Everything posted by hasnain
-
Sweett Paintings
great, very nice sharing.......
-
یو ٹیوب کی بندش اور متبادل ذرائع
پاکستان میں حکومت کی جانب سے ایک برس قبل بند کی جانے والی ویڈیو سٹریمنگ ویب سائٹ یو ٹیوب کی فوری بحالی کا تو امکان دکھائی نہیں دیتا اور جہاں لوگوں نے انٹرنیٹ پر ویڈیوز اپ لوڈ کرنے یا اس تک رسائی کے لیے متبادل ذرائع ڈھونڈ لیے ہیں وہیں حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ سنسر شپ کے خلاف آواز بھی بلند ہوتی جا رہی ہے۔ پابندی کی وجہ ویب سائٹ پر موجود متنازع فلم ’انوسنس آف مسلمز‘ تھی جس کے خلاف پاکستان سمیت دنیا کے کئی مسلم ممالک میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے یو ٹیوب پر گزشتہ برس ستمبر میں اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے احکامات پر پابندی لگائی گئی تھی۔ پابندی کی وجہ ویب سائٹ پر موجود متنازع فلم ’انوسنس آف مسلمز‘ تھی جس کے خلاف پاکستان سمیت دنیا کے کئی مسلم ممالک میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔ حکومت نے اس وقت تو قابلِ اعتراض مواد کی موجودگی کو یو ٹیوب کی بندش کی وجہ قرار دیا تھا اور اب بھی اسی مواد تک رسائی مکمل طور پر روکنے میں ناکامی کو ہی ویب سائٹ کھولنے میں تاخیر کی بنیادی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ معاملے سے باخبر ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تمام تکنیکی پہلوؤں سے مکمل طور پر آگاہ نہیں تھی اور اسی لیے اس تنازع کو لٹکایا جاتا رہا۔ ذرائع کے مطابق آج تک حکومت کی طرف سے گوگل سے یو ٹیوب پر قابلِ اعتراض مواد کی موجودگی کے بارے میں کوئی باضابطہ شکایت نہیں کی گئی۔ حکومت کی انٹرنیٹ سنسرشپ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں کیس دائر کرنے والے غیر جانبدار تکنیکی تھنک ٹینک بائٹس فار آل کے وکیل یاسر لطیف ہمدانی نے بھی تصدیق کی کہ حکومتی نمائندوں نے اس مقدمے کے دوران عدالت میں باضابطہ شکایت کی کوئی دستاویز پیش نہیں کی۔ یاسر ہمدانی نے مزید بتایا کہ موجودہ حکومت کی وزیر برائے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی انوشہ رحمان کو لاہور ہائی کورٹ نے اس کیس کے سلسلے میں دو بار طلب کیا ہے لیکن وہ ایک بار بھی پیش نہیں ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے رابطہ نہ کرنے کے باوجود رواں سال جولائی میں یو ٹیوب کا ایک نمائندہ اس پابندی کے سلسلے میں مذاکرات کرنے پاکستان بھی آیا تھا لیکن وفاقی وزیر برائے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔ اس سلسلے میں بی بی سی نے انوشہ رحمان سے کئی بار موقف لینے کی کوشش کی تاہم ان سے رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔ یہی نہیں بلکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی مزید تین ہزار کے قریب ویب سائٹس بند کر چکی ہے جن میں بے شمار فیس بک صفحات اور متبادل سماجی رابطے کو فروغ دینے والی ویب سائٹس بھی شامل ہیں۔ تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے تیز رفتار دور میں کوئی بھی طریقہ آن لائن ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر بلاک کرنے میں معاون ثابت نہیں ہو سکتا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والی ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی کنول چیمہ نےبتایا ’حکام اس طریقے کو ایک محدود مدت تک ہی استعمال کر سکتے ہیں۔ بہت ساری ویب سائٹس ایسی ہیں جہاں صرف یو آر ایل کے ذریعے قابل اعتراض مواد کو بلاک کیا جا سکتا ہے اور پوری ویب سائٹ کو بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن چونکہ یوٹیوب پر ویڈیو سٹریم ہوتی ہے، اس لیے مناسب فلٹر لگانا ایک چیلنج بن جاتا ہے اور اسی لیے فلٹرنگ اس مسئلے کا سو فیصد حل نہیں ہے۔‘ کنول چیمہ یو ٹیوب کی بندش سے جہاں عام انٹرنیٹ صارفین کی ویڈیو مواد تک رسائی میں مشکلات بڑھی ہیں وہیں یہ بندش کچھ متبادل ذرائع کے لیے نعمت بھی ثابت ہوئی ہے۔ پاکستانی ویب سائٹ ’ایگزیبِٹ‘ ایسی ہی ایک ویب سائٹ ہے۔ اس کے شریک بانی حاتم خان کا کہنا ہے کہ ان کی ویب سائٹ اب دیسی یوٹیوب کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ’اس ویب سائٹ پر پاکستانی اپنے فن کی ویڈیوز اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔ نوجوان موسیقاروں سے لے کر مصور تک ’ایگزیبِٹ‘ کو اپنا پلیٹ فارم بنا رہے ہیں۔ یو ٹیوب کی غیر موجودگی میں کاروبار چمک اٹھا ہے۔‘ حاتم خان حاتم کا مزید کہنا ہے ’یوٹیوب پر پابندی ہماری ویب سائٹ پر بڑھتے رش کی اہم وجہ ہے کیونکہ لوگوں کے پاس اور کوئی ذرائع نہیں۔‘
-
امریکی خاتون کا 36 حروف پر مشتمل نام
امریکی ریاست ہوائی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو اس بات کی اجازت مل گئی ہے کہ وہ ڈرائیونگ لائسنس پر اپنا پورا نام لکھوا سکیں۔ لیکن اس میں اجازت ملنے والی کیا بات ہے؟ جینس نامی اس خاتون کا خاندانی نام چھتیس حروف پر مشتمل ہے اور کمپیوٹر نظام کی مجبوریوں کی وجہ سے اتنا طویل نام شناختی دستاویزات پر پورا نہیں آتا۔ ان خاتون کا پورا نام Janice "Lokelani" Keihanaikukauakahihuliheekahaunaele ہے۔ اس وقت جینس کے ڈرائیونگ لائسنس پر ان کا مختصر نام درج ہے کیونکہ موجودہ کمپیوٹر نظام کے تحت صرف پینتیس حروف تک کے نام درج ہو سکتے ہیں۔ تاہم اب ہوائی کی حکومت کے کمپیوٹرز کو سال کے آخر میں اپ گریڈ کیا جائے گا اور یوں جینس کا پورا نام ان کے ڈرائیونگ لائسنس اور شناختی کارڈ پر آ سکے گا۔ مس جینس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے پورے نام کے لیے مہم کا آغاز اس لیے کیا کہ ان کا نام پڑھ کر جس طرح پولیس والے ان سے برتاؤ کرتے تھے وہ افسوسناک تھا۔ ’ایک پولیس والے نے مجھے روکا اور ڈرائیونگ لائسنس پر دیکھا کہ میرا پہلا نام نہیں ہے تو میں نے ان سے کہا کہ یہ میری غلطی نہیں کہ لائسنس اور ریاستی شناختی کارڈ پر میرا درست نام موجود نہیں۔ میں اس کی تصحیح کی کوششیں کر رہی ہوں۔‘ جینس کا کہنا ہے کہ اس پر پولیس والے نے جواب دیا ’آپ شادی سے قبل کے نام کو استعمال کرنا شروع کر سکتی ہیں۔‘ جینس نے کہا ’میں بائیس سال سے دیکھ رہی ہوں کہ ہوائی کی تہذیب کو روندا جا رہا ہے اور پولیس والے میرے نام کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے بے معنی نام ہو۔‘ مس Keihanaikukauakahihuliheekahaunaele نے اپنی شکایت گورنر کے دفتر میں کی جس کے بعد اعلان کیا گیا کہ نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ ان کا پورا نام لائسنس اور شناختی کارڈ پر آ سکے۔ گورنر کے دفتر کا کہنا ہے کہ ایسا اس سال کے آخر تک ہو جائے گا۔ گورنر کی ترجمان کیرولائن سلیٹر کا کہنا ہے کہ پوری ریاست کے کمپیوٹر نظام میں تبدیلی جا رہی ہے تاکہ لمبے نام بھی درج ہو سکیں۔ مس Keihanaikukauakahihuliheekahaunaele کو ان کا یہ انوکھا نام 1992 میں شادی کے بعد ملا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اس نام کے کئی معنی ہیں۔ ان میں سے ایک معنی ہے ’وہ جو ہمت سے کام لیتا ہے اور لوگوں کو ایسے وقت میں سمت دکھاتا ہے جب ہر طرف افراتفری اور کنفیوژن ہو‘۔
-
’یو ٹیوب کھولنے کے لیے نئی قانون سازی ضروری‘
پیغمبرِ اسلام کے بارے میں قابلِ اعتراض فلم ’انوسنس آف مسلمز‘ کی جھلکیاں دکھانے پر دنیا کی مقبول ترین ویڈیو سٹریمنگ ویب سائٹ یو ٹیوب پر پاکستان میں عائد پابندی کو ایک برس مکمل ہو گیا ہے اور نگراں دور کی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ نئی قانون سازی کے بغیر اس پابندی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ ملک کی موجودہ حکومت کی جانب سے یو ٹیوب کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن اور ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے ابتداء میں تو اس معاملے کے حل کے لیے اقدامات کے اعلانات کیے لیکن ان اعلانات کو نئی حکومت کے ابتدائی سو دن میں تو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا۔ پاکستان میں مئی میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل نگراں حکومت میں انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کی وزیر کے منصب پر فائز ثانیہ نشتر نے اس معاملے پر اپنی جانشین وزیر کے لیے ایک دستاویز بھی تیار کی تھی۔ بی بی سی اردو کو ملنے والے اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’میں تکنیکی اور قانونی ماہرین سے تفصیلی مشاورت اور ان کے ساتھ اس موضوع پر کام کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ یو ٹیوب پر عائد پابندی ہٹانے کا کوئی فوری طریقہ موجود نہیں ہے۔ ایسا اب صرف نئی قانون سازی ہی سے ممکن ہے۔‘ ستمبر 2012 میں یو ٹیوب کی بندش کے بعد سے پاکستان میں مختلف حلقے اس پابندی کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں لیکن حکومت کا موقف رہا ہے کہ مسلمانوں کے لیے قابل اعتراض مواد ہٹائے جانے یا بلاک کیے جانے تک یوٹیوب کو نہیں کھولا جا سکتا۔ "انٹرنیٹ لابیلٹی پروٹیکشن کے دائرہ کار میں کوئی اور پوشیدہ چیز نہیں ہے، اور بالکل یہ ایسے ہی جیسا کہ موبائل فون سروس فراہم کرنے والی ایک کمپنی کا کوئی صارف موبائل فون استعمال کرتے ہوئے کوئی جرم کرتا ہے تو کمپنی اس جرم کی ذمہ دار نہیں ہوتی ہے۔ اور پاکستان کے موجودہ ٹیلی کام قوانین میں موبائل کمپنیوں کو یہ تحفظ حاصل ہے، اور گوگل کا مطالبہ اس ضمن میں جائزہ ہے" اس مقصد کے لیے انٹرنیٹ ٹریفک پر ایسے فلٹرز کی تنصیب کی تجویز بھی پیش کی گئی جو اس مواد کو روک سکیں لیکن اس تجویز کو بھی تاحال عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا۔ عبوری حکومت کی وزیر ثانیہ نشتر کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں یو ٹیوب کی مالک کمپنی گوگل کی انتظامیہ، تکنیکی ماہرین اور ان ممالک کے حکام سے بھی رائے لی گئی جہاں پر یو ٹیوب پر یہ متنازع ویڈیو بلاک کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے مخصوص قابلِ اعتراض مواد کو خود بلاک کرنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک یو ٹیوب کا پاکستان کے لیے مخصوص ڈومین حاصل نہ کیا جائے۔ اس ڈومین کے حصول کے لیے حکومت کو کمپنی کو تحفظ کی ضمانت دینا لازم ہے جس کے لیے قانون سازی یعنی الیکٹرانک کرائم بل میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ انٹرنیٹ کے ماہرین کا بھی یہ کہنا ہے کہ یہ مسئلہ تکنیکی سے زیادہ حکومتی عدم دلچسپی کا ہے۔ انٹرنیٹ کمپنیوں کی ملک گیر تنظیم کے رکن اور انٹرنیٹ فراہم کرنے والے ادارے ’نیاٹیل‘ کے سربراہ وہاج السراج کے مطابق حکومت کے پاس اس پابندی کو ختم کرنے کے کئی راستے ہیں لیکن بظاہر لگتا یہ ہے کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں یا پھر اس معاملے میں کوئی سیاسی عزم نہیں ہے جس کی وجہ سے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ گوگل کی جانب سے حکومت پاکستان سے انٹرنیٹ لائبیلٹی پروٹیکشن کے تحت تحفظ مانگنا بالکل صحیح مطالبہ ہے۔ "پاکستان میں ورچوئل یونیورسٹیوں کے ایک لاکھ کے قریب طالب علم ہیں اور ان کے بہت سارے آن لائن لیکچرز یو ٹیوب پر ہی ہیں۔ یہ پابندی ان طلباء سے بہت زیادتی ہے جن کے پاس کوئی دوسرا موثر متبادل بھی نہیں۔" وہاج السراج ان کے مطابق ’ وہ کہتے ہیں اگر کوئی شخص ہماری ویب سائٹ(یو ٹیوب) پر کوئی قابلِ اعتراض مواد پوسٹ یا جاری کر دیتا ہے تو اس مواد کو ہم ہٹا تو دیں گے لیکن اس کی وجہ سے ہمارے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔ میرے خیال میں گوگل کا یہ نکتہ بہت منطقی ہے اور اسے حکومت موجودہ قوانین میں بڑی آسانی سے شامل کر سکتی ہے۔