں  نے کہا " 
چھو کر دیکھو کہ پہنا ہے یا نہیں . . . . "

میں نے ایسا ہی کیا ،
جیس طرح سحرش میڈم نے کہا ،
میں نے ان کی چوت کو پہلے آہستہ سے سہلایا اور پھر دبا کر چیک کرنے لگا کہ انہوں نے پیڈ پہنا ہے یا نہیں . . . . 
میری اِس حرکت پر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی ،
اور میرے گالوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے نوچتے ہوئے بولی کہ میں بہت سویٹ ہوں . . . . . .

" ہاں ، 
آپ نے پہنا ہے . . . . 
" میں پتہ نہیں کیوں بہت خوش ہو گیا تھا ،
اس وَقت . . . .

" تو اب کیا خیال ہے . . . " 
اب سحرش میڈم کو میری باتوں میں مزہ آنے لگا تھا ،
وہ اب میرے اوپر خاموش بیٹھی ہوئی میرے بالوں پر ہاتھ پھیر رہی تھی . . . .

" م  . . . میں اب . . . . "

" کچی کالی ہے تو ،
تیرا رس پینے میں مزہ آئیگا . . . . "
رس تو میں پینا چاہتا تھا ، 
لیکن کمینی موقع ہی نہیں دے رہی تھی . . . . 

 میں نے خود میں ہمت پیدا کی اور اپنے
ہاتھوں سے ان کے چہرے کو نیچے کیا ، اور پھر اس کے بَعْد ہم دونوں کی آنکھیں ،
ہم دونوں كے ہونٹ ایک دوسرے كے قریب آتے گئے ،
میں نے اندر ہی اندر عمران ہاشمی کی فلموں كے سین یاد کیا اور جھپٹا مار کر سحرش میڈم  كے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے جکڑ لیا ،
 لیکن میں کامیاب نہیں ہوسکا
کیونکہ سحرش میڈم نے مجھے فوراً دور کیا اور غصے سے مجھے دیکھتی ہوئے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ پھیرنے لگی . . . .

" دماغ ٹھیک ہے کیا . . . "

" کیا ہوا . . . "

" ڈانٹ مار دیا ، . . . "

" سوری ،
وہ فرسٹ ٹائم ہیں تو تھوڑا . . . . "

"  اُلو ،
 کس ایسے نہیں ایسے کیا جاتا ہے . . . . " 

انہوں نے مجھ سے کہا اور یہ بھی کہا کہ میں کچھ نہ کروں ،
 وہ مجھے سب سکھا دے گی . . . . .

سحرش میڈم نے پہلے میرے ہونٹوں کو چوما اور پھر آہستہ آہستہ اپنے ہونٹوں سے میرے ہونٹوں پر دباؤ ڈالنے لگی . . . .
 لنڈ جو پہلے سے کھڑا تھا وہ سحرش میڈم کی اِس حرکت سے اب مزید سخت ہونے لگا ، . . . 

اب وہ میرے ہونٹوں کو چوسنے لگی تھی ، . . . . . .
 کیا بتاؤں  کتنا مزہ آ رہا تھا . . .
 آہستہ آہستہ میں نے بھی اپنے ہونٹ ہلانے شُرُوع کر دیئے اور پھر ہم دونوں ایک دوسرے كے ہونٹ کو تیز رفتاری سے چوسنے
لگے . . . . .

 سحرش میڈم اب بھی میرے اوپر بیٹھی تھی ،
اس وَقت ایک ٹیچر اور ایک اسٹوڈنٹ لیب میں کرسی پر بیٹھ کر چوما چاٹی میں مصروف تھے . . . . . .

" آہ ہ ہ ہ . . . . . . "
جب سحرش میڈم  نے مجھے چھوڑا تو میں ہانپ رہا تھا ،

" بہت اچھے . . . "
 میرے اوپر سے اٹھتے ہوئے انہوں نے کہا . . . .

" ٹائم کتنا ہوا . . . "
 اپنے ہونٹوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے سحرش میڈم سے پوچھا . . . .


 

 

" دس منٹ بچے ہے ،
 اب تم جاؤ اور اوپر جانے سے پہلے تمھارے ہونٹوں پر جو لپسٹک کی چھاپ ہے وہ صاف
کر لینا . . . . . "

میں نے پہلے ٹشو سے اپنے ہونٹ صاف کئے اور پھر باتھ روم میں جا کر خود کو تیار کیا . . . . 
اس کی لپسٹک اور اس کے جسم کی خوشبو میں اب بھی محسوس کر رہا تھا ، 
مجھے اس وقت باتھ روم میں ایسا لگ
رہا تھا جیسے کے اس کے ہونٹ اب بھی میرے ہونٹوں سے چپکے ہوے ہے ،
مجھے اس وقت بہت اچھا لگ رہا تھا . . . . . 

لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے چار سال کی بربادی کی داستان کا پہلا قدم یہی تھا . . . . . .


" سٹوپڈ . . . . " 
سیڑھیوں سے اوپر جاتے ہوئے میں کسی لڑکی سے ٹکرایا ،
غلطی میری ہی تھی جو میں سحرش میڈم 
 كے خیالوں میں کھویا ہوا سیڑھیاں چرے جا رہا تھا . . . . 

میں جس لڑکی سے ٹکرایا تھا وہ تو میرے لیے ایک عام سی لڑکی تھی لیکن اس لڑکی كے ساتھ جو کھڑی تھی وہ میرے لیے نارمل لڑکی نہیں تھی ، . . .

" جان بوجھ کر ٹکراتے ہو . . . "
سارہ مجھے دیکھ کر بولی . . .

" سوری ،
میں نے دیکھا نہیں تھا . . . "

" ابھی میں بھی تمہیں ایسے دھکہ دے کر گرا دوں،
جیسے تم نے میری فرینڈ کو گرایا ہے اور  پھر  سوری بولو تو تمہیں کیسا لگے گا . . . . "

" بہت اچھا لگے گا ، 
مہربانی کر کے کوشش کریں . . . "

" زیادہ مسکرانے کی ضرورت نہیں ہے . . . " لڑکیوں کی طرح حرکت کرتے ہوئے اس نے اپنے ہونٹوں کو شکل تبدیل کی . . . . 

لیکن پھر جیسے اسے آج صبح والی بات یاد آئی اور اس نے مجھے پہچان لیا کہ اس کے معشوق سے لڑنے والا میں ہی تھا تو اس کے تیور بہت جلدی بَدَل گئے ،
اس نے اپنی سہیلی کا ہاتھ تھما اور وہاں سے آگے بڑھ گئی . . . . . .

" یہ لڑکی میری جان نکال کر ہی رہے گی . . . "
اسے  جاتے ہوئے میں نے دیکھا ،
 اور جب وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی تو میں دوبارہ سے سیڑھیاں چڑتے ہوے اپنی کلاس کی طرف چل دیا . . . .

کچھ لفظ بنا کہے کہہ گئے . . . .
کچھ لوگ خاص تو تھے ،
 لیکن وقت کے ساتھ سب ساتھ چھوڑ گئے . . . .
رشتے ناتے تو بہت پرانے سے تھے سب سے ،
لیکن افسوس کہ سب ایک پل میں اس رشتے کو کچھے دھاگے کی طرح توڑ گئے . . . . .


شراب کی بوتل خالی کرنے كے بَعْد کام کرنے میں بہت مزہ آتا ہے ،
اِس وقت کاشف آلو کاٹ رہا تھا اور اظہر کو میں نے باہر دکان پر بھیجا ہوا تھا کچھ سامان لینے كے لیے . . . . .

" اس دن سحرش نے کچھ اور نہیں کیا کیا . . ."
 آلو کاٹ کر اس نے مجھ سے پوچھا
 " تیری بَکْواس کہانی کو چھوڑ کر سب کچھ اچھا چل رہا ہے ،
 لیکن ایک بات بتا تو نے سچ میں اس دن سحرش كے ساتھ کچھ نہیں کیا . . . . "

" اور یہ تو کیوں پُوچھ رہا ہے . . . "

" کیوںکہ کوئی بھی عام لڑکا اپنے ہاتھ میں آیا ہوا موقع ایسے ہی نہیں چھوڑ دے گا . . . . "

"سحرش میڈم ، 
ہم دونوں سے زیادہ تیز تھی ، 
اس لیے تو اس نے مجھے پھنسایا تھا . . . . "

" وہ سب تو ٹھیک ہے ،
پہلے یہ دیکھ کہ شراب بچی ہے یا لانی پڑے گی . . . . "

" ایک بوتل ہے . . . "

" لے پیگ بنا اور پھر تیری سڑی ہوئی زندگی میں دوبارہ جاتے ہے . . . . "

تب تک اظہر بھی آ گیا اور مجھے پیگ بناتے ہوئے دیکھ کر بولا
" کمینے تیری چھپ چھپ كے شراب پینے کی
عادت ابھی تک نہیں گئی . . . "

" غور سے دیکھ تِین گلاس رکھے ہے وہاں . . . ."

" اوہ سوری ! "


بہت خواہش تھی ،
 اس کے ساتھ زندگی کا ہر پل ،
 ہر وقت گزارنےکی . . . . .
لیکن افسوس کہ کبھی نہ تو وہ پل آیا اور نا ہی کبھی وہ وقت . . . . . 


" یہ سحرش میڈم كے لیے ہے یا سارہ كے لیے . . . . "
 اظہر  نے مجھ سے پوچھا . . . .

ہم دونوں اپنے روم میں بُک کھول کر بیٹھے ہوئے تھے ،
 اظہر بُک کھول کر کیا کر رہا تھا یہ تو مجھے
نہیں معلوم ،
لیکن میں بُک کھول کر اپنے خیالات میں کھو رہا تھا ،
 کبھی سحرش میڈم دکھتی تو کبھی
ان کے ساتھ لیب میں گزرا آج کا وقت دکھتا . . . 
تو کبھی سارہ دکھتی ، اس کی بھوری بھوری آنکھیں دکھتی ، 
اس کے
گورے گورے گال دکھتے . . . .
 لیکن مزہ تب خراب ہو جاتا جب اس کے ساتھ وہ چوتیا صغیر دکھتا . . . . . . .

" بس ایسے ہی ، 
سوچا کہ آج کچھ شعر شعاری لکھوں اور یہ لکھ ڈَلا . . . . "
 میں نے ااظہر سے کہا 
 " کیسا تھا . . . "

" بَکْواس . . . .
 بورنگ ، پکاؤ "

" میں تجھے چود دوں گا آگے سے بھی اور پیچھے سے بھی اگر  تو نے کچھ اور کہا تو . . . . "

" آگے سے بھی اور پیچھے سے بھی "
 دماغ پر زور ڈالتے ہوئے اس نے کہا
 " تیرے پاس دو لنڈ ہے کیا،
 ایک آگے اور ایک پیچھے . . . "

" ہاں ہے تو "

" دو دو لنڈوں والے بابا . . "

آج سے کچھ سال پہلے کا تو کنفرم نہیں بتا سکتا لیکن اس وقت کالج کی زندگی میں فیس بک نہ ہو یہ ناممکن ہی ہوتا تھا ،
 یہ ایک وائریس کی طرح پھیلا ہوا تھا ، 
جن لڑکوں کی معشوقہ ہوتی وہ تو اپنے موبائل
میں مصروف رہتے اور جن لڑکوں کی معشوقہ نہیں تھی وہ اکثر رات دیر  تک فیس بک میں اپنے لیے معشوقہ کی تلاش میں لگے رہتے ، 
اظہر کی بھی کوئی معشوقہ نہیں تھی ،
 اور یہی وجہ تھی کہ اس کے موبائل میں
فیس بک ہمیشہ کھلا رہتا ، . . . . .

