Everything posted by Haider514
-
منحوس سے معصوم تک
خوش آمدید معزز ایڈمن کیا میں یہاں منحوس سے معصوم تک کی اپ ڈیٹ کر سکتا ہوں۔ دارصل وہ ایک انسسٹ اسٹوری ہے۔ (لیکن ماں بہن کے ساتھ نہیں ) اگر آپ کی اجازت ہو تو میں شروع کرنے کی جسارت کر سکتا ہوں
-
ارمان ایک طویل داستان
اوپر سے لڑائی جھگڑا والے مسائل میرے لیے اضافی کام ہوتے ہے . . . " " لیکن . . . . " " لیکن ویکن چھوڑ اور یہ فارم بھر . . . " بستر پر ایک فارم پھینکتے ہوئے سردار نے کہا " کل صبح میرے ہاسٹل میں پہنچا دینا . . . . " " ٹھیک ہے بھائی " سردار كے جانے كے بَعْد میں سگریٹ لینے كے لیے دکان کی طرف بڑھا ، کل پھر ٹیسٹ تھا اور تیاری زیرو تھی لیکن پھر بھی اِس وقت دماغ میں پڑھائی کرنے کا خیال دور دور تک نہیں تھا ، پیدل چلتے ہوئے پورے راستے میرے دماغ میں کئی خیالات ابھر رہے تھے ، صرف پڑھائی اور کل كے ٹیسٹ کو چھوڑ کر . . . . سارہ ، سمیرہ ، سحرش میڈم ، سردار ، اظہر اور کاشف ان سب نے میرے دماغ میں قبضہ کر لیا تھا . . . سگریٹ كے کش لگاتا ہوا میں کبھی سارہ سے آج ہوئی اپنی جھاڑپ كے بارے میں سوچ كے مسکراتا تو کبھی سحرش میڈم کی ہلکی گلابی رنگ كے شلوار میں قید ان کی گداز رانوں کے بارے میں سوچتا ، " یہ سمیرہ اس دن كے بَعْد کالج میں نہیں دکھی . . . " ہاسٹل کی طرف آتے ہوئے میں نے خود سے کہا اور یہ سچ بھی تھا کیوںکہ اس دن كی لڑائی كے بَعْد سمیرہ کو میں نے کالج میں نہیں دیکھا تھا ، سمیرہ جیسی لڑکی جو ایک دن میں کالج كے دس چکر مارتی ہو وہ کالج میں ایک ہفتے سے نہ دیکھے تو تھوڑا جھٹکا تو لگتا ہی ہے ، وہ مجھے ایک ہفتے سے نہیں دکھی تھی اس کا ایک ہی مطلب ہو سکتا ہے کہ وہ ایک ہفتے سے کالج ہی نہیں آئی . . . . لیکن کیوں ، میں نے تو عورت ذات کا احترام کرتے ہوئے اسے سہی سلامت بھیجا تھا ، " ماہ واری چل رہی ہوگی . . . " میں نے اندازہ لگایا اور سگریٹ كے کش مارتے ہوئے پھر ہاسٹل کی طرف چل پڑا ، لیکن دماغ میں اب بھی سمیرہ نے قبضہ کر رکھا تھا ، کیوںکہ اس دن كی لڑائی كے بَعْد مجھے یقین تھا کہ اس کی اور میری ملاقات ہوگی اور کیسی ہوگی ، اس کا کیا برتاؤ کیسا ہوگا . . . وہ مجھے دیکھ کر مسکرائے گی یا پھر غصہ کرے گی یا پھر کچھ اور ہی کرے گی . . . . " منو کو شاید کچھ پتہ ہو . . . " انہی سوچوں میں گم میں ہاسٹل میں داخل ہوا اور سیدھا منو كے روم کی طرف چل پڑا . . . " اور منو پیپر کیسا رہا . . . " منو كے روم میں داخل ہوتے ہی میں نے اس سے پوچھا . . . " ایک سوال رہ گیا . . . " " لا یار پانی پلا ، بہت گرمی تھی باہر . . . " " میں ابھی پڑھائی کروں گا تو جا یہاں سے ، ایک ہفتے بَعْد آنا جب ٹیسٹ ختم ہو جائینگے . . . " ایک سانس میں ہی منو نے کہا . . . " ابے کتے ، میں نے تجھے ڈسٹرب کرنے نہیں آیا ہو . . . . بس کچھ جاننا ہے " " کیا جاننا ہے . . . " " سمیرہ کو جانتا ھوگا . . . " سیدھے پوائنٹ پر آتے ہوئے میں نے کہا " وہ کچھ دنوں سے دکھی نہیں کالج میں ؟ " " سمیرہ . . . " اپنے ماتھے پر شکن ڈالتے ہوئے منو نے اپنے دماغ میں گوگل کی طرح سمیرہ کا نام سرچ کرنے لگا اور جلد ہی وہ بولا " وہ کالج میں دکھے گی کیسے ، وہ تو ایک ہفتے سے کالج ہی نہیں آئی . . . " " تجھے کیسے معلوم ، " " کل رات ہی فیس بک پر اسے بات ہوئی تھی میری . . . " " واہ . . . وجہ معلوم ہے . . . " " اس نے کچھ نہیں بتایا . . . . " " چل ٹھیک ہے تو پڑھائی کر ، بائے . . " منو كے روم سے باہر نکلتے ہوئے نہ جانے کیا دل میں آیا کہ میں پیچھے موڑا اور منو سے بولا " سارہ کی کوئی نئی خبر . . . . " پہلے تو منو ہچکچایا اور مجھے اپنی آنکھوں سے یہ بتانے لگا کہ اس کے معشوق نے مجھے سب کے سامنے تھپڑ مارے تھے اس کا نام مت لے اور پھر میں نے بھی اسے آنکھوں كے اشارے سے بتایا کہ میں نے بھی تو صغیر کو سب کے سامنے تھپڑ مارا تھا ، حساب برابر . . . . . " سارہ . . . " دماغ میں سارہ کا نام سرچ کرتے ہوئے منو بولا " اس کے معشوق صغیر كے باپ کو کسی نے چاقو مارا ہے اور اپنے باپ كے علاج كے سلسلے میں وہ کل شہر سے باہر گیا ہے تقریباً ایک ہفتے كے لیے . . . کل سینیر كے ہاسٹل گیا تھا تو وہی کچھ لوگوں نے بتایا " " شکریہ منو " اُچھل کر میں نے اسے گلے لگا لیا اور پھر اس کے بستر پر اسے پٹخ کر میں اپنے خیالوں میں گم ہوگیا . . . . . اب کچھ دن تک میں اور سارہ ایک ساتھ ایک ہی کالج میں ، اور آج ایک بار پھر سے مجھے انتظار تھا کل کی صبح کا . . . کل كا ٹیسٹ جلدی سے ختم ہونے کا . . . . پروگرام سادہ سا تھا کل جب ٹیسٹ ختم ھوگا تو میں پورا کالج چھان ماروں گا اور جہاں بھی سارہ ملے گی وہی اس سے لڑائی کر کے اپنا موڈ فریش کروں گا ، وہ چلائے گی چیخے گی مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دے گی . . . اور میں اسے چڑیل چڑیل کہتا رہوں گا . . . . دل کے ارمان پھر مچل اٹھے ، دِل پھر کھل اٹھا . . . . قسمت پھر جاگ اٹھی اور میں اپنے روم میں داخل ہوتے ہوئے بولا " ایک سوال چھوڑ دوں گا کل ایگزام میں اور جلدی سے جلدی سارہ کو ڈھونڈنے نکل جاؤں گا. . . " اس دن نہ تو میں نے ڈھنگ سے اگلے دن ہونے والے ایگزام کی تیاری کی اور نہ ہی ڈھنگ سے سویا . . . جب بھی آنکھ لگتی ، پلکیں بھاری ہونے لگتی تبھی سارہ کی بھوری آنکھوں کو میں محسوس کرتا ، اس کی صورت نیند میں بھی کسی سائے کی طرح مجھ سے لپٹی رہتی ، مجھے ایسا لگتا جیسے کے وہ میرے پاس وہی میرے ہی بستر پر میرے اوپر لیٹی ہو اور بائیں سائیڈ میں دھڑک رہے دِل کو مسکراتے ہوئے سہلا رہی ہو اور پھر جب میں اسے اپنی بانہوں میں لینے کے لئے اپنے ہاتھ آگے کرتا تو وہ غائب ہو جاتی ، اور میری آنکھ کھل جاتی . . . . سارہ کو وہاں نہ پا کر مجھے تھوڑا دکھ بھی محسوس ہوتا اور خود پر ہنسی بھی آتی . . . . کسی كے خیالوں میں کھوئے رہنا ، سوتے جاگتے بس اسی كے بارے میں سوچنا یہ سب میں نے صرف افسانوں میں ہی پڑھا تھا یا فلموں میں ہوتے ہوئے دیکھا تھا . . . لیکن اس رات ان سب لمحوں کو میں نے خود محسوس کیا ، میں جب بھی اپنی آنکھیں بند کرتا اور ہلکی سے نیند آنے لگتی تبھی نہ جانے کہاں سے سارہ آ جاتی اور ہم دونوں ایک دوسرے سے لڑنا جھگڑنا شروع کر دیتے . . . . میں نے تو اسے چھیڑنے كے لیے اس کا نام تک سوچا لیا تھا " چڑیل . . . " حقیقت کی طرح میں خوابوں میں بھی اسے چڑیل کہتا اور حقیقت کی طرح خوابوں میں بھی وہ مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دیتی . . . اسے پانے كے لیے دل تڑپ رہا تھا ، اسے چومنےكے لیے میں بیتاب ہوا جا رہا تھا . . . . اس وقت میرے لیے ساری دُنیا ایک طرف اور سارہ ایک طرف تھی ، " کل کا پیپر پکا خراب جانے والا ہے . . . " آدھی رات کو میں لگاتار نیند كے ٹوٹنے سے پریشان ہو کر بیٹھ گیا اور آنکھیں ملتے ہوئے اندھیرے میں ہی سگریٹ جلائی . . . . میری آنکھوں میں اس کی صورت کا کچھ ایسا رنگ چڑا تھا کہ مجھے ڈر لگنے لگا تھا خود سے کہ کہی میں وہ رنگ دیکھتے دیکھتے اندھا نہ ہو جاؤں ، میں اس وقت عجیب حرکتیں کر رہا تھا . . . سگریٹ كے کش لیتے ہوئے میں کبھی سارہ کو پانے كے لیے بے چین ہو جاتا تو کبھی اس کے بارے میں سوچ کر دِل کھل اٹھتا . . . . موبائل میں ٹائم دیکھا رات كے دو بج رہے تھے ، نیند تو آنے سے رہی اس لئے میں نے باہر ٹہلنے کا فیصلہ کیا اور روم سے باہر آ گیا ، اظہر سکون سو رہا تھا اس لئے اسے اُٹھا کر گپ شپ کرنے کا دل نہیں کیا . . . سنا تھا کہ زندگی میں کبھی کبھی کوئی چیز ہمیں ایسی مل جاتی ہے جو زندگی سے بھی زیادہ پیاری لگنے لگی ، زندگی سے بھی زیادہ انمول لگے اور آج مجھے وہ چیز مل گئی تھی ، آج وہ زندگی سے بھی پیاری اور انمول چیز ایک لڑکی كے روپ میں مجھے ملی گئی تھی ، جو سیدھ بائیں سائڈ میں اثر کرتی تھی . . . . . میرا دماغ اب بھی مجھے اِس بات کی ہدایت دے رہا تھا کہ میں اس کے بارے میں نہ سوچوں ، میرا دماغ یہ بھی کہہ رہا تھا کہ سارہ کبھی بھی مجھ سے دِل نہیں لگائے گی ، اُس رات میں نے پیپر میں آنے والے کسی بہت ہی اہم سوال کی طرح زندگی كے اُس بہت ہی اہم سچ کو بھی درگزر کر دیا ، اُس بہت ہی اہم سچ کو میں نے کئی بہانے بناتے ہوئے ٹال دیا اِس آس میں کہ کسی نہ کسی بہانے سے سارہ اِس بہانے کو سچ کر دے گی . . . . . اُس رات کافی دیر تک ادھر اُدھر ٹہلنے كے بات میں وآپس اپنے بستر پر جا گرا اور صبح كے پانچ بجے جا کر میری آنکھ لگی جو ٹیسٹ شروع ہونے سے آدھے گھنٹے پہلے کھلی ، وہ بھی اظہر كے اٹھانے كع وجہ سے . . . " کیا یار ، آج ٹیسٹ دینے نہیں جانا کیا . . . " اظہر نے مجھ سے پوچھا ، وہ بلکل تیار تھا اور اب شاید ایک بار دوبارہ سے یاد دہانی کے لئے پڑھنے کے موڈ میں تھا . . . . . " ٹائم . . . . " آنکھوں کو ملتے ہوئے میں نے بولا " ٹائم کیا ہوا ہے " " زیادہ نہیں صبح كے دس بج رہے ہے ، آدھے گھنٹے میں ٹیسٹ شروع ہونے والا ہے . . . . اگر نیند پوری نہ ہوئی ہو تو پانچ دس منٹ کی ایک چھوٹی سی نیند اور لے لے . . . " " پانچ منٹ بَعْد اٹھا دینا . . . " یہ بول کر میں نے پھر سے چادر اوڑھ لی . . . . اُس دن كے ٹیسٹ میں مجھے صرف اتنا معلوم تھا کا ٹیسٹ کس سبجیکٹ کا ہے ، تاریخ اور دن بھی میں نے آگے والے سے پُوچھ کر لکھا تھا ، مجھ جیسے قابل لڑکے سے پیپر کے ایک سوال کا جواب نہیں بن رہا تھا ، دِل کیا کہ خالی کاپی امتحانی ٹیچر كے منہ پر دے ماروں ، لیکن پھر رزلٹ میں ایک بڑے سے زیرو کا خیال آیا تو ہر سوال كے جواب میں کچھ کچھ لکھ کر باہر نکلا . . . . جس حساب سے میں نے آج کا ٹیسٹ دیا تھا اس کے اثرات سے تو مجھے بہت دُکھی ھونا چاہئے تھا اور اظہر کو گالیاں دے دے کر اپنی بھراس نکالنی چاہئے تھی لیکن نہ تو میں دُکھی تھا اور نہ ہی میرا گالیاں دینے کا دل کر رہا تھا ، میں خوشی خوشی ٹیسٹ ٹیچر کو کاپی پیش کرکے باہر آیا ، . . . پہلے میں لائبریری میں داخل ہوا لیکن آج وہاں سارہ نہیں تھی ، اس کے بَعْد میں نے اوپر نیچے تمام کوری ڈور میں بھی ڈھونڈہ لیکن سارہ پھر بھی نہ دکھی . . . . تب جا کر مجھے خیال آیا کہ ٹیسٹ تو اس کا بھی ہے ، ابھی ایگزامینیشن روم میں ہی ھوگی تو کیوں نہ جہاں اس کی گاڑی کھڑی ہوتی ہے وہاں سے تھوڑی دور کھڑے ہو کر انتظار کیا جائے . . . . . تقریباً آدھے گھنٹے میں کالج پارکنگ كے پاس کھڑا رہا لیکن وہاں پارکنگ میں نہ تو اس کی گاڑی تھی اور نہ ہی سارہ . . . لیکن میں پھر بھی وہاں کھڑا رہا کیوںکہ مجھے یقین تھا کہ کوئی بھی اتنی جلدی ایگزام ہال سے نہیں نکلے گا . . . . تقریباً آدھے گھنٹے تک میں مزید وہاں کھڑے ہوکر مکھیاں مارتا رہا تب جا کر سارہ دکھائی دی ، وہ اپنی کچھ دوستوں كے ساتھ ہنستے ہوئے کالج كے گیٹ سے باہر آ رہی تھی اور گھوم کر اپنے دوستوں كے ساتھ کینٹین کی طرف چل دی . . . . . . " ایک نمبر کی بھوکی ہے یہ تو ، میں اتنی دیر سے اس کے انتظار میں یہاں کھڑا ہو اور وہ کینٹین کی طرف چل دی . . . . " میں بھی کینٹین کی طرف چل پڑا لیکن کینٹین میں گھسنے سے پہلے میں نے سردار کو کال کی اور بولا کہ میں کینٹین میں جا رہا ہوں، نظر مارتے رہنا . . . . . . میں کینٹین میں جہاں سارہ بیٹھی تھی اسی كے پاس والی ٹیبل پر بیٹھا . . . کچھ دیر تک تو اس کی دوست وہی رہی لیکن پھر سب اپنے اپنے گھر کو نکل گئی . . . سارہ کو اس کے کئی دوستوں نے کہا کی وہ ان کے ساتھ۔چلے وہ انہیں گھر چھوڑ دیں گی . . . لیکن سارہ نے ہر کسی کو ٹال دیا ، وہ بولی کے اس کے بابا نے ڈرائیور اور گاڑی بھجوا دی ہے . . . ڈرائیور جلد ہی یہاں پہنچ جائیگا . . . . . " دو پیپسی لانا " میں نے آرڈر دیا اور دو پیپسی کی بوتل لے کر جہاں سارہ بیٹھی تھی وہاں جا کر میں بیٹھ گیا . . . . " تم . . . . " " کہیں، کیا خدمت کر سکتا ہوں . . . " " یہ سیٹ بُک ہے ، تم جاؤ یہاں سے . . . " " اور نہیں گیا تو . . . " " تو یاد ہے نہ، وہ خنجر اور تمہارا سینہ . . . " " چل چڑیل ، تیرے میں اتنی ہمت کہا . . . . " " اِس کینٹین کا مالک کون ہے . . . " سارہ نے تیز آواز میں کہا ، جسے سن کر جلد ہی وہاں کام کرنے والا ایک آدمی پہنچ گیا . . . . جسے دیکھ کر سارہ بولی " اسے یہاں سے لے جاؤ ، یہ مجھے پریشان کر رہا ہے . . . " کینٹین والا کچھ بولتا اس سے پہلے ہی میں نے ہاتھ دیکھا کر وہاں سے جانے کی دھمکی دی ، کبھی سارہ اسے آنکھ دکھاتی تو کبھی میں . . . . جس سے بے چارہ تنگ آکر بولا " آپ دونوں اپنا مسلہ خود حل کر لو ، مجھے بہت کام ہے . . . " کینٹین میں کام کرنے والے اُس شخص كے جانے كے بَعْد سارہ کچھ دیر تک چُپ کچھ کھاتی رہی اور پھر جب اس کا كھانا پینا ختم ہوا تو وہ اپنا ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر میری طرف جھکی اور دھیرے سے بولی . . . . " یہاں صغیر كے کئی دوست ہے ، صغیر آ کر لڑائی کرے گا . . . " " تم اس کی فکر مت کرو . . . " میں نے بھی دھیرے سے بولا . . . " تو جاؤ یہاں سے . . . " اب کی بار وہ چلا کر بولی . . . جس کی وجہ سے سب کی نظریں ہم دونوں پر آ ٹکی . . . " یار تم شکارپوری والی حرکتیں مت کیا کرو ، ورنہ تمھیں اپنے آس پاس بھی نہیں رہنے دوں گا . . . " " میں تمھارے اس پاس گھومتی ہوں کیا ، تم ہی میرے پیچھے پڑے ہو . . . . " " آئی . . . . . " میں ایک بار پھر اس ایک لفظ سے آگے نہیں بڑھ پایا ، اور اس کی طرف پیپسی کی ایک بوتل سرکاتے ہوئے بولا " لو پیو اور میرے بھی پیسے دے دینا . . . . " " کیا . . . . " " پیسے مطلب ان دونوں پیپسی کا بل بھی دے دینا . . . یار تم تو پکا شکارپور سے آئی ہو " " اب مجھے غصہ آ رہا ہے ، ارمان ، دوبارہ مجھے نہیں کہنا شکارپور والی . . . تمہیں شاید معلوم نہیں کہ میں کون ہوں . . . . " " اور کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم اِس وقت کالج کی یونین كے ہونے والے صدر سے بات کر رہی ہو . . . " تبھی سارہ کا موبائل بج اٹھا اس نے کال اٹھائی اور پھر غصے سے موبائل اوف کر دیا . . . . " کیا ہوا . . . " " ڈرائیور کا کال تھا ، وہ بول رہا ہے کہ گاڑی راستے میں خراب ہو گئی ہے . . . " " ویٹر ، دو پیپسی اور لانا " خوش ہوتے ہوئے میں نے سارہ سے بولا " ان دونوں کا بِل بھی بھر دینا . . . " اس نے مجھے پھر غصے سے دیکھا اور اپنا موبائل آن کرکے کوئی گیم کھیلنے لگی ، کچھ دیر تک تو میں بھی خاموش بیٹھا رہا لیکن جب اُس چڑیل کی بہت دیر تک آواز نہیں سنی تو میں اس کی سامنے والی کرسی سے اُٹھ کر اس کی پاس والی کرسی پر بیٹھ گیا اور میں نے جیسے ہی اس کے موبائل اسکرین پر نظر ڈالی " یو لوز " لکھا آیا . . . . " تم ہنس کیوں رہے ہو ، اور مجھ سے دور رہو . . . " وہ اپنی کرسی دور کھسکاتے ہوئے بولی . . . " میں کہا ہنس رہا ہو ، یہ تو صدمے کی ہنسی ہے . . . " میں نے بھی اپنی کرسی اس کے قریب کھسکائی . . . . " ایک تو گاڑی راستے میں خراب ہو گئی ہے ، اوپر سے یہ کمبخت دماغ خراب کر رہا ہے . . . " وہ بربرائی. . . " کہو تو میں گھر چھوڑ دوں . . . " " اور وہ کیسے . . . " " جادو سے . . . . " " کوئی ضرورت نہیں ہے ، کیوںکہ میرے بابا نے دوسری گاڑی بھیج دی ہے . . . جو کچھ دیر میں ہی یہاں پہنچ جائے گی . . . ہم سبھی اپنے خیالات خود سوچتے ہے ، اپنے ارمان خود بناتے ہے ، تو پھر ان کے ادھورے رہ جانے پر غلطی بھی ہماری ہی ہوتی ہے ، ابھی کا تو پتہ نہیں لیکن اس وقت میرا ایسا ماننا تھا کہ لڑکیاں موسم تبدیل ہونے سے پہلے معشوق بَدَل لیتی ہے اور میں اپنی اسی سوچ کو سچ مان کر سارہ کے ساتھ اپنا چکر چلانا چاہتا تھا . . . . میں یہ سوچنے لگا تھا کہ سارہ بھی سب لڑکیوں کی طرح بہت جلد ہی صغیر کو چھوڑ کر میری معشوق بن جاۓ گی اور پھر ہم دونوں کسی سینما میں بیٹھ کر ایک ہی پیپسی میں اسٹرو ڈال کر پیپسی پیئیں گے . . . . . . ٹیسٹ جیسے جانے تھے وہ ویسے جا رہے تھے مطلب کہ بلکل خراب . . . میری زندگی کا یہ سب سے خراب ٹیسٹ چل رہے تھے ، میں نے الیکشن کا فارم خوشی خوشی بھر دیا تھا اور کچھ ہی دنوں بَعْد میں سردار کی طرف سے صدر کے امیدوار کا الیکشن لڑنے والا تھا اور آج آخری ٹیسٹ ہے ، میں آج خوش بھی ہوں اور تھوڑا بے چین بھی ہوں ، خوش اس لئے ہوں کیوںکہ آج كے بَعْد ٹیسٹ ختم! اور میں کل سے ، کل سے نہیں بلکہ آج دوپہر كے 12 بجے سے آذاد ہو جاؤں گا ، بے چین اس لئے تھا کیوںکہ صغیر کل سے کالج آنے والا تھا اور میرے پاس صرف آج کا ہی دن تھا سارہ سے وہ سب کچھ کہنے کا جو میں اس کے لیے محسوس کرتا تھا . . . میری زُبان سے " آئی " كے سوا آگے کچھ کیوں نہیں نکلتا میں نہیں جانتا لیکن میں نے سارہ کو آئی لو یو کہنے کا ایک الگ ہی طریقہ نکال لیا تھا ، جو کسی بھی ناول سے ماخوذ نہیں تھا . . . . " ہیلو ، سارہ . . . " آج میں نے سارہ کو پھر سے کالج كے باہر دھارا ، وہ شاید کل والے حادثے سے مجھ سے تھوڑا ناراض ھوگی ، کیوںکہ کل کینٹین میں جب میں اسے پریشان کر رہا تھا تو اس نے اپنے سامنے رکھی پانی کی بوتل پوری کی پوری میرے خوبصورت چہرے پر ڈال دی تھی اور پھر میں غصہ ہو کر وہاں سے چلا گیا تھا . . . . . " وہ پھر آ گیا . . . " اس نے اپنے کسی قریبی دوست سے کہا . . . . " کیسی ہو . . . " " بھار میں جاؤ . . . " " وہ تو میں جاؤں گا ہی ، لیکن ابھی میرا پلان اس بِلڈنگ کی طرف جانے کا ہے ، جہاں کل میں پانی پانی ہو گیا تھا . . . . " میرا اشارہ کینٹین کی طرف تھا . . . سارہ كی جو دوست وہاں کھڑی تھی انہیں شاید بس پکڑنی تھی ، وہ وہاں سے سارہ کو بائے بائے بول کر چلی گئی اور پچھلے کچھ دنوں کی طرح میں اور سارہ آج پھر اکیلے تھے . . . . " چل چڑیل ، کینٹین سے آتے ہے . . . " " مجھے اس نام سے مت پکارو . . . . . . . . . " اس نے مجھے غصے سے دھکہ دیا ، اور کینٹین کی طرف چل دی . . . " سارہ کچھ کہنا تھا تم سے . . . . " وہ کچھ نہیں بولی اور سیدھے کینٹین کی طرف چل پڑی ، اسی وقت میں نے اپنی جیب سے کاغذ نکالا اور جو لکھا تھا وہ پڑھنے لگا . . . . " میں ایک شرط پر یہاں سے ابھی چلا جاؤں گا . . . " سامنے والی کرسی پر بیٹھ کر میں نے کہا . . . " اور وہ شرط کیا ہے . . . " " میں جو تم سے بولوں گا ، تم وہی بلکل اسی طرح مجھے بولنا . . . " " اور اگر میں نے ایسا کیا تو . . . " " تو کینٹین کی کھڑکی سے کود کر میں چلا جاؤں گا ، شروع کریں . . . . " کاغذ میں جو میں لکھ كے لایا تھا اسے یاد کرتے ہوئے کچھ دیر میں بولا " جے ٹی ایمی . . . " " ہیں. . . یہ کیا ہے . . . " " فرینچ میں اس کا مطلب ، مجھے معاف کر دو ہوتا ہے . . . . " " لیکن میں تمہیں سوری کیوں بولوں ، غلطی تو تمہاری ہے تم مجھے سوری بولو ، اس دن فارم لیتے وقت بھی تم نے مجھے سوری نہیں بولا اور کچھ دنوں سے ہر دن تم مجھے پریشان کر رہے ہو ، اس کا بھی سوری نہیں بولا . . . اور اس دن . . . " اپنا سَر پیٹ کر میں نے سارہ کو درمیان میں روکا " اگر تم چاہتی ہوکہ میں یہاں سے جاؤں تو وہ سب کہو ، جو میں تم سے کہوں . . . ورنہ میں پورے چار سال تک تمہاری جان نہیں بخشوں گا. . . . " " اچھا ٹھیک ہے ، ایک بار پھر سے بولو . . . " مجھ سے چھٹکارا پانے كے لیے اس نے میری بات مان لی . . . " جے ٹی ایمی . . . " " جے تمی . . " " ٹی ایمی . . . " " تمی . . . " اس نے پھر غلط کہا ، تو میں نے کاغذ کا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں تھامایا اور اسی سے دیکھ کر بولنے کو کہا . . . " جے ٹی ایمی . . " اب کی بار وہ سہی بولی . . . " تھینک یو چڑیل " میں نے سارہ كے ہاتھ سے وہ کاغذ لیا اور جیسا کہا تھا میں کینٹین کی کھڑکی سے کود کر وہاں سے باہر گیا ، ابھی ابھی میں سارہ کو فرینچ میں " آئی لو یو " بول کر آیا تھا اور اس نے بھی مجھے فرینچ میں آئی لو یو بولا تھا اور اس نے مجھے آئی لو یو بولا ہے اس کی ویڈیو کینٹین میں ہی بیٹھے میرے ہاسٹل كے ایک دوست نے بنائی تھی . . . . میں جانتا تھا کہ اس ویڈیو سے میں سارہ کا کچھ نہیں کر سکتا تھا لیکن پھر بھی جب میں اس ویڈیو میں سارہ کو آئی لو یو بولتے ہوئے دیکھتا تو دِل کو سکون تو ملتا ہی . . . . . ادھر میں سارہ کو آئی لو یو بول کر خوش ہوا جا رہا تھا وہی سارہ مجھ سے سوری سن کر خوش ہوئے جا رہی تھی اور میری خوشی کی وجہ یہ بھی تھی کہ اظہر اور میرے درمیان ایک شرط لگی تھی جو میں ابھی ابھی جیت گیا تھا ، شرط یہ تھی کی میں سارہ کو اگر آئی لو یو بول دیا تو پورے ہفتے سگریٹ کے پیسے وہ دے گا ، اور اگر میں نہ بول پایا تو میں پورے ہفتے سگریٹ کے پیسے دوں گا اور اظہر كے کہنے پر ہی میں نے ثبوت كے طور پر اپنے ایک دوست کو ویڈیو بنانے كے لیے کہا تھا . . . . " جا اظہر دس پیکٹ سگریٹ لے کر آ . . . " روم میں گھوستے ہی میں نے اظہر سے کہا . . . " تو نے سارہ کو آئی لو بول دیا " " ہاں بولا اور اس نے بھی مجھے آئی لو یو بولا . . . " " ویڈیو دکھا ، تب میں مانوں گا. . . " " ادھر آ یار . . . " باہر کھڑے اس لڑکے کو میں نے آواز دی اور موبائل اظہر کو دیا اور بولا فرینچ ، میں آئی لو یو کو کیا کہتے ہے دیکھ اور اِس ویڈیو میں دیکھ . . . . یہ دھوکہ ہے . . . میں نے تجھ سے کہا تھا کہ سارہ کو بولنا ہے آئی لو یو . . . . مطلب آئی لو یو . . . . " " پر تو نے یہ نہیں کہا تھا کہ کس زبان میں بولنا ہے . . . آئی لو یو مطلب آئی لو یو . . . . " کل رات سے میں اس ویڈیو کو کئی بار دیکھ چکا تھا جس میں میں سارہ کو اور سارہ مجھے آئی لو یو بول رہی تھی . . . . ٹیسٹ کی پریشانی ختم ہونے كے بَعْد الیکشن کی پریشانی آ گئی تھی . . . سردار اپنے کچھ دوستو كے ساتھ دن میں دس چکر ہمارے ہاسٹل كے لگاتا اور ایک ایک روم میں جا کر انہیں کہتا کی وہ مجھے ووٹ دے . . . . اب جب الیکشن میں میں بھی شامل تھا تو مجھے بھی تھوڑی پریشانی ہونے لگی تھی ، چلتی کلاس میں بھی الیکشن اور اس کا فارم میرے آنکھوں كے سامنے آ جاتا ، جس میں میں نے بلیک پین سے اپنی تفصیل لکھی تھی ، آج مجھے بریک ٹائم میں کمپیوٹر لیب جانا پڑے گا یہ میں جان گیا تھا ، کیونکہ آج اسائنمنٹ جمع کرانے کی باری تھی اور میں ہمیشہ کی طرح خالی ہاتھ تھا ، میرے اسائنمنٹ نہ کرنے کی وجہ شاید سحرش میڈم خود بھی تھی ، اگر کسی کو پڑھائی نہ کرنے پر اس کی گداز جسم کی مالک کلاس ٹیچر چوما دے ، اپنے ممے دبانے كے لیے بولے ، . . تو ایسا موقع تو کوئی بھی نہیں چھوڑے گا، پھر میں کیوں چھوڑتا اوپر سے سحرش میڈم كے ہاتھ میں کچھ سبجیکٹ کے نمبر تھے تو اس کے حساب سے میں جتنا وقت ان کے ساتھ لیب میں رہوں گا میرے نمبر اتنے ہی بڑھیں گیں . . . . . . اس دن بھی وہی ہوا ، اسائنمنٹ نہ کرنے کی وجہ سے سحرش میڈم نے مجھے کلاس سے باہر بیھجا اور کلاس ختم ہونے كے بَعْد بریک میں کمپیوٹر لیب آنے كے لیے کہا اور ابھی میں بریک میں ان کے ہی لیب میں بیٹھا تھا . . . . . " تم مجھے کیا سمجھتے ہو . . . . " " قاتل حسینہ . . . " ایسا میں بولنا چاہتا تھا لیکن میں نے نہیں بولا . . . . " تم ہر بار اسائنمنٹ کرکے نہیں آتے ، کیا میں کلاس میں ٹائم پاس کرنے آتی ہوں ، تمھیں معلوم ہے کہ میں دو سے تِین گھنٹے گھر جا کر تم لوگوں كے سبجیکٹ کو پڑھتی ہوں ، تاکہ اگلے دن تم لوگوں کو سہی طرح سے سمجھا سکوں . . . . " " دو سے تِین گھنٹے ، . . . . " میں نے صرف اتنا ہی بولا ، " ہاں تو . . . . " شروع میں وہ غصہ ہوگی لیکن پھر جیسے میری بات کا مطلب سمجھ کر ایک پل میں مسکراتے ہوئے بولی " کیا ؟ دو سے تِین گھنٹے . . . . " "یہ میری چودائی کی ٹائمنگ ہے. . . " ہونٹوں پر مسکان لاتے ہوئے میں نے کہا ، اور ویسے ہی تاثرات ان کے ہونٹوں پر بھی ابھرے . . . . . وہ بولی . . " سچی ، دو سے تِین گھنٹے . . . " " ہاں . . . . " میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا . . . اور اب وہاں وہ ہونے والا تھا ، جس کے لیے میں وہاں تھا ، جس کا انتظار میں تب سے کر رہا تھا ، جب سے میں لیب میں آیا تھا . . . وہ اپنی کرسی سے اٹھی اور جس کرسی پر میں بیٹھا تھا وہاں جھک گئی اور میری طرف دیکھتے ہوئے میرے لنڈ پر ہاتھ پھیرنے لگی ، سحرش میڈم کا ایسے کرتے ہی میرے اندر ایک طوفان سا برپا ہوگیا ، میرے دِل کی دھڑکنیں بہت زور سے دھڑکنے لگی . . . . اس وقت میرا یہی دل کر رہا تھا ابھی سحرش میڈم کو یہی زمین میں لیٹا کر ان کے منہ ، پھدی اور گانڈ میں اپنا لوڑا گھسا دوں . . . . سحرش میڈم نے میری پینٹ کی زب کھولی اور پھر اندر ہاتھ ڈال کر انڈرویر کے اوپر سے ہی میرے لنڈ کو سہلانے لگی ، میرے اندر جو طوفان اٹھا تھا وہ اور بھی تیزی سے بھرنے لگا ، میں جس کرسی پر بیٹھا تھا اس کو دونوں ہاتھوں سے کس کر پکڑ لیا اور اپنے ہونٹوں کو دانتوں تلے دبانے لگا ، جیسے جیسے سحرش میڈم میرے لنڈ کو سہلاتی جا رہی تھی ویسے ویسے مجھ پر ایک نشہ سا طاری ہو رہا تھا اور پھر وہ وقت آیا جب میں اُچھل پڑا ، سحرش میڈم نے جیسے ہی میرے انڈرویئر كے اندر ہاتھ ڈال کر میرے لنڈ کو چھوا تو میں اس وقت اُچھل پڑا . . . " گندے بچے، " میرے انڈرویئر كے اندر دوبارہ ہاتھ ڈالتے ہوئے سحرش میڈم نے کہا " چُپ چاپ بیٹھے جاؤ. . . " " ہی ہا ہا . . . " سحرش میڈم نے جیسے ہی میرے لنڈ کو پکڑا مجھے گدگدی ہونے لگی اور میں ھسنے لگا اور سحرش میڈم کا ہاتھ اپنی انڈرویئر سے نکال کر دور کر دیا . . . . " خاموشی سے بیٹھے رہو ، ورنہ سو اسائنمنٹ دے دوں گی . . . " " گدگدی ہوتی ہے . . . " " تو انہیں دبا زور سے . . . " اپنے سینے کے ابھاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا اور ایک بار پھر سے اپنا ہاتھ میری انڈرویئر كے اندر كے دیا ، میں نے پہلے قمیض كے اوپر سے ہی سحرش میڈم كی چھاتیوں کو سہلایا اور اپنے ہاتھ کو ان کی گوری چکنی گردن پر پھیرنے لگا . . . میرے ایسا کرنے سے سحرش میڈم نے اپنے ہاتھ سے میرے لنڈ کو اور بھی تیز رفتاری سے سہلانا شروع کر دیا اور سہلاتے وقت وہ کبھی کبھی میرے لنڈ کو دبا بھی دیتی تھی ، میرے ہاتھ اب ان کے پیٹ کو سہلا رہے تھے اور اسی وقت مجھے پتہ نہیں کیاسوجھا کہ میں نے سحرش میڈم کی قمیض اٹھائی اور ان کے ننگے پیٹ پر اپنے ہاتھ پھیرنے لگا ، مجھے ایسا کرتے دیکھ کر وہ روکی اور میری طرف، میری آنکھوں میں دیکھنے لگی . . . . اور پھیر انہوں نے میرا لنڈ پینٹ سے باہر نکالا اور اپنے مٹھی میں بھر کر ہلانے لگی ، کبھی ایک ہاتھ سے تو کبھی دوسرے ہاتھ سے . . . . میں نے بھی سحرش میڈم کی قمیض کو اٹھاتے اٹھاتے براہ تک پہنچا دیا اور ان کا گورا چکنا پیٹ اور کمر مسلنے لگا ، اور ایک ہلکی سی تھپڑ ان کے پیٹ پر لگائی اور جب سحرش میڈم نے کچھ نہیں بولا تو ان کی کمر سہلاتے ہوئے ایک كے بَعْد ایک تھپڑ مارنے لگا . . . . وہ بھی پورے جوش سے اپنے ہاتھ بدل بدل کر میرے لنڈ کو سہلاتے رہی . . . . اس وقت میرا دل کر رہا تھا کہ سحرش میڈم مجھ سے لنڈ اور چوت کے بارے میں باتیں کرے ، لیکن جب انہوں نے اس کی شروعات نہیں کی تو میں نے ہی بولا . . . " سائز کیسا ہے . . . " اب میرے ہاتھ ان کی کمر سے ہوتے ہوئے سامنے ان کے پیٹ پر گھومنے لگے تھے ، جو دھیرے دھیرے اوپر آ رہے تھے ، " بہترین ہے . . " میرے لنڈ کو تیز رفتاری سے آگے پیچھے کرتے ہوئے وہ بولی . . . میں نے سحرش میڈم كے مموں پر اپنا ہاتھ رکھا ، قمیض کی وجہ سے آدھا براہ ہی دِکھ رہا تھا ، آدھا قمیض میں چھپا ہوا تھا ، لیکن جتنا بھی دِکھ رہا تھا وہی میرے لیے قیامت تھا ، میں نے سحرش میڈم کا ہاتھ پکڑا اور انہیں اٹھنے كے لیے کہا ، کیوںکہ اب میرا دل ان کے گلابی ہونٹوں کو چوسنے کا کر رہا تھا ، میرے جذبات کو سمجھتے ہوے وہ فوراً کھڑی ہوئی اور اس دن کی طرح میرے اوپر چڑھ گئی ، تیز رفتاری سے سانس لینے کی وجہ سے ان کی چھاتیاں مجھ سے ٹکرا رہی تھی ، میں نے پہلے سحرش میڈم كے ہونٹوں پر پیار سے ہلکا سا کس کئی بار کیا اور پھر دھیرے دھیرے انہیں پورا جکڑ لیا . . . . وہ بھی مجھے کس کر پکڑی ہوئی اچھے طریقے سے جوابی کس کر رہی تھی . . . . تبھی پتہ نہیں سحرش میڈم کا موبائل کیسے بج اٹھا ، انہوں نے ایک جھٹکے سے مجھے الگ کیا اور موبائل کو دیکھ کر بولی . . . . " بریک ختم ہونے والا ہے ، تمھارے چکر میں میں بھی بھول گئی ، وہ تو اچھا ہوا کہ میں نے دس منٹ پہلے کا آلارم سیٹ کر رکھا ہے . . . . " میں سحرش میڈم كے پاس گیا اور ان کے پیچھے سے ان کی کمر کو کس کر پکڑ کر خود سے چپکا لیا اور ان کے گردن کو چومنے لگا ، . . . میرا لنڈ اِس وَقت سحرش میڈم كی گانڈ کی دراڑ پر دستک دے رہا تھا اور مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ میٹھے میٹھے درد کی شدت سے میرا لند پھٹ جاۓ گا ، . . " اب برداشت نہیں ہوتا . . . . " ان کے چھاتیوں کو اپنے ہاتھوں سے دباتے ہوئے میں نے کہا . . . " ارمان ، قابو کرو اپنے ارمانوں پر ، تمہیں جانا ہوگا ابھی. . . " " آج نہیں . . . " ان کے گانڈ کی دراڑ پر اپنا لنڈ رگڑتے ہوئے میں نے کہا " آج تو چود کر ہی جاؤں گا . . . " " کہی چودنے كے چکر میں کالج سے نہ نکالے جاؤ . . . " میرا ہاتھ پکڑ کر انہوں نے دور کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے اور بھی زور سے ان کی چھاتیو کو دبانے لگا ، . . . چودائی کرنا تو وہ بھی چاہتی تھی لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے وہ مجھے منع کر رہی تھی ، ان کی آواز میں عجیب سی کشمکش تھی ، وہ مجھے جانے كے لیے تو کہہ رہی تھی ، لیکن ان کے الفاظ ان کے جذبات کا ساتھ نہیں دے رہے تھے ، اور اسی دوران انہوں نے اپنی گانڈ پیچھے کی طرف کرکے میرے لنڈ کو دبایا ، میرا تو برا حال ہوگیا، میں نے سحرش میڈم کو سیدھا کیا اور ان کے ہونٹوں کو چُوسنے لگا اور تب سحرش میڈم نے اپنے لبوں کو آذاد کیا اور بولی . . . " ارمان ن ن ن . . . . . جاؤ. . . " سحرش میڈم کا موبائل پھیر سے بج اٹھا ، تو