Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Play_Boy007

Banned
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Play_Boy007

  1. کھلے ہیں میری زندگی کے سارے ورق نا جانے کب کوئی آندھی اڑا کے لے جائے کسی کا درد کہاں تک میں اپنے پاس رکھوں یہ جس کا ہو وہ نشانی بتا کے لے جائے
  2. وہ مجھ سے بچھڑ کر اب تک نہیں رویا واصی کوئی تو ہمدرد ہے اس کا جو اسے رونے نہیں دیتا
  3. Kuch Lafz Likhe Men Ne.. Woh Lafz Haqeeqqat Men.. Sachaai Pay Mabnni The. Koi Khoot Naa Thaa Un Men.. DIL Se Jo Nikaltti Haa Us Baat Men Khoot Kahaan.. Yeh Lafz Bhi Meri Jaan.. DIL SE HI TO NIKKLE THE.. Aur DIL Se Nikle Kar Woh . DIL Tak Hi To Pohnchhe The.. Un Lafzon Ko Kayun Too Ne.. Wo Jaghaa Nahi Di Jo.. Un Lafzon Ne Mangee Thi..? Jis Jaghaa Ke Kaabil The.. Woh Lafz Jo Likhhe Thee..??
  4. آرزو یہ نہیں کہ غم کے طوفان ٹل جائیں فکر تو یہ ہے کہ تمارا دل نہ بدل جائے کبھی بھی اگر مجھ کو بھلانا چاہو تم درد اتنا دینا کہ میرا دم نکل جائے۔
  5. عقدہ کشائیِ وجود، یوں ہے محال بھی مجھے رکھنا ہے راز آتش و آب و سفال بھی مجھے ردِ گماں کے واسطے اپنا کوئی ثبوت دے اور مدارِ جسم سے آ کے نکال بھی مجھے ہوتے رہے ہیں عمر بھر کام دعاؤں سے مگر کرتا رہا بہت خراب ایک سوال بھی مجھے ٹُوٹ گئے سبھی بھرم، کیسا دوجود، کیا عدم اب نہ سنبھال پائے گا تیرا خیال بھی مجھے عرصہِ کار زار میں آج کسی کے وار سے جان بچانے کا ہوا کتنا ملال بھی مجھے اے نگہِ ستارہ جُو دیکھ کے ملتفت تجھے آج بہت نڈھال ہوں، آج سنبھال بھی مجھے میں کسی اور رنگ میں، تُو کسی اور امنگ میں گزرا ہے کس قدر گراں، تیرا وصال بھی مجھے
  6. مجھے یکسر بھلانا چاہتا تھا وہ خود کو آزمانا چاہتا تھا غرور اس شوخ کو کرنا تھا آخر اسے سارا زمانہ چاہتا تھا تعلق توڑ کے خوش ہوں کے وہ بھی بچھڑنے کا بہانہ چاہتا تھا خبر یہ ہے کہ وہ بے درد مجھ پر بہت سے ظلم ڈھانا چاہتا تھا ملاقاتیں ضروری ہو گئیں تھیں میں رنگوں میں نہانا چاہتا تھا تیری تصویر تھی جس کو چھپا کر میں کمرے میں لگانا چاہتا تھا **<<~*~*~*~>>**
  7. wo baten teri wo fasane tere shaguftaa shaguftaa bahaane tere bas ek daag-e-sajdaa meri qayenat jabin teri aastane tere zamir-e-sadaf men kiran ka maqam anokhe anokhe Thikaane tere bahar-o-khizan kam nigahoun ke waham bure yaa bhale sab zamaane tere
  8. Kise ki khatir mohabbet ki intiha kar do Per itna bhi nahi kay usay Khuda kar do Mat chaho kise ko tot kar itnay kay Kay usay apni wafaoun say hi bay wafa kar do wade kisise irade kise se, anhe kise se nigahe kisi se, ab yaar tumhra bharosa hi kya, jo adhe hamare adhe kisi ke Hai husn ka purkaif nazara teri aankhe! gar chand mera dil, to sitara teri aankhe! jab jab bhi padhun inko mohabbat ki nazar se. Lagti hain ek taza shumara teri aankhen Hum bhi mohabbat karke gunehgar ho gaye pehle phool the abk khak ho gaye, jab se dekha hai tumhare hasin chehre ko, hum bhi tumhari chahat k talabgar ho gaye
