Everything posted by Play_Boy007
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
Kuch Lafz Likhe Men Ne.. Woh Lafz Haqeeqqat Men.. Sachaai Pay Mabnni The. Koi Khoot Naa Thaa Un Men.. DIL Se Jo Nikaltti Haa Us Baat Men Khoot Kahaan.. Yeh Lafz Bhi Meri Jaan.. DIL SE HI TO NIKKLE THE.. Aur DIL Se Nikle Kar Woh . DIL Tak Hi To Pohnchhe The.. Un Lafzon Ko Kayun Too Ne.. Wo Jaghaa Nahi Di Jo.. Un Lafzon Ne Mangee Thi..? Jis Jaghaa Ke Kaabil The.. Woh Lafz Jo Likhhe Thee..??
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
عقدہ کشائیِ وجود، یوں ہے محال بھی مجھے رکھنا ہے راز آتش و آب و سفال بھی مجھے ردِ گماں کے واسطے اپنا کوئی ثبوت دے اور مدارِ جسم سے آ کے نکال بھی مجھے ہوتے رہے ہیں عمر بھر کام دعاؤں سے مگر کرتا رہا بہت خراب ایک سوال بھی مجھے ٹُوٹ گئے سبھی بھرم، کیسا دوجود، کیا عدم اب نہ سنبھال پائے گا تیرا خیال بھی مجھے عرصہِ کار زار میں آج کسی کے وار سے جان بچانے کا ہوا کتنا ملال بھی مجھے اے نگہِ ستارہ جُو دیکھ کے ملتفت تجھے آج بہت نڈھال ہوں، آج سنبھال بھی مجھے میں کسی اور رنگ میں، تُو کسی اور امنگ میں گزرا ہے کس قدر گراں، تیرا وصال بھی مجھے
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
مجھے یکسر بھلانا چاہتا تھا وہ خود کو آزمانا چاہتا تھا غرور اس شوخ کو کرنا تھا آخر اسے سارا زمانہ چاہتا تھا تعلق توڑ کے خوش ہوں کے وہ بھی بچھڑنے کا بہانہ چاہتا تھا خبر یہ ہے کہ وہ بے درد مجھ پر بہت سے ظلم ڈھانا چاہتا تھا ملاقاتیں ضروری ہو گئیں تھیں میں رنگوں میں نہانا چاہتا تھا تیری تصویر تھی جس کو چھپا کر میں کمرے میں لگانا چاہتا تھا **<<~*~*~*~>>**
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
Kise ki khatir mohabbet ki intiha kar do Per itna bhi nahi kay usay Khuda kar do Mat chaho kise ko tot kar itnay kay Kay usay apni wafaoun say hi bay wafa kar do wade kisise irade kise se, anhe kise se nigahe kisi se, ab yaar tumhra bharosa hi kya, jo adhe hamare adhe kisi ke Hai husn ka purkaif nazara teri aankhe! gar chand mera dil, to sitara teri aankhe! jab jab bhi padhun inko mohabbat ki nazar se. Lagti hain ek taza shumara teri aankhen Hum bhi mohabbat karke gunehgar ho gaye pehle phool the abk khak ho gaye, jab se dekha hai tumhare hasin chehre ko, hum bhi tumhari chahat k talabgar ho gaye
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
تیری کوشش تیری تدبیر ھونا چاہتی ھوں میں تیرے ھاتھ کی تحریر ھونا چاھتی ھوں تو میرے پاس آئے اور پلٹ کے نہ جائے میں تیرے پاؤں کی زنجیر ھونا چاھتی ھوں مجھے حاجت نہیں اب دوسروں کے مشوروں کی میں خود بھی شبِ تقدیر ھونا چاھتی ھوں میں اس لیے مسمار خود کو کر رھی ھوں کہ میں تیرے ھاتھ میں تعمیر ھونا چاھتی ھوں
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
جو چلا گیا مجھے چھوڑ کر میں کبھی نہ اس کو بھلا سکا وہی دوریاں وہی فاصلے میں کبھی نہ انکو مٹا سکا کیا اسے بھی مجھ سے پیار تھا یا تبسم اس کا شوق تھا وہ کوئی عجب سوال تھا جو میری سمجھ میں نہ آ سکا میری زندگی کا سکون تھاووہ میرے دل کا جنوں تھا وہ میری بندگی میرا پیار تھاوہی بات میں نہ بتا سکا یہی سوچتا تھا میں رات بھر جو کبھی ملے گا مجهے راہ پر تو کروں گا میں اس سے شکاتئیں پر ملا تو میں لب بھی نہ ہلا سکا
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
