Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

شباب حیات

Featured Replies

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

لیکن علی کو محسوس ہوا کے ریحانہ کی بس ہو گیئ ہے علی نے ریحانہ کی پھدی سے لن نکالا اور صاف کر کے اس کو گھوڑی بنا خر اس کے پیچھے آ گیا اور ریحانہ کو پیچھے سے دھکے لگانے لگا پیچھے سے لن ڈالنے سے لن اور زیادہ پھنس کر جانےعلی نے ریحانہ کی بچہ دانی کو بھی چوٹ لگنے لگی ریحانہ پر اب اک عجیب سی غنودگی چھا رہی تھی اسی دوران ریحانہ تیسری بار فارغ ہو گئی گھوڑی سٹائل میں ریحانہ زیدہ دیر ٹک نھیں پائی اور پیٹ کے بل گر گئی اس دوران علی نے محسوس کیا اس کا لن اچانک اور لمبا اور موٹا ہو رہا ہے اورریحانہ کی حالت اور بگڑنے لگی اور چیخوں کا نا رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا مگر علی نے اپنے دھکوں میں کوئ کمی نا لائی اچانک علی نے اور زور سے دھکے مارنے شروع کر دیےعلی کا لن ریحانہ کی بچہ دانی کے منہ سے ٹکرا کر واپس آ رہا تھا اچانک علی نے خون اور ریحانہ کےپانی سے بھرا لن نیکال کر اس کے منہ میں دے دیا اور اس کے منہ کو چودنے لگا اس کے ساتھ ہی علی نے ریحانہ کے منہ میں پانی کی دھار چھوڑ دی اس دوران علی کی منی نے ریحانہ کے پورے جسم کو بھگو دیا اور اس کے ساتھ لیٹ گیا کچھ دیر بعد اس نے ریحانہ کو اٹھا کر پانی گرم کر کے اس کی پھدی کو پانی سے سینک کر اس کو کچھ ارام پہنچایا اور اٹھا کر واپس بیڈ پر لٹا دیا ریحانہ نے اک ادا سے اسے کس کیا اور بولی زندگی میں پہلی بار ایسے انسان سے چدوایا ہے جو سچ میں چودنا جانتا ہے کچھ دیر بعد علی کے لن نے پھر سختی پکڑنی شروع کر دی یہ دیکھ ریحانہ گھبرا گی

علی بولا میڈم کیا خیال ہے اک شوٹ اور ہو جائے مگر ریحانہ کی پھدی کا پہلے ہی کچومر بناپڑا تھا وہ اس حالت میں نہیں تھی اس لیے اس نے علی کو روکنے کی کوشش کی کہ علی اب بس کرو میری پھدی میں درد ہےاگلی بار کریں گے مگر تب تک بہت دیر ہو گئی تھی علی کا لن جوان ہو کر پورے جوبن میں جھٹکے کھا رہا تھا ریحانہ کے نازک ہاتھوں کا لمس پا کر اس کا لن اور بھی وحشی لگ رہا تھا اس پر غضب یہ کہ اس پر ریحانہ کی پھدی کا گرم گرم خون لگا تھا علی نے ریحانہ کا کوئی بہانہ نا سنا اور لن کو سیدھا اس کے منہ میں دے دیا اور اتنی زور سے منہ میں دھکا مارا کے کن سیدھا ریحانہ کے حلق میں چلا گیا اور اس کی انکھیں ابل ایئںمگر علی کو اس کی کوئی پروہ نہیں تھی اس نے اس کے منہ میں زور دار دھکے مارنے جاری رکھے اور ریحانہ کی آنکھوں سے انسو بہتے رہے جب علی کو لگا کے اس کا لن پورا گیلا ہو گیا ہے تو اس نے پورا زور لگا کر پہلے پورا لن اس کے حلق میں اتارا اور پھر جھٹکے سے باہر کھینچ لیااس سے ریحانہ کو بہت درد ہوا مگر علی نہ روکا اس نے ریحانہ کر لٹا کر لن کو اس کی پھدی کے منہ پر رکھا اور اک ہی جھٹکے میں پورا لن اس کی نازک پھدی میں ڈال دیااور ریحانہ کے منہ سے اک زوردار چیخ نکلی اور وہ بن آب کے مچھلی کی طرح تڑپنے لگی اسے یوں محسوس ہوا جیسے لوہے کا موٹا راڈ کسی نے اچانک اس کی پھدی میں دے دیا ہو علی اک پل کو رکا ریحانہ اس کو پیچھے ہٹانے کی نا کام کوشش کرنے لگی مگر علی نا روکا اس نے ریحانہ کی پھدی میں اپنا لن پورا ڈالا ہوا تھا اور زوردار دھکوں نے بیڈ کی چیخیں بھی نکلوا دی تھی علی کے ہر جھٹکے کے ساتھ ریحانہ کے منہ سے اہ ہ ہ ہ ہ نکلتی تو بیڈ بھی چررررر کی اواز نکلتی اس دوران ریحانہ کا درد کم ہو کر مزے میں بدلنے لگا اور اس نے اب گانڈ اٹھا اٹھا کر اس کا ساتھ دینا شروع کر دیا کچھ جھٹکوں کے ساتھ دیتے ہوئے ریحانہ کی پھدی ہار گئی اور ریحانہ نے پانی چھوڑ دیا علی کو یوں محسوس ہوا اس کی پھدی میں پانی کا سیلاب آ گیا ہے 