" سحرش میڈم ، 
کی آئی ڈی مل گئی " 
اظہر بستر سے اٹھ کر میرے پاس آیا اور مجھے
سحرش میڈم کی پروفائل دکھاتے ہوئے بولا " اب میں اس کو فرینڈ ریکویسٹ سینڈ کرتا ہوں ،
پھر ہم دونوں رات دیر  تک چیٹنگ کرینگے . . ."

" کہی تجھے بلاک کر دیا تو . . . . "

 

" میں تو بس اندازہ لگا رہا ہو . . . "
اظہر كے 140 ایم ایم چھوڑے ، 
167ایم ایم لمبے ، 
 اور 150 پوند کے وزنی دماغ میں ایک خطرناک پلان آیا ،
 اس نے مجھ سے میری فیس بک آئی ڈی مانگی ، 
اور جب میں نے اسے کہا کہ میں فیس بک استمعال نہیں کرتا تو وہ ڈانٹ دکھانے لگا اور پھر  اپنے موبائل میں مصروف ہو گیا کچھ ہی دیر میں اس نے میری فیس بک آئی ڈی بنا دی اور مجھے ای میل آئی ڈی اور پاسورڈ دیتے ہوئے بولا . . .
" یہ رہی تیری فیس بک آئی ڈی ،
 اور آج كے بَعْد کوئی بھی پوچھے تو یہی آئی ڈی بتانا . . . "

" تو کیا کرنے والا ہے . . . . "

" سحرش میڈم کو اس سے ریکویسٹ سینڈ کروں گا ، 
اور پوری رات چیٹ کروں گا . . . . "

" یار مروائے گا کیا  ،
وہ دو سو اسائنمنٹ دے گی مجھے پھر . . . "

" پریشان نہ ہو ،
 میں یہ پہلی بار نہیں کر رہا کچھ نہیں ہوگا  . . . "

کیا کرتا میں ،
اس کی بات ماننی پڑی دوست جو تھا میرا . . . .
 پتہ نہیں کمینے سے لگائو سا ہو گیا تھا ،
 اس کی بچودیاں اچھی لگنے لگی تھی اور ایک بات جو تھی کہ وہ مجھے اک قابل انجینئر بنا رہا تھا ،
 روز رات کو خود توسگریٹ پیتا اور مجھے بھی پلاتا لیکن پیسے کبھی نہیں مانگتا ،
اور اب اس کا پلان مجھے شراب پلانے کا بھی تھا ،
 وہ اکثر یہی کہتا کہ ابھی ٹیسٹ کر لے ورنہ ہاسٹل كے آنے والے دوست جب شراب پلائیں گے تب کیا کرے گا ،
 اس کی اِس بات پر میں بس اتنا ہی کہتا تجھے دے دوں گا ،
 تو پی لینا . . . .

 پھر کیا تھا اس کے بَعْد ہم دونوں ایک دوسرے كے کاندھے پر ہاتھ رکھتے اور پھر لڑکیوں کی باتیں کرنے لگتے  . . . . . .


" سحرش میڈم نے ریکویسٹ اکسیپٹ کر لی " صبح صبح کمینے نے جگاتے ہوئے مجھ سے کہا . . . . 
میرا پروگرام تو چار بجے اُٹھ کر پڑھنے کا تھا لیکن رات کو جو آنکھ لگی وہ صبح آٹھ بجے کھلی . .

" گانڈ مار لوں گا،
سونے دے . . . "

"یار تو دیکھنا اب. . . 
اس کو تو حویلی میں لے جا کر چودوں گا . . ."

" اور میں بنگلہ نمبر تیرہ میں . . .
 اب بول "

وہ چُپ ہو گیا اور سحرش میڈم کو ایک میسیج کر دیا ،
 اسی وقت روم میں بنیان پہنے ہوئے ایک
لڑکا اپنی آنکھ ملتے ہوئے آیا اور بولا کہ مجھے سردار بولا رہا ہے ، . . .

" کہا ہے ایم ٹی بھائی . . . "
" باہر ہاسٹل وارڈن كے ساتھ چاۓ پی رہے ہے . . . "

" ٹھیک ہے آتا ہو . . . "
چادر سمیٹ کر میں نے ایک سائٹ پر رکھی اور ہاسٹل وارڈن كے روم میں جا پہنچا 

" آپ نے بلایا ایم ٹی بھائی . . . "
" بیٹھ . . . " 
مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ بولے
 " یہ ایم ٹی کیا ہے . . . 
آتے ہی میرا نِک نام رکھ دیا . . . "

" ملٹی ٹیلینٹڈ لڑکا . . . "
 ویسے ایم ٹی کا فل فوم تو ملٹی ٹیلینٹڈ لاوندا تھا ،
لیکن سردار كے سامنے اس کو لاوندا کہنا مجھے مناسب  نہیں لگا . . . .

" ملٹی ٹیلینٹڈ لڑکا . . . . 
یہ مناسب نہیں لگا ، 
ایسا بول ملٹی ٹیلینٹڈ لاوندا ،
 یہ ٹھیک رہیگا . . . . "

تب تک میرے لیے بھی سردار كے اشارے پر ایک کپ چاۓ آ چکی تھی ، 
چاۓ کا کپ اپنے ہاتھ میں لیکر میں
چوسکیاں لینے لگا . . . .

" کل صغیر سے لڑائی ہوئی تھی تیری . . . "

میں چاۓ پیتے پیتے ہی روک گیا اور سردار کی طرف دیکھ کر بولا
 " ہاں چھوٹی سی تو تو میں میں ہوگی تھی 
اس سے ،
 اور وہ بھی نہیں ہوتی اگر اس نے میرے دوست پر ہاتھ نہیں اٹھایا ہوتا تو . . . "

" تھوڑا کنٹرول رکھ ،
 ایسے پنگوں میں ابھی سے مت پڑ . . . .
 وہ بھی سورس والا لڑکا ہے . . . . "

" ارے بھائی جان وہ کتنے لڑکے لیکر آئیگا ،
زیادہ  سے زیادہ  پچاس یا سو لیکن اس سے زیادہ تو اپنے ہاسٹل میں رہتے ہے اور اوپر سے وہ اتنے لڑکے لیکر آ بھی نہیں سکتا،

" پھر بھی تھوڑا کنٹرول میں رہ . . . "
مجھے کنٹرول میں رہنے کا مشورہ دے کر سردار وہاں سے جانے لگا اور میں وہی ہاسٹل وارڈن كے برابر میں بیٹھ کر چاۓ کی  چوسکیاں لینے لگا . . . .

" یونین کا الیکشن لڑے گا. . . "
 وہاں سے جاتے جاتے پیچھے موڑ کر سردار نے مجھ سے پوچھا اور میں نے فوراً اپنا سَر مسکراتے ہوئے نہ میں ہلا دیا . . . .

" کیوں . . . . "

" پڑھائی پر اثر پڑتا ہے اس سے ،
میں نے سنا ہے ایسا . . . "

" ٹھیک ہے . . . "

سردار وہاں سے چلا گیا ،
وہاں سے اپنے روم میں آنے كے بَعْد مجھے جو سب سے پہلا کام کرنا تھا وہ تھا اپنے کپڑوں کی استری کرنا . . .

" ایک میری شرٹ پر بھی کر دے . . . "
ایک شرٹ میری طرف پھینک کر اظہر نے کہا
" ٹائم نہیں ہے . . . . "

" بہت ٹائم ہے ،
 ابھی تو پورا ایک گھنٹہ باقی ہے . . . "

" تو ایک کام کر . . . "
 میں نے استری کرنا بند کرکے سیدھا کھڑا ہوا
 " لنڈ پکڑ كے جھول جا ، . . . "

" کر دے نہ. . . "

" نہیں  . . . "

" یار کر دے نہ  . . . "

" نہیں بولا نہ . . . "

" رات کو سگریٹ پلاؤں گا . . . "

" ایک بار بول دیا نہ کہ نہیں کروں گا . . . . "

" وہ بھی فری میں . . . "

" لا اپنی شرٹ دے ، . . . "

کالج میں شہرت تو ٹھیک ٹھاک ہوگئی تھی ،
عالَم یہاں تک تھا کہ جب میں اپنے ہاسٹل سے نکل کر کالج میں داخل ہوتا تو باہر کھڑے ،
یا آتے جاتے لوگوں میں سے سب تو نہیں لیکن آدھے سے زیادہ میری طرف ضرور دیکھتے تھے اور ویسے بھی جب آپ سات سال سے فیل ہونے والے غنڈے کو مارو گے تو عوام ایسا ہی دیکھے گی . . . . . 

 

"نومینیشن فارم بھر لیا کیا تو نے ؟ "
 ابھی کالج كے اندر قدم رکھا ہی تھا کہ اظہر بول پڑا
 " اگر نہیں لیا ہو تو ،
 لے آ اور ہاتھوں ہاتھ میرے لیے بھی ایک . . . "
منو بھی ہمارے ساتھ کالج كے اندر داخل ہوا تھا اور اسی نے شاید اظہر سے کہا تھا کہ وہ مجھے فارم لینے كے لیے بھیجے . . . .

" کتنے کا آتا ہے . . . "

" تیس کا . . . "
منو نے جلدی سے جواب دیا . . .

" پھر تو ایک منو كے لیے بھی لے آؤں گا ، نکال سو روپے "

اظہر  نے جلدی سے سو روپے کا نوٹ مجھے دے دیا اور بولا 
" پیسہ کا معاملا نہیں ہے کاکے . . . .
بات تو کچھ اور ہی ہے ،
جو آپ کو وہی جا کر معلوم چلیں گی ارمان سر . . . "

جلدی سے وہ دونوں کلاس کی طرف چل دیے اور میں اسٹوڈنٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھا ،
اور جیسے ہی اسٹوڈنٹ ڈیپارٹمنٹ كے پاس پہنچا وہاں کا نظارہ دیکھ کر دنگ رہ گیا ، اسٹوڈنٹ ڈیپارٹمنٹ كے باہر بہت لمبی لائن لگی ہوئی تھی . . . .

 کچھ اسٹوڈنٹ وہاں بیٹھے چپراسی کی منت سمجات کر رہے تھے تاکہ ان کا کام جلدی ہو سکے ،
لیکن میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور  سیدھے لائن میں لگ گیا ، . . . .

