Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

مجرِم یا۔۔۔

Featured Replies

  • Author

 

مجھ سے ٹکرانے والا بھی پھرتی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔وہ چوہدری کا پالتو کتا شاہنواز تھا۔۔۔جیسے ہی اس کی نظر میرے چہرے پر پڑی تو وہ حیرت سے چلایا۔۔۔اوئے کمالے تو؟؟ساتھ ہی اس کا ہاتھ اپنے نیفے کی طرف بڑھا۔۔۔میرے ہاتھ میں بھی لیوگر پکڑا ہوا تھا میں نے ایک جھٹکے سے ہاتھ آگے کیا اور ٹرائیگر دبا دیا۔۔۔ارے یہ کیا۔گولی نکلنے کی بجائے ٹرچ کی آواز نکلی۔

                           ************************

      (36)

مجھ سے ایک سنگین غلطی ہو چکی تھی۔۔۔الماری سے ایمونیشن تو اٹھا لیا لیکن جلدی جلدی میں گولیاں بھرنا بھول گیا۔۔۔اب میرے پاس اتنا ٹائم بھی نہیں تھا کہ میں ڈب سے اپنا ریوالور نکالتا۔۔۔میرے پاس ایک آخری راستہ تھا جس پر میں نے فوری عمل کیا۔۔۔میں نے میکانکی انداز میں اپنے ٹانگ چلائی اور ایک ٹھوکر شاہنواز کے پیٹ میں ماری۔۔۔وہ اوغ کی آواز کے ساتھ اوندھا ہوا تو میں نے اس کی طرف چھلانگ لگائی لیکن وہ ایک دم سنبھل کر چیختے ہوئے داہنی طرف بھاگا۔۔۔اس کے چلانے کے ساتھ ہی دوسری طرف سے بھی کسی کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔۔۔لازمی سی بات تھی کہ اس کی آواز پہرے داروں نے سن لی تھی اور اب میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ میں اس کے پیچھے بھاگتا۔۔۔چنانچہ میں نے اس کا خیال چھوڑا اور بھاگتے ہوئے صحن کراس کر کے باہر والی دیوار کے پاس پہنچ گیا۔۔۔
جیسے ہی میں دیوار کے پاس پہنچا تو ایک دھماکہ میرے سر پر ہوا۔۔۔میں وہیں زمین پر گر گیا۔۔۔یہ دھماکہ گولی کا تھا جو کہ نوشاد نے چلائی تھی۔۔۔وہ وہیں سے بیٹھی ہوئی آواز میں چلایا۔

بھایا جلدی کرو۔

میں دو قدم پیچھے ہوا اور پھر بھاگتے ہوئے جمپ مار کر دونوں ہاتھوں کے بل دیوار کے کنارے پر لٹک گیا۔اسی وقت نوشاد نے ایک مرتبہ پھر گولی چلائی اور چیخا بھایا نکلو۔۔۔میں نے ہاتھوں کے زور پر اپنا پورا جسم اٹھایا اور دیوار پر لیٹ کر دوسری طرف کود گیا۔۔۔اس طرف زمین ذرا نیچی تھی لیکن نرم ہونے کیوجہ سے میں کسی قسم کی چوٹ سے محفوظ رہا۔۔۔اتنی دیر میں نوشاد بھی درخت سے نیچے اتر آیا۔۔۔میں نے بھی لیوگر ڈب میں ڈالا اور اپنا ریوالور ہاتھ میں پکڑ لیا۔

حویلی میں ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی تھی۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے کماد میں داخل ہو گئے۔ہمارے پیچھے لوگوں کے چلانے اور بھاگنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔چند ایک گولیاں چلنے کی بھی آواز سنائی دی لیکن ہم لوگ رکے بغیر کھیتوں کے اندر اندر سے ہی بھاگتے ہوئے اپنے ڈیرے پر پہنچ گئے۔۔۔ڈیرے پر جا کر میں نے نوشاد کو ساری بات بتائی اور لیوگر بھی دکھایا۔۔۔ہیروں والا قصہ دانستہ گول کر گیا۔۔۔راجو کی موت کا سن کر نوشاد خوشی سے بولا:بھایا اچھا کیا جو دھرتی کے اس بوجھ کو کم کیا۔

لیکن شاہنواز والے ٹکراؤ کا سن کر وہ پہلے تھوڑا سا پریشان ہوا پھر کندھے جھٹک کر بولا جو ہو گا دیکھا جائے گا فلحال وہ لوگ کھلے عام کوئی انتقامی کاروائی کرتے وقت لاکھوں  بار سوچیں گے اور ہم اتنی دیر تک کوئی نا کوئی ترکیب سوچ لیں گے۔۔۔۔فلحال آپ یہاں آرام کرو آپ کا گھر جانا ٹھیک نہیں۔۔۔ہم لوگ کافی دیر تک ایسے ہی باتیں کرتے رہے۔پھر نوشاد بولا:بھایا میں گاؤں جاتا ہوں اور وہاں کے حالات دیکھ کر تھوڑی دیر بعد واپس آؤں گا۔

میرے سر ہلانے پر وہ اٹھا اور پستول ڈب میں لگا کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔میں کچھ دیر تو چارپائی پر لیٹا رہا۔۔۔پھر اچانک مجھے ہیروں کی یاد آئی تو میں اٹھ بیٹھا۔۔۔کافی دیر سوچنے کے بعد مجھے ایک محفوظ جگہ سوجھ گئی۔۔۔میں اپنی جگہ سے اٹھا اور کمرے سے بیلچہ اٹھا کر کھیتوں میں نکل گیا۔۔۔کھیت میں جا کر ادھر ادھر جگہ ڈھونڈے لگا۔ادھر ادھر دیکھنے کے بعد میں نہر کی طرف چل پڑا۔۔۔نہر کے ساتھ ساتھ کیکر کے درختوں کی بہتات تھی۔
یہ درخت بہت پرانے تھے میں ایک کافی پرانے لیکن نسبتاً مضبوط درخت کے پاس گیا اور بیلچے سے درخت کی جڑوں کے پاس ہی زمین کھودنے لگا۔۔۔کافی گہرا گڑھا مار کے میں نے ایک شاپر میں اچھی طرح لپیٹ کر ہیروں کی تھیلی،لیوگر اور اس کا ایمونیشن احتیاط سے گڑھے کے اندر رکھے پھر اس کے اوپر کافی سارا گھاس پھونس ڈال کر دوبارہ مٹی ڈال کے گڑھا بند کر دیا۔۔۔اس درخت کو ترتیب کے حساب سے نمبر لگا کر میں نے ذہن نشین کر لیا۔۔۔اور تازہ کھدے ہوئے گڑھے پر اس انداز میں تھوڑی پرانی مٹی اور گھاس وغیرہ ڈال دی کہ کسی کو شک نہ ہو یہاں زمین کی تازہ کھدائی ہوئی ہے۔

اس کام سے فارغ ہو کر میں دوبارہ جا کر سگریٹ سکھاتے ہوئے چارپائی پر لیٹ کر گہرے گہرے کش لینے لگا۔۔۔کافی دیر گزر گئی تقریباً دو گھنٹے گزر گئے تھے مگر نوشاد واپس نہیں آیا۔۔۔اب رات کا تقریباً ایک بج چکا تھا۔۔۔میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے نوشاد اپنے گھر چکر لگانے چلا گیا ہو۔۔۔آخر وہ بھی تو پوری رات سے غائب تھا نا۔۔۔سوچتے سوچتے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب میری آنکھ لگ گئی۔
ابھی میری آنکھ لگے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دھپ دھپ کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔میں نے فٹافٹ اپنا ریوالور چیک کیا اور گھات لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔دھپ دھپ کی آواز سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کوئی بھاگتا ہوا میری طرف ہی چلا آ رہا ہے۔۔۔چند لمحوں بعد ہی آنے والا میری نظروں کے سامنے تھا۔

                     ************************

      (37)

وہ نوشاد کا چھوٹا بھائی ٹونی تھا جو کہ نوشاد سے ایک سال چھوٹا تھا۔۔۔ٹونی بھاگتا ہوا ڈیرے کی طرف ہی آ رہا تھا اسے دیکھ کر میں اوٹ سے باہر نکل آیا وہ مجھے دیکھتے ہی چلاتے ہوئے بولا۔۔۔کمال بھائی وہ وہ وڈے چوہدری اور اس کے گماشتے آپ کے گھر میں گھس گئے ہیں اور توڑ پھوڑ کرتے ہوئے سب کو مار رہے ہیں۔۔۔پھر روتے ہوئے بولا ان کو روکنے کیلئے نوشاد بھائی آگے گیا لیکن انہوں نے نوشاد بھائی کو مار ڈالا۔
ٹونی کی بات سن کر میری آنکھوں کے آگے جیسے سرخ چادر سی تن گئی۔
مجھے نہیں یاد کہ میں کیسے وہاں سے بھاگتے ہوئے نکلا اور کہاں کہاں ٹھوکریں کھاتا ہوا گاؤں کی آبادی تک پہنچا۔۔۔راستے میں دو تین جگہ میں نے ٹھوکر کھائی اور زمین پر لڑھکنیاں کھاتے ہوئے گرا۔۔لیکن جیسے ہی میری آنکھوں کے سامنے گھر والوں کے چہرے آتے میں پھر سے اٹھ کر بھاگ پڑتا۔۔۔یوں ہی گرتے پڑتے پندرہ منٹ میں آبادی میں پہنچ گیا۔۔۔دور سے ہی مجھے اپنے گھر کی طرف سے آگ کی لپٹیں اٹھتی دکھائی دیں۔
میں بھاگتے ہوئے گھر کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ میرا پورا گھر آگ میں جل رہا تھا اور وڈے چوہدری کے دو بیٹے ہاشم اور کامران اپنے تین چار گماشتوں کے ساتھ جیپ میں بیٹھ کر تیزی سے نکل رہے تھے۔۔۔میں نے بھاگتے بھاگتے ریوالور نکالا لیکن اس سے پہلے کہ میں گولی چلاتا وہ میری رینج سے دور نکل گئے۔۔۔انہوں نے مجھے آتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ورنہ وہ مجھ سے وہیں ٹکرا جاتے۔
جیسے ہی میں گھر کے دروازے پر پہنچا اور اندر جانے کی کوشش کی۔۔۔تبھی ایک سائیڈ سے چھیمو کی ماں اور نوشاد کی ماں نکلیں اور انہوں نے مجھے اپنے بازوؤں میں کس لیا۔۔۔نہیں نہیں پتر!!!ہم تمہیں اندر نہیں جانے دیں گے۔۔۔میں نے سرخ انگارہ آنکھوں سے انہیں دیکھا اور زور لگا کر ایک جھٹکے سے اپنا آپ چھڑوایا اور بھاگتے ہوئے اندر داخل ہو گیا۔۔۔ویسے تو سارے گھر کو آگ لگی ہوئی تھی لیکن امی اور بینا کا کمرہ بری طرح جل رہا تھا۔
میں نے ادھر ادھر دیکھا تو مجھے ایک کمبل نظر آیا جو کہ امی نے کل سے دھو کر دیوار پر خشک ہونے کیلئے ڈالا ہوا تھا۔۔۔میں نے پھرتی سے اپنے اوپر لپیٹا۔۔۔خاص طور پر اپنے سر چہرے اور گردن کو چھپایا اور ایک چھلانگ مار کر آگ میں سے ہوتا ہوا کمرے کے دروازے پر جا پڑا۔۔۔دروازہ پہلے ہی کافی جل چکا تھا۔۔۔میرا بوجھ برداشت نہ کر پایا اور ایک چرچراہٹ کے ساتھ ٹوٹ کر اندر گرتا چلا گیا۔۔۔اندر جاتے ہی میں نے کمبل اتار کر ادھر ادھر دیکھا تو مجھے ابو،اور بینا دونوں نظر آ گئے۔
ابو کا جسم تو بری طرح سے جل رہا تھا۔۔۔بینا کا جسم بھی جل چکا تھا۔۔۔یوں لگتا تھا کہ جیسے ان دونوں کے اوپر باقاعدہ پٹرول ڈال کر آگ لگائی گئی ہو۔۔۔وہ دونوں اپنی سانسیں پوری کر چکے تھے۔۔۔میں نے روتی انگارہ آنکھوں سے امی کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو امی کو کہیں نہ پا کر زور سے چیخا۔