علی نے اس سب کے ساتھ ہی اپنا لن باہر نکالا اور لن کو دیکھا لن پوری طرح ریحانہ کی پھدی کے پانی سے لت پت تھا علی نے ریحانہ کو اچھانک سے مسکرا کر دیکھا اور ساتھ ہی اس کو گھوڑی بننے کو بولا اس دوران ریحانہ بھی سنبھل چکی تھی اس نے خود کو گھوڑی بنایا علی نے پیچھے آ کر لن کو اس کی پھدی پر رگڑا اور سختی سے ریحانہ کو پکڑ لیا اور ساتھ میں بولا تھوڈا سا درد ہوگا برداشت کرنا ریحانہ کو کچھ سمجھ نا ایا علی کا مطلب علی نے اپنے اک ہاتھ سے ریحانہ کے بالوں کو پکڑااور دوسرے ہاتھ سےاس کے کندھے کو پکڑا اور لن کا رخ پھدی کے سوراخ سے ہٹا کر ریحانہ کی گانڈ کا کر دیا ریحانہ پھر بھی نا سمجھی علی نے کچھ سوچ کر لن پھر سے اس کی پھدی میں ڈال دیا اور ساتھ میں اپنی انگلی کو ریحانہ کی گانڈ میں ڈال دیا ریحانہ تھوڑا سا ہلی مگر زیادہ نھی رکی اس کے ساتھ ہی علی نے دو انگلیاں ڈال دی اس کے ساتھ ہی علی نے انگلیاں اندر باہر کنا شروع کر دی

  • Author

 