  9. Tujhe Dekhne Ke Ley Taraste Hum Teri Chahat Ke Ley Tadapte Hain Hum Kyun Chali Jaati Ho Mujhse Door Tere Bina Roz Roz Marte Hain Hum
  10. میرا سوچنا تیری زات تک میری گفتگو تری بات تک نہ تم ملو جو کبھی مجھے میرا ڈھونڈنا تجھے پار تک کبھی فرصت تجھے ملے توآ میری زندگی کے حصار تک میں نے جانا کے میں کچھ نھی تیرے پہلے سے تیرے بعد تک
  11. تیری کوشش تیری تدبیر ھونا چاہتی ھوں میں تیرے ھاتھ کی تحریر ھونا چاھتی ھوں تو میرے پاس آئے اور پلٹ کے نہ جائے میں تیرے پاؤں کی زنجیر ھونا چاھتی ھوں مجھے حاجت نہیں اب دوسروں کے مشوروں کی میں خود بھی شبِ تقدیر ھونا چاھتی ھوں میں اس لیے مسمار خود کو کر رھی ھوں کہ میں تیرے ھاتھ میں تعمیر ھونا چاھتی ھوں
  12. جو چلا گیا مجھے چھوڑ کر میں کبھی نہ اس کو بھلا سکا وہی دوریاں وہی فاصلے میں کبھی نہ انکو مٹا سکا کیا اسے بھی مجھ سے پیار تھا یا تبسم اس کا شوق تھا وہ کوئی عجب سوال تھا جو میری سمجھ میں نہ آ سکا میری زندگی کا سکون تھاووہ میرے دل کا جنوں تھا وہ میری بندگی میرا پیار تھاوہی بات میں نہ بتا سکا یہی سوچتا تھا میں رات بھر جو کبھی ملے گا مجهے راہ پر تو کروں گا میں اس سے شکاتئیں پر ملا تو میں لب بھی نہ ہلا سکا
  13. میں اس سے پوچھوں گا نام اس کا.. اور اس کو اپنا پتہ بھی دونگا... جو کھنا چاھتا ھوں مدتوں سے.. وہ ھنستے ھنستے بتا بھی دونگا... لرزتے ھونٹوں سے کھہ بھی دونگا.. میں سر کو اپنے جھکا بھی دونگا... ویراں شاموں میں جو جو لکھا... میں اس کو وہ سب دکھا بھی دونگا....
  14. محبت ریت جیسی ہے، کسی بھی بند مٹھی میں مگر یہ بھی حقیقت ہے اچانک بے خیالی میں بنا سوچے، بنا سمجھے یونہی بس بےارادہ ہی، یہ مٹھی کھل بھی جاتی ہے ~*~*~*~*~*~*~*~*~
  15. ہے بیمار تو ایک بچنے کے قابل گر اپنی خط کو خطا جانتا ہے مگر ایسے نادان کا کیا ٹھکانہ کہ جو درد ہی کو دوا جانتا ہے برا مانتا ہے جو سمجھائے کوئی برائی کو اپنی بھلا جانتا ہے وہ انجام کو روئے گا سر پکڑ کر نہیں اس میں دھوکہ خدا جانتا ہے **<<~*~*~*~>>**
  16. وہی حساب ِ تمنا ہے،اب بھی آجاو وہی ہے سر وہی سودا، اب بھی آجاو جسے گئے ہوئے خود سے اب ایک زمانہ ہوا وہ اب بھی تم میں بھٹکتا ہے،اب بھی آجاو وہ دل سے ہار گیا ہے پر اپنی دانش میں وہ شخص اب بھی یگانہ ہے، اب بھی آجاو وہی کشاکش ِ احساس ہے بہ ہر لمحہ وہی ہے دل، وہی دنیا ہے، اب بھی آجاو کسی سے کوئی شکوہ نہیں مگر تم سے ابھی تلک مجھے شکوہ ہے، اب بھی آجاو یہ میرے دل کی گزارش کہ مجھے مت چھوڑو یہ میری جاں کا تقاضا ہے، اب بھی آجاو
  17. انتظار شاید محبت کا نصیب ہے لیکن جب محبت انتظار کرتی ہے لمحے تھم جاتے ہیں زمانے رُک جاتے ہیں محبت ضدی ہے آخری سانس ، آخری دھڑکن آخری پل تک انتظار کرسکتی ہے اور کبھی کبھی
  18. اب کس کا جشن مناتے ہو اس دیس کا جو تقسیم ہوا اب کس کا گیت سناتے ہو اس تن من کا جو دونیم ہوا اس خواب کا جو ریزہ ریزہ ان آنکھوں کی تقدیر ہوا اس نام کا جو ٹکرے ٹکرے گلیوں میں بے توقیر ہوا اس پرچم کا جس کی حرمت بازاروں میں نیلام ہویی اس مٹی کا جس کی حرمت منسوب عدو کے نام ہویی اس جنگ کا جو تم ہارچکے اس رسم کا جو جاری بھی نہیں اس زخم کا جو سینے پہ نہ تھا اس جان کا جو واری بھی نہیں اس خون کا جو بدقسمت تھا راہوں میں بہایا تن میں رہا اس