امی جان،امی جان۔

میں جتنی شدت سے چیخا تھا اتنی شدت سے دھواں میرے پھیپھڑوں تک پہنچ گیا اور میں بری طرح سے کھانستا ہوا لڑکھڑا کر جلتے ہوئے دروازے پر گرا۔۔۔آگ کی لپٹیں میرے چہرے پر لگیں۔۔۔تکلیف سے میری چیخیں نکل گئیں۔۔۔میرے چہرے پر یوں جلن ہو رہی تھی جیسے کھلے زخموں پر مرچیں ڈال دی گئی ہوں۔۔۔میں خود کو سنبھالتے ہوئے کمرے سے چھلانگ مار کر باہر نکلا۔۔۔باہر آتے ہی کھانستے کھانستے میں حلق کی پوری شدت سے چلایا۔امییییی،تبھی اچانک مجھے جیسے ایک کمزور سی آواز سنائی دی۔
میں نے سر گھما کر دیکھا تو مجھے اپنے کمرے کی طرف سے دوبارہ آواز سنائی دی۔۔۔میں واضح طور پر امی کی آواز پہچان گیا۔۔۔میں اپنے کمرے کی طرف بھاگا تو امی راستے میں ہی دیوار کی اوٹ میں زمین پر پڑی دکھائی دیں۔۔۔میں وہیں ان کے پاس دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔ان کا پورا جسم بھی بری طرح سے جلا ہوا تھا۔۔۔پتہ نہیں کیسے وہ گھسٹتے ہوئے وہاں سے یہاں تک پہنچی تھیں۔۔۔شاید مجھے ہی ڈھونڈتے ہوئے ادھر گئی ہوں گی۔۔۔امی کی حالت بہت خراب تھی ان کا سانس بھی رک رک کر آ رہا تھا۔

میں نے احتیاط سے ان کا سر اپنے زانو پر رکھا اور روتے ہوئے بولا امی یہ کیا ہو گیا۔۔۔تو امی نے جیسے کچھ کہنے کی کوشش کی۔۔۔میں نے فوراً سر جھکا کر اپنے کان ان کے لبوں کے پاس کیے تو امی کی مدھم سی آواز سنائی دی۔۔۔کمال پتر!!!وڈے چوہدری کے سب لوگوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے بینا کی بے حرمتی کی۔۔۔اس کی عز۔ز۔ز۔عزت لو۔و۔ٹ لی۔۔۔اتنا کہتے ہی امی کو ہچکی آئی اور وہ ہچکی ان کی سانس کی ڈور کاٹ گئی۔
میرا سینہ غم اور غصے سے لبریز ہو گیا۔۔۔پھر تکلیف اور غم دونوں کی شدت برداشت نہ کر پایا اور وہیں بے ہوش ہو کر امی کے ساتھ ہی گرتا چلا گیا۔

پتہ نہیں کب تک میں بیہوش پڑا رہا۔

                     ************************

      (38)

جب آنکھ کھلی تو خود کو ایک بیڈ پر موجود پایا۔۔۔میرے چہرے پر چاروں طرف پٹیاں لپٹی ہوئی تھیں۔۔۔جسم پر بھی جا بجا پٹیاں چڑھی ہوئی تھیں۔۔۔میں نے سر گھما کر دیکھا تو کوئی انجان سا کمرہ تھا لیکن سارے آلات بلکل کسی ہسپتال کی طرح لگتے تھے۔۔۔
بیڈ کے ساتھ لگا ہوا اسٹینڈ اور اس پر لٹکتی ہوئی بوتل اور کمرے کے اندر موجود سفید چادریں اس امر کا واضح اشارہ تھیں کہ میں کسی ہسپتال کے بیڈ پر ہی پڑا ہوا ہوں۔۔۔پر مجھے یہاں لیکر کون آیا۔۔۔ابھی اسی شش و پنج میں مبتلا تھا کہ دروازہ کھلا اور ایک نہایت خوبصورت لڑکی نرس کے لباس میں اندر داخل ہوئی۔۔۔مجھے ہوش میں دیکھ کر بولی اوہ تو آپ کو ہوش آ گیا میں ابھی ڈاکٹر کو بلاتی ہوں۔
میں نے کمزور سی آواز میں اسے پکارا۔۔۔رکو:میری بات سنو تو وہ پلٹ کر میری طرف آئی اور بولی:ہاں کہو تو میں نے پوچھا کہ میں کہاں ہوں؟اور مجھے یہاں کون لایا ہے؟تو اس نے جواب دیا کہ آپ اس ٹائم لاہور کے ایک پرائیویٹ کلینک میں ہیں اور میں نہیں جانتی کہ آپ کو کون لایا ہے۔۔۔مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ آپ آج پورے چار دن بعد ہوش میں آئے ہیں۔۔۔اب ذیادہ باتیں مت کریں بولنا آپ کیلئے نقصان دہ ہے۔۔۔اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔

امی ابو اور بینا کو یاد کر کے میری آنکھیں بھر آئیں۔۔۔چند منٹ بعد ایک ڈاکٹر اور دو نرسیں کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔ڈاکٹر نے اچھی طرح میرا چیک اپ کیا اور مجھ سے چند باتیں کر کے میری ذہنی حالت چیک کرنے کے بعد واپس جانے لگا تو میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ ڈاکٹر مجھے یہاں کون لے کر آیا ہے تو ڈاکٹر نے بتایا کہ مجھے بیہوشی کی حالت میں ٹونی نام کا ایک جوان لایا تھا۔

ابھی وہ باہر ہی ہے میں اس کو بھیج دیتا ہوں لیکن دوست ذیادہ باتیں مت کرنا۔۔۔تمہیں ابھی ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔۔میرے اثبات میں سر ہلانے پر ڈاکٹر نرسوں سمیت باہر چلا گیا۔۔۔صرف دو منٹ بعد ہی ٹونی اندر آ گیا۔۔۔مجھے دیکھتے ہی وہ میرے پاس بیٹھ کر بولا کمال بھائی اب کیسی طبیعت ہے۔۔۔میں نے کہا ٹونی یہ سب باتیں چھوڑو مجھے یہ بتاؤ کہ تم مجھے یہاں کیسے لے کر آئے اور وہاں کیا کیا ہوا۔۔۔ٹونی نے بتانا شروع کیا:بھائی اس دن رات کو نوشاد بھائی گھر آیا تو اس نے آتے ہی امی سے دو آدمیوں کا کھانا بنانے کو کہا۔۔۔شاید وہ کھانا اپنے اور آپ کیلئے ہی بنوا رہا تھا۔۔۔اسی وقت گھر کے باہر کچھ لوگوں کی موجودگی اور کھٹ پٹ کی آواز سن کر نوشاد بھائی بھاگتے ہوئے گھر سے باہر نکلا۔

(نوشاد میرا ہمسایہ تھا اور اس کا گھر میرے گھر کی داہنی سائیڈ پر تھا۔)

باہر وڈے چوہدری کے دو بیٹے اور اس کے چند آدمی دیوار پھاند کر آپ کے گھر میں گھس رہے تھے۔۔۔جتنی دیر تک نوشاد بھائی وہاں پہنچا انہوں نے گھر میں گھس کر دروازہ اندر سے بند کر لیا۔۔۔ان لوگوں کے پاس اسلحہ اور بڑے بڑے چاقو تھے۔

نوشاد بھائی گھر کا دروازہ بند دیکھتے ہی اپنی سائیڈ سے دیوار پھلانگ کر آپ کے گھر میں کودا۔۔۔جیسے ہی اس کے پاؤں اندر لگے انہوں نے نوشاد پر حملہ کر دیا۔۔۔ان کتوں نے چاقو کے ساتھ نوشاد کی آنتیں ادھیڑ ڈالیں اور اسے مردہ سمجھ کر دیوار کے اوپر سے واپس پھینک دیا۔۔۔میں بھاگ کر نوشاد کے پاس گیا تو اس نے اٹکتے ہوئے آخری سانسوں میں بس چند الفاظ کہے۔۔۔باؤ کمال ڈیرے پر ہے۔
اتنا کہہ کر اس کی گردن ڈھلک گئی۔۔۔میں وہاں سے بھاگتا ہوا نکلا اور آپ کے پاس پہنچ گیا۔۔۔باقی کی کاروائی آپ کو معلوم ہے۔۔۔جب میں بھاگتا ہوا واپس پہنچا تو لوگ آپ کے گھر والوں کو گھر سے باہر نکال کر چارپائیوں پر ڈال رہے تھے۔۔۔نوشاد،چاچا، اور بینا کی لاشیں دیکھ کر میری اپنی حالت خراب تھی۔
میں احتیاطاً اندر جھانکنے چلا گیا دیوار کی اوٹ سے جیسے ہی میں آگے بڑھا میں نے آپ کو اور چاچی کو اس حالت میں دیکھا۔۔۔چاچی کی سانسیں پوری ہو چکی تھیں۔ پھر پتہ چلا کہ آپ زندہ ہیں تو میں چھیمو کی مدد سے آپ کو دیوار سے گزار کر چھیمو کے گھر لے گیا۔۔۔اس کے سارے گھر والے اس وقت باہر تھے۔۔۔پھر میں نے سوچا کہ چاچی کو کوئی نہ کوئی تو ڈھونڈ ہی لے گا۔۔۔اس لیے میں آپ کو فوراً آپ کی ہی گاڑی جو کے احاطے میں کھڑی تھی ڈال کر ڈسپنسری لے گیا۔۔۔وہاں سے ڈاکٹر امتیاز کو ساتھ بٹھایا اور ہم لوگ آپ کو سیدھا یہاں لے آئے۔۔۔آپ کی حالت بہت خراب تھی اس لیے آپ کو علاج کے دوران مسلسل بیہوش رکھا گیا۔
اب ڈاکٹر امتیاز سے ڈسپنسری کے نمبر پر رابطہ کرتا رہا ہوں میں اور وہاں کے حالات معلوم کرتا رہا ہوں۔۔۔میں نے نم آنکھوں کے ساتھ پوچھا کہ ٹونی میرے امی ابو،بینا اور نوشاد۔۔۔اتنا کہہ کر میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے بوجھل لہجے میں بتایا:بھائی ان کو اسی دن گاؤں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا تھا۔
چاہے میرا دکھ بڑا تھا لیکن بھائی تو اس کا بھی مرا تھا۔۔۔میں نے اپنی آنکھیں موند لیں اور آنکھوں کے آنسو پینے کی کوشش کرنے لگا۔