علی نے جب محسوس کیا ریحانہ فارغ ہونے والی ہے تو علی نے لن باہر نکالا اور اس کی کنواری گانڈ میں رکھتے ساتھ ہی اک زور کا دھکا مارا اور اس کے موٹے لن کی ٹوپی اس کی گلابی گانڈ کو روندتی ہوئی اندر داخل ہو گئی ریحانہ کو درد تو ہوا لیکن اتنا خاس نہیں جتنا ہونا تھا علی روکا اور ریحانہ اس کو گالیں دینے لگی کتے باہر نکال اسے ہرامخور زلیل انسان اپنی اوقات بھول گیا کیا علی کو اخری بات بہت بری لگی اس کی اوقات والی بات نے علی کو اور غصہ دلا دیا علی نے غصے میں کہا ہرامزادی تو مجھے گالی دیتی ہے رک تیرا وہ ہال کرو گا کہ تو درد سے بلبلا اٹھے  اور تیرا چلنا بھی مشکل کر دو گا اس کے ساتھ ہی اس نے اک زوردار دھکا مارا لن اس کی گانڈ پھاڑ کر اس کی گانڈمیں رستہ بنانے لگا اس درد کو وہ برداشت نا کر سکی اور بے ہوش ہو گئی علی نے اگلا جھٹکا مارا اور پورا لن اند ڈال دیا ریحانہ بیہوشی میں بھی چلا رہی تھی علی پر ا س کا کوئی اثر نا ہوا اور وہ اپنی دھن میں لگا رہا اور جھٹکوں سے ریحانہ کی گانڈ پھاڑنے میں لگا رہا 55 منٹس لگاتار سیکس کرتا رہا بیچ بیچ اسے ہوش اتا اور وہ درد کی وجہ سے پھر بیہوش ہو جاتی 55 منٹ کی زبردست چدائی کے بعد علی اس کی گانڈ میں فارغ ہو گیا اور اس کے اوپر لیٹ کر سانس بحال کرنے لگا ریحانہ کو ہلکا ہلکا ہوش آ گیا کچ دیر ایسے ہی گزرنے کے بعد علی نےباتھ لیا اور ریحانہ کو کس کر کے جانے لگا تو ریحانہ بولی علی یہ چدائی مجھے ہمیشہ یاد رہے گی دوبارہ کب او گے اس کے ساتھ ہی ریحانہ نے انکھ ماری علی بولا جب بلاو گی اا جاوں گا اور اپنا نمر دے کر رخصت ہو گیا 

اگلے دن کالج ۔یں ریحانہ کہیں نظر نہیں ائی پتہ چلا اج ان کو بخار ہے اس لئےوہ نہیں آ سکتیں علی نے معمول کے مطابق کلاس لی اور گھر آ کر اپنی نئی طاقت کے بارے میں سوچنے لگا دوسری طرف جہاں علی نے شباب حیات تھوڑی عمر میں حاصل کر لیا وہی اک ایسا انسان بھی تھا جو چار سو سال سے شباب حیات حاصل کرنے کے لیے دن رات اک کیے ہویے ہے جیسے ہی اس کو پتہ چلا کے اک معمولی سے بندے نے شباب حیات حاصل کر لیا ہے تو وہ غصے سے بھڑک اٹھا اور ملکہ حسن سے بدلہ لینے کا سوچا اس کا نام شیوا تھا اور شیوا کالے علم کا بہت بڑا ماہر مانا جاتا تھا اسے پتہ تھا ملکہ حسن سے جنگ مطلب سارے دیوتاؤں سے جنگ ہو گی مگر شیوا اپنی دھن کا پکا تھا اس نے اپنی کالی طاقتوں سے اخری بار ملکہ حسن کو بلانے کی سوچی اسنے اپنے رمل کو تیز کر دیا اچانک ہی ملکہ حسن ائی اور بہت غصے سے شیوا کو اٹھایا 

ملکہ: کیوں بلایا مجھے شیوا تو جانتا ہے جو تو چاہتا ہے وہ کبھی نہیں ہو سکتا اور ویسے بھی شباب حیات جس تک پہنچنا تھا پہنچ گیا ہے

شیوا: ملکہ تونے یہ اچھا نہیں کیا اس وردان کے پیچھے میں نے اپنی کیا 27 لوگوں کی زندگیاں بھی قربان کر دی مگر آخر میں تو نے مجھے مایوس کر دیا میں یہ کبھی برداشت نہیں کروں گا میں تم سے اس کا بدلہ لوں گا تجھے اپنے نیچے لٹا کر تیری پھدی مار کر تجھے اپنے بچے کی ماں بناوں گا یہ سن کر ملکہ غصے میں کانپنے لگی اس کے چہرے کی لالی اس کی انکھوں میں آ گئی اس نے دایاں ہاتھ شیوا کی ترف کیا تو شوا کے جسم کو آگ لگ گئی اور اس کی چیخیں اس کے درد کا اندازہ کروانے لگیں ملکہ نے بھڑک کر کہا توں مجھ سے مقابلہ کرے گا تیری اتنی مجال توں مجھے چودے گا  ہاہاہاہا اس کے ساتھ ہی ملکہ کے دماغ میں اک عجیب سی سوچ ائی اور ملکہ نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا شیوا کا بدن کافی ہد تک جل چکا تھا اور وہ کسی خارشی کتے کی طرح تڑپ رہا تھا ملکہ نے شیوا کو مخاطب کیا اور کہا شیوا کیا تم مجھے چودنا چاہتے ہو 