" ایکسیوز می . . . . . "
میرے سامنے والی کھڑی لڑکی نے بہت زور سے کہا اور پیچھے پلٹی ،
 اسے دیکھتے ہی جہاں میں چُپ ہو گیا وہی مجھے دیکھ کر وہ بھی چُپ ہوگئی تھی ،
آنکھوں سے آنکھیں ملی ، 
اس کے دِل کا تو پتہ نہیں لیکن  میرے سینے میں بائیں طرف قید لال رنگ کی ایک چیز جسے لوگ دِل کہتے ہے وہ دھڑک اٹھا . . . . 

دھڑکن تو سارہ کو دیکھنے سے پہلے بھی چل رہی تھی ،
دِل تو پہلے بھی دھڑک رہا تھا ،
 لیکن اُس ایک لمحے میں جب اس نے
مجھے دیکھا تو مجھے میری دھڑکنوں کا احساس ہوا ،
 میں چاہتا تھا کہ وہ مجھے یوں ہی دیکھتی رہے ،
اور پھر ہم دونوں ایک دوسرے كے قریب آئے اور میں اسے بولوں کہ 
 " آئی . . . . . . . . . "

" ہیلو مسٹر ،
ایک تو پہلے دھکہ دیتے ہو اور پھر اوپر سے لائن مارتے ہو . . . "

وہ مجھ سے سوال کر رہی تھی اور میں اُس وقت اسے گھورے جا رہا تھا ،
 پتہ نہیں ایسا کیا تھا اُس لڑکی میں جو میں اس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا تھا ، . . . .

" او ہیلو میں تم سے بات کر رہی ہوں . . . "
مجھے زور سے جھاڑاکتے ہوئے سارہ بولی . . . . .

" کیا ہوا . . . "
ہوش میں آتے ہی میں نے سوال کیا . . .

" کچھ دیر پہلے تم نے مجھے دھکہ دیا تھا . . . . "

" تو . . . "

" تو . . . "

" تو کیا . . . "

" تم نے جان بوجھ کر مجھے دھکہ دیا . . . "

" دیکھو ایسا کچھ بھی نہیں ہے ،
 اتنی لمبی لائن لگی ہے تو تھوڑا بہت تو دھکم پیل تو ہو ہی جاتی ہے . . .
اس پر آپ توجہ مت دیں "

" لیکن تم نے مجھے جان بوجھ کر دھکہ دیا ، سوری بولو . . . "

" کس چیز کا سوری بولوں یار ، "

 لڑائی کے مزے لینے والوں کی کبھی کمی نہیں ہوتی اور جب یہ لڑائی لڑکے اور لڑکی كے درمیان ہو تو دیکھنے والے اور بھی بڑھ جاتے ہے ، 
اُس وقت بھی ایسا ہوا ،
 سب لائن میں تو لگے تھے ،
 لیکن مزے بھی لے رہے تھے . . . .

" میں بول رہی ہو نہ سوری بولو . . . "

" جاؤ نہیں بولتا . . . "

وہ پہلے کسمسائی اور پھر اپنی بھوری آنکھوں سے مجھے گھورنے لگی لیکن میں نے پھر بھی سوری نہیں بولا
تو وہ پیر پٹخ کر آگے مڑ گئی . . . .


نہ جانے کیوں ،
سارہ کو پریشان دیکھ کر اچھا لگ رہا تھا ،
 وہ جب بھی تنگ ہو کر پیچھے گھومتی تو
میں ہنس دیتا اور وہ پھر تنگ آ کر آگے دیکھنے لگتی . . . .

" یہ ہجوم اتنی جلدی کیوں ختم ہو رہا ہے . . . . "

چھوٹی ہوتی ہوئی لائن کو دیکھ کر میں نے خود سے کہا،
 اُس وقت میں سب سے الگ یہی چاہ رہا تھا کے یہ لائن آرام سے دو تِین گھنٹے میں ختم ہو جائے ،
 کیونکہ میں ہر پانچ منٹ میں کچھ ایسا کر دیتا جس کی وجہ سے سارہ پیچھے موڑ کر دیکھتی اور جب وہ مجھے دیکھتی تو ایک لفظ ہر بار  زُبان پر آتا لیکن میں آخر تک وہ لفظ بول نہیں پایا . . . . 
میں ہر بار
 " آئی . . . . " 
پر آ کر اٹک جاتا تھا ،
 اس کے برعکس سارہ وہاں کھڑے ہوکر جلد سے جلد مجھ سے اور لمبی چوڑی لائن سے چھٹکارا پانا چاہتی تھی . . . .

 وہ جلد سے جلد فارم بھر کر وہاں سے جانا چاہتی تھی ، 
انجانے میں ہی سہی لیکن اگر اِس واقعے کو ٹیکنیکلی طور پر دیکھا جاۓ تو میں اس کے قریب آنا چاہتا تھا لیکن وہ مجھ سے دور جانا چاہتی تھی ،
 اور شاید یہی ہماری . . . 
ہماری نہیں میری تقدیر تھی . . . . .

" تم نے ابھی مجھے کیا کہا . . . "
 ہر بار کی طرح وہ ایک بار  پھر آنکھوں میں غصہ لیے ہوئے پیچھے پلٹی . . .

" میں نے تو کچھ نہیں کہا ،
 میں تو بھول بھی گیا تھا کہ تم بھی یہاں کھڑی ہو . . . "

" میں نے سنا ،
 تم نے مجھے کہا ،
 یہ میری شہزادی ہے . . . "

" اس نے کیسے سن لیا ،
 یہ تو میں نے خود سے کہا تھا . . . . " 
خود سے باتیں کرتے ہوئے، 

مجھے جب کچھ نہیں سوجھا تو میں زور زور سے ہنسنے لگا . . .

" وہ تو میں فون پر بات کر رہا تھا . . . . "

" جھوٹ مت بولو . . . . "

" حد ہے یار ، . . .
 اب میں کسی کو کال بھی نہ کروں کیوںکہ تم یہاں میرے پاس ، 
میرے قریب ہو . . . . "

" اچھا اچھا ٹھیک ہے . . . "
 وہ پھر پلٹ گئی اور دِل كے ایک بار  پھر ٹکڑے ہوکر جوڑ گئے . . .

" ہیلو صغیر. . . "
اپنی کال ریسیو کرکے اس نے کہا . . . .

" اِس کمینے نے کال کیوں کی . . . "
میں بڑبڑایا  . . .

" اسٹوڈنٹ ڈیپارٹمنٹ كے سامنے . . " 
سارہ نے کال کاٹ دی اور ایک بار پھر سے پیچھے گھوم کر مجھے دیکھنے لگی . . . 

وہ مجھے جلانا چاہتی تھی ،
 لیکن میں خاموش کھڑا دوسری طرف دیکھتا رہا ،
 اور تب تک دوسری طرف دیکھتا رہا ،
جب تک وہ آگے نہیں پلٹ گئی . . . .

" ہاے . . . . "
صغیر نے سارہ کو دیکھ کر دور سے اپنا ہاتھ ہلایا اور سارہ سے اشارہ پا کر وہ ادھر ہی آنے لگا ،
اور مجھے وہاں سارہ كے پیچھے دیکھ کر اس کا دماغ گھوم گیا اور وہ تیز رفتاری سے
میری طرف آنے لگا . . . . .

" چل نکل . . . "

" کیوں ؟ "
 اس کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے ہوئے میں کہا . . .

" بس بول دیا نہ نکل تو نکل یہاں سے. . . "

" صغیر آرام سے . . . .
 تمہیں ہر کسی سے کیسے لڑ سکتے ہو ،
 کچھ تو اسٹینڈرڈ رکھو اپنا . . . "
 صغیر کو خاموش کراتے ہوئے سارہ بولی . . . .

 

 

" تجھے بولا تھا نہ،
 اپنی اوقات میں رہنا . . . . " 
سردار نے آتے ہی اک لات کاشف کو ماری . . . .

" سردار ،
 یہ تیرا معملہ نہیں ہے . . . "

" کیا بولا تھا میں نے . . . . 
ہاسٹل کے لڑکوں کو ہاتھ تک مت لگانا ،
 لیکن تو نہیں مانا. . . . "

"  اوئے سردار. . . .
 آج اتنے سارے لڑکے  تیرے ساتھ ہے اس لیے اچھل رہا ہے . . . .
 بھول مت میں تیرا بھی سینیر ہوں . . . . "

" چپ کر بولتا بہت ہے . . . . . " 
نہ جانے اظہر کو کیا ہوا اور اس نے ایک تھپڑ کاشف كے گال پر مار دیا 

" اس دن والا بائیک اسٹینڈ کا حساب کلئیر  ہوا . . . "

" دیکھ کیا رہے ہو ، 
مارو کمینوں کو . . . "
کاشف نے وہاں موجود اپنے دوستوں سے کہا . . . .

کاشف اور اس کے دوست ہم سے لڑنا شروع ہو گئے،
لیکن ہم ان سے کئی گنا زیادہ تھے اس لئے چند منٹوں میں ہی ہم نے ان سب کو بری طرح مارا ، 
لاتوں سے ،
 ہاتھوں سے ان سب کو فٹ بال کی طرح دھویا اور کچھ دیر میں ہی کاشف اور اس کے دوست زمین پر لٹے کرہ رہے تھے . . . . . .

" کیا حال ہے گدھے . . . "
 جہاں کاشف  لیٹا ہوا تھا ، 
اس کے پاس جا کر میں نے کہا اور پوری طاقت كے ساتھ ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر دے مارا . . . .
 کیا پاور تھی اس کے گال پر خون جام گیا . . . .
 اور اس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا ،
 ایک طرف کا گال سفید تو دوسری طرف کا ایک دم لال . . . . . .

" چال پُش اپ کر . . . . "
 آرام سے وہاں بیٹھ کر میں نے کاشف سے کہا . . . . .

" میں کوشش کرتا ہوں . . . "
الٹے لیٹے ہوئے اس نے کہا . . . .

" آ جاؤ سب لوگ  . . . . "
آج بھی وہی ہونے والا تھا جو کچھ دن پہلے اسی گراؤنڈ پر ہوا تھا ،
 لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ آج گراؤنڈ میں میری جگہ مجھے لیٹانے والا لیٹا ہوا تھا اور اس کے اوپر کودنے کی باری میری تھی . . . .
اور اگر
ٹیکنیکل لینگویج میں کہاجائے تو اسے
" تھوری آف ریلاتیوتی" یا  " فریم آف ریفرنس" بھی کہہ سکتے ہے ،

" سوری . . . . "
کاشف نے آہستہ سی آواز میں کہا ،
 اس دن کی طرح آج اس کے منہ سے بھی خون نکال رہا تھا . . .
 اس دن کی طرح  آج اس کا جسم بھی وہاں کی دھول مٹی سے بھرا ہوا تھا . . . .

" روک کیوں گئے مارو سب کو . . . 
آخر  تھوری آف ریلاتیوتی کا قانون بھی تو ثابت کرنا ہے . . . . "

" تجھے چھوڑوں گا نہیں . . . "

" سوری کاشف سر ،
آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے . . . .
مار تو آپ کو كھانی ہی پڑے گی "

" میں چلتا ہوں ، 
نیکسٹ کلاس اٹینڈ کرنی ہے . . . " 
سردار بھائی نے اپنی گھڑی میں دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے کپڑوں کو ٹھیک کرنے لگے. . .