انہوں نے مجھے دور کرتے ہوئے کہا " صدیقی سر آتے ہوں گے . . . " مجھے دور کرکے انہوں نے اپنی اوپر اٹھی ہوئی قمیض نیچے کی اور مجھے آنکھیں دیکھا کر جانے كے لیے کہا . . . " میں نہیں جاؤں گا . . . " ان کے پاس آ کر ان کو دوبارہ سے پکڑتے ہوئے میں نے کہا ، " آج بھلے ہی ہم دونوں پکڑے جائے ، لیکن آج میں آپ کی چوت مار کر ہی رہوں گا . . . " " ارمان ، پاگل مت بنو . . . " خود کو مجھ سے چھوڑوانے کی ناكام کوشش کرتے ہوئے وہ بولی . . . آج میں کمپیوٹر لیب میں کچھ اور بھی سوچ کر آیا تھا ، کمینی نے اسائنمنٹ دے دے کر پریشان کر رکھا تھا ، . . . . " ایک شرط پر جاؤں گا . . . " ان کی قمیض میں نے پھیر سے اوپر اُٹھا کر ان کی کمر کو سہلاتے ہوئے بولا " اگر میرے سارے اسائنمنٹ معاف کر دو . . . ." " اوکے . . اوکے ، ابھی تم جاؤ . . . " " تھینک یو ، میم " میں نے میڈم کو چھوڑا اور خود کا حلیہ سہی کرکے وہاں سے نکل گیا ، سحرش میڈم بھی اس دن سوچ رہی ھوگی کہ کمینہ یہ کل کا آیا ہوا لاونڈا میرے ممے اور گانڈ سہلا کر مجھے ہی چھونا لگا گیا . . . . . " یہ چھری دیکھ رہا ہے . . . " ٹیبل پر رکھی ایک چھری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کاشف بولا " اس سے اپنے ہاتھ کی لکیریں کاٹ ڈالنی تھی ، تب شاید وہ تجھے مل جاتی . . . . " کاشف کی بات سن کر میں بظاھر تو مسکرایا لیکن اندر اندر رویا " کسی شاعر نے کہا ہے . . . . " " نہیں . . . نہیں . . . " " کیا ہوا . . " " تو بہت گھٹیا اور بکواس شاعری عرض کرتا ہے . . . " " شراب پِلائی ہے تو بکواس تو سننا ہی پڑے گی ، لے سن . . . " بظاہر ہنستے ہوئے اور اندر سے روتے ہوئے میں نے کہا " میں اپنے ہاتھوں کی ان لکیروں کو کورید کر ، کاٹ کر مٹا بھی دیتا جس میں وہ نہیں تھی ، اس کا عکس نہیں تھا ، لیکن اک کہاوت عشق کے بازار میں کافی مشہور ہے کی . . . . . " حد سے زیادہ کسی چیز سے پیار کرنے پر . . . وہ چیز نہیں ملتی . . . . یہ سب تو قسمت کا کھیل ہے یارو ! ! ! کیوںکہ ہاتھ کی لکیروں کو مٹانے سے . . . . کبھی تقدیر نہیں بدلتی . . . . " " بول واہ . . . " " اسٹوری آگے بڑھا ، اور بتا پھر کیا ہوا . . . " " پھر . . . . " پھر کیا تھا ، کمینہ صغیر بلکل ٹھیک وقت پر آیا ، میرے خیال سے اس کو لیٹ ہو جانا چاہئے تھا یا پھر اسے کوئی ضروری کام پڑ جانا چاہئے تھا ، جس کی وجہ سے وہ کچھ اور ہفتے تک کالج نہ آ پائے ، لیکن ایسا نہیں ہوا . . . وہ دوسرے دن ہی کالج آیا اور سارہ كے ساتھ آیا . . . . . الیکشن كے لیے دونوں طرف کی پارٹیوں میں تیاریاں چل رہی تھی ، کاشف کا اسپتال میں ھونا ، اس کی پارٹی كے لیے اچھا ثابت ہوا کیوںکہ فائنل ایئر كے سب اسٹوڈنٹ سردار کی اِس حرکت سے اس کے خلاف ہوگئے تھے اور سننے میں یہ بھی آیا تھا کہ کچھ لوگ سردار کو الیکشن كے بَعْد مارنے کا پلان بنا رہے تھے . . . . میں کالج جانا چاہتا تھا اور کالج جا کر پھر سے سارہ سے لڑنا چاہتا تھا ، لیکن الیکشن کی وجہ سے میں ، میرا خاص دوست اظہر ، سردار اور سردار كے کچھ خاص دوست ایک کمرے میں پچھلے دو گھنٹے سے بند تھے اور اپنا اپنا دماغ لگا رہے تھے کہ کیسے ، کب ، کون سی چال چلی جائے . . . تبھی میرے دماغ میں ایک بہترین آئیڈیا نے دستک دی . . . " فائنل ایئر اور سیکنڈ ایئر میں ہمارے کتنے امیدوار ہے . . . " میں بولا . . . " ایک ایک . . . " " دو دو کر دو . . . . " " پاگل ہے کیا . . . " سردار میری طرف دیکھ کر بولا " ایک کو تو ویسے بھی ووٹ نہیں ملنے والے ، دو دو امیدوار کھڑے کرکے ہم اپنا ووٹ کیوں کم کرے ، کیونکہ ووٹ کی گنتی تو کسی ایک کا ہی ھوگا نہ. . . . " " ایک بات بتاؤ . . . . " میں نے اظہر كے منہ سے سگریٹ چھین لی اور سردار کی طرف دیکھ کر کہا " آپ نے کبھی شطرنج کھیلی ہے . . . . " " ابے تو کہنا کیا چاہتا ہے . . . " سردار نے میرے ہاتھ سے سگریٹ لے لی اور بولا " سمجھا مجھے . . . " " سیکنڈ ایئر اور فائنل ایئر میں سے ایسے دو بندو کو پکڑو ، جو کاشف کی ٹیم میں ہو اور انہیں ہماری طرف سے کھڑا کرو . . . " " اس سے کیا ھوگا . . . . اس سے یہ ھوگا کہ ان کے ووٹ تقسیم ہوجائینگے ، جیسے کہ اگر سیکنڈ ایئر میں صغیر کھڑا ہے ، تو اسی كے کسی دوست کو ہماری پارٹی سے کھڑا کرو ، اس سے صغیر كے دوست دو گروپ میں تقسیم جائینگے اور ان کے ووٹ بھی. . . . . . . . . " "واہ ، اب کہلایا نہ تو اظہر کا دوست . . . " میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا کر اظہر نے شان سے کہا ، اور میں نے بھی شان سے سنا . . . . . سردار نے اپنی جان پہچان سے دو ایسے بندے ڈھونڈ لیے جو سردار كے لیے کام کرنے کو تیار تھے ، میں اور اظہر وہاں سے نکلے اور بریک كے بَعْد والی کلاس اٹینڈ کرنے كے لیے کالج پہنچے . . . " میم ، اندر آ سکتے ہے . . . " " آ جاؤ . . . " ہم دونوں کو دیکھ کر سحرش میڈم بولی ، . . " یہ تو راحیلہ رانی کی کلاس ہے ، یہ سحرش میڈم کہا سے ٹپک پڑی . . . " اندر آ کر میں اپنی سیٹ پر بیٹھا اور . . . . . اور کچھ نہیں کیا صرف بیٹھا ہی رہا ، کیوںکہ سحرش میڈم ٹیسٹ کی کاپی دے رہی تھی . . . " ارمان ، . . " " یس میم . . " میں اپنی جگہ پر کھڑا ہوا . . . " تمہیں کیا لگتا ہے ، کتنے نمبر آ جائینگے . . . " فی الحال میرے اندر تھرک اتنی بھری ہوئی تھی کہ میں نے کچھ الگ ہی نمبر بول دیا ، . . . " میرے خیال سے 36 ھوں گے . . . " " کیا . . . ؟ " سحرش میڈم چونک کر بولی ، کیوںکہ وہ تو سمجھ گئی تھی کہ میں کس نمبر کی بات کر رہا تھا ، باقی پوری کلاس اِس بات کو مذاق سمجھ کر ہنس رہی تھی ، سب کو ہنستا دیکھ جیسے مجھے ہوش آیا اور میں نے ایک نظر سحرشمیڈم پر ڈالی ، وہ مجھے آنکھیں دیکھا کر کچھ کہنا چاہ رہی تھی . . . . " اوہ سوری میم . . . " " کتنے ، نمبر آ سکتے ہے ، تمہارے . . . . " سحرش میڈم نے مجھ سے دوبارہ پوچھا اور اِس بار ان کا لہجہ تھوڑا تیز بھی تھا . . . " اب میں کیا بتاؤں ، میری عادت نہیں ہے کہ ایگزام كے بَعْد میں اس سبجیکٹ كے بارے میں سوچوں . . . آپ ہی بتا دیں . . . " " 18 نمبر گڈ . . . " " کیا " اب کی بار میں چونکا کیونکہ پانچ نمبر کا ایک سوال تو میں چھوڑ کر ہی آیا تھا ، پھر 18 نمبر کیسے " کاپی دیکھنی ہے . . . " " بلکل . . . " میں سحرش میڈمكے پاس گیا اور کاپی لیکر اپنی جگہ پر آیا اور میرا اندازہ سہی تھا انہوں نے مجھے ایکسٹرا مارکس دیئے تھے ، "کمینے ، تو نے تو بولا تھا کہ پانچ نمبر کا ایک سوال تو نے چھوڑ دیا ہے ، پھر تیرے 18 نمبر کیسے آئے . . . " میرے ہاتھ سے کاپی لیتے ہوئے اظہر نے کہا . . . . " گئی بھینس پانی میں ، کہی کمینہ اعلان نہ کر دے کلاس میں . . . " لیکن تبھی لنڈ کی پجارن سحرش میڈم ہمارے پاس آئی اور اظہر كے ہاتھ سے میری اور ٹیبل پر رکھی اس کی کاپی اُٹھا کر بولی " خود محنت کرو ، دوسروں کی کاپی میں تاک جھانک کرنا اچھی بات نہیں . . . " اظہر لٹکا سا منہ لے کر رہ گیا اور بند ہونٹوں سے سحرش میڈم کو کچھ بولا ، اگر میں سہی تھا تو اظہر نے سحرش میڈم کو ماں کی گالی دی تھی ، سحرش میڈم جب تک کلاس میں رہی تب تک میرا سب کچھ ہلتا رہا ، کبھی کبھی وہ بھی مجھے دیکھ کر مسکراتی اور کئی بار یہ تک بول دیتی کہ " اَرمان اتنا مسکرا کیوں رہے ہو . . . . . " اور جواب میں میں پھر سے مسکرا دیتا اور ساتھ میں ساری کلاس ہنس دیتی . . . . وہ پل بہت خوش نما تھے جو میں آج بھی بہت یاد کرتا ہوں، اس کلاس کی رنگت مجھے بہانے لگی تھی ، اس کلاس میں بیٹھے لوگ مجھے اچھے لگنے لگے تھے ، ان کی باتیں اور پھر بریک میں دوستوں كے ساتھ بچودیاں ، سب کچھ مجھے ایک نئی زندگی میں لے جا رہا تھا اور وہ میری زندگی کا شاید پہلا ایسا موقع تھا جب میں دِل سے جینے لگا تھا ، جب میں اپنے دل کی کر رہا تھا ، آس پاس کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا ، اس وقت اگر کوئی مجھ سے پوچھتا کہ بتا تیری دو خوائشات کیا ہے تو میں اسے یہی کہتا کہ سارہ کے ساتھ میری سیٹنگ بن جائے اور یہ کالج لائف کا وقت ہمیشہ چلتا رہے ، میرا خاص دوست اظہر ہمیشہ میرے ساتھ رہے ، لیکن وقت کسی كے لیے نہیں روکتا ، میرے لیے بھی نہیں رکا . . . . . جس دن سحرش میڈم نے مجھے ایکسٹرا مارکس دیئے تھے ، اس کے اگلے دن بھی میں نے کالج كے شورعاتی پیریڈز اٹینڈ نہیں کیے ، وجہ الیکشن ہی تھا ، جب میں کالج نہیں گیا تو پھیر میرا خاص دوست اظہر کیسے کالج جاتا ، وہ بھی میرے ساتھ اِدھر اُدھر گھومتا رہا اور مجھے گالیوں سے نوازتا رہا کہ میں یہ کس چکر میں پڑ گیا ہوں اور جب وہ زیادہ ہی بھڑک جاتا تو ایک سگریٹ نکال کر اس کے منہ میں دے دیتا . . . کل کی طرح میں نے آج بھی بریک كے بَعْد کالج جانے کا سوچا ، لیکن اظہر کچھ کام کا کہہ کر وہاں سے ہاسٹل کی طرف نکل گیا اور مجھے بولا کہ وہ مجھے کینٹین میں ملے گا ، اظہر كے جانے كے بَعْد میں نے موبائل میں ٹائم دیکھا ، ابھی بریک ختم ہونے میں تیس منٹ باقی تھے ، اس کا مطلب میں کینٹین میں جا کر تیس منٹ تک سارہ کا دیدار کر سکتا تھا ، میں نے اپنا موبائل نکالا اور سردار کو میسیج کر دیا کہ میں کینٹین میں ہوں ، نظر مارتے رہنا . . . . . . زندگی کبھی اس حساب سے نہیں چلتی جیسے ہم چاھتے ہے ، اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم اپنی زندگی کو کس طرح اور کیسے جینا چاھتے ہے ، زندگی تو بس اپنے توڑ طریقوں سے آگے بڑھتی رہتی ہے ، اور یہ ہمیشہ ہوتا ہے ، اسی طرح میں شاید اس کالج کا اکیلا ارمان نہیں تھا ، جس کے ارمان اتنے زیادہ تھے . . . اس کالج میں اور بھی کئی لوگ تھے جو کچھ سوچ کر یا پھر اپنے مستقبل کا پلان بنا کر وہاں آئے تھے ، میں اور صغیر اس کالج میں اکیلے نہیں تھے ، جنہیں سارہ پسند تھی اور بھی کئی لڑکے تھے جو سارہ کو اپنی بانہوں میں دیکھنا چاھتے تھے ، لیکن وہاں اس کینٹین میں آدھے گھنٹے سے سارہ کا انتظار کرنے والوں میں سے میں اکیلا تھا ، میرے سوا وہاں کوئی ایسا نہیں تھا جو آدھے گھنٹے سے بیٹھ کر سارہ کا انتظار کر رہا ہو ، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ، سارہ آج کینٹین نہیں آئی اور میں اپنے چہرے کو کبھی ایک ہاتھ میں ٹیکاتا تو کبھی دوسرے ہاتھ میں . . . ایک الگ ہی اُداسی میرے اندر بھرتی جا رہی تھی ، جسے صرف اور صرف دو لوگ ختم کر سکتے تھے . . . ایک تو تھی سارہ اور دوسرا مجھے سگریٹ کیسے پینا چاہئے ، یہ بتانے والا میرا خاص ، بلکل خاص دوست اظہر . . . . . سارہ تو نہیں آئی اور اظہر کے آنے میں وہاں ابھی وقت تھا . . . . " کیا ہوا اجڑے چمن ، ایسے کیوں بیٹھا ہے . . . کسی نے گانڈ مار لی کیا . . . " میں اِس آواز کو پہچان گیا اور بنا اس کے طرف دیکھے ہی بولا " بیٹھ یار اظہر، آج تیری بھابی نہیں آئی . . . " " کون سحرش میڈم. . . " " تیری تو . . . . میں سارہ کی بات کر رہا ہوں. . . " " وہ تو تیری سب سے پیارے دوست تیرے جگری یار صغیر کی معشوقہ ہے . . . " " اڑا لے یار مذاق . . . " " چل چھوڑ ، کلاس چلتے ہے . . . " " چل . . . " اٹھتے ہوئے میں نے کہا " لیکن پہلے یہاں کا بِل بھر . . . " " کتنا ہوا . . " اپنا جیب چیک کرتے ہوئے اظہر نے پوچھا " 80 روپے . . . " " لوڑا ، پرس ہاسٹل میں ہی بھول گیا ، تو ہی دے . . . " " اگر میں پرس لایا ہوتا تو کیا تجھے بولتا ، پاگل کہی كے . . . " کینٹین والے لڑکے كے پاس جا کر میں نے بولا کہ وہ بِل میرے کھاتے میں لکھ دے ، لیکن نہ تو میرا وہاں کوئی کھاتہ تھا اور نہ ہی اس نے ادھار کرنے کی بات مانی ، . . . " میرے کو تو کیش ہی چاہیے ، اگر پیسے ہے تو پیسے دو . . ورنہ اپنا کچھ سامان رکھ كے جاؤ . . . " " ابے اُلو ، میں تیرے 80 روپے كے لیے اپنا بیس ہزار کا موبائل گروی رکھواؤں گا کیا . . . " " وہ میرا مسلہ نہیں ہے . . . " کمینہ کینٹین والا مان نہیں رہا تھا اور اگلی کلاس بھی شروع ہونے والی تھی ، اچانک سردار کی کال آئی ، سردار نے یہ پوچھنے كے لیے کال کی تھی کہ وہاں کوئی مسلہ تو نہیں ہوا ، اور تب میرے خرافاتی دماغ میں ایک بہترین آئیڈیا آیا اور میں نے کینٹین والے سے کہا . . . " سردار كے کھاتے میں ڈال دے . . . " " وہ تم کو جانتا ہے . . . " " یہ دیکھ ، اس کی کال آئی تھی ابھی . . . " موبائل میں کال ہسٹری دکھاتے ہوئے میں نے کہا اور وہ مان گیا . . . . " اوئے ارمان ، سن . . . " چلتی کلاس كے دوران شوکت ، جو کہ آج آگے والی بینچ پر بیٹھا تھا وہ مجھے بولا " کاشف آج کالج آیا ہے ، کمینے كے سَر میں پٹی بندھی ہے . . . " " آج بھی ، بھارم جھاڑ رہا تھا کیا . . . " " نہیں ، آج تو سالا بھیگی بلی کی طرح بس میں بیٹھا تھا ، اس کے دوست بھی اس کے ساتھ تھے . . . لیکن کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا . . . " " اور اس کی معشوقہ سمیرہ ، آئی ہے کیا . . . " " آئی تو ہے ، لیکن وہ آج کاشف سے دور بیٹھی تھی . . . لگتا ہے دونوں کا چکر ختم ہوگیا ہے . . . " میں اور شوکت آہستہ آواز میں بات کر رہے تھے کہ تبھی اظہر شیر کی طرح دھار کر بولا " اب اسے میں سیٹ کروں گا . . . : " " کون ہے بدتمیز . . . " صدیقی سر نے جہاں ہم بیٹھے تھے ، اس طرف دیکھ کر کہا " جس نے بھی یہ حرکت کی ہے ، وہ سیدھی طرح سے نکل جائے ، ورنہ پوری کلاس کی حاضری نہیں لگواؤں. . . " آواز اظہر کی تھی، اس لئے سر ہماری بینچ اور اسی كے آس پاس دیکھ کر بول رہے تھے ، اور جیسے ہی انہوں نے اظہر کی طرف دیکھا تو میرا گانڈو دوست اظہر ہوشیاری دکھاتے ہوئے بولا . . " سر ، مجھے نہیں معلوم کی آواز کس نے نکالی ، شاید پیچھے سے کوئی بولا . . . " " چلو کھڑے ہو جاؤ اور باہر نکلو . . . " " لیکن سر ، میں نے کچھ نہیں کیا " " کچھ دیر پہلے جو آواز آئی تھی ، اس سے تمہاری آواز میچ ہوگئی ہے . . . چلو باہر جاؤ . . . " " سوری سر " " باہر جاؤ . . . " اظہر باہر گیا اور سر پھر سے بورڈ پر ڈرائنگ بنانے لگے ، " تجھے کیسے معلوم کہ ، سمیرہ اور کاشف کا چکر ختم ہوگیا . . . " سر كے بلیک بورڈ کی طرف موڑتے ہی میں نے دھیمی آواز میں شوکت سے کہا " تو تو بائیک سے آتا ہے نہ. . . " " آج بس سے آیا ، تبھی دیکھا . . . کاشف ، سمیرہ سے بات کرنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا لیکن سمیرہ ہر بار یہی کہہ رہی تھی کہ . . . مجھے اکیلا چھوڑ دو . . . " " اور پھر . . . " " اور پھر کیا ھونا تھا ، اپنا تھوبڑا لے کر کاشف چُپ چاپ بس میں پیچھے کی طرف بیٹھ گیا اور اس کے بَعْد میں نے ایک عجیب چیز نوٹ کی . . . " شرماتے ہوئے شوکت نے کہا " سمیرہ مجھے لائن دے رہی تھی" " ہیلو ، تم بھی کھڑے ہو . . . . " سر نے اب کہ بار شوکت کو کھڑا کیا " یہاں تم نے بیٹھک کھول كر بیٹھے ہو . . . " " نہیں سر . . . وہ " " کیا نہیں سر . . . " سر کی لال ہوتی آنکھوں سے آنگاریں نکل رہی تھی . . . " سر میں ، پین مانگ رہا تھا . . . " " اچھا . . . " سر نے بُک ٹیبل پر رکھی اور جہاں ہم بیٹھے تھے وہاں آ کر شوکت كے ہاتھ سے پین لیا اور اس پین کو چلا كر دیکھا . . . . " تمہارا پین تو ٹھیک چل رہا ہے ، پھر کیا دونوں ہاتھوں سے لکھنے كے لیے پین مانگ رہے تھے " شوکت اپنا سَر نیچے کر کے چُپ ہو کر ایسے بیٹھا ، جیسے اس نے کچھ کیا ہی نہ ہو ، . . . " باہر جاؤ . . . " شوکت جب باہر جانے لگا تو سر نے اسے روکا اور پوچھا کہ وہ پین کس سے مانگ رہا تھا . . . . " سر ، ارمان سے . . . " " کون ہے ، ارمان . . . " " سر میں . . . " اپنا ہاتھ اٹھاتے ہوئے میں نے کہا . . . سر میرے پاس آئے اور بولے کہ میں انہیں اپنا پین دیکھاؤں ، لیکن میرے پاس تو ایک بھی پین نہیں تھا ، میں تو اتنی دیر سے صرف نوٹ بک کھول کر بیٹھا تھا " واہ ، پین بھی اس بندے سے مانگ رہے تھے ، جس کے پاس پین ہی نہ ہو " اور پھر مجھے دیکھ کر سر نے لمبا سا " باہر جاؤ " بولا . . . . " چل باتھ روم میں مٹھ مار كے آتے ہے . . . " جب ہم تینوں کلاس سے باہر نکل آئے تب شوکت نے کہا . . . . " میں نہیں ماروں گا آج صبح ہی حویلی میں مٹھ ماری ہے . . . " اظہر بولا . . . . " تم دونوں یہی کھڑے رہو ، میں ابھی آیا ، کچھ الیکشن کے سلسلے میں کام یاد آ گیا ہے . . . " " میں بھی چلتا ہو . . . " لیکن میں نہیں مانا ، اور اظہر کو شوکت كے ساتھ روکنے کا بول کر وہاں سے نکل گیا اور میرے قدم جا کر سیدھا کمپیوٹر لیب میں روکے ، جہاں سحرش میڈم اپنی ٹانگیں چھوڑے کیے ہوئے کمپیوٹر پر شاید سیکسی مووی دیکھ رہی تھی . . . . بریک ٹائم میں سحرش میڈم كے پاس جانے کی بات کچھ اور تھی اور ابھی کی بات کچھ اور . . . . کیا پتہ اندر کیا ہو رہا ہو ، کون کون اندر ہو اور کس حالت میں اوپر سے میں ٹھرا شریف لڑکا . . . . کمپیوٹر لیب کا گیٹ کھلا تھا تو میرے خیال سے اندر کا ٹمپریچر نارمل ھونا چاہئے ، میں نے پہلے اندر جھانکا اور میرا اندازہ سہی تھا ، اندر کا ٹمپریچر بلکل نارمل تھا . . . . سحرش میڈم کمپیوٹر پر بیٹھی ماؤس کو ادھر اُدھر کر رہی تھی ، اور اسی وقت جیسے انہیں احساس ہوگیا کہ دروازے پر کوئی ہے اور انہوں نے اپنی نظریں گھوما کر مجھے دیکھا . . . . . " ایک بار یہ لنڈ چوس لے تو مزہ ہی آ جائے . . . . آہ ہ ہ " سحرش میڈم كے رس بھرے ہونٹوں کو دیکھ کر میرے ارمان اُچھل پڑے ، جنہیں ٹھنڈہ کرتے ہوئے میں نے سحرش میڈم سے اندر آنے کی اجازت چاہی . . . . " ارمان ، تم . . . اِس وقت ، ابھی تو صدیق صاحب کی کلاس ہے نہ. . . " " بھاگا دیا انہوں نے . . . " اندر آتے ہوئے میں نے کہا " پھر کیا کر دیا . . . . " مجھے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا . . . . " اِس بار کچھ نہیں کیا ، اس لیے بھاگا دیا . . . . " " اچھا یہ بتاؤ . . . " ماؤس پر سے ہاتھ ہٹا کر انہوں نے ایک ہاتھ کو اپنے سَر پر ٹیکایا اور انگلیاں ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے بولی " تمہارے میٹرک میں کتنے نمبر تھے . . . " یہی ایک ایسا سوال تھا ، جس کاجواب دینے كے لیے میں ہمیشہ تیار رہتا تھا ، لیکن اس وقت مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ سوال میری زندگی کا آخری سوال بن جائیگا ، جس کا جواب میں بعد میں دینا چاہوں گا . . . . " 93۔60 % " میں نے جواب دیا . . . . " کیا . . . " اپنے سَر کو دوسرے ہاتھ سے ٹیکاتے ہوئے وہ بولی " سچ بولو . . . " " انٹرنیٹ چل رہا ہے کیا . . . " " ہاں ، . . . " " 216328075 یہ میرا رول نمبر ہے . ، رزلٹ چیک کر لیں . . . . " " اوکے ، چھوڑو . . . . " ترچھی نظروں سے انہوں نے کہی اور دیکھتے ہوئے کہا ، " تم کیا سوچ کر آئے تھے . . . " " میں یہاں کمپیوٹر پر سانپ والا گیم کھیلنے آیا تھا . . . " " وہ گیم تم ابھی نہیں کھیل سکتے . . . " انہوں نے ایک بار پھر اپنا ہاتھ بدلہ اور بولی " اندر کیبن میں ایک سر بیٹھے ہوئے ہے . . . " " دھات تیری کی . . . . " میں بربرایا " اب جاؤ ، ورنہ . . . . . " میری طرف اپنا چہرہ کرکے وہ بولی . . . " ورنہ . . . " میں نے بھی اپنا چہرہ ان کی طرف کیا . . . " ورنہ ، تم مجھے کبھی چھو بھی نہیں پاؤ گے اور اسائنمنٹ پھر سے دے دوں گی . . . " سحرش میڈم کی بات سن کر میں اِس قدر ہڑبڑا گیا کہ کرسی سے بس نیچے گرنے والا تھا ، وہ ہنس پڑی اور مجھے ایک بار پھر وہاں سے جانے كے لیے کہا . . . . میں نے ایک بار ان کے گلابی ہونٹوں اور چھاتیوں کو دیکھا اور وہاں سے مایوس قدموں سے باہر نکلا اور ابھی باہر ہی نکلا تھا کی سامنے سے سمیرہ آتی ہوئی دکھائی دی ، . . . مجھے وہاں لیب كے باہر دیکھ کر اس کے قدم روک گئے . . . " سننے میں آیا ہے کہ تم نے اپنا معشوق بدل دیا ہے . . . " " معشوق بدلا نہیں ہے ، صرف پُرانے کو چھوڑا ہے . . . ابھی میں بلکل اکیلی ہوں . . . " " مجھے بنا لو ، اپنا معشوق . . . " " کیوں ، تم میں ایسی کیا خاص بات ہے . . . " تب تک ہم دونوں راستے سے ہٹ کر تھوڑا سائیڈ پر آ گئے تھے، کلاسز چل رہی تھی اس لئے کوئی اُدھر آئے یہ مشکل ہی تھا . . . . . " کیوں کا کیا مطلب ، مجھ سے اچھا اور قابل معشوق پورے کالج میں نہیں ملے گا . . . . " " اچھا . . . " " 101 % ، سچ. . . . " وہ اب خاموش ہوگئی اور اپنا منہ بند کر کے مجھے دیکھتی رہی ، ویسے عورت ذات کبھی چُپ ہو جائے ، یہ نہیں ہوتا لیکن اس وقت ایسا ہی کچھ ہو رہا تھا ، وہ بلکل چُپ ہو کر جیسے مجھے چیک کر رہی تھی کہ میں اس کا معشوق بننے کے لائق ہوں یا نہیں . . . . " تمہاری عمر کم ہے . . . . سوری " " اس نے تو سچ میں سوچنا شروع کر دیا " اندر ہی اندر خود کو خوبصورت سمجھتے ہوئے میں نے کہا " میں مذاق کر رہا تھا ، اب چلتا ہوں ، میرے دوست انتظار کر رہے ہوں گے میرا . . . ." وہ بھلا کیوں روکتی مجھے ، اس نے اپنا سَر ہلا کر مجھے جانے كے لیے کہا اور میں وہاں سے نکلا ہی تھا کہ میرا موبائل بجنے لگا . . . . . کال نئے نمبر سے تھی " یار ارمان ، جلدی آ جلدی . . . چوک كے پاس سردار کو شہر والے اسٹوڈنٹ نے گھیر لیا ہے . . . جلدی آ . . . اور جتنے لڑکے ملے ، ان سب کو بلا لینا . . . . " ایک چیختی ہوئی آواز میرے کانوں میں گونجی . . . . میں کچھ دیر تک سن کھڑا رہا ، میں وہاں کھڑے ہو کر یہی سوچتا رہا کہ یہ سچ تھا یا کوئی میرے ساتھ مذاق کر رہا ہے ، کیا سچ میں سردار کو کاشف اور اس کے دوستوں نے گھیر لیا ہے یا پھر وہ لوگ مجھے گھیرنے كے چکر میں ہے ، جو بھی ہو مجھے ایک بار کالج كے مین گیٹ كے پاس والے چوک كے پاس تو جانا ہی تھا ، میں نے بھاگتے ہوئے سیڑھیاں عبور کی اور شوکت سے اس کی بائیک کی چابی لے کر اظہر كے ساتھ کالج سے باہر نکلا . . . . کیا ھوگا اگر ان لوگوں نے سردار کا وہی حال کر دیا جو ہم نے کاشف اور اس کے دوستوں کا کیا تھا ، کیا عزت رہ جائے گی ہماری کالج میں ، اور اوپر سے کچھ دنوں بعد الیکشن بھی ہونے والا ہے . . . . اس وقت بائیک چلاتے ہوئے میرے ذہن میں یہی سب گھوم رہا تھا ، اظہرنے کئی بار مجھ سے پوچھا بھی کہ کیا ہوا ہے ، میں کیوں اتنا ہڑبڑا رہا ہوں اور میں اسے کہاں لے جا رہا ہوں . . . . لیکن میں نے اس کے ایک بھی سوال کا جواب نہیں دیا اور سیدھا چوک پر جا پہنچا . . . ہمارا کالج آبادی سے دوری پر تھا ، اس لئے اُدھر عوام کا رجحان کم ہی رہتا تھا لیکن اِس وقت وہاں بہت سے لڑکے جمع تھے ، اور اگر میں سہی تھا تو وہاں کھڑے لڑکوں میں سے زیادہ تر لڑکے شہر والے تھے . . . ہاسٹل والوں کو پہنچنے میں ابھی وقت لگنا تھا . . . . . میں نے شوکت کی بائیک چوک سے کچھ دوری پر ہی روک دی ، جس کی وجہ تھی سارہ. . . وہ کمینی صغیر کی گاڑی اس وقت وہاں جانے کہاں سے پہنچ گئی ، جس میں شاید سارہ بھی ھوگی میں نے اندازہ لگایا . . . . . . " وآپس چلے جا ارمان ، سارہ كے سامنے لڑائی ، جھگڑا کرنے کا مطلب ہے ، اس سے ناراضگی . . . . صغیر تو اس کا بچپن کا دوست ہے ، اس لئے وہ اس سے جڑی ہوئی ہے . . . لیکن اگر اس نے آج تجھے غنڈہ گردی کرتے ہوئے دیکھ لیا تو وہ کبھی تجھ سے بات تک نہیں کرے گی . . . . " " یار بائیک آگے بڑھا ، وہاں کچھ مسلہ ہو رہا ہے . . . " اظہر نے مجھے میرے خیالات سے نکالتے ہوئے کہا . . . " سردار کو شہر کے اسٹوڈنٹ نے گھیر لیا ہے اور ہاسٹل كے لڑکے آ رہے ہے . . . لیکن تب تک سردار مار کھا چکا ہوگا. . . " تو تو دیکھ کیا رہا ہے ، بائیک اسٹارٹ کر اور کچل دے ، کمینوں کو. . . قسم سے دوسروں كے حق كے لیے لڑنے والے سردار کو کچھ ہوا تو ، لعنت ہے ہم پر . . . " اس وقت مجھے اس کی بات مان لینی چاہئیے تھی ، مجھے بائیک کی رفتار بھرا کر آگے بڑھانا چاہئیے تھا ، لیکن جیسے میرے ہاتھ جم گئے تھے ، جس کی صرف ایک وجہ تھی ، وہ وجہ گاڑی میں بیٹھی ہوئی سارہ تھی . . . "ابے بہن چود ، بائیک آگے بڑھا . . . " اظہر نے چلا کر کہا . . . " یار ، وہ سارہ گاڑی میں بیٹھی ہے . . . " " تو کیا . . . " میرے خاص دوست نے مجھے عجیب طرح سے دیکھا ، جیسے اسے یقین ہی نہ ہو رہا ہو کہ یہ میں کہہ رہا ہوں . . . . " تو جائے گا یا نہیں . . . " " ہم بہت کم لوگ ہے یار ، پٹ جائینگے . . . " " چل ٹھیک ہے . . . " بائیک سے اُتَر کر اظہر بولا " میں جا رہا ہوں ، تو واپس جا . . . اور قسم سے، آج كے بَعْد تو مجھے روم میں مت دکھنا ، ورنہ قتل ہو جائے گا ، یا تو تیرا یا میرا . . . . " آگے بڑھتے ہوئے اظہر نے کہا . . . . . سردار وہاں لڑکوں كے درمیان گھرا ہوا بحث کر رہا تھا اور اِدَھر میرا سب سے خاص دوست جا رہا تھا ، وہی میرے خوابوں میں آنے والی ایک پری ، اپنے شہزادے كے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تھی ، اور میں وہاں چوک سے کچھ دور الجھن میں پھنسا ہوا شوکت کی بائیک پر بیٹھا ہوا تھا . . . . جب ہمارے سامنے دو راستے ہو تو ہمیں کسی ایک کو منتخب کرنے میں غلطی ہو ہی جاتی ہے وہاں تو میرے پاس تِین راستے تھے . . . . پہلا یہ تھا کہ میں بائیک سے اُتَر کا سردار كے ساتھ دینے گھس جاؤں، اور مار کھاؤں. . . لیکن یہ مستقبل کا انجینئر ہونے كی وجہ مجھے زیب نہیں دیتا . . . . . دوسرا راستہ یہ تھا کہ چوک کی طرف بڑھ رہے میں اپنے خاص دوست کو اغوا کر لوں اور اسے پیٹنے سے بچا لوں ، لیکن اگر میں ایسا کرتا تو میں شاید اظہر کو کھو دیتا . . . جو میں نہیں چاہتا تھا . . . . تیسرا راستہ یہ تھا کہ میں چُپ چاپ اپنی بائیک موڑ لوں اور واپس جا کر اگلی کلاس اٹینڈ کر لوں . . . لیکن یہ انجینیئرنگ کالج میں پڑھنے والے لڑکے کی پہچان نہیں تھی اور نہ ہی میری . . . . . لیکن میں نے ایسا ہی کیا میں نے تیسرا ہی راستہ منتخب کیا ، کیوںکہ یہی مجھے سہی لگا . . . میں نے اس وقت سب کچھ بھول کر ، سامنے چوک پر پھنسے سردار کو اندیکھا کرکے اپنی بائیک کالج كے طرف گھمائی . . . . . " میں جا رہا ہوں ، تو وآپس آجا . . . اور قسم سے آج كے بَعْد تو مجھے روم میں مت دکھنا، ورنہ قتل ہو جائے گا ، یا تو تیرا یا میرا . . . . " میرے کانوں میں یہ آواز گونج رہی تھی ، یہ آواز صرف گونج ہی نہیں رہی تھی یہ آواز میرے ضمیر کو جنجھوڑ رہی تھی ، . . . دُنیا میں کئی راستے ہوتے ہے ، جو کسی نہ کسی منزل تک پہنچتے ہے ، وہ تو انسان کی عقل پر مختص کرتا ہے کہ انسان کس رستے پر چلتا ہے . . . . کسی کی آواز کا کانوں میں گونجنا یہ سب میں نے صرف فلموں میں دیکھا تھا یا افسانوں میں پڑھا تھا لیکن اس دن میں نے خود محسوس کیا اور جب وہ آواز مسلسل میرے کانوں میں گونجتی رہی تو میں نے بائیک واپس اظہر کی طرف گھمائی . . . . . . " لفٹ چاہئیے سر . . . " " تو . . . تو تو چلا گیا تھا . . . " " چل آجا ، کچھ کرتے ہے . . . " " تو کیا کرنے والا ہے . . . " بائیک پر سوار ہوتے ہوئے اس نے کہا . . . " وہ سب چھوڑ اور یہ بتا سردار کا وزن کتنا ھوگا . . . . " " کمینے میں یہاں ترازو لے کر نہیں بیٹھا ہوں . . . " شروع میں اس نے ایسا کہا ، لیکن جب میں نے پیچھے گردن گھمائی تو جیسے وہ سمجھ گیا کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں . . . . میں نے بائیک اسٹارٹ کی اور بائیک سیدھے چوک کی طرف رواں کر دی ، . . . اب میں سمجھ گیا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے . . . مجھے تینوں منزلیں پانی تھی ، سردار کو بچانا بھی تھا ، اظہر کو اپنے ساتھ بھی رکھنا تھا اور سارہ . . . . . . . . . اور عام انسان ایک وقت پر صرف ایک ہی راستے پر چل سکتا ہے ، اس لئے اس وقت میں نے ان تینوں منزلوں کی طرف جانے والے تینوں راستوں کو ملا کر ایک کر دیا چوک كے پاس پہنچتے ہی میں نے اچانک زور سے ہارن مارا جس کی وجہ سے کچھ لڑکے دور ہوئے ، کمینوں نے مجھے بَعْد میں پہچانا لیکن تب تک میں نے اور اظہر نے سردار کو ایک جھٹکے سے اٹھایا اور تیز رفتاری سے آگے نکل گئے . . . . " چشمے ہوتے تو اور بھی مزا آتا یار. . . " بائیک كے شیشے میں خود کو دیکھتے ہوئے میں نے کہا ، اِس وقت ہم تینوں ٹھیک اسی گرائونڈ پر تھے جہاں کچھ دنوں پہلے ہم ہاسٹل والوں نے مار دھاڑ کی تھی . . . . " ابے ، مجھے چھوڑے گا، یا ایسے ہی ٹانگے رکھے گا . . . " " سوری سر . . . " سردار پر اپنی گرفت ڈھیلی کرتے ہوئے اظہر نے کہا . . . . سردار اس وقت بہت غصے میں تھا اور اظہر نے جیسے ہی سردار کو چھوڑا ، وہ نیچے اُتَر کر کسی کو کال کرنے لگا . . . " گرائونڈ پر لے کر آ سب لڑکوں کو ، آج پھر ماروں گا اس بہن چود کاشف کو ، اسی كے کہنے پر شہر کے اسٹوڈنٹس نے مجھے گھیرا تھا . . . " " ایم ٹی ایل بھائی . . . " میں ایک دم ہیرو کی طرح کے اسٹائل سے بائیک سے اترا اور سردار سے بولا " الیکشن ہو جانے دو . . . پھر مل کر جنگل میں منگل کا پارٹ ٹو شروع کرے گے . . . . " " تو رک . . . دیکھ ابھی اس کمینے کو دھوتا ہوں . . ." سردار نے پھر ایک نمبر پر کال کی، " یار ، اظہر سمجھا نہ. . . " " گھنٹہ سمجھاؤں میں . . . . اس کو خود سوچنا چاہئیے . . . " اظہر چُپ رہنے والا تھا ، اس لئے سردار کو ٹھنڈہ کرنے کی ساری ذمہ داری اب میری تھی ، سردار ہم سے تھوڑی دور جا کر کسی سے بات کر رہا تھا ، تب میں نے اظہر کو دبی آواز میں کہا کہ، وہ مجھے اس وقت کال کرے جب میں سردار سے بات کر رہا ہوں . . . . " اوکے. . . " میں سردار كے پاس گیا اور دھیرے سے آواز دی ، دھیرے سے اس لئے کیوںکہ مجھے دَر تھا کہ غصے میں کہی سردار مجھے ہی نہ پیل دے . . . . " سردار بھائی . . . " " کیا ہے . . . " چلاتے ہوئے سردار نے کہا . . . " کمینوں نے مجھے دھکہ دیا ، تو دیکھ سب کو ماروں گا ، آج ہی ماروں گا . . . " اور اسی ٹائم اظہر نے میرے نمبر پر کال کی ، اور میں نے سردار كے سامنے کال اٹھائی . . . . " ہاں ، کیا بول رہا ہے . . . سب بھاگ گئے . . . " میں نے موبائل جیب میں رکھا اور اِس امید میں تھا کہ سردار نے میری بات سنی ھوگی میں اس سے بولا " سردار بھائی وہ لوگ بھاگ گئے ، ابھی میرے دوست کی کال آئی تھی . . . . .