شیوا ۔ ہاں ملکہ میں اپنی ضد کا پکا ہوں میں وردان حاصل نہیں کر سکا تو کیا ہوا میں تجھ سے کسی بھی حال میں بدلہ لوں گا 

ملکہ۔ مسکرا کر اچھا تو توں مجھ سے ضد لگاے گا ملکہ حسن سے ہاہاہاہاہا اگر تو مجھے چودنا چاہتا ہے تو ابھی اجا میں تیری یہ خواہش ابھی پوری کر دیتی ہوں میں بھی دیکھو شیوا میں کتنا دم ہے 

شیوا ۔ ملکہ یاد رکھ میں کالیا کا داس ہوں اور کالیا نے تجھے زیر کیا تھا یاد ہے یا بھول گئی

ملکہ غصے سے غضبناک ہو گئی اور اسے پطھلے وقت کی یاد آ گئی

مگر ملکہ نے غصے کو برداشت کرتے ہوے کہا ہاں یاد ہے کیسے اس نے میرے وشنو کا روپ دھارن کر کے مجھے دھوکا دینے کی کوشش کی تھی مگر وشنو نے مجھے اس سے بچا لیا تھا خیر اس قصے کو چھوڑ اور آجا اپنا اور اپنے گرو کا بدلہ پورا کر لے

یہ سن کر شیوا نے کچھ پڑھ کر خود پر پھونکا اس کے ساتھ ہی شوا کے سارے زخم ٹھیک ہو گئے اور اگلے لمحے ہی شوا کا لن بڑھنے لگا شیوا کا لن کالا ناگ بن رہا تھا اس کا لن پورا تن کر 8 انچ موٹا اور 2 انچ موٹا ہو گیا ملکہ جانتی تھی یہ اس کے جادو کا کمال ہے جو اس کو اک خاص علم سے حاصل ہوئی تھی

dear itni choti update sari story ka kabara kr deti hy.......story achi hy lekin update thodi badi do

  • Author

ملکہ نے شیوا کو بلایا اور پاس انے کی اجازت دی شیوا غرور کے ساتھ اپنے لن کو مسلتا ہوا ملکہ کی جانب بڑھ رہا تھا ملکہ پر سکون کھڑی تھی ملکہ کی نوکرانیا ں بھی اس تماشے کا۔لطف لینے کے لیے بیقرار تھیں شیوا ملکہ کے پاس ایا اور جیسے ہی ملکہ کے جسم کی خوشبو اس کے ناک میں پڑھی شیوا کے دماغ میں گرمی چڑھ گئی اور شیوا کو اک دم سے جھٹکا لگا اور اس کے لن نے اچانک ہی پانی چھوڑ دیا شیوا کو اس کی امید نہیں تھی ملکہ نے مسکرا کر دیکھا اور زور کا قہقہہ لگایا اور بولی 

ملکہ ۔ کیا ہوا شیوا توں تو مجھے چودنا چاہتا تھا اب کیا ہوا نکل گئی گرمی تم تو نامرد نکلے ملکہ کے الفاظ شیوا کی روح پر تیر کی طرح برس رہے تھے ملکہ نے کہا میں تو سمجھی بہت بڑے سورما ہو تم مگر تم تو نکھٹو نکلے تم مجھے چود کر ماں بنانے والے تھے مگر یاد رکھنا جو مرد نہیں ہوتا وہ باپ نہیں بنتا تمیں کیا لگا شباب حیات کوئی طاقت ہے مورکھ انسان یاد رکھنا شباب حیات اک وردان ہے اور وردان نبھانا پڑتا ہے اور ویسے بھی جس نے وہ وردان نبھانا ہوتا ہے اس کو چن لیا جاتا ہے 