" لیکن ابھی تو بریک ٹائم ختم ہونے میں بہت ٹائم ہے . . . . "

" سر نے آج پہلے بلایا ہے ،
میں چلتا ہوں،
تم لوگ عیش کرو . . . . "
 اتنا کہہ کر سردار وہاں سے چلا گیا . . . .

" یار ،
روک کیوں گیا ،
 پُش اپ کر . . . "
 گانڈ پر ایک زور کی لات مار کر میں نے کاشف سے کہا ،
 اور میری دیکھا دیکھی سب کی گانڈوں پڑ لات پڑی . . . . .


" بس ،
 اب اور نہیں . . . . "
 ہانپتے ہوئے کاشف نے کہا. . . .

کاشف كے دوست تو کب کے ہار مان چکے تھے اور ان سب کا مار کھا كر برا حال بھی تھا ،
ان سب کی حالت دیکھ کر دل میں آیا کہ سب کو چھوڑ دوں ،
 لیکن اچانک اظہر میرے پاس آیا اور میرے کان میں کچھ ایسا کہا ،
 جسے سن کر میں فورا کاشف كے پاس پہنچا . . . .

" چل جلدی کر ابھی سو بار اور اوپر نیچے ھونا ہے . . . . "

" نہیں،
اب ہمت نہیں ہے . . . " 
پسینے سے بھیگا ہوا کاشف زمین پر لیٹ گیا اور لمبے لمبے سانسیں لینے لگا . . . .

" ایک شرط میں چھوڑوں گا تجھے . . . "

" ہاں بول  . . . . "

" ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں کال کرکے بلا . . . . "

میرے پروگرام کو سمجھتے ہوے کاشف نے صاف منع کر دیا اور اسی وقت اظہر نے پاس پڑا ہوا ایک موٹا سا ڈنڈا اُٹھا کر کاشف كے سَر پر نشانہ لگایا اور زور سے ڈنڈے کو اس کے سَر کے بلکل پاس زمین پر دے مارا . . . .

کاشف نے سوچا کہ اظہر اسے مارنے والا ہے ،
اس لیے اس نے زور سے چلاتے ہوے کہا کہ وہ تیار ہے ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں بلانے كے لیے . . . . . .

" پانی دو کاشف سر کو . . . . "
کاشف جب ہانپتے ہوئے اُٹھ کر وہاں بیٹھا تب میں نے اپنے ہی کلاس والے ایک لڑکے سے کہا اور لڑکوں کے ہجوم میں سے کسی نے کہا کہ کاشف کو پانی نہیں اپنا پیشاب پلا دو. . . . 

خیر میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور کاشف کو بوتل والا پانی پلایا . . . . .

" سمیرہ،
 کہاں ہو . . . . "
کاشف نے سمیرہ کو کال کی اور میں نے اسے لوڈ سپیکر آن کرنے کا اشارہ کیا . . .

" کب سے ڈھونڈ رہی ہو تجھے . . . . 
چوت میں کجلی ہو رہی ہے . . .
 کہاں ہو تم . . . . "

" واہ . . . . "
 میں نےدھیرے سے کہا اور سب کو اشارہ کیا کی کوئی نہیں ہنسے . . . . . 

" میں ،
 گراؤنڈ میں ہوں . . . . "
کاشف میری طرف دیکھتے ہوئے سمیرہ سے بولا
" یہی آ جاؤ . . . "

" اسی گراؤنڈ پر نہ جہاں کچھ دن پہلے ہم نے فرسٹ ایئر كے ایک لڑکے کو مارا تھا. . . . "

موبائل کا لوڈ سیپکر اب بھی آن تھا اور میں سب کچھ سن رہا تھا ،
 " آجا کمینی ، تو آجا ایک بار
" میں نے خود سے کہا. . . .

" ہاں ،
 اسی گراؤنڈمیں ہوں . . . "

"  یہاں میری چوت جلی جا رہی ہے اور تم وہاں کیا کر رہے ہو . . . .
 تم نے تو کہا تھا کہ بریک ٹائم میں بائیک
اسٹینڈ پر ملنا ،
 اور جب میں وہاں پہنچی تو نہ تو تم وہاں تھے اور نہ ہی تمہارا کوئی دوست . . . . "

" تو اپنی چوت میں انگلی ڈال اور سیدھے گراؤنڈ پہنچ . . .
 ورنہ اگلی بار بہت بری طرح گانڈ ماروں گا . . . .
 سمجھی "

" اوکے ،
 میں ابھی آئی . . .
 کنڈم ہے نہ اِس بار ،
 یاد ہے آخری بار بہت پروبلم ہوئی تھی . . . "

" سب ہے ،
 تو آجا جلدی سے . . . "

" فلیور کون سا ہے ، 
آئی لائک اسٹرابیری کنڈم . . . . "

کاشف نے اپنا سَر پٹخ کر کال بند کر دی اور  پھر میری طرف دیکھنے لگا ، 
جانے اسے ایسا کیوں لگنے لگا کہ میں اسے اور اس کی محبوبہ کو وہاں سے سہی سلامت  جانے دوں گا . . . .

 ہم میں سے سب سینیرز وہاں سے چلے گئے اور گراؤنڈ میں اس وقت فرسٹ ایئر كے بیس یا پچیس لڑکے موجود تھے . . . .

 ہم سب مختلف جگہوں پر چھپ گئے تھے اور کاشف کو دوبارہ سے پُش اپ کرنے كے لیے بول دیا اور اسے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اِس دوران ایک بار بھی روکا تو ہم سب اسے پاگل کتا سمجھ کر اس پر پتھر برسانا شروع کر دیں گے . . . .

"کاشف . .
 یہ کیا ؟ "
 اپنی اسکوٹی سے اتر کر سمیرہ ،
 کاشف کی طرف بھاگی اور اسی دوران میں باہر نکلا اور کاشف كے پاس کھڑے ہوگیا . . . . . 

" تم نے سہی کہا سارہ، 
کسی بھی چلتے پھرتے كے منہ تو لگنا بھی نہیں چاہئیے اور تم یہ بتاؤ کہ تم یہاں کیا کر رہی ہو . . . "

" فارم لینے کے لئے کھڑی ہوں "

" یہ سب ان جیسوں كے لیے ہے ،
 تم سیدھا درانی صاحب کا نام لے کر اندر جا سکتی تھی . . . . "

لڑنے كے موڈ میں تو میں بھی تھا لیکن لائن تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی اس لئے مجھے آگے جانا پڑا اور ویسے بھی سردار نے حد میں رہنے كے لیے کہا تھا اور جب فارم لیکر باہر نکلا تو صغیر اور سارہ وہی کونے میں کھڑے بات کر رہے تھے ،
 کچھ لمحے كے لیے میں وہی کھڑا ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر اپنا کلیجہ جلاتا رہا اور جب  دیکھ دیکھ کر اکتا گیا تو میں نے وہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا . . . . . . .


" باہر ،
 باہر بالکل باہر ، . . . " 
راحیلہ رانی نے میری اندر آنے کی اجازت لینے سے پہلے ہی باہر رہنے كے لیے کہہ دیا . . .

" میم ،
 فارم لینے گیا تھا ،
 آج آخری تاریخ تھی . . . "
 اپنے ہاتھ میں رکھے فارم کو دکھاتے ہوئے میں نے کہا

" تو میں کیا کروں . . .
 ایسے کرو گے تو کیسے پڑھو گے . . . "

" آخری بار میم ،
 سوری . . . "

" آ جاؤ اندر . . . "

" شکریہ میم "

" اگلے ہفتے تم لوگوں کا ٹیسٹ ہے . . . "
میں ابھی اپنی سیٹ پر آ کر ٹھیک طرح سے بیٹھ بھی نہیں پایا تھا کہ راحیلہ رانی نے کہا ،
اور جسے سن کر میں چونک گیا . . . .

" باقی ٹیچرز تو بتاتے بھی نہیں ،
 لیکن میں بتا رہی ہوں ،
 مجھے میرے سبجیکٹ میں بیس نمبر مکمل 
چاہئے . . . "

" جی میم . . . " 
صرف دو اسٹوڈنٹ کو چھوڑ کر ،
 سب نے یہ کہا ، 
ایک تو یقینً میں تھا اور دوسرا کوئی اور نہیں
میرا خاص دوست تھا . . . .

" کیا بولتا ہے ،
 آ جائینگے تیرے بیس نمبر . . . "

" مجھے تو ٹاپک تک نہیں پتہ کہ یہ پڑھا کیا رہی ہے اور ٹیسٹ میں کیا دے گی . . . "

" کمینی گلا کاٹ كر رکھ دے گی اور بولے گی ایسے کروگے تو کیسے پڑھو گی. . . "

" یار ،
کچھ ہی دن تو ہوئے ہے کالج آئے ہوئے ،
 اور ابھی سے ٹیسٹ " 
بورڈ پر جو ٹاپک لکھا ہوا تھا اسے
اپنی نوٹ بک میں چھاپتے ہوئے میں نے کہا . . . .

" پریشان نہ ہو، 
سب ایک رات میں نپٹا لینگے . . . "

" اب تو یہی کرنا پڑیگا . . . . "

اس دن جتنے بھی ٹیچر آئے سب نے یہی کہا کہ اگلے ہفتے ٹیسٹ ہے اور صرف میں ہی تم لوگ کو یہ بتا رہا / رہی ہوں ،
باقی ٹیچرز تو بتانا ہی نہیں چاھتے . . . . 

بریک ٹائم میں بھوک لگی تو میں اور اظہر
کینٹین کی طرف چلے پڑے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہاں شہر میں رہنے والے سینیرز کی اچھی خاصی تعداد ھوگی ، . . .

" اگر کچھ مسلہ ہوا تو . . . "
 کینٹین میں داخل ہوتے ہی میں نے اظہر سے کہا

 " ہاسٹل والے سینیر کا نمبر ہے نہ تیرے پاس . . . "

" ہاں ہے نہ ڈر مت . . . . "
 ایک ٹیبل پر جا کر میں اور اظہر بیٹھ گئے ،

" وہ دیکھ تیری سپنوں کی رانی اپنے سپنوں كے راجہ كے ساتھ اس ٹیبل پر بیٹھ کر فیملی پلاننگ کر رہی ہے . . . "

" کون سارہ . . . "

" ہاں یار ، . . . "

میں نے پیچھے موڑ کر دیکھا ،
 سچ میں سارہ وہاں تھی لیکن اس کے ساتھ صغیر بھی تھا ، . . .

" وہ ادھر ہی آ رہا ہے . . . "
جب میں دوبارہ موڑ کر اپنا پیٹ بھرنے لگا ، 
تب اظہر نے کہا

 " چل بھاگ لیتے ہے ،
 ورنہ کمینہ بہت مارے گا .