               *************************

      (39)

اگلے بیس بائیس روز تک اسی کلینک میں رہا۔۔۔ٹونی نے دن رات میرا خیال رکھا۔۔۔اب میری جلن ختم ہو چکی تھی لیکن زخموں پر کھرنڈ ابھی باقی تھا۔۔۔ان دنوں میں ڈاکٹر امتیاز کی وساطت سے صرف اتنا پتہ چلا کہ سیالوں کے خیال میں وہ مجھے مار چکے تھے۔
وہ نوشاد کو ہی کمال سمجھ بیٹھے تھے۔۔۔میرے بارے میں صرف ڈاکٹر امتیاز کے علاوہ ٹونی،چھیمو اور ان دونوں کی مائیں جانتی تھیں۔۔۔مگر انہوں نے اس بات کا کسی سے بھی ذکر نہیں کیا۔۔ویسے گاؤں میں پولیس گئی تھی اور اس سارے کیس کو ڈاکوؤں کی کارستانی کہہ کر معاملہ نِبٹا دیا تھا۔۔۔گاؤں والے سب جانتے تھے لیکن سیالوں کے ڈر سے کسی نے اپنا منہ نہیں کھولا۔۔۔حتٰی کہ چوہدری رحمت علی کڑیال نے بھی اس معاملے میں ذیادہ سرگرمی نہیں دکھائی۔پتہ نہیں کیوں! حالانکہ وہ ابو جان کے ساتھ کافی دفعہ مل چکا تھا لیکن پھر بھی اس نے کوئی خاص سرگرمی نہیں دکھائی۔۔۔پولیس بعد میں بھی ایک دو بار وہاں گئی۔۔۔پھر کیس داخل دفتر کر دیا۔۔۔میں دل ہی دل میں قسم کھا چکا تھا کہ میری دنیا تو لٹ ہی گئی۔۔۔پر اب سیالوں کے خاندان کے کسی ایک فرد کو بھی زندہ نہیں چھوڑنا۔

چاہے مرد ہو یا عورت سب کو اذیت ناک موت ماروں گا۔۔۔میری بینا کا کیا قصور تھا۔۔۔ہر وقت ماں کی کہی ہوئی آخری بات یاد آتی کہ انہوں نے والدین کے سامنے بینا کی عزت لوٹ لی۔

کافی دن اسی اذیت کے ساتھ گزار دیے پھر ایک دن جب مجھ سے برداشت نہیں ہوا تو رات کے وقت میں چھپتے چھپاتے کلینک سے نکل آیا۔۔۔اس وقت ٹونی گاؤں گیا ہوا تھا اس نے صبح واپس آنا تھا۔۔۔آتے وقت میں نے کلینک کے ہی ایک مریض کا مفلر اٹھا کر اچھی طرح چہرے پر لپیٹا اور باہر نکل گیا۔۔۔میری جیبوں میں ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔۔۔یہ لاہور کا ہی ایک پوش علاقہ تھا۔۔۔میں عام راستوں سے ہٹ کر چلتا ہوا رائے ونڈ روڈ کی طرف جانے لگا۔
راستے میں ایک ٹریکٹر ٹرالی والے سے لفٹ لی جو کہ اینٹیں لیکر پتوکی جا رہا تھا۔۔۔مطلب وہ میرے گاؤں کے باہر والے روڈ سے گزرتا۔۔۔ایک گھنٹے بعد میں اپنے گاؤں والے سٹاپ پر اتر گیا اور سست روی سے چلتا ہوا گاؤں کے اندر جانے والی سڑک پر چل پڑا۔۔۔میں نے ذہن میں یہ سوچا ہوا تھا کہ اگر کسی کو سڑک پہ آتے دیکھوں گا تو راستے سے ہٹ کر کھیتوں میں چھپ جاؤں گا۔
لیکن اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔۔۔کیونکہ رات اندھیری ہو چکی تھی اس لیے سارا گاؤں سو رہا تھا۔۔۔میں چلتے چلتے گاؤں کی سائیڈ سے ہوتا ہوا سیدھا اپنے ڈیرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ڈیرے پر پہنچ کر میں سیدھا نہر کے ساتھ والے کیکر کے درختوں کی طرف گیا جہاں میں نے ہیرے اور گن چھپائی تھی۔۔۔ڈیرے کے کمرے سے میں نے بیلچہ اٹھایا اور مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر آہستہ آہستہ زمین کھودنے لگا۔

کھدائی کے درمیان لگنے والے جھٹکوں سے میرے چہرے پر ایک دفعہ پھر سے جلن ہونا شروع ہو گئی۔۔۔لیکن میں ہمت سے لگا رہا۔۔۔پھر تھوڑی سی محنت کے بعد میں گڑھے سے وہ شاپر نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔گن نکالنے کے بعد میں نے اچھی طرح سے اسے چیک کیا۔۔۔گولیاں بھرنے کے بعد ایک بے آواز فائر بھی کر کے دیکھا۔
لیوگر پوری طرح ورکنگ آرڈر میں تھا۔۔۔ہیروں کی تھیلی میں نے واپس گڑھے میں ڈالی اور گڑھا پر کرنے کے بعد تیز تیز قدموں سے وڈی حویلی جانب چل پڑا۔۔۔میں نہیں جانتا تھا کہ حویلی میں کتنے لوگ ہیں۔۔۔اسلحہ تو ظاہر ہے ان کے پاس خوب ہو گا۔۔۔لیکن مجھے اپنے گھر والوں کی موت اور بینا کی بے حرمتی کا بدلہ لینا تھا۔۔۔اس لیے بلا تھکان اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے حویلی کی طرف قدم اٹھاتا گیا۔
میں اپنے سلگتے ہوئے دماغ کے زیرِ اثر ہاتھ میں لیوگر لیے مرنے یا مار دینے کا عہد دل میں لیے حویلی کی طرف قدم بڑھاتا جا رہا تھا کہ تبھی ایک موڑ کراس کرتے ہی میرے بائیں پہلو کماد کی فصل سے ایک سایہ برآمد ہوا اور مجھے لیتے ہوئے کھیت میں جا پڑا۔
میں گرتے ہوئے یکدم پلٹا اور لیوگر والا ہاتھ اوپر اٹھایا ہی تھا کہ اپنے سامنے نادر کو دیکھ کر ششدد رہ گیا۔۔۔نادرے کو دیکھتے ہی میرے آنسو بہہ نکلے اور میں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔۔۔سچ کہتے ہیں جب بھری دنیا میں آپ خود کو اکیلا محسوس کر رہے ہوں اور ایسے میں کوئی اپنا مہربان مل جائے تو یوں لگتا ہے کہ انسان تیز کڑک دھوپ سے ایک دم مہکتے ہوئے گلزار کے سائے میں آ گیا ہو۔
روتے روتے میری ہچکی بندھ گئی اور میں ٹوٹے ہوئے الفاظ میں نادر کو سب بتانے کی کوشش کرنے لگا تو نادر نے میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
ناں سجن ناں مرد دیاں اکھاں اچوں اتھرو نئیں وگنے چائیدے۔۔۔میں سب جان گیا آں۔۔۔تیرے اتے کی مصیبت آئی کی کی ہویا۔۔۔کنے کیتا،مینوں سب پتہ لگ گیا۔۔۔پر کمالے:ہجے اور ویلا نئیں آیا کہ اسی اوناں نال ٹکر لئیے۔۔۔مناسب وقت دا انتظار کر۔۔۔تے اونی دیر تک اپنی کھوئی ہوئی طاقت بحال کر۔۔۔ویکھ میرے سوہنے ویر توں اپنا کی حال کیتا ہویا اے۔۔۔میں نے آنسو صاف کرتے ہوئے خود کو نادر سے الگ کیا اور بولا نہیں نادرے آج مجھے مت روک۔
میں تو اپنے پیاروں کو تو دفنا نہیں سکا پر قسم کھاتا ہوں کہ ان کنجری کے بچوں کو بھی دفن ہونے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔۔۔نادر نے سختی سے میرا بازو پکڑ کر لیوگر چھینتے ہوئے کہا۔۔۔کمالے کی ہو گیا۔۔۔کی گل تینوں اپنے نادر تے یقین نئیں۔۔۔میرا ویر میں ہر طرح تیرے نال آں۔۔۔موت وی آؤ گی تے تیرے توں پہلے میں اونوں ٹکراں گا پر میری گل من جا۔۔۔ہجے او وقت نئیں آیا۔
چل ایتھوں کسے مناسب جگہ تے بیٹھ کے ساری گل تینوں سمجھاندا واں۔۔۔نادر کے مجبور کرنے پر میں اس کے ساتھ واپس چل پڑا۔۔۔کچھ دیر بعد ہی ہم لوگ ڈیرے پر بیٹھے ہوئے تھے۔
نادر نے چارپائی پر بیٹھتے ہی مجھے بتانا شروع کیا۔۔۔کمالے مجھے تین دن پہلے یہ ساری خبریں ملیں تو میں تبھی کراچی سے واپسی کیلئے چل پڑا۔۔۔یہاں پہنچ کر سارے حالات معلوم کیے۔۔۔پتہ چلا کہ سیال اپنی سمجھ میں تجھے مار چکے ہیں۔۔۔پر ایہہ تقدیر دا ہیر پھیر اے۔۔۔توں بچ گیا۔۔۔مینوں امتیاز کولوں ہی پتہ لگیا کہ ٹونی اور امتیاز تینوں لاہور اک پرائیویٹ کلینک تے رکھ کے تیرا علاج کروا رئے نیں۔۔۔میں سیالاں دی کھوج اچ لگ گیا۔
کافی کچھ معلوم کیتا تے اوناں خبراں دے مطابق ہن اسی فلحال اوناں تے حملہ نئیں کر سکدے۔۔۔وڈے چوہدری نے سکیورٹی فل ٹیٹ کر چھڈی اے۔۔۔میں ہن گھر بیٹھا روٹی کھا ریا سی کہ مینوں امتیاز دا پیغام ملیا کہ بہت ضروری کم اے۔۔۔میں فٹافٹ ہر شے چھڈ کے اونوں ملیا تے اونے دسیا کہ کمال کلینک توں پج گیا اے۔۔۔میں فوری سمجھ گیا کہ توں کتھے جاویں گا۔۔۔اس لئی میں پچھلے دو گھنٹے توں اوتھے کماد کولے تیرا انتظار کر ریا سی۔
ہن میری گل دھیان نال سن۔۔۔فلحال سانوں موقع توں ہٹ جانا چاہیدا تے اپنی طاقت بڑھانی چائیدی۔۔۔ہجے تیرا علاج وی تے باقی ریندا ناں۔۔۔اس سارے کم واسطے سانوں ایتھوں جانا پینا۔۔۔توں اپنا علاج پوری توجہ نال کرواویں تے میں اپنی طاقت بڑھاواں گا۔۔۔فیر موقع محل ویکھ کے سیالاں دی ٹِگنی ٹیٹ کر دیواں گے۔۔۔میں نے بہت ضد کی لیکن نادر آخر نادر تھا اور بلا آخر مجھے اس کے خلوص کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔

               ************************

      (40)

اس رات میں نے چھپ کر شمسہ کی لاعلمی میں نادر کے گھر میں پناہ لی۔۔۔اگلے دن نادر مجھے گھر میں رہنے کا کہہ کر باہر جانے لگا تو میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ شمسہ کو چند مہینے کیلئے کراچی میں نوکری کا عذر کر کے اس کے گاؤں چھوڑنے جا رہا ہے۔۔۔کیونکہ اپنی واپسی کا تو پتہ نہیں کب آئیں گے اس لیے اگر اسے اکیلی کو چھوڑ گئے تو بعد میں پریشانی ہوتی رہے گی۔

جانے سے پہلے میں نے نادر کو نہر والے کیکر کے نیچے موجود ہیروں کی تھیلی بارے بتایا تو میری بات سن کر نادر بولا چل کوئی گل ناں اودا وی کچھ کرنے آں۔۔۔ تو فکر نا کر بس گھروں باہر مت نکلیں۔۔۔میرے وعدہ کرنے پر نادر شمسہ کو لیکر چلا گیا اور شام ڈھلے واپس آ گیا۔۔۔آتے ہی اس نے ہیروں کی تھیلی میرے حوالے کی اور کہا فلحال اپنے پاس رکھو پھر سوچتے ہیں۔
شام کے وقت نادر نے ڈاکٹر امتیاز اور ٹونی کو گھر بلایا اور ان کو ساری بات سمجھا کر کہا کہ تم لوگ اپنی آنکھیں کھلی رکھنا۔۔۔ہم لوگ یہاں سے جا رہے ہیں لیکن کہاں جائیں گے یہ نہیں بتا سکتا۔حالات کے مطابق دیکھا جائے گا۔۔۔سچ پوچھو تو میں بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔اور نہ ہی میں نے نادر سے کچھ پوچھا کیونکہ جتنا وہ میرے لیے کر رہا تھا مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اس سے اس بارے میں کچھ استفسار کروں۔
جاتے جاتے میں ڈاکٹر امتیاز اور ٹونی سے گلے ملا اور رندھے ہوئے لہجے میں ان کا شکریہ ادا کیا کہ ان دونوں نے دوستی اور لحاظ داری کا صحیح رشتہ نبھایا۔۔۔اس کے بعد میں اور نادر رات کے وقت وہاں سے چل پڑے۔
گھر سے نکلنے سے پہلے نادر نے جمیل کی چند تصاویر اپنی جیب میں رکھیں اور میں چاہتے ہوئے بھی اس سے اس بارے میں پوچھ نہیں سکا۔۔۔گاؤں سے نکلنے کیلئے ہم لوگوں نے رات کا وقت اس لیے منتخب کیا تھا تا کہ کسی کی نظروں میں آئے بغیر وہاں سے نکل سکیں۔۔۔کیونکہ میرا جلا ہوا چہرہ کسی کو بھی شک میں ڈال سکتا تھا۔
گاؤں سے نکلتے وقت میں نے مفلر چہرے پر اچھی طرح لپیٹ لیا۔۔۔گاؤں سے نکل کر ہم لوگ سیدھا لاہور پہنچے اور رات کی ٹرین سے کراچی نکل گئے۔
نادر کے مطابق ہمیں ہمارے پروگرام کے مطابق کراچی میں ہی رہنا چاہیے۔

اس کی چند وجوہات تھیں۔

وجہ نمبر1:کراچی کی اندر گراؤنڈ سرگرمیوں کے بارے میں نادر اچھی طرح جانتا تھا۔۔۔وہاں سے ہمیں اپنے مطلب کے لوگ مل سکتے تھے۔۔۔ایسے لوگ جنہیں ہم اپنے جانثاروں کی فہرست میں شامل کر لیتے اور ان پر سیالوں کا اثرورسوخ اثر انداز نہ ہوتا۔

وجہ نمبر 2:میرے جلے ہوئے چہرے کا علاج لاہور کی نسبت کراچی میں ذیادہ بہتر طریقے سے ہو سکتا تھا۔

وجہ نمبر 3:ہم ہیروں کو کراچی میں ہی ٹھکانے لگا سکتے تھے۔۔۔کیونکہ لاہور میں وڈے چوہدری کی رسائی کہاں تک ہے اس کا ہمیں کوئی اندازہ نہیں تھا۔

                 ************************

      (41)

کراچی پہنچنے کے بعد ہم نے نادر کے ایک پٹھان دوست جس کا نام نایاب خان تھا کے گھر رات گزاری۔۔۔وہ روایتی پٹھانوں کی طرح حد سے زیادہ مہمان نواز ثابت ہوا۔۔۔بے چارہ محنت کش آدمی تھا رکشہ چلا کر اپنی روزی کماتا تھا۔۔۔نایاب لالو کھیت میں رہتا تھا جبکہ اس کی فیملی  صوبہ سرحد کے قریب کسی گاؤں میں رہتی تھی۔
اگلے دن صبح مجھے گھر میں ہی رہنے کی تائید کر کے نادر نایاب خان کے ساتھ گھر سے نکل گیا۔۔۔ان کی واپسی چار گھنٹوں بعد ہوئی۔۔۔آتے ہی نادر مجھے گلے لگاتے ہوئے بولا:کمالے میری جان تو بہت خوش نصیب ایں۔۔۔میں صبح دا کوئی چنگا ڈاکٹر لبھ ریا سی۔۔۔آخر ایک پرائیویٹ ڈاکٹر دا پتہ لگ گیا اے۔۔۔بہت قابل سرجن اے۔۔۔کل صبح اونوں جا کے ملاں گے۔

اگلی صبح ناشتہ کرنے کے بعد قریباً دس بجے ہم لوگ ڈیفنس کے پوش ایریا میں ایک کوٹھی میں موجود تھے۔۔۔کوٹھی کے باہر کسی سرجن ڈاکٹر کرنل رحمان کی نیم پلیٹ لگی ہوئی تھی۔۔۔یہ کوٹھی کہیں سے بھی کلینک نہیں لگتی تھی لیکن میں یہ سوچ کر چپ رہا کہ نادر کچھ سوچ سمجھ کر ہی یہاں تک پہنچا ہو گا۔
کچھ دیر بعد ہی ہم دونوں ڈاکٹر کے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔ڈاکٹر درمیانے قد لیکن بھاری تن توش کا مالک تھا ڈاکٹر نے مجھے دیکھا تو مجھے ساتھ لیکر اندر ایک کمرے میں چلا آیا۔۔۔یہ کمرہ بلکل کلینک کی طرز پر تیار کیا گیا تھا۔۔۔ایک چھوٹا سا آپریشن ٹیبل اور ایک لانگ چئیر کے ساتھ ساتھ سرجری کے کافی آلات وہاں موجود تھے۔
ڈاکٹر نے مجھے لٹا کر محدب عدسے سے میرا تفصیلاً معائنہ کیا۔۔۔تھوڑی دیر بعد ہم لوگ واپس سٹِنگ روم میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
ڈاکٹر نے بولنا شروع کیا:مسٹر نادر میں نے کبھی بھی غیر قانونی کام میں ہاتھ نہیں ڈالا لیکن تمہارے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے اور لالہ نایاب خان کی سفارش اور یقین دہانی پر یقین کرتے ہوئے کہ یہ کوئی غیر قانونی کام نہیں میں تمہارے دوست کا علاج کروں گا۔۔۔لالہ کا مجھ پر ایک ایسا احسان ہے کہ جس کی وجہ سے میں اسے کبھی بھی انکار نہیں کر سکتا۔
بہرحال ہم موضوع سے نکل رہے ہیں۔۔۔پھر وہ ڈائریکٹ مجھ سے مخاطب ہو کر بولا کہ تمہارا کیا نام ہے؟میں نے اپنا نام بتایا تو وہ بولا:مسٹر کمال میں تمہارا علاج کرنے پر تیار ہوں۔۔۔لیکن اس کیلئے میری چند شرائط ہوں گی۔

نمبر 1:جب تک تم میرے زیرِ علاج رہو گے کوئی تمہیں یہاں ملنے نہیں آئے گا۔

نمبر 2:ٹھیک ہونے کے بعد میں تمہارا سارا ریکارڈ ضائع کر دوں گا۔۔۔یہ صرف ایک احتیاطی تدبیر ہے۔

نمبر 3:تمہیں علاج کی ساری رقم چار لاکھ روپے ایڈوانس جمع کروانی ہو گی۔

ڈاکٹر کے منہ سے چار لاکھ سن کر میں تھوڑا پریشان ہوا لیکن نادر اسی وقت بولا۔۔۔ڈاکٹر صاحب تسی بے فکر رہو سانوں تواڈیاں شرطاں منظور نیں۔۔۔تسی صرف اینا دسو کہ کب سے علاج کرنا شروع کریں گے۔
نادر کی بات سن کر ڈاکٹر بولا:اگر تم آج ہی پیسے جمع کروا دیتے ہو تو میں کل صبح ہی سارے انتظامات مکمل کرنے کے بعد کل شام سے ہی کام شروع کر دوں گا۔۔۔اور دو ہفتے بعد تم اپنے دوست کو ٹھیک چہرے کے ساتھ لیجا سکتے ہو۔

میں نے زبان کھولتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھا۔۔۔ڈاکٹر میرا سارا چہرہ برباد ہو چکا ہے کیا یہ بلکل پہلے کی طرح ٹھیک ہو جائے گا؟تو ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ دوست فکر مت کرو یہ تو کچھ بھی نہیں میں اس سے بھی ذیادہ بگڑے ہوئے چہرے ٹھیک کر چکا ہوں۔۔۔بس تم گھر جاؤ اور خود کو ذہنی طور پر سرجری کیلیئے تیار کر لو۔
ڈاکٹر کے ساتھ سارے معاملات طے کرنے اور اس کا شکریہ ادا کرنے کے بعد ہم لوگ وہاں سے نکلے اور ٹیکسی میں بیٹھ کر نایاب خان کے گھر پہنچ گئے۔۔۔تنہائی میسر آتے ہی میں نے پہلا سوال نادر کی طرف داغ دیا۔۔۔نادر مجھے ایک بات تو بتاؤ یار!!!ہمارے پاس تو بلکل بھی پیسے نہیں چار لاکھ کہاں سے دو گے؟
نادر مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔اوئے کمالے میرے یار توں وی جھلا ای ایں۔۔۔خزانہ جیب اچ پائی پھرنا ایں اور مینوں پچھنا ایں کہ پیسے کتھوں آون گے۔۔۔لیا کڈ او ہیرے اوناں نوں وی ٹھکانے لائیے۔۔۔قصہ مختصر اسی دن نادر نے وہ ہیرے ٹھکانے لگا دیے۔۔۔ہیروں کی قیمت ہماری توقع سے بھی ذیادہ موصول ہو گئی۔