شیوا یہ سب خاموشی سے سن رہا تھا ملکہ نے شیوا کو بولا تمیں آخری موقع دے رہی ہو  سدھر جا ورنہ انجام بہت برا ہو گا اس کے ساتھ ہی روشنی غائب ہو گئی شیوا نے انکھ اٹھا کر دیکھا تو ملکہ جا چکی تھی شیوا کو اج خود سے نفرت ہو رہی تھی اس کی اتنی بعزتی کبھی نہیں ہوئی  اس نے خنجر نکالا اور اپنی کلائی کاٹ کر اپنا خون نکالنا شروع کر دیا اس نے اک ایسا فیصلہ کیا تھا جس سے کا انجام بہت برا ہونے والا تھا اس نے کالی دنیا کے بادشاہ شاہکال کو اپنی جان دینے کا فیصلہ کر لیا تھا اسنے اپنا خون اگ میں ڈالنا شروع کیا اور ساتھ ہی اس نے اونچی آواز میں شاہکال کو بلانا شروع کر دیا اور ساتھ کہا اے کالی طاقتوں کے بادشاہ میں اپنی زندگی تجھ پر قربان کرتا ہوں میری قربانی قبول کر اس کے ساتھ ہی  اس کے خون کو آگ نے پکڑ لیا اور اہستہ اہستہ شیوا زمین پر گر گیا اور اس کے ساتھ ہی اس کی انکھیں بند ہو گئی اور وہ دنیا سے بیگانہ ہو گیا 

خون اگ میں جلتا رہا اور اس میں سے کالا دھواں اٹھنے لگا اس دھویں نے اک ہیبت ناک شیطان کی شکل اختیار کرلی اس نے جب دیکھا کے اسے اپنی زندگی دینے والا خود کو موت کے حوالے کر چکا ہے تو اس نے مسکرا کر اس کی کٹی بازو کی طرف اشارہ کیا تو اس کا زخم خودبخود بھر گیا اس نے شیوا خو اواز دی اور شیوا کو ہوش انے لگا شیوا نے جب اپنے سامنے اپنے مالک کو دیکھا تو اس کے سامنے جھکتا گیا اور کہنے لگا دیوا میری زندگی کا مقصد پورا ہو گیا شہکال نے اس سے پوچھا کیا مصیبت ان پڑی جو تجھے اپنی زندگی داو پر لگانا پڑی 

شیوا ۔ دیوا تیرے اس داس کا دنیا میں رہنے کا کوئی مقصد نہیں رہا دیوا اج ملکہ حسن نے میری حیوانی روح کو مجروح کیا ہے اس نے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا اس نے مجھے نامرد بنا دیا اس لیے مجھے یہ سب کرنا پڑا

شہکال۔ تو جانتا ہے میں حسن لوک کا دشمن ہوں وشنو نے مجھے وہاں سے زلیل کر کے نکالا تھا

شیوا ۔ دیوا اسی لیے میں نے تجھے اپنی مدد کے لیے بلایا ہے میں تیرا سچا بھگت ہوں مجھے ملکہ حسن کو زیر کر کے اپنا اپنے گرو کا اور اپکا بدلا لینا ہے

شہکال۔ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے اس کے لیے تجھے اک جان لیوا عمل کرنا ہوگا تجھے عورت کا درد محسوس کرنا ہوگا تھے اپنی گانڈ کے رستے اک بچہ پیدا کرنا ہو گا پھر اس بچے کا دل نکال کر کھانا ہوگا پھر تجھ میں اک ایسی طاقت آ جائے گی جس کے سامنے ملکہ حسن تو کیا وشنو بھی نہیں ٹک سکتا 