" ابے روک ، 
کہی مت جاے گے . . . "
 میں نے اظہر کا ہاتھ پکڑ لیا اور تب تک صغیر بھی جس ٹیبل پر ہم بیٹھے تھے وہاں آ گیا . . . .

صغیر ہمارے پاس آیا اور ایک کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھ گیا ،
 صغیر كے بیٹھنے كے بَعْد میری
نظر سب سے پہلے سارہ پر گئی ،
 میں دیکھنا چاہتا تھا کہ سارہ کے تاثرات کیا ہے اور میں نے دیکھا کہ صغیر کی اِس حرکت سے وہ پریشان تھی ،
وہ اپنے دانتوں سے ہونٹوں کو دبا رہی تھی ، اس کی آنکھوں میں پریشانی کا وہی سبب تھا ، 
جس کا میں دیوانہ تھا ، 

اپنے خیالاوں میں میں اپنی جگہ سے
اٹھا اور سارہ كے ہونٹوں پر کس کرکے بولا کہ
 "پریشان مت ہو  ، 
سب ٹھیک ہے . . . "

" اُدھر کیا دیکھ رہا ہے ،
 ادھر دیکھ . . . "
صغیر نے میرا سَر پکڑ کر اپنی طرف کیا
 " کیا نام بتایا تھا تو نے اپنا . . . "

" یہی سوال جا کر اپنے استاد کاشف سے کر ،
وہ اچھے طریقے سے میرا نام اور تفصیل بتائے گا . . . . "

" تو کالج كے باہر  ہاسٹل والوں کے ساتھ مل کر  کسی کو بھی پٹوا سکتا ہے ،
 لیکن یہ کالج ہے ، . . . "
 کینٹین كے باقی اسٹوڈنٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صغیر مجھ سے کہا
 " یہ سب جو بیٹھے ہے نہ ،
 یہ تجھے اس وقت سے گھور رہے ہے ،
 جب سے تو یہاں آیا ہے . . . "

" تم لوگ صرف گھور سکتے ہو ،
جو کرنا ہے وہ تو میں ہی کروں گا ،
 اگر تم میں سے کسی نے ہاتھ بھی لگایا
تو ایک ایک کو لے جا کر اسی گراؤنڈ میں ماروں گا ، 
جہاں کاشف اور اس کے دوستوں کو مارا تھا اور پھر ان کی معشوقوں کو بلا کر جنگل لے جاؤں گا اور پھر جنگل میں منگل کروں گا "

" تو یہ کہنا چاہتا ہے کہ تو پہلے مجھے مارے گا اور پھر سارہ كے ساتھ جنگل میں منگل . . . "

تب تک اظہر بھی جوش میں آ گیا اس نے صغیر کی طرف غصے سے دیکھا اور کہا
 " ہمارے ہاسٹل میں کچھ لونڈے باز ٹائپ کے لڑکے بھی ہے ،
جو تیرے ساتھ بھی جنگل میں منگل کرینگے ، سمجھا . . . . "

" آ جاؤ ،
 مرغا پھنس گیا ہے . . . 
بس حلال کرنے کی دیر ہے . . . "
 صغیر نے وہاں بیٹھے ہوئے سینیر اسٹوڈنٹ
کو اشارہ کرتے ہوئے کہا اور اس کا اشارہ پا کر  پندرہ بیس لڑکوں نے اس ٹیبل کو گھیر لیا جہاں پر اِس وقت ہم تینوں بیٹھے تھے . . . .

" سارہ کو یہاں سے بھیج دے . . . "

" کیوں ؟
لڑکیوں كے سامنے مار کھانے سے ڈرتا ہے . . . "
صغیر چلا کر بولا . . .

میں نے دیکھا کہ کینٹین کا گیٹ صغیر كے کہنے پر پہلے ہی بند ہو گیا تھا ،
 اور کالج کی بِلڈنگ سے کینٹین اٹیچ بھی نہیں تھا ،
اس لئے کالج اسٹاف وہاں دیر سے ہی آتا ،
 اتنے سارے لڑکوں کو اپنے پاس دیکھ کر کوئی بھی گھبرا سکتا تھا ،
 میں بھی ڈر گیا . . .

 لیکن صغیر سے میں ایسے بات کر رہا تھا جیسے مجھے کوئی فرق ہی نہ پڑ رہا ہو . . . .

 

" صغیر ، . .
 یہ سب بند کرو . . . "
 بات بڑھتے ہوئے دیکھ کر سارہ وہاں آئی 

" سارہ ،
تم کان میں ہیڈ فون لگا کر بیٹھ جاؤ ، . . . "

" پر صغیر . . . "

" سارہ ، 
جاؤ . . . "

سارہ كے وہاں سے جانے كے بَعْد صغیر نے ٹیبل پر اپنے دونوں پیر رکھے اور مجھ سے بولا
 " کچھ دن پہلے کا حادثہ بتاتا ہو تجھے . . .
 ایک تیری طرح ہی کا لڑکا تھا ، 
شہر کی بس میں میں نے اس کے بال پکڑ کر چلتی بس سے نیچے پھیک دیا ،
اسے تو میں نے کوئی موقع نہیں دیا ،
 لیکن تجھے ایک موقع دیتا ہوں ،
 مجھے سوری بول اور چُپ چاپ یہاں سے نکل جا . . . . 
ورنہ . . . "

" ورنہ . . . "

" ورنہ اس سے بھی برا حال کروں گا تیرا . . . "
اچانک سیدھا بیٹھ کر اس نے کہا . . .

پہلے سوچا کہ سوری بول کر بات کو یہی ختم کر دوں،
لیکن میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور صغیر
سے بولا . . . .

" جب میں اسکول کی نویں کلاس میں تھا تو گیارویں کلاس كے ایک لڑکے نے مجھے بہت مارا تھا ،
اور وہ پورا سال میں نے اسی کھوج میں نکال دیا کہ اسے کیسے ماروں اور دسویں کلاس میں آ کر جانتا ہے میں نے کیا کیا اس لڑکے کے ساتھ . . . "

" کیا . . ؟ "

" جان سے مار دیا اس کو ،
 جس چاقو کو اس کے پیٹ میں گھسایا تھا وہ لڑتے وقت میرے ہاتھ میں لگ گیا تھا ،
جس کا نشان ابھی تک ہے . . . "
 میں نے اپنی شرٹ پیچھے کی اور سائیکل سے گرنے کا جو نشان تھا اسے  دکھاتے ہوئے بولا
"لگتا ہے ایسا ایک اور نشان جلد ہی مجھے لگنے والا ہے ،
 اور تجھے معلوم نہیں ھوگا لیکن میں نے کینٹین میں گھسنے سے پہلے ہی سردار کو میسیج کر دیا تھا کہ میں کینٹین میں ہوں ،
تو اس حساب سے اگلے پانچ منٹ میں پورے ہاسٹل کے لڑکے یہاں آ جائینگے ،
تم لوگ ہم دونوں کو صرف پانچ منٹ تک مار
سکتے ہو ،
لیکن اس کے بَعْد میں تم سب کو گراؤنڈ میں لے جا کر بہت ہی بری طرح سے ماروں گا . . . . "

اب کی بار میں نے اپنا پیر ٹیبل پر رکھا اور ٹیبل پر رکھے سموسے کی پلیٹ سے ایک سموسہ اُٹھا کر کھانے لگا ،
 ڈر تو اب بھی لگ رہا تھا کہ کہی یہ لوگ مجھے مارنا شروع نہ کر دے ،
 کیوںکہ نہ تو میں نے سردار کو میسیج کیا تھا اور نہ ہی پانچ منٹ بَعْد ہاسٹل والے آنے والے تھے . . . . .

" روک جاؤ ،
دوستوں . . .
 میرے پاس ایک پلان ہے . . . "

" ایک بہت پرانی کہاوت ہے . . . "
 اظہر نے بھی ٹیبل كے اوپر اپنے دونوں پیر رکھے اور ایک سموسہ اُٹھا کر بولا 
" پلان وہ بناتے ہے ، 
جنہیں خود پر بھروسہ نہیں ہوتا . . . "

" بہت جلد ہی تم دونوں کو بھروسہ ہو جائیگا . . . " 
وہاں سے اُٹھ کر سارہ کی طرف جاتے ہوئے صغیر نے کہا . . . .

" نائس پلان ہے یار . . . "
اظہر سموسہ کھاتے ہوئے بولا . . . "

 میری تو پھٹ  گئی تھی یار . . . "

" پھٹی تو میری بھی تھی ، 
لیکن 
" اظہر كے ہاتھ میں جو سموسہ تھا اس سے آدھا ٹکڑا توڑ کر کھاتے ہوئے میں نے کہا 
" تجھے ایک کام بولا تھا ،
 یاد ہے . . . "

" کون سا . . . "

" صغیر اور سارہ  کا محبّت کا چکر کب سے اور کیسے چل رہا ہے ،
ان دونوں كے باپ کیا کرتے ہے . . . 
یہ سب "

" کتنی بار کہا ہے کہ سارہ پر دھیان مت دے ،
کمینی  نے صغیر كے لیے خودکشی تک کر لی تھی تو سوچ ہی سکتا ہے کہ ان کا چکر لیفٹ سائڈ والا ھوگا . . . "

" لیفٹ سائڈ مطلب . . . "

" دِل لیفٹ سائڈ پر ہوتا ہے ،
 اس لئے سچے پیار کو لیفٹ سائڈ والا چکر کہتے ہے . . . "

" اور رائٹ سائڈ والے چکر کا مطلب . . . "

"  ہوس بھرا چکر ،
جو اِس وقت  تیرے اور سحرش میڈم كے درمیان چل رہا ہے . . . "

" پھر میرا اور سارہ کا چکر کس قسم کا ہے  . . . "

" کسی بھی قسم کا نہیں "
اظہر  زور سے ہنستے ہوے بولا
 " یہ تو پیار محبّت کچھ  بھی نہیں ہے "

اظہر سے اس وقت کیا کہو مجھے کچھ نہیں سوجھا اور آج بھی میں اسے کچھ نہیں سمجھا پایا ،
 کیونکہ میں خود آج تک نہیں سمجھ پایا کہ سارہ اور میرا چکر لیفٹ سائڈ والا تھا یا پھر رائٹ سائڈ والا یا پھر کوئی بھی چکر نہیں تھا ،
 جو بھی ہو اس دن وہاں کینٹین میں ہم نے پورا وقت گزارا ،
اس دن کچھ الگ سا ہوا ، 
سارہ اس دن کینٹین میں مجھے دیکھ رہی تھی ،
اور جب میری نظر اس سے ملتی تو وہ فوراً اپنا رنگ بَدَل کر غصے سے دیکھنے لگتی اور اس کی یہی ادا ہر بار  میرا دِل چِیر كے رکھ دیتی تھی . . . .

 بریک كے بَعْد کی کلاس میں کچھ بھی خاص نہیں ہوا ،
باقی كے سب ٹیچرز آئے اور ٹیسٹ کے بارے میں بتا کر مشورہ دینے لگے کہ ان کے سبجیکٹ کی تیاری کیسے کرنی ہے ،
 یا یوں کہے کہ بریک كے بَعْد اچھا خاصا بور  دن گزرا ، . . . .