                    ************************
    
   (42)

میں سمجھا تھا کہ چند لاکھ روپے کے ہوں گے۔۔۔لیکن جب نادر نے ایک چیک بک اور رسید میرے سامنے رکھی تو رسید پر لکھی ہوئی رقم پڑھ کر میری سٹی گم ہو گئی۔۔۔چار کروڑ اکہتر لاکھ روپے کی خطیر رقم نادر اپنے نام سے اکاؤنٹ کھول کر بینک میں جمع کروا آیا تھا۔
جبکہ سات لاکھ ایک بریف کیس میں کیش موجود تھا۔۔۔یعنی ٹوٹل ملا کر چار کروڑ اٹھہتر لاکھ میں ہیروں کا سودا ہوا تھا۔۔۔میں نے حیرانگی سے نادر سے پوچھا۔۔۔نادر یہ۔یہ اتنے پیسے؟تو وہ میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا میری جان او ہیرے بہت قیمتی سن۔

وڈے چوہدری دے کم کاج دا خیال رکھدے ہوئے تیرے ویر دے وی کجھ تعلقات بن گئے نیں۔۔۔اس لئی اک بلکل نویں پارٹی نال ہیروں دا سودا کیتا۔۔۔میں ڈائیریکٹ نئیں گیا بلکہ اک درمیانی پارٹی نوں وچ پایا۔۔۔پچیس لاکھ اوناں نیں کمیشن لیا تے اپنا سودا ہو گیا۔
تے مزے دی اک ہور گل دساں۔۔۔اس پارٹی نے ہی مینوں اکاؤنٹ کھلوا کے دتا اے۔۔۔ورنہ تینوں پتہ بینک اچ کھاتہ کھولنا اتنا آسان کم نئیں۔۔۔اکاؤنٹ کھولنے واسطے ایک نام نہاد کمپنی دا بزنس شو کیتا تے باقاعدہ اودے کارڈ وی چھپوائے نیں۔۔۔یہاں ایک بات میں دوستوں کو بتاتا چلوں کہ نادر اچھی طرح اردو بول بھی سکتا تھا اور سمجھ بھی سکتا تھا۔۔۔لیکن چونکہ عادت سے مجبور تھا اس لئے کم از کم میرے ساتھ وہ ہمیشہ پنجابی میں ہی بات کرتا تھا۔
اگلے دن ہم لوگ گھر سے نکلے اور سیدھا ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے۔۔۔ڈاکٹر کو چار لاکھ ادا کرنے کے بعد نادر نے پوچھا!!!ہاں ڈاکٹر صاحب ہم لوگ کب آئیں؟ڈاکٹر نے جواب دیا:دوست تم لوگ آج شام کو ہی آ جاؤ اور یاد رکھنا کہ شرط کے مطابق کمال کے علاج کے دوران کوئی بھی ملاقاتی یہاں نہیں آ سکتا۔۔۔ہاں اگر تمہیں کوئی ضروری بات کرنی ہو تو یہ میرا نمبر رکھ لو اس پر کال کر لینا میں تمہاری بات کروا دوں گا۔۔۔لیکن کال بھی اہم ضرورت کے تحت کرنا۔۔۔یہ کہہ کر ڈاکٹر نے ایک کارڈ نکال کر نادر کی طرف بڑھایا جسے نادر نے پکڑ کر دیکھتے ہوئے جیب میں رکھ لیا۔
اسی شام نادر مجھے ڈاکٹر کی کوٹھی پر چھوڑ کے اپنا خیال رکھنے کا کہہ کر چلا گیا۔۔۔ڈاکٹر مجھے لیکر سیدھا اپنے آپریشن روم میں چلا آیا اور لانگ چئیر پر لٹا کر دو گھنٹے تک میرے چہرے کی مختلف ڈرائنگز بناتا رہا۔۔۔خاموشی سے تنگ آ کر میں نے ڈاکٹر سے باتیں کرنی شروع کر دیں۔
ڈاکٹر صاحب ایک بات تو بتائیں کہ آپ میرے چہرے کا علاج کیسے کریں گے؟ڈاکٹر مسکراتے ہوئے بولا یار پریشان کیوں ہوتے ہو میں ہوں نا سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ویسے تمہاری معلومات کیلئے بتا دیتا ہوں کہ میں تمہاری پلاسٹک سرجری کروں گا اس کیلئے میں نے باہر کے ملک سے سارا سازوسامان منگوا کر رکھا ہوا ہے۔
دو ہفتے میں تمہارا چہرہ ایسے ہو جائے گا کہ تم خود بھی کوئی جلے کا نشان یا داغ وغیرہ ڈھونڈ نہیں پاؤ گے۔۔۔آپریشن کے دوران ذیادہ تر میں تمہیں نیند کی دوائی دے کر رکھوں گا۔۔۔قصہ مختصر اس رات ڈاکٹر نے میرے چہرے کی مختلف اقسام کی ڈرائنگز بنائیں اور فارغ ہونے کے بعد مجھے کوٹھی کے ہی ایک آرام دہ کمرے میں شفٹ کر دیا۔۔۔اگکے دن سے باقاعدہ میرے چہرے کی مرمت شروع ہو گئی۔

چونکہ ساری تفصیل میں پہلے ہی بتا چکا ہوں اس لیے ہم علاج کا دورانیہ تھوڑا فارورڈ کرتے ہوئے آگے چلتے ہیں۔

ان دو ہفتوں میں ڈاکٹر نے مجھے ذیادہ تر نیند کی حالت میں ہی رکھا۔۔۔میرے کھانے پینے کا انتظام ڈاکٹر ہی کرتا تھا۔۔۔جب کھانے کی ضرورت محسوس ہوتی میں بتا دیتا تو تھوڑی دیر بعد ہی ایک ملازمہ آ کر کھانا دے جاتی۔۔۔وقت گزاری کیلئے مختلف اقسام کے اخبارات،ناولز موجود تھے۔۔۔اس کے علاوہ چند عدد فلموں کے کیسٹس اور وی سی آر بھی موجود تھا۔
میں جب نیند سے اکتا جاتا تو فارغ وقت میں یا تو اخبارات پڑھتا رہتا یا پھر فلمیں دیکھتے ہوئے سگریٹ پھونکتا رہتا۔۔۔یہیں سے مجھے سگریٹ کی باقاعدہ لت لگ گئی۔
میرا چہرہ ہر وقت پٹیوں میں ڈھکا رہتا۔۔۔صرف آنکھیں ناک کے دو سوراخ اور کھانے کیلئے منہ کھلا تھا۔۔۔باقی پورے چہرے پر پٹیاں لپٹی رہتی تھیں۔۔۔ان دو ہفتوں میں صرف ایک دفعہ سات دن بعد نادر کا فون آیا۔۔۔میری خیر خیریت معلوم کر کے اس نے رابطہ منقطع کر دیا۔
آج میری ڈاکٹر کے پاس آخری رات تھی کہ صبح میرے چہرے سے پٹیاں اتر جانی تھیں۔۔۔مجھے بے چینی سے صبح کا انتظار تھا۔۔۔وقت کاٹے نہیں کٹتا تھا اس لیے سگریٹ پہ سگریٹ پھونکتا رہا۔۔۔رات بارہ بجے میرے سگریٹ ختم ہو گئے تو میں بے چینی سے پہلو بدلنے لگا۔
میرے سرہانے ایک انٹرکام لگا ہوا تھا جس کے ذریعے میں ضرورت کے تحت ڈاکٹر سے رابطہ کر لیتا تھا۔۔۔میں نے انٹرکام پر کافی دفعہ کال کرنے کی کوشش کی پر شاید کسی فنی خرابی کی وجہ سے انٹرکام نہیں چل رہا تھا۔۔۔میں بیڈ سے اٹھا۔۔۔چپل پہنے اور ڈاکٹر کو ڈھونڈتے ہوئے اپنے کمرے سے باہر چل پڑا۔

                  ************************

      (43)

کمرے سے نکلتے ہی سامنے کوریڈور سے گزر کر جب میں دوسرے کنارے پر پہنچا تو میرے کانوں میں ایسی آواز آئی جیسے کسی لڑکی نے مزے سے سسکاری بھری ہو۔۔۔میں نے دھیان سے کان لگا کر سنا تو مسلسل سسکاریاں سنائی دینے لگیں۔۔۔میں ان آوازوں کا پیچھا کرتے ہوئے ایک کمرے کے دروازے پر پہنچ گیا۔
آوازیں اسی کمرے سے آ رہی تھیں۔۔۔دروازہ کھلا پا کر میں نے احتیاط سے اندر جھانکا تو میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔۔۔کمرے میں ڈاکٹر کے ساتھ ایک نوخیز لڑکی موجود تھی دونوں مادرذاد ننگے تھے۔۔۔لڑکی سیدھی لیٹی ہوئی تھی اور ڈاکٹر اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے اپنا لن اس کی پھدی میں ڈالے زور زور سے جھٹکے مار رہا تھا۔
مجھے لگتا تھا کہ ڈاکٹر چھوٹنے کے قریب ہے کیونکہ ڈاکٹر کے جھٹکوں میں بے قراری پائی جاتی تھی۔

مجھے دو مہینے سے ذیادہ عرصہ گزر گیا تھا کہ میں نے اپنا پانی نہیں نکالا تھا یہ صورتحال دیکھتے ہی میرا لن پوری طرح سے اکڑ گیا اور میری شلوار میں تنبو بن گیا۔۔۔میں نے ہاتھ سے اپنا لن سہلانا شروع کر دیا۔۔۔چند جھٹکوں کے بعد ڈاکٹر نے اپنا درمیانے سائز کا لن باہر نکالا اور لڑکی کے پیٹ کی طرف کر کے تیزی سے مٹھ مارتے ہوئے اس کے پیٹ پر ہی ساری منی نکال دی اور خود اس لڑکی کے اوپر ڈھیر ہو گیا۔۔۔میں وہیں کھڑا ہوا دیکھ رہا تھا کہ تبھی اچانک۔