وہی حساب ِ تمنا ہے،اب بھی آجاو وہی ہے سر وہی سودا، اب بھی آجاو جسے گئے ہوئے خود سے اب ایک زمانہ ہوا وہ اب بھی تم میں بھٹکتا ہے،اب بھی آجاو وہ دل سے ہار گیا ہے پر اپنی دانش میں وہ شخص اب بھی یگانہ ہے، اب بھی آجاو وہی کشاکش ِ احساس ہے بہ ہر لمحہ وہی ہے دل، وہی دنیا ہے، اب بھی آجاو کسی سے کوئی شکوہ نہیں مگر تم سے ابھی تلک مجھے شکوہ ہے، اب بھی آجاو یہ میرے دل کی گزارش کہ مجھے مت چھوڑو یہ میری جاں کا تقاضا ہے، اب بھی آجاو
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
اب کس کا جشن مناتے ہو اس دیس کا جو تقسیم ہوا اب کس کا گیت سناتے ہو اس تن من کا جو دونیم ہوا اس خواب کا جو ریزہ ریزہ ان آنکھوں کی تقدیر ہوا اس نام کا جو ٹکرے ٹکرے گلیوں میں بے توقیر ہوا اس پرچم کا جس کی حرمت بازاروں میں نیلام ہویی اس مٹی کا جس کی حرمت منسوب عدو کے نام ہویی اس جنگ کا جو تم ہارچکے اس رسم کا جو جاری بھی نہیں اس زخم کا جو سینے پہ نہ تھا اس جان کا جو واری بھی نہیں اس خون کا جو بدقسمت تھا راہوں میں بہایا تن میں رہا اس پھول کا جو بے قیمت تھا آنگھن میں کھلایا بن میں رہا اس مشرق کا جس کا تم نے نیزے کی انی مرہم سمجھا اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا کم سمجھا ان معصوموں کا جس کی لہو سے تم نے فروزاں راتیں کی یا ان مظلوموں کا جن سے خنجر کی زباں میں باتیں کی اس مریم کا جس کی عفت لٹتی ہے بھرے بازاروں میں اس عیسا کا جو قاتل ہے اور شامل ہے غم خواروں میں ان نوخہ گروں کا جن نے ہمیں خود قتل کیا خود روتے ہیں ایسے بھی کہی دم ساز ہویے ایسے جلاد بھی ہوتے ہیں ان بھوکے ننگھے ڈانچوں کا جو رقص سر بازار کریں یا ان ظالم قزاقوں کا جو بھیس بدل کر وار کرے یا ان جھوٹے اقراروں کا جو آج تلک ایفا نہ ہویے یا ان بے بس لاچاورں کا جو اور بھی دکھھ کو نشانہ ہویے اس شاہی کا جو دست بدست آیی ہے تمھارے حصے میں کیوں ننگ وطن کی بات کرو کیا رکھا ہے اس قصے میں آنکھوں میں چپھایے اشکوں کو ہونٹوں پہ وفا کے بول لیے اس جشن میں شامل ہوں میں بھی نوخوں سے بھرا کشکول لیے۔
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تیرا خیال بھی دل میں* خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی چاند بھی عین چیت کا، اس پہ تیرا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا اک دفعہ تو رک ہی گئی گردشِ ماہ و سال بھی میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں* ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں* گرا بھول گیا سوال بھی اس کی سخن طرازیاں میرے لئے ڈھال تھیں اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی گاہ قریبِ شاہ رگ، گاہ بعیدِ وہم و خواب اس کی رفاقتوں میں رات، ہجر بھی وصال بھی اس کے ہی بازوں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی پروین شاکر
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
کہو اپنے وعدے وفا تم کرو گے جو کھائی تھیں قسمیں بھلا تو نہ دو گے مجھے بھی اُسی سمت جانا ہے ہمدم میں تیار ہو لوں، ذرا سا رکو گے میری بات چھوڑو، کچھ اپنی سناؤ مرے غم کی روداد کب تک سنو گے مجھے تم سے مل کر خوشی جو ہوئی ہے مری اس خوشی کو مٹا تو نہ دو گے بھلا وقت تھا تو مرے پاس تھے تم برا وقت آیا تو کیا ساتھ دو گے مجھے وقت نے کچھ بدل سا دیا ہے کہیں گر ملو گے تو پہچان لو گے؟