-
ارمان ایک طویل داستان
اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پھر اخبار پڑھنے میں مصروف ہوگئی . . . . . " اس نے تو لڑائی شروع ہی نہیں کی ، کچھ اور سوچنا پڑے گا . . . " انگلش اخبار کے صفحات کی آڑ سے میں نے سارہ کو دیکھا ، اس نے ٹی شرٹ اور جینس پہن رکھی تھی اور تبھی میرے دماغ میں اس سے لڑنے کا ایک اور آئیڈیا آیا میں نے اِس بار آواز تھوڑی اونچی کر کے بولا " آج کل لڑکیوں کو دیکھو ، جینس پہن کر گھومتی رہتی ہے . . . مجھے نفرت ہے ایسی لڑکیوں سے ، ایسی لڑکیاں اگر میرے پاس ، میری ہی ٹیبل پر بیٹھ جائے تو دن میں تین بار غسل کرنا پڑے گا . . . . " اب کی بار وہ چونکی ، اس کی بھوری سی آنکھوں میں غصہ اُتَر آیا اور وہ مجھ سے اخبار چھینتے ہوے بولی . . . " تم مجھے بول رہے ہو نہ؟ " " تم بھی یہاں بیٹھی ہو ، کمال ہے میں نے تو تمہیں دیکھا نہیں . . " انگلش لفظ پر زیادہ زور دیتے ہوئے میں نے کہا " وہ کیا ہے کہ میں انگلش اخبار پڑھنے میں اتنا مصروف تھا کہ تمہیں دیکھا نہیں ، کیسی ہو تم . . . " " ٹھیک ہوں. . . " وہ چلا اٹھی اور تبھی لائبریری میں رہنے والوں نے سارہ کو چُپ رہنے کا اشارہ کیا . . . " اتنا چلانے کی کیا ضرورت ہے ، شکارپور سے آئی ہو کیا " " مجھے دوبارہ مت دیکھنا ورنہ . . . " " ورنہ . . . " آرام سے وہاں بیٹھ کر میں نے کہا . . . " ورنہ . . . . ورنہ . . . " ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے وہ سوچنے لگی کہ وہ مجھے کیا دھمکی دے " ورنہ میں تمہارا قتل کر دوں گی . . . " " ہیں " " اب جاؤ یہاں سے . . . " وہ ایک بار پھر چِلائی اور لائبریری والوں نے سارہ کو وہاں سے باہر جانے كے لیے کہا . . . وہ تنگ آ کر وہاں سے اٹھی اور باہر چلی گئی . . . میں وہاں بیٹھا بیٹھا کیا کرتا میں بھی اسی كے پیچھی چل پڑا . . . " اپنی معشوقہ کو بولو کہ یہ لائبریری ہے یہاں خاموشی سے رہا جاتا ہے . . . " جب میں لائبریری سے نکل رہا تھا تو بُک اشو کرنے والے نے مجھ سے کہا جسے سن کر میں خوش ہوتا ہوا وہاں سے آگے بڑھا . . . . " کیا سچ میں تم میرا قتل کر دو گی . . . " " ہاں ، اگر دوبارہ مجھے دکھے تو ایک خنجر سینے كے آڑ پار کر دوں گی . . . . " " چل چڑیل ، تیرے میں اتنی ہمت کہا . . . " " کیا . . . . . . . چڑیل " " تو اس میں برا کیا ہے . . . " ہماری لڑائی اچھی خاصی چل رہی تھی کہ اظہر اپنا لٹکا ہوا منہ کے کر پیچھے سے ٹپک پڑا اور بول " چل یار ارمان سگریٹ پیتے ہے ، موڈ بہت خراب ہے . . . . " " او چڑیل ، سگریٹ پینا ہے . . . " " بھاڑ میں جاؤ . . . . " اس کے بَعْد میں اور اظہر وہاں سے نکل گئے بھاڑ میں جانے كے لیے اظہر کا پیپر بہت خراب گیا تھا ، یہ بات وہ مجھے تقریباً ہزار بار بتا چکا تھا . . . ہر پانچ منٹ بعد وہ بولتا کہ " یار بہت ہارڈ پیپر آیا تھا . . . لگتا ہے ایک سوال بھی سہی نہیں ھوگا " وہ جب سے پیپر دے کر آیا تھا تب سے لڑکیوں والی حرکت کر رہا تھا ، وہ بُک کھول کر جواب چیک کرتا اور جب جواب سہی نہیں نکلتا تو پھر ماتم کرنے بیٹھ جاتا . . . میں بستر پر لیٹے لیٹے جب اس کی ان حرکتوں سے بور ہو گیا تو میں نے اسے کہا کہ ایک پیپر خراب جانے سے اتنا پریشان ہے ، تو کیا خاک ملک کی خدمت کرے گا . . . . . " دماغ مت خراب کر اور جا کر ایک پیکٹ سگریٹ لیکر آ . . . . " اب میں نے بھی سگریٹ پینا شروع کر دیا تھا ، اس لئے سگریٹ خریدنے کا دن ہم نے آپس میں بانٹ لیا تھا ایک دن وہ سگریٹ کی ڈبیہ لاتا تو ایک دن میں . . . . آج میری باری تھی " چل ساتھ میں نہیں چلے گا کیا . . . . " " موڈ خراب ہے ، تو جا . . . " " ارمان . . . " اچانک باہر سے کسی نے آواز دی ، آواز جانی پہچانی تھی ، میں نے روم کا دروازہ کھولا ، سامنے سردار کھڑا تھا . . . . " تو کیا سوچا . . . " اندر آتے ہی سردار نے مجھ سے کہا . . . " کس بارے میں . . . " " یونین کا الیکشن لڑے گا یا نہیں . . . " " سردار بھائی ، آپ کو تو پہلے ہی بتا دیا کہ . . . . " " تیرا نام میں نے لکھوا دیا ہے . . . " مجھے درمیان میں ہی روک کر سردار نے کہا " میں یہاں تیری راے جاننے نہیں تجھے بتانے آیا ہوں . . . " سردار كے بات کرنے كے اِس لہجے سے میں کانپکپا گیا ، اور اس کی طرف منہ بند کیے دیکھتا رہا اور تب تک دیکھتا رہا جب تک سردار نے خود مجھے آواز نہیں دی . . . " سن ، اِس بار کاشف کسی بھی حالت میں صدر نہیں بننا چاہیے ہے ، اس لیے میرے امیدوار کا جیتنا بہت ضروری ہے . . . . سیکنڈ ایئر میں صغیر كی وجہ سے میری گرفت کمزور ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ سیکنڈ ایئر سے ہم ہارنے والے ہے . . . اس لئے میں چاہتا ہوں کہ فرسٹ ایئر سے ہم کسی بھی حال میں جیتے اور فرسٹ ایئر كے لڑکوں میں سے سب سے زیادہ تو مشہور ہوا ہے . . . " " لیکن سردار بھائی، وہ میری پڑھائی کا کیا بنے گا . . . . " اِس بار بھی سردار نے مجھے درمیان میں روکا " نہ تو میں آج تک کبھی کسی پیپر میں فیل ہوا ہوں اور نہ ہی کبھی کم نمبر آئیں ہے ، جب کہ میں اپنا آدھے سے زیادہ وقت اسپورٹس کو بھی دیتا ہوں ،
-
ارمان ایک طویل داستان
عرض کیا ہے . . . " " کرو . . . کرو ، بالکل کرو ، سب کچھ کرو . . . " " تو سنے گا ، عرض کیا ہے . . . " " ابے عرض ہی کرتا رہے گا یا کچھ اور بھی کرے گا . . . " کاشف اور اظہر مجھ پر ایک ساتھ برس پڑے ، " کوئی تو محفل ھوگی اِس پوری دُنیا میں . . . . جہاں نام ہمارا بھی ھوگا . . . . جب سنے گی اس محفل میں میری داستان . . . تو لہو کا قطرہ اس کی بھی آنکھوں سے بھا ہوگا . . . . " ہم تینوں پھر نشے میں دھات ہوگئے تھے ، کاشف نے سالن چولہے پر چڑاھا دیا تھا ، جس کے جلنے کی مہک بھی آنے لگی تھی . . اُدھر كھانا جلا ادھر ہم تینوں كے دِل جلے . . . " اس دن كے بَعْد کیا ہوا . . . سارہ کا صغیر كے دوست كے ساتھ کچھ چکر تھا یا پھر . . . " " میں بتاؤں . . . " اظہر درمیان میں بول پڑا جسے روک کر میں نے کہا " اس دن ایسا کچھ بھی نہیں تھا . . . " " پھر سارہ صغیر كے ساتھ کیوں نہیں گئی ، . . . " اس دن ہاسٹل میں آنے كے بَعْد مجھے اس کی وجہ معلوم چلی، اور وجہ بتانے والا منو تھا ، میں آج بھی کبھی کبھی سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ اس کمینے منو کو ساری خبریں مل کیسے جاتی تھی اور جب خبر سارہ کے متعلق ہو تو اس کی خبر اسے اور بھی جلدی ملتی تھی ، منو نے مجھے بتایا کہ صغیر كے والد صاحب پر کسی نے جان لیوا حملہ کیا تھا اور وہ بہت سریس تھے ، اس لیے صغیر کو جلدی ہی کالج سے جانا پڑا ، کیوںکہ صغیر اور سارہ ایک ساتھ کالج آتے تھے اس لئے صغیر كے جانے كے بَعْد صغیر كے دوست نے سارہ کو گھر چھوڑا. . . . ایک طرف جہاں میں یہ سوچ کر خوش ہو رہا تھا کہ سارہ اور صغیر كے درمیان لڑائی ہوئی ھوگی وہاں مجھے دکھ ہوا ، لیکن دوسری طرف صغیر كے دوست اور سارہ كے درمیان کچھ نہیں ہے یہ جان کر مجھے خوشی بھی ہوئی . . . منو نے مجھے اور بھی بہت کچھ بتایا جیسے کہ سارہ اور صغیر كی فیملی كے بارے میں ، اور جیسا کہ منو نے بتایا تھا اس کے اندازے سے صغیر كے بابا ایک غنڈے قسم کے آدمی تھے اور سیاست دانوں سے تعلق بھی تھے اس کا مطلب صاف تھا کہ صغیر ایک امیر زادہ تھا ، وہی سارہ كے والد صاحب ایک بڑے بزنس مین تھے مطلب کہ سارہ بھی ایک امیر زادی تھی . . . . سارہ اور صغیر بچپن سے ایک ساتھ پلے بڑھے تھے، ایک ہی اسکول میں پڑھائی بھی کی لیکن صغیر عمر میں ایک سال بڑھا تھا اس لئے دونوں ایک کلاس میں کبھی نہیں آ پائے ، عمر كے بڑھتی رفتار كے ساتھ ساتھ ان دونوں کی دوستی پیار میں بدلنے لگی اور پھر دونوں نے ایک دن ایک دوسرے سے محبّت کا اقرار بھی کیا . . . . سارہ اور صغیر دونوں كے گھر میں دونوں كی محبّت كے بارے میں معلوم تھا اور انہیں اِس رشتے سے کوئی پریشانی بھی نہیں تھی ، منو نے کچھ دنوں پہلے سارہ كی خودکشی کی بھی وجہ بتائی ، اس نے بتایا کہ صغیر کسی دوسری لڑکی كے چکر میں تھا اور یہی سارہ کو راس نہیں آیا تو اس نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی ، اس کے بَعْد صغیر نے سارہ سے اپنے کیے کی معافی بھی مانگی اور ان دونوں کی محبت کی داستان پھر سے شروع ہوگئی . . . جس کے لیے سارہ نے جان دینے کی کوشش کی تھی وہ اس سے سچی محبّت تو کرتی تھی لیکن پھر بھی دِل كے کسی کونے سے آواز آئی کہ " بیٹا ارمان ، کوشش کر . . . تیرا چانس ہے . . . . " اس آواز کو نکلنے سے پہلے ہی دِل میں دفن ہو جانا چاہیئے تھا ، مجھے اسی دن ہی یہ مان لینا چاہیئے تھا کہ سارہ اور میں کسی بھی لحاظ سے نہیں ملتے ، نہ تو فیملی بیک گڑاؤنڈ سے اور نہ ہی دِل کی دُنیا سے . . . . اس کی دِل کی دُنیا تو صغیر كے چاروں طرف گھومتی تھی یہ مجھے پتہ تھا لیکن پھر بھی میں نہیں مانا . . . . . " کاشف کی معشوقہ سمیرہ کی ریکویسٹ آئی ہے تیری آئی ڈی پر . . . . " " کیا . . . " " اتنا چونک کیوں رہا ہے ، صرف یہ بتا اکسیپٹ کروں یا نہیں . . . " اظہر نے مجھ سے پوچھا . . . . " غصہ کیوں کر رہا ہے ، کر لے اکسیپٹ . . . " اظہر نے سمیرہ کی فرینڈ ریکویسٹ اکسیپٹ کی اور میرے بستر پر خوشی سے چڑھ کر بولا " کمینی آن لائن ہے ، آجا اس سے مزے لیتے ہے . . . . " میں بیٹھا تو کتاب کھول کر تھا ، لیکن یہ سوچ کر کتاب بند کر دی کی پہلے سمیرہ سے مزے لے لیتا ہوں، پڑھائی کا کیا ہے وہ تو کبھی بھی ہو جائے گی ، کل صبح چار بجے اُٹھ کر پڑھ لوں گا ، لیکن سمیرہ ہر وقت آن لائن تھوڑی ہی رہنے والی ہے . . . . . " ہیلو . . . . " ہم میسیج کرتے اسے پہلے ہی سمیرہ نے کیا . . . " ہاے ڈیئر ، کیا کر رہی ہو. . . " اپنے موبائل كے کی بورڈز کو تیز رفتاری سے دباتے ہوئے اظہر نے جواب دیا. . . " کچھ نہیں اور تم . . . " " چودائی لکھ کر بھیجو کیا . . . " اظہر نے میری طرف دیکھ کر بولا " " چوتیا ہے کیا ، اس کو لکھ کہ پڑھائی کر رہا ہوں . . . . " " مٹھ مارنے کا لکھ دیتا ہو ، کمینی لڑکی ہے کیا سمجھے گی . . . " " لکھ دے . . . " اظہر نے مٹھ مارنے کا لکھ کر جلد سمیرہ کو جواب دیا، کچھ دیر تک سمیرہ کا جواب نہیں آیا لیکن جب اس کا جواب آیا تو ہم دونوں كے ہوش اُڑ گئے ، ہم دونوں نے یہ سوچا تھا کہ سمیرہ ہم سے مٹھ مارنے کا مطلب پوچھے گی اور ہم دونوں اسے اُلو بنائیں گے لیکن اس کا جواب یہ تھا . . . " مٹھ کم مارا کرو ، جسم کمزور ہوتا ہے . . . . " " سالی بڑی تیز ہے ، ابھی سامنے مل جائے تو اس کے منہ میں لوڑا گھسا دوں . . . . " " اب کیا بولے گا. . . " میں نے اظہر کی طرف دیکھا . . . . " تو روک اور دیکھتا جا . . . " اظہر کی انگلیاں ایک بار پھر تیز رفتاری سے موبائل كے بٹنوں پر گھومنے لگی اور اس نے سمیرہ سے کہا. . . " تم نے کبھی مٹھ ماری ہے " " کیا " " مٹھ ، تصویر بیھج کر سمجھاوں کیا " " مجھے کچھ کام آ گیا ہے بائے . . . " " گاجر ہے گھر میں . . . " " کیوں ؟ " " پورا کا پورا گھسا لینا اس کو . . . " " تمیز سے . . . " " کچھ کام آ گیا ہے ، اب میں جا رہا ہو . . . " اس كے فوراً بعد ہی اظہر نے فیس بک بند کر دی اور ہم دونوں اپنا پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگے . . . . اس رات سگریٹ پینے اور بچودیاں کرنے كے علاوہ میں نے کچھ نہیں کیا ، آدھی رات کو دوسروں كے روم كے سامنے جا کر زور سے دروازہ بجاتے اور پھر بھاگ جاتے ، روم كے اندر سو رہے لڑکے گالیاں دیتے ہوئے اٹھتے اور پھر باہر کسی کو نہ پا کر اور بھی گالیاں بکتے . . . . اس کے بَعْد کچھ دنوں تک کچھ بھی خاص نہیں ہوا ، سارہ اور صغیر روزانہ ساتھ میں ہی کالج آتے اور ساتھ ہی میں جاتے ، صغیر سے میری نوک جھونک بھی اتنے دنوں میں نہیں ہوئی تھی اس لئے ماحول ٹھنڈا تھا ، سردار سے ایک دو بار بات چیٹ ہوئی تھی جسے مجھے پتہ چلا تھا کہ کاشف اور اس کے دوست بہت جلد ٹھیک ہو جائینگے اور کالج بھی آنے لگیں گے . . . مجھے ایک لڑکی کی تلاش بچپن سے تھی ، ایسی لڑکی جس کو دیکھ کر میری آنکھیں اس کی آنکھوں سے ہوتی ہوئی صرف آنکھوں پر ہی ٹکی رہے ، سحرش میڈم اور سمیرہ کو جب بھی دیکھتا تو میری نظر ان کی آنکھوں سے شروع ہی نہیں ہوتی تھی وہ تو سیدھے نیچے سے شروع ہو کر آخر میں آنکھوں پر پہنچتی تھی لیکن سارہ كے معملے میں ایسا نہیں تھا ، میں نے ابھی تک اس کی صرف بھوری آنکھیں اور خوبصورت چہرے پر ہی نگاہ ڈالی تھی . . . . میں سیدھا سادھا مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا تھا ، اس لئے میں ایک سیدھی سادھی سی لڑکی چاہتا تھا جو مجھ سے پیار کرے اور جسے میں پیار کروں . . . . آوارہ بن کر ہر ہفتے معشوقائیں تبدیل کرنا مجھے پسند نہیں تھا لیکن ایسی لڑکیاں مجھے بہت ملی جو صرف دوسروں کو دکھانے كے لیے ، دوسروں کو جلانے كے لیے میری معشوقہ بننے کو تیار تھی ، لیکن ان سب کو میں نے دور کرتے ہوئے ہمیشہ اس ایک لڑکی کی تلاش میں رہا جو سیدھے بائیں سائڈ میں اپنا اثر دکھائے ، . . . سارہ کی بھولی صورت ، اس کا بات بات پر جھگڑنا اور ہر وقت ناک پر غصہ لیکر چلنا مجھے بہت پسند تھا ، پسند نہیں تھا تو صرف ایک چیز کہ وہ صغیر کی معشوقہ تھی . . . . دماغ نے ہزار بار مجھ سے کہا کہ سارہ اور تیرا ملنا نناوے فیصد ناممکن ہے ، لیکن پھر دِل كے کسی کونے سے آواز آتی کہ ایک فیصد چانس تو ہے ، اس ایک فیصد کو میں ایک ہزار سے ضرب دے کر سارہ اور خود کی محبّت کے چانس کو کیوں نہ سو فیصد کر لوں وہ وقت یہ سب سوچنے کا نہیں تھا اس لئے میں نے اپنے دماغ اور دِل كی باتوں کو پیک کرکے پڑھنے بیٹھا کیوںکہ کل HMI کا ٹیسٹ تھا . . . . " تجھے کچھ سمجھ آ رہا ہے ، میرے تو سب سَر كے اوپر سے جا رہا ہے . . . ." اظہر اپنے بال نوچ کر بولا . . . " مجھے قائد اعظم سمجھ رکھا ہے کیا ، جو بنا پڑھے پاس ہو جاؤں گا ، مجھے بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا . . . . " " یہ سائنٹسٹ اگر آج زندہ ہوتے تو گولی مار دیتا ان سب کو " بُک پر دوبارہ نظریں ڈالتے ہوئے میں نے کہا " یہ دیکھ ، اتنا بڑا فارمولا . . . یہ تو پورے چار سال میں بھی یاد نہ ہو . . . " وہ رات ہم نے بکس کے رائٹرز کو گالیاں دے دے کر گزاری ، پہلے کی عادت تھی چار بجے صبح اٹھنے کی ، اس دن بھی آنکھ صبح چار بجے کھلی ، جب کہ میں بارہ بجے سویا تھا . . . آنکھوں میں جلن اور سَر بھاری محسوس ہو رہا تھا ، دل کر رہا تھا کہ پھر سے لائٹ بند کروں اور چادر اوڑھ کر پھر سے سو جاؤں ، لیکن آج ہونے والی ایگزام کی ٹینشن سے سَر بھاری ہوتے ہوئے بھی سَر کو ہلکا کرنا پڑا میں پانچ دس منٹ تک ٹھنڈے پانی کی بالٹی میں اپنا سَر ڈوبوئے رکھا اور جب وآپس اپنے روم کی طرف آنے لگا تو مجھے وہی شرارت سوجی جو رات کو اکثر میں کیا کرتا تھا . . . . میں نے زور سے ایک روم کا دروازہ کھٹکھٹایا . . . . " کون ہے. . . " ایک نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں اندر سے کسی نے مجھ سے پوچھا . . . . " پولیس . . . دروازہ کھولو جلدی " اپنی آواز کڑک کرتے ہوئے میں نے کہا " ہاسٹل میں قتل ہوا ہے اور تم سو رہا ہے نکلو باہر " اتنا بول کر میں وہاں سے فوراً اپنے روم کی طرف بھاگا اور جب اندر گھس گیا تو مجھے اس روم میں رہنے والوں کی آواز سنائی دی ، . . . " یہ کچھ لڑکوں نے تماشا بنا کر رکھا ہے کچھ دنوں سے . . . شکایت کرنی پڑےگی ان کی . . . . " ہنستے ہوئے میں نے HMI کی بُک پکڑی اور خود کو چاروں طرف سے چادر میں لپیٹ کر بُک کھول کر بیٹھ گیا . . . . لے دے کر کچھ تو پلے پڑا اور جیسے جیسے میں پڑھتے جاتا دلچسپی خود با خود بڑھتی جا رہا تھی ، اس دوران کبھی سارہ کا خیال آتا تو کبھی سحرش میڈم کا ، لیکن اسی وقت پتہ نہیں کیسی منحوس گھڑی تھی کہ مجھے سگریٹ پینے کی طلب ہوئی اور میں جب سگریٹ کا بہت زیادہ طلب گار ہوگیا تو سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا . . . لیکن وہ پیکٹ بلکل ، خالی تھا . . . " اوئے اٹھ . . . " اظہر کو ہلاتے ہوئے میں نے کہا " اٹھ جا ورنہ ، . . . . ورنہ " " کیا ہوا . . . . " جمائی لیتے ہوے وہ پھر سو گیا . . . " سگریٹ کا پیکٹ کہاں ہے . . . " " لوڑا پی لے . . . " " لنڈ میں ماچس سے آگ لگا دوں گا ، جلدی بتا کہاں ہے . . . " اور تب اس نے اپنے جیب سے سگریٹ کی ڈبیا نکال کر مجھے دیی ، اظہر سے سگریٹ لیکر میں اپنے بستر پر آ دھمکا اور سگریٹ پیتے پیتے دوبارہ سے پڑھنے لگا . . . . . " " پھٹ رہی ہے یار . . . کچھ نہیں پڑھا . . . " " اب میں کیا بولوں پھٹ تو میری بھی رہی ہے ، . . . " " تو نے تو صبح اُٹھ کر کچھ دیکھ بھی لیا ہے ، میں تو HMI میں ابھی تک کنوارہ ہوں . . " اِس وقت میں اور اظہر ایگزام ہال كے سامنے کھڑے باتیں کر رہے تھے ، ایک طرف میں منو بھی کھڑا تھا لیکن وہ ہم سے بات کئے بنا اپنی نوٹ بک پکڑے ہوئے تھا ، کہنے کو تو یہ کلاس ٹیسٹ تھا لیکن اِس بار کلاس ٹیسٹ کو بھی صدیقی صاحب كے کہنے پر ہی ایگزام کی طرح لیا جا رہا تھا . . . پیپر ایزی تھا ، پھر بھی تھوڑی بہت غلطی ہر سوال میں ہوئی ، ایگزامینیشن ہال سے میں باہر نکلا تو کوری ڈور میں سحرش میڈم آتی ہوئی دکھائی دی ، ہلکی پنک کلر کا شلوار ان پر بہت جاچ رہی تھی، انہیں میری نظر نے نیچے سے دیکھنا شروع کیا اور پھر آنکھوں میں آ کر رکی . . . . " گڈ مارننگ میم . . . " " مارننگ . . . ابھی تو آفٹر نون ہے . . . " " سوری ، وہ ٹیسٹ کا اثر ابھی تک ہے . . . گڈ آفٹر نون . . . " " کیسا گیا پیپر . . . " وہ وہی میرے پاس کھڑی ہو گئی ، انہوں نے آج بھی شاندار خوشبو لگائی ہوئی تھی جس سے میرا تن اور من دونوں میں حل چل ہو رہی تھی . . . . . . " اچھا گیا . . . . " ایک لمبی سانس کھینچ کر میں نے کہا ، اور سحرش میڈم كے پرفیوم کی خوشبو میرے پورے روم روم میں سماں گئی ، . . . میں وہاں کھڑا یہی سوچ رہا تھا کہ وہ مجھے پھر سے کہے کہ چلو کمپیوٹر لیب میں ، لیکن انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا وہ بولی . . . " میں ابھی چلتی ہوں . . . . " " کدھر ، کمپیوٹر لیب میں " " اووو . . . . " میں ان کی اِس اووو پر مسکرا دیا جسے دیکھ کر وہ بولی " مجھے ابھی کام ہے . . . . بائے " سحرش میڈم كے جانے كے بَعْد میں نے اس رستے پر اپنے قدم بڑھا دیئے جو کالج سے باہر جاتا تھا . . . " اخبار پڑھ كہ آتا ہوں . . . " لائبریری كے سامنے کالج سے باہر جاتے ہوئے قدم رکے ، میرے قدم رکنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں نے سارہ کو لائبریری كے اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور وہ بلکل اکیلی تھی تو سوچا کیوں نہ اسی سے مستی کر کے تھوڑا موڈ فریش کر لیا جائے . . . . . میں نے لائبریری كے اندر سنبھال کر رکھے ہوئے ایک انگلش اخبار کو اٹھایا اور ٹھیک اسی جگہ پر جا کر بیٹھا جہاں سارہ بیٹھی ہوئی تھی . . . اس کے ہاتھ میں اردو اخبار تھا اور وہ اخبار پڑھنے میں اتنی مصروف تھی کی اس نے مجھے دیکھا تک نہیں . . . . . اب میں وہاں آیا تو سارہ سے لڑنے كے لیے تھا اس لئے کسی نہ کسی موضوع پر بات چیت تو کرنی ہی تھی . . . . " پتہ نہیں لوگ اردو اخبار کیوں پڑھتے ہے . . . اصلی خبریں تو انگلش اخبار میں ہی ہوتی ہے . . . " اخبار كے صفحات پلٹتے ہوئے میں نے دھیرے سے بولا اور سارہ کی نظر مجھ پر پڑی ،
-
ڈاکٹر ہما از پنک بے بی
اس اتوار کو کوشش کروں گا کہ مکمل اسٹوری پوسٹ کر دوں
-
ارمان ایک طویل داستان
" میرا لنڈ میری غلطی ہے ، تو ہی منہ پھاڑ کر ہنس رہا تھا . . . " اظہر اپنی غلطی ماننے سے تو رہا اوپر سے جب ہمیں باہر کر دیا گیا تو وہ اپنی ہتھیلیاں رگڑتے ہوئے مجھ سے سحرش میڈم كے بارے میں پوچھنے لگا کہ اس دن کمپیوٹر لیب میں کیا ہوا تھا ، میں نے کہا ٹچ کیا تھا . . . . وہ سیسکاریاں لے رہی تھی یا نہیں . . . . وغیرہ وغیرہ "کمینی سیکسی مووی دکھا کر گرم کر رہی تھی مجھے . . . . " " پھر کیا ہوا یہ بتا . . . " " آگے کیا بتاؤں ، شروع میں میرا دل نہیں کر رہا تھا ، لیکن پھر وہ مووی دیکھ کر میرا لنڈ کھڑا ہو گیا اور میں نے اس کے ممے پکڑ لیے. . . . " " پھر ، . . . " " پھر تھوڑا سا دبایا . . . " " اچھا پھر . . . " " پھر اس نے کھڑے لنڈ پر تھپڑ مار دیا ، اور بولی کہ اب جاؤ . . . " " ایک بات سمجھ میں نہیں آئی . . . " اپنے دماغ پر زور ڈالتے ہوئے اظہر نے کہا " جب تیرے اور اس کے درمیان میں اتنا سب کچھ ہو چکا ہے ، پھر وہ اسائنمنٹ كے لیے تجھے ہر روز باہر کیوں نکال دیتی ہے . . . . " " آہستہ بول ، . . . " " تو کہی مجھے چوتیا تو نہیں بنا رہا . . . . " " گانڈو ، جو سچ تھا وہ بتا دیا . . . . " وہاں کلاس كے باہر اور بھی کئی باتیں کافی دیر تک ہوئی ،. . . . اور جب پیریڈ ختم ہوا تو سحرش میڈم باہر آ کر ہم دونوں كے پاس کھڑی ہوگئی اور ہم دونوں کا رول نمبر نوٹ کر كے بولی . . . . " آج تو چھوڑ رہی ہو ، لیکن اگلی بار خیال رکھنا . . . . " یہ اس نے اظہر کی طرف دیکھ کر کہا اور پھر میری طرف دیکھ کر وہ بولی " اور تم ، بریک ٹائم میں آکر کمپیوٹر لیب میں ملنا . . . ." " جی . . . جی میم . . . " وہ ایک بار مسکرائی اور اپنی گانڈ مٹکاتے ہوئے چل دی . . . . . . اگلی کلاس صدیقی سر کی تھی اور وہ سبجیکٹ سے ریلیٹڈ پڑھانے کی بجاۓ آج دُنیا داری کی باتیں کرنے كے موڈ میں تھے ، پہلے انہوں نے پاکستان اور دوسرے ملکوں کی باتیں کی اور پھر ان کے سبجیکٹ کی اسٹڈی کیسے کرنا ہے ، یہ بتانے لگے اور آخر میں پلیس مینٹ كے ٹاپک پر آ پہنچے اور بولے کہ انجینیئرنگ كے چار سال کیسے نکل جائینگے پتہ نہیں چلے گا ، اس لئے ابھی سے پڑھائی کرنا شروع کر دو ، تاکہ مستقبل میں جاب كے لیے بھٹکنا نہ پڑے . . . . انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج کل انجینئر اتنے زیادہ ہو گئے کہ اگر پتھر اٹھا كے سڑک پر ماروں گے تو وہ کتے کو نہیں ایک انجینئر کو لگے گا . . . . کمینے نے بےعزتی کر كے رکھ دی ، ان کے کلاس سے جو ایک بات دماغ میں آئی وہ یہ تھی کہ میں نے ابھی تک ایک بھی سبجیکٹ کی بُک کھول کر نہیں دیکھی تھی ، ایسے میں میں ٹوپ کیسے کروں گا . . . . . اس لئے میں نے آج ہاسٹل جا کر پڑھنے کا سوچا . . . . " پڑھنا پڑے گا یار . . . . " صدیقی سر کا لیکچر اب بھی جاری تھا ، " چل کل صبح چار بجے سے اٹھ کر پڑھائی کرینگے . . . " " لوڑا چار بجے تو میرے سونے کا ٹائم ہے . . . ." " سیدھا بول نہ کے دم نہیں ہے . . . " " بَعْد میں بات کرنا ، ابھی کہی سحرش میڈم کی طرح یہ بھی ہمیں باہر نہ کر دے . . . . " اظہر چُپ ہوگیا اور بڑے دھیان سے صدیقی سر کا لیکچر سننے لگا . . . . . کچھ لوگ جنہوں نے صغیر کے ساتھ میری لڑائی دیکھی تھی ، وہ یہی سوچ رہے تھے کہ میں آج بریک ٹائم میں کینٹین جاؤں گا ، لیکن میرا ایسا بالکل بھی موڈ نہیں تھا ، اور ویسے بھی آج سحرش میڈم نے مجھے بلایا تھا ، . . . پہلے دن تو میں دَر بھی رہا تھا اور تھوڑی سی جھجھک بھی تھی ، لیکن پھر میرے اندر بیٹھے مرد نے کہا کہ جب وہ عورت ہوکر ایسی حرکتیں کر رہی ہے تو تو کیا دَر رہا ہے ، مار دے کمینی کی چوت . . . . . . " میں اندر آجاؤں . . . . " اندر آنے كے لیے میں نے اجازت مانگی . . . . " آؤ ارمان . . . . آجاؤ، آجاؤ . . . . میں تو تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی . . . . " " کمینی کتنا جلدی رنگ بدلتی ہے ، ناگن کہی کی . . . . " اندر داخل ہوتے ہوئے میں نے اس دن کی طرح آج بھی یہ دیکھا کہ کوئی وہاں ہے یا نہیں ، اور اس دن کی طرح آج بھی وہاں کوئی نہیں تھا ، . . . سحرش میڈم کرسی پر بیٹھی ناخن کٹر سے اپنے ناخنوں کا سائز برابر کر رہی تھی . . . . . " آپ نے نے بلایا . . . . " " اس دن کیسا لگا تھا . . . " " بلکل بکواس . . . . . بلکل بھی مزہ نہیں آیا . . . " میں نے جان بوجھ کر ایسا کہا ، میں دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کا ری ایکشن کیا ہوتا ہے ، اور جیسا میں نے سوچا تھا تھا سحرش میڈم کا ری ایکشن بد سے بدتر ہوتا جا رہا تھا . . . آج تک میں نے صرف سنا تھا کہ عورتوں کو اپنی برائی بلکل بھی پسند نہیں ہوتی ، اور آج دیکھ بھی لیا تھا اور تو اور سحرش میڈم کا غصہ اِس قدر بڑھ گیا کہ وہ تقریباً چلاتی ہوئے مجھے اسائنمنٹ کمپلیٹ نہ کرنے کی پنشمنٹ دیتے ہوئے میرا اسائنمنٹ ڈبل کر دیا . . . . . . " ویسے ایک ہفتے میں دو اسائنمنٹ مطلب کہ ایک مہینے كے آٹھ اور اِس حساب سے چھے مہینے كے اڑتالیس ہوئے ، اور یہ اب ڈبل کر رہی ہے مطلب کہ چھیانوے پھر چار اور دے دے ، سنچری مکمل ہوجاۓ گی" . . . . . " سحرش میڈم کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے اسے پورے خاندان کی گالیاں دے ڈالی اور پھر کہا " میم ، میں تو مذاق کر رہا تھا ، دراصل اس دن بہت زیادہ مزہ آیا ، اس دن جیسے خوبصورت احساسات مجھے کبھی نہیں ہوئے . . . . آپ مجھے کبھی بھی ، کسی بھی وقت بلا لو ، میں آ جاؤں گا . . . . میں تو بس مذاق کر رہا تھا . . . " کچھ دیر پہلے رنگ بدلنے والی ناگن میں نے سحرش میڈم کو کہا تھا ، لیکن اب رنگ میں بھی بَدَل رہا تھا . . . . . " میں بھی مذاق ہی کر رہی تھی . . . . " ناگن کی طرح اس نے ایک بار پھر رنگ بدلہ اور اپنے ناخنوں پر پھوک مار کر ناخن کٹر کو اپنے پرس میں رکھا کر لپسٹک نکل کر بولی " کھڑے کیوں ہو ، بیٹھ جاؤ . . . . " اپنے ہونٹوں پر لپسٹک لگاتے ہوئے وہ اس دوران اکثر مجھے دیکھتی اور پھر اپنے کام میں لگ جاتی . . . . . مجھے نہیں پتہ تھا کہ میں اتنا شریف تھا یا شریف بننے کا ڈرامہ کر رہا تھا ، پر میں جو بھی تھا بہت عجیب ہی تھا ، کیونکہ اگر میری جگہ وہاں کوئی اور ہوتا ، تو وہ میری طرح سحرش میڈم كے سامنے والی کرسی پر خاموش نہیں بیٹھا رہتا ، اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا اگر اظہر ہی ہوتا تو میں یقین كے ساتھ کہہ سکتا ہوں وہ سحرش میڈم پر جھپٹا مار کر انہیں چود دیتا ، لیکن میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ، میں خاموش ، چُپ چاپ وہی سحرش میڈم كے سامنے بیٹھا رہا . . . . . . . " تم اسائنمنٹ کمپلیٹ کیوں نہیں کرتے ، پڑھتے نہیں ہو کیا ہاسٹل میں . . . " " نو میم ، ایسی بات نہیں ہے . . . " میری نظر اب بھی ان کے ہونٹوں پر تھی ، جو لپسٹک لگانے كی وجہ سے گلابی ہو گئے تھے " وہ اصل میں آج کل ٹائم کی تھوڑی کمی ہے . . . . " " لڑائی جھگڑے كے لیے ٹائم مل جاتا ہے ، پڑھائی كے لیے نہیں . . . . ایسا کیوں ؟ " میں تھوڑا سا گھبرا گیا ، جب اس نے ایسا کہا تو " آپکو کیسے پتہ . . . " " کالج کا اسٹوڈنٹ کیا کرتا ہے ، کیا نہیں کرتا وہ کالج اسٹاف کو ہر وقت معلوم ہوتا ہے ، لیکن ہم کچھ نہیں بولتے . . . . " لپسٹک لگانے كے بَعْد سحرش میڈم نے اپنے دونوں ہونٹوں کو جوڑا . . . . " مطلب کے سب کو پتہ ہے کہ میں نے اس کمینے کاشف کو " " جی . . . . اور ایک طالب علم کی طرح برتاؤ کرو ، کمینے اور ابے تابے جیسے لفظوں کا استمعال میرے سامنے دوبارہ مت کرنا . . . " " سوری میم . . . " " تو اب تمہارا اگلا پلان کیا ہے . . . . " " کس بارے میں . . . " میں نے سوچا کہ وہ اب اس دن کی طرح چدائی کی بات کریگی ، " کاشف اور اس کے دوست تمہیں ایسے نہیں چھوڑیں گے . . . . " " پھر سے پیل دوں گا کمینوں کو ، . . . " میں نے جوش میں آتے ہوئے کہا. . . " میں نے بولا نہ ، اس طرح کے لفظوں کا استمعال مت کرو کمینے ، ابے . . . . . اور یہ کیا ہے پیل دوں گا. . . " " سوری میم . . . . " " سمیرہ كے ساتھ تم نے بدتمیزی کی . . . . " " اس کو تو سب پتہ ہے " میں چُپ ہی رہا . . . . " وہ میری دوست ہے اور اسی نے بتایا مجھے . . . . " " سب کچھ بتا دیا ؟ " " ہاں . . . . " اپنا میک اپ بند کر کے انہوں نے اب پہلی بار مجھے اچھی طرح سے دیکھا ، ان کی پرفیوم کی خوشبو بہت شاندار تھی اور نہ چاھتے ہوئے بھی میں نے اپنا چہرہ سحرش میڈم کی طرف کیا . . . . . " آج رات کیا کر رہے ہو . . . . " " کچھ نہیں . . . " میں یہ بولنا چاہتا تھا ، لیکن اتنی دیر میں سحرش میڈم اپنی کرسی سے اٹھ چکی تھی اور میری ہی کرسی پر میری طرف اپنا چہرہ کر کے میرے اوپر بیٹھ گئی تھی ، اور وہ پہلا موقع تھا جب ان کی گانڈ کا احساس مجھے اپنی رانوں پر محسوس ہوا . . . . اس وَقت نہ چاھتے ہوئے بھی مجھے بہت اچھا لگا ، بہت ہی اچھا محسوس ہو رہا تھا . میری رانوں پر دبتے ان کے کولہے مجھے کچھ الگ ہی احساسات کرا رہے تھے ، جو میں نے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں کیا تھا ، میں اپنی دونوں رانوں کو جوڑے ان کے کولہوں کو دبانے لگا اور اس وَقت میرے دل و دماغ پر شہوت سوار ہوگئی تھی اور میں نے سحرش میڈم سے کہا کہ میں انہیں بنا کپڑوں كے دیکھنا چاہتا ہوں تو جواب میں وہ صرف مسکرا دی ، اب مجھے ان کی مسکان ، ان کی صورت ، ان کے گلابی رس بھرے ہونٹ اچھے لگنے لگے تھے . . . . اب میں بھی سحرش میڈم کو وہی پر چودنا چاہ رہا تھا . . . . . " ایک چومی لے لوں کیا . . . " ان کے کمر کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے میں نے سوچا ، اور سحرش میڈم جو کہ میرے اوپر سوار تھی انہیں اپنے قریب کھینچ لیا . . . . . اس وَقت ایسا میں نے اس لئے کیا تھا کیوںکہ میں نے ، فلموں میں یہ سب دیکھا تھا . . . . لیکن سحرش میڈم کو اصل تجربہ تھا ، وہ حَسِین ہونے كے ساتھ ساتھ کسی قاتل حسینہ کی طرح بہت چالاک بھی تھی ، انہیں سب معلوم تھا کہ کب ، کیا اور کہاں کرنا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ آج تک اِس کالج میں تھی ، ورنہ ایسی ٹیچر ، جو ہر ہفتے نئے لنڈ کی تلاش میں رہتی ہو ، کالج منیجمنٹ چود چود كر باہر نکال دیتی ہے ، اور میری کم علمی كے مطابق کالج منیجمنٹ كے کئی ہائی پوسٹ والوں مردوں سے بھی سحرش میڈم کا چکر تھا . . . . . سحرش میڈم كے پورے جسم میں ہوس بھری تھی ، جو اس وَقت میں محسوس کر رہا تھا ، وہ میرے اوپر بیٹھی ہوئی میرے سَر کو بہت پیار سے سہلاتے ہوئے میرے بال خراب کر رہی تھی . . . . وہ تو اپنے کام میں لگی ہوئی تھی ، لیکن میں کیا کروں یہ مجھے نہیں سمجھ آ رہا تھا . . . . کبھی میں سوچتا کہ اس دن کی طرح آج بھی ان کی چھاتیوں کو داباو ، لیکن پھر سوچتا کہ ان کی گانڈ کو مسلتا ہوں ، اور بَعْد میں سوچا کہ پہلے ایک کس لے لی جائی ، اس وَقت میں اسی الجھن میں تھا کہ شُرُوع کہاں سے کروں . . . . وہ تو اپنی گانڈ اوپر نیچے کرکے میرے سَر پہ اپنا ہاتھ پھیر رہی تھی اور میں کسی بچے کی طرح انہیں ایسا کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا . . . . . . . . . " میم . . . . " بہت ہمت سے کام لینا پڑا انہیں روکنے كے لیے ، اِس وَقت میں نے ان کی کمر کو کس کر پکڑ رکھا تھا اور انکی طرف دیکھ رہا تھا . . " کیا ہوا . . . " " چومی لینی ہے . . . . اوہ میرا مطلب ایک کس . . . . " " کدھر گال پر یا . . . " اپنے ہونٹ پر انگلی رکھتے ہوئے انہوں نے کہا" یا پھر یہاں . . . . " سحرش میڈم كے ہونٹوں کو دیکھ کر میں نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری ، " لپسٹک کا رنگ تمھارے ہونٹوں میں لگ جائیگا . . . . سوچ لو " " مطلب کہ . . . . " " مطلب کہ بے عزتی . . . . " مجھے درمیان میں روک کر وہ بولی . . . اور مجھے اُداس دیکھ کر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی چوت كے پاس لے جاتے ہوئے بولی " اسے مسلو . . . . باہر سے ہی انگلی ڈالنے کی کوشش کرو . . . . " " آپ نے وہ نہیں پہنا ہے کیا . . . . " " کیا . . . " " وہ کیا بولتے ہے ، جو لڑکیاں ادھر پہنتی ہے . . . " ان کی پھدی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میں نے کہا " وہ جو پانی خشک کر لیتا ہے . . . . " " بے وقوف اسے پیڈ کہتے ہے . . . . " میرے گال پر دھیرے سے تھپڑ مارتے ہوئے انہوں نے کہا " چھو کر دیکھو کہ پہنا ہے یا نہیں . . . . " میں نے ایسا ہی کیا ، جیس طرح سحرش میڈم نے کہا ، میں نے ان کی چوت کو پہلے آہستہ سے سہلایا اور پھر دبا کر چیک کرنے لگا کہ انہوں نے پیڈ پہنا ہے یا نہیں . . . . میری اِس حرکت پر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی ، اور میرے گالوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے نوچتے ہوئے بولی کہ میں بہت سویٹ ہوں . . . . . . " ہاں ، آپ نے پہنا ہے . . . . " میں پتہ نہیں کیوں بہت خوش ہو گیا تھا ، اس وَقت . . . . " تو اب کیا خیال ہے . . . " اب سحرش میڈم کو میری باتوں میں مزہ آنے لگا تھا ، وہ اب میرے اوپر خاموش بیٹھی ہوئی میرے بالوں پر ہاتھ پھیر رہی تھی . . . . " م . . . میں اب . . . . " " کچی کالی ہے تو ، تیرا رس پینے میں مزہ آئیگا . . . . " رس تو میں پینا چاہتا تھا ، لیکن کمینی موقع ہی نہیں دے رہی تھی . . . . میں نے خود میں ہمت پیدا کی اور اپنے ہاتھوں سے ان کے چہرے کو نیچے کیا ، اور پھر اس کے بَعْد ہم دونوں کی آنکھیں ، ہم دونوں كے ہونٹ ایک دوسرے كے قریب آتے گئے ، میں نے اندر ہی اندر عمران ہاشمی کی فلموں كے سین یاد کیا اور جھپٹا مار کر سحرش میڈم كے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے جکڑ لیا ، لیکن میں کامیاب نہیں ہوسکا کیونکہ سحرش میڈم نے مجھے فوراً دور کیا اور غصے سے مجھے دیکھتی ہوئے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ پھیرنے لگی . . . . " دماغ ٹھیک ہے کیا . . . " " کیا ہوا . . . " " ڈانٹ مار دیا ، . . . " " سوری ، وہ فرسٹ ٹائم ہیں تو تھوڑا . . . . " " اُلو ، کس ایسے نہیں ایسے کیا جاتا ہے . . . . " انہوں نے مجھ سے کہا اور یہ بھی کہا کہ میں کچھ نہ کروں ، وہ مجھے سب سکھا دے گی . . . . . سحرش میڈم نے پہلے میرے ہونٹوں کو چوما اور پھر آہستہ آہستہ اپنے ہونٹوں سے میرے ہونٹوں پر دباؤ ڈالنے لگی . . . . لنڈ جو پہلے سے کھڑا تھا وہ سحرش میڈم کی اِس حرکت سے اب مزید سخت ہونے لگا ، . . . اب وہ میرے ہونٹوں کو چوسنے لگی تھی ، . . . . . . کیا بتاؤں کتنا مزہ آ رہا تھا . . . آہستہ آہستہ میں نے بھی اپنے ہونٹ ہلانے شُرُوع کر دیئے اور پھر ہم دونوں ایک دوسرے كے ہونٹ کو تیز رفتاری سے چوسنے لگے . . . . . سحرش میڈم اب بھی میرے اوپر بیٹھی تھی ، اس وَقت ایک ٹیچر اور ایک اسٹوڈنٹ لیب میں کرسی پر بیٹھ کر چوما چاٹی میں مصروف تھے . . . . . . " آہ ہ ہ ہ . . . . . . " جب سحرش میڈم نے مجھے چھوڑا تو میں ہانپ رہا تھا ، " بہت اچھے . . . " میرے اوپر سے اٹھتے ہوئے انہوں نے کہا . . . . " ٹائم کتنا ہوا . . . " اپنے ہونٹوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے سحرش میڈم سے پوچھا . . . . " دس منٹ بچے ہے ، اب تم جاؤ اور اوپر جانے سے پہلے تمھارے ہونٹوں پر جو لپسٹک کی چھاپ ہے وہ صاف کر لینا . . . . . " میں نے پہلے ٹشو سے اپنے ہونٹ صاف کئے اور پھر باتھ روم میں جا کر خود کو تیار کیا . . . . اس کی لپسٹک اور اس کے جسم کی خوشبو میں اب بھی محسوس کر رہا تھا ، مجھے اس وقت باتھ روم میں ایسا لگ رہا تھا جیسے کے اس کے ہونٹ اب بھی میرے ہونٹوں سے چپکے ہوے ہے ، مجھے اس وقت بہت اچھا لگ رہا تھا . . . . . لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے چار سال کی بربادی کی داستان کا پہلا قدم یہی تھا . . . . . . " سٹوپڈ . . . . " سیڑھیوں سے اوپر جاتے ہوئے میں کسی لڑکی سے ٹکرایا ، غلطی میری ہی تھی جو میں سحرش میڈم كے خیالوں میں کھویا ہوا سیڑھیاں چرے جا رہا تھا . . . . میں جس لڑکی سے ٹکرایا تھا وہ تو میرے لیے ایک عام سی لڑکی تھی لیکن اس لڑکی كے ساتھ جو کھڑی تھی وہ میرے لیے نارمل لڑکی نہیں تھی ، . . . " جان بوجھ کر ٹکراتے ہو . . . " سارہ مجھے