شیوا ۔ مگر دیوا یہ کیسے ہو سکتا ہے اک مرد بچہ کیسے جن سکتا ہے 

شہکال۔ اک خاص جادو کے ذریعے یہ ہو سکتا ہے اس کے لیے  تجھے میرا شیطانی نطفہ اپنے پیٹ میں داخل کروانا ہو گا وہ بھی گانڈ کے ذریعے سوچ لے اس کام میں تیری جان بھی جا سکتی ہے 

شیوا نے کچھ سوچا اور آخر میں بدلہ لینے کے لیے ہر مشکل سے گزرنے کا فیصلہ کیا 

شیوا ۔ دیوا مجھے تیری ہر شرط منظور ہے 

شہکال۔ ٹھیک ہے شیوا کتے کی طرح ہو جاو مگر یاد رکھنا تیرا سر اس عمل میں زمین سے نہیں ٹکرانا چاھئے اگر ایسا ہوا تو تیری جان چلی جائے گی شیوا نے گھوڑی بن کر اپنی گانڈ پیچھے کو نکالی شہکال نے اک منتر پڑھ کر ہوا میں پھونک ماری تو اک کالے رنگ کا لن نمودار ہو گیا اس کی موٹائی 4 انچ اور لمبائی 12 انچ ہو گی کالے رنگ کا یہ لن کسی گھوڑے کے لن سے ملتا جلتا تھا شہکال نے شیوا کو بولا شیوا تو تیار ہے اس قربانی کے لیے 

شیوا بولا ہاں میں تیار ہوں 

شہکال نے اشارہ کیا اور لن تیزی سے اڑتا ہوا شیوا کی طرف بڑھ گیا اور عین اس کی گانڈ کے سوراخ پر سیٹ ہو گیا اس کے ساتھ ہی غائبی ہاتھوں نے شیوا کو مظبوطی سے تھاما اور اک زوردار جھٹکے سے وہ لن شیوا کی گانڈ پھاڑ کر ادھا اندر داخل ہو گیا شیوا کی آنکھوں میں تارے آ گئے 

📢 Post Your Ad Here
  • Author

ملکہ نے شیوا کو بلایا اور پاس انے کی اجازت دی شیوا غرور کے ساتھ اپنے لن کو مسلتا ہوا ملکہ کی جانب بڑھ رہا تھا ملکہ پر سکون کھڑی تھی ملکہ کی نوکرانیا ں بھی اس تماشے کا۔لطف لینے کے لیے بیقرار تھیں شیوا ملکہ کے پاس ایا اور جیسے ہی ملکہ کے جسم کی خوشبو اس کے ناک میں پڑھی شیوا کے دماغ میں گرمی چڑھ گئی اور شیوا کو اک دم سے جھٹکا لگا اور اس کے لن نے اچانک ہی پانی چھوڑ دیا شیوا کو اس کی امید نہیں تھی ملکہ نے مسکرا کر دیکھا اور زور کا قہقہہ لگایا اور بولی 

ملکہ ۔ کیا ہوا شیوا توں تو مجھے چودنا چاہتا تھا اب کیا ہوا نکل گئی گرمی تم تو نامرد نکلے ملکہ کے الفاظ شیوا کی روح پر تیر کی طرح برس رہے تھے ملکہ نے کہا میں تو سمجھی بہت بڑے سورما ہو تم مگر تم تو نکھٹو نکلے تم مجھے چود کر ماں بنانے والے تھے مگر یاد رکھنا جو مرد نہیں ہوتا وہ باپ نہیں بنتا تمیں کیا لگا شباب حیات کوئی طاقت ہے مورکھ انسان یاد رکھنا شباب حیات اک وردان ہے اور وردان نبھانا پڑتا ہے اور ویسے بھی جس نے وہ وردان نبھانا ہوتا ہے اس کو چن لیا جاتا ہے 