‘ ان کے مطابق اگر حکومت چاہے تو صدرِ مملکت ایک آرڈیننس جاری کر کے اسے قانون میں شامل کر سکتے ہیں اور بعد میں پارلیمان میں قانون سازی کی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی کے لیے سرگرم کارکن حسن بلال زیدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جہاں سمارٹ فونز استعمال کرنے والے لاکھوں افراد کی یو ٹیوب تک رسائی بالکل بند ہے وہیں کمپیوٹرز پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والے یو ٹیوب کے صارفین نے کئی متبادل ذرائع بھی تلاش کر لیے ہیں۔ ’پاکستان میں اس وقت سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ پچاس لاکھ سے زائد ہے اور ان کی اکثریت یوٹیوب کا استعمال بھی کرتی تھی۔‘ اب یہ صارفین جہاں ویڈیو شیئرنگ کی دیگر ویب سائٹس استعمال کر رہے ہیں وہیں ان کی پروکسی کے ذریعے یوٹیوب تک رسائی بھی ہو جاتی ہے لیکن ان طریقوں سے یو ٹیوب پر جانے والوں کی تعداد پابندی سے پہلے کے صارفین سے نصف رہ گئی ہے۔ حسن کے مطابق ’صارفین نے کسی نہ کسی طرح متبادل تلاش تو کیا ہے لیکن اس پابندی کے اصل متاثرین طالبعلم ہیں جو یو ٹیوب پر موجود لیکچرز سے محروم ہوئے ہیں یا پھر وہ صارف ہیں جو کمپیوٹر کے زیادہ ماہر نہیں اور پیچیدہ انٹرنیٹ ویب سائٹس پر نہیں جا سکتے‘۔
-
~!~ [ Believe it or Not its All Made from Wood... ] ~!~
- ~!~ [ Believe it or Not its All Made from Wood... ] ~!~
- ~!~ [ Believe it or Not its All Made from Wood... ] ~!~
- ~!~ [ Believe it or Not its All Made from Wood... ] ~!~
- ~!~ [ Believe it or Not its All Made from Wood... ] ~!~
- ~!~ [ Believe it or Not its All Made from Wood... ] ~!~
- ~!~ [ Believe it or Not its All Made from Wood... ] ~!~
- ~!~ [ Believe it or Not its All Made from Wood... ] ~!~
- ~!~ [ Believe it or Not its All Made from Wood... ] ~!~
- ~!~ [ Believe it or Not its All Made from Wood... ] ~!~
- ~!~ [ Believe it or Not its All Made from Wood... ] ~!~
- 315 Super Hot HQ Wallpapers
Thanks, very nice sharing…- ~!~ [ Picture News(Daily Updated) ] ~!~
- ~!~ [ Picture News(Daily Updated) ] ~!~
- ~!~ [ Picture News(Daily Updated) ] ~!~
- ~!~ [ Picture News(Daily Updated) ] ~!~
- ~!~ [ Picture News(Daily Updated) ] ~!~
- ~!~ [ Picture News(Daily Updated) ] ~!~
- ٹوئن ٹاورز ایکیوریم
Thanks, very nice sharing…- Beauty of ITLY
Thanks, very nice sharing…- Strange and Unusual Guns
Thanks, very nice sharing…Navigation
Search
Configure browser push notifications
Chrome (Android)
- Tap the lock icon next to the address bar.
- Tap Permissions → Notifications.
- Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
- Click the padlock icon in the address bar.
- Select Site settings.
- Find Notifications and adjust your preference.
Safari (iOS 16.4+)
- Ensure the site is installed via Add to Home Screen.
- Open Settings App → Notifications.
- Find your app name and adjust your preference.
Safari (macOS)
- Go to Safari → Preferences.
- Click the Websites tab.
- Select Notifications in the sidebar.
- Find this website and adjust your preference.
Edge (Android)
- Tap the lock icon next to the address bar.
- Tap Permissions.
- Find Notifications and adjust your preference.
Edge (Desktop)
- Click the padlock icon in the address bar.
- Click Permissions for this site.
- Find Notifications and adjust your preference.
Firefox (Android)
- Go to Settings → Site permissions.
- Tap Notifications.
- Find this site in the list and adjust your preference.
Firefox (Desktop)
- Open Firefox Settings.
- Search for Notifications.
- Find this site in the list and adjust your preference.
- ~!~ [ Believe it or Not its All Made from Wood... ] ~!~