اچانک اس لڑکی نے منہ موڑ کر دروازے کی طرف دیکھا تو مجھے وہاں کھڑے دیکھ کر پہلے تو حیرت سے اس کا منہ کھلا رہ گیا۔۔۔پھر اس نے اپنے آپ پر کمال کنٹرول کرتے ہوئے منہ پر انگلی رکھ کر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور آنکھ مار دی۔۔۔عین اس وقت جب وہ مجھے آنکھ مار رہی تھی اس کی نظر نیچے میری شلوار میں بنے ہوئے تنبو پر پڑی تو اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
اسی وقت میں وہاں سے واپس مڑ کر چلتے ہوئے کوریڈور سے واپس باہر کے گیٹ کی طرف چل پڑا۔۔۔گیٹ کے پاس پہنچ کر میں نے چوکیدار کے کیبن میں جھانکا تو چوکیدار کو موجود دیکھ کر میں نے اس سے کہا:بھائی اگر تمہیں تکلیف نہ ہو تو میرا ایک کام کر دو۔۔۔میرے سگریٹ ختم ہو گئے ہیں وہ لا دو۔
چوکیدار نے مجھے کہا صاحب آپ اپنے کمرے میں جائیں سگریٹ تھوڑی دیر میں ہی آپ تک پہنچ جائیں گے۔۔۔میں سست روی سے چلتا ہوا واپس کمرے میں آ کر لیٹ گیا۔۔۔لیٹتے ہی مجھے ڈاکٹر کی چدائی کا سین اور پھر اس لڑکی کا جسم یاد آ گیا۔۔۔جسے سوچتے ہی میرا لن دوبارہ کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔۔۔لیکن میں اسی طرح لیٹے ہوئے میگزین دیکھ کر اپنا دھیان بٹانے لگا۔
کوئی پندرہ منٹ بعد چوکیدار آ کر مجھے دو پیکٹ سگریٹ کے دے گیا اور میں سگریٹ سلگا کر کش لگاتے ہوئے وقت گزارنے لگا۔۔۔تھوڑی دیر بعد اچانک مجھے دروازے کے باہر قدموں کی آواز سنائی دی تو میں جو کہ دروازے کی طرف ہی منہ کیے لیٹا تھا۔۔۔چونک کر دروازے کی طرف دیکھا تو اسی نوخیز حسینہ کو کمرے میں آتے ہوئے پایا۔۔۔اس کا آنا بھی قیامت خیز تھا۔
یوں لگتا تھا کہ وہ نہا کر آئی ہے۔۔۔کیونکہ اس کے گیلے جسم پر تولیہ بندھا ہوا تھا جو کہ بمشکل اس کی گانڈ تک آتا تھا۔۔۔نیچے اس کی رانیں اور ٹانگیں پوری ننگی تھیں۔۔۔اس کے بال خشک تھے۔۔۔مطلب کہ وہ گردن کے نیچے سے نہا کر آئی ہے۔۔۔اندر آتے ہی اس نے مجھے دیکھا اور بے پروائی سے میرے سامنے کرسی کر بیٹھ کر توبہ شکن انداز میں اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر دوسری ٹانگ پر رکھی اور میری طرف دیکھنے لگی۔
اس کی ٹانگ کے نیچے کا نظارہ دیکھ کر میرا لن ایک دفعہ پھر کھڑا ہو گیا۔۔۔چند لمحے وہ میری طرف دیکھتی رہی پھر وہ کرسی سے اٹھی اور میرے پاس آ کر اس نے سائیڈ میز سے سگریٹ کی ڈبی سے ایک سگریٹ نکالا اور سگریٹ سلگا کے واپس اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئی۔
آخرکار میں نے ہی سکوت توڑا۔۔۔جی فرمائیے کیسے آنا ہوا۔۔۔وہ بلکل میری نقل اتارتے ہوئے بولی:کیا میں نے تم سے پوچھا تھا کہ جی فرمائیے کیسے آنا ہوا۔۔۔میں کھسیاہٹ زدہ لہجے میں بولا:وہ تو میں بس سگریٹ ڈھونڈتے ہوئے ادھر جا نکلا تھا۔۔۔وہ مجھے چڑاتے ہوئے بولی۔۔۔کیوں وہاں کیا سگریٹ کی دکان کھلی تھی۔۔۔اور جب اندر آ ہی گئے تو واپس کیوں نہیں چلے گئے؟
اب کی بار میری جھجھک ختم ہو چکی تھی تو میں رسانیت سے بولا کہ ارادہ تو یہی تھا کہ واپس لوٹ جاؤں پر جب اندر حسن کی ایک مجسم دیوی کو اپنی اداؤں کے خزانے لٹاتے دیکھا تو قدم وہیں جم گئے اور میں چاہ کر بھی واپس نہ مڑ پایا۔۔۔میری بات سن کر وہ بہکی ہوئی نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئی بولی۔۔۔دیکھو یار میں کوئی روایتی عورت تو ہوں نہیں جو رسمی باتیں کروں اور گھما پھرا کر مجھے بات کرنا نہیں آتا۔۔۔میرا نام شبنم ہے اور میں ڈاکٹر کی بیوی ہوں پر وہ ابوالہوس میری ابلتی ہوئی جوانی کا مقابلہ نہیں کر پاتا۔کمینہ انسان۔
بہت جلد ہی بلکہ چند جھٹکوں میں ٹھس ہو جاتا ہے۔۔۔میں پھر گرم کی گرم مچلتی رہ جاتی ہوں۔۔۔تو مدعے پر آتے ہیں۔۔۔میرا دل تم پہ آ گیا ہے۔۔۔اس لیے میں اس وقت تمہارے سامنے اس حالت میں موجود ہوں۔۔۔بولو کیا کہتے ہو اس بارے میں؟

                   ************************
    
  (44)

میں کوئی"چپڑ قناطیہ"تو تھا نہیں کہ کسی لڑکی کی اتنی کھلی ڈھلی آفر نہ سمجھ پاتا۔۔۔لیکن پھر بھی میں نے ایک مبہوم سی مدافعت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔لیکن وہ ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں؟شبنم بڑے رسان سے بولی وہ گدھا دارو پی کر گانڈ اٹھائے سو رہا ہے۔۔۔اب اگلے چند گھنٹے اسے ہوش نہیں آئے گا۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استہزایہ انداز میں کہا۔۔۔شبنم!!!کیا اس پٹیوں لپٹے چہرے کے ساتھ ہی؟اتنا کہہ کر میں چپ ہو گیا۔

میری بات سن کر وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔او کم آن یار مجھے تمہاری شکل سے کیا لینا دینا مجھے تو تمہارا لن اپنی پھدی کے اندر چاہیے۔۔۔ویسے بھی صاف سی بات ہے کہ ہم دونوں صرف آج رات کے ساتھی ہیں۔۔۔اس کے بعد ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا:اگر کل صبح میں ڈاکٹر کو بتا دوں کہ پچھلی رات میں اس کی بیوی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا رہا ہوں تو پھر؟

وہ بڑے تحمل سے بولی۔۔۔پھر کیا کچھ بھی نہیں بس اتنا ہو گا کہ کراچی سے گم ہو جاؤ گے یا پھر ہو سکتا کہ تمہارا کوئی ایکسیڈنٹ ہو جائے۔۔۔یا پھر راستے پہ چلتے ہوئے کوئی بے آواز آوارہ گولی تمہارا مزاج پوچھ لے گی۔۔۔میں نے گہری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ اٹھ کر میرے قریب آئی اور نیچے جھک کر ایک دم مجھے گلے سے دبوچتے ہوئے بولی۔۔۔اب بس کرو!!!کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ میں کب سے تمہارا لن لینے کیلئے مری جا رہی ہوں اور تم میرا انٹرویو لیے جا رہے ہو۔
میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یار غصہ کیوں کرتی ہو میں تو بس ایسے ہی شغل کر رہا تھا تو اس نے میرا گلا چھوڑ دیا اور اٹھ کر کھڑی ہوتے ہوئے بولی۔

کسی کی جان جا رہی ہے
اور آپ کی ادا ٹھہری۔

یہ کہتے ہی ہاتھ اوپر لیجا کر اس نے اپنا تولیہ اتار پھینکا۔۔۔شبنم ایک نہایت خوبصورت لڑکی تھی۔۔۔میری ہی ہم عمر لگتی تھی لیکن اس کا جسم اس کی عمر سے کافی بڑا لگتا تھا۔۔۔کسے ہوئے پیٹ پر چھتیس سائز کے سڈول ممے ایسے شان سے سر اٹھائے کھڑے تھے جیسے کسی نے درمیانے سائز کے فٹبال درمیان سے کاٹ کر لگا دیے ہوں۔۔۔ان مموں پہ چھوٹے چھوٹے گلابی رنگ کے نپلز بڑے بھلے لگ رہے تھے۔۔۔کمر بلکل پتلی سی نہ ہونے کے برابر۔۔۔اس کی گانڈ کافی موٹی اور باہر نکلی ہوئی تھی۔۔۔یوں لگتا تھا کہ جیسے گوشت کی پہاڑیاں ہوں۔
میں نے اٹھ کر اپنی قمیض اتار دی۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کرتا اس نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کے دباؤ ڈال کر مجھے لٹاتے ہوئے کہا۔۔۔نہیں نہیں تم کچھ نہیں کرو گے تم سکون سے لیٹ جاؤ۔۔۔میں خود ہی سب کچھ کر لوں گی۔۔۔میں کندھے اچکاتے ہوئے چِت لیٹ کر شوق طلب نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔
وہ آرام سے میرے ساتھ بیڈ پر ہی بیٹھ گئی اور میرے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نیچے کی طرف لیجانے لگی۔۔۔دوستو اپنی جسمانی ساخت تو میں پہلے ہی بتا چکا ہوں۔۔۔اس لیے میرے جیسا بانکا جوان دیکھ کر اس کی آنکھیں بنا کچھ کہے ہی نشیلی ہوتی جا رہی تھیں۔
چند لمحے وہ ایسے ہی میرے سینے پر ہاتھ پھیرتی رہی۔پھر اس نے اپنا ہاتھ نیچے لیجا کر میرا لن شلوار کے اوپر سے ہی پکڑ لیا اور میرے لن کو پکڑتے ہی اس کی آنکھوں میں تیز چمک ابھر آئی۔۔۔اس نے دونوں ہاتھوں سے میرے لن کو ٹٹولنا شروع کر دیا۔۔۔وہ اچھی طرح میرے لن کی لمبائی اور موٹائی ماپ رہی تھی۔

                   ************************
 
     (45)

وہ میرے پہلو میں بیٹھی ہوئی میرے لن کو سہلا رہی تھی۔۔۔میں نے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کے ممے کو پکڑ کر دبا دیا۔۔۔اس کا مما میرے ہاتھ میں آتے ہی اس کے منہ سے ایک لذت بھری سسکاری نکلی۔۔۔سسسسی۔۔۔ساتھ ہی اس نے اپنا بدن ڈھیلا چھوڑ دیا۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ اس کے گول مٹول مموں کو دبانا شروع کر دیا۔۔۔کچھ دیر میں ایسے ہی ایک ہاتھ سے باری باری اس کے ممے دباتا رہا۔۔۔شبنم میرے لن کو اپنے ہاتھ میں جھکڑے منہ چھت کی طرف کر کے آنکھیں بند کیے سیییییی سیییییی کرتی رہی۔