شیوا یہ سب خاموشی سے سن رہا تھا ملکہ نے شیوا کو بولا تمیں آخری موقع دے رہی ہو  سدھر جا ورنہ انجام بہت برا ہو گا اس کے ساتھ ہی روشنی غائب ہو گئی شیوا نے انکھ اٹھا کر دیکھا تو ملکہ جا چکی تھی شیوا کو اج خود سے نفرت ہو رہی تھی اس کی اتنی بعزتی کبھی نہیں ہوئی  اس نے خنجر نکالا اور اپنی کلائی کاٹ کر اپنا خون نکالنا شروع کر دیا اس نے اک ایسا فیصلہ کیا تھا جس سے کا انجام بہت برا ہونے والا تھا اس نے کالی دنیا کے بادشاہ شاہکال کو اپنی جان دینے کا فیصلہ کر لیا تھا اسنے اپنا خون اگ میں ڈالنا شروع کیا اور ساتھ ہی اس نے اونچی آواز میں شاہکال کو بلانا شروع کر دیا اور ساتھ کہا اے کالی طاقتوں کے بادشاہ میں اپنی زندگی تجھ پر قربان کرتا ہوں میری قربانی قبول کر اس کے ساتھ ہی  اس کے خون کو آگ نے پکڑ لیا اور اہستہ اہستہ شیوا زمین پر گر گیا اور اس کے ساتھ ہی اس کی انکھیں بند ہو گئی اور وہ دنیا سے بیگانہ ہو گیا 

خون اگ میں جلتا رہا اور اس میں سے کالا دھواں اٹھنے لگا اس دھویں نے اک ہیبت ناک شیطان کی شکل اختیار کرلی اس نے جب دیکھا کے اسے اپنی زندگی دینے والا خود کو موت کے حوالے کر چکا ہے تو اس نے مسکرا کر اس کی کٹی بازو کی طرف اشارہ کیا تو اس کا زخم خودبخود بھر گیا اس نے شیوا خو اواز دی اور شیوا کو ہوش انے لگا شیوا نے جب اپنے سامنے اپنے مالک کو دیکھا تو اس کے سامنے جھکتا گیا اور کہنے لگا دیوا میری زندگی کا مقصد پورا ہو گیا شہکال نے اس سے پوچھا کیا مصیبت ان پڑی جو تجھے اپنی زندگی داو پر لگانا پڑی 

شیوا ۔ دیوا تیرے اس داس کا دنیا میں رہنے کا کوئی مقصد نہیں رہا دیوا اج ملکہ حسن نے میری حیوانی روح کو مجروح کیا ہے اس نے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا اس نے مجھے نامرد بنا دیا اس لیے مجھے یہ سب کرنا پڑا

شہکال۔ تو جانتا ہے میں حسن لوک کا دشمن ہوں وشنو نے مجھے وہاں سے زلیل کر کے نکالا تھا

شیوا ۔ دیوا اسی لیے میں نے تجھے اپنی مدد کے لیے بلایا ہے میں تیرا سچا بھگت ہوں مجھے ملکہ حسن کو زیر کر کے اپنا اپنے گرو کا اور اپکا بدلا لینا ہے

شہکال۔ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے اس کے لیے تجھے اک جان لیوا عمل کرنا ہوگا تجھے عورت کا درد محسوس کرنا ہوگا تھے اپنی گانڈ کے رستے اک بچہ پیدا کرنا ہو گا پھر اس بچے کا دل نکال کر کھانا ہوگا پھر تجھ میں اک ایسی طاقت آ جائے گی جس کے سامنے ملکہ حسن تو کیا وشنو بھی نہیں ٹک سکتا 

شیوا ۔ مگر دیوا یہ کیسے ہو سکتا ہے اک مرد بچہ کیسے جن سکتا ہے 

شہکال۔ اک خاص جادو کے ذریعے یہ ہو سکتا ہے اس کے لیے  تجھے میرا شیطانی نطفہ اپنے پیٹ میں داخل کروانا ہو گا وہ بھی گانڈ کے ذریعے سوچ لے اس کام میں تیری جان بھی جا سکتی ہے 