دیکھ کر بولی . . . " سوری ، میں نے دیکھا نہیں تھا . . . " " ابھی میں بھی تمہیں ایسے دھکہ دے کر گرا دوں، جیسے تم نے میری فرینڈ کو گرایا ہے اور پھر سوری بولو تو تمہیں کیسا لگے گا . . . . " " بہت اچھا لگے گا ، مہربانی کر کے کوشش کریں . . . " " زیادہ مسکرانے کی ضرورت نہیں ہے . . . " لڑکیوں کی طرح حرکت کرتے ہوئے اس نے اپنے ہونٹوں کو شکل تبدیل کی . . . . لیکن پھر جیسے اسے آج صبح والی بات یاد آئی اور اس نے مجھے پہچان لیا کہ اس کے معشوق سے لڑنے والا میں ہی تھا تو اس کے تیور بہت جلدی بَدَل گئے ، اس نے اپنی سہیلی کا ہاتھ تھما اور وہاں سے آگے بڑھ گئی . . . . . . " یہ لڑکی میری جان نکال کر ہی رہے گی . . . " اسے جاتے ہوئے میں نے دیکھا ، اور جب وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی تو میں دوبارہ سے سیڑھیاں چڑتے ہوے اپنی کلاس کی طرف چل دیا . . . . کچھ لفظ بنا کہے کہہ گئے . . . . کچھ لوگ خاص تو تھے ، لیکن وقت کے ساتھ سب ساتھ چھوڑ گئے . . . . رشتے ناتے تو بہت پرانے سے تھے سب سے ، لیکن افسوس کہ سب ایک پل میں اس رشتے کو کچھے دھاگے کی طرح توڑ گئے . . . . . شراب کی بوتل خالی کرنے كے بَعْد کام کرنے میں بہت مزہ آتا ہے ، اِس وقت کاشف آلو کاٹ رہا تھا اور اظہر کو میں نے باہر دکان پر بھیجا ہوا تھا کچھ سامان لینے كے لیے . . . . . " اس دن سحرش نے کچھ اور نہیں کیا کیا . . ." آلو کاٹ کر اس نے مجھ سے پوچھا " تیری بَکْواس کہانی کو چھوڑ کر سب کچھ اچھا چل رہا ہے ، لیکن ایک بات بتا تو نے سچ میں اس دن سحرش كے ساتھ کچھ نہیں کیا . . . . " " اور یہ تو کیوں پُوچھ رہا ہے . . . " " کیوںکہ کوئی بھی عام لڑکا اپنے ہاتھ میں آیا ہوا موقع ایسے ہی نہیں چھوڑ دے گا . . . . " "سحرش میڈم ، ہم دونوں سے زیادہ تیز تھی ، اس لیے تو اس نے مجھے پھنسایا تھا . . . . " " وہ سب تو ٹھیک ہے ، پہلے یہ دیکھ کہ شراب بچی ہے یا لانی پڑے گی . . . . " " ایک بوتل ہے . . . " " لے پیگ بنا اور پھر تیری سڑی ہوئی زندگی میں دوبارہ جاتے ہے . . . . " تب تک اظہر بھی آ گیا اور مجھے پیگ بناتے ہوئے دیکھ کر بولا " کمینے تیری چھپ چھپ كے شراب پینے کی عادت ابھی تک نہیں گئی . . . " " غور سے دیکھ تِین گلاس رکھے ہے وہاں . . . ." " اوہ سوری ! " بہت خواہش تھی ، اس کے ساتھ زندگی کا ہر پل ، ہر وقت گزارنےکی . . . . . لیکن افسوس کہ کبھی نہ تو وہ پل آیا اور نا ہی کبھی وہ وقت . . . . . " یہ سحرش میڈم كے لیے ہے یا سارہ كے لیے . . . . " اظہر نے مجھ سے پوچھا . . . . ہم دونوں اپنے روم میں بُک کھول کر بیٹھے ہوئے تھے ، اظہر بُک کھول کر کیا کر رہا تھا یہ تو مجھے نہیں معلوم ، لیکن میں بُک کھول کر اپنے خیالات میں کھو رہا تھا ، کبھی سحرش میڈم دکھتی تو کبھی ان کے ساتھ لیب میں گزرا آج کا وقت دکھتا . . . تو کبھی سارہ دکھتی ، اس کی بھوری بھوری آنکھیں دکھتی ، اس کے گورے گورے گال دکھتے . . . . لیکن مزہ تب خراب ہو جاتا جب اس کے ساتھ وہ چوتیا صغیر دکھتا . . . . . . . " بس ایسے ہی ، سوچا کہ آج کچھ شعر شعاری لکھوں اور یہ لکھ ڈَلا . . . . " میں نے ااظہر سے کہا " کیسا تھا . . . " " بَکْواس . . . . بورنگ ، پکاؤ " " میں تجھے چود دوں گا آگے سے بھی اور پیچھے سے بھی اگر تو نے کچھ اور کہا تو . . . . " " آگے سے بھی اور پیچھے سے بھی " دماغ پر زور ڈالتے ہوئے اس نے کہا " تیرے پاس دو لنڈ ہے کیا، ایک آگے اور ایک پیچھے . . . " " ہاں ہے تو " " دو دو لنڈوں والے بابا . . " آج سے کچھ سال پہلے کا تو کنفرم نہیں بتا سکتا لیکن اس وقت کالج کی زندگی میں فیس بک نہ ہو یہ ناممکن ہی ہوتا تھا ، یہ ایک وائریس کی طرح پھیلا ہوا تھا ، جن لڑکوں کی معشوقہ ہوتی وہ تو اپنے موبائل میں مصروف رہتے اور جن لڑکوں کی معشوقہ نہیں تھی وہ اکثر رات دیر تک فیس بک میں اپنے لیے معشوقہ کی تلاش میں لگے رہتے ، اظہر کی بھی کوئی معشوقہ نہیں تھی ، اور یہی وجہ تھی کہ اس کے موبائل میں فیس بک ہمیشہ کھلا رہتا ، . . . . . " سحرش میڈم ، کی آئی ڈی مل گئی " اظہر بستر سے اٹھ کر میرے پاس آیا اور مجھے سحرش میڈم کی پروفائل دکھاتے ہوئے بولا " اب میں اس کو فرینڈ ریکویسٹ سینڈ کرتا ہوں ، پھر ہم دونوں رات دیر تک چیٹنگ کرینگے . . ." " کہی تجھے بلاک کر دیا تو . . . . " " میں تو بس اندازہ لگا رہا ہو . . . " اظہر كے 140 ایم ایم چھوڑے ، 167ایم ایم لمبے ، اور 150 پوند کے وزنی دماغ میں ایک خطرناک پلان آیا ، اس نے مجھ سے میری فیس بک آئی ڈی مانگی ، اور جب میں نے اسے کہا کہ میں فیس بک استمعال نہیں کرتا تو وہ ڈانٹ دکھانے لگا اور پھر اپنے موبائل میں مصروف ہو گیا کچھ ہی دیر میں اس نے میری فیس بک آئی ڈی بنا دی اور مجھے ای میل آئی ڈی اور پاسورڈ دیتے ہوئے بولا . . . " یہ رہی تیری فیس بک آئی ڈی ، اور آج كے بَعْد کوئی بھی پوچھے تو یہی آئی ڈی بتانا . . . " " تو کیا کرنے والا ہے . . . . " " سحرش میڈم کو اس سے ریکویسٹ سینڈ کروں گا ، اور پوری رات چیٹ کروں گا . . . . " " یار مروائے گا کیا ، وہ دو سو اسائنمنٹ دے گی مجھے پھر . . . " " پریشان نہ ہو ، میں یہ پہلی بار نہیں کر رہا کچھ نہیں ہوگا . . . " کیا کرتا میں ، اس کی بات ماننی پڑی دوست جو تھا میرا . . . . پتہ نہیں کمینے سے لگائو سا ہو گیا تھا ، اس کی بچودیاں اچھی لگنے لگی تھی اور ایک بات جو تھی کہ وہ مجھے اک قابل انجینئر بنا رہا تھا ، روز رات کو خود توسگریٹ پیتا اور مجھے بھی پلاتا لیکن پیسے کبھی نہیں مانگتا ، اور اب اس کا پلان مجھے شراب پلانے کا بھی تھا ، وہ اکثر یہی کہتا کہ ابھی ٹیسٹ کر لے ورنہ ہاسٹل كے آنے والے دوست جب شراب پلائیں گے تب کیا کرے گا ، اس کی اِس بات پر میں بس اتنا ہی کہتا تجھے دے دوں گا ، تو پی لینا . . . . پھر کیا تھا اس کے بَعْد ہم دونوں ایک دوسرے كے کاندھے پر ہاتھ رکھتے اور پھر لڑکیوں کی باتیں کرنے لگتے . . . . . . " سحرش میڈم نے ریکویسٹ اکسیپٹ کر لی " صبح صبح کمینے نے جگاتے ہوئے مجھ سے کہا . . . . میرا پروگرام تو چار بجے اُٹھ کر پڑھنے کا تھا لیکن رات کو جو آنکھ لگی وہ صبح آٹھ بجے کھلی . . " گانڈ مار لوں گا، سونے دے . . . " "یار تو دیکھنا اب. . . اس کو تو حویلی میں لے جا کر چودوں گا . . ." " اور میں بنگلہ نمبر تیرہ میں . . . اب بول " وہ چُپ ہو گیا اور سحرش میڈم کو ایک میسیج کر دیا ، اسی وقت روم میں بنیان پہنے ہوئے ایک لڑکا اپنی آنکھ ملتے ہوئے آیا اور بولا کہ مجھے سردار بولا رہا ہے ، . . . " کہا ہے ایم ٹی بھائی . . . " " باہر ہاسٹل وارڈن كے ساتھ چاۓ پی رہے ہے . . . " " ٹھیک ہے آتا ہو . . . " چادر سمیٹ کر میں نے ایک سائٹ پر رکھی اور ہاسٹل وارڈن كے روم میں جا پہنچا " آپ نے بلایا ایم ٹی بھائی . . . " " بیٹھ . . . " مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ بولے " یہ ایم ٹی کیا ہے . . . آتے ہی میرا نِک نام رکھ دیا . . . " " ملٹی ٹیلینٹڈ لڑکا . . . " ویسے ایم ٹی کا فل فوم تو ملٹی ٹیلینٹڈ لاوندا تھا ، لیکن سردار كے سامنے اس کو لاوندا کہنا مجھے مناسب نہیں لگا . . . . " ملٹی ٹیلینٹڈ لڑکا . . . . یہ مناسب نہیں لگا ، ایسا بول ملٹی ٹیلینٹڈ لاوندا ، یہ ٹھیک رہیگا . . . . " تب تک میرے لیے بھی سردار كے اشارے پر ایک کپ چاۓ آ چکی تھی ، چاۓ کا کپ اپنے ہاتھ میں لیکر میں چوسکیاں لینے لگا . . . . " کل صغیر سے لڑائی ہوئی تھی تیری . . . " میں چاۓ پیتے پیتے ہی روک گیا اور سردار کی طرف دیکھ کر بولا " ہاں چھوٹی سی تو تو میں میں ہوگی تھی اس سے ، اور وہ بھی نہیں ہوتی اگر اس نے میرے دوست پر ہاتھ نہیں اٹھایا ہوتا تو . . . " " تھوڑا کنٹرول رکھ ، ایسے پنگوں میں ابھی سے مت پڑ . . . . وہ بھی سورس والا لڑکا ہے . . . . " " ارے بھائی جان وہ کتنے لڑکے لیکر آئیگا ، زیادہ سے زیادہ پچاس یا سو لیکن اس سے زیادہ تو اپنے ہاسٹل میں رہتے ہے اور اوپر سے وہ اتنے لڑکے لیکر آ بھی نہیں سکتا، " پھر بھی تھوڑا کنٹرول میں رہ . . . " مجھے کنٹرول میں رہنے کا مشورہ دے کر سردار وہاں سے جانے لگا اور میں وہی ہاسٹل وارڈن كے برابر میں بیٹھ کر چاۓ کی چوسکیاں لینے لگا . . . . " یونین کا الیکشن لڑے گا. . . " وہاں سے جاتے جاتے پیچھے موڑ کر سردار نے مجھ سے پوچھا اور میں نے فوراً اپنا سَر مسکراتے ہوئے نہ میں ہلا دیا . . . . " کیوں . . . . " " پڑھائی پر اثر پڑتا ہے اس سے ، میں نے سنا ہے ایسا . . . " " ٹھیک ہے . . . " سردار وہاں سے چلا گیا ، وہاں سے اپنے روم میں آنے كے بَعْد مجھے جو سب سے پہلا کام کرنا تھا وہ تھا اپنے کپڑوں کی استری کرنا . . . " ایک میری شرٹ پر بھی کر دے . . . " ایک شرٹ میری طرف پھینک کر اظہر نے کہا " ٹائم نہیں ہے . . . . " " بہت ٹائم ہے ، ابھی تو پورا ایک گھنٹہ باقی ہے . . . " " تو ایک کام کر . . . " میں نے استری کرنا بند کرکے سیدھا کھڑا ہوا " لنڈ پکڑ كے جھول جا ، . . . " " کر دے نہ. . . " " نہیں . . . " " یار کر دے نہ . . . " " نہیں بولا نہ . . . " " رات کو سگریٹ پلاؤں گا . . . " " ایک بار بول دیا نہ کہ نہیں کروں گا . . . . " " وہ بھی فری میں . . . " " لا اپنی شرٹ دے ، . . . " کالج میں شہرت تو ٹھیک ٹھاک ہوگئی تھی ، عالَم یہاں تک تھا کہ جب میں اپنے ہاسٹل سے نکل کر کالج میں داخل ہوتا تو باہر کھڑے ، یا آتے جاتے لوگوں میں سے سب تو نہیں لیکن آدھے سے زیادہ میری طرف ضرور دیکھتے تھے اور ویسے بھی جب آپ سات سال سے فیل ہونے والے غنڈے کو مارو گے تو عوام ایسا ہی دیکھے گی . . . . . "نومینیشن فارم بھر لیا کیا تو نے ؟ " ابھی کالج كے اندر قدم رکھا ہی تھا کہ اظہر بول پڑا " اگر نہیں لیا ہو تو ، لے آ اور ہاتھوں ہاتھ میرے لیے بھی ایک . . . " منو بھی ہمارے ساتھ کالج كے اندر داخل ہوا تھا اور اسی نے شاید اظہر سے کہا تھا کہ وہ مجھے فارم لینے كے لیے بھیجے . . . . " کتنے کا آتا ہے . . . " " تیس کا . . . " منو نے جلدی سے جواب دیا . . . " پھر تو ایک منو كے لیے بھی لے آؤں گا ، نکال سو روپے " اظہر نے جلدی سے سو روپے کا نوٹ مجھے دے دیا اور بولا " پیسہ کا معاملا نہیں ہے کاکے . . . . بات تو کچھ اور ہی ہے ، جو آپ کو وہی جا کر معلوم چلیں گی ارمان سر . . . " جلدی سے وہ دونوں کلاس کی طرف چل دیے اور میں اسٹوڈنٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھا ، اور جیسے ہی اسٹوڈنٹ ڈیپارٹمنٹ كے پاس پہنچا وہاں کا نظارہ دیکھ کر دنگ رہ گیا ، اسٹوڈنٹ ڈیپارٹمنٹ كے باہر بہت لمبی لائن لگی ہوئی تھی . . . . کچھ اسٹوڈنٹ وہاں بیٹھے چپراسی کی منت سمجات کر رہے تھے تاکہ ان کا کام جلدی ہو سکے ، لیکن میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور سیدھے لائن میں لگ گیا ، . . . . " ایکسیوز می . . . . . " میرے سامنے والی کھڑی لڑکی نے بہت زور سے کہا اور پیچھے پلٹی ، اسے دیکھتے ہی جہاں میں چُپ ہو گیا وہی مجھے دیکھ کر وہ بھی چُپ ہوگئی تھی ، آنکھوں سے آنکھیں ملی ، اس کے دِل کا تو پتہ نہیں لیکن میرے سینے میں بائیں طرف قید لال رنگ کی ایک چیز جسے لوگ دِل کہتے ہے وہ دھڑک اٹھا . . . . دھڑکن تو سارہ کو دیکھنے سے پہلے بھی چل رہی تھی ، دِل تو پہلے بھی دھڑک رہا تھا ، لیکن اُس ایک لمحے میں جب اس نے مجھے دیکھا تو مجھے میری دھڑکنوں کا احساس ہوا ، میں چاہتا تھا کہ وہ مجھے یوں ہی دیکھتی رہے ، اور پھر ہم دونوں ایک دوسرے كے قریب آئے اور میں اسے بولوں کہ " آئی . . . . . . . . . " " ہیلو مسٹر ، ایک تو پہلے دھکہ دیتے ہو اور پھر اوپر سے لائن مارتے ہو . . . " وہ مجھ سے سوال کر رہی تھی اور میں اُس وقت اسے گھورے جا رہا تھا ، پتہ نہیں ایسا کیا تھا اُس لڑکی میں جو میں اس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا تھا ، . . . . " او ہیلو میں تم سے بات کر رہی ہوں . . . " مجھے زور سے جھاڑاکتے ہوئے سارہ بولی . . . . . " کیا ہوا . . . " ہوش میں آتے ہی میں نے سوال کیا . . . " کچھ دیر پہلے تم نے مجھے دھکہ دیا تھا . . . . " " تو . . . " " تو . . . " " تو کیا . . . " " تم نے جان بوجھ کر مجھے دھکہ دیا . . . " " دیکھو ایسا کچھ بھی نہیں ہے ، اتنی لمبی لائن لگی ہے تو تھوڑا بہت تو دھکم پیل تو ہو ہی جاتی ہے . . . اس پر آپ توجہ مت دیں " " لیکن تم نے مجھے جان بوجھ کر دھکہ دیا ، سوری بولو . . . " " کس چیز کا سوری بولوں یار ، " لڑائی کے مزے لینے والوں کی کبھی کمی نہیں ہوتی اور جب یہ لڑائی لڑکے اور لڑکی كے درمیان ہو تو دیکھنے والے اور بھی بڑھ جاتے ہے ، اُس وقت بھی ایسا ہوا ، سب لائن میں تو لگے تھے ، لیکن مزے بھی لے رہے تھے . . . . " میں بول رہی ہو نہ سوری بولو . . . " " جاؤ نہیں بولتا . . . " وہ پہلے کسمسائی اور پھر اپنی بھوری آنکھوں سے مجھے گھورنے لگی لیکن میں نے پھر بھی سوری نہیں بولا تو وہ پیر پٹخ کر آگے مڑ گئی . . . . نہ جانے کیوں ، سارہ کو پریشان دیکھ کر اچھا لگ رہا تھا ، وہ جب بھی تنگ ہو کر پیچھے گھومتی تو میں ہنس دیتا اور وہ پھر تنگ آ کر آگے دیکھنے لگتی . . . . " یہ ہجوم اتنی جلدی کیوں ختم ہو رہا ہے . . . . " چھوٹی ہوتی ہوئی لائن کو دیکھ کر میں نے خود سے کہا، اُس وقت میں سب سے الگ یہی چاہ رہا تھا کے یہ لائن آرام سے دو تِین گھنٹے میں ختم ہو جائے ، کیونکہ میں ہر پانچ منٹ میں کچھ ایسا کر دیتا جس کی وجہ سے سارہ پیچھے موڑ کر دیکھتی اور جب وہ مجھے دیکھتی تو ایک لفظ ہر بار زُبان پر آتا لیکن میں آخر تک وہ لفظ بول نہیں پایا . . . . میں ہر بار " آئی . . . . " پر آ کر اٹک جاتا تھا ، اس کے برعکس سارہ وہاں کھڑے ہوکر جلد سے جلد مجھ سے اور لمبی چوڑی لائن سے چھٹکارا پانا چاہتی تھی . . . . وہ جلد سے جلد فارم بھر کر وہاں سے جانا چاہتی تھی ، انجانے میں ہی سہی لیکن اگر اِس واقعے کو ٹیکنیکلی طور پر دیکھا جاۓ تو میں اس کے قریب آنا چاہتا تھا لیکن وہ مجھ سے دور جانا چاہتی تھی ، اور شاید یہی ہماری . . . ہماری نہیں میری تقدیر تھی . . . . . " تم نے ابھی مجھے کیا کہا . . . " ہر بار کی طرح وہ ایک بار پھر آنکھوں میں غصہ لیے ہوئے پیچھے پلٹی . . . " میں نے تو کچھ نہیں کہا ، میں تو بھول بھی گیا تھا کہ تم بھی یہاں کھڑی ہو . . . " " میں نے سنا ، تم نے مجھے کہا ، یہ میری شہزادی ہے . . . " " اس نے کیسے سن لیا ، یہ تو میں نے خود سے کہا تھا . . . . " خود سے باتیں کرتے ہوئے، مجھے جب کچھ نہیں سوجھا تو میں زور زور سے ہنسنے لگا . . . " وہ تو میں فون پر بات کر رہا تھا . . . . " " جھوٹ مت بولو . . . . " " حد ہے یار ، . . . اب میں کسی کو کال بھی نہ کروں کیوںکہ تم یہاں میرے پاس ، میرے قریب ہو . . . . " " اچھا اچھا ٹھیک ہے . . . " وہ پھر پلٹ گئی اور دِل كے ایک بار پھر ٹکڑے ہوکر جوڑ گئے . . . " ہیلو صغیر. . . " اپنی کال ریسیو کرکے اس نے کہا . . . . " اِس کمینے نے کال کیوں کی . . . " میں بڑبڑایا . . . " اسٹوڈنٹ ڈیپارٹمنٹ كے سامنے . . " سارہ نے کال کاٹ دی اور ایک بار پھر سے پیچھے گھوم کر مجھے دیکھنے لگی . . . وہ مجھے جلانا چاہتی تھی ، لیکن میں خاموش کھڑا دوسری طرف دیکھتا رہا ، اور تب تک دوسری طرف دیکھتا رہا ، جب تک وہ آگے نہیں پلٹ گئی . . . . " ہاے . . . . " صغیر نے سارہ کو دیکھ کر دور سے اپنا ہاتھ ہلایا اور سارہ سے اشارہ پا کر وہ ادھر ہی آنے لگا ، اور مجھے وہاں سارہ كے پیچھے دیکھ کر اس کا دماغ گھوم گیا اور وہ تیز رفتاری سے میری طرف آنے لگا . . . . . " چل نکل . . . " " کیوں ؟ " اس کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے ہوئے میں کہا . . . " بس بول دیا نہ نکل تو نکل یہاں سے. . . " " صغیر آرام سے . . . . تمہیں ہر کسی سے کیسے لڑ سکتے ہو ، کچھ تو اسٹینڈرڈ رکھو اپنا . . . " صغیر کو خاموش کراتے ہوئے سارہ بولی . . . . " تجھے بولا تھا نہ، اپنی اوقات میں رہنا . . . . " سردار نے آتے ہی اک لات کاشف کو ماری . . . . " سردار ، یہ تیرا معملہ نہیں ہے . . . " " کیا بولا تھا میں نے . . . . ہاسٹل کے لڑکوں کو ہاتھ تک مت لگانا ، لیکن تو نہیں مانا. . . . " " اوئے سردار. . . . آج اتنے سارے لڑکے تیرے ساتھ ہے اس لیے اچھل رہا ہے . . . . بھول مت میں تیرا بھی سینیر ہوں . . . . " " چپ کر بولتا بہت ہے . . . . . " نہ جانے اظہر کو کیا ہوا اور اس نے ایک تھپڑ کاشف كے گال پر مار دیا " اس دن والا بائیک اسٹینڈ کا حساب کلئیر ہوا . . . " " دیکھ کیا رہے ہو ، مارو کمینوں کو . . . " کاشف نے وہاں موجود اپنے دوستوں سے کہا . . . . کاشف اور اس کے دوست ہم سے لڑنا شروع ہو گئے، لیکن ہم ان سے کئی گنا زیادہ تھے اس لئے چند منٹوں میں ہی ہم نے ان سب کو بری طرح مارا ، لاتوں سے ، ہاتھوں سے ان سب کو فٹ بال کی طرح دھویا اور کچھ دیر میں ہی کاشف اور اس کے دوست زمین پر لٹے کرہ رہے تھے . . . . . . " کیا حال ہے گدھے . . . " جہاں کاشف لیٹا ہوا تھا ، اس کے پاس جا کر میں نے کہا اور پوری طاقت كے ساتھ ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر دے مارا . . . . کیا پاور تھی اس کے گال پر خون جام گیا . . . . اور اس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا ، ایک طرف کا گال سفید تو دوسری طرف کا ایک دم لال . . . . . . " چال پُش اپ کر . . . . " آرام سے وہاں بیٹھ کر میں نے کاشف سے کہا . . . . . " میں کوشش کرتا ہوں . . . " الٹے لیٹے ہوئے اس نے کہا . . . . " آ جاؤ سب لوگ . . . . " آج بھی وہی ہونے والا تھا جو کچھ دن پہلے اسی گراؤنڈ پر ہوا تھا ، لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ آج گراؤنڈ میں میری جگہ مجھے لیٹانے والا لیٹا ہوا تھا اور اس کے اوپر کودنے کی باری میری تھی . . . . اور اگر ٹیکنیکل لینگویج میں کہاجائے تو اسے " تھوری آف ریلاتیوتی" یا " فریم آف ریفرنس" بھی کہہ سکتے ہے ، " سوری . . . . " کاشف نے آہستہ سی آواز میں کہا ، اس دن کی طرح آج اس کے منہ سے بھی خون نکال رہا تھا . . . اس دن کی طرح آج اس کا جسم بھی وہاں کی دھول مٹی سے بھرا ہوا تھا . . . . " روک کیوں گئے مارو سب کو . . . آخر تھوری آف ریلاتیوتی کا قانون بھی تو ثابت کرنا ہے . . . . " " تجھے چھوڑوں گا نہیں . . . " " سوری کاشف سر ، آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے . . . . مار تو آپ کو كھانی ہی پڑے گی " " میں چلتا ہوں ، نیکسٹ کلاس اٹینڈ کرنی ہے . . . " سردار بھائی نے اپنی گھڑی میں دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے کپڑوں کو ٹھیک کرنے لگے. . . " لیکن ابھی تو بریک ٹائم ختم ہونے میں بہت ٹائم ہے . . . . " " سر نے آج پہلے بلایا ہے ، میں چلتا ہوں، تم لوگ عیش کرو . . . . " اتنا کہہ کر سردار وہاں سے چلا گیا . . . . " یار ، روک کیوں گیا ، پُش اپ کر . . . " گانڈ پر ایک زور کی لات مار کر میں نے کاشف سے کہا ، اور میری دیکھا دیکھی سب کی گانڈوں پڑ لات پڑی . . . . . " بس ، اب اور نہیں . . . . " ہانپتے ہوئے کاشف نے کہا. . . . کاشف كے دوست تو کب کے ہار مان چکے تھے اور ان سب کا مار کھا كر برا حال بھی تھا ، ان سب کی حالت دیکھ کر دل میں آیا کہ سب کو چھوڑ دوں ، لیکن اچانک اظہر میرے پاس آیا اور میرے کان میں کچھ ایسا کہا ، جسے سن کر میں فورا کاشف كے پاس پہنچا . . . . " چل جلدی کر ابھی سو بار اور اوپر نیچے ھونا ہے . . . . " " نہیں، اب ہمت نہیں ہے . . . " پسینے سے بھیگا ہوا کاشف زمین پر لیٹ گیا اور لمبے لمبے سانسیں لینے لگا . . . . " ایک شرط میں چھوڑوں گا تجھے . . . " " ہاں بول . . . . " " ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں کال کرکے بلا . . . . " میرے پروگرام کو سمجھتے ہوے کاشف نے صاف منع کر دیا اور اسی وقت اظہر نے پاس پڑا ہوا ایک موٹا سا ڈنڈا اُٹھا کر کاشف كے سَر پر نشانہ لگایا اور زور سے ڈنڈے کو اس کے سَر کے بلکل پاس زمین پر دے مارا . . . . کاشف نے سوچا کہ اظہر اسے مارنے والا ہے ، اس لیے اس نے زور سے چلاتے ہوے کہا کہ وہ تیار ہے ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں بلانے كے لیے . . . . . . " پانی دو کاشف سر کو . . . . " کاشف جب ہانپتے ہوئے اُٹھ کر وہاں بیٹھا تب میں نے اپنے ہی کلاس والے ایک لڑکے سے کہا اور لڑکوں کے ہجوم میں سے کسی نے کہا کہ کاشف کو پانی نہیں اپنا پیشاب پلا دو. . . . خیر میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور کاشف کو بوتل والا پانی پلایا . . . . . " سمیرہ، کہاں ہو . . . . " کاشف نے سمیرہ کو کال کی اور میں نے اسے لوڈ سپیکر آن کرنے کا اشارہ کیا . . . " کب سے ڈھونڈ رہی ہو تجھے . . . . چوت میں کجلی ہو رہی ہے . . . کہاں ہو تم . . . . " " واہ . . . . " میں نےدھیرے سے کہا اور سب کو اشارہ کیا کی کوئی نہیں ہنسے . . . . . " میں ، گراؤنڈ میں ہوں . . . . " کاشف میری طرف دیکھتے ہوئے سمیرہ سے بولا " یہی آ جاؤ . . . " " اسی گراؤنڈ پر نہ جہاں کچھ دن پہلے ہم نے فرسٹ ایئر كے ایک لڑکے کو مارا تھا. . . . " موبائل کا لوڈ سیپکر اب بھی آن تھا اور میں سب کچھ سن رہا تھا ، " آجا کمینی ، تو آجا ایک بار " میں نے خود سے کہا. . . . " ہاں ، اسی گراؤنڈمیں ہوں . . . " " یہاں میری چوت جلی جا رہی ہے اور تم وہاں کیا کر رہے ہو . . . . تم نے تو کہا تھا کہ بریک ٹائم میں بائیک اسٹینڈ پر ملنا ، اور جب میں وہاں پہنچی تو نہ تو تم وہاں تھے اور نہ ہی تمہارا کوئی دوست . . . . " " تو اپنی چوت میں انگلی ڈال اور سیدھے گراؤنڈ پہنچ . . . ورنہ اگلی بار بہت بری طرح گانڈ ماروں گا . . . . سمجھی " " اوکے ، میں ابھی آئی . . . کنڈم ہے نہ اِس بار ، یاد ہے آخری بار بہت پروبلم ہوئی تھی . . . " " سب ہے ، تو آجا جلدی سے . . . " " فلیور کون سا ہے ، آئی لائک اسٹرابیری کنڈم . . . . " کاشف نے اپنا سَر پٹخ کر کال بند کر دی اور پھر میری طرف دیکھنے لگا ، جانے اسے ایسا کیوں لگنے لگا کہ میں اسے اور اس کی محبوبہ کو وہاں سے سہی سلامت جانے دوں گا . . . . ہم میں سے سب سینیرز وہاں سے چلے گئے اور گراؤنڈ میں اس وقت فرسٹ ایئر كے بیس یا پچیس لڑکے موجود تھے . . . . ہم سب مختلف جگہوں پر چھپ گئے تھے اور کاشف کو دوبارہ سے پُش اپ کرنے كے لیے بول دیا اور اسے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اِس دوران ایک بار بھی روکا تو ہم سب اسے پاگل کتا سمجھ کر اس پر پتھر برسانا شروع کر دیں گے . . . . "کاشف . . یہ کیا ؟ " اپنی اسکوٹی سے اتر کر سمیرہ ، کاشف کی طرف بھاگی اور اسی دوران میں باہر نکلا اور کاشف كے پاس کھڑے ہوگیا . . . . . " تم نے سہی کہا سارہ، کسی بھی چلتے پھرتے كے منہ تو لگنا بھی نہیں چاہئیے اور تم یہ بتاؤ کہ تم یہاں کیا کر رہی ہو . . . " " فارم لینے کے لئے کھڑی ہوں " " یہ سب ان جیسوں كے لیے ہے ، تم سیدھا درانی صاحب کا نام لے کر اندر جا سکتی تھی . . . . " لڑنے كے موڈ میں تو میں بھی تھا لیکن لائن تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی اس لئے مجھے آگے جانا پڑا اور ویسے بھی سردار نے حد میں رہنے كے لیے کہا تھا اور جب فارم لیکر باہر نکلا تو صغیر اور سارہ وہی کونے میں کھڑے بات کر رہے تھے ، کچھ لمحے كے لیے میں وہی کھڑا ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر اپنا کلیجہ جلاتا رہا اور جب دیکھ دیکھ کر اکتا گیا تو میں نے وہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا . . . . . . . " باہر ، باہر بالکل باہر ، . . . " راحیلہ رانی نے میری اندر آنے کی اجازت لینے سے پہلے ہی باہر رہنے كے لیے کہہ دیا . . . " میم ، فارم لینے گیا تھا ، آج آخری تاریخ تھی . . . " اپنے ہاتھ میں رکھے فارم کو دکھاتے ہوئے میں نے کہا " تو میں کیا کروں . . . ایسے کرو گے تو کیسے پڑھو گے . . . " " آخری بار میم ، سوری . . . " " آ جاؤ اندر . . . " " شکریہ میم " " اگلے ہفتے تم لوگوں کا ٹیسٹ ہے . . . " میں ابھی اپنی سیٹ پر آ کر ٹھیک طرح سے بیٹھ بھی نہیں پایا تھا کہ راحیلہ رانی نے کہا ، اور جسے سن کر میں چونک گیا . . . . " باقی ٹیچرز تو بتاتے بھی نہیں ، لیکن میں بتا رہی ہوں ، مجھے میرے سبجیکٹ میں بیس نمبر مکمل چاہئے . . . " " جی میم . . . " صرف دو اسٹوڈنٹ کو چھوڑ کر ، سب نے یہ کہا ، ایک تو یقینً میں تھا اور دوسرا کوئی اور نہیں میرا خاص دوست تھا . . . . " کیا بولتا ہے ، آ جائینگے تیرے بیس نمبر . . . " " مجھے تو ٹاپک تک نہیں پتہ کہ یہ پڑھا کیا رہی ہے اور ٹیسٹ میں کیا دے گی . . . " " کمینی گلا کاٹ كر رکھ دے گی اور بولے گی ایسے کروگے تو کیسے پڑھو گی. . . " " یار ، کچھ ہی دن تو ہوئے ہے کالج آئے ہوئے ، اور ابھی سے ٹیسٹ " بورڈ پر جو ٹاپک لکھا ہوا تھا اسے اپنی نوٹ بک میں چھاپتے ہوئے میں نے کہا . . . . " پریشان نہ ہو، سب ایک رات میں نپٹا لینگے . . . " " اب تو یہی کرنا پڑیگا . . . . " اس دن جتنے بھی ٹیچر آئے سب نے یہی کہا کہ اگلے ہفتے ٹیسٹ ہے اور صرف میں ہی تم لوگ کو یہ بتا رہا / رہی ہوں ، باقی ٹیچرز تو بتانا ہی نہیں چاھتے . . . . بریک ٹائم میں بھوک لگی تو میں اور اظہر کینٹین کی طرف چلے پڑے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہاں شہر میں رہنے والے سینیرز کی اچھی خاصی تعداد ھوگی ، . . . " اگر کچھ مسلہ ہوا تو . . . " کینٹین میں داخل ہوتے ہی میں نے اظہر سے کہا " ہاسٹل والے سینیر کا نمبر ہے نہ تیرے پاس . . . " " ہاں ہے نہ ڈر مت . . . . " ایک ٹیبل پر جا کر میں اور اظہر بیٹھ گئے ، " وہ دیکھ تیری سپنوں کی رانی اپنے سپنوں كے راجہ كے ساتھ اس ٹیبل پر بیٹھ کر فیملی پلاننگ کر رہی ہے . . . " " کون سارہ . . . " " ہاں یار ، . . . " میں نے پیچھے موڑ کر دیکھا ، سچ میں سارہ وہاں تھی لیکن اس کے ساتھ صغیر بھی تھا ، . . . " وہ ادھر ہی آ رہا ہے . . . " جب میں دوبارہ موڑ کر اپنا پیٹ بھرنے لگا ، تب اظہر نے کہا " چل بھاگ لیتے ہے ، ورنہ کمینہ بہت مارے گا . " ابے روک ، کہی مت جاے گے . . . " میں نے اظہر کا ہاتھ پکڑ لیا اور تب تک صغیر بھی جس ٹیبل پر ہم بیٹھے تھے وہاں آ گیا . . . . صغیر ہمارے پاس آیا اور ایک کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھ گیا ، صغیر كے بیٹھنے كے بَعْد میری نظر سب سے پہلے سارہ پر گئی ، میں دیکھنا چاہتا تھا کہ سارہ کے تاثرات کیا ہے اور میں نے دیکھا کہ صغیر کی اِس حرکت سے وہ پریشان تھی ، وہ اپنے دانتوں سے ہونٹوں کو دبا رہی تھی ، اس کی آنکھوں میں پریشانی کا وہی سبب تھا ، جس کا میں دیوانہ تھا ، اپنے خیالاوں میں میں اپنی جگہ سے اٹھا اور سارہ كے ہونٹوں پر کس کرکے بولا کہ "پریشان مت ہو ، سب ٹھیک ہے . . . " " اُدھر کیا دیکھ رہا ہے ، ادھر دیکھ . . . " صغیر نے میرا سَر پکڑ کر اپنی طرف کیا " کیا نام بتایا تھا تو نے اپنا . . . " " یہی سوال جا کر اپنے استاد کاشف سے کر ، وہ اچھے طریقے سے میرا نام اور تفصیل بتائے گا . . . . " " تو کالج كے باہر ہاسٹل والوں کے ساتھ مل کر کسی کو بھی پٹوا سکتا ہے ، لیکن یہ کالج ہے ، . . . " کینٹین كے باقی اسٹوڈنٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صغیر مجھ سے کہا " یہ سب جو بیٹھے ہے نہ ، یہ تجھے اس وقت سے گھور رہے ہے ، جب سے تو یہاں آیا ہے . . . " " تم لوگ صرف گھور سکتے ہو ، جو کرنا ہے وہ تو میں ہی کروں گا ، اگر تم میں سے کسی نے ہاتھ بھی لگایا تو ایک ایک کو لے جا کر اسی گراؤنڈ میں ماروں گا ، جہاں کاشف اور اس کے دوستوں کو مارا تھا اور پھر ان کی معشوقوں کو بلا کر جنگل لے جاؤں گا اور پھر جنگل میں منگل کروں گا " " تو یہ کہنا چاہتا ہے کہ تو پہلے مجھے مارے گا اور پھر سارہ كے ساتھ جنگل میں منگل . . . " تب تک اظہر بھی جوش میں آ گیا اس نے صغیر کی طرف غصے سے دیکھا اور کہا " ہمارے ہاسٹل میں کچھ لونڈے باز ٹائپ کے لڑکے بھی ہے ، جو تیرے ساتھ بھی جنگل میں منگل کرینگے ، سمجھا . . . . " " آ جاؤ ، مرغا پھنس گیا ہے . . . بس حلال کرنے کی دیر ہے . . . " صغیر نے وہاں بیٹھے ہوئے سینیر اسٹوڈنٹ کو اشارہ کرتے ہوئے کہا اور اس کا اشارہ پا کر پندرہ بیس لڑکوں نے اس ٹیبل کو گھیر لیا جہاں پر اِس وقت ہم تینوں بیٹھے تھے . . . . " سارہ کو یہاں سے بھیج دے . . . " " کیوں ؟ لڑکیوں كے سامنے مار کھانے سے ڈرتا ہے . . . " صغیر چلا کر بولا . . . میں نے دیکھا کہ کینٹین کا گیٹ صغیر كے کہنے پر پہلے ہی بند ہو گیا تھا ، اور کالج کی بِلڈنگ سے کینٹین اٹیچ بھی نہیں تھا ، اس لئے کالج اسٹاف وہاں دیر سے ہی آتا ، اتنے سارے لڑکوں کو اپنے پاس دیکھ کر کوئی بھی گھبرا سکتا تھا ، میں بھی ڈر گیا . . . لیکن صغیر سے میں ایسے بات کر رہا تھا جیسے مجھے کوئی فرق ہی نہ پڑ رہا ہو . . . . " صغیر ، . . یہ سب بند کرو . . . " بات بڑھتے ہوئے دیکھ کر سارہ وہاں آئی " سارہ ، تم کان میں ہیڈ فون لگا کر بیٹھ جاؤ ، . . . " " پر صغیر . . . " " سارہ ، جاؤ . . . " سارہ كے وہاں سے جانے كے بَعْد صغیر نے ٹیبل پر اپنے دونوں پیر رکھے اور مجھ سے بولا " کچھ دن پہلے کا حادثہ بتاتا ہو تجھے . . . ایک تیری طرح ہی کا لڑکا تھا ، شہر کی بس میں میں نے اس کے بال پکڑ کر چلتی بس سے نیچے پھیک دیا ، اسے تو میں نے کوئی موقع نہیں دیا ، لیکن تجھے ایک موقع دیتا ہوں ، مجھے سوری بول اور چُپ چاپ یہاں سے نکل جا . . . . ورنہ . . . " " ورنہ . . . " " ورنہ اس سے بھی برا حال کروں گا تیرا . . . " اچانک سیدھا بیٹھ کر اس نے کہا . . . پہلے سوچا کہ سوری بول کر بات کو یہی ختم کر دوں، لیکن میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور صغیر سے بولا . . . . " جب میں اسکول کی نویں کلاس میں تھا تو گیارویں کلاس كے ایک لڑکے نے مجھے بہت مارا تھا ، اور وہ پورا سال میں نے اسی کھوج میں نکال دیا کہ اسے کیسے ماروں اور دسویں کلاس میں آ کر جانتا ہے میں نے کیا کیا اس لڑکے کے ساتھ . . . " " کیا . . ؟ " " جان سے مار دیا اس کو ، جس چاقو کو اس کے پیٹ میں گھسایا تھا وہ لڑتے وقت میرے ہاتھ میں لگ گیا تھا ، جس کا نشان ابھی تک ہے . . . " میں نے اپنی شرٹ پیچھے کی اور سائیکل سے گرنے کا جو نشان تھا اسے دکھاتے ہوئے بولا "لگتا ہے ایسا ایک اور نشان جلد ہی مجھے لگنے والا ہے ، اور تجھے معلوم نہیں ھوگا لیکن میں نے کینٹین میں گھسنے سے پہلے ہی سردار کو میسیج کر دیا تھا کہ میں کینٹین میں ہوں ، تو اس حساب سے اگلے پانچ منٹ میں پورے ہاسٹل کے لڑکے یہاں آ جائینگے ، تم لوگ ہم دونوں کو صرف پانچ منٹ تک مار سکتے ہو ، لیکن اس کے بَعْد میں تم سب کو گراؤنڈ میں لے جا کر بہت ہی بری طرح سے ماروں گا . . . . " اب کی بار میں نے اپنا پیر ٹیبل پر رکھا اور ٹیبل پر رکھے سموسے کی پلیٹ سے ایک سموسہ اُٹھا کر کھانے لگا ، ڈر تو اب بھی لگ رہا تھا کہ کہی یہ لوگ مجھے مارنا شروع نہ کر دے ، کیوںکہ نہ تو میں نے سردار کو میسیج کیا تھا اور نہ ہی پانچ منٹ بَعْد ہاسٹل والے آنے والے تھے . . . . . " روک جاؤ ، دوستوں . . . میرے پاس ایک پلان ہے . . . " " ایک بہت پرانی کہاوت ہے . . . " اظہر نے بھی ٹیبل كے اوپر اپنے دونوں پیر رکھے اور ایک سموسہ اُٹھا کر بولا " پلان وہ بناتے ہے ، جنہیں خود پر بھروسہ نہیں ہوتا . . . " " بہت جلد ہی تم دونوں کو بھروسہ ہو جائیگا . . . " وہاں سے اُٹھ کر سارہ کی طرف جاتے ہوئے صغیر نے کہا . . . . " نائس پلان ہے یار . . . " اظہر سموسہ کھاتے ہوئے بولا . . . " میری تو پھٹ گئی تھی یار . . . " " پھٹی تو میری بھی تھی ، لیکن " اظہر كے ہاتھ میں جو سموسہ تھا اس سے آدھا ٹکڑا توڑ کر کھاتے ہوئے میں نے کہا " تجھے ایک کام بولا تھا ، یاد ہے . . . " " کون سا . . . " " صغیر اور سارہ کا محبّت کا چکر کب سے اور کیسے چل رہا ہے ، ان دونوں كے باپ کیا کرتے ہے . . . یہ سب " " کتنی بار کہا ہے کہ سارہ پر دھیان مت دے ، کمینی نے صغیر كے لیے خودکشی تک کر لی تھی تو سوچ ہی سکتا ہے کہ ان کا چکر لیفٹ سائڈ والا ھوگا . . . " " لیفٹ سائڈ مطلب . . . " " دِل لیفٹ سائڈ پر ہوتا ہے ، اس لئے سچے پیار کو لیفٹ سائڈ والا چکر کہتے ہے . . . " " اور رائٹ سائڈ والے چکر کا مطلب . . . " " ہوس بھرا چکر ، جو اِس وقت تیرے اور سحرش میڈم كے درمیان چل رہا ہے . . . " " پھر میرا اور سارہ کا چکر کس قسم کا ہے . . . " " کسی بھی قسم کا نہیں " اظہر زور سے ہنستے ہوے بولا " یہ تو پیار محبّت کچھ بھی نہیں ہے " اظہر سے اس وقت کیا کہو مجھے کچھ نہیں سوجھا اور آج بھی میں اسے کچھ نہیں سمجھا پایا ، کیونکہ میں خود آج تک نہیں سمجھ پایا کہ سارہ اور میرا چکر لیفٹ سائڈ والا تھا یا پھر رائٹ سائڈ والا یا پھر کوئی بھی چکر نہیں تھا ، جو بھی ہو اس دن وہاں کینٹین میں ہم نے پورا وقت گزارا ، اس دن کچھ الگ سا ہوا ، سارہ اس دن کینٹین میں مجھے دیکھ رہی تھی ، اور جب میری نظر اس سے ملتی تو وہ فوراً اپنا رنگ بَدَل کر غصے سے دیکھنے لگتی اور اس کی یہی ادا ہر بار میرا دِل چِیر كے رکھ دیتی تھی . . . . بریک كے بَعْد کی کلاس میں کچھ بھی خاص نہیں ہوا ، باقی كے سب ٹیچرز آئے اور ٹیسٹ کے بارے میں بتا کر مشورہ دینے لگے کہ ان کے سبجیکٹ کی تیاری کیسے کرنی ہے ، یا یوں کہے کہ بریک كے بَعْد اچھا خاصا بور دن گزرا ، . . . . " یار وہ دیکھ سارہ . . . . " چھٹی كے وقت میں جب اظہر كے ساتھ کالج سے باہر نکل رہا تھا تب میں نے سارہ کو باہر پریشان دیکھا . . . . " تو کیا ، اب جا کر چومی لے گا کیا اس کی . . . " " اگر وہ ایک چومی دے دے تو قسم سے انجینیئرنگ چھوڑ دوں . . . " " یہ تو میرے الفاظ تھے . . . " " گدھے اُدھر وہ پریشان کھڑی ہے اور تجھے الفاظوں کی پڑی ہے ، تو نکل میں آتا ہوں . . . . " اظہر کو وہاں سے بھگانے كے بَعْد میں سارہ کی طرف بڑھا ، میں اس وقت یہی سوچتا رہا کہ میں سارہ سے کیا کہوں گا ، مجھے وہاں اس کے پاس نہیں جانا چاہئے لیکن میں اس کے پاس گیا اور اسے اس کی پریشانی کی وجہ بھی پوچھی . . . . " شام کی واک تو کر نہیں رہی آپ ، پھیر ادھر اُدھر کیوں ٹہل رہی ہیں . . . " " تم سے مطلب . . . " ایک کرارا جواب دے کر وہ پھر ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر چلنے لگی . . . . " ادھر سے گزر رہا تھا تو تمہیں پریشان دیکھ کر روک گیا ، ویسے بھی مجھے اسکول میں سکھایا گیا تھا کہ انسانیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے ، . . . " " تم مجھے اور پریشان مت کرو اور جاؤ یہاں سے . . . . " " نہیں جاؤں گا . . . " " تو کھڑے رہو یہی ، میں جاتی ہو یہاں سے . . . . " اپنا پیر پٹخ کر سارہ وہاں سے آگے بڑھ گئی . . . . " کمال ہے یار ، بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے . . . . " سارہ کو جاتے ہوئے دیکھ کر میں نے کہا . . . . . ویسے تو سارہ کا ہر وقت صغیر كے ساتھ گاڑی میں آنا جانا ہوتا تھا ، لیکن اس دن صغیر نہیں آیا ، بلکہ صغیر کا ایک دوست اپنی بائیک پر بیٹھا کر سارہ کو لے گیا ، سارہ کو صغیر كے دوست كے ساتھ جاتا دیکھ کے میرے بائیں سائڈ میں ہلچل مچ گئی ، میں کئی خیالات میں ڈوبنے لگا جیسے ڈوبنے کہ " کیا سارہ کا چکر ختم ہوگیا صغیر سے یا پھر ان دونوں کی لڑائی ہوئی ہے ، یا پھر وہ لڑکا جو کہ صغیر کا دوست ہے وہ سارہ كے ساتھ کہی . . . . . . . . نہیں ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ، صغیر كے دوستوں كے پاس اتنی ہمت ہی نہیں ہے اور ویسے بھی سارہ اِس کام كے لیے تیار نہیں ھوگی ، لیکن پھر ایسا کیا ہو گیا کہ آج صغیر كے ساتھ نہ جا کر سارہ اس کے دوست كے ساتھ گئی اور یہ کمینہ صغیر کہاں مر گیا . . . . .
