-
-
مجھ پہ جو گزری ہے
میاں صاحب، آپ کی محبت اور پسندیدگی کا شکریہ، میں یہ کہانی مکمل کروں گا مگر اب دوسری کہانی کا ریسپانس دیکھ کر
-
مجھ پہ جو گزری ہے
دلچسپی دکھانے کا شکریہ دوستو۔ رہی بات معیار کی تو یہ ایک کہانی ہے اور کہانی ہی رہے گی۔۔۔ کیونکہ یہ میری اپنی زندگی سے اقتباس ہے نہ کہ کوئی نقل یا کاپی پیسٹ۔ آہستہ آہستہ آپ سب کو اندازہ ہو جائے گا۔ پھر سے دلچسپی دکھانے کا شکریہ
-
مجھ پہ جو گزری ہے
5 سال کی عمر میں کسی کو بھی سیکس کا پتا نہیں ہوتا بس اتنا پتا ہوتا ہے کہ للی کو پھودی سے لگانا ہے اور آگے پیچھے ہلنا ہے۔ 5 سے 10 سال کے سبھی لڑکے لڑکیوں کا یہی سیکس ہوتا ہے ، میرا بھی یہی تھا جو کہ میں نے پہلی بار اپنی پھپھو کی بیٹی رابی سے سیکھا جو میری ہی ہم عمر تھی۔ پہلی بار رابی نے ہی مجھے کہا کہ شاہ آئو تمہیں ایک نیا کھیل سکھاتی ہوں، ہوا کچھ یوں کہ گرمیوں کے دن تھے اور دوپہر کے وقت سب بڑے آرام کر رہے تھے جب کہ بچوں کا تو آرام نام کی چیز سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لہذا ہم بھی دوپہر کو لکا چھپی کھیل رہے تھے باری میرا ایک کزن اچھو دے رہا تھا جب کہ میں اور رابی اکٹھے چھپے ہوئے تھے رابی کہنے لگی شاہ لکا چھپی تو بہت کھیلی ہے آج ایک نیا کھیل کھیلیں، میں نے کہا ٹھیک ہے، تو رابی کہنے لگی پھر ایسا کرو تم پکڑے جائو تو تمہاری باری آ جائے گی پھر تم سیدھا سٹور میں آ جانا میں وہاں تمہارا انتظار کروں گی، میں نے کہا ٹھیک ہے اور میں نے باری اپنے سر لیلی۔ جیسے ہی میں سٹور میں پہنچا تو رابی نے مجھے جپھی ڈال لی جو کہ میرے لئے نئی بات تھی پہلے تو میں بہت حیران ہوا پھر رابی سے پوچھا یہ کیا ہے تو کہنے لگی کہ یہ کھیل ایسے ہی کھیلتے ہیں۔ پھر رابی نے اپنی شلوار نیچے کر لی اور مجھے بھی شلوار نیچے کرنے کا کہا تو میں نے بھی شلوار نیچے کر لی پھر رابی نے میری للی کو ہاتھ سے پکڑ کر ہلانا شروع کر دیا مجھے سمجھ تو ککھ نہ آئی بس ایک مزا تھا جو پتا نہیں کس چیز کا تھا، میری للی کو ہلاتے ہوئے رابی نے کہا شاہ تم بھی میری پھودی کو ہاتھ لگائو اور میں نے اس کی پھودی کو ہاتھ سے ملنا شروع کر دیا
-
مجھ پہ جو گزری ہے
اسلام و علیکم۔دوستو میں جو کہانی لکھنے جا رہا ہوں اس میں سب سچ ہوگا مگر صرف وہ سچ جو مجھ پر بیتا اور مجھے سیکس کی گمراہ کن نظریات دنیا میں لے گیا جہاں سے میں آج تک باہر نہ نکل سکا
مسٹر شاہ
Previous Members
-
Joined
-
Last visited