شیوا نے کچھ سوچا اور آخر میں بدلہ لینے کے لیے ہر مشکل سے گزرنے کا فیصلہ کیا 

شیوا ۔ دیوا مجھے تیری ہر شرط منظور ہے 

شہکال۔ ٹھیک ہے شیوا کتے کی طرح ہو جاو مگر یاد رکھنا تیرا سر اس عمل میں زمین سے نہیں ٹکرانا چاھئے اگر ایسا ہوا تو تیری جان چلی جائے گی شیوا نے گھوڑی بن کر اپنی گانڈ پیچھے کو نکالی شہکال نے اک منتر پڑھ کر ہوا میں پھونک ماری تو اک کالے رنگ کا لن نمودار ہو گیا اس کی موٹائی 4 انچ اور لمبائی 12 انچ ہو گی کالے رنگ کا یہ لن کسی گھوڑے کے لن سے ملتا جلتا تھا شہکال نے شیوا کو بولا شیوا تو تیار ہے اس قربانی کے لیے 

شیوا بولا ہاں میں تیار ہوں 

شہکال نے اشارہ کیا اور لن تیزی سے اڑتا ہوا شیوا کی طرف بڑھ گیا اور عین اس کی گانڈ کے سوراخ پر سیٹ ہو گیا اس کے ساتھ ہی غائبی ہاتھوں نے شیوا کو مظبوطی سے تھاما اور اک زوردار جھٹکے سے وہ لن شیوا کی گانڈ پھاڑ کر ادھا اندر داخل ہو گیا شیوا کی آنکھوں میں تارے آ گئے 

  • Author

اور شیوا کے منہ سے بھیانک چیخوں کا سلسلہ شروع ہو گیا شیوا نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی مگر ہل بھی نا سکا  اس کے ساتھ ہی اک اور زو کا جھٹکا لگا اور پورا لن شیوا کی گانڈ میں داخل ہو گیا شیوا کی گانڈ سے خون کے فوارے نکلنے لگے اور شیوا بیہوش ہونے لگا اس کا سر زمین سے ٹکرانے ہی والا تھا کے شیوا نے خود کو سنبھالا اور سیدھا ہو گیا شیوا کو یوں لگا اس کی گانڈ میں کسی نے مرچی بھر دی ہے وہ زور زور سے چلا رہا تھا یہاں تک کہ اس کی اواز بھی حلق میں اٹک گئی اور شیوا بے اواز رونے لگا پل بھر کو شی5نے سوچا سب چھوڑ کر بھاگ جاے مگر فوران ہی شیوا نے اس سوچ کو نکال دیا شیوا کو ہر دھکا پچھلے دھکے سے زیادہ تکلیف دے رہا تھا اس تکلیف کو شیوا نے پورے تین گھنٹے برداشت کیا اور آخر شہکال کے فارغ ہونے کا وقت آ گیا اس نے اپنی پوری منی شیوا کی گانڈ میں ڈالنا شروع کر دی شیوا کو یوں لگا اس کی گانڈ میں تیزاب ڈالا جارہا ہے اس درد کو وہ زندگی بھر یاد رکھے گا 

اس کے ساتھ ہی وہ جادوئی لن باہر نکلا اور خون اور منی کا ملا جلا فوارا چل پڑا کچھ دیر میں شیوا نے خود کو سنبھالا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا شہکال نے بتایا 21 دن بعد اماواوئس کی رات کو تو اک بچہ پیدا کرے گا تجھے اس کا دل نکال کر کھانا ہوگا اس کے بعد تجھ میں میری تمام شکتیاں آ جائیں گی مگر یاد رکھنا ہر اماواوئس کی رات تو کمزور ہوگا اس رات تو کسی بھی عورت کے نزدیک نہیں جائے گا اگر توں نے ایسا کیا تو ساری شکتی کھو دے گا اور اس کے ساتھ شہکال چلا گیا   

 

  • 4 years later...
📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.