Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Asifa Kamran

Darmat Members
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Asifa Kamran

  1. رومن کیتھولک چرچ کے ایک اور سینیئر رکن کے جنسی سکینڈل میں ملوث ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا جنسی تعلقات سے مستقل طور پر کنارہ کشی حقیقتاً ممکن ہے؟ مجرد رہنے کا مطلب جنسی تعلقات سے اجتناب نہیں بلکہ لاطینی زبان سے اخذ کیے گئے لفظ (celibate) کا مطلب ہمیشہ کے لیے جنسی تعلقات سے دوری ہے۔ اجتناب وقتی ہو سکتا ہے اور کسی فرد سے تعلقات کے دوران بھی آپ اس سے جنسی تعلق رکھنے میں اجتناب برت سکتے ہیں۔ حقیقی تجرد کا مطلب یہ ہے کہ آپ ساری عمر بغیر کسی ساتھی اور کسی سے جنسی تعلق قائم کیے گزار دیں۔ تجرد کا ذکر کیتھولک کارڈینل کیتھ او برائن کے اس اعتراف کے بعد پھر چھڑا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کی ’جنسی حرکات‘ اس معیار پر پورا نہیں اترتیں جس کی ان سے توقع کی جاتی ہے۔ ایک کیتھولک پادری ہونے کے ناتے ان سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ ہر قسم کی جنسی سرگرمی سے اجتناب کریں گے اور خود کو خدا اور چرچ کے معتقدین کے لیے وقف کر دیں گے۔ بودھ مذہب میں بھی راہبوں سے یہی توقع کی جاتی ہے اور دونوں مذاہب میں مشت زنی تک تجرد کی خلاف ورزی قرار دی جاتی ہے۔ ایسے افراد جو مذہب سے لگاؤ نہیں رکھتے، ان کے لیے اس صورتحال کو سمجھنا آسان نہیں اور اگر تجرد کی سخت ترین تعریف کی بات کی جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے؟ آکسفرڈ یونیورسٹی میں اینڈوکرینالوجی کے پروفیسر جان واس کا کہنا ہے کہ تجرد مکمل طور پر ایک غیرمعمولی حالت ہے۔ ان کے مطابق اسّی سے نوے فیصد مرد مشت زنی کرتے ہیں اور بظاہر پادری بھی ایسا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق تجرد کی زندگی گزارنا ایک صحتمندانہ عمل بھی نہیں کیونکہ جو افراد زیادہ مادۂ منویہ خارج کرتے ہیں ان کے پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا ہونے کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔ سابق پادری جمی او برائن جنہوں نے رہبانیت ترک کر کے خاندان شروع کرنے کا فیصلہ کیا کہتے ہیں ’ایک نوجوان کے لیے تجرد اختیار کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ روزانہ کی جنگ ہے جبکہ کچھ اس سے زیادہ متاثر نہیں بھی ہوتے۔‘ مذہبی مدرسے ایلن ہال کے استاد پادری سٹیفن وینگ کا کہنا ہے کہ یہ ایک قربانی ہے اور بیشتر پادری یہ قربانی دیتے ہیں۔ ’جب لوگ ذہنی طور پر پختہ ہوتے ہیں اور ان کا عقیدہ مضبوط ہوتا ہے تو پھر یہ ایک شوہر کے اپنی بیوی سے وفادار رہنے سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔‘ جمی او برائن کے مطابق یہ صرف حیاتیات کی بات نہیں بلکہ جنسی کیمیا تجرد کو ایک مشکل طرزِ حیات بنا دیتی ہے۔ ’خواتین بعض اوقات پادریوں کو ’شجرِ ممنوعہ کا پھل‘ سمجھ لیتی ہیں جسے حاصل کرنا ان کے لیے ایک چیلنج ہوتا ہے‘۔ لیکن ان کا یہ کہنا ہے کہ اس طرزِ زندگی میں سب سے بڑا مسئلہ تنہائی ہے۔’ہم انسان ہیں اور تنہائی ایک بڑی چیز ہے۔ ہم میں سے بہت سے افراد کو زندگی میں ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘ اب کارڈینل او برائن سمیت بہت سے کیتھولکس تجرد کے بارے میں دوبارہ غور کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وشواپنی کے لیے مسئلہ تجرد نہیں بلکہ اسے عمر بھر کے لیے لاگو کیے جانے کا احساس ہے۔ ’مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جو لوگ اسے قائم نہیں رکھ پاتے لیکن ان کے پاس جنسی طور پر سرگرم رہنے کا ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا جو غیراخلاقی نہ ہو۔‘ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیوں کچھ مخصوص لوگ تجرد کی زندگی اختیار کرتے ہیں۔ عدم برداشت کا شکار اس معاشرے میں بہت سے ہم جنس پرست افراد پادری بننے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تاکہ وہ جنسی عمل سے بچ سکیں۔ تجرد کی تاریخ نامی کتاب کی مصنفہ الزبتھ ایبٹ کا کہنا ہے کہ مسئلہ تجرد کے ممکن ہونے کا نہیں بلکہ اسے رسم کے طور پر اپنائے جانے کا ہے۔ ’پادریوں کو اپنی خواہشات کو دبانے پر مجبور کرنا یا ان کے جنسی رویوں کو چھپانا ہزاروں برس سے ناکام ہوتا رہا ہے۔ اس کے نتائج خوفناک ہوتے ہیں۔‘ جمی او برائن کا کہنا ہے کہ آنے والے پوپ کو تجرد کے معاملے پر غور کرنا چاہیے۔ سابق پادری جمی او برائن نے تئیس برس قبل شادی کی تھی اور ان کے خیال میں یہ ایک صحیح فیصلہ تھا۔ ’ایک خاندانی زندگی کے تجربے کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میرے پاس گرجا گھر کو دینے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔‘ تاہم پادری سٹیفن وینگ کے مطابق لوگ تجرد کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ ان کے خیال میں یہ خدا اور اس کے بندے کا انوکھا تعلق ہے۔ ’یہ کوئی بندش نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ چرچ صرف پادریوں کو ہی نہیں بلکہ کسی بھی غیر شادی شدہ فرد کو جنسی تعلقات سے اجتناب کو کہتا ہے۔
  2. جرمنی کی سلامتی سے متعلق محققین کی ایک ٹیم نے اس بات کا پتا چلایا ہے کہ اگر اینڈروئیڈ فونز کو منجمد کر دیا جائے تو اس کے اندر خفیہ مواد کا سراغ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔ جرمن ٹیم نے اینڈروئیڈ فونز کے خفیہ سسٹم تک رسائی کے لیے ان فونز کو ایک گھنٹے تک منجمد کیا۔ محققین کو اینڈروئیڈ فونز منجمد کرنے سے ان فونز کی کانٹیکٹ لسٹ، براؤزنگ ہسٹری اور تصاویر تک رسائی مل گئی۔ جرمن محققین کی ٹیم نے فرائیڈرچ الیگزینڈر یونیورسٹی کے بلاگ میں اپنی تحقیق کے بارے میں بتایا کہ اینڈروئیڈ فونز کے ڈیٹا کو گڈ مڈ کرنے کا سسٹم ان کے صارفین کے لیے اچھا ہے تاہم قانون نافذ کرنے والے اور فورینزک کارکنوں کے لیے یہ ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے۔ فرائیڈرچ الیگزینڈر یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی اس ٹیم کے ارکان ٹیلو ملر، مائیکل سپریت سنبارت اور فیلکس فریلینگ نے اینڈروئیڈ فونز کو ایک گھنٹے تک فریزر میں رکھا یہاں تک کہ اس ڈیوائس کا درجۂ حرارت منفی دس ڈگری سے نیچے گر گیا۔ ٹیم کے ان ارکان کو معلوم ہوا کہ منجمد کیےجانے والے فون کو بیٹری سے کنیکٹ اور ڈس کنیکٹ کرنے سے اس کا ہینڈ سیٹ غیرمحفوظ موڈ میں چلا جاتا ہے۔ محققین نے ’فراسٹ‘ نامی سافٹ وئیر کے ذریعے اینڈرائیڈ فونز سے ڈیٹا حاصل کر کے اس کا کمپیوٹر پر تجزیہ کیا۔ محققین نے اپنی تحقیق کو سام سنگ گلیکسی نیکسس ہینڈ سیٹ پر آزمایا کیونکہ یہ ان پہلے فونز میں شامل ہے جو اینڈروئیڈ کا ڈسک اینکرپشن سسٹم استعمال کرتےہیں۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.