" یار وہ دیکھ سارہ . . . . "
 چھٹی كے وقت میں جب اظہر كے ساتھ کالج سے باہر نکل رہا تھا تب میں نے سارہ کو باہر پریشان دیکھا . . . .

" تو کیا ،
 اب جا کر چومی لے گا کیا اس کی . . . "
" اگر وہ ایک چومی دے دے تو قسم سے انجینیئرنگ چھوڑ دوں . . . "

" یہ تو میرے الفاظ تھے . . . "

" گدھے اُدھر وہ پریشان کھڑی ہے اور تجھے الفاظوں کی پڑی ہے ،
 تو نکل میں آتا ہوں . . . . "

اظہر کو وہاں سے بھگانے كے بَعْد میں سارہ کی طرف بڑھا ،
 میں اس وقت یہی سوچتا رہا کہ میں سارہ
سے کیا کہوں گا ،
مجھے وہاں اس کے پاس نہیں جانا چاہئے لیکن میں اس کے پاس گیا اور اسے اس کی
پریشانی کی وجہ بھی پوچھی . . . .

" شام کی واک تو کر نہیں رہی آپ ، 
پھیر ادھر اُدھر کیوں ٹہل رہی ہیں . . . "

" تم سے مطلب . . . "
 ایک کرارا جواب دے کر وہ پھر ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر چلنے لگی . . . .

" ادھر سے گزر رہا تھا تو تمہیں پریشان دیکھ کر روک گیا ، 
ویسے بھی مجھے اسکول میں سکھایا گیا
تھا کہ انسانیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے ، . . . "

" تم مجھے اور پریشان مت کرو اور جاؤ یہاں سے . . . . "

" نہیں جاؤں گا . . . "

" تو کھڑے رہو یہی ،
 میں جاتی ہو یہاں سے . . . . "
 اپنا پیر پٹخ کر سارہ وہاں سے آگے بڑھ گئی . . . .

" کمال ہے یار ، 
بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے . . . . " 
سارہ کو جاتے ہوئے دیکھ کر میں نے کہا . . . . .

ویسے تو سارہ کا ہر وقت صغیر كے ساتھ گاڑی میں آنا جانا ہوتا تھا ،
 لیکن اس دن صغیر نہیں آیا ،
 بلکہ صغیر کا ایک دوست اپنی بائیک پر بیٹھا کر سارہ کو لے گیا ،
 سارہ کو صغیر كے دوست كے ساتھ جاتا دیکھ
کے میرے بائیں سائڈ میں ہلچل مچ گئی ،
میں کئی خیالات میں ڈوبنے لگا جیسے ڈوبنے کہ  " 
کیا سارہ کا چکر ختم ہوگیا صغیر سے یا پھر ان دونوں کی لڑائی ہوئی ہے ، 
یا پھر وہ لڑکا جو کہ صغیر کا دوست ہے وہ
سارہ كے ساتھ کہی . . . . . . . . 

نہیں ،
 یہ کیسے ہو سکتا ہے ، 
صغیر كے دوستوں كے پاس اتنی ہمت ہی نہیں ہے اور ویسے بھی سارہ اِس کام كے لیے تیار نہیں ھوگی ، 
لیکن پھر ایسا کیا ہو گیا کہ آج صغیر كے ساتھ نہ جا کر سارہ  اس کے دوست كے ساتھ گئی اور یہ کمینہ صغیر کہاں مر گیا  . . . . . 

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس

بہت شاندار انداز بیاں ہے

شروع شروع میں تو عجہب سی داستان لگ رہی تھی

 

اب کچھ وتر پہ آئ ہے سٹوری

Bhai jjan apki update jitni b late aye lekan kamal hoti ha.... Aj ki update b achi thi lekan me expect kar raha tha kuch sex scene but ni hua lekan update beshak late ho lekan tasalli kra dyty ho ap..... Aisy hi shandar update dyty rahy..... Aur umeed ha ap mery suggestion py ghor kary gy.... Baki sub umda ha.... Salamti ki dhero duayein 💐💐💐💐🤗

Ye story jub shoro main perhi to laga aunty chudai wali ho gi 

Laikin jaisy jaisy agy ja rahi hai Jadoo jaga rahi hai

Best of luck boht achi ja rahi hai

📢 Post Your Ad Here

عجب لڑائی + محبت کی، غجب کہانی

 

لگے رہو بھیا جی

YAR KYA BAKCHODI CHAL RAHI HE NA SEX NA EROTIC SCENES BS GUPSHUP CHAL RAHI HE

  • Author

 

عرض کیا ہے . . . "
" کرو . . .
 کرو ،
 بالکل کرو ، 
سب کچھ کرو . . . "

" تو سنے گا ،
 عرض کیا ہے . . . "

" ابے عرض ہی کرتا رہے گا یا کچھ اور بھی کرے گا . . . "
کاشف  اور اظہر مجھ پر ایک ساتھ برس پڑے ،

" کوئی تو محفل ھوگی اِس پوری دُنیا میں . . . .
جہاں نام ہمارا بھی ھوگا . . . .
جب سنے گی اس محفل میں میری داستان . . .
تو لہو کا قطرہ اس کی بھی آنکھوں سے بھا ہوگا . . . . "

ہم تینوں پھر نشے میں دھات ہوگئے تھے ،
کاشف نے سالن چولہے پر چڑاھا دیا تھا ،
جس کے جلنے کی مہک بھی آنے
لگی تھی . .
 اُدھر كھانا جلا ادھر ہم تینوں كے دِل جلے . . .

" اس دن كے بَعْد کیا ہوا . . . 
سارہ کا صغیر كے دوست كے ساتھ کچھ چکر تھا یا پھر . . . "

" میں بتاؤں . . . "
 اظہر درمیان میں بول پڑا جسے روک کر میں نے کہا
 " اس دن ایسا کچھ بھی نہیں تھا . . . "

" پھر سارہ صغیر كے ساتھ کیوں نہیں گئی ، . . . "


اس دن ہاسٹل میں آنے كے بَعْد مجھے اس کی وجہ معلوم چلی،
 اور وجہ بتانے والا منو تھا ،
 میں آج بھی کبھی کبھی سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ اس کمینے منو کو ساری خبریں مل کیسے جاتی تھی اور جب خبر سارہ کے متعلق ہو تو اس کی خبر اسے اور بھی جلدی ملتی تھی ،
منو  نے مجھے بتایا کہ صغیر كے والد صاحب پر کسی نے جان لیوا حملہ کیا تھا اور وہ بہت سریس تھے ،
 اس لیے صغیر کو جلدی ہی کالج سے جانا پڑا ،
کیوںکہ صغیر اور سارہ  ایک ساتھ کالج آتے تھے اس لئے صغیر كے جانے كے بَعْد صغیر كے دوست نے سارہ  کو گھر چھوڑا. . . .

 ایک طرف جہاں میں یہ سوچ کر خوش ہو رہا تھا کہ سارہ اور صغیر كے درمیان لڑائی ہوئی ھوگی وہاں مجھے دکھ ہوا ،
لیکن دوسری طرف صغیر كے دوست اور سارہ كے درمیان کچھ نہیں ہے یہ جان کر مجھے خوشی بھی ہوئی . . .

 منو نے مجھے اور بھی بہت کچھ بتایا جیسے کہ سارہ اور صغیر كی فیملی كے بارے میں ،
اور جیسا کہ منو نے بتایا تھا اس کے اندازے سے صغیر كے بابا ایک غنڈے قسم کے آدمی
تھے اور سیاست دانوں سے تعلق بھی تھے اس کا مطلب صاف تھا کہ صغیر ایک امیر زادہ تھا ،
وہی سارہ كے والد صاحب ایک بڑے بزنس مین تھے مطلب کہ سارہ بھی ایک امیر زادی تھی . . . .

 سارہ اور صغیر بچپن سے ایک ساتھ پلے بڑھے تھے،
ایک ہی اسکول میں پڑھائی بھی کی لیکن صغیر عمر میں ایک سال بڑھا تھا اس لئے دونوں ایک کلاس میں کبھی نہیں آ پائے ،
عمر كے بڑھتی رفتار كے ساتھ ساتھ ان دونوں کی دوستی پیار میں بدلنے لگی اور پھر
دونوں نے ایک دن ایک دوسرے سے محبّت کا اقرار بھی کیا . . . .

 سارہ اور صغیر دونوں كے گھر میں دونوں كی محبّت كے بارے میں معلوم تھا اور انہیں اِس رشتے سے کوئی پریشانی بھی نہیں تھی ،
منو نے کچھ دنوں پہلے سارہ كی خودکشی کی  بھی وجہ بتائی ،
اس نے بتایا کہ صغیر کسی دوسری لڑکی كے چکر میں تھا اور یہی سارہ کو
راس نہیں آیا تو اس نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی ،
اس کے بَعْد صغیر نے سارہ  سے اپنے کیے کی معافی بھی مانگی اور ان دونوں کی محبت کی داستان پھر سے شروع ہوگئی . . . 

جس کے لیے سارہ  نے جان دینے کی کوشش کی تھی وہ اس سے سچی محبّت تو کرتی تھی لیکن پھر بھی دِل كے کسی کونے سے آواز آئی کہ 
 " بیٹا ارمان ،
 کوشش کر . . . 
تیرا چانس ہے . . . . "

اس آواز کو نکلنے سے پہلے ہی دِل میں دفن ہو جانا چاہیئے تھا ،
 مجھے اسی دن ہی یہ مان لینا چاہیئے تھا کہ سارہ اور میں کسی بھی لحاظ سے نہیں ملتے ،
نہ تو فیملی بیک گڑاؤنڈ سے اور نہ ہی دِل کی
دُنیا سے . . . .

 اس کی دِل کی دُنیا تو صغیر كے چاروں طرف گھومتی تھی یہ مجھے پتہ تھا لیکن  پھر بھی
میں نہیں مانا  . . . . .

" کاشف کی معشوقہ سمیرہ کی ریکویسٹ آئی ہے تیری آئی ڈی پر . . . . "

" کیا . . . "

" اتنا چونک کیوں رہا ہے ،
صرف یہ بتا اکسیپٹ کروں یا نہیں . . . "
 اظہر نے مجھ سے پوچھا . . . .

" غصہ کیوں کر رہا ہے ، 
کر لے اکسیپٹ . . . "

اظہر نے سمیرہ کی فرینڈ ریکویسٹ اکسیپٹ کی اور میرے بستر پر خوشی سے چڑھ کر بولا
" کمینی  آن لائن ہے ،
آجا اس سے مزے لیتے ہے . . . . "

میں بیٹھا تو کتاب کھول کر تھا ،
لیکن یہ سوچ کر کتاب بند کر دی کی پہلے سمیرہ سے مزے لے لیتا ہوں،
پڑھائی کا کیا ہے وہ تو کبھی بھی ہو جائے گی ،
کل صبح چار بجے اُٹھ کر پڑھ لوں گا ،
لیکن سمیرہ ہر وقت آن لائن تھوڑی ہی رہنے والی ہے . . . . .