-
ارمان ایک طویل داستان
" چل سائڈ میں کمینے . . . " میرا کالر پکڑ کر صغیر نے کہا اور جواب میں میں نے بھی اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا کالر کھینچ کر پکڑ لیا . . . . . " تو خود کو سمجھتا کیا ہے ، تجھے ذرا بھی اندازہ ہے کہ میں کون ہوں اور میں کیا کر سکتا ہوں " ڈانٹ پیس کر اس نے دھیرے سے کہا . . . " میرا ہاتھ فری ہے ، اگر ایک بار مارنا شروع کروں گا تو مارتا ہی جاؤں گا اور جسے مارتا ہوں اس کا کیا حال ہوتا ہے یہ تو کاشف سے پُوچھ لینا . . . . . " صغیر تھوڑا ڈھیلا پڑ گیا میری بات سن کر اور مجھ سے پوچھا کہ میں رہتا کہاں ہو اور جب میں نے اسے بتایا کہ میں ہاسٹل کا ہوں تو اس نے میرا نام پوچھا . . . . " ارمان . . . . " میں نے اپنا نام بتایا اور میرے اِس نام کا بہت زیادہ اثر صغیر پر ہوا اس نے فوراً میرے گریبان سے اپنا ہاتھ ہٹا دیا . . . . " سردار كے دم پر اُچل رہا ہے تو ، اگلے سال کیا کرے گا جب وہ نکل جائے گا . . . ." " میں اِسی ایک سال میں ہی تم لوگوں کی اتنی گانڈ مار لوں گا کی اگلے سال کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی . . . " " یار ارمان مار کمینے کو . . . " منو نے چلا کر کہا ، " تو چُپ کر ڈرپوک ، ورنہ ایک تھپڑ ماروں گا تو یہی سے نیچے گر جائیگا . . . . " " چل چھوڑ ، مجھے کلاس اٹینڈ کرنی ہے " کہتے ہوئے میں نے صغیر کو دور دھکیلا اور کلاس میں جانے لگا ، تبھی صغیر کی آواز میرے کانوں میں گونجی . . . . " اگر اتنا ہی دم ہے تو آج بریک ٹایم پر کینٹین میں ملنا . . . . " " سوری ، ٹایم نہیں ہے . . . " پیچھے موڑے بنا ہی میں نے کہا اور کلاس كے اندر داخل ہوگیا ، . . . جن سے تھوڑی بہت جان پہچان تھی وہ سب لوگ اپنی کلاس سے باہر نکل آئے تھے ، لیکن جو میرا سب سے خاص دوست تھا ، جو میرا روم میٹ ہونے كے ساتھ ساتھ میرا کلاس فیلو ، میرا بینچ میٹ تھا بس وہی کلاس سے باہر نہیں آیا تھا ، اور اس کا پتہ مجھے تب لگا جب میں نے کلاس میں جاتے ہی اظہر کو اسائنمنٹ لکھتے ہوئے دیکھا ، . . . . " کیا لکھ رہا ہے . . . " میں نے نارمل ہوتا ہوے کہا، جب کہ سچ تو یہ تھا کہ میں اس وقت بہت ہی غصے میں تھا . . . . . اظہر کو تو یہ تک نہیں معلوم تھا کہ کچھ دیر پہلے میری لڑائی سارہ كے بوائے فریںڈ سے ہو رہی تھی . . . . " کہاں تھا تو . . . . " اسائنمنٹ چھاپتے ہوئے اس نے کہا . . . " باہر گیا تھا ، کیوں " " ابھی کچھ دیر پہلے آتا تو بہترین نظارا دکھاتا تجھے ، باہر دو لڑکوں کی لڑائی ہو رہی تھی . . . " " کون سے دو لڑکوں کی . . . " " معلوم نہیں ، میں تو اسائنمنٹ لکھ رہا تھا . . . . " اس کے اگلے ہی لمحے میں نے اظہر کو ایک مکا مار کہا " کمینے باہر میں ایک سینیر لڑکے سے لڑ رہا تھا اور تو یہاں بیٹھ کر پڑھائی کر رہا تھا . . . . " " تیری لڑائی " وہ چونک گیا " نام بتا کمینے کا ، کلاس میں گھس کر ماریں گے . . . " "صغیر، مکینیکل سیکنڈ ایئر . . . . سارہ کا معشوق . . . " صغیر کا نام سن کر اظہر كے تیور کم ہو گئے اور پھر سے اسائنمنٹ لکھنے لگا ، " پھٹ گئی نہ ، اس کا نام سن کر . . . " " میں کسی سے نہیں ڈرتا . . . " " تو چل نہ ، چل کلاس میں گھس کر مارتے ہے اسے . . . . " " کسی اور دن . . . " " کمینہ ڈرامے باز. . . . " بیگ کھولتے ہوئے میں نے اظہر سے پوچھا " آج فرسٹ کلاس کس کی ہے . . . " " سحرش میڈم کی " سحرش میڈم کا نام سنتے ہی ایک بار پھر سے موڈ خراب ہوگیا کیوںکہ آج اسائنمنٹ چیک کرانا تھا ، اور اسائنمنٹ کرنا تو دور میں نے ابھی تک نوٹ بک بھی نہیں خریدی تھی ، اوپر سے آخری اسائنمنٹ بھی ان کمپلیٹ تھا ، . . . جیسے جیسے وقت گزرتا گیا باہر کھڑے سبھی اسٹوڈنٹ اندر آنے لگے ، میری نظر ایک بار پھر سب کے طرف تھی ، میں چاہتا تھا کہ اِس بار کوئی تو ایسا ہو جو اسائنمنٹ نہ کرنے والوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوائے ، لیکن اس دن صرف میں اکیلا ہی تھا . . کمینے سب پڑھاکو تھے . . . . " ارمان ، . . . " " یس میم " کھڑے ہو کر میں نے اپنا سَر جھکا لیا . . . . " تمھارے دو اسائنمنٹ تھے ، یاد ہے نہ . . . " " یس میم " سَر جھکا کر ہی میں نے جواب دیا . . . " گڈ . . . لاؤ ، چیک کر دیتی ہوں . . . " " اسائنمنٹ تو میں نے نہیں کیا ، سوری میم ، اگلی بار تینوں اسائنمنٹ ایک ساتھ چیک کرا دوں گا . . . . " میں نے سوچا کہ اِس بار معافی سے شاید کوئی بات بن جائے گی ، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ، سحرش میڈم بلی کی طرح مجھے گھورتی رہی اور پھر میرا رول نمبر نوٹ کرکے ، مجھے پریکٹیکل میں کم نمبر دینے کی دھمکی دی اور پھر بیٹھا دیا . . . . . " لولولولولولولو . . . . . " اظہر ہنستے ہوئے بولا " یہ کیا ہے لولولولولو . . . . " " کچھ نہیں ، تو اسے ایک بار حویلی میں لے کے آجا قسم سے پورے سال کا اسائنمنٹ ایک بار میں اسے دے دوں گا ، کمینی كی کیا چوت ہوگی کیا ممے ہوں گے ، اگر یہ مجھ سے سیٹ ہو جائے تو قسم سے میں اپنی انجینیئرنگ کی پڑھائی چھوڑ دوں . . . . . " " تیرا انسپیکٹر باپ تجھے جیل میں ڈال دے گا ، اگر تونے انجینیئرنگ چھوڑی تو . . . . " " اظہر اور ارمان . . . . " " جی . . . جی میم " ہم دونوں بھوکلا گئے اور نوٹ بک کھول کر پڑھنے کا ڈرامہ کرنے لگے . . . . " گیٹ آؤٹ . . . . " " کیا میم . . . . " " گیٹ لوسٹ . . . . اب سنائی دیا . . . . " " یس میم " " سب تیری غلطی ہے ، نہ تو اس کے ممے اور پھدی کی بات کرتا ، نہ میں ہنستا اور نہ ہی وہ ہمیں باہر نکالتی . . . . " کلاس سے باہر نکلتے ہی میں اظہر پر برس پڑا . . . .
-
ارمان ایک طویل داستان
" تجھے بولا تھا نہ، اپنی اوقات میں رہنا . . . . " سردار نے آتے ہی اک لات کاشف کو ماری . . . . " سردار ، یہ تیرا معملہ نہیں ہے . . . " " کیا بولا تھا میں نے . . . . ہاسٹل کے لڑکوں کو ہاتھ تک مت لگانا ، لیکن تو نہیں مانا. . . . " " اوئے سردار. . . . آج اتنے سارے لڑکے تیرے ساتھ ہے اس لیے اچھل رہا ہے . . . . بھول مت میں تیرا بھی سینیر ہوں . . . . " " چپ کر بولتا بہت ہے . . . . . " نہ جانے اظہر کو کیا ہوا اور اس نے ایک تھپڑ کاشف كے گال پر مار دیا " اس دن والا بائیک اسٹینڈ کا حساب کلئیر ہوا . . . " " دیکھ کیا رہے ہو ، مارو کمینوں کو . . . " کاشف نے وہاں موجود اپنے دوستوں سے کہا . . . . کاشف اور اس کے دوست ہم سے لڑنا شروع ہو گئے، لیکن ہم ان سے کئی گنا زیادہ تھے اس لئے چند منٹوں میں ہی ہم نے ان سب کو بری طرح مارا ، لاتوں سے ، ہاتھوں سے ان سب کو فٹ بال کی طرح دھویا اور کچھ دیر میں ہی کاشف اور اس کے دوست زمین پر لٹے کرہ رہے تھے . . . . . . " کیا حال ہے گدھے . . . " جہاں کاشف لیٹا ہوا تھا ، اس کے پاس جا کر میں نے کہا اور پوری طاقت كے ساتھ ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر دے مارا . . . . کیا پاور تھی اس کے گال پر خون جام گیا . . . . اور اس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا ، ایک طرف کا گال سفید تو دوسری طرف کا ایک دم لال . . . . . . " چال پُش اپ کر . . . . " آرام سے وہاں بیٹھ کر میں نے کاشف سے کہا . . . . . " میں کوشش کرتا ہوں . . . " الٹے لیٹے ہوئے اس نے کہا . . . . " آ جاؤ سب لوگ . . . . " آج بھی وہی ہونے والا تھا جو کچھ دن پہلے اسی گراؤنڈ پر ہوا تھا ، لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ آج گراؤنڈ میں میری جگہ مجھے لیٹانے والا لیٹا ہوا تھا اور اس کے اوپر کودنے کی باری میری تھی . . . . اور اگر ٹیکنیکل لینگویج میں کہاجائے تو اسے " تھوری آف ریلاتیوتی" یا " فریم آف ریفرنس" بھی کہہ سکتے ہے ، " سوری . . . . " کاشف نے آہستہ سی آواز میں کہا ، اس دن کی طرح آج اس کے منہ سے بھی خون نکال رہا تھا . . . اس دن کی طرح آج اس کا جسم بھی وہاں کی دھول مٹی سے بھرا ہوا تھا . . . . " روک کیوں گئے مارو سب کو . . . آخر تھوری آف ریلاتیوتی کا قانون بھی تو ثابت کرنا ہے . . . . " " تجھے چھوڑوں گا نہیں . . . " " سوری کاشف سر ، آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے . . . . مار تو آپ کو كھانی ہی پڑے گی " " میں چلتا ہوں ، نیکسٹ کلاس اٹینڈ کرنی ہے . . . " سردار بھائی نے اپنی گھڑی میں دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے کپڑوں کو ٹھیک کرنے لگے. . . " لیکن ابھی تو بریک ٹائم ختم ہونے میں بہت ٹائم ہے . . . . " " سر نے آج پہلے بلایا ہے ، میں چلتا ہوں، تم لوگ عیش کرو . . . . " اتنا کہہ کر سردار وہاں سے چلا گیا . . . . " یار ، روک کیوں گیا ، پُش اپ کر . . . " گانڈ پر ایک زور کی لات مار کر میں نے کاشف سے کہا ، اور میری دیکھا دیکھی سب کی گانڈوں پڑ لات پڑی . . . . . " بس ، اب اور نہیں . . . . " ہانپتے ہوئے کاشف نے کہا. . . . کاشف كے دوست تو کب کے ہار مان چکے تھے اور ان سب کا مار کھا كر برا حال بھی تھا ، ان سب کی حالت دیکھ کر دل میں آیا کہ سب کو چھوڑ دوں ، لیکن اچانک اظہر میرے پاس آیا اور میرے کان میں کچھ ایسا کہا ، جسے سن کر میں فورا کاشف كے پاس پہنچا . . . . " چل جلدی کر ابھی سو بار اور اوپر نیچے ھونا ہے . . . . " " نہیں، اب ہمت نہیں ہے . . . " پسینے سے بھیگا ہوا کاشف زمین پر لیٹ گیا اور لمبے لمبے سانسیں لینے لگا . . . . " ایک شرط میں چھوڑوں گا تجھے . . . " " ہاں بول . . . . " " ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں کال کرکے بلا . . . . " میرے پروگرام کو سمجھتے ہوے کاشف نے صاف منع کر دیا اور اسی وقت اظہر نے پاس پڑا ہوا ایک موٹا سا ڈنڈا اُٹھا کر کاشف كے سَر پر نشانہ لگایا اور زور سے ڈنڈے کو اس کے سَر کے بلکل پاس زمین پر دے مارا . . . . کاشف نے سوچا کہ اظہر اسے مارنے والا ہے ، اس لیے اس نے زور سے چلاتے ہوے کہا کہ وہ تیار ہے ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں بلانے كے لیے . . . . . . " پانی دو کاشف سر کو . . . . " کاشف جب ہانپتے ہوئے اُٹھ کر وہاں بیٹھا تب میں نے اپنے ہی کلاس والے ایک لڑکے سے کہا اور لڑکوں کے ہجوم میں سے کسی نے کہا کہ کاشف کو پانی نہیں اپنا پیشاب پلا دو. . . . خیر میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور کاشف کو بوتل والا پانی پلایا . . . . . " سمیرہ، کہاں ہو . . . . " کاشف نے سمیرہ کو کال کی اور میں نے اسے لوڈ سپیکر آن کرنے کا اشارہ کیا . . . " کب سے ڈھونڈ رہی ہو تجھے . . . . چوت میں کجلی ہو رہی ہے . . . کہاں ہو تم . . . . " " واہ . . . . " میں نےدھیرے سے کہا اور سب کو اشارہ کیا کی کوئی نہیں ہنسے . . . . . " میں ، گراؤنڈ میں ہوں . . . . " کاشف میری طرف دیکھتے ہوئے سمیرہ سے بولا " یہی آ جاؤ . . . " " اسی گراؤنڈ پر نہ جہاں کچھ دن پہلے ہم نے فرسٹ ایئر كے ایک لڑکے کو مارا تھا. . . . " موبائل کا لوڈ سیپکر اب بھی آن تھا اور میں سب کچھ سن رہا تھا ، " آجا کمینی ، تو آجا ایک بار " میں نے خود سے کہا. . . . " ہاں ، اسی گراؤنڈمیں ہوں . . . " " یہاں میری چوت جلی جا رہی ہے اور تم وہاں کیا کر رہے ہو . . . . تم نے تو کہا تھا کہ بریک ٹائم میں بائیک اسٹینڈ پر ملنا ، اور جب میں وہاں پہنچی تو نہ تو تم وہاں تھے اور نہ ہی تمہارا کوئی دوست . . . . " " تو اپنی چوت میں انگلی ڈال اور سیدھے گراؤنڈ پہنچ . . . ورنہ اگلی بار بہت بری طرح گانڈ ماروں گا . . . . سمجھی " " اوکے ، میں ابھی آئی . . . کنڈم ہے نہ اِس بار ، یاد ہے آخری بار بہت پروبلم ہوئی تھی . . . " " سب ہے ، تو آجا جلدی سے . . . " " فلیور کون سا ہے ، آئی لائک اسٹرابیری کنڈم . . . . " کاشف نے اپنا سَر پٹخ کر کال بند کر دی اور پھر میری طرف دیکھنے لگا ، جانے اسے ایسا کیوں لگنے لگا کہ میں اسے اور اس کی محبوبہ کو وہاں سے سہی سلامت جانے دوں گا . . . . ہم میں سے سب سینیرز وہاں سے چلے گئے اور گراؤنڈ میں اس وقت فرسٹ ایئر كے بیس یا پچیس لڑکے موجود تھے . . . . ہم سب مختلف جگہوں پر چھپ گئے تھے اور کاشف کو دوبارہ سے پُش اپ کرنے كے لیے بول دیا اور اسے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اِس دوران ایک بار بھی روکا تو ہم سب اسے پاگل کتا سمجھ کر اس پر پتھر برسانا شروع کر دیں گے . . . . "کاشف . . یہ کیا ؟ " اپنی اسکوٹی سے اتر کر سمیرہ ، کاشف کی طرف بھاگی اور اسی دوران میں باہر نکلا اور کاشف كے پاس کھڑے ہوگیا . . . . . مجھے اس دن کیسا لگا ھوگا ، جب تم نے کینٹین میں سب کے سامنے میرے چہرے پر سموسہ تھوپا تھا ، اسے تو میں بھول بھی جاؤں . . . . لیکن اس دن گراؤنڈ میں جب تم اور تمہاری فرینڈز نے اپنی نوک دار سینڈل پہن کر میرے پیٹھ کا جو حال کیا تھا . . . . دوسروں کی جان کی کوئی قیمت نہیں سمجھتے ہو تم لوگ اور آج خود پر بن آئی تو اوقات پر آ گئے . . . . " میں کچھ دیر كے لیے روکا اور پھر چلا کر کہا . . . " آج دو نہیں تین رائونڈ ماروں گا ، اور اگر موڈ ہوا تو پوری رات چودوں گا اور اِس دوران تو نے تھوڑا سا بھی شور کیا تو . . . . ہر روز چودوں گا . . . " اس دن مجھے لڑکیوں كے بارے میں ایک اور بات پتہ چلی ، لڑکیاں بھلے ہی کتنی بھی آگے نکل جائے ، وہ بھلے ہی شیر بنتی رہے . . . . لیکن جب ان کی باری آتی ہے تو وہ وہی جانے پہچانے اندازِ میں رونا دھونا شروع کر دیتی ہے . . . . . جیسا کہ سمیرہ ابھی کر رہی تھی ، جب میں سمیرہ کو لیکر گراؤنڈ سے نکلا تھا تو سوچا تھا کہ وہ جلد ہی اپنی پھدی میں لنڈ لے لے گی اور تھوڑی ہمت ، تھوڑی مستی بھی دیکھائے گی . . . لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا . . . وہ اِس وقت سڑک كے درمیان اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر رو رہی تھی . . . . . " چل ڈرامہ بند کر ، جہاں تجھے چودوں گا وہ جگہ بس قریب ہی ہے . . . . " اس کا ہاتھ پکڑ کر میں نے اسے اٹھایا ، . . . . وہ چپ چاپ میرے ساتھ چلنے لگی ، بغیر کچھ بولے . . . . " ایک بار میں نے ایک لڑکی کو چودا تھا اور جوش میں آ کر اپنا پورا ہاتھ اس کی پھدی میں گھسا دیا تھا . . . . " میں اب بھی اس کو ڈارنے میں مشغول تھا . . . . . لیکن وہ چُپ رہی . . . سڑک پر چالتے چالتے میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے دائیں ممے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ کو اسکے کاندھے پر رکھا کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا . . . میں نے اسے خود سے چپکا لیا تھا اور اگر ہمیں اس وقت کوئی دیکھتا تو وہ بس یہی کہتا کہ " وہ دیکھو لیلیٰ مجنوں کی جوڑی جا رہی ہے . . . . " سمیرہ سارے رستے اپنا سَر نیچے کئے روتے ہوئے چلتی رہی . . . . " جاؤ . . . . " میں نے جب سمیرہ سے یہ کہا تو اس نے حیران ہو کر میری طرف دیکھا ، جیسے اسے یقین نہیں ہوا ہو کہ میں نے اسے جانے كے لیے کہا ہے . . . . . " مجھے معلوم ہے کہ میں خوبصورت ہوں ، لیکن اب مجھے دیکھنے كے بجائے ، سامنے دیکھو . . . . تمہاری اسکوٹی کھڑی ہے . . . . " ایک بار پھر وہ چُپ تھی ، وہ چپ چاپ کبھی مجھے دیکھتی تو کبھی اپنی اسکوٹی کی طرف . . . . لیکن پھر کچھ دیر بَعْد وہ مجھے گھورنے لگی ، " مجھے پسند تو نہیں کرنے لگئی ، " اس کو دیکھ کر میں نے کہا ، لیکن جب وہ پھر بھی مجھے گھورتی رہی تو میں نے ایک زوردار تھپڑ اس کے گال پر جھڑ دیا اور وہ چونک کر ہوش میں آئی . . . . " دیکھا ، یہ کوئی سپنا نہیں ہے ، . . . اب جلدی سے چلے جاؤ . . . . " " تم تو کہہ رہے تھے کہ . . . . . . . . " " سب جھوٹ تھا . . . " اس کی بات کاٹتے ہوے میں نے کہا " میرا ویسا اِرادَہ بالکل بھی نہیں تھا ، . . . میں نے جب تمہیں یہاں بلایا تو سمجھ گیا کہ ہاسٹل كے میرے دوست تم پر ٹوٹ پڑے گے اور تب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا ، اور ان ہوس كے پیاسوں سے تمہیں بچانے كے لیے ہی میں تمہیں اپنے ساتھ لے آیا تھا ، کیوںکہ مجھے معلوم تھا کہ وہ کچھ دیر میں یہاں سے چلے جائینگے . . . . . لیکن میں نے یہ بھی سوچا تھا کہ تمھارے دوست ، تمہارا یار کاشف تمہیں کال کرے گا ، پر افسوس کہ اس نے ایک کال تو کیا ایک میسج تک نہیں کیا . . . . " " ووو . . . وہ . . . . " وہ ہکلاتے ہوئے بولی ، اب اسکی آنکھیں خوشی سے بھر آئی تھی " موبائل سائیلنٹ پر تھا . . . . " " میں جاؤں . . . . " اپنی اسکوٹی کی طرف دیکھ کر وہ بولی . . . " تھینکس . . . " " اور ایک بات ، جو تم سے کہنی تھی . . . . " " بولو . . . " " میں نے ابھی تک کسی لڑکی کو نہیں چودا ہے ، صرف مٹھ ہی ماری ہے. . . . وہاں میں نے تم سے دو گھنٹے ، تِین گھنٹے . . . والی جو بھی بات کہی ، وہ سب جھوٹ تھی . . . . " وہ مسکرانے لگی اور اپنی اسکوٹی اسٹارٹ کی تب میں نے ایک اور بار اسے ٹوکا " ایک اور بات ہے ، جو کہنی تھی . . . " " بولو . . . " پہلے كے طرح ہی اس نے مسکرا كے کہا . . . . " میں تمہارا ویڈیو بھی نہیں بنا سکتا تھا . . . کیوںکہ میرا موبائل میرے بیگ میں ہی ہے . . . ." " اب جاؤں ، یا کچھ اور کہنا ہے . . . " " ایک مشورہ لیتی جاؤ . . . کاشف نے اپنی جان بچانے كے لیے تمہیں یہاں بلا لیا تھا ، ہو سکے تو اپنے لیے کوئی دوسرا بوائے فرینڈ ڈھونڈ لینا . . . . " جب ہاسٹل پہنچا تو میرے دوست اگے پیچھے ایسے کھڑے تھے جیسے کہ کوئی بہت بڑا شہنشاہ داخل ہوا ہو . . . . سب مجھے دیکھ دیکھ کر مسکرا رہے تھے ، ابھی میں اپنے روم میں پہنچا ہی نہیں تھا کہ چھوٹے قد کا ملک ، منو وہاں آیا اور میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا . . . " چودا اسے . . . . " میں نے آس پاس کھڑے لڑکوں کو دیکھا اور دھیرے سے کہا " نہیں یار ، چھوڑ دیا ، بےچاری رونے لگی تھی . . . . " " کھسرا ہے تو ، " پتہ نہیں اس وقت اظہر کہا سے ٹپک پڑا اور دوسری طرف سے اس نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور ڈانٹ چباتے ہوئے غصے سے بولا " کتے ، نہ تو خود کیا اور نہ ہی مجھے کرنے دیا ، اب میں تجھے چودوں گا . . . . چل روم میں تو " جیسے ہی سب کو معلوم چلا کہ میں نے سمیرہ كے ساتھ کچھ نہیں کیا ہے تو سب مجھے گالیاں دینے لگے ، کچھ بول رہے تھے کہ اتنا اچھا موقع میں نے ہاتھ سے جانے دیا . . . . کچھ نے یہ بھی کہا کہ پاگل بنا رہا ہے ہمیں ، اُدھر سمیرہ کو چود بھی دیا اور یہاں آ کر نہ کہہ رہا ہے . . . . . اور باقی جتنے بچے تھے سب نے کھسرے کہ لقب دے ڈالا ، لیکن ان سب کو کیا پتہ کہ اِس دِل كے ارمان تو کچھ اور ہی تھے . . . . . . . کاشف اور اس کے دوستوں کی ہاسٹل والوں نے دھولائی کی ہے ، یہ خبر راتوں راتوں تقریباً سب کو پتہ چل چکی تھی اور جو دو نام ابھر کر سامنے آئے تھے وہ تھے سردار اور ارمان . . . . فرسٹ ایئر كے ایک لڑکے نے اپنے سینیر کو بہت مارا ہے، یہ خبر تقریباً ہر کسی کے پاس پہنچ چکی تھی ، جس کا مطلب تھا کہ کالج میں میری شہرت راتوں رات بڑھ چکی تھی . . . . . کاشف کی تھوکائی سے جہاں کچھ لوگ خوش تھے وہی بہت سے لوگ ایسے تھے ، جن کو میں نے اپنا دشمن بنا لیا تھا . . . . دوسرے دن سے دوبارہ سے وہی روزانہ کا معمول شروع ہوگیا ، لیکن آج میں اور اظہر کالج كے پیچھے والے گیٹ سے نہیں بلکہ سامنے والے گیٹ سے گئے . . . . آج مجھے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا کہ کون جونئیر ہے اور کون سینیر اور جب میں فرسٹ ایئر کی کلاس والی کوری ڈور میں پہنچا تو وہاں کلاس كے باہر کھڑے سب اسٹوڈنٹ کی نظر مُجھ پر جم سی گئی . . . . " دیکھ یار ، میرے ساتھ چلنے کا فائدہ " بکواس کرتے ہوئے اظہر نے کہا " صبح صبح دماغ مت خراب کر. . . . ابھی سر صدیقی بھی آئیگا اور فیزکس كے قانون پڑھا پڑھا كر سَر پر ہتھوڑے مارے گا . . . . . " کلاس میں بیگ رکھ کر میں باہر آ گیا لیکن اظہر کسی لڑکے کی نوٹ بک سے کچھ اسائنمنٹ چھپنے لگا ، . . . . کلاس شروع ہونے میں ابھی ٹائم تھا ، اس لئے میں نے باہر کھڑے لڑکوں كے ساتھ گپ شپ مارنا ہی مناسب سمجھا ، وہاں کچھ لڑکے ہاسٹل كے بھی تھے تو کچھ لڑکے شہر والے بھی تھے ، سب اپنی آنکھوں میں چمک لیے مجھ سے پُوچھ رہے تھے کہ کیا میں نے سچ میں کاشف اور اس کے دوستو کو مارا ہے یا یہ صرف ایک افواہ ہے . . . . . . " ارمان كی کتاب میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب حقیقت ہوتا ہے ، افوہیں تو اِس پاگل كی کتاب میں ہوتی ہے ، جو اپنے موبائل میں میسج ٹائپ کر رہا ہے . . . . . " منو کی طرف دیکھ کر میں نے اشارہ کیا اور اس کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا . . . . " یار میری بچی کا میسج آنے والا ہے ، بچودیاں مت کر . . . . " " لوڑا بچی ، تیرے سے کون سی لڑکی سیٹ ہوگی . . . . " " یہ وہی لڑکی ہے . . . . " " کون وہی . . . . " " یار وہی . . . . " " نام تو بتا . . . " " سارہ . . . . " منو شرما کر بولا ، وہ سارہ کا نام لیتے وقت ایسے شرما رہا جیسے کے مہندی لگانے والی رسم ہو رہی ہو ، . . . . میں نے نمبر دیکھا ، کمینہ سچ میں سارہ سے میسج میسج کھیل رہا تھا ، یقین تو نہیں ہو رہا تھا لیکن سارہ کا جب رپلائے آیا تو مجھے یقین کرنا پڑا . . . . . " کہاں ہو . . . . " سارہ نے میسج کیا . . . " اپنی کلاس كے باہر کھڑا ہو ، " " میں تمہیں پہچانوں گی کیسے . . . " " تم بس کالج آؤ ، میں تمہیں پہچان لوں گا . . . . . . " " کلاس سے باہر نکلو ، میں بس پہنچنے ہی والی ہوں . . . . " " میں باہر ہی ہوں . . . . " میسیج ٹائپ کرکے منو نے سارہ کو سینڈ کر دیا ، اور وہاں کھڑے سب لڑکوں کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، خود میرا بھی حال یہی تھا کہ اس نے سارہ کو ملنے كے لیے راضی کر لیا . . . . کہی یہ اس کے ساتھ سیٹ ہوگئی تو . . . " سارہ . . . . " اِس نام کو میں اسپتال والے واقعے کے بعد سے بھولنے لگا تھا ، لیکن آج منو اور سارہ كے دوران ہونے والے اِس میسج میسج كے کھیل نے میرے اندر ایک حل چل سی پیدا کر دی تھی ، پھر میری آنکھوں کے سامنے صغیر اور سارہ کا اسپتال کے کمرے والا منظر آ گیا . . . . اور جب کچھ دیر بعد کوری ڈور میں سارہ کو صغیر كے ساتھ آتے ہوئے دیکھا تو دِل سے آواز آئی کہ کاش سارہ صغیر کو چھوڑ کر میرے پاس آ جائے ، دِل سے آواز آئی کہ کاش صغیر کو دوسری لڑکی پسند آ جائے ، اور وہ سارہ کو چھوڑ دے ، آواز آئی کہ کاش سارہ كے دِل میں بھی میرے لیے وہی ارمان جاگ جائے جو ارمان میرے دِل میں اس کے لیے تھے . . . . . . تبھی زوردار آواز آئی ، کسی نے کسی کو زوردار تھپڑ مارا تھا ، اور جب نظریں آواز کی طرف گئی تو ہنسی كے ساتھ غصہ بھی بہت آیا، صغیر نے منو کو کرارا قسم کا تھپڑ مارا تھا ، ہنسی اس لئے آ رہی تھی کیوںکہ منو جہاں کچھ دیر پہلے سارہ كے لیے اپنے ارمانوں کو اُچھال رہا تھا وہ اب اپنے گال سہلا رہا تھا ، غصہ اس لئے آیا کیوںکہ جس کو پانے کی تمنا کالج كے پہلے دن سے تھی اس کے بوائے فرینڈ نے میرے دوست کو مارا تھا . . . . . . . . " لنگور کی اولاد ، شکل تو دیکھ لیتا آئینے میں مجھے میسج کرنے سے پہلے . . . . " سارہ منو کا مذاق اڑا رہی تھی اور صغیر جس نے ابھی حال ہی میں منو کو تھپڑ جھڑا تھا وہ بھی ہنس رہا تھا . . . . . . . صغیر کالج کا بہت مشہور اسٹوڈنٹ تھا اور کاشف کا قریبی رشتے دار بھی تھا ، رنگ روپ اور چال چلن اس کی دولت کے عکس کو نمایاں کرتے تھے، اور کل رات ہاسٹل میں کسی نے مجھے یہ بتایا تھا کی کاشف کی طرح وہ بھی کبھی کبھی بدمعاشی کر لیتا ہے اور اسی سلسلے میں کچھ دنوں پہلے کالج سے نکالتے نکالتے بچا تھا ، ہوا کچھ یوں تھا کہ شہر کی بس میں اس نے فرسٹ ایئر كے ایک لڑکے کو بالوں سے پکڑ کر چلتی بس کی کھڑکی سے باہر پھیک دیا تھا . . . . . . " سن لنگور ، دوباہ اگر سارہ كے آس پاس بھٹکا تو پورے کالج میں بھاگا بھاگا کر ماروں گا . . . . . " صغیر نے کاشف سے اپنی رشتے داری کی اکڑ دکھاتے ہوئے کہا . . . . " سائنس کہتی ہے تم جیسے انسانوں کے آباواجداد بندر اور لنگور تھے ، اس لئے اپنے باپ دادا کی عزت کرو . . . . . " منو كے کاندھے پر ہاتھ رکھا کر میں نے کہا " دوباہ ہاتھ اٹھایا تو ہاتھ توڑ دوں گا . . . " اس وقت مجھ میں اتنی ہمت شاید جلن کی وجہ سے آئی تھی ، ورنہ منو میرا اتنا خاص دوست نہیں تھا کہ میں اس کے لیے لڑائی کرتا . . . . " کیا بولا تو نے . . . " " اس کو دور کر دے ورنہ ، بچی كے سامنے بے عزتی ہو جائے گی . . . . " میرا اشارہ سارہ کی طرف تھا ، جو حالت وہاں صغیر کی تھی وہی حالت سارہ کی بھی تھی ، میرے لیے صغیر كے ساتھ ساتھ سارہ كے دل میں بھی نَفرت تھی . . . . . . " سارہ جان . . . . تم یہی کھڑی رہنا ، میں دیکھتا ہوں کہ کل کا آیا یہ لونڈا کیا کرتا ہے . . . " یہ کہتے ہوئے اس نے ایک بار اور منو کو مارا . . . . " ایسا ہے ، پھر یہ لے . . . " میں اسے تھوڑا پیچھے کیا اور ایک زور دار تھپڑ صغیر کو جڑ دیا ، . . . وہ تھپڑ میں نے اپنی پوری طاقت كے ساتھ مارا تھا ، اس لئے اس کی گونج سب کے کانوں تک تو پہنچی تھی ، وہاں کھڑے سب اسٹوڈنٹ میں سے کسی کی آنکھیں بڑی ہوگئی تو کسی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ، کچھ لڑکیوں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا کر لڑکیوں والی اسٹائل میں اوووو بھی کیا . . . . فرسٹ ایئر کی سب کلاس میں جتنے بھی اسٹوڈنٹ بیٹھے تھے وہ سب لڑائی کا نام سن کر باہر کوری ڈور پر آ گئے ، تب مجھے لگا کے صغیر کو نہیں مرنا چاہئے تھا ، . . . صغیر کی معشوقہ بھی وہی کھڑی تھی ، اس لئے وہ اس کے سامنے مجھے گالی نہیں دے سکتا تھا اور میرے سامنے وہ جسے میں معشوقہ بنانا چاہتا تھا وہ کھڑی تھی ، اس لئے اس وقت گالی تو میں بھی نہیں دے سکتا تھا . . . .