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں؟ وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں جنھیں اب تم چاہا کرتے ہو! تم کہتے تھے مری آنکھیں، اِتنی اچھی، اِتنی سچی ہیں اس حُسن اور سچائی کے سوا، دُنیا میں کوئی چیز نہیں کیا اُن آنکھوں کو دیکھ کے بھی تم فیض کا مصرعہ پڑھتے ہو؟ تم کہتے تھے مری آنکھوں کی نیلاہٹ اتنی گہری ہے ’’مری روح اگر اِک بار اُتر جائے تو اس کی پور پور نیلم ہوجائے‘‘ مُجھے اتنا بتاؤ آج تمھاری رُوح کا رنگ پیراہن کیا ہے کیا وہ آنکھیں بھی سمندر ہیں؟ یہ کالی بھوری آنکھیں جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے ’’یوں لگتا ہے شام نے رات کے ہونٹ پہ اپنے ہونٹ رکھے ہیں‘‘ کیا اُن آنکھوں کے رنگ میں بھی،یوں دونوں وقت مِلاکرتے ہیں؟ کیا سُورج ڈُوبنے کا لمحہ،اُن آنکھوں میں بھی ٹھہرگیا یا وہاں فقط مہتاب ترشتے رہتے ہیں؟ مری پلکیں جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے اِن کی چھاؤں تمھارے جسم پہ اپنی شبنم پھیلادے تو گُزر تے خواب کے موسم لوٹ آئیں کیا وہ پلکیں بھی ایسی ہیں جنھیں دیکھ کے نیند آجاتی ہو؟ تم کہتے تھے مری آنکھیں یُونہی اچھی ہیں ’’ہاں کاجل کی دُھندلائی ہُوئی تحریر بھی ہو__تو بات بہت دلکش ہوگی!‘‘ وہ آنکھیں بھی سنگھار تو کرتی ہوں گی کیا اُن کا کاجل خُود ہی مِٹ جاتا ہے؟ کبھی یہ بھی ہُوا کِسی لمحے تم سے رُوٹھ کے وہ آنکھیں رودیں اور تم نے اپنے ہاتھ سے اُن کے آنسو خُشک کیے پھر جُھک کر اُن کوچُوم لیا کیا اُن کو بھی
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
اپنے سینے سے لگائے ہوئے امید کی لاش مدتوں زیست کو ناشاد کیا ہے میں نے تو نے تو ایک ہی صدمے سے کیا تھا دوچار دل کو ہر طرح سےبرباد کیا ہے میں نے جب بھی راہوں میں*نظر آئے حریری ملبوس سرد آہوں میں تجھے یاد کیا ہے میں نے اور اب جب کہ مری روح کی پہنائی میں ایک سنسان سی مغموم گھٹا چھائی ہے تو دمکتے ہوئے عارض کی شعائیں لے کر گل شدہ شمعیں جلانے کو چلی آئی ہے میری محبوب، یہ ہنگامہء تجدید وفا میری افسردہ جوانی کے لیے راس نہیں میں نے جو پھول چنے تھے ترے قدموں کے لیے ان کا دھندلا سا تصور بھی میرے پاس نہیں ایک یخ بستہ اُداسی ہے دل وجاں پہ محیط اب مری روح میں باقی ہے نہ امید نہ جوش رہ گیا دب کے گراں بار سلاسل کے تلے میری درماندہ جوانی کی امنگوں کا خروش ریگ زاروں میں بگولوں کے سوا کچھ بھی نہیں سایہ ابرِ گریزاں سے مجھے کیا لینا بجھ چکے ہیں مرے سینے میں محبت کے کنول اب ترے حسنِ پشیماں سے مجھے کیا لینا تیرے عارض پہ یہ ڈھلکے ہوئے سیمیں آنسو میری افسردگیء غم کا مداوا تو نہیں تیری محبوب نگاہوں کا پیامِ تجدید اک تلافی ہی سہی۔۔۔۔میر ی تمنا تو نہیں
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے ہاں، جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی! ہاں، ہم ہی کاربندِ اصولِ وفا نہ تھے آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے کیوں دادِ غم، ہمیں نے طلب کی، برا کیا ہم سے جہاں میں کشتۂ غم اور کیا نہ تھے گر فکرِ زخم کی تو خطاوار ہیں کہ ہم کیوں محوِ مدح خوبئ تیغِ ادا نہ تھے ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا ورنہ ہمیں جو دکھ تھے ، بہت لادوا نہ تھے لب پر ہے تلخئ مئے ایام ، ورنہ فیض ہم تلخئ کلام پہ مائل ذرا نہ تھے
-
MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
سکوں ہوا نہ میسر ہمیں فرار سے بھی ملے ہیں زخم ترے قرب کی بہار سے بھی ہم اہل دل ہی نہ سمجھے وفا کے منصب کو ہوئی ہے ہم کو ندامت ستم شعار سے بھی لہو ہے قلب ترے تمکنت کے لہجے سے عرق عرق ہے جبیں حرفِ انکسار سے بھی چراغِ ظلمتِ شب کی مثال ہے ہر سوچ ہمیں تو کچھ نہ ملا صبحِ انتظار سے بھی بجھا نہ شعلہ کوئی کرب کے الاؤ کا ترے لبوں کے تبسم کے آبشار سے بھی میں اُس کی ذات سے مایوس ہوں‘ محال ہے یہ اُسے تو پیار ہے بے حد گناہگار سے بھی یہ خواہشوں کی مسافت عذاب ہے احمد نکل کے دیکھ شبِ جسم کے حصار سے بھی