" ہیلو . . . . "
 ہم میسیج کرتے اسے پہلے ہی سمیرہ نے کیا . . .

" ہاے ڈیئر ،
کیا کر رہی ہو. . . "
اپنے موبائل كے کی بورڈز کو تیز رفتاری سے دباتے ہوئے اظہر نے جواب دیا. . .

" کچھ نہیں اور تم . . . "
" چودائی لکھ کر بھیجو کیا . . . " 
اظہر نے میری طرف دیکھ کر بولا "

" چوتیا ہے کیا ،
اس کو لکھ کہ پڑھائی کر رہا ہوں . . . . "

" مٹھ مارنے کا لکھ دیتا ہو ، 
کمینی لڑکی ہے کیا سمجھے گی . . . "

" لکھ دے . . . "

اظہر نے مٹھ مارنے کا لکھ کر جلد سمیرہ کو جواب دیا،
 کچھ دیر تک سمیرہ کا جواب نہیں آیا لیکن جب اس کا جواب آیا تو ہم دونوں كے ہوش اُڑ گئے ، 
ہم دونوں نے یہ سوچا تھا کہ سمیرہ ہم سے مٹھ مارنے کا مطلب پوچھے گی اور ہم دونوں اسے اُلو بنائیں گے لیکن اس کا جواب یہ تھا . . .

" مٹھ کم مارا کرو ، 
جسم کمزور ہوتا ہے . . . . "

" سالی بڑی تیز ہے ،
 ابھی سامنے مل جائے تو اس کے منہ میں لوڑا گھسا دوں . . . . "

" اب کیا بولے گا. . . "
 میں نے اظہر کی طرف دیکھا . . . .

" تو روک اور دیکھتا جا . . . "
 اظہر کی انگلیاں ایک بار پھر تیز رفتاری سے موبائل كے بٹنوں پر گھومنے لگی اور
اس نے سمیرہ سے کہا. . .

" تم نے کبھی مٹھ ماری ہے "

" کیا "

" مٹھ  ،
 تصویر بیھج کر سمجھاوں کیا "

" مجھے کچھ کام آ گیا ہے بائے . . . "

" گاجر ہے گھر میں . . . "

" کیوں ؟ "

" پورا کا پورا گھسا لینا اس کو . . . "

" تمیز سے . . . "

" کچھ کام آ گیا ہے ،
 اب میں جا رہا ہو . . . "

 اس كے فوراً بعد ہی اظہر نے فیس بک بند کر دی اور ہم دونوں اپنا پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگے . . . . 

اس رات سگریٹ پینے اور بچودیاں کرنے كے علاوہ میں نے کچھ نہیں کیا ،
 آدھی رات کو دوسروں كے روم كے سامنے جا کر زور سے دروازہ بجاتے اور پھر بھاگ جاتے ، روم كے اندر سو رہے لڑکے گالیاں دیتے ہوئے اٹھتے اور پھر باہر کسی کو نہ پا کر اور بھی گالیاں بکتے . . . .

اس کے بَعْد کچھ دنوں تک کچھ بھی خاص نہیں ہوا ،
 سارہ  اور صغیر  روزانہ ساتھ میں ہی کالج آتے اور ساتھ ہی میں جاتے ،
 صغیر سے میری نوک جھونک بھی اتنے دنوں میں نہیں ہوئی تھی اس لئے ماحول ٹھنڈا تھا ،
سردار سے ایک دو بار بات چیٹ ہوئی تھی جسے مجھے پتہ چلا تھا کہ کاشف اور اس کے دوست بہت جلد ٹھیک ہو جائینگے اور کالج بھی آنے لگیں گے . . .

 

 

مجھے ایک لڑکی کی تلاش بچپن سے تھی ،
ایسی لڑکی جس کو دیکھ کر میری آنکھیں اس کی آنکھوں سے ہوتی ہوئی صرف
آنکھوں پر ہی ٹکی رہے ،
سحرش میڈم اور سمیرہ کو جب بھی دیکھتا تو میری نظر ان کی آنکھوں سے شروع ہی
نہیں ہوتی تھی وہ تو سیدھے نیچے سے شروع ہو کر آخر میں آنکھوں پر پہنچتی تھی لیکن سارہ كے معملے میں ایسا نہیں تھا ،
 میں نے ابھی تک اس کی صرف بھوری آنکھیں اور خوبصورت چہرے پر ہی نگاہ
ڈالی تھی . . . .

 میں سیدھا سادھا مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا تھا ،
 اس لئے میں ایک سیدھی سادھی سی لڑکی
چاہتا تھا جو مجھ سے پیار کرے اور جسے میں پیار کروں . . . .
 آوارہ بن کر ہر ہفتے معشوقائیں تبدیل
کرنا مجھے پسند نہیں تھا لیکن ایسی لڑکیاں مجھے بہت ملی جو صرف دوسروں کو دکھانے كے لیے ،
 دوسروں کو جلانے كے لیے میری معشوقہ بننے کو تیار تھی ،
 لیکن ان سب کو میں نے دور کرتے ہوئے ہمیشہ اس ایک لڑکی کی تلاش میں رہا جو سیدھے بائیں سائڈ میں اپنا اثر دکھائے ، . . . 

سارہ کی بھولی صورت ،
 اس کا بات بات پر جھگڑنا اور ہر وقت  ناک پر غصہ لیکر چلنا مجھے بہت پسند تھا ،
پسند نہیں تھا تو صرف ایک چیز کہ وہ صغیر  کی معشوقہ تھی . . . . 

دماغ نے ہزار  بار مجھ سے کہا کہ سارہ اور تیرا ملنا نناوے فیصد ناممکن ہے ،
لیکن پھر دِل كے کسی کونے سے آواز آتی کہ ایک فیصد چانس تو ہے ،
اس ایک فیصد کو میں ایک ہزار سے ضرب دے کر سارہ اور خود کی محبّت کے چانس کو کیوں نہ سو فیصد کر لوں  وہ وقت یہ سب سوچنے کا نہیں تھا اس لئے میں نے اپنے دماغ اور دِل كی باتوں کو
پیک کرکے پڑھنے بیٹھا کیوںکہ کل HMI کا ٹیسٹ تھا . . . .

" تجھے کچھ سمجھ آ رہا ہے ، 
میرے  تو سب سَر كے اوپر سے جا رہا ہے . . . ." 
اظہر اپنے بال نوچ کر بولا . . .

" مجھے قائد اعظم  سمجھ رکھا ہے کیا ،
 جو بنا پڑھے پاس ہو جاؤں گا ،
 مجھے بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا . . . . "

" یہ سائنٹسٹ اگر آج زندہ ہوتے تو گولی مار دیتا ان سب کو "
 بُک پر دوبارہ نظریں ڈالتے ہوئے میں نے کہا
 " یہ دیکھ ، 
اتنا بڑا فارمولا . . .
 یہ تو پورے چار سال میں بھی یاد نہ ہو . . . "

وہ رات ہم نے بکس کے رائٹرز کو گالیاں دے دے کر گزاری ،
 پہلے کی عادت تھی چار بجے صبح اٹھنے کی ،
اس دن بھی آنکھ صبح چار بجے کھلی ، 
جب کہ میں بارہ بجے سویا تھا . . .

 آنکھوں میں جلن اور سَر بھاری محسوس ہو رہا تھا ، 
دل کر رہا تھا کہ پھر سے لائٹ بند کروں اور
چادر اوڑھ کر پھر سے سو جاؤں ،
 لیکن آج ہونے والی ایگزام کی ٹینشن سے سَر بھاری ہوتے ہوئے بھی سَر کو ہلکا کرنا پڑا میں پانچ دس منٹ تک ٹھنڈے پانی کی بالٹی میں اپنا سَر ڈوبوئے رکھا اور جب وآپس اپنے
روم کی طرف آنے لگا تو مجھے وہی شرارت سوجی جو رات کو اکثر میں کیا کرتا تھا . . . .

 میں نے زور سے ایک روم کا دروازہ کھٹکھٹایا . . . .

" کون ہے. . . " 
ایک نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں اندر سے کسی نے مجھ سے  پوچھا . . . .

" پولیس . . . 
دروازہ کھولو جلدی " 
اپنی آواز کڑک کرتے ہوئے میں نے کہا 
" ہاسٹل میں قتل ہوا ہے اور تم سو
رہا ہے نکلو باہر "

اتنا بول کر میں وہاں سے فوراً اپنے روم کی طرف بھاگا اور جب اندر گھس گیا تو مجھے اس روم میں رہنے والوں کی آواز سنائی دی ، . . .

" یہ کچھ لڑکوں نے تماشا بنا کر رکھا ہے کچھ دنوں سے . . .
 شکایت کرنی پڑےگی ان کی . . . . "

ہنستے ہوئے میں نے HMI کی بُک پکڑی اور خود کو چاروں طرف سے چادر میں لپیٹ کر بُک کھول کر بیٹھ گیا . . . .

 لے دے کر کچھ تو پلے پڑا اور جیسے جیسے  میں پڑھتے جاتا دلچسپی خود با خود بڑھتی جا رہا تھی ،
اس دوران  کبھی سارہ کا خیال آتا تو کبھی سحرش میڈم کا ،
لیکن اسی وقت پتہ نہیں کیسی
منحوس گھڑی تھی کہ مجھے سگریٹ پینے کی طلب ہوئی اور میں جب سگریٹ کا بہت زیادہ طلب گار ہوگیا تو سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا . . . 
لیکن وہ پیکٹ بلکل ،
 خالی تھا . . .

" اوئے اٹھ . . . "
اظہر کو ہلاتے ہوئے میں نے کہا
 " اٹھ جا ورنہ 
، . . . . ورنہ "

" کیا ہوا . . . . " 
جمائی لیتے ہوے وہ پھر سو گیا . . .

" سگریٹ کا پیکٹ کہاں ہے . . . "

" لوڑا پی لے . . . "

" لنڈ میں ماچس سے آگ لگا دوں گا ،
 جلدی بتا کہاں ہے . . . "
اور تب اس نے اپنے جیب سے سگریٹ کی ڈبیا نکال کر مجھے دیی ،
اظہر سے سگریٹ لیکر میں اپنے بستر پر آ دھمکا اور سگریٹ  پیتے پیتے دوبارہ سے پڑھنے لگا . . . . . "


" پھٹ  رہی ہے یار . . .
 کچھ نہیں پڑھا . . . "

" اب میں کیا بولوں پھٹ تو میری بھی رہی ہے ، . . . "

" تو نے تو صبح اُٹھ کر کچھ دیکھ بھی لیا ہے ، میں تو HMI میں ابھی تک کنوارہ ہوں . . "

اِس وقت میں اور اظہر ایگزام ہال كے سامنے کھڑے باتیں کر رہے تھے ، 
ایک طرف میں منو بھی کھڑا تھا لیکن وہ
ہم سے بات کئے بنا اپنی نوٹ بک پکڑے ہوئے تھا ،
کہنے کو تو یہ کلاس ٹیسٹ تھا لیکن اِس بار کلاس ٹیسٹ کو بھی صدیقی صاحب كے کہنے پر ہی ایگزام کی طرح لیا جا رہا تھا . . .