پھر میں نے اس کے مموں کو چھوڑ کر اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کی کمر میں ڈالا اور اسے اپنی طرف کیا تو شبنم نے اپنی آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا۔۔۔میں واضح طور پر اس کی نشیلی آنکھوں میں سرخ ڈورے تیرتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔
پھر وہ آہستہ سے جھکتی گئی اور اپنے ہونٹوں سے میرے ہونٹوں کو ہلکے سے چوم لیا۔۔۔چونکہ میرے چہرے پر میرے ہونٹ ہی پٹیوں سے آزاد تھے۔۔۔اور وہ بھی آس پاس کا ایریا پٹیوں میں کسے ہونے کی وجہ سے ہلکے سے سوجھے ہوئے تھے اور صاف سوجن نظر آتی تھی۔۔۔اس لیے شبنم نے انتہائی احتیاط کے ساتھ صرف ہونٹ چومنے پر اکتفا کیا۔۔۔اس کا ایک ہاتھ مسلسل میرے لن کو سہلا رہا تھا۔

میں نے اسے اپنے ساتھ پہلو میں لٹا لیا اور پہلو کے بل ہوتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر پھیرتے ہوئے اس کی ناف میں انگلی سے چھیڑخانی کرنے لگا۔۔۔میں جتنا ذیادہ اس کی ناف کو چھیڑتا شبنم اتنا ذیادہ مچلتی۔۔۔میں نے دھیرے سے اپنا ہاتھ نیچے سرکایا تو میرا ہاتھ اس کی پھدی کی نرم و ملائم جلد سے ہوتا ہوا پھدی کے ہونٹوں تک جا پہنچا۔۔۔میرے ہاتھ کی انگلیوں نے جیسے ہی اس کی پھدی کے ہونٹوں کو چھوا تو اس کے جسم کو ایک جھٹکا لگا۔
اس کی پھدی کافی زیادہ گیلی ہو چکی تھی جس سے نکلنے والی رطوبت کی چپچپاہٹ میں اپنی انگلیوں پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔میں اس کی نازک اور بالوں سے صاف پھدی کے ہونٹ مسل رہا تھا اور وہ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر ایسے میرے ہاتھ پر رگڑ رہی تھی کہ جیسے پورا ہاتھ اندر لینا چاہتی ہو۔۔۔دو منٹ بعد ہی اس کی سسکیوں میں شدت پیدا ہو گئی۔۔۔میں نے بھی اس کی پھدی کے ہونٹوں کو رگڑنے کی سپیڈ تیز کر دی۔

ساتھ ہی میں نے اپنے اسی ہاتھ کی دو انگلیاں اندر گھستے ہوئے پھدی کے دانے کو زور سے مسلا تو شبنم نے ایک دم اپنی ٹانگیں زور سے بھینچ لیں۔۔۔اس کے منہ سے ایک لذت بھری سسکی نکلی۔۔۔۔ہائےےےےےےےے امی جی۔ی۔ی۔ی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی شبنم کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا۔
چند سیکنڈ بعد میں نے اپنا ہاتھ باہر نکال کر بیڈ شیٹ کے ساتھ ہی صاف کیا اور اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔کیا ہوا شبنم جی۔۔۔یہ تو آپ ہی چند سیکنڈز میں ٹھس ہو گئیں۔۔۔تو وہ میرے اکڑے ہوئے لن پر ہلکا سا ہاتھ مار کر بولی۔۔۔بکواس مت کرو یار۔۔۔اس بڈھے نے مجھے پہلے ہی کافی گرم کر دیا تھا اوپر سے تمہاری انگلیوں میں جادو ہے جادو،،جو میں برداشت نہیں کر پائی۔

اسی لیے گنگا بہہ گئی۔

رکو ابھی تمہیں بتاتی ہوں۔۔۔یہ کہتے ہی اس نے میری شلوار کر ہاتھ ڈالا اور میرا ازاربند کھول کر شلوار اتار دی۔۔۔میرا لن کسی شیش ناگ کی طرح مچل کر شلوار سے باہر نکلا اور فل مستی میں سر اٹھائے جھومنے لگا۔۔۔شبنم بڑی نشیلی نگاہوں سے میرے لن کو دیکھ رہی تھی۔۔۔پھر شبنم نے آگے بڑھ کر میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھتے ہوئے میرے لن کو اپنے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے اپنا منہ نیچے کیا اور میرے لن کی ٹوپی کو منہ میں لیکر چوسنے لگی۔۔۔وہ اتنی لگن سے میرا لن چوس رہی تھی کہ میرا لن اپنی پوری اکڑ میں آ کر تن گیا۔
اف فف اس کا گرم گرم منہ کیا مزہ دے رہا تھا۔۔۔میں سب بدلے ودلے بھول کر سوچنے لگا کہ کاش وہ اسی طرح میرا لن اپنے منہ میں لیے بیٹھی رہے اور یہ لمحہ امر ہو جائے۔۔۔شبنم میرے لن کو منہ میں لیے آہستہ آہستہ سے اپنے منہ کو چودنا شروع ہو گئی۔۔۔میں نشے کی سی کیفیت محسوس کرنے لگا۔

شبنم بہت تیزی سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔بیچ میں کبھی کبھی وہ اپنی پوری زبان نکال کر میرے ٹٹوں پر پھیرتی تھی۔۔۔میں حیران تھا کہ شبنم اس رغبت سے میرا لن چوس رہی تھی جیسے یہ اس کیلئے دنیا کی سب سے پسندیدہ شے ہو۔۔۔صرف پانچ منٹ کے اندر ہی شبنم کے جاندار چوپوں نے مجھے منزل کے قریب کر دیا۔

میرا جسم اکڑنے لگا تو میں نے کہا شب۔شب۔شبنم میرا پانی نکلنے والا ہے۔۔۔بس کرو اب لن کو منہ سے باہر نکال لو۔۔۔لیکن وہ میری بات سنی ان سنی کر کے اور تیزی سے لن کو چوسنے اور میرے لن کی ٹوپی کو اپنے حلق تک لیجانے لگی۔۔۔تبھی میرے جسم کو آخری جھٹکا لگا اور میرے لن سے منی کی دھاریں خارج ہونے لگیں۔۔۔شبنم نے اپنے ہونٹوں کو گرِپ کر کے میری ساری منی اپنے منہ میں ہی جمع کرنا شروع کر دی۔

                  *************************
      (46)

جب میرے لن سے منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا اور میرے لن نے جھٹکے مارنے بند کر دیے تو شبنم نے بڑے احتیاط سے میرا لن اپنے منہ سے باہر نکال لیا۔۔۔شبنم نے لن کو منہ سے باہر نکالتے وقت اس چیز کا خاص خیال رکھا کہ منی کا ایک قطرہ باہر نہ گرنے پائے۔۔۔پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بڑے سیکسی انداز میں وہ منی کا گھونٹ بھرتے ہوئے اپنے حلق سے نیچے اتار گئی۔

میں ابھی حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا کہ اچانک شبنم نے پھر سے میرے لن کو پکڑ کر اپنی زبان باہر نکالی اور میرے لن کو اچھی طرح سے چاٹ چاٹ کر صاف کرنا شروع کر دیا۔۔۔اس کے گرم منہ کی حدت سے میرے مردہ ہوتے ہوئے لن میں ایک دفعہ پھر جان پڑنا شروع ہو گئی۔۔۔دو منٹ بعد ہی میں اس کو نیچے فرش پر بٹھائے اپنا لن اس کے منہ میں ڈالے اس کے منہ کو چود رہا تھا۔

دو منٹ تک ایسے ہی اس کے منہ کو چودنے کے بعد میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے شبنم کے چہرے کو پکڑتے ہوئے لن کو اس کے حلق کی گہرائی تک لیجا کر چودنا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی میرے لن نے اس کے حلق کو چھوا تو اسے کے منہ سے اوغ۔اوغ کی آواز نکلی۔۔۔یوں لگا جیسے ابکائی لینے لگی ہو۔۔۔لیکن اس نے کمال مہارت سے اپنے آپ کو سنبھال لیا۔۔۔تقریباً پانچ منٹ کی جاندار حلق چودائی کے بعد میرا لن اپنے پورے جوبن پر آ چکا تھا۔

میں نے اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکالا اور اسے بیڈ پر لیٹنے کو کہا۔۔۔وہ سیدھی بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنی ٹانگیں کافی ساری کھول لیں۔۔۔میں اس کی کھلی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا۔۔۔پھر اپنے لن کو پکڑ کر اس کی پھدی کے ہونٹوں پہ رکھا۔۔۔شبنم کی پھدی ایک دم مست پھدی تھی۔۔۔اس پر ایک بھی بال نہیں تھا۔۔۔کسی کنواری پھدی کی طرح اس کے ہونٹ بھی آپس میں ایک دم ٹائٹ ہو کر جڑے ہوئے تھے۔۔۔میں نے لن کو پھدی کے ہونٹوں کے درمیان رکھتے ہوئے آہستہ سے پش کیا تو لن کی ٹوپی پھدی کو چیرتی ہوئے اندر گھس گئی۔

شبنم کے چہرے پر ہلکی سی تکلیف کے آثار تھے۔۔۔میں آہستہ آہستہ دباؤ بڑھاتا گیا۔۔۔شچنم نیچے سے مچلتی گئی پر میں رکا نہیں۔۔۔نتیجتاً بیس سیکنڈ میں ہی میرا پورا لن اس کی پھدی میں غائب ہو چکا تھا۔۔۔میں نے ہلنے کی کوشش کی تو شبنم نے اپنے دونوں ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ دیے۔۔۔جیسے مجھے روکنا چاہتی ہو۔۔۔میرے سوالیہ نظروں سے دیکھنے پر اس نے کہا۔۔۔تھوڑی دیر یہاں ہی رکو۔۔۔پہلی بار اتنا صحت مند لن اندر لیا ہے۔

تھوڑی دیر اسے محسوس تو کرنے دو۔۔۔کچھ دیر بعد جب اس کو سکون ملا تو وہ بولی اب آہستہ آہستہ سے دھکے لگانا شروع کرو۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ پمپنگ کرنی شروع کر دی۔۔۔شبنم اب پورا لن اندر لینے کے بعد مستی بھری آوازوں سے مجھے سب اوکے ہے کا سگنل دے رہی تھی۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ اپنی سپیڈ بڑھانی شروع کر دی۔۔۔شبنم بھی میرا ساتھ دے رہی تھی۔۔۔لن اندر جاتے ہی وہ اپنی گانڈ کو پیچھے دبا کر میرا ساتھ دیتی۔
میں جیسے ہی گھسہ مارتا۔۔۔شبنم کے ممے باؤنس ہو کر اوپر کو اچھلتے اور اس کے ڈانس کرتے مموں کو دیکھ کر مجھے اور جوش چڑھتا جاتا۔۔۔اور میں مزید زور سے گھسہ مارتا۔۔۔شبنم اف فف فف ہائےےےےےےے کی آوازیں نکال کر میرے مزے کو دوبالا کر رہی تھی۔۔۔شبنم کی پھدی اب اندر سے بلکل ہموار ہو چکی تھی جس کی وجہ سے میرا لن باآسانی اندر باہر آ جا رہا تھا۔