پھول کا جو بے قیمت تھا آنگھن میں کھلایا بن میں رہا اس مشرق کا جس کا تم نے نیزے کی انی مرہم سمجھا اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا کم سمجھا ان معصوموں کا جس کی لہو سے تم نے فروزاں راتیں کی یا ان مظلوموں کا جن سے خنجر کی زباں میں باتیں کی اس مریم کا جس کی عفت لٹتی ہے بھرے بازاروں میں اس عیسا کا جو قاتل ہے اور شامل ہے غم خواروں میں ان نوخہ گروں کا جن نے ہمیں خود قتل کیا خود روتے ہیں ایسے بھی کہی دم ساز ہویے ایسے جلاد بھی ہوتے ہیں ان بھوکے ننگھے ڈانچوں کا جو رقص سر بازار کریں یا ان ظالم قزاقوں کا جو بھیس بدل کر وار کرے یا ان جھوٹے اقراروں کا جو آج تلک ایفا نہ ہویے یا ان بے بس لاچاورں کا جو اور بھی دکھھ کو نشانہ ہویے اس شاہی کا جو دست بدست آیی ہے تمھارے حصے میں کیوں ننگ وطن کی بات کرو کیا رکھا ہے اس قصے میں آنکھوں میں چپھایے اشکوں کو ہونٹوں پہ وفا کے بول لیے اس جشن میں شامل ہوں میں بھی نوخوں سے بھرا کشکول لیے۔
  19. کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تیرا خیال بھی دل میں* خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی چاند بھی عین چیت کا، اس پہ تیرا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا اک دفعہ تو رک ہی گئی گردشِ ماہ و سال بھی میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں* ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں* گرا بھول گیا سوال بھی اس کی سخن طرازیاں میرے لئے ڈھال تھیں اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی گاہ قریبِ شاہ رگ، گاہ بعیدِ وہم و خواب اس کی رفاقتوں میں رات، ہجر بھی وصال بھی اس کے ہی بازوں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی پروین شاکر
  20. کہو اپنے وعدے وفا تم کرو گے جو کھائی تھیں قسمیں بھلا تو نہ دو گے مجھے بھی اُسی سمت جانا ہے ہمدم میں تیار ہو لوں، ذرا سا رکو گے میری بات چھوڑو، کچھ اپنی سناؤ مرے غم کی روداد کب تک سنو گے مجھے تم سے مل کر خوشی جو ہوئی ہے مری اس خوشی کو مٹا تو نہ دو گے بھلا وقت تھا تو مرے پاس تھے تم برا وقت آیا تو کیا ساتھ دو گے مجھے وقت نے کچھ بدل سا دیا ہے کہیں گر ملو گے تو پہچان لو گے؟
  21. وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں؟ وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں جنھیں اب تم چاہا کرتے ہو! تم کہتے تھے مری آنکھیں، اِتنی اچھی، اِتنی سچی ہیں اس حُسن اور سچائی کے سوا، دُنیا میں کوئی چیز نہیں کیا اُن آنکھوں کو دیکھ کے بھی تم فیض کا مصرعہ پڑھتے ہو؟ تم کہتے تھے مری آنکھوں کی نیلاہٹ اتنی گہری ہے ’’مری روح اگر اِک بار اُتر جائے تو اس کی پور پور نیلم ہوجائے‘‘ مُجھے اتنا بتاؤ آج تمھاری رُوح کا رنگ پیراہن کیا ہے کیا وہ آنکھیں بھی سمندر ہیں؟ یہ کالی بھوری آنکھیں جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے ’’یوں لگتا ہے شام نے رات کے ہونٹ پہ اپنے ہونٹ رکھے ہیں‘‘ کیا اُن آنکھوں کے رنگ میں بھی،یوں دونوں وقت مِلاکرتے ہیں؟ کیا سُورج ڈُوبنے کا لمحہ،اُن آنکھوں میں بھی ٹھہرگیا یا وہاں فقط مہتاب ترشتے رہتے ہیں؟ مری پلکیں جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے اِن کی چھاؤں تمھارے جسم پہ اپنی شبنم پھیلادے تو گُزر تے خواب کے موسم لوٹ آئیں کیا وہ پلکیں بھی ایسی ہیں جنھیں دیکھ کے نیند آجاتی ہو؟ تم کہتے تھے مری آنکھیں یُونہی اچھی ہیں ’’ہاں کاجل کی دُھندلائی ہُوئی تحریر بھی ہو__تو بات بہت دلکش ہوگی!‘‘ وہ آنکھیں بھی سنگھار تو کرتی ہوں گی کیا اُن کا کاجل خُود ہی مِٹ جاتا ہے؟ کبھی یہ بھی ہُوا کِسی لمحے تم سے رُوٹھ کے وہ آنکھیں رودیں اور تم نے اپنے ہاتھ سے اُن کے آنسو خُشک کیے پھر جُھک کر اُن کوچُوم لیا کیا اُن کو بھی
  22. تیرے ملنے کا اک لمحہ بس اک لمحہ سہی – لیکن وفا کا بے کراں موسم ازل سے مہرباں موسم یہ موسم آنکھہ میں اترے تو رنگوں سے دہکتی روشنی کا عکس کہلاۓ یہ موسم دل میں ٹھہرے تو سنہری سوچتی صدیوں کا گہرا نقش بن جائے ترے ملنے کا اک لمحہ مقدر کی لکیروں میں دھنک بھرنے کا موسم ہے
  23. اپنے سینے سے لگائے ہوئے امید کی لاش مدتوں زیست کو ناشاد کیا ہے میں نے تو نے تو ایک ہی صدمے سے کیا تھا دوچار دل کو ہر طرح سےبرباد کیا ہے میں نے جب بھی راہوں میں*نظر آئے حریری ملبوس سرد آہوں میں تجھے یاد کیا ہے میں نے اور اب جب کہ مری روح کی پہنائی میں ایک سنسان سی مغموم گھٹا چھائی ہے تو دمکتے ہوئے عارض کی شعائیں لے کر گل شدہ شمعیں جلانے کو چلی آئی ہے میری محبوب، یہ ہنگامہء تجدید وفا میری افسردہ جوانی کے لیے راس نہیں میں نے جو پھول چنے تھے ترے قدموں کے لیے ان کا دھندلا سا تصور بھی میرے پاس نہیں ایک یخ بستہ اُداسی ہے دل وجاں پہ محیط اب مری روح میں باقی ہے نہ امید نہ جوش رہ گیا دب کے گراں بار سلاسل کے تلے میری درماندہ جوانی کی امنگوں کا خروش ریگ زاروں میں بگولوں کے سوا کچھ بھی نہیں سایہ ابرِ گریزاں سے مجھے کیا لینا بجھ چکے ہیں مرے سینے میں محبت کے کنول اب ترے حسنِ پشیماں سے مجھے کیا لینا تیرے عارض پہ یہ ڈھلکے ہوئے سیمیں آنسو میری افسردگیء غم کا مداوا تو نہیں تیری محبوب نگاہوں کا پیامِ تجدید اک تلافی ہی سہی۔۔۔۔میر ی تمنا تو نہیں
  24. سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے ہاں، جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی! ہاں، ہم ہی کاربندِ اصولِ وفا نہ تھے آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے کیوں دادِ غم، ہمیں نے طلب کی، برا کیا ہم سے جہاں میں کشتۂ غم اور کیا نہ تھے گر فکرِ زخم کی تو خطاوار ہیں کہ ہم کیوں محوِ مدح خوبئ تیغِ ادا نہ تھے ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا ورنہ ہمیں جو دکھ تھے ، بہت لادوا نہ تھے لب پر ہے تلخئ مئے ایام ، ورنہ فیض ہم تلخئ کلام پہ مائل ذرا نہ تھے
  25. سکوں ہوا نہ میسر ہمیں فرار سے بھی ملے ہیں زخم ترے قرب کی بہار سے بھی ہم اہل دل ہی نہ سمجھے وفا کے منصب کو ہوئی ہے ہم کو ندامت ستم شعار سے بھی لہو ہے قلب ترے تمکنت کے لہجے سے عرق عرق ہے جبیں حرفِ انکسار سے بھی چراغِ ظلمتِ شب کی مثال ہے ہر سوچ ہمیں تو کچھ نہ ملا صبحِ انتظار سے بھی بجھا نہ شعلہ کوئی کرب کے الاؤ کا ترے لبوں کے تبسم کے آبشار سے بھی میں اُس کی ذات سے مایوس ہوں‘ محال ہے یہ اُسے تو پیار ہے بے حد گناہگار سے بھی یہ خواہشوں کی مسافت عذاب ہے احمد نکل کے دیکھ شبِ جسم کے حصار سے بھی

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.