پیپر ایزی تھا ،
 پھر بھی تھوڑی بہت غلطی ہر سوال میں ہوئی ،
 ایگزامینیشن ہال سے میں باہر نکلا تو کوری ڈور میں سحرش میڈم آتی ہوئی دکھائی دی ،
ہلکی پنک کلر کا شلوار ان پر بہت جاچ رہی تھی،
انہیں میری نظر نے نیچے سے دیکھنا شروع کیا اور پھر آنکھوں میں آ کر رکی . . . .

" گڈ مارننگ میم . . . "

" مارننگ . . .
 ابھی تو آفٹر نون ہے . . . "

" سوری ،
وہ ٹیسٹ کا اثر ابھی تک ہے . . .
 گڈ آفٹر نون . . . "

" کیسا گیا پیپر . . . "
وہ وہی میرے پاس کھڑی ہو گئی ،
 انہوں نے آج بھی شاندار خوشبو لگائی ہوئی تھی جس سے میرا تن اور من دونوں میں حل چل ہو رہی تھی . . . . . .

" اچھا گیا . . . . " 
ایک لمبی سانس کھینچ کر میں نے کہا ،
 اور سحرش میڈم كے پرفیوم کی خوشبو میرے پورے روم روم میں سماں گئی ، . . .

 میں وہاں کھڑا یہی سوچ رہا تھا کہ وہ مجھے پھر سے کہے کہ چلو کمپیوٹر لیب میں ،
 لیکن انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا وہ بولی . . .
" میں ابھی چلتی ہوں . . . . "

" کدھر ،
 کمپیوٹر لیب میں "

" اووو . . . . "

میں ان کی اِس اووو پر مسکرا دیا جسے دیکھ کر وہ بولی 
" مجھے ابھی کام ہے . . . .
 بائے "

سحرش میڈم كے جانے كے بَعْد میں نے اس رستے پر اپنے قدم بڑھا دیئے جو کالج سے
باہر جاتا تھا . . .

" اخبار پڑھ كہ آتا ہوں . . . "
 لائبریری كے سامنے کالج سے باہر جاتے ہوئے قدم رکے ، 
میرے قدم رکنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں نے سارہ کو لائبریری كے اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور وہ بلکل اکیلی
تھی تو سوچا کیوں نہ اسی سے مستی کر کے  تھوڑا موڈ فریش کر لیا جائے . . . . .

میں نے لائبریری كے اندر سنبھال کر رکھے ہوئے ایک انگلش اخبار کو اٹھایا اور ٹھیک اسی جگہ پر جا کر بیٹھا جہاں سارہ بیٹھی ہوئی تھی . . .

 اس کے ہاتھ میں اردو اخبار تھا اور وہ اخبار پڑھنے میں اتنی مصروف تھی کی اس نے مجھے دیکھا تک نہیں . . . . . 

اب میں وہاں آیا تو سارہ  سے لڑنے كے لیے تھا اس لئے کسی نہ کسی موضوع پر بات چیت تو کرنی ہی تھی . . . .

" پتہ نہیں لوگ اردو اخبار کیوں پڑھتے ہے . . .
اصلی خبریں تو انگلش اخبار میں ہی ہوتی 
ہے . . . " 
اخبار كے صفحات پلٹتے ہوئے میں نے دھیرے سے بولا اور سارہ کی نظر مجھ پر پڑی ، 

  • Author

 

اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پھر اخبار پڑھنے  میں مصروف ہوگئی . . . . .

" اس نے تو لڑائی شروع ہی نہیں کی ،
 کچھ اور سوچنا پڑے گا . . . "

انگلش اخبار کے صفحات کی آڑ سے میں نے سارہ کو دیکھا ،
اس نے ٹی شرٹ  اور جینس پہن رکھی تھی اور تبھی میرے دماغ میں اس سے لڑنے کا ایک اور آئیڈیا آیا میں نے اِس بار آواز تھوڑی اونچی  کر کے بولا 
" آج کل لڑکیوں کو دیکھو ، 
جینس پہن کر گھومتی رہتی ہے . . . 
مجھے نفرت ہے ایسی لڑکیوں سے ،
ایسی لڑکیاں اگر میرے پاس ، 
میری ہی ٹیبل پر بیٹھ جائے تو دن میں تین بار غسل کرنا پڑے گا . . . . "

اب کی بار وہ چونکی ،
اس کی بھوری سی آنکھوں میں غصہ اُتَر آیا اور وہ مجھ سے اخبار چھینتے ہوے
بولی . . . 
" تم مجھے بول رہے ہو نہ؟ "

" تم بھی یہاں بیٹھی ہو ، 
کمال ہے میں نے تو تمہیں دیکھا نہیں . . " 
انگلش لفظ پر زیادہ زور دیتے ہوئے
میں نے کہا 
" وہ کیا ہے کہ میں انگلش اخبار پڑھنے میں اتنا مصروف تھا کہ  تمہیں دیکھا نہیں ،
کیسی ہو تم . . . "

" ٹھیک ہوں. . . " 
وہ چلا اٹھی اور تبھی لائبریری میں رہنے والوں نے سارہ کو چُپ رہنے کا اشارہ کیا . . .

" اتنا چلانے کی کیا ضرورت ہے ،
 شکارپور سے آئی ہو کیا "

" مجھے دوبارہ مت دیکھنا ورنہ . . . "

" ورنہ . . . "
 آرام سے وہاں بیٹھ کر میں نے کہا . . .

" ورنہ . . . .
 ورنہ . . . "
 ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے وہ سوچنے لگی کہ وہ مجھے کیا دھمکی دے
 " ورنہ میں تمہارا قتل کر دوں گی . . . "

" ہیں "

" اب جاؤ یہاں سے . . . "
 وہ ایک بار پھر چِلائی اور لائبریری والوں نے سارہ کو وہاں سے باہر جانے كے لیے
کہا . . .
 وہ تنگ آ کر وہاں سے اٹھی اور باہر چلی گئی . . . 

میں وہاں بیٹھا بیٹھا کیا کرتا میں بھی اسی
كے پیچھی چل پڑا . . .

" اپنی معشوقہ کو بولو کہ یہ لائبریری ہے یہاں خاموشی سے رہا جاتا ہے . . . "
جب میں لائبریری سے نکل رہا تھا تو بُک
اشو کرنے والے نے مجھ سے کہا جسے سن کر میں خوش ہوتا ہوا وہاں سے آگے بڑھا . . . .

" کیا سچ میں تم میرا قتل کر دو گی . . . "

" ہاں ، 
اگر دوبارہ مجھے دکھے تو ایک خنجر سینے كے آڑ پار کر دوں گی . . . . "

" چل چڑیل ، 
تیرے میں اتنی ہمت کہا . . . "

" کیا  . . . . . . .
 چڑیل "

" تو اس میں برا کیا ہے . . . " 

ہماری لڑائی اچھی خاصی چل رہی تھی کہ اظہر اپنا لٹکا ہوا منہ کے کر 
پیچھے سے ٹپک پڑا اور بول
 " چل یار ارمان سگریٹ پیتے ہے ،
 موڈ بہت خراب ہے . . . . "

" او چڑیل ،
 سگریٹ پینا ہے  . . . "

" بھاڑ میں جاؤ . . . . "

اس کے بَعْد میں اور اظہر وہاں سے نکل گئے بھاڑ میں جانے كے لیے اظہر کا پیپر بہت خراب گیا تھا ،
 یہ بات وہ مجھے تقریباً ہزار بار بتا چکا تھا . . . 

ہر پانچ منٹ بعد وہ بولتا کہ
 " یار بہت ہارڈ پیپر آیا تھا . . . 
لگتا ہے ایک سوال بھی سہی نہیں ھوگا 
" وہ جب سے پیپر دے کر آیا تھا تب سے لڑکیوں والی حرکت کر رہا تھا ،
 وہ بُک کھول کر جواب چیک کرتا اور
جب جواب سہی نہیں نکلتا تو پھر ماتم کرنے بیٹھ جاتا . . .

 میں بستر پر لیٹے لیٹے جب اس کی ان
حرکتوں سے بور ہو گیا تو میں نے اسے کہا کہ ایک پیپر خراب جانے سے اتنا پریشان ہے ،
تو کیا خاک ملک کی خدمت کرے گا . . . . .

" دماغ مت خراب کر اور جا کر ایک پیکٹ سگریٹ لیکر آ . . . . "

اب میں نے بھی سگریٹ پینا شروع کر دیا تھا ، 
اس لئے سگریٹ خریدنے کا دن ہم نے آپس میں بانٹ لیا تھا ایک دن وہ سگریٹ کی ڈبیہ لاتا تو ایک دن میں . . . . 
آج میری باری تھی 

" چل ساتھ میں نہیں چلے گا کیا . . . . "

" موڈ خراب ہے ،
 تو جا . . . "

" ارمان . . . "
 اچانک باہر سے کسی نے آواز دی ،
آواز جانی پہچانی تھی ،
 میں نے روم کا دروازہ کھولا ،
سامنے سردار کھڑا تھا . . . .

" تو کیا سوچا . . . "
 اندر آتے ہی سردار نے مجھ سے کہا . . .

" کس بارے میں . . . "

" یونین کا الیکشن لڑے گا یا نہیں . . . "

" سردار بھائی ،
 آپ کو تو پہلے ہی بتا دیا کہ . . . . "

" تیرا نام میں نے لکھوا دیا ہے . . . " 
مجھے درمیان میں ہی روک کر سردار نے کہا 
" میں یہاں تیری راے جاننے
نہیں تجھے بتانے آیا ہوں . . . "

سردار كے بات کرنے كے اِس لہجے سے میں کانپکپا گیا ،
 اور اس کی طرف منہ بند کیے دیکھتا رہا اور تب تک دیکھتا رہا جب تک سردار نے خود مجھے آواز نہیں دی . . .

" سن ،
 اِس بار کاشف کسی بھی حالت میں صدر نہیں بننا چاہیے ہے ،
 اس لیے میرے امیدوار  کا جیتنا بہت ضروری ہے . . . . 
سیکنڈ ایئر میں صغیر كی وجہ سے میری گرفت کمزور ہے اور مجھے پورا یقین
ہے کہ سیکنڈ ایئر سے ہم ہارنے والے ہے . . .

 اس لئے میں چاہتا ہوں کہ فرسٹ ایئر سے ہم کسی بھی حال میں جیتے اور فرسٹ ایئر كے لڑکوں میں سے سب سے زیادہ تو مشہور ہوا ہے . . . "

" لیکن سردار بھائی، 
وہ میری پڑھائی کا کیا بنے گا . . . . "

اِس بار  بھی سردار نے مجھے درمیان میں روکا
" نہ تو میں آج تک کبھی کسی پیپر میں فیل ہوا ہوں اور نہ ہی کبھی کم نمبر آئیں ہے ،
جب کہ میں اپنا آدھے سے زیادہ وقت اسپورٹس کو بھی دیتا ہوں ،

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.