                   *************************

(47)

میرے اور شبنم کے جسم آپس میں ٹکرانے کیوجہ سے کمرے میں پوچ پوچ کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔اب شبنم نیچے سے گانڈ اٹھا اٹھا کر پورا لن اندر لے رہی تھی اور میرا لن اس کی بچہ دانی تک مار کر رہا تھا۔۔۔مسلسل دس منٹ تک گھسے مارنے کے بعد اچانک شبنم نے اپنی دونوں ٹانگیں اوپر اٹھا کر میری کمر پر باندھتے ہوئے پیروں کی مدد سے شکنجہ بنا کر مجھے اپنے شکنجے میں بھینچ لیا۔۔۔میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ گھسے مار رہا تھا۔۔۔شبنم سسکیاں بھرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
تیز۔تیز۔ہاں راجہ۔۔۔اور تیز۔
اس کی پھدی مسلسل رطوبت چھوڑ رہی تھی جس کیوجہ سے میرا لن پھسل پھسل کر اندر جا رہا تھا۔۔۔اب میرے دماغ میں ہلچل مچنا شروع ہو گئی اور میں بنڈ پھاڑ گھسے مارنے لگا۔۔۔شبنم بھی اب مزے کے ساتھ پورے فارم میں تھی۔۔۔اور پانی نکالنے کیلئے تیار ہو رہی تھی۔

اوہ میری پھدی۔۔۔آہ۔۔ممممم۔ممممم۔۔میں گئییییی۔۔۔

میں نے فل جوش میں تین چار گھسے اور مارے تو میرے جسم کو ایک جھٹکا لگا تو میں نے پوری طاقت سے لن کو جڑ تک پھدی میں گھسا دیا اور میرے لن نے اس کی پھدی کے اندر ہی پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔۔۔میرا منی اندر گرنے کی دیر تھی کہ شبنم کی ٹانگیں بھی کانپیں اور اس نے بھی لرزتے ہوئے منی کی برسات کر دی۔
میں نڈھال ہو کر شبنم کے اوپر گر کے ہانپنے لگا جبکہ وہ بھی ہانپتے ہوئے تیز تیز سانسیں لے رہی تھی۔۔۔اس طرح کوئی دس منٹ تک اپنی سانسیں بحال کرنے کے بعد وہ اٹھی اور اپنا تولیہ اٹھا کر پھر سے باندھ کر ایک سگریٹ سلگا کر مجھے دیا اور میرے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔جبکہ میں ابھی تک ننگا لیٹا ہوا تھا۔

وہ کھوئے کھوئے سے انداز میں مجھے دیکھتی رہی۔۔۔پھر وہ اچانک بولی دیکھو میں بھی کتنی بدھو ہوں۔۔۔ابھی تک تمہارا نام نہیں پوچھا۔۔۔میں نے بتایا کہ میرا نام کمال پاشا ہے۔۔۔وہ میری آنکھوں میں تکتے ہوئے بولی تمہارا یہ حال کیسے ہوا۔۔۔اس کا اشارہ میرے جلے ہوئے چہرے کی طرف تھا۔۔۔میں نے کچھ لمحے سوچا پھر نہ جانے کیوں اسے نہایت اختصار کے ساتھ ساری کہانی خود ہر بیتے سارے حالات بتاتا چکا گیا۔

صرف ہیروں کا قصہ گول کر گیا۔۔۔پیسوں کے بارے میں اسے بتایا کہ ہم لوگ زمیندار لوگ ہیں کافی زمین تھی جو اب ساری کی ساری بلا غیرے شرکت میری ہے۔۔۔میری بات سن کر وہ سرشار لہجے میں بولی"مسٹر کمال پاشا!!!تم چاہو تو فرض کر سکتے ہو کہ تمہارے ہاتھ پارس پتھر لگ گیا ہے۔۔۔کچھ استفادہ کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔۔۔کوئی کام کہیں اٹکا ہوا ہو تو بتا سکتے ہو۔۔۔کوئی مسئلہ درپیش ہو تو صرف اشارہ کر دو۔
پھر وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی میں تو نہ تین میں ہوں نہ تیرہ میں۔۔۔لیکن میرا جو یہ نام نہاد عاشق شوہر کرنل ہے ناں!!!۔باہر دنیا کیلئے بہت بڑی توپ قسم کی شے ہے لیکن بیڈروم میں میرا ہاتھ بندھا غلام ہے۔۔۔اس لیے اگر کوئی مسئلہ درپیش ہے اور تم سمجھتے ہو کہ اس میں ہماری ضرورت پیش آ سکتی ہے تو واضح بتا دو۔۔۔تمہارا کام باآسانی ہو جائے گا۔

ہاں ایک کام ہے جس کو کرنے کیلئے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت پڑے۔۔۔میں نے ایک لمحہ توقف کے ساتھ تھوڑا مکھن لگانی کی کوشش کرتے ہوئے رومینٹک انداز میں کہا۔۔۔لیکن فلحال اس موضوع کو رہنے دو۔۔۔ابھی تم مجھے ملی ہو،تمہارا ساتھ مجھے ملا ہے،مجھے جی بھر کر سیراب تو ہو لینے دو۔۔۔پہلے مجھے کچھ دیر تک اس خوشی کو محسوس تو کر لینے دو۔۔۔میری روح میں پیاس کا اک صحرا پھیلا ہوا ہے۔۔۔اسے کچھ دیر تو تمہاری محبت کی شبنم جذب کرنے دو۔۔۔وہ چپ چاپ میری آنکھوں میں دیکھتی رہی لیکن جیسے ہی میں نے اپنی بات ختم کی وہ تالیاں بجانے کے انداز میں بولی"تقریر اچھی کر لیتے ہو۔

پر میری جان میں اس وقت سے بہت آگے آ چکی ہوں جب لڑکیاں اس قسم کی باتوں پر مر مٹتی تھیں۔۔۔تم کیا جانو میں کتنا بڑا صحرا پار کر کے یہاں تک پہنچی ہوں۔۔۔پھر وہ اٹھتے ہوئے بولی بہرحال میری آفر اپنی جگہ برقرار ہے جب بھی کوئی ضرورت پیش آئے مجھے کال کر لینا تمہارا کام ہو جائے گا کانٹیکٹ نمبر وہی ہے جس پر تم لوگ ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہو۔۔۔
اوکے اب اچھے بچوں کی طرح سو جاؤ۔۔۔صبح کا دن تمہارے لیے نئی خوشیوں کی امید لیکر آ رہا ہے۔۔۔اس کا اشارہ پھر میرے چہرے کی طرف تھا۔۔۔گڈ نائٹ کہہ کر اس نے ایک دفعہ پھر جھکتے ہوئے میرے ہونٹوں کو چوم لیا اور پھر مڑ کر کمرے سے نکلتی چلی گئی۔۔۔شبنم کے جانے کے بعد میں نے کپڑے پہنے اور واش روم میں جا کر فریش ہونے کے بعد واپس بیڈ پر آ کر لیٹ گیا۔

  جاری ہے۔۔۔

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 264
  • Views 588.8k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Javaidbond
    Javaidbond

    (22) میں نے اسے ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس کھینچا اور ساتھ لپٹاتے ہوئے بولا:راجی تم بلکل بے فکر رہو اطمینان سے ان لمحات کا مزہ لو یہ کہتے ہوئے میں نے اس کے ہونٹوں پر جھکتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو چوسنا شر

  • Javaidbond
    Javaidbond

    (24) کچھ دیر ریسٹ کرنے کے بعد جب ہم نارمل ہو گئے تو میں نے راجی سے پوچھا۔۔۔راجی تم خود کو میرے ساتھ کیسا محسوس کر رہی ہو۔ میرا پیار کرنا کیسا لگا۔ میرے منہ سے یہ الفاظ نکلنے کی دیر تھی کہ راجی ک

  • Javaidbond
    Javaidbond

    (48) اگلے دن میری پٹیاں کھلنی تھیں۔۔۔نادر صبح نو بجے ہی آ دھمکا۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد صبح دس بجے ڈاکٹر نے مجھے آپریشن روم میں مجھے اپنے سامنے بٹھایا اور میرے چہرے کی پٹیاں کھولنا شروع کر دیں۔۔۔پٹیو

Posted Images

  • Author

سٹوری پڑھنے کے بعد اپنی اپنی رائے  ضرور دیجئے گا۔۔۔مطلب سٹوری کا ٹیمپو یہاں سے گر گیا۔۔۔یا پھر یہاں سے ایسا نہیں ایسا ہونا چاہیے تھا۔

مطلب کچھ تو۔

اگر کوئی کچھ کہے گا تو پتہ چلے گا ناں کہ کیا میں صحیح لکھ رہا ہوں یا پھر کھچیں مارتے ہوئے اپنا اور آپ سب لوگوں کا ٹائم ضائع کر رہا ہوں۔

منتظر۔

جاوید بانڈ

Sir g bohat aala likhani rahy hain khani ka sath smaa bandh kar sex bi dal diya hay or bari dukan phika pakwan bi andar ki baat bi.

very good bas agli update bi jaldi jaldi dayin bohat nawazish ho gi.

thanks

Jaweed sab story ka tempo sahi jarha ha kahani apny sehar me rakhti ha nikalne nehi deti yaha ek guzaraish ha k hero ko ek new face me ab ana chahye or siyal family se zada ameer show cahaye take hero unhe zaleel kar kar k badla le baqi apo behtar samjte ha 

📢 Post Your Ad Here

tempo theak ja raha hai achi chal rahi hai story agay aur b thrill nazar araha hai keep it up

Superb bhout alla janab 

 

Javid bond saab 

 

Kamal ka likhte ho 

 

 

  • Author

@Cutesmile

کیا بات ہے جناب آپ کے مشورے پر لازمی سوچوں گا۔۔۔اور اگر کر سکا تو اس پہ عمل بھی کیا جائے گا۔۔۔میں سب سے یہی چاہتا ہوں کہ ساتھ ساتھ وہ اپنی رائے دیتے رہیں صرف تعریف کرنے سے بات نہیں بنتی۔۔۔

مزہ تو تب ہے ناں جب آپ اپنے ذہن کے مطابق مشورہ بھی دیں اور رائٹر کو سوچنے پہ مجبور کریں کہ نئیں یار اس بندے کی بات میں دم ہے۔

اگلی اپڈیٹ میں آپ کو لازماً اپنے دیے ہوئے مشورے کی کچھ نہ کچھ جھلک نظر آئے گی۔

Zinda abad. Bht zabrdast update thi mza a gia. Yar plz aise e shuru rakgain mfr

Sez

K sath sath larrai jagrra b hna e chahye

 

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.