-
ارمان ایک طویل داستان
جہاں پہلے میں اسکول میں ٹیچرز کی ہر بات کو بڑے دھیان سے سنتا تھا وہی اب میں ٹیچرز کو گلیاں دینا اور ہر کلاس میں ٹائم پاس کرنے لگا . . . . کالج اسٹارٹ کئے ہوئے یوں تو بہت دن نہیں ہو گئے تھے لیکن ان دنوں میں میں نے ایک بار بھی ہاسٹل جا کر بُک نہیں کھولی تھی . . . . مجھے صبح اُٹھ کر فائل نہ تلاش کرنی پڑے اس لئے میں نے سب سبجیکٹ کی لیب فائل اپنے بیگ میں ڈال کر رکھی ہوئی تھی ، عالَم تو یہ تھا کہ جو بیگ میں کالج سے جا کر ہاسٹل میں رکھتا تھا ویسے ہی بیگ صبح اُٹھا کر کالج آ جاتا اور جب بھی گھر سے یا بڑے بھائی کی کال آتی تو میں اکثر یہی بولتا تھا کہ پڑھائی اچھی چل رہی ہے . . . . . . . " اسائنمنٹ جمع کرو . . . . " سحرش میڈم نے اپنے ہاتھ میں پین لیکر کرسی پر بیٹھ چکی تھی . . . . " پہلے یہ بتاؤ کی کس نے کس نے اسائنمنٹ خود بنایا ہے . . . . " یہ ایک ایسا سوال تھا جس میں سب نے اپنا ہاتھ کھڑا کیا جبکہ ایک دو کو چھوڑ کر شاید ہی کوئی ایسا ھوگا جس نے اسائنمنٹ خود سے بنایا ھوگا . . . . . " ویری گڈ . . . " اپنے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے سحرش میڈم پھر سے بولی " اب یہ بتاؤ، کس نے اسائنمنٹ نہیں بنایا . . . . " میں نے پوری کلاس کی طرف دیکھا ، کسی نے بھی اپنا ہاتھ نہیں اٹھایا ، سحرش میڈم نے اپنا دوسرا سوال پھر ڈھورایا اور اِس بار صرف ایک ہاتھ کھڑا ہوا اور وہ ہاتھ میرا تھا . . . . . . " کیوں . . . تم نے اسائنمنٹ کیوں نہیں کیا . . . . " " بھول گیا میم . . . " میں نے سیدھا سا جواب دیا . . . . . " بریک ٹائم میں تُم مجھ سے کمپیوٹر لیب میں ملنا . . . " میں نے گردن ہاں میں ہلا دی اور بیٹھ گیا ، اِس وقت مجھے سب سے زیادہ غصہ اظہر پر آ رہا تھا کیوںکہ اس نے اسائنمنٹ کمپلیٹ کر لیا تھا اور مجھے بتایا تک نہیں . . . . . . " کیوں یار مجھے کیوں نہیں بتایا تو نے . . . " اس کے پاؤں پر زور دار لات مار کر میں نے پوچھا . . . . " مجھے لگا کہ تونے کر لیا ھوگا . . . " اپنے پاؤں کو سہلاتے ہوئے اس نے کہا . . . " اگلی بار بتا دوں گا . . . " اس دن سحرش میڈم کا پورا پیریڈ اسائنمنٹ جمع کرنے اور چیک کرنے میں گزر گیا ، اسائنمنٹ چیک کرتے وقت سحرش میڈم کبھی کبھی مجھے دیکھتی اور کبھی کبھی ہماری نظریں بھی ٹکرا جاتی . . . . . جب پیریڈ ختم ہوا تو سحرش میڈم نے جاتے ہوئے مجھے ایک بار پھر یاد دلایا کہ مجھے بریک ٹائم میں ان سے ملنا ہے . . . . . . " آج تو بیٹا سحرش میڈم تجھے چود كے ہی رہیگی . . . " اظہر مجھ سے مزے لیتے ہوئے بولا . . . تیسرا پیریڈ شروع ہو چکا تھا لیکن ٹیچر لاپتا تھا اور اچانک مجھے ایک خیال آیا اور شوکت سے اس کی بائیک کی چابی مانگی . . . . . . " یار باہر سینیرز ہوںگے . . . " اظہر نے کہا جس کی وجہ سے میں بیٹھ گیا . . . . . میں نے سوچا تھا کہ ایک اسائنمنٹ کاپی خرید کر اِس خالی پیریڈ میں ہی اسائنمنٹ پورا کر لوں گا اور بریک ٹائم میں سحرش میڈم كے منہ پر اسائنمنٹ دے ماروں گا ، لیکن سینیرز کا نام سن کر میرا پورا پروگرام خراب ہو گیا . . . . . خود کو سلطان میرانی اور اس کے ساتھ پھیرنے والا اس کا ایک اور دوست اکثر فرسٹ ایئر کی کلاس كے کوری ڈور میں چَکَر لگاتے رہتے تھے اور جو کلاس بھی خالی نظر آئے وہ اس میں جا کر اپنا باشن دیتے تھے ، اس دن جب ہماری کلاس خالی جا رہی تھی تو اسی وقت وہ دونوں آن پڑے . . . . . . اُن میں سے ایک جو خود کو سلطان میرانی کہتا تھا وہ اندر آیا اور اس کے ساتھ ہمیشہ کالج كے چَکَر کاٹنے والا اس کا دوست گیٹ پر کھڑا ہو کر نگرانی کرنے لگا . . . . . سلطان میرانی لڑکیوں کی طرف جا کر گپیں مارنے لگا ، اسی دوران سب نارمل ہو گئے اور آپس میں بات کرنے لگے . . . . تبھی وہ چیخا اور سب خاموش ہو گئے . . . . " کیا ہے یہ . . . سیئنر کلاس میں ہے اور تُم لوگ دماغ کی ماں بہن ایک کیے جا رہے ہو . . . . " لڑکوں کی طرف آتا ہوا وہ بولا اور پھر اس نے مجھے دیکھ لیا " تو کھڑا ہو ، کیا نام بتایا تھا تو نے اپنا . . . " " ارمان . . . . . " " ارمان . . . . " مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے اس نے وہی کہا جس کا مجھے شک تھا" زیادہ اکڑ میں رہنا بند کر دے ، ورنہ . . . . . " گیٹ پر کھڑے اپنے دوست کو پاس بلا کر اس نے اپنے دوست كے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور پھیر بولا . . . . " یہ جو تمہارا سیئنر ہے نہ میں اس کا بھی باپ ہوں . . . . " اس کا اشارہ گیٹ پر کھڑے ہونے والے سیئنر کی طرف تھا . . . . " تو اب سوچ لے کہ میں تیرا بھی باپ ہوں . . . ." اس کا یہ کہنا تھا کہ میرا خون کھول اٹھا ، میں نے اسے گھور کر دیکھا . . . . ایک بار پھر وہی ہوا جو میں نے سوچ رکھا تھا ، وہ میرے پاس آیا اور میرا کالر پکڑ کر بولا . . " کیا گھور رہا ہے ، میں ہوں تیرا باپ . . . " " باپ كے کالر سے ہاتھ ہٹا . . . " یہ سب کے لیے ایک دھماکے کی طرح تھا ، میرے منہ سے یہ لفظ سن کر سلطان میرانی اور اس کا دوست بھی شاک کی لپیٹ میں آ گئے . . . . میں نے سلطان میرانی كے جسم کو دیکھا اور اندازہ لگایا کہ ہماری لڑائی ہوئی تو رزلٹ کافی دیر سے آئیگا ، مطلب کہ ہم دونوں برابر تھے . . . . . . " تو جانتا ہے کون ہوں میں . . . میں ہوں سلطان میرانی . . . " اپنا سینہ تان کر فلمی اسٹائل میں وہ بولا . . . . " تو اگر سلطان میرانی ہے تو میں ہوں ارمان راجپوت . . . اب بول . " وہ خاموش ہوگیا ، اور کچھ دیر تک میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہ جانے کیا سوچتا رہا ، اس کے بَعْد اس نے اپنے دوست کو بلایا . . . . اور میں نے اظہر کو کھڑا ہونے كے لیے کہا . . . . . اس وقت دونوں طرف دو دو افراد تھے اور دونوں ہی برابر لیکن ہمارا پلڑا بھاری تھا کیوںکہ میں نے اسی دوران ان دونوں سے کہہ دیا تھا کہ جب ہماری لڑائی ہوگی تو اس وقت ہماری کلاس کا کوئی ایک اسٹوڈنٹ جا کر پرنسپل آفس میں یہ خبر دے کر آئیگا کہ مکینیکل فرسٹ ایئر میں کچھ سینیرز ، جونیر اسٹوڈنٹ کو بری طرح پیٹ رہے ہے ، اور پرنسپل سر مان بھی جاۓ گے . . . . اس کے بَعْد تُم دونوں کو کالج سے نکل دیا جائیگا . . . . تو بہتر یہی ہے کہ ابھی کلاس سے باہر چلے جاؤ ورنہ کالج سے باہر جانا پڑیگا . . . . . . . . وہ دونوں کلاس سے باہر چلے گئے ، لیکن مجھے یقین تھا کہ وہ دونوں مجھے باہر ضرور پکڑیں گے اور اسی وقت میں نے اپنے دشمنوں میں ان دونوں کا نام بھی لکھ لیا . . . . . میری آج اِس دلیری کی وجہ سے سب کی نظریں مجھ پر جم سے گئی تھی یہ میں نے پہلے ہی سوچ لیا تھا ، اور اسی وقت میں نے خود سے بولا کہ " کاش سارہ اِس کلاس میں ہوتی تو آج وہ مجھ سے ضرور سیٹ ہو جاتی ، پھر ہم دونوں اسی کے ہی پیسے پر باہر كھانا کھانے جاتے ، اس کے بَعْد ایک ہی کولڈ ڈرنک میں اسٹرو ڈال کر پیتے اور اس کے بَعْد میں اسے ایک لال گلاب دیتا اور وہ شرما کر کہتی کہ " اَرمان . . . تُم کتنے وہ ہو . . . " " سحرش میڈم كے پاس نہیں جانا کیا . . . . " اظہر کی آواز نے مجھے ہوش میں لایا . . . . بریک ٹائم ہوگیا . . . " " پانچ منٹ بھی ہو گئے تھے . . . . " " تو بھی چل نہ . . . " " تو جا یار" انگڑائی لیتے ہوئے اظہر نے بولا " مجھے نیند آ رہی ہے . . " میں اکیلے ہی اپنی جگہ سے اٹھا اور کلاس سے باہر جانے لگا تبھی اظہر نے آواز دی " سنبھل کر کہی وہ تیرا ریپ نہ کر دے . . . . . . . . " " لڑکیاں بھی ریپ کرتی ہے کیا . . . " میں نے ہنستے ہوئے اظہر سے پوچھا " آج کل کی لڑکیاں کچھ بھی کر سکتی ہے . . . . " اس نے بھی ہنستے ہوئے جواب دیا . . . . . " چل ٹھیک ہے ، ملتے ہے کچھ دیر میں . . . " میں کلاس سے باہر نکل آیا ، کمپیوٹر لیب گرائونڈ فلور پر تھی اور جیسے جیسے میں سیڑھیاں اتار رہا تھا ویسے ویسے ہی ایک ڈر ، ایک ججھک میرے اندر اپنے ڈیرے جمعا رہی تھی . . . . میں یہی چاہ رہا تھا کہ سحرش میڈم کمپیوٹر لیب میں اکیلی نہ ہو ، ان کے ساتھ کچھ اسٹوڈنٹ بھی ہو . . . . . میں اپنے کالج کا شاید اکلوتا ایسا لڑکا تھا جو سحرش میڈم جیسی خوبصورت اور گداز جسم والی عورت کی قربت سے دَر رہا تھا . . . " میں اندر آ سکتا ہوں میم . . . " کمپیوٹر لیب كے گیٹ كے پاس کھڑے ہوکر میں نے اندر آنے کی اجازت مانگی . . . . " ارمان . . . آ جاؤ اندر " وہ خوش ہوتے ہوئے ایسے بولی ، جیسے انہیں کب سے میرا انتظار ہو . . . . . ان کی اُس ہنسی نے مجھے اندر سے ڈرا دیا اور میرے کانوں میں اظہر کی آواز گونجنے لگی " سنبھل کر ، کہی وہ تیرا ریپ نہ کر دے . . . . " " ارے اندر آؤ ، باہر کیوں کھڑے ہو . . . " انوں نے مجھے دوبارہ اندر آنے كے لیے کہا اور میں میدان جنگ میں کود گیا . . . . " آپ نے مجھے بلایا تھا . . . " جہاں وہ بیٹھی تھی وہاں جا کر میں نے بولا اور چاروں طرف نظر گھومائی لیب میں ان کے اور میرے سوا صرف کمپیوٹرز تھے . . . . " تم نے اسائنمنٹ کمپلیٹ کیوں نہیں کیا . . . . " اپنی کرسی کو میری طرف کھینچ کر وہ آرام سے بیٹھ گئی ، " کیا پرفیوم لگائی ہے اِس عورت نے . . . " میں بڑبڑایا. . . " تم نے اسائنمنٹ پورا نہیں کیا ، کیا میں جان سکتی ہوں کہ ایسا کیوں ہوا . . ." " سوری میم ، میں بھول گیا تھا " " کیا بھول گئے . . " " اسائنمنٹ کرنا بھول گیا . . . " وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور میرے پیچھے کھڑے ہوکر آہستہ سے بولی " فیزکس لیب والی بات تو نہیں بھولے . . . " میرا گلہ سُوکھ گیا اور دِل کی دھڑکنیں تیز ہو گئی یہ سن کر ، میری یہ حالت دیکھ کر سحرش میڈم کی ہنسی چھوٹ گئی . . . " تم شرماتے بہت ہو . . . " میرے کان کے پاس اپنا چہرہ لا کر وہ بولی . . . . " مجھے بھی کچھ دن پہلے ہی یہ پتہ چلا تھا کہ میں ایک شرمیلا لڑکا ہوں . . . " " سو ، اب کیا اِرادَہ ہے . . . " " اِرادَہ تو یہ ہے کہ میں آج پوری رات اسائنمنٹ بناؤں گا اور پھر کل جمع کر دوں گا . . . " سحرش میڈم كے ارمانوں پر پانی پھیرتے ہوئے میں نے کہا . . . . لیکن اگلے ہی لمحے سحرش میڈم نے ایک مجھے ایک زور دار جھٹکا دیا . . . . " مجھے چودنے کا ارادہ ہے یا کھسرے ہو. . ." غصے میں وہ بولی . . . . میں ایک بار پھر سے شدید صدمے میں آ گیا تھا ، اور آج کا صدمہ اُس دن كے فیزکس لیب والے صدمے سے زیادہ بڑا تھا . . . . وہ میرے پیچھے کھڑی میرے جواب کا انتظار کر رہی تھی اور میں صدمے سے باہر آنے کی کوشش کر رہا تھا . . . . . . " پانی ملے گا . . . . " میں نے ٹاپک چینج کرنے كے ارادے سے کہا . . . . " کون سا پانی . . . چوت والا یا بوتل والا . . . . " سحرش میڈم كے ان لفظوں نے مجھے ایک بار پھر شاک میں ڈال دیا اور مجھے ڈر لگنے لگا کہ میں کہی بے ہوش نہ ہو جاؤں . . . . " میں ایک شریف پڑھائی کرنے والا لڑکا ہو ، مجھے ان سب مسائل میں نہ الجھائیں . . . . " اپنی عزت بچانے كے لیے میں نے اپنی کوشش جاری رکھی . . . . " بول تو ایسے رہے ہو ، جیسے کبھی مٹھ ہی نہ ماری ہو . . . . " وہ وآپس سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی اور اپنے سامنے رکھے کمپیوٹر پر کچھ کرنے لگی . . . . . اس کے بَعْد کچھ دیر تک وہ اسی میں مصروف رہی اور پھر بولی . . . " ادھر آؤ . . . " " کدھر . . . " گلا اک بار پھر خشک ہوگیا تھا . . . " میرے پاس . . . " لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کے ساتھ میں سحرش میڈم کی طرف گیا ، جہاں وہ کرسی پر کسی ملکہ کی طرح بیٹھی ہوئی تھی ، ان کے قریب جا کر میں کھڑا ہو گیا اور کمپیوٹر كے اسکرین پر نظریں ڈالی ، سحرش میڈم نے ایک ویڈیو چلائی، وہ ویڈیو ایسی تھی کہ جسے دیکھ کر میرے پسینے چھوٹ گئے ، اِس بار تو بے ہوش ہو ہی جاتا لیکن میں نے خود کو سنبھل لیا . . . . . . " یہ پوزیشن مجھے بہت پسند ہے اور تمھیں . . . " جواب میں میں اپنے ہونٹوں پر صرف زبان ہی پھیر سکا ، میرے سامنے ایک بلکل ننگی چودائی والی ویڈیو چل رہی تھی . . . . یہ کیسے ہو سکتا ہے ، کوئی ٹیچر اپنے اسٹوڈنٹ كے ساتھ ایسے برتاؤ کیسے کر سکتی ہے . . . . لیکن حقیقت تو وہی تھی جو آج کے دن لیب میں میرے ساتھ ہو رہا تھا ، میں عمر كے اُس چوراہے پر تھا شاید بہت سی باتیں ایسی تھی جسے جاننا ابھی باقی تھا . . . . میرا من اور تں ڈولنے لگا ، اگر سہی لفظوں میں کہوں تو جب آپ کے سامنے چدائی کی فلم چل رہی ہو تو لنڈ اپنے آپ کھڑا ہو جاتا ہے ، میرا بھی لنڈ کھڑا ہوگیا ، جسے دیکھ کر سحرش میڈم نے مجھے اپنے ڈانٹ دکھانے لگی . . . . نہ چاہ کر بھی اُس وقت میں یہ چاہنے لگا تھا کی سحرش میڈم پہلے اپنے ہاتھوں سے میرے لنڈ کو سہلائے اور پھر اپنے منہ سے میرے لنڈ کو چُوسے اور اس کے بَعْد کسی پورن اسٹار کی طرح بولے کہ " وائو ، تمہارا لنڈ تو بہت بڑا ہے. . . . " " کسی بھی لڑکی کے جسم میں تمہیں سب سے اچھا حصہ کون سا لگتا ہے . . . . " ویڈیو بند کرکے سحرش میڈم میرے طرف موڑی . . . . . . مطلب . . . . " میں جانتا تھا کہ سحرش میڈم كے سوال کا کیا مطلب تھا ، لیکن پھر بھی میں نے پوچھا . . . . " مطلب کہ چوت ، گانڈ ، ممے، ہونٹ . . . . . " " ممے اور ہونٹ . . . . " میں نے جواب دیا اور ایک عجیب سی بات مجھے یہ لگی کہ ، اب مجھے شرم نہیں آ رہی تھی . . . . . " میرے ہونٹوں کو چھو کر دیکھو . . . " " کیسے چھوؤں ہاتھ سے یا پھر ہونٹ سے یا پھر . . . . . . " " ابھی تو فی الحال ہاتھ سے مزہ لو . . . " میں نے اپنی انگلیوں کو سحرش میڈم كے ہونٹوں پر رکھا اور دھیرے دھیرے سہلاتے ہوئے ان کے ہونٹ كے آخری حصے تک اندر تک لے گیا ، . . . . یہ سب کچھ بہت عجیب تھا ، مجھے خود یقین نہیں ہو رہا تھا کہ میری مرجھائی ہوئی تقدیر میں ایک عورت کیسے آ گئی وہ بھی اتنی حسین کہ . . . . " وہاں بھی ہاتھ پھیر لوں . . . " میرا اشارہ ان کے باہر کو نکلے ہوے بڑے بڑے مموں کی طرف تھا ، . . . سحرش میڈم نے اپنی چھاتیوں کو ایک بار دیکھ اور بولا . . . " یہ سب پوچھا نہیں جاتا . . . . " " اچھا پھر ٹھیک ہے . . . " اور پھر میرے کانپتے ہوئے ہاتھ ان کی چھاتیوں سے جا چپکے اور ایسے چپکے کے چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ، لنڈ پینٹ سے باہر نکلنے كے لیے بےتاب تھا تبھی کھڑے لنڈ پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے سحرش میڈم نے کہا . . . " اب تم جاؤ . . . " بجھے دل کے ساتھ میں نے سحرش میڈم کی چھاتیوں کو دیکھا ، جن سے میرے ہاتھ چپکے ہوئے تھے ، میں نے معصومیت بھری آواز میں کہا " اک بار انہیں دبا لوں . . . " " تم اب جاؤ . . . . " ہنستے ہوئے انہوں نے میرے ہاتھ کو دور کیا اور مجھے جلدی وہاں سے جانے کا اشارہ کیا . . . . . " مٹھ مارنی پڑے گی اب . . . " کمپیوٹر لیب سے باہر نکل کر میں نے خود سے کہا اور باتھ روم کی طرف چل دیا ، آج مجھے کئی بہت سے جھٹکے ایک ساتھ لگے تھے ، پہلے میں نے ان پانچ لڑکیوں کو ان کی اوقات یاد دلائی ، پھر سلطان میرانی اور اس کے دوست کو اور اس کے بَعْد کمپیوٹر لیب والا جھٹکا . . . . . لیکن ایک اور جھٹکا بہت جلد لگنے والا تھا اور یہ جھٹکا سب سے بڑا بھی تھا . . . . . . . . " مجھے معلوم چل گیا ہے کی ساراہ کالج کیوں نہیں آ رہی کچھ دنوں سے . . . . " مٹھ مارنے كے بَعْد لٹکا ہوا منہ لیکر میں کلاس میں داخل ہی ہوا تھا کہ اظہر نے بولا . . . . " کیوں . . . . ؟ " میں نے اظہر کی طرف دیکھا . . . . ابھی تک میں یہی سمجھ رہا تھا کہ شاید اس کے گھر میں کوئی کام ھوگا ، یا پھر اس کی طبیعت خراب ھوگی یا ہلکا پھلکا بخار ھوگا ، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے کسی رشتےدار سے ملنے کہی باہر گئی ہو اور اسی وجہ سے وہ کالج نہ آئی ہو ، لیکن اظہر نے دھماکہ کرکے میرے دماغ کو سن کر دیا ، اس نے سارہ كے کالج نہ آنے کی جو وجہ بتائی ، اسے سن کر یقین ہی نہیں ہوا اور میں نے اظہر سے ایک بار پھر پوچھا . . . . " کیا بولا تو نے میں نے سنا نہیں . . . " " سارہ نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی . . . . . . " مجھے پھر بھی یقین نہیں ہوا اور یہ سوچ کر کہ میں نے غلط سنا ھوگا میں نے ایک بار اور اظہر سے پوچھا . . . " کیا . . . " " سارہ نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے . . . " مسلسل تِین بار لگاتار میں وہی سوال پُوچھ رہا تھا اور اظہر میرے ان سوالوں کا ایک ہی جواب دے رہا تھا . . . . اُس وقت کچھ ہوا ، کچھ الگ سا ہی ہوا ، کچھ الگ سا ہی احساس ہوا . . . . میں وہاں سے بھاگتے ہوئے سیدھے کالج سے باہر آیا بنا یہ سوچتے ہوے کہ مجھے جانا کہاں ہے ، بنا یہ سوچے کہ سینیرز مجھے پکڑ سکتے ہے اور میرا کچوںمبر بنا سکتے ہے . . . . کالج كے مین گیٹ سے میں نکلا ہی تھا کہ میری نظر اُس ایک درخت پر پڑی جس پر رنگ برنگی پھول لگے ہوئے تھے . . . . یہ وہی درخت تھا ، وہاں اُس وقت ہوا بھی وہی چل رہی تھی ، جو روزانہ چلتی تھی ، کالج بھی وہی تھا اور اس میں پڑھنے والے اسٹوڈنٹ بھی وہی تھے . . . سورج آج بھی مشرق سے نکل کر اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا ، لیکن جب سے سارہ كی خودکشی کی خبر سنی تھی تو اُس ایک پل میں جیسے پوری دُنیا بَدَل گئی ہو ، رنگی برنگی دنیا بلکل بے رنگ سی لگنے لگی ، ایسا لگنے لگا تھا مجھے اُس وقت . . . . لوگ میرے سامنے سے آتے اور چلے جاتے ، اُس وقت کوئی مجھ پر لاتوں اور مکوں کی برسات بھی کر دیتا تو میں اسے صرف دیکھنے كے سوا کچھ بھی نہیں کرتا . . . . . . " اظہر . . . شوکت . . . " میں نے یہ دو نام لیے ، جو میرے خاص دوست تھے ، " کہا جا رہا ہے . . . " پیچھے سے میرے خاص دوست اظہر نے آواز دی ، وہ بھی میرے پیچھے پیچھے آ گیا تھا بنا یہ جانے کہ اسے جانا کہا ہے . . . . " سارہ کس اسپتال میں ہے . . . . " میری گھبراہٹ کو اظہر پہچان گیا اور میری بے چینی کو سمجھ کر وہ بولا " یہ تو مجھے نہیں پتہ. . . . " " تجھے کس نے بتایا کہ سارہ نے خود کشی کرنے کی کوشش کی ہے . . . . " " کلاس میں کچھ لڑکے بات کر رہے تھے ، جسے میرے دوست نے سن لیا اور پھر مجھے خبر دی . . . . " اِس وقت سارہ سے ملنے کا بہت دِل کر رہا تھا ، لیکن اس سے ملوں بھی تو کیسے ، میں اس سے ملا بھی تو کیا کہوں گا . . . کہ میں یہاں کیوں آیا ، کس لئے آیا کس حق سے آیا . . . . . دِل میں ہزار قسم کے وسوسے لاکر میں نے وہاں سے واپس اپنی کلاس میں جانے کا سوچا . . . . کوری ڈور میں اب بھی اسٹوڈنٹ موجود تھے ، کچھ چہل قدمی کر رہے تھے تو کچھ گروپ بنا کر باتیں کر رہے تھے . . . . وہاں مجھے اظہر کا وہ دوست بھی دکھائی دیا جو سارہ کی کلاس میں پڑھتا تھا . . . . . " سن نہ یار . . . . " میں نے اظہر كے دوست کو بلایا اور اس نے میری دکھتی رگ پر ہاتھ تو رکھا ہی ساتھ ہی ساتھ میرے دل پر خنجر مارتے ہوئے بولا . . . " ارمان تجھے پتہ چلا یا نہیں . . . . سارہ نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے . . . . " " ہاں معلوم ہے . . . کوئی وجہ معلوم چلی کہ اس نے ایسا کیوں کیا . . . " " عشق ، محبت کا چکر ہے دوست . . . . تو بھول جا اسے . . . " جتنی آسانی سے اس نے مجھے کہہ دیا اتنی ہی آسانی سے میں نے اس کی بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا اور اس سے پوچھا کی سارہ کس اسپتال میں ہے . . . . " پتہ نہیں . . . . لیکن چھٹی ہونے تک کسی سے پوچھ کر تجھے بتا دوں گا . . . . " " شکریہ ، اب چلتا ہو . . . " " چل ٹھیک ہے . . . " وہاں سے میں سیدھے اپنی کلاس میں آکر بیٹھ گیا ، یہ سوچ سوچ کر دِل بیٹھا جا رہا تھا کہ سارہ نے کس كے پیار میں اپنی جان دینے کی کوشش کی ہے . . . . " وہ اسے بہت پیار کرتی ہے ، اس کا مطلب میں یا میرے ارمانوں كے لیے اس کے دِل میں کوئی جگہ نہیں . . . . " میں اس وقت خود سے ہی سوال جواب کئے جا رہا تھا . . . . " لیکن اس دن کلاس میں تو وہ مجھے دیکھ رہی تھی . . . . " میں اس وقت جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ میں بدلنے کی کوشش کر رہا تھا ، اس وقت مجھے بلکل بھی یہ خیال نہیں تھا کی فیزکس والے سر کلاس میں آ چکے ہے . . . . " ہیلو ، تم . . . " " ہیں . . . . " اظہر نے مجھ سے سرگوشی کی تو میں ہوش میں آیا . . . . " کیا ہیں ہیں لگا رکھا ہے ، پڑھنا ہے تو چُپ چاپ پڑھو ورنہ باہر جاؤ . . . " " میں نے تو ایک لفظ بھی نہیں بولا . . . " اس فیزکس والے سر کو دیکھ کر میں نے خود سے کہا . . . . . " آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے . . . " کسی نے بھی اپنے دماغ کا استمعال کر کے کچھ بھی سر کو سنایا تو اسے یہی جواب ملا . . . . یہ جواب صرف اسے ہی نہیں بلکہ کئی اور بھی اسٹوڈنٹ کو ملا . . . جب بھی کوئی اُلٹا سیدھا سوال کرتا تو سر اس پر اپنا بھارم مار کر کہتے کہ " آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے . . . . " اور پھر سب خاموش ہو جاتے . . . . سوال تو میرے دماغ میں بھی تھا لیکن اس وقت میں نہیں پُوچھ پایا شاید سارہ کی وجہ سے . . . . . . سر کی بھی اک عجیب اور بڑی گھٹیا عادت تھی وہ کلاس ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے ایک ایک اسٹوڈنٹ سے اس دن جو پڑھایا گیا ہو اسے بتانے کو کہتے . . . جو بتا دیتا وہ بیٹھ جاتا تھا لیکن نہ بتانے والے کو سر فیزکس ڈیپارٹمنٹ میں بلاتے اور وہاں ، عزت کی دھجیاں اڑاتے . . . . " تم بتاؤ . . . . " میں چُپ چاپ کھڑا ہوا اور دماغ کو کھنگال کر سوچنے لگا کہ میں اِس بارے میں کچھ جانتا ہو یا نہیں . . . . . تھیوری آف ریلاٹیویتی كے ٹاپک پر سبجیکٹ تھا لیکن کچھ دن پہلے میں نے کسی اخبار میں کچھ پڑھا تھا اور جو پڑھا تھا وہی سر كے سنا دیا. . . . . " سر ، میرا اک سوال ہے . . . کچھ دن پہلے میں نے پڑھا تھا کہ کچھ چیزیں ایسی بھی ہے جن کی ویلوسیٹی لائٹ كے ویلوسیٹی سے بھی تیز ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر آیسٹن کا قانون غلط ہو گیا ، آپ کیا کہتے ہے اِس بارے میں . . . . " " آیسٹن ہو یا کوئی عام آدمی ، کوئی بھی فیزکس كے قانون كے خلاف نہیں جا سکتا . . . بیٹھ جاؤ . . . " " تھینک یو سر" اس دن بہت سے اسٹوڈنٹ سر كے جال میں آ گئے . . . میں چاہتا تھا کہ اظہر بھی اس جال میں پھنس جائے لیکن کمینہ ہوشیار نکلا اور جب سر نے اسے کھڑا کیا تو لمبا چوڑا حساب اس نے دے دیا . . . . . " بڑے غور سے سن رہا تھا سر کا بورنگ لیکچر . . . . . " " مطلب . . . . " " اس کا لیکچر سنے بنا تو اتنا سب کچھ کیسے بول سکتا ہے . . . " " یہ سب تو مجھے پہلے سے معلوم تھا مجھے . . . " کندھے اچکا کر وہ بولا . . . . " میں آج راحیلہ کی کلاس اٹینڈ نہیں کروںگا . . . . " اپنا بیگ بند کرتے ہوئے شوکت نے ہم دونوں سے کہا . . . . " کیوں جا کر گانڈ مروانی ہے . . . " " کمینے . . . " اظہر کو ایک تھپڑ مار کر شوکت نے کہا " جب دیکھو تب گالی بکتے رہتے ہو . . . . " " تو اس کو چھوڑ اور یہ بتا کہ آج راحیلہ میڈم کی کلاس کیوں چھوڑ رہا ہے . . . . سنا ہے بہت ہارڈ سبجیکٹ ہے آج . . . " میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ وہاں سے جائے ، کیوںکہ شوکت كے ساتھ رہنے سے کلاس بورنگ نہیں لگتی تھی . . . " بھائی آ رہا ہے گاؤں سے اور تین بجے انہیں ریلوے اسٹیشن لینے جانا ہے ، . . . " " جب کام تین بجے ہے تو پھر ابھی کیوں جا رہا ہے ، . . . " " بس جا رہا ہوں . . . . کمرے کی صفائی بھی کرنی ہے ، ورنہ بھائی روم میں آکر میرا حال چال بَعْد میں پوچھے گا اس سے پہلے مجھے بولے گا کہ چل پہلے روم صاف کر . . . " " آج تیرے روم میں ہی روکنے کا ارادہ ہے کیا ان کا . . . . " میرے اندر ایک الگ ہی کھچڑی پک رہی تھی جس میں مرچ مسالے ڈالتے ہوئے شوکت بولا . . . " نہیں ، چار بجے ان کی ٹرین ہے . . . " " آج رات میں تیرے روم میں ہی گزاروں گا. . . . " " کیوں . . . " میرے اچانک اس طرح کہنے سے شوکت تھوڑا چونک سا گیا ، " کیوں ، تو آج اس کے روم میں کیوں رات گزارے گا . . . . " اظہر نے مجھے ٹوکا . . . " کام ہے کچھ . . . " " لونڈے بازززز . . . " ایک ردھم میں گاتے ہوئے اظہر نے کہا . . . . " دراصل میں سوچ رہا تھا کہ سارہ جس اسپتال میں ہے ، وہاں جا کر اسے دیکھ آؤں . . . " " شوکت ، لڑکا تو گیا ہاتھ سے . . . " مسکراتے ہوئے اظہر نے کہا " پھر میں بھی چلتا ہوں . . . " پھر کیا تھا ہم تینوں نے اپنا بیگ اٹھایا اور نکل گئے شوکت كے روم کی طرف . . . . پورے راستے میں نے پلان بنایا کہ مجھے اسپتال جا کر اصل میں کرنا کیا ہے ، لیکن پھر یاد آیا کہ ہمیں تو اس اسپتال کا نام تک نہیں پتہ جس میں سارہ ایڈمٹ ہے . . . . . " یار تو کس لیے میرے ساتھ آیا ہے . . . " بائیک پر بیٹھے ہوئے ہی میں نے کہنی سے اظہر کو مارا . . . . " تیرے ساتھ اس اسپتال میں جاؤں گا ، جہاں سارہ ایڈمٹ ہے . . . " " کیسے جائیگا ، پہلے یہ تو پتہ کر کہ سارہ ہے کس اسپتال میں . . . . " کالج سے شوکت كے روم تک کا سفر صرف آدھا گھنٹہ تھا، اِدَھر شوکت روم کی صفائی میں لگ گیا اور ادھر میں اور اظہر اس کے بستر پر کسی بادشاہ کی طرح بیٹھ کر اپنا پلان بنانے لگے . . . . . . . . " منو کو کال کرتا ہوں . . . . " اظہر نے اپنا موبائل نکالتے ہوئے کہا . . . . . منو بھی سارہ كے پیچھے پڑا ہوا تھا اس لئے اظہر نے سوچا کہ شاید اسے کچھ معلوم ہو اور ہمارا اندازہ ایک دم سہی نکلا، اس کمینے منو کو پتہ تھا کہ سارہ کہاں ایڈمٹ ہے . . . . " کام ہو گیا . . . . " کال بند کرکے اظہر نے کہا . . . . " کہا ہے وہ اور کس حالت میں ہے . . . " " میمن اسپتال میں ہے . . . . " " چل جلدی سے چلتے ہے وہاں . . . . " میں بنا کچھ سوچے سمجھے جانے كے لیے اٹھ کھڑا ہوا ، تبھی شوکت جو روم کی صفائی میں لگا ہوا تھا وہ بولا " ہیلو . . . کدھر . . " " میمن اسپتال. . . " " بیٹا ، ابھی جانا ہے تو رکشہ میں جاؤ ، کیوںکہ تین بجے بھائی کو لینے ریلوے اسٹیشن جانا ہے اور ویسے بھی میمن اسپتال دو کمروں کا کوئی چھوٹا اسپتال نہیں ہے جو منہ اٹھا كے چلے جاؤ گے . . . بیٹا اندر گھسنے كے لیے آئی ڈی کارڈ مانگتے ہے . . . . . " ہم دونوں كے بڑھتے قدم وہی روک گئے اور اظہر كے ہاتھ سے شوکت نے بائیک کی چابی چھین کر کہا " گانڈ پر لات مار كے باہر کرینگے وہاں کا سکیورٹی گارڈز . . . . " " تو اب کیا کرے . . . . " " چار بجے تک روک ، بھائی کو ریلوے اسٹیشن چھوڑنے كے بَعْد میں بھی ساتھ میں چلوں گا . . . . " اس دن شوکت كے بھائی نے ایک گھنٹے اچھی طرح سے بور کیا اور شوکت كے روم کو صاف دیکھ کر خوش بھی بہت ہوئے ، اور جاتے جاتے ہم تینوں کو اچھی طرح سے پڑھنے کی نصیحت بھی دی، ساڑھے چار بجے كے لگ بھگ شوکت ریلوے اسٹیشن سے وآپس روم میں آیا اور ہم تینوں میمن اسپتال كے لیے نکال پڑے . . . . . . " لے آگیا میمن اسپتال، اب بول اندر جانے کا کیا جوگار ہے . . . " شوکت جب بائیک پارک کرکے آیا تو میں نے اس سے پوچھا . . . . " میرے چاچو یہاں ایڈمٹ ہے ، ان کو باہر بلاتا ہوں . . . . " یہ کہتے ہوئے شوکت نے موبائل نکالا اور پھر اپنے چاچو سے بات کی ، . . . کچھ ہی دیر میں شوکت كے چاچو باہر آئے ، شوکت اور اس کے چاچو نے کچھ دیر سلام دعا کے بعد چند رسمی بات چیت کی اور پھر ہمیں دو کارڈ دے کر بولے کہ تم تینوں میں سے صرف دو لوگ ہی اندر جا سکتے ہو . . . . جانا تو ہم تینوں کو تھا اس لئے ہم تینوں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے کہ کون اپنی قربانی دے گا . . . . لیکن جب کوئی فیصلہ نہیں ہوا تو چاچو نے ہم تینوں کو کچھ دیر رکنے كے لیے کہا اور پھر جوگار کرکے ایک اور کارڈ لیکر آئے . . . . " شوکت ، اپنے چاچو سے پُوچھ كے دیکھ کہ یہ سارہ کو جانتے ہے یا نہیں . . . . " " پاگل ہے کیا . . . . " " تو پاگل ، تیرا باپ . . . . . " اس سے آگے میں نے کچھ نہیں بولا اور تھوڑی دور کھڑے شوکت كے چاچو كے پاس گیا ، جو کسی سے بات کر رہے تھے . . . . . " چاچو، ہمارے کالج کی ایک لڑکی نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے ، . . . اسے آپ جانتے ہے کیا . . . . . " " سارہ . . . . . . " " او خیر " اندر ہی اندر خوش ہوتے ہوئے میں نے شوکت كے چاچو سے کہا " ہاں وہی ، جب یہاں آئے ہے تو سوچا کہ اس سے بھی مل لیں . . . . " " وہ میرے قریبی دوست شکیل جلبانی کی اکلوتی بیٹی ہے ، سارہ کی خودکشی کی خبر سن کر مجھے بھی دکھ ہوا تھا ، لیکن اب وہ ٹھیک ہے اور اگر اسے ملنا چاھتے ہو تو 133 نمبر روم میں چلے جاؤ " " تھینک یو چاچو " وہاں سے خوشی خوشی میں اظہر اور شوکت كے پاس آیا اور انہیں روم نمبر 133 میں چلنے كے لیے کہا ، . . گئے تھے بڑے عاشق بن کر ، سوچا تھا کسی نہ کسی بہانے اس سے بات کر ہی لوں گا ، پھر اس کا حال احوال بھی پُوچھ لوں گا ، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے علاوہ کچھ ہوا . . . . جس روم میں سارہ ایڈمٹ تھی ، ہم تینوں اس روم كے باہر چُپ چاپ کھڑے اندر جھانک رہے تھے کیونکہ اندر جھانکنے كے سوا ہم تینوں یا پھر یوں کہے کہ میں کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا ، کیوںکہ جو کام مجھے کرنا تھا وہ روم نمبر 133 میں کوئی اور کر رہا تھا ، جن ارمانوں کو لے کر میں یہاں آیا تھا وہ سب ارمان جس روم میں سارہ ایڈمٹ تھی اس کے باہر بکھر چکے تھے ، کانوں میں ایک بار پھر وہی آواز گونجی جسے میں سننا نہیں چاہتا تھا ، جسے میں برداشت نہیں کر سکتا تھا . . . . . " عشق ، محبت کا چَکَر ہے بھائی ، تو اسے بھول جا . . . . " اس وقت اظہر بھی چُپ تھا اور شوکت بھی چُپ چاپ کھڑا تھا . . . . . روم كے اندر سارہ ایک لڑکے سے بات کر رہی تھی ، سارہ کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس لڑکے کی آنکھیں بھی ہلکی نم تھی ، دونوں میری یک طرفہ محبّت کی دھجیاں اڑا کر اپنے لیے فیملی پلاننگ کر رہے تھے . . . . . جس لڑکے نے سارہ کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا اسے میں نے کالج میں شاید کئی بار دیکھا تھا ، اور اگر میرا اندازہ سہی تھا تو وہ یقینن میرا سینیر ہے . . . . . . " اس کا نام صغیر ہے اور یہ سیکنڈ ایئر میں پڑھتا ہے. . . . " شوکت نے آہستہ سے کہا ، لیکن اگر وہ زور سے بھی کہتا تو کوئی فرق نہیں پڑتا کیوںکہ وہاں ہمیں سننے والا کوئی نہیں تھا ، جو بیمار تھے وہ تو اپنے روم میں ہی لیٹے پڑے تھے اور جو ان کے احباب تھے وہ یا تو اپنے مریضوں كے ساتھ روم میں تھے یا پھر باہر کی ہوا کھانے كے لیے باہر گئے ہوئے تھے . . . اس وقت ہم تینوں روم نمبر 133 کی کھڑکی کے اندر دیکھ رہے تھے ، ہم تینوں نے دیکھا کہ اس لڑکے نے سارہ کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور کچھ بولنے لگا . . . جسے سن کر سارہ کی آنکھیں خوشی سے چھلک اٹھی . . . . اس وقت آنکھوں میں آنسو اس کے بھی تھے ، اس وقت دِل میرا بھی رویا تھا . . . . . اس وقت اپنی محبّت كے سامنے وہ بھی چُپ تھی ، اس وقت اپنی محبّت كے سامنے چُپ میں بھی تھا . . . . اس کے بغیر جینے کی عادت نہ تو اسے تھی اور اس کے بغیر جینا میرا بھی مشکل تھا . . . . . . آہستہ آہستہ میرے قدم خود بہ خود باہر كے لیے چل پڑے ، اب حالات بالکل الگ تھے، جہاں کچھ دیر پہلے تک میں یہاں آنے كے لیے بے تاب ہو رہا تھا وہی اب میں جلد سے جلد یہاں سے دور جانا چاہتا تھا ، جہاں کچھ دیر پہلے میرا دِل اس کے دیدار كے لیے اچھل اچھل کر بے تحاشہ پاگل ہو رہا تھا وہی اب میرا دِل جیسے دھڑکنا بول گیا تھا . . . . اسپتال سے باہر جاتے وقت میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ، لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں ایسا لگ رہا تھا کہ میں وہاں ، اس بڑے سے عالیشان اسپتال میں بالکل اکیلا ہوں . . . . کوئی اگر وہاں آہستہ سے بھی کچھ بولتا تو اس کی آواز زور سے میرے کانوں میں چب رہی تھی . . . . مجھے اس وقت ایسا لگنے لگا تھا جیسے کہ میں برسوں سے اس جگہ قید ہوں اور وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہوں . . . . . . . " ارمان . . . . . " میرے کاندھے کو پچھے سے پکڑ کر اظہر نے مجھے زور سے ہلایا . . . . " کہاں جا رہا ہے . . . . " " باہر . . . . " اپنے چاروں طرف دیکھتے ہوئے میں نے اظہر سے کہا ، " کیوں کچھ ہوا کیا . . . " " یہ باہر کا راستہ نہیں ہے . . . سامنے دیکھ تو اس روم کی طرف جا رہا ہے جسے مردے خانہ کہتے ہیں . . . . " اظہر سچ کہہ رہا تھا ، میرے سامنے کچھ فاصلے پر وہی روم تھا ، میرا سَر گھومانے لگا اور اس کے بَعْد میری آنکھوں كے سامنے اندھیرہ چھانے لگا میں اس وقت نیند کی آغوش میں جانا چاہتا تھا اور میرے دل میں نا جانے کیا آیا جو میں اسی روم کی طرف چل پڑا جہاں مرے ہوئے لوگوں كے جسموں کو رکھا جاتا تھا . . . . میرا دماغ میرے قابو میں نہیں تھا . . . . میں بس نیند کی آغوش میں جانا چاہتا تھا . . . . " یار روک ، . . . " شوکت اور اظہر نے مجھے پکڑا لیکن میں انہیں اپنے ساتھ لیتے ہوئے آگے بڑھنے لگا . . . . . " یار ، کیا مروائے گا ہمیں . . . " اظہر میرے کان کے پاس چلا کر کہا اور اچانک ہی میں ہوش میں آیا . . . . . " مجھے کیوں پکڑ كے رکھا ہے . . . " ان دونوں کو گھوراتے ہوئے میں نے کہا ، . . . . شوکت کچھ کہنا چاہتا تھا ، لیکن اظہر نے اسے اشارہ کرکے خاموش کروا دیا اور خود بولا . . . . " کچھ نہیں چل یہاں سے . . . . " جہاں ایک طرف سارہ نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی وہی میرے اور سارہ كی محبّت نے بھی ، جو کہ شروع تک نہیں ہوئی تھی ، خود کشی کرنے کی کوشش کی . . . . . وہ دن مجھے آج بھی یاد ہے جب میں بہک کر اس مردے خانے کی طرف جا رہا تھا . . . . انجینیئر تھا اس لئے چھوڑ دیا ورنہ اگر ڈاکٹر ہوتا تو دماغ نکال کر اس میں میرے اس دن كے راویے کی وجہ ڈھونڈتا . . . . . . . . " تھوڑی برف ڈال ، بہت کڑوی ہے . . . . " کاشف نے اپنا گلاس خالی کر کے کہا " یہ کیا بے ، تو تو افسردہ کر رہا ہے مجھے اپنی یہ اسٹوری سنا کر . . . . اس کی اور میری محبت کی بڑی عجیب داستان ہے . . . اس دن نہ جانے مجھے کیا ہو گیا تھا ، سارہ کو صغیركے اتنے قریب دیکھ کر میں اپنا آپ کھو بیٹھا تھا . . . اس دن میں شوکت كے روم میں نہیں روکا ، اظہر کا بہت دل کر رہا تھا لیکن میری وجہ سے ، میرے ہاسٹل واپس آنے کی ضد کی وجہ سے شوکت نے مجھے اور اظہر کو شام كے وقت ہاسٹل چھوڑ دیا . . . . " مجھے یہ بتا کہ ان دونوں کا یہ چکر کب سے اور کیسے شروع ہوا تھا . . . . " ہاسٹل كے اندر داخل ہوتے ہی میں نے اظہر سے کہا . . . . " میں سب کا بائیو ڈیٹا لیکر نہیں بیٹھا ہوں ، جو تو سب کے بارے میں مجھ سے پوچھتا ہے . . . . " اظہر نے غصّے سے کہا . . . . " کچھ جوگار نہیں ہے . . . " " بہت اچھا جوگار ہے . . . . یہاں سے کچھ فاصلے پر شراب خانہ ہے وہاں سے ایک بوتل لا اور پی کر سارہ اور اپنی یکطرفہ محبّت کو ختم کر دے . . . . سمجھا . . . " " سیدھا طرح بول نا کہ تو ڈر گیا ہے . . . " "جیسے تو سمجھ . . . . " میں سمجھ گیا تھا کہ اظہر ناراض ہے اور اس کی ناراضگی کی وجہ شاید یہ تھی کہ میں نہ تو خود شوکت كے روم میں روکا اور نہ ہی اسے رکنے دیا . . . " ارمان کا روم یہی ہے کیا . . . " میں اپنے بستر پر اور اظہر اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا ، تبھی مجھے یہ آواز سنائی دی ، میرے روم كے باہر کوئی تھا جو میرے بارے میں پُوچھ رہا تھا ، میں خود باہر جانے كے لیے اٹھا ہی تھا کہ دنداناتے ہوے تِین لڑکے میرے روم میں آ دھمکے . . . . " تم دونوں میں سے ارمان کون ہے . . . " " میں ہوں . . . " میں نے ان سے کہا اور اندر ہی اندر سوچ لیا کہ اگر یہ کچھ اُلٹا سیدھا کرینگے تو میں بنا کچھ سوچے ان سے مقابلہ کروں گا . . . . . . " اسے جانتا ہے . . . " ان تینوں میں سے ایک كے ہاتھ میں ایک فوٹو تھا ، جسے دیکھا کر وہ مجھ سے پُوچھ رہے تھے . . . ان کے ہاتھ میں اسی شخص کی فوٹو تھی جس نے کاشف اور ان پانچ لڑکیوں كے ساتھ مل کر مجھے مارا تھا . . . . . " ہاں . . . . " " اس نے کاشف كے ساتھ مل کر تجھے مارا تھا . . . . " " نشان ابھی تک میرے پیٹھ میں ہے . . . . " " تو سن . . . " ایک نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور میری طرف دیکھ کر بولا " یہ کمینہ سب سے بڑا چوتیا ہے اور کاشف اسے بھی بڑا ، ایک سینیر ہاسٹل والا جونئیر ہاسٹل والے کی تنظیم سازی کا پوچھ لے تو وہ چلتا ہے کیوںکہ ہاسٹل والے سینیر کا یہ جاننا اس کا حق ہے . . . . لیکن اگر کوئی شہر والا ہاسٹل والے کی تنظیم سازی کرنے کی کوشش کرے تو پھر ان کا بینڈ بجانا پڑھتا ہے . . . . ایک تو ہم نے بہت مارا ، اب یہ تیرے پاس بھول كر بھی نہیں بھٹکے گا اور رہی بات کاشف کی . . . . تو کل صبح بریک ٹائم میں بائیک اسٹینڈ پر ملنا . . . "تھینک یو سر . . . . " میں خوشی سے نچانا چاہتا تھا ، لیکن میں نے خود کو کنٹرول کیا . . . . " ایک بات بتا . . . " واپس جاتے ہوئے اُن میں سے ایک نے کہا " تو نے آج ان پانچوں لڑکیوں کو چھیڑا تھا کیا . . . " " ہلکا سا مذاق کیا تھا ان کے ساتھ . . . لیکن آپ کو کس نے بتایا . . . " " مجھے کس نے بتایا وہ چھوڑ اور اگر وہ کل کالج كے پیچھے والے گیٹ كے پاس دوبارہ ملے تو ہلکا مذاق نہیں تھوڑا زیادہ کر لینا . . . . " " اظہر یہ کون تھا . . . . " ان تینوں كے جانے كے بَعْد میں نے اظہر سے پوچھا . . . . " یار اس کو نہیں جانتا . . . " " نہیں. . . کون ہے . . . " " کاشف کا سب سے بڑا دشمن ، اصل نام نہیں معلوم لیکن اس کو سب سردار کہتے ہے . . . . . " سردار کو ہاسٹل میں رہنے والے اسٹوڈنٹ شہنشاہ كے نام سے بھی پکارتے ہے . . . کہتے ہے کہ جب سردار فرسٹ ایئر میں تھا تو اس کو کسی سیئنر نے بہت مارا تھا جس کا کا تعلق ایک سیاسی تنظیم تھا ، لیکن اس کے بَعْد اس نے یونین کا الیکشن جیتا اور پورے کالج میں مشہور ہوا اور جب وہ تھڑڈ ایئر میں آیا تو جس سیئنر نے اس کو مارا تھا اسے اس نے کتوں کی طرح مارا تھا . . . . . اب وہ فورتھ ایئر میں تھا اور ہاسٹل كے اسٹوڈنٹ کو پریشان کرنے والو کی حالات بگاڑ دیتا تھا . . . . . ہاسٹل والوں کے اتفاق کا سب سے بڑا پہلو شاید سردار ہی تھا . . . . . لیکن کچھ پاگل ہوتے ہے جو خود کو تیس مار خان سمجھ کر ہوشیاری دیکھاتیں ہیں . . . . میری پٹائی ہاسٹل كے جس سیئنر نے کی تھی وہ بھی ان پاگلوں میں سے تھا اور ہمیشہ سردار كے خلاف جاتا تھا ، اگر کاشف كے ساتھ مل کر اس نے میری پٹائی نہ کی ہوتی تو شاید سردار اسے چھوڑ بھی دیتا اور بات دب بھی جاتی . . . . لیکن جب میں نے کل ان پانچ لڑکیوں کو چھیڑا تو وہ خبر پورے کالج میں آگ کی طرح پھیل گئی اور وہی گراؤنڈ سے میری پٹائی کی خبر سردار تک پونچھ گئی . . . . . . ایک بار پھر سے مجھے کل کا انتظار تھا ، میں چاہتا تھا کہ ایک بار پھر سے وہ پانچوں لڑکیاں کالج كے پیچھے والے گیٹ كے پاس کھڑی رہے اور میری ملاقات ان سے ہو جائے . . . . . . اس دن کی بات ہی الگ تھی ، دو شیر آمنے سامنے تھے ، فرق صرف اتنا تھا کہ ایک اصلی تھا تو دوسرا پلاسٹک کا بے جان . . . . . ایک شیر تو میں تھا اور دوسرا شیر وہ پانچوں لڑکیاں خود کو بول رہی تھی ، وہ اس وقت کالج كے پیچھے والے گیٹ كے پاس کھڑے ہو کر اِس دھن میں مگن تھی کہ ان کے بوائے فریںڈ میری اچھی خبر لینگے ، لیکن اس سے بھی اچھی خبر تو میرے پاس تھی . . . . وہ پانچوں بھی شاید کالج كے پیچھی والے گیٹ پر میرا ہی انتظار کر رہی تھی . . . . . " لا یار سگریٹ دے ، دھواں اڑاتے ہوئے جاؤں گا . . . . " جھاڑیوں میں گھوستے ہوئے میں نے کہا " اور وہاں میری بےعزتی نہ کر دینا ، میں جو بھی کہو ویسے ہی کرنا اور ایسا برتاؤ کرنا جیسے میں تیرا باپ ہوں . . . " " جا اکیلے ہی گانڈ مارا لے پھر . . . " " مذاق کر رہا تھا ، چل آجا . . . " سگریٹ كے کش مارتے ہوئے میں ان کی طرف تیش سے بڑھا ، آنکھوں پر کالا چشمہ اور انگلیوں میں سگریٹ لہراتا ہوا میں ان کے پاس پہنچھا . . . . " کیا حال ہے چڑیلوں ، وو دن یاد نہیں جو آج یہاں پھر سے مروانے آ گئی ہو . . . . " اپنا چشمہ نیچے کرکے میں نے سگریٹ کا کش لیا اور اس کا دھواں ان پانچوں کی طرف پھیک دیا . . . . " زیادہ اوور ایکٹنگ مت کر " اظہر میرے کان میں بڑبڑایا . . . . " چپ کر . . . " دھیمی آواز میں میں نے کہا " چل اب دیکھ . . . " " اچھا یہ بتاؤ ، تم پانچوں بندریاں یہاں کیا سوچ کر کھڑی ہو . . . . " پہلے چڑیل اور پھر بندری. . . . اپنے لیے ایسے لفظ سن کر ان کا پہلے سے ہی سب کچھ لال ہوگیا تھا تبھی سمیرہ نے مجھے دھمکی دی کہ کاشف تجھے چھوڑے گا نہیں . . . . . " کیوں تمھیں پکڑنا چھوڑ دیا ہے کیا . . . " " آج تجھے بھاگا بھاگا کر مارے گیں ہمارے بوائے فرینڈ . . . . " " ہاے قسم سے میں بہت ڈر گیا . . . . " اپنے جیب سے تارا سپاری کا پیکٹ نکال کر میں نے منہ میں ڈَالا . . . . نہ جانے وہ کیا سوچ کر آج یہاں کھڑی ہوکر میرا انتظار کر رہی تھی . . . خیر میں نے اپنا پروگرام جاری رکھا اور سب سے پہلے سمیرہ كی چھاتیوں پر نظر ڈالی . . . " یار ، اظہر آج کل ٹینس بال بہت مہنگے ہوگئے ہے اور ان کو دیکھو دو دو لٹکا كے گھوم رہی ہے . . . ." " کمینے، تجھ جیسے لڑکوں کو میں اپنے جوتے کی نوک پر رکھتی ہوں ، گو فک یورسیلف اینڈ یور فیملی ، " سمیرہ چلاتے ہوئے بولی . . . . " اور تجھ جیسی لڑکیاں میں اپنے لنڈ کی ٹوپی پر رکھتا ہوں صرف سفید پانی نکالنے کے لئے ، . . . . . " " کیا . . . . " وہ اپنا سَر غصے سے کھجاتے ہوئے بولی . . . . " مطلب کی دِل كے ارمان آنسو میں بہہ گئے " " تو روک ، ابھی کاشف کو بلاتی ہو . . . . " پیر پٹخ کر سمیرہ وہاں سے چلی گئی اور اس کے پیچھے پیچھے باقی لڑکیاں بھی چل دی . . . . " کیا جواب دیا ہے تو نے یار . . . . . " اظہر نے ان لڑکیوں کو جاتے ہوے دیکھا اور مجھ سے کہا اور اب تو سمیرہ کی گانڈ سے اپنی نظر ہٹا . . . . " " وہ تو بس میں . . . . . . کیونکہ ہم کو ہر لڑکی جاتے ہوے اچھا لگتا ہے آتے ہوے نہیں " " یہ مت بھول کہ ابھی ہم بھی کالج كے پیچھے ہی کھڑے ہے ، جلدی چل ورنہ کلاس كے لیے دیر ہو جائے گی . . . . " پنگہ تو آج ھونا ہی تھا ، کیونکہ کاشف اور اس کے دوست مجھ پر پہلے سے ہی بگڑے ہوئے تھے اور اوپر سے آج میں نے ان کی بچیوں کو بھی چھیڑا تھا ، اور جہاں تک میرا اندازہ تھا اس کے مطابق وہ پانچوں پھر سے میری شکایت کریں گی اور اس کے بَعْد کاشف اپنی پوری تنظیم كے ساتھ مجھے مارنے آئیگا لیکن اس کے اور میرے درمیان سردار کھڑا تھا . . . . . " اگر سردار نہیں آیا تو . . . . " میرے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی تھی ، جب میرے دِل میں یہ خیال آیا . . . . کیوںکہ میں جانتا تھا کہ اگر سردار نہیں آیا تو کاشف اور اس کے چمچے میرا بہت برا حشرہ کرینگے ، میں نے خود کو کئی بار سمجھایا کہ یہ سب میرا وہم ہے ، سردار میرا ساتھ ضرور دیگا لیکن جب دِل نہیں مانا تو میں نے اپنا موبائل نکال کر سردار کا نمبر ڈائل کیا اور اُدھر سے بہت جلد جواب ملا . . . . " تجھے بولا تھا نہ، اپنی اوقات میں رہنا . . . . " سردار نے آتے ہی اک لات کاشف کو ماری . . . . " سردار ، یہ تیرا معملہ نہیں ہے . . . " " کیا بولا تھا میں نے . . . . ہاسٹل کے لڑکوں کو ہاتھ تک مت لگانا ، لیکن تو نہیں مانا. . . . " " اوئے سردار. . . . آج اتنے سارے لڑکے تیرے ساتھ ہے اس لیے اچھل رہا ہے . . . . بھول مت میں تیرا بھی سینیر ہوں . . . . " " چپ کر بولتا بہت ہے . . . . . " نہ جانے اظہر کو کیا ہوا اور اس نے ایک تھپڑ کاشف كے گال پر مار دیا " اس دن والا بائیک اسٹینڈ کا حساب کلئیر ہوا . . . " " دیکھ کیا رہے ہو ، مارو کمینوں کو . . . " کاشف نے وہاں موجود اپنے دوستوں سے کہا . . . . کاشف اور اس کے دوست ہم سے لڑنا شروع ہو گئے، لیکن ہم ان سے کئی گنا زیادہ تھے اس لئے چند منٹوں میں ہی ہم نے ان سب کو بری طرح مارا ، لاتوں سے ، ہاتھوں سے ان سب کو فٹ بال کی طرح دھویا اور کچھ دیر میں ہی کاشف اور اس کے دوست زمین پر لٹے کرہ رہے تھے . . . . . . " کیا حال ہے گدھے . . . " جہاں کاشف لیٹا ہوا تھا ، اس کے پاس جا کر میں نے کہا اور پوری طاقت كے ساتھ ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر دے مارا . . . . کیا پاور تھی اس کے گال پر خون جام گیا . . . . اور اس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا ، ایک طرف کا گال سفید تو دوسری طرف کا ایک دم لال . . . . . . " چال پُش اپ کر . . . . " آرام سے وہاں بیٹھ کر میں نے کاشف سے کہا . . . . . " میں کوشش کرتا ہوں . . . " الٹے لیٹے ہوئے اس نے کہا . . . . " آ جاؤ سب لوگ . . . . " آج بھی وہی ہونے والا تھا جو کچھ دن پہلے اسی گراؤنڈ پر ہوا تھا ، لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ آج گراؤنڈ میں میری جگہ مجھے لیٹانے والا لیٹا ہوا تھا اور اس کے اوپر کودنے کی باری میری تھی . . . . اور اگر ٹیکنیکل لینگویج میں کہاجائے تو اسے " تھوری آف ریلاتیوتی" یا " فریم آف ریفرنس" بھی کہہ سکتے ہے ، " سوری . . . . " کاشف نے آہستہ سی آواز میں کہا ، اس دن کی طرح آج اس کے منہ سے بھی خون نکال رہا تھا . . . اس دن کی طرح آج اس کا جسم بھی وہاں کی دھول مٹی سے بھرا ہوا تھا . . . . " روک کیوں گئے مارو سب کو . . . آخر تھوری آف ریلاتیوتی کا قانون بھی تو ثابت کرنا ہے . . . . " " تجھے چھوڑوں گا نہیں . . . " " سوری کاشف سر ، آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے . . . . مار تو آپ کو كھانی ہی پڑے گی " " میں چلتا ہوں ، نیکسٹ کلاس اٹینڈ کرنی ہے . . . " سردار بھائی نے اپنی گھڑی میں دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے کپڑوں کو ٹھیک کرنے لگے. . . " لیکن ابھی تو بریک ٹائم ختم ہونے میں بہت ٹائم ہے . . . . " " سر نے آج پہلے بلایا ہے ، میں چلتا ہوں، تم لوگ عیش کرو . . . . " اتنا کہہ کر سردار وہاں سے چلا گیا . . . . " یار ، روک کیوں گیا ، پُش اپ کر . . . " گانڈ پر ایک زور کی لات مار کر میں نے کاشف سے کہا ، اور میری دیکھا دیکھی سب کی گانڈوں پڑ لات پڑی . . . . . " بس ، اب اور نہیں . . . . " ہانپتے ہوئے کاشف نے کہا. . . . کاشف كے دوست تو کب کے ہار مان چکے تھے اور ان سب کا مار کھا كر برا حال بھی تھا ، ان سب کی حالت دیکھ کر دل میں آیا کہ سب کو چھوڑ دوں ، لیکن اچانک اظہر میرے پاس آیا اور میرے کان میں کچھ ایسا کہا ، جسے سن کر میں فورا کاشف كے پاس پہنچا . . . . " چل جلدی کر ابھی سو بار اور اوپر نیچے ھونا ہے . . . . " " نہیں، اب ہمت نہیں ہے . . . " پسینے سے بھیگا ہوا کاشف زمین پر لیٹ گیا اور لمبے لمبے سانسیں لینے لگا . . . . " ایک شرط میں چھوڑوں گا تجھے . . . " " ہاں بول . . . . " " ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں کال کرکے بلا . . . . " میرے پروگرام کو سمجھتے ہوے کاشف نے صاف منع کر دیا اور اسی وقت اظہر نے پاس پڑا ہوا ایک موٹا سا ڈنڈا اُٹھا کر کاشف كے سَر پر نشانہ لگایا اور زور سے ڈنڈے کو اس کے سَر کے بلکل پاس زمین پر دے مارا . . . . کاشف نے سوچا کہ اظہر اسے مارنے والا ہے ، اس لیے اس نے زور سے چلاتے ہوے کہا کہ وہ تیار ہے ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں بلانے كے لیے . . . . . . " پانی دو کاشف سر کو . . . . " کاشف جب ہانپتے ہوئے اُٹھ کر وہاں بیٹھا تب میں نے اپنے ہی کلاس والے ایک لڑکے سے کہا اور لڑکوں کے ہجوم میں سے کسی نے کہا کہ کاشف کو پانی نہیں اپنا پیشاب پلا دو. . . . خیر میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور کاشف کو بوتل والا پانی پلایا . . . . . " سمیرہ، کہاں ہو . . . . " کاشف نے سمیرہ کو کال کی اور میں نے اسے لوڈ سپیکر آن کرنے کا اشارہ کیا . . . " کب سے ڈھونڈ رہی ہو تجھے . . . . چوت میں کجلی ہو رہی ہے . . . کہاں ہو تم . . . . " " واہ . . . . " میں نےدھیرے سے کہا اور سب کو اشارہ کیا کی کوئی نہیں ہنسے . . . . . " میں ، گراؤنڈ میں ہوں . . . . " کاشف میری طرف دیکھتے ہوئے سمیرہ سے بولا " یہی آ جاؤ . . . " " اسی گراؤنڈ پر نہ جہاں کچھ دن پہلے ہم نے فرسٹ ایئر كے ایک لڑکے کو مارا تھا. . . . " موبائل کا لوڈ سیپکر اب بھی آن تھا اور میں سب کچھ سن رہا تھا ، " آجا کمینی ، تو آجا ایک بار " میں نے خود سے کہا. . . . " ہاں ، اسی گراؤنڈمیں ہوں . . . " " یہاں میری چوت جلی جا رہی ہے اور تم وہاں کیا کر رہے ہو . . . . تم نے تو کہا تھا کہ بریک ٹائم میں بائیک اسٹینڈ پر ملنا ، اور جب میں وہاں پہنچی تو نہ تو تم وہاں تھے اور نہ ہی تمہارا کوئی دوست . . . . " " تو اپنی چوت میں انگلی ڈال اور سیدھے گراؤنڈ پہنچ . . . ورنہ اگلی بار بہت بری طرح گانڈ ماروں گا . . . . سمجھی " " اوکے ، میں ابھی آئی . . . کنڈم ہے نہ اِس بار ، یاد ہے آخری بار بہت پروبلم ہوئی تھی . . . " " سب ہے ، تو آجا جلدی سے . . . " " فلیور کون سا ہے ، آئی لائک اسٹرابیری کنڈم . . . . " کاشف نے اپنا سَر پٹخ کر کال بند کر دی اور پھر میری طرف دیکھنے لگا ، جانے اسے ایسا کیوں لگنے لگا کہ میں اسے اور اس کی محبوبہ کو وہاں سے سہی سلامت جانے دوں گا . . . . ہم میں سے سب سینیرز وہاں سے چلے گئے اور گراؤنڈ میں اس وقت فرسٹ ایئر كے بیس یا پچیس لڑکے موجود تھے . . . . ہم سب مختلف جگہوں پر چھپ گئے تھے اور کاشف کو دوبارہ سے پُش اپ کرنے كے لیے بول دیا اور اسے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اِس دوران ایک بار بھی روکا تو ہم سب اسے پاگل کتا سمجھ کر اس پر پتھر برسانا شروع کر دیں گے . . . . "کاشف . . یہ کیا ؟ " اپنی اسکوٹی سے اتر کر سمیرہ ، کاشف کی طرف بھاگی اور اسی دوران میں باہر نکلا اور کاشف كے پاس کھڑے ہوگیا . . . . . " ہیلو . . . " " سر میں ارمان . . . . " " ارمان . . . . " اس نے میرا نام ایسے لیے جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہو اور پھر بولا " ہاں بولو ، ارمان . . . " " وہ سر میں نے آج پھر ان لڑکیوں کو چھیڑا ، جو کالج كے پیچھے والے گیٹ پر کھڑی رہتی ہے . . . . " " گڈ ، لیکن ابھی کال کیوں کی. . . . " " سر ، وہ سمیرہ بول كر گئی ہے کہ وہ مجھے دیکھ لے گی اور اس کا اشارہ صاف تھا کہ وہ مجھے کاشف سے . . . . " " دَر مت ، آج بریک ٹائم میں کال کرنا " میری بات کاٹ کر سردار نے کہا اور کال کاٹ دی . . . . موبائل جیب میں رکھا کر میں نے ٹائم دیکھا ، بریک ہونے میں چند منٹ ہی باقی تھے اور میری سانسیں تیز ہونے لگی تھی . . . . . ٹیچر نے دس منٹ پہلے ہی کلاس چھوڑ دی تھی لیکن یہ ہدایت دی تھی کہ جب تک بریک کا ٹائم نہیں ہو جاتا کوئی بھی کلاس سے باہر نہیں نکلے گا . . . . . کتابوں سے تو دشمنی ہوگئی تھی اس لئے پڑھائی كے بارے میں سوچنا میں نے مناسب نہیں سمجھا اور ایک بار پھر سردار كے بارے میں سوچنے لگا . . . . . سردار ایک طرف اِس سال یونین الیکشن میں صدر کی پوسٹ كے لیے کھڑا ہوا تھا وہی دوسری طرف بھی کاشف بھی صدر کی پوسٹ كے لیے اک مضبوط امیدوار كے روپ میں سردار كے خلاف تھا ، اس لئے دونوں میں نوک جھونک ایک نارمل سی بات تھی . . . . لیکن یہ نوک جھونک اِس سال سے نہیں بلکہ بہت پرانی تھی . . . . پچھلے سال کاشف نے کالج كے مین گیٹ كے پاس ہاسٹل کے ایک لڑکے کی شرٹ پھاڑ دی تھی اور اسے بہت مارا بھی تھا اور جب یہ بات سردار کو پتہ چلی تو وہ پورے ہاسٹل والوں کو لے کر دوسرے دن کاشف کو اس کی کلاس میں گھوس کر سب کے سامنے کاشف کو اوقات میں رہنے کی ہدایت دی تھی . . . . کاشف نہ تو اس وقت سردار کا کچھ کر پایا اور نہ ہی اس کے بَعْد سردار کا کچھ اُکھاڑ سکا . . . . . سردار كے پاس جہاں یکطرفہ ہاسٹل میں رہنے والے 200 لڑکوں کا سپورٹ تھا وہی کالج اسٹاف بھی اس کے ساتھ تھا ، کالج اسٹاف کا سردار كے ساتھ ہونے کی سب سے بڑی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ اپنے کلاس کا سب سے اچھا طالب علم بھی تھا ، اوپر سے فٹبال کا ایک شاندار پلیئر بھی تھا . . . . . " ملٹی ٹیلینٹڈ نوجوان . . . " سردار کو یہی بول سکتے ہے . . . . . بریک میں میں نے ایک بار پھر سردار کو کال کی اور اس نے مجھے بتایا کہ آگے کیا کرنا ہے . . . . . میں ، اظہر كے ساتھ کلاس سے باہر آیا اور بائیک اسٹینڈ کی طرف بڑھنے لگا . . . . یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہاں اِس وقت کاشف کی پارٹی جمع ھوگی . . . . لیکن ہمارے پلان كے مطابق مجھے بائیک اسٹینڈ پر جانا ہی تھا . . . . . " کالج میں جا کر پڑھائی کرنی بے ، چھانے بازی میں مت پڑ جانا اور نہ ہی اِس چکر میں پڑھنے کی کوشش کرنا . . . " میرے بھائی کے اِس پہلی نصیحت کی میں نے کل ہی دھجیاں اڑا دی تھی . . . . کیونکہ اگر ایک لڑکا کسی لڑکی سے ملنے اسپتال میں جاتا ہے وہ بھی بنا جان پہچان كے تو اسے پاکستان كے لوگ چھانے بازی ہی کہتے ہے . . . . . یا پھر اس کی شروعات " شراب، سگریٹ ان سب کو چھوا بھی تو سوچ لینا . . . . " بھائی کے اِس مشورے کا حال بھی پہلے والے مشورے کی طرح تھا . . . . " اور اگر لڑائی جھگڑے اور تنظیم بازی کی ایک بھی خبر گھر پر آئی تو اسی وقت تیرا ٹی۔سی نکلوا دوں گا سمجھا . . . " اور اب میں اپنے بھائی کی اِس آخری نصیحت کی بھی دھجیاں اڑانے جا رہا تھا . . . . . . . " کاشف وہ دیکھ . . . . " مجھے دیکھ کر بائیک اسٹینڈ پر بیٹھے ایک بھاری بھرکم جسم کے مالک نے میری طرف اشارہ کیا . . . . " ارمان . . . . " اِس نام نے وہاں بائیک اسٹینڈ پر بیٹھے سبھی لوگوں کی زندگی میں ہل چل مچا کر رکھ دی تھی . . . . ان سب کو یہ ہضم نہیں ہو رہا تھا کہ کل کا آیا ہوا لڑکا ان کی بچیوں كے ساتھ ایسا برتاؤ کر رہا ہے . . . . . کاشف اپنی بائیک پر ٹیک دیئے کسی شہنشاہ کی طرح بیٹھا ہوا تھا ، لیکن اس وقت اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ آج اس کی شہنشائی کی گدی زمین میں گرنے والی تھی . . . . . . " بہن كے لوڑوں جا کر پڑھائی کرو ، ورنہ اِس سال بھی فیل ہو جاؤگے . . . . . " میں نے بولا اور جوش جوش میں اظہر بھی بول پڑا " اور تو کاشف ، کمینے تجھ سے بڑا گدھا میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا ، گانڈو تجھے شرم نہیں آتی کیا جو سات سال سے فیل ہوتا آ رہا ہے " " یہ سب مجھ سے بول رہا ہے کیا . . . " کاشف ایک جھٹکے سے کھڑا ہو گیا ، میں جانتا تھا کہ اب اگر اس نے مجھے پکڑ لیا تو زندہ نہیں چھوڑے گا . . . لیکن میں کیا کرتا رسک تو لینا ہی تھا کیوںکہ یہ سب ہمارے پلان کا حصہ تھا . . . . . " کاشف ، تو ایک بات بتا ، تو ہر سال فیل ہوتا ہے تو تیرے گھر والے تجھے گالیاں نہیں دیتے کیا ، کمینے تیری شادی كے لیے جب لڑکی والے آئینگے تب تو کیا بولے گا کہ تو نے آٹھ سال انجینیئرنگ کی لیکن پھر بھی انجینیئرنگ مکمل نہیں کر پایا . . . . گانڈو انوائرومینٹ جیسے سبجیکٹ میں تو فیل ہوا ہے ، اس سبجیکٹ میں تو اگر میں دائیں ہاتھ کی جگہ بائیں ہاتھ سے بھی لکھتا تو پاس ہو جاتا . . . . " اظہر مسلسل کاشف کی شلوار اتارے جا رہا تھا اور اس کا اثر بھی کاشف پر ہونے لگا تھا ، وہ اپنے دوستوں كے ساتھ غصے میں میری طرف بھاگا ، اور وہاں میں اور اظہر بھی بھاگنے لگے . . . . . میں اور اظہر آگے اور کاشف اور اس کے دوست پیچھے تھے ، . . . " یار اظہر اگر ، سردار بھائی والا پلان مکمل نہیں ہوا تو . . . " " یار ڈرا مت ، تیرے چکر میں آ کر میں نے بھی کاشف کو اتنی گالیاں دے دی ہے کہ ، اب وہ مجھے بھی زندہ نہیں چھوڑے گا . . . . " " چل اور تیز بھاگ ، ورنہ یہ پکڑ لینگے . . . . " بھاگتے بھاگتے میں اور اظہر اسی گراؤنڈ پر پہنچے جہاں کچھ دنوں پہلے میری عزت کی دھجیاں اڑائی گئی تھی . . . . گراؤنڈ میں داخل ہو کر ہم دونوں روک گئے . . . . . سب سے پہلے کاشف آگے بڑھا لیکن تبھی سردار ہاسٹل کے سارے لڑکوں کو لیکر وہاں آ پہنچا جنہیں دیکھ کر کاشف اور اس کے دوستوں کی حالت خراب ہو گئی . . . . میری طرف بڑھتے ہوئے کاشف كے قدم وہی روک گئے اور وہ کبھی میری طرف دیکھتا تو کبھی سردار کی طرف تو کبھی ہاسٹل كے لڑکوں کی طرف . . . . . " تجھے بولا تھا نہ، اپنی اوقات میں رہنا . . . . " سردار نے آتے ہی اک لات کاشف کو ماری . . . . " سردار ، یہ تیرا معملہ نہیں ہے . . . " " کیا بولا تھا میں نے . . . . ہاسٹل کے لڑکوں کو ہاتھ تک مت لگانا ، لیکن تو نہیں مانا. . . . " " اوئے سردار. . . . آج اتنے سارے لڑکے تیرے ساتھ ہے اس لیے اچھل رہا ہے . . . . بھول مت میں تیرا بھی سینیر ہوں . . . . " " چپ کر بولتا بہت ہے . . . . . " نہ جانے اظہر کو کیا ہوا اور اس نے ایک تھپڑ کاشف كے گال پر مار دیا " اس دن والا بائیک اسٹینڈ کا حساب کلئیر ہوا . . . " " دیکھ کیا رہے ہو ، مارو کمینوں کو . . . " کاشف نے وہاں موجود اپنے دوستوں سے کہا . . . . کاشف اور اس کے دوست ہم سے لڑنا شروع ہو گئے، لیکن ہم ان سے کئی گنا زیادہ تھے اس لئے چند منٹوں میں ہی ہم نے ان سب کو بری طرح مارا ، لاتوں سے ، ہاتھوں سے ان سب کو فٹ بال کی طرح دھویا اور کچھ دیر میں ہی کاشف اور اس کے دوست زمین پر لٹے کرہ رہے تھے . . . . . . " کیا حال ہے گدھے . . . " جہاں کاشف لیٹا ہوا تھا ، اس کے پاس جا کر میں نے کہا اور پوری طاقت كے ساتھ ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر دے مارا . . . . کیا پاور تھی اس کے گال پر خون جام گیا . . . . اور اس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا ، ایک طرف کا گال سفید تو دوسری طرف کا ایک دم لال . . . . . . " چال پُش اپ کر . . . . " آرام سے وہاں بیٹھ کر میں نے کاشف سے کہا . . . . . " میں کوشش کرتا ہوں . . . " الٹے لیٹے ہوئے اس نے کہا . . . . " آ جاؤ سب لوگ . . . . " آج بھی وہی ہونے والا تھا جو کچھ دن پہلے اسی گراؤنڈ پر ہوا تھا ، لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ آج گراؤنڈ میں میری جگہ مجھے لیٹانے والا لیٹا ہوا تھا اور اس کے اوپر کودنے کی باری میری تھی . . . . اور اگر ٹیکنیکل لینگویج میں کہاجائے تو اسے " تھوری آف ریلاتیوتی" یا " فریم آف ریفرنس" بھی کہہ سکتے ہے ، " سوری . . . . " کاشف نے آہستہ سی آواز میں کہا ، اس دن کی طرح آج اس کے منہ سے بھی خون نکال رہا تھا . . . اس دن کی طرح آج اس کا جسم بھی وہاں کی دھول مٹی سے بھرا ہوا تھا . . . . " روک کیوں گئے مارو سب کو . . . آخر تھوری آف ریلاتیوتی کا قانون بھی تو ثابت کرنا ہے . . . . " " تجھے چھوڑوں گا نہیں . . . " " سوری کاشف سر ، آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے . . . . مار تو آپ کو كھانی ہی پڑے گی " " میں چلتا ہوں ، نیکسٹ کلاس اٹینڈ کرنی ہے . . . " سردار بھائی نے اپنی گھڑی میں دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے کپڑوں کو ٹھیک کرنے لگے. . . " لیکن ابھی تو بریک ٹائم ختم ہونے میں بہت ٹائم ہے . . . . " " سر نے آج پہلے بلایا ہے ، میں چلتا ہوں، تم لوگ عیش کرو . . . . " اتنا کہہ کر سردار وہاں سے چلا گیا . . . . " یار ، روک کیوں گیا ، پُش اپ کر . . . " گانڈ پر ایک زور کی لات مار کر میں نے کاشف سے کہا ، اور میری دیکھا دیکھی سب کی گانڈوں پڑ لات پڑی . . . . . " بس ، اب اور نہیں . . . . " ہانپتے ہوئے کاشف نے کہا. . . . کاشف كے دوست تو کب کے ہار مان چکے تھے اور ان سب کا مار کھا كر برا حال بھی تھا ، ان سب کی حالت دیکھ کر دل میں آیا کہ سب کو چھوڑ دوں ، لیکن اچانک اظہر میرے پاس آیا اور میرے کان میں کچھ ایسا کہا ، جسے سن کر میں فورا کاشف كے پاس پہنچا . . . . " چل جلدی کر ابھی سو بار اور اوپر نیچے ھونا ہے . . . . " " نہیں، اب ہمت نہیں ہے . . . " پسینے سے بھیگا ہوا کاشف زمین پر لیٹ گیا اور لمبے لمبے سانسیں لینے لگا . . . . " ایک شرط میں چھوڑوں گا تجھے . . . " " ہاں بول . . . . " " ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں کال کرکے بلا . . . . " میرے پروگرام کو سمجھتے ہوے کاشف نے صاف منع کر دیا اور اسی وقت اظہر نے پاس پڑا ہوا ایک موٹا سا ڈنڈا اُٹھا کر کاشف كے سَر پر نشانہ لگایا اور زور سے ڈنڈے کو اس کے سَر کے بلکل پاس زمین پر دے مارا . . . . کاشف نے سوچا کہ اظہر اسے مارنے والا ہے ، اس لیے اس نے زور سے چلاتے ہوے کہا کہ وہ تیار ہے ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں بلانے كے لیے . . . . . . " پانی دو کاشف سر کو . . . . " کاشف جب ہانپتے ہوئے اُٹھ کر وہاں بیٹھا تب میں نے اپنے ہی کلاس والے ایک لڑکے سے کہا اور لڑکوں کے ہجوم میں سے کسی نے کہا کہ کاشف کو پانی نہیں اپنا پیشاب پلا دو. . . . خیر میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور کاشف کو بوتل والا پانی پلایا . . . . . " سمیرہ، کہاں ہو . . . . " کاشف نے سمیرہ کو کال کی اور میں نے اسے لوڈ سپیکر آن کرنے کا اشارہ کیا . . . " کب سے ڈھونڈ رہی ہو تجھے . . . . چوت میں کجلی ہو رہی ہے . . . کہاں ہو تم . . . . " " واہ . . . . " میں نےدھیرے سے کہا اور سب کو اشارہ کیا کی کوئی نہیں ہنسے . . . . . " میں ، گراؤنڈ میں ہوں . . . . " کاشف میری طرف دیکھتے ہوئے سمیرہ سے بولا " یہی آ جاؤ . . . " " اسی گراؤنڈ پر نہ جہاں کچھ دن پہلے ہم نے فرسٹ ایئر كے ایک لڑکے کو مارا تھا. . . . " موبائل کا لوڈ سیپکر اب بھی آن تھا اور میں سب کچھ سن رہا تھا ، " آجا کمینی ، تو آجا ایک بار " میں نے خود سے کہا. . . . " ہاں ، اسی گراؤنڈمیں ہوں . . . " " یہاں میری چوت جلی جا رہی ہے اور تم وہاں کیا کر رہے ہو . . . . تم نے تو کہا تھا کہ بریک ٹائم میں بائیک اسٹینڈ پر ملنا ، اور جب میں وہاں پہنچی تو نہ تو تم وہاں تھے اور نہ ہی تمہارا کوئی دوست . . . . " " تو اپنی چوت میں انگلی ڈال اور سیدھے گراؤنڈ پہنچ . . . ورنہ اگلی بار بہت بری طرح گانڈ ماروں گا . . . . سمجھی " " اوکے ، میں ابھی آئی . . . کنڈم ہے نہ اِس بار ، یاد ہے آخری بار بہت پروبلم ہوئی تھی . . . " " سب ہے ، تو آجا جلدی سے . . . " " فلیور کون سا ہے ، آئی لائک اسٹرابیری کنڈم . . . . " کاشف نے اپنا سَر پٹخ کر کال بند کر دی اور پھر میری طرف دیکھنے لگا ، جانے اسے ایسا کیوں لگنے لگا کہ میں اسے اور اس کی محبوبہ کو وہاں سے سہی سلامت جانے دوں گا . . . . ہم میں سے سب سینیرز وہاں سے چلے گئے اور گراؤنڈ میں اس وقت فرسٹ ایئر كے بیس یا پچیس لڑکے موجود تھے . . . . ہم سب مختلف جگہوں پر چھپ گئے تھے اور کاشف کو دوبارہ سے پُش اپ کرنے كے لیے بول دیا اور اسے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اِس دوران ایک بار بھی روکا تو ہم سب اسے پاگل کتا سمجھ کر اس پر پتھر برسانا شروع کر دیں گے . . . . "کاشف . . یہ کیا ؟ " اپنی اسکوٹی سے اتر کر سمیرہ ، کاشف کی طرف بھاگی اور اسی دوران میں باہر نکلا اور کاشف كے پاس کھڑے ہوگیا . . . . . " سن بھڑوے ، اگر تو ایک سیکنڈ كے لیے بھی روکا تو سب كے سب مل کر مرینگے تجھے . . . نہ ہی روکنا اور نہ ہی کچھ بولنا . . . . " میں نے دھیرے سے کہا . . . سمیرہ جب کاشف اور میرے بلکل قریب آ گئی تو میں نے اپنا دائیاں پیر اْٹھایا اور پُش اپ کرتے ہوے کاشف كے اوپر رکھ دیا ، . . . ، جس سے کاشف روک گیا " آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے ، اب اوپر اٹھے ہو تو نیچے تو جانا پڑیگا ڈیو ٹو گریوٹی . . . " کاشف كی پیٹھ پر پیر سے دباؤ بڑھاتے ہوے میں نے کہا . . . . . . سمیرہ سمجھ گئی کی کچھ گڑبڑ ہے ، ورنہ . . . . . . اس نے آس پاس دیکھا تو اسے اس کے باقی ساتھی بھی پڑے دکھائی دیئے . . . . " یہ سب تم نے کیا کیا ؟ " " ہاں ،" " تمہاری اتنی ہمت کہ تم اپنے سیئنر پر ہاتھ اٹھاؤ ، " سمیرہ نے مجھ سے کہا اور پھر کاشف کی طرف دیکھ کر بولی " چلو کاشف ، اٹھو . . . " " یہ تو آج اٹھ چکا ہے. . . . . اب تیری باری ہے . . . " " ممے دبا دے ارمان ، چود دے اسے ، کیا پٹاخہ ہے ، چھوڑنا مت . . . . " یہ میں نے اندر ہی اندر سوچا اور سمیرہ سے کہا " ٹینس بال کے ریٹ کیا ہے . . . " " ہیں . . . . . " " زیادہ چوکنے کی ضرورت نہیں ہے ، جب زمین پر پڑے اِس گدھے سے تو چوت اور لنڈ کی بات کر سکتی ہے تو پھر ٹینس بال كے بارے میں بات کرنے میں کیا حرج ہے . . . . . . چل بتا تیرے ٹینس بال ٹائیٹ ہے یا ڈھیلے ڈھیلے . . . . " " ٹائیٹ . . . . " " سائز کیا ہے . . . " " کیا . . . . " ناک چڑا کر سمیرہ بولی ، " میں نہیں ڈرا ، اس لئے اپنا یہ بناوٹی غصہ اتار کر پھیک دے . . . . " یہ کہتے ہوئے میں نے کاشف کی طرف نظر ڈالی . . . . کمینہ زمین پر پڑا ہانپ رہا تھا ، اِس وقت اس کی سانسیں ہی اتنی تیز چل رہی تھی کہ وہ ہماری آواز نہیں سن سکتا تھا اور ہمیں دیکھنے كے لیے وہ اپنا سَر گھمائے ، اتنی اس میں طاقت نہیں بچی تھی . . . . . . . " سائز نہیں بتایا " میں نے اپنا سوال ڈھورایا . . . " تم اس طرح ان الفاظوں میں مجھ سے بات کیوں کر رہے ہو. . . . " وہ پریشان ہو کر بولی . . . " اس دن اسی گراؤنڈ میں سینڈل پہن کر جب میرے اوپر کود رہی تھی ، تب یہ سمجھ میں نہیں آیا تھا کیا تجھے ، روز کالج كے پیچھے والے گیٹ پر کھڑے ہوکر دوسروں کو گالی دینا ، کینٹین میں بیٹھے ایک بھوکے لڑکے كے چہرے پر سموسہ مالتے وقت تیرے دل میں یہ خیال کیوں نہیں آیا . . . . " " سوری . . . . " اپنی آنکھوں میں معافی کی طلب لیے سمیرہ بولی ، وہاں آس پاس کھڑے میرے سب دوستو کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا . . . جب سمیرہ نے سوری بولا تو اظہر اپنے جوشیلے اندازِ میں میرے پاس آیا . . . . " سوری سے کام نہیں چلے گا ، میں تو گانڈ ماروں گا . . . . " " ہمممممم. . . . . . " " اظہر تو ان سب کو سنبھال ، میں سمیرہ کو کونے میں لیکر جاتا ہوں . . . . " اظہر مجھ پر بہت چلایا ، مجھے بہت روکا اور کہا کہ تو سحرش میڈم كے مزے لیتا ہے ، سمیرہ کو میرے ساتھ بھیج دے ، . . . لیکن میں نہیں مانا اور سمیرہ کا ہاتھ زبردستی پکڑ کر ایک طرف لے گیا . . . . . ہمارا کالج دور سے دور لمبے چوڑے علاقے میں پھیلا ہوا تھا ، جہاں بےحد زیادہ ہریالی تھی ، جھاڑیاں ، درخت لمبی لمبی گھاس سب کچھ تھا . . . . " تمھیں اس وقت اجتماعی زیادتی ٹھیک لگے گی یا پھر . . . " چلتے چلتے جب ہم دونوں گراؤنڈ سے بہت دور آگئے تو میں نے سمیرہ سے پوچھا اور اس کا ہاتھ چھوڑ دیا . . . . . " ارمان ، میں کوئی رنڈی نہیں ہوں ، جو ہر کسی كے ساتھ وہ سب کچھ کروں . . . ." " مطلب کے زیادتی " " میں کیس کر دوں گی . . . . " " پھر تو زیادتی کرنا پڑے گی . . . . . " ابھی میں سمیرہ کو لیکر گھنی جھاڑیوں میں گھس رہا تھا ، جیسے جیسے ہم دونوں آگے بڑھ رہے تھے سمیرہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو رہا تھا ، اور ایک جگہ پر آکر وہ روک گئی . . . . " میں شور مچا دوں گی اور کالج میں شکایت بھی کروں گی کہ تم نے میرے ساتھ مس ریپ کیا . . . . " سمیرہ کی بات پر میں مسکرایا اور کہا " میرے خیال سے میرے پیٹھ پر تمھارے سینڈل كے نشان ابھی تک موجود ہے اور اگر میں نے اس کی شکایت کی تو تمھارے ساتھ ساتھ تمھارے ان سارے دوستوں کی بھی زندگی برباد ہو جائے گی ، جو اس دن گراؤنڈ میں موجود تھے ، . . . " سمیرہ غصے سے میری طرف دیکھنے لگی اور سمیرہ کو دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا کہ وہ مجھے اندر ہی اندر گالیاں دے رہی ہے . . . . . " کھڑی مت رہو ، جلدی چلو . . . . کیونکہ دو تین گھنٹوں سے پہلے میں نہیں فارغ ہوتا ، اور اگر دو رائونڈ مارنے کا سوچا تو پھر چھے سات گھنٹے پکے . . . . . " یہ سن کر تو سمیرہ کی حالت اور خراب ہو گئی ، وہ زمین آسمان ایک کر کے سوچنے لگی کہ مجھ سے کیسے بچا جائے ، وہ وہاں سے بھاگ بھی سکتی تھی ، لیکن اس کے قدم میری پٹائی والی دھمکی كے وجہ سے بندھے ہوئے تھے . . . . . وہ ڈری ہوئی تھی اور اس کا ڈر بڑھانے كے لیے میں نے ایک اور دھماکہ کیا . . . . . " جلدی سوچو ، کیوںکہ جب میں تمھارے ساتھ کبڈی کھیلوں گا تو اس کی ویڈیو بھی ریکارڈ کروں گا ، اور اگر اندھیرہ زیادہ ہوگیا تو ویڈیو کوالٹی اچھی نہیں آئیگی . . . . . " " پلیز ویڈیو ریکارڈ مت کرنا . . . . " اس کے قدم آخر کار میری طرف بڑھے ، وہ میرے پاس آکر بولی " میں بدنام ہو جائوں گی . . . . " " میں تو ہاسٹل میں ہر ایک کو وہ ویڈیو سینڈ کروں گا ، ساتھ ہی ساتھ فیس بک میں فیک آئی ڈی سے اپ لوڈ کرکے، سارے ٹیچرز کو ٹیگ بھی کروں گا . . . . " " پلیز ایسا مت کرنا . . . . " وہ روتے ہوئے بولی " اگر تم نے ایسا کیا تو میں خودکشی کر لوں گی . . . . " " خودکشی . . . . . " اس کی طرف دیکھ کر میں نے کہا " اور تم جیسوں کی وجہ سے جو اسٹوڈنٹ خودکشی کرتے ہے ، ان کے بارے میں کبھی سوچا ہے . . . آج پتہ چلے گا کہ گھٹ گھٹ کر اپنا سَر جھکا کر جینا کیسے کہتے ہے . . . .
-
ارمان ایک طویل داستان
اور اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے میں نے سمیرہ سے کہا . . . . " سائز کیا ہے تیرے مموں کا . . . . " " کیا . . . " اس نے مجھے تھپڑ مارنے كے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ، تو میں نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا . . . " سن، اپنا ہاتھ سنبھال . . . " اس کے ہاتھ کو جھٹکا دیتے ہوئے میں نے کہا . . . . میری اِس حرکت سے وہاں سگریٹ پیتی ہوئی ایک لڑکی كے ہاتھ سے سگریٹ چھوٹ کر زمین پر گر گیا ، جس کو اُٹھا کر میں نے ایک چھوٹا سا کش لگایا جیسے کہ اظہر نے بتایا تھا اور دھویں کو اس کے چہرے پر چھوڑتے ہوئے بولا . . . . . " ایک سگریٹ نہیں سنبھل پا رہی ہے تو ، پھر میرا لنڈ کیسے پکڑے گی . . . . تجھے نہیں چودوں گا . . . تو ریجکٹ . . . . " میں جب ان پانچوں سے باتیں کر رہا تھا تب شروع شروع میں اظہر دور کھڑا تماشہ دیکھ رہا تھا ، لیکن بَعْد میں وہ بھی وہی آ گیا اور سمیرہ کو دیکھ کر بولا . . . . " ایک بات بتا تو ، تجھے پیار کرنے كے لیے وہ گدھا ہی ملا . . . " اور ہم دونوں ہنس پڑے ، اظہر نے بولنا جاری رکھا " تیرے اُس بوائے فریںڈ کو بیسٹ گدھا آف یونیورس کا ایوارڈ ملنا چاہئے . . . . کمینہ سات سال سے انجینرنگ کر رہا ہے . . . . " ہم دونوں ایک بار پھر زور سے ہنسے ، آج ہنسنے کی باری ہماری تھی ، کل جیسے میں چپ چاپ کھڑا سب برداشت کر رہا تھا آج وہی حالت ان پانچوں کی تھی . . . . . " سنو او لڑکیوں . . . . دوباہ ادھر دکھی تو یہی سب کا ریپ کر دوں گا اور چوت کا بھوسڑا بنا دوں گا . . . . چلو بھاگوں یہاں سے . . . . " " روکو تم دونوں ، آنے دو کاشف اور اس کے دوستو کو . . . " ایک لڑکی غصے میں بولی . . . . . ہم نے ان چوتیے سینیرز کی بچیوں کو چھیڑا تھا ، جس سے معملات خراب تو ھونے ہی تھے . . . لڑائی تو ہونی ہی تھی . . . تو پھر میرے خاص دوست اظہر نے سوچا کہ جب مقابلہ ھونا ہی ہے تو کیوں نہ فل مزہ لے لیا جائے اور اس کے بَعْد میں نے زمین سے مٹی اٹھائی اور سب سے پہلے سمیرہ كے چہرے پر لگائی ، وہ غصے سے پوری لال ہوکر مجھے گھورتی رہی ، . . . . " یہ اُس دن كے سموسے کا بدلہ اور کل والے پنگے كے لیے . . . . . " میں بولتے بولتے روک گیا ، کیونکہ ہمیں بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے لڑکیوں کی عزت کرو ان کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آؤ . . . لیکن جب لڑکیاں ہی تمہاری مارنے پر لگی ہو تب کیا کرنا چاہئے یہ کسی نے آج تک نہیں بتایا تھا . . . . " چھوڑ دے یار ارمان ورنہ یہی رَو پڑے گی یہ . . . " " جاؤ ، تم پانچوں کو میں نے معاف کیا ، اور جس کو بلانا ہے بلا لینا . . . . . " وہ پانچوں اپنا پیر پٹخ کر وہاں سے رفہ دفعہ ہو گئی اور ان كے جانے كے بَعْد سب سے پہلے میں نے جو کام کیا وہ یہ تھا کہ خود کو تھوڑا جھکا لیا ، بہت دیر سے دَرْد سہتے ہوئے اسٹریٹ کھڑا تھا اور پھر کالج كے اندر جانے كے لیے جیسے ہی گھوما تو دیکھا کہ وہاں آس پاس بہت سے اسٹوڈنٹ کھڑے ہو کر ہم دونوں کو اپنی آنکھیں پھارے دیکھ رہے ہے ، وہ سب ہاسٹل میں رہنے والے فرسٹ ایئر كے اسٹوڈنٹ تھے اور وہاں اُن میں کچھ لڑکیاں بھی موجود تھی . . . . " یار یہ لوگ تو مجھے ہیرو سمجھ رہے ہوں گے. . . . " سگریٹ کو دور پھیک کر میں نے کہا . . . . " چل جا یار ، یہ مجھے ہیرو سمجھ رہے ہوںگے . . . کیوںکہ جو کیا میں نے کیا ، تونے کیا کیا . . . . " " ویسے ایک بات بتا . . . " سہارے كے لیے میں نے اظہر كے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کالج كے اندر داخل ہوا " کاشف اور اس کے غنڈوں سے کیسے نپٹنا ہے . . . . " " ایک کتا خرید لیتے ہے اور جب وہ سب ہماری طرف آئیں گیں تو ہم کتے کو چھوڑ دیں گے . . . . کیا بولتا ہے . . . " " کچھ زیادہ نہیں ہوگیا . . . " بولتے بولتے میں روکا ، اور کلاس كے اندر چلنے كے لیے اشارہ کیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی میں سی ایس کلاس كے اندر داخل ہوگیا ، آج بھی اظہر کا دوست ہم سے پہلے وہاں موجود تھا اور مجھے دیکھ کر اس نے ایک جھٹکے میں کہہ دیا کہ " وہ نہیں آئی ہے . . " " چوتیا . . . " میں نے اسے گلیاں بکی ، . . . اظہر کا دوست تھا اس لئے صرف گلیاں دی میرا دوست ہوتا تو جان سے مار دیتا ، کمینہ آہستہ آواز میں بھی تو بول سکتا تھا کہ سارہ آج بھی نہیں آئی ، اس طرح ایک جھٹکے میں بول کر دل توڑ دیا کمینے نے اپنی کلاس میں آ کر میں چپ چاپ بیٹھ کر سامنے کلین بورڈ کی طرف دیکھنے لگا ، اُس وقت جوش میں آ کر میں نے ان پانچ لڑکیوں کو ٹائٹ تو کر دیا تھا، لیکن اب مجھے دَر لگنے لگا تھا . . . . لیکن ان سب کی کل کی حرکت سے مجھ میں اتنی ہمت تو آ ہی گئی تھی کی اب میں چپ چاپ ہو کر مار نہیں کھا سکتا . . . . " ایک مکا تو ضرور کسی کو ماروںگا اور وہ بھی پوری طاقت لگا کر . . . . " " کیا ہوا ، کس کو مارے گا . . . " " کچھ نہیں ، سامنے دیکھ سر آ گئے ہے . . . " سامنے سر کو دیکھ کر اظہر جمائی لیتے ہوئے بولا " یہ پھر دماغ کی لسی بناۓ گا. . . " وہ پیریڈ HMI کا تھا اور جو سر اُس سبجیکٹ کو پڑھاتے تھے ان کا نام مجھے آج تک نہیں پتہ چلا ، ہم لوگ اسے کسی بھی نام سے بلا لیتے تھے جیسے کہ پکاؤ ، کجھور ، ڈبو ، وغیرہ وغیرہ . . . . وہ جب بھی کلاس لینے آتا تو ایک بات جو ہمیشہ میرے ساتھ ہوتی اور وہ یہ تھی کہ میں ہمیشہ گہری نیند میں چلا جاتا بھلے ہی میں بارہ گھنٹے ہی سو کر کیوں نہ آیا ہوں . . . . . . اُس دن بھی میں نیند کی آغوش میں چکر لگا رہا تھا کہ اظہر نے مجھے جگایا . . . . " کیا ہوا . . . " اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے میں نے پوچھا . . . " وہ سوال کر رہا ہے ، جاگ جا . . . " " میری باری آئیگی تو جگہ دینا . . . " " یار اٹھ . . . " میرے پیر پر زور سے لات مارتے ہوئے اظہر نے کہا . . . . . " تھوڑی بہت تو عزت دے ٹیچرز کو . . . " " ٹھری مال پروسیس سمجھ میں آیا کسی کو . . . " اُس نے ہم سب سے پوچھا اور آدھی کلاس نے نہ میں جواب دیا . . . . " کوئی بات نہیں ، آگے دیکھو " " سر . . . . " ایک لڑکا کھڑا ہوا " جب یہی سمجھ نہیں آیا تو آگے کیا دیکھے . . ." " گھر میں بُک کھول کر پڑھنا ، آسان ہے سب سمجھ میں آ جائیگا . . . . " اُس لڑکے کو بیٹھا کر اُس نے اپنا لیکچر جاری رکھا اور میں پھر سونے لگا. . . . جس لڑکے نے ابھی کہا تھا کہ " جب یہی سمجھ نہیں آیا تو آگے کیا سمجھ میں آئے گا . . . " اس کا نام میں نے تو کبھی کسی سے نہیں پوچھا لیکن اکثر بات چیت کرتے وقت کچھ لوگ اس کو شاکر کے نام سے پکارتے تھے . . . . . . " آج کون سی لیب ہے . . . " میں نے اظہر سے پوچھا . . . . کالج شروع ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تھے لیکن اتنے ہی دنوں میں مجھ میں بہت زیادہ تبدیلی آ گئی تھی . . . .
-
ارمان ایک طویل داستان
اس کے بَعْد صرف یہ ہوا کہ میری غصے میں بند مٹھیاں ڈھیلی پڑ گئی ، اور وہ سینیر جس نے میری گانڈ پر اپنے جوتے كے نشان چھاپے تھے وہ مجھے گالیاں دیتے ہوئے وہاں سے چلا گیا . . . . " میں نے اسے مارا کیوں نہیں ، کیا میں ڈرپوک . . . . نہیں . . . " آج زندگی كے اٹھارہ سال گزر جانے كے بَعْد ایک اور سچ سے سامنا کرنا پڑ رہا تھا . . . . آج تک اسکول میں صرف چھوٹی موٹی لڑائیاں ہوئی تھی ، جس میں میں ہر بار پورے جوش و خروش سے حصہ لیتا تھا . . . . اور اپنی اے گریڈ اسٹڈی كے لیے ہر بار بچ بھی جاتا تھا . . . . اسکول میں اکثر سب یہی بولتے کہ میں بہت بہادر ہوں ، لیکن آج کنویں کا مینڈک سمندر میں آیا تھا ، جس کا مقابلہ بڑے بڑے کچھوے اور بڑی بڑی مچھلیوں سے تھا . . . . . . " چل اپنے روم میں چلتے ہے . . . . " اظہر نے میرا بیگ اُٹھا کر مجھے پکڑتے ہوئے کہا . . . . میں چُپ رہا ، چہرہ غصے سے اب بھی لال تھا . . . . . " چل ، بھول جا سب . . . " مجھے زبردستی اظہر نے کھینچا ، جس کی وجہ سے میں اس پر جھلا اٹھا . . . . " ابے یار چھوڑ " " بھار میں جا . . . " غصہ میں وہ بھی تھا ، اس لئے وہ بھی مجھ پر چلایا اور میرا بیگ میرے ہاتھ میں پکڑا کر وہاں سے ہاسٹل کی طرف چلا گیا . . . . . . " اس کمینے نے لاتیں مجھے ماری ہے اور غصہ یہ ہو رہا ہے . . . . " اظہر کو ہاسٹل کی طرف جاتے ہوئے میں دیکھ رہا تھا . . . . کچھ دیر پہلے جو ہوا ، وہ سب دیکھ کر شاید اظہر کو بھی غصہ آیا تھا . . . " سوری . . . . " جب اظہر نے دروازہ کھولا تو میں نے اسے کہا . . . . جس کے جواب میں وہ ٹھنڈا ہوتے ہوئے بولا " سوری سے کام نہیں چلے گا ، میں تو گانڈ ماروں گا . . . . " " چل یار ، دور ہٹ . . . میں تو تجھے پہلی بار دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا کہ تو لونڈے باز ہے . . . " اندر آ کر میں نے اپنا بیگ ایک طرف رکھا اور بستر پر لیٹ گیا ، ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ ایک چھوٹے قد کا لڑکا اظہر كے پاس آیا ، اس کی آنکھوں میں لگا چشمہ اسے ایک ہونہار طالب علم کا سرٹیفیکٹ دے رہا تھا . . . . وہ سیدھے میرے پاس آیا اور مجھ سے ہاتھ ملایا وہ بھی بنا کچھ کہے . . . . . اور پھر سیدھے جا کر اظہر كے پاس بیٹھ گیا . . . " پاگل لگتا ہے . . . " اسے دیکھ کر میں نے کہا . . . . اظہر كے پاس جا کر وہ بات کرنے لگا ، اور اظہر سے بات کرنے كے دوران وہ اپنا چشمہ اترتا اور میری طرف کچھ دیر تک دیکھ کر پھر اپنا چشمہ اپنی آنکھوں میں لگا کر اظہر سے بات کرنے لگتا . . . . . . . " سن یار ارمان . . . یہ منظور ہے میرے ہی شہر کا ہے . . . . " اس چھوٹی سی ہائیٹ والے لڑکے کا نام منظور تھا ، جس کے نام کی ایسی تیسی اظہر نے پہلے ہی کر دی تھی . . . . " منو " اظہر اسے اسی نام سے بلاتا تھا . . . . " اس لڑکی کا نام کیا ہے ، جو سی ایس میں ہے . . . " منو نے ایک بار پھر اپنا چشمہ اتار کر میری طرف دیکھا اور پھر چشمے پر پھوک مار کر اظہر کی چادر سے چشمے کو صاف کرنے لگا . . . . " سارہ . . . . " اظہر بولا . . . سارہ کا نام سنتے ہی ساری تھکن دور ہوگئی ، میں اُٹھ کر بستر پر بیٹھ گیا اور اظہر کی طرف دیکھ کر بولا " کیا ہوا . . . " " منو کو سارہ سے محبّت ہوگئی ہے . . . " " اسے اور سارہ سے محبّت" منظور کی طرف دیکھ کر میں نے بولا . . . ( کمینے، اپنی شکل دیکھی ہے ، کہاں وہ اور کہاں تو ) " اس کے پاس اس کا موبائل نمبر بھی ہے . . . " یہ سن کر مجھے جھٹکا لگا ، ویسے تو سارہ کا نمبر پتہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں تھی ، اس کی کلاس میں جو بھی اس کے زیادہ قریب ہو اس سے سارہ کا نمبر لیا جا سکتا ہے . . . . لیکن مجھے جھٹکا اس لئے لگا کیوںکہ منو سارہ كے معاملے میں مجھ سے زیادہ سنجیدہ تھا . . . . میں اسے چھپکے سے گھورنے کا سوا اور کچھ نہیں کرسکتا تھا، وہی منو نے اس کا نمبر اپنے موبائل میں محفوظ کرکے رکھا تھا . . . . . " اسے کال کرتا ہوں . . . " اظہر سے اس نے کہا اور اپنا موبائل نکال لیا . . . . میں نے اپنی اٹھارہ سالا زندگی میں بہت سے محبّت کرنے والے جوڑے دیکھے تھے ، لیکن اُن میں سے صرف ایک یا دو جوڑے ہی ایک دوسرے كے لیے پرفیکٹ تھے . . . . ورنہ ایک سے بڑھ کر ایک لنگور کو انگور لیکر گھومتے دیکھا ہے ، جسے دیکھ کر اکثر میرا کلیجہ جل اٹھتا ہے اور صرف اک جملہ منہ سے نکلتا ہے " ہم مر گئے ہے کیا ، جو اِس گانڈو كے ساتھ گھوم رہی ہو . . . . " اور اسی دَر سے کہی سارہ كے ساتھ یہ منو سیٹ نہ ہو جائے ، میں اپنے بستر سے اٹھا اور منظور كے ہاتھ سے اس کا موبائل چھین لیا . . . . " ابے یار اس نے تیرے موبائل نمبر کی رپورٹ پی ٹی اے والوں سے کر دی تو . . . . " اسے ڈراتے ہوئے میں نے بولا . . . . " کوئی بات نہیں سم میرے نام پر نہیں ہے . . ." " آج کل لوکیشن ٹریس ہو جاتی ہے ، اور ویسے بھی وہ کسی نہ کسی سے سیٹ ھوگی تو کیوں اپنا بیلنس فالتو میں برباد کر رہا ہے . . . . " " بَعْد کی بَعْد میں دیکھیں گے . . . " میرے ہاتھ سے موبائل لیکر اظہر نے موبائل منو کو تھما دیا اور بولا " تو کال کر . . . " " یہ کمینہ اظہر ، میرے ساتھ ہے یا اس کے ساتھ " " تو نے کچھ بولا کیا . . . " اظہر نے میری طرف دیکھ کر مجھ سے پوچھا . . . . " نہیں، میں نے کچھ نہیں بولا . . . . میں کیوں بولوں گا کچھ . . . سارہ میری بیوی ہے کیا ، جو مجھے اس کی فکر ھوگی . . . . " میرا اتنا کہنا تھا کہ دروازے پر کسی نے دستک دی . . . " یار دروازہ کھول . . . " اظہر نے مجھ سے بولا ، . . . میں نے پورا دروازہ کھولا بھی نہیں تھا کہ اچانک ایک زوردار تھپڑ میرے گال اور کان پر پڑا ، میں ششدر رہ گیا اس وقت اور کان پر ہاتھ رکھا کر وہی کھڑا رہا . . . اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ روم كے اندر کون آیا تھا ، جس نے ابھی ابھی میرا گال لال کیا تھا یہ وہی شخص تھا جس سے میری ملاقات ہاسٹل كے باہر ہوئی تھی . . . . . " چل ہٹ سائڈ پر ہو . . . " میں اِس وقت دروازے اور روم كے درمیان میں کھڑا تھا ، اس لئے اس نے مجھے دھکا دیتے ہوئے کہا اور سیدھے جا کر میرے بستر پر بیٹھ گیا ، جو حالات میرے تھے ، وہی حالات منو اور اظہر کے بھی تھے ، وہ دونوں بستر سے کھڑے ہو گئے تھے . . . . . " نیچے بیٹھ وہی زمین پر . . . " میری طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا " شکل یاد ہے میری یا بھول گیا . . . " " یاد ہے . . جاری ہے . . . . " ہاں تو ہمیشہ یاد رکھنا ، یہ تیرے باپ کی شکل ہے . . . " اس نے جیسے ہی یہ بولا ، پورا جسم غصے سے لال پیلا ہوگیا ، اس وقت مجھے اپنے بھائی كے کہے ہوئے الفاظ یاد نہ آئے ہوتے تو قسم سے اس کمینے کو بہت مرتا . . . . . . " مجھ سے آنکھیں ملاۓ گا . . . " بستر پر لیٹتے ہوئے کمرے كے دیوار کی طرف اشارہ کیا " اس دیوار کو دیکھ رہا ہے . . . میں نے اسی دیوار پر تیرے جیسے ہی ایک چوتیے کا سَر پکڑ کر دے مارا تھا ، کمینہ چار مہینے کوما میں پڑا تھا . . . . پولیس بھی کچھ نہیں بگاڑ سکی ، کیونکہ اسے کوئی گواہ ہی نہیں ملا جو یہ بولتا کی وہ سب میں نے کیا تھا، اور سن ہم بھائی کی پارٹی کے لوگ ہے. . . . " " تو یہ سب مجھے کیوں بتا رہے ہو . . . . " خون میرا بھی گرم تھا ، اس لئے میں نے بول دیا . . . جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سیئنر جو کچھ دیر پہلے میرے بستر پر لیٹا ہوا تھا وہ اچانک سے اٹھ کھڑا ہوا اور غصے سے اپنے ڈانٹ پیستے ہوئے میرے پاس آیا . . . . " سوری سر ، اسے چھوڑ دو ، پاگل ہے وہ . . . " اظہر نے اس سیئنر کو پکڑا . . . . " سمجھا دے اِس لڑکے کو ورنہ یہی جان سے مار دوں گا . . . . " " ٹھیک ہے ، میں اسے سمجھا دوں گا . . . . " " جا ایک گلاس پانی لا . . . " اظہر وہاں سے پانی لینے چلا گیا اور ادھر کمرے میں خاموشی چھائی رہی ، اظہرکچھ دیر میں ہی واپس آ گیا ، لیکن اس کے ہاتھ خالی تھے . . . . " سر ، وہ وہاں کا گلاس شاید کسی لڑکے نے اپنے کمرے میں رکھا ہوا ہے ، میں بوتل میں آپ کے لیے پانی لاتا ہوں . . . . " اندر گھوستے ہی اظہر بولا اور بوتل لیکر وہاں سے پانی لینے چلا گیا . . . . . " تو ادھر آ . . . " اظہر كے جانے كے بَعْد اس نے مجھے اپنے پاس بلایا اور سگریٹ پینے كے لیے پوچھا . . . . " میں نہیں پیتا . . . " جلدی سے میں نے بنا ایک پل گنواے جواب دیا ، وہ سیئنر آگے کچھ بولتا اس سے پہلے ہی اظہر بھاگتے ہوئے بوتل میں پانی بھر کر لے آیا اور اسے دے دیا . . . . اس نے بوتل میں منہ لگا کر ایک گھوٹ پانی پیا اور پھر بوتل میری طرف بڑھا دی . . . " ریلکس ہو جا ، اور لے پانی پی . . . " " مجھے پیاس نہیں ہے . . . " خون میرا اب بھی گرم تھا . . . . " پی لے پانی ، کیونکہ اس کے بَعْد میں جو کرنے والا ہوں اس سے تیرا گلا سُوکھ جائیگا . . . " اس کی بات کا میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہ اپنے کاندھے اچکاتے ہوا بولا " تیری مرضی . . . . " اس نے اپنے جیب سے سگریٹ کی پیکٹ نکالی اور منظور کو اپنے پاس بلایا اور کمرے میں جلنے والے بلب کو بند کرنے كے لیے کہا . . . . " واپس آن کر جا کے . . . " اندھیرے میں دھواں اڑاتے ہوئے اس نے منو سے دوبارہ بلب کو آن کرنے كے لیے کہا اور جب منو نے دوبارہ بلب کو آن کر دیا تو وہ بولا . . . . " اب تو سو بار بلب کو آن کرنے كے بَعْد بستر پر آکر بیٹھ جانا اور پھر اُٹھ کر بلب کو اوف کر دینا . . . چل شروع ہو جا . . . . " منظور کی پہلے سے ہی سیٹی گم تھی ، وہ کیا بولتا . . . بنا کچھ بولے وہ اظہر كے بیڈ سے بورڈ تک دو سو چکر مارنے لگا . . . . . . " لے پی . . . " اون اوف ہوتے ہوئے بلب كے درمیان میں اس نے مجھے ایک سگریٹ دیا . . . . " میری عادت نہیں ہے . . . " " اس لیے تو پلا رہا ہو ، انجینئر صاحب . . . جب تک نشہ واشہ نہیں کروگے تو انجینئر کیسے بنو گے . . . . " مجبورً مجھے سگریٹ کو منہ سے لگانا پڑا ، بھائی كی طرف سے دی گئی نصیحت میں یہ بھی تھا کہ میں سگریٹ اور شراب سے دور رہو ، لیکن میں اس وقت یہ سب نہیں کرتا تو ان کے طرف سے دی گئی دوسری نصیحت ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ لڑائی جھگڑا بھی مت کرنا ، وہ ٹوٹ جاتی . . . . . " دھواں اندر لے . . . منہ میں رکھ کر تو پہلی دوسری کلاس كے لڑکے بھی سگریٹ پی لیتے ہے . . . " میں نے ویسے ہی کیا ، سگریٹ كے دھویں کو اندر لیا . . . سگریٹ كے کش کو اندر کیا کھینچا ، پورا کا پورا کلیجہ جیسے باہر آ گیا ، اور میں کھاسنے لگا " ایک کش اور مار . . . " میں نے پھر کش اندر لیا اور نتیجہ وہی پہلے جیسے ہی رہا . . . " ایک کش اور . . . " تیسری بار ہمت تو نہیں ہو رہی تھی ، لیکن اس وقت کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں . . . منو اب بھی بلب کو آن اوف کرنے میں لگا ہوا تھا . . . . " تیرے کتنے رائونڈ ہوئے بے . . " " نوے . . . . " ہانپتے ہوئے منو نے جواب دیا ، " بیٹا ابھی تو آدھے بھی نہیں ہوئے ، . . . چل شروع ہو جا . . . " چوتھی بار بھی میں نے سگریٹ كے دھویں کو اپنے سینے میں گھسایا اور اِس بار کھاسنے كے ساتھ ساتھ میری آنکھوں سے آنسو بھی نکل گئے اور سَر بھی گھومنے لگا . . . . " آج كے لیے اتنا ہی کافی ہے ، کل پھر ملیں گے تب تک تنظیم میں آنے کا سوچ لینا. . . . " اس کا روم سے باہر جانا تھا کہ میں اور منو بستر پر لیٹ کر ہانپنے لگے . . . . . " گانڈ . . . . گانڈ . . . . " منو بس اتنا بول سکا اور حانپنے لگا ، " کیا گانڈ گانڈ کر رہا ہے . . . " " گانڈ مار لی کمینے نے ، چکر آ رہا ہے ، پانی . . . . پانی . . . " وہ پھر سے ہانپنے لگا . . . . " ادھر تو پورا سَر ہی گھوم رہا ہے . . . . " اپنا سَر پکڑ کر میں نے بولا . . . " سگریٹ کا اثر زیادہ دیر تک نہیں رہتا ، بے فکر ’ بے فکر رہ . . . " " گانڈ پھٹ گئی ہے ، تو جا جلدی سے پانی لا . . . " اظہر كے وہاں سے جانے كے بَعْد میں نے منو کی طرف رخ کیا ، وہ اپنا سَر چھت کی طرف کیے ہوئے ہانپ رہا تھا . . . . " کیوں بیٹا ، کیا حال ہے . . . مزہ آیا . . " " بہت مزہ آیا ، دوبارہ کرنے کا دل کر رہا ہے . . . . " " جب سے کالج میں آیا ہو ، بہن چود سب مار کر چلے جاتے ہے ، اب سحرش میڈم کو ہی لے لو ، آج لیب میں کمینی نے میرا ہاتھ اپنی پھدی سے ہی ٹچ کروا دیا . . . . " " کیا . . . . " اس نے جیسے ہی یہ سنا اس کی ساری تھکن دور ہوگئی اور وہ میرے پاس آ کر بولا " سحرش میم كے بہت چرچے ہے کالج میں ، ذرا سنبھل کر . . . ایک بار جس کو نظر میں رکھ لیتی ہے نہ ، اسے چود کر سوری اس سے چودوا کر ہی دم لیتی ہے . . . . کمینی کے چال چلن ٹھیک نہیں ہے . . . " " تجھے کیسے پتہ . . . " " میرا ایک دوست سیکنڈ ایئر میں ہے ، اسی نے بتایا سحرش میم كے چال چلن كے بارے میں ، اس نے یہ بھی بتایا کہ اسی وجہ سے اس کو اخری سال کالج سے نکالنے والے بھی تھے . . . لیکن پھر سحرش میڈم اور اس کے درمیان . . . . . لیکن تو فکر مت کر ، تجھے وہ چھوڑ دے گی . . . " " ایسے کیسے چھوڑ دے گی . . . " " تیرے میں وہ بات ہی نہیں ہے ، وہ انہی لڑکوں كے ساتھ سیٹنگ کرتی ہے جو ہینڈسم ہو . . . " " کمینہ خود تو باورچی لگتا ہے اور مجھے بول رہا ہے ، چل دفع ہو یہاں سے . . . " جاری ہے . . . . . اس وقت منو كے اوپر میرا پورا دماغ خراب ہو رہا تھا . . . کمینہ مجھے بول کیسے سکتا ہے کہ سحرش میڈم مجھ سے سیٹ نہیں ہوسکتی . . . . اظہر جب کافی دیر گزر جانے کے باوجود پانی لیکر نہیں آیا تو ہم دونوں بھی باہر نکلے ، میں نے یہ سوچا کہ شاید کہ ہاسٹل میں ہمارے روم كے باہر باقی لڑکے گروپ کی شکل میں موجود ہوں گیں اور ہم سے پوچھے گے کہ بھائی لوگوں نے ہماری تنظیم سازی کیسے کی. . . لیکن اس وقت وہاں کوئی نہیں تھا ، اور جب آس پاس كے روم سے جانی پہچانی آوازیں جیسے کہ تھپڑ ، گلیاں وغیرہ وغیرہ . . . آئی تو میں سمجھ گیا کہ یہ سب برداشت کرنے والا میں اکیلا نہیں ہوں . . . . اور سب سے زیادہ سکون مجھے اِس بات سے مل رہا تھا کہ اب کوئی مجھے یہ نہیں کہے گا کہ میں ڈرپوک ہوں ، کیوںکہ اس وقت تو سبھی ڈرپوک تھے . . . . . . " کہاں مر گیا تھا . . . " واٹر کولر کی طرف جاتے ہوئے ہمیں اظہر ملا لیکن اس کے ہاتھ میں پانی کا بوتل نہیں تھی ، اور وہ ہانپ بھی رہا تھا . . . . " کچھ سینیر نے پکڑ لیا تھا . . . " اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر ہانپتے ہوئے وہ بولا "جا میرے لیے پانی لیکر آ . . . . " " بوتل تو آپ لے گئے تھے . . . " " واٹر کولر كے پاس جو گلاس رکھا ھوگا ، اسی میں لے آ . . . . " اور لڑکھڑاتے ہوئے اظہر روم کی طرف نکل گیا . . . . . میری اور منو کی حالت تو پھر بھی ٹھیک تھی ، لیکن اظہر بستر پر لیٹا الٹی سانسیں بھر رہا تھا . . . . . " یار گرلز ہاسٹل میں کیسے تنظیم سازی کے راضی ھوگی لڑکیاں. . . " منو ویسے شکل سے تو حرامی دکھتا تھا ، لیکن اندازیں بہت اچھے لگاتا تھا ، . . . . . " میرے خیال سے سینیر گرلز ، جونئیر گرلز کو اپنے بوائے فرینڈ دیکھا کر اپنی چوت چٹواتی ہوگی . . . " منو كے ان سنہری الفاظوں نے میرا اور اظہر کا روم روم کھڑا کر دیا . . . . . " پاگل ہے کیا ، ایسا تھوڑی ہوتا ہے . . . " میں نے ایسا اس لئے کہا تاکہ منو اپنے شوخ دماغ سے اور بھی ایسے خیالات کا اظہار کرے ، جس سے ہمارا روم روم مزید نکھر جائے . . . . . " یار کسی پرائیویٹ کالج میں تو سینیر لڑکیاں ، بوائے فرینڈ دیکھا رہی تھی . . . . لیکن پھر پولیس کیس بن گیا . . " فرسٹ ایئر کا اسٹوڈنٹ ہونے كے ناتے مجھے ویسے اچھی باتیں کرنی چاہئے تھی ، لیکن میرا ٹھرکی دماغ اس وقت اپنے عروج پر تھا ، . . . " جس کالج میں یہ ہوا ، اس وقت وہاں فرسٹ ایئر كے لڑکے بھی موجود تھے کیا . . . " میں نے سوال کیا اور بےصبری سے جواب کا انتظار کرنے لگا . . . . " تیرا مطلب ، جب فرسٹ ایئر کی لڑکیوں کو بوائے فرینڈ دیکھائے جا رہے تھے تب . . . " " ہاں . . . ہاں ، اسی وقت . . . " " پتہ نہیں " " کمینے نے یقین بھی کر دیا " " میں تو گرلز ہاسٹل جاؤں گا . . . " اظہر کی سانس سیدھی چلنے لگی تو وہ بھی ہماری باتوں میں شامل ہوتے ہوئے بولا . . . . " کیا کرے گا وہاں جا کر سینیرز کی پھدی چاٹے گا . . . . " " نہیں یار، سننے میں آیا ہے کی کچھ لڑکے ہمیشہ گرلز ہاسٹل میں اپنی سیٹنگ سے ملنے جلنے جاتے رہتے ہے . . . . تو کیوں نہ ہم لوگ بھی چلے . . ارمان تو کیا بولتا ہے . . . " " کالج میں جا کر پڑھائی کرنی بے ، چھانے بازی میں مصروف مت رہنا اور نہ ہی اِس چکر میں پڑھنا . . . " "جی بھائی . . . " " یار کدھر مر گیا . . . " میرے کاندھوں کو زور سے ہلاتے ہوئے اظہر نے مجھ سے دوبارہ پوچھا . . . جس کی وجہ سے میں نے فوراً نہ کر دی اور پلان یہ بنا کہ موقع ملتے ہی اظہر اور منو گرلز ہاسٹل میں جائینگے اور میں یہی روم میں پڑا پڑا مکھیاں ماروں گا . . . . . اگلے دن ہم پھر کالج كے پیچھے والے گیٹ سے اندر جا رہے تھے ، لیکن آج منو بھی ہمارے ساتھ تھا ، وہ 5 چڑیلیں آج بھی گیٹ كے باہر کھڑی تھی . . . . . " مر گئے . . . " " مرد بن یار ، ان لڑکیوں سے کیا ڈرتا ہے . . . " منو سینہ تان كے آگے چلتا ہوا بولا . . . " اوئے چوتیے . . . " ان پانچ چڑیلوں میں سے ایک نے منو کو آواز ڈی " ادھر آ چھوٹی دنیا . . . " پہلے پہل تو منظور کو یقین نہیں ہوا اور وہ وہی کھڑا ہوکر پیچھے کی طرف دیکھ کر یقین کرنے لگا کہ انہوں نے اسے ہی چوتیا اور چھوٹی دنیا کہا . . . لیکن جب اُن میں سے ایک نے دوبارہ چھوٹی دنیا کہا تو منو کو یقین ہوگیا کہ وہ لڑکیاں اسے ہی بلا رہی ہے . . . . . " کیوں تجھے سنائی نہیں دیتا . . . " منو کی آنکھوں میں لگے چشمے کو نکال کر اُن میں سے ایک نے کہا، آج وہاں ان پانچ لڑکیوں کے ساتھ سات سال سے انجینیئرنگ کرنے والے کاشف کی بچی بھی تھی . . . . " ایک مشرقی لڑکی کو اِس طرح سے بات کرنا زیب نہیں دیتا . . . . " منو نے بری شکل بنا کر کہا اور یہ سنتے ہی وہ پانچوں لڑکیاں ہنس پڑی ہنسی تو مجھے اور اظہر کو بھی آئی لیکن ہم دونوں نے جیسے تیسے اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا . . . . . " میرا نام سمیرہ ہے . . . " کاشف کی بچی نے اپنا ہاتھ منو کی طرف بھراتے ہوئے مسکرا کر کہا ، . . . " مجھے منو کہتے ہے . . . " سمیرہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر منو نے جواب دیا " سمیرہ ، وہ دونوں میرے دوست ہے . . . اظہر اور ارمان . . . " سمیرہ نے پہلے اظہر کو دیکھا اور پھر اس کی نظر مجھ سے ملی اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی " یہ تو وہی چوتیا ہے ، جس کے منہ پر میں نے سموسہ تھوپا تھا . . . . " " تیری ماں کی " میں نے دل میں ایک بار پھر اسے گالی دی . . . . منو نے ان لڑکیوں سے کچھ دیر اور بات کی اور جس انداز سے وہ پانچوں لڑکیاں منو سے بات کر رہی تھی اس سے میرے دِل میں ایک دَر پیدا ہو گیا کہ کہی یہ سارہ کو سیٹ نہ کر لے . . . . . " وہ آئی ہے کیا . . . " اپنی کلاس میں گھسنے سے پہلے میں سارہ کی کلاس میں داخل ہوا ، اور پچھلے کچھ دنوں کی طرح آج بھی اظہر كے دوست نے نہ میں سَر ہلا دیا اور بوجھل قدموں کے ساتھ میں وہاں سے اپنے کلاس میں آیا ، ویسے آج کا فرسٹ پیریڈ تو راحیلہ میڈم کا تھا ، لیکن اس کی جگه سحرش میڈم آئی تھی اور میں سمجھ گیا تھا کہ اِس پورے پیریڈ کو اپنا سَر جھکا کر گزارنا ہے . . . . جاری ہے . . . . ارمان ، اسٹینڈ اپ . . . . " سحرش میڈم نے مجھے آواز دی ، لیکن کیوں . . . نہ تو میں نے پوری کلاس میں کچھ بولا اور نہ ہی کسی سے بات کی ، . . . اس کلاس میں اس وقت سب سے خاموش بچہ میں ہی تھا ، پھر مجھے کیوں کھڑا کیا " جے وی ایم کیا ہے ؟ " اپنی جگہ پر میں ٹھیک طرح سے کھڑا بھی نہیں ہو سکا تھا کہ انہوں نے سوال کر دیا. . . . سحرش میڈم كے اِس سوال کا جواب دینا تو دور کی بات تھی میں نے تو یہ لفظ ہی پہلی بار سنا تھا . . . . . " چُپ کیوں ہو جواب بتاؤ ، ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو بتایا تھا . . . . " " میم ، وہ میں بھول گیا . . . . ایک بار دوبارہ بتا دیں . . . " کچھ دیر تک سحرش میڈم کو دیکھا ، پھر سامنے کی دیوار کو دیکھا ، اور جب کچھ نہیں سوجھا تو کچھ دیر اِس انتظار میں چپ چاپ کھڑا رہا کہ شاید میرے دائیں بائیں بیٹھے شوکت اور اظہر میں سے کوئی دھیرے سے بول دے ، . . . لیکن جب کوئی سہارا نہیں ملا تو سحرش میڈم كے آگے میں نے سرنڈر کر دیا . . . . . " جاوا ورچل مشین . . . . اب یاد رکھنا . . . " مسکراتے ہوے انہوں نے کہا ، مجھے جواب انہوں اِس اندازِ میں بتایا جیسے کہ میٹرکس مووی انہوں نے بنائی ہو . . . . " ابھی بیٹھ جاؤ . . . " غرور بھری آواز میں وہ بولی . . . اس کے بَعْد انہوں نے اپنا لیکچر دوبارہ شروع کر دیا ، آدھی کلاس غور سے سن رہی رہی تھی اور آدھی کلاس سحرش میڈم کی طرف دیکھ کر اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئے تھے . . . . " ابھی میں کچھ معمولی سے سوالات کرنے جا رہی ہوں . . . . " " ارمان . . . . " " یس میم . . . " ایک بار پھر قربانی کا بکرا میں ہی بنا . . . " کچھ نارمل سوالات پُوچھ رہی ہوں تم سے ، امید ہے کہ مجھے جواب ملیں گے . . . " " میں کوشش کروں گا . . . " " ونڈوز ایکس پی کیا ہے . . . " " مطلب . . . " " مطلب کی تمہارے خیال سے ونڈوز ایکس پی کیا ہے ؟ " " وہ تو اوپریٹنگ سسٹم ہے ، ll بس اتنا ہی معلوم ہے . . . " " سہی ، اچھا یہ بتاؤ ، کمپیوٹر یوز کرتے ہو . . . " سامنے کی کرسی پر اپنی گول مٹول گانڈ کو ٹکا کر اگلا سوال کیا . . . " بلکل کرتا ہوں . . . " " تو بتاؤ کہ کسی بھی ڈاکومینٹ کو پرنٹ کرنے كے لیے شارٹ کٹ طریقہ کیا ہے . . . . " " کنٹرول + پی . . . . " ادھر ایک طرف میں نے جواب دیا اور وہی دوسری طرف اپنے بڑے بھائی کا دل ہی دل میں شکریہ ادا کیا ، کیونکہ انہی كے بدولت ہی میں نے اِس سوال کا جواب دیا تھا . . . . . سحرش میڈم كے دو سوالوں کا جواب کیا دیا ، انہوں نے مجھے کمپیوٹر کی دُنیا کا گاڈ فادر سمجھ لیا اور پھر ایک كے بَعْد ایک سوال پوچھتی گئی ، اور میں ہر بار یہی بولتا " سوری میم . . . . " سی ایس سبجیکٹ کا کوئی تھیوری ایگزام نہیں تھا ، یہ سبجیکٹ مکمل پریکٹیکل بیسڈ تھا اور جس سبجیکٹ کا صرف پریکٹیکل ہو تو اس کا پریکٹیکل ایگزام والے دن كے علاوہ کسی اور دن پڑھنا ہماری نظر میں گناہ تھا ، اور یہ گناہ میں کیسے کرتا ، اس لیے سحرش میڈم كے باقی سوالات پر صرف دو لفظ منہ سے نکلے " سوری میم . . . " " پڑھنا سٹارٹ کر دو ، ورنہ فیل کر دوں گی . . . بیٹھ جاؤ . . . " انہوں نے فیل کرنے کی دھمکی دے کر بیٹھ جانے کا کیا بولا ، میرا دل ہی بیٹھ گیا ، اور میں چُپ چاپ کسی لوٹے پیٹے انسان کی طرح بیٹھ گیا . . . . . " ارمان ، سحرش میڈم پر ٹرائی کر ، یہ سیٹ ہوجائے گی . . . " سحرش میڈم كے کلاس سے جانے كے بَعْد اظہر نے بولا " اسے سیٹ کر کیا کروں گا ، کمینی چودتے وقت آئی ٹی پی کا فل فوم پوچھ رہی ہوگی " " یار اس سے اچھا مال نہیں ملے گا ، " " سارہ ڈارلنگ ہے نہ . . . . " " اپنے ارمانوں پر قابو رکھو بیٹا ارمان ، ورنہ . . . . . " " ورنہ . . . . " " یہ پھر آ گئی . . . " اظہر كا اِس طرح سے اچانک ٹاپک تبدیل کرنے سے میں چونکا " کیا ہوا . . . " " یہ صائمہ ، پھیر آ گئی سامنے . . . " میں نے سامنے کی طرف نظر گھمائی تو دیکھا کہ سامنے وہی لڑکی کھڑی تھی ، جو کالج كے پہلے دن ہی نخرے دکھاتی ہوئی انٹرودکشن کلاس چلا رہی تھی ، اظہر ویسے تو کلاس کی کسی لڑکی کو گالی نہیں دیتا تھا ، لیکن صائمہ کو دیکھتے ہی اس کا دماغ گرم ہو جاتا اور اس کے منہ سے صائمہ كے لیے پیار بھرے الفاظ نکل جاتے . . . . . . " اتنے دن ہوگئے ہے اور ہم سب ایک دوسرے کا نام بھی نہیں جانتے . . . . " منہ بناتے ہوئے وہ بولی . . . . صائمہ نہ زیادہ موٹی تھی اور نہ ہی زیادہ پتلی . . . لیکن اس کا چہرہ اور اس کی عادتیں ڈھنگ کی ہوتی تو شاید ہم کچھ سوچتے. . . . پیریڈ خالی جا رہا تھا اور انٹرودکشن کا دور آگے بڑھتے ہوئے اظہر تک آیا . . . . " اب تمہاری باری . . . . " اظہر کی طرف انگلی دکھاتے ہوئے صائمہ بولی . . . . اپنے اظہر بھائی جوش میں آ گئے اور سینہ چوڑا کرتے ہوے کھڑے ہو کر بولے کہ جس کو بھی میرے بارے میں جاننا ہے وہ میں آکر مجھ سے ڈابے پر مل لے . . . . " کیا . . . " ناک چڑاتے ہوئے صائمہ بولی ، . . . " حویلی میں ملنا پھر بتاؤں گا ، "کیا . . . . " " یہ تو بہت بدتمیز ہے . . . " اِس وقت میری دونوں آنکھیں دونوں طرف دیکھ رہی تھی ، میں کبھی صائمہ کا چہرہ دیکھتا تو کبھی اظہر کا اور مجھے نہ جانے کیا سوجا میں نے اظہر كے کان میں دھیرے سے بولا . . . " تیرے لیے پرفیکٹ ہے . . . " " زندگی بھر مٹھ مار لوں گا ، لیکن اسے نہیں چودوں گا . . . . " اظہر تو صائمہ کو دھمکی دے کر چُپ ہوگیا ، جاری ہے . . . . لیکن اب اگلا نمبر میرا تھا ، اس وقت مجھے بھی کھڑے ہو کر اظہر کی طرح بول دینا چاہئیے تھا کہ " جس کو بھی میرے بارے میں جاننا ہے وہ حویلی میں آ کر ملے ، . . . . " لیکن مجھ میں اس وقت اتنی ہمت نہیں تھی ، سب کے سامنے جانے سے دِل گھبرا رہا تھا ، لیکن پھر بھی میں اٹھا اور جیسے تیسے میرے قدم آگے بڑھے ، میں اندر ہی اندر کانپنے لگا . . . . " ہیلو ، دوستو . . . میں ’ میں ارمان . . . " ایک کمزور سی آواز میرے منہ سے نکلی . . . جسے سامنے والے بینچ پر بیٹھے اسٹوڈنٹ ہی سن پائے ہوں گے . . . . . " پلیز زور سے بولو . . . . " صائمہ پھر بولی . . . . اس وقت صائمہ کا چہرہ دیکھ کر دل کر رہا تھا کہ اپنا جوتا اتار کر سیدھے اس کے منہ پہ دے ماروں ، . . . اور ٹھیک اسی وقت سول سبجیکٹ والی میم اندر داخل ہوئی اور آتے ہی مجھے پر برسنا شروع ہوگئی . . . . " یہاں کیا کر رہے ہو کھڑے ہو کر . . . . " " و . . . و . . . وہ وہ کچھ نہیں ، بس اپنا تعارف کروا رہا تھا اور کچھ نہیں . . . ." " جاؤ ، اپنی جگہ پر جا کر بیٹھو . . . " " دیکھ یار وہ سلطان میرانی پورے کوری ڈور میں گھوم رہا ہے . . . " اپنے رجسٹر میں لکھتے ہوے اظہر نے بتایا . . . " یار فورمل ڈریس تو میں نے نہیں پہنا ہے . . . کمینہ پھر مسلہ کرے گا " " ایک پلان ہے . . . . " سامنے بورڈ پر جو کچھ لکھا ہوا تھا اسے چھاپتے ہوئے اظہر بولا " بریک ٹائم میں کالج سے باہر چلے تو بچا جا سکتا ہے ، اور بریک جیسے ہی ختم ھوگا وآپس آ جائینگے . . . . " " بہترین آئیڈیا ہے . . . . " اسی دوران سول والی میم بورڈ پر کچھ لکھنے كے لیے گھومی ، اور ان کی بڑی بڑی گانڈ ہمارے سامنے تھی . . . . ویسے تو سول والی میم کی عمر 45 سال سے زیادہ ہی تھی اور انہیں سامنے سے دیکھ کر کوئی غلط خیالات اپنے دل میں نہ لائے ، لیکن پیچھے سے کوئی انہیں دیکھے تو پھر . . . . . . . . " اوئے ، کمینے اس کو تو چھوڑ دے " میری نظر پوری طرح سے سول والی میم كے گانڈ پر جمی ہوئی تھی . . . . " کیا ہوا . . . " میں نے ایسے ری ایکٹ کرنے لگا جیسے میں نے کچھ کیا ہی نہ ہو ، لیکن اظہر مجھ سے زیادہ کمینہ تھا " یار اسے کیوں گھور رہا ہے ، اسے تو سب لوگ ممی بولتے ہے . . . . " " ممی " " شوکت بول رہا تھا کہ یہ بہت پیار سے پڑھاتی ہے . . . مطلب کے ایک سوال کو چاھے جتنی بار بھی پُوچھ لو ، ہمیشہ جواب ہی دیتی ہے . . . پروفیسر ہے یہ یہاں لیکن اِس بات کا اسے بلکل بھی غرور نہیں ہے . . . " اس پوری کلاس میں میں نے اور اظہر نے بہت باتیں اور مستی کی ، سول والی میم نے ہمیں کئی بار بات کرتے ہوئے اور ہستے ہوئے بھی دیکھا ، لیکن وہ ہر بار اگنور کر دیتی . . . . سول والی میم سَچ میں ممی تھی پچھلے کچھ دنوں کی طرح میں آج بھی بریک ٹائم میں سارہ كی کلاس میں داخل ہوا اِس آس میں کہ شاید وہ لیٹ آئی ھوگی ، لیکن جواب اک بار پھر نہ میں سَر ہلا کر اظہر كے دوست نے دیا . . . . اس کے بعد میں اور اظہر بائیک اسٹینڈ پر آئے ، میں نے شوکت سے بائیک کی چابی مانگ لی تھی ، بائیک اسٹینڈ پر جہاں ایک طرف اظہر، شوکت کی بائیک نکال رہا تھا وہی میں دوسری طرف اس جگہ کو دیکھ رہا تھا ، جہاں کچھ دن پہلے میں نے سارہ کو پہلی بار دیکھا تھا . . . . اس کی کار آج وہاں نہیں کھڑی تھی اور نہ ہی سارہ اس دن کی طرح وہاں موجود تھی ، لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں مجھے محبت سی ہو گئی تھی اس جگہ سے ، میں اس طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ اظہر نے ہارن مارا . . . . " اوئے ادھر پیشاب مت کر ، باہر کر لینا . . . . " " یار میں . . . . " آگے کیا بولوں کچھ سمجھ نہیں آیا اس لئے میں اتنا ہی بول کر چپ چاپ بائیک پر بیٹھ گیا . . . . " دو پلیٹ سموسہ دینا چچا. . . " کالج كے مین بِلڈنگ سے دو کلو میٹر دور کالج کا مین گیٹ تھا اور اسی كے آس پاس بنی دوکانوں میں سے ایک دکان پر بیٹھ کر میں نے دو پلیٹ سموسے کا آرڈر دیا . . . . " ایک پلیٹ بنا كر دینا . . . مطلب نمکین ، سلاد ، تھیکی میٹھی چٹنی سب ڈال دینا . . . . اور ہاں تھوڑا دہی بھی ڈال دینا . . . " اظہر نے اپنی فرمائش جھاڑ دی ، جسے سن کر میں نے کہا . . . " جب اتنا کچھ ڈلوا رہا ہے تو تھوڑی زمین کی مٹی بھی ڈلوا لے. . . " " وہ تیرے لیے چھوڑی ہے . . . . " " تھینکس . . . " پیٹ پوجا کرنے كے بعد اظہر نے اپنے جیب سے سو کا نوٹ نکال کر ٹیبل پر ایسے پھینکا جیسے تاش کھیلنے والا حکم کا یکا پھینکتا ہے . . . . . " میں آج بھی پھینکے ہوئے پیسے نہیں اٹھاتا . . . . " " ٹھیک ہے . . . " اس سو كے نوٹ کو اٹھاتے ہوئے اظہر نے کہا " تو ہی دے دے میرا بِل . . . " " نہیں بے میں تو ایسے ہی ڈائیلوگ مار رہا تھا . . . . " اور میں نے اس کے ہاتھ سے سو کا نوٹ چھین لیا . . . . . بریک ختم ہونے میں جب کچھ دیر ہی رہ گئی تھی تب میں اور اظہر کلاس کی طرف پہنچے ، ہم دونوں اس وقت خود کو چالاک سمجھ کر بہت خوش ہو رہے تھے کہ بریک ٹائم میں ہونے والی تنظیم سازی سے ہم دونوں بچ گئے ، لیکن ہماری چالاکی اس وقت دم توڑ گئی جب بائیک اسٹینڈ پر سینیرز نے ہمیں پکڑ لیا . . . . . " ارمان اور اظہر . . . . " سینیرز كے پوچھنے پر میں نے ہم دونوں کا نام بتایا . . . . . " تیرا کیا نام ہے . . . " " ارمان . . . . " ابھی میں نے اپنا نام ہی بتایا تھا کہ ہاسٹل والا وہ سینیر سلطان میرانی وہاں آ دھمکا جس نے کل سے مجھے پریشان کر رکھا تھا ، اس نے پہلے اپنے دوستو سے ہاتھ ملایا اور پھر مجھے دیکھ کر اپنے دوستو سے بولا . . . " اور جوان کیا حال چل ہے . . . " " سب ٹھیک . . . . " میرا اتنا کہنا تھا کہ اس نے کس کر ایک تھپڑ مجھے مار دیا ، اور اس کے باقی دوست ھسنے لگے . . . . . " کتنی بار سمجھایا کی آنکھیں مت ملایا کر . . . لیکن تیرے دماغ میں بات گھوستی ہی نہیں . . . . " خون کا گھوٹ پی کر میں نے اپنی آنکھیں نیچے کی ، اور جب سارے سینیرز نے مجھے گھیر لیا تو میں سمجھ گیا کہ میرے ساتھ کچھ برا ہونے والا ہے کچھ بہت ہی برا . . . . جس کی میں نے توقع تک نہیں کی تھی . . . . . . . . . . ملک پاکستان کے قانون میں صاف الفاظ میں لکھا ہوا تھا کہ کسی طالب علم کو تنظیم سازی کا حق حاصل نہیں اور نہ ہی وہ کسی طالب علم کو زبردستی تنظیم میں شامل کر سکتا ہے لیکن یہاں بائیک اسٹینڈ پر سب کچھ غلط ہو رہا تھا . . . . . مجھ سے جانے کیا دشمنی تھی کہ وہ ہاسٹل والا سینیر ہاتھ دھو كے میرے پیچھے پڑا ہوا تھا اور اس وقت میں وہاں بلکل اکیلا تھا . . . . کچھ دیر پہلے اظہر نے چھوڑوانے کی کوشش کی تھی ، لیکن جب اظہر کی روک ٹوک سے سینیر زیادہ پریشان ہوگئے تو انہوں نے ایک تھپڑ اس کے گال پر رسید کیا اور اسے وہاں سے چلتا کیا اور مجھے اپنی بائیک پر بیٹھا کر وہاں سے دور کالج کے گراؤنڈ پر لے آئے . . . . . " بائیک سے اُترے گا ، یا اتار کر پھینکوں . . . " اس وقت مجھے لگا کہ کاش میرے پاس کوئی سپر پاور یا کچھ ایسا ھونا چاہئے تھا جسے میں ان کی گانڈ پھاڑ سکتا . . . . لیکن میں ایک نارمل اسٹوڈنٹ تھا جس نے پہلے سال ہی اتنا شاندار کالج پایا تھا . . . . . . . " مجھے یہاں کیوں لائے ہو سر . . . " بائیک سے اتر کر میں بولا . . . . میرے سوال کرنے سے وہ اور بھی بھڑک جائینگے یہ میں جانتا تھا ، لیکن وہاں چُپ کھڑا بھی تو نہیں ہو سکتا تھا . . . . اس لئے میں نے ان سے یہاں لانے کا مقصد پوچھا اور جیسے کہ میرا یقین تھا مجھے جواب میں ایک تھپڑ ملا اور ساتھ ہی ساتھ میرے پیٹھ پر ایک لات اور نتیجہ یہ ہوا کہ میں سیدھے گراؤنڈ پر بکھر گیا . . . . . " ایسا تو سب کے ساتھ ہوتا ھوگا . . . " یہ سوچتے ہوئے میں اٹھا ، اور اپنے چہرے کی دھول صاف کرنے لگا . . گراؤنڈ کالج سے تھوڑی دور تھا اور جب کالج لگا ہو تو اُدھر ایک دو اسٹوڈنٹ ہی آتے تھے ، لیکن اس دن جب میں اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر دھول صاف کر رہا تھا تو مجھے دو تین بائیکس کی آوازیں سنائی دی جو وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی اور پھر وہ بائیک گراؤنڈ میں آ کر کھڑی ہو گئی ، ان بائیکس پر لڑکیاں بھی تھی اور وہ لڑکیاں وہی چڑیل تھی جو اکثر کالج كے پیچھے والے گیٹ پر کھڑی ہو کر گلیاں بکتی تھی . . . . . " سات سال سے انجینئرنگ کرنے والے اس گدھے کو بھی بلا لو، بس اسی کی کمی ہے . . . . " یہ میں نے خود سے کہا . . . . ایک نارمل پڑھنے والا اسٹوڈنٹ جب ایسی سچویشن میں پھنستا ہے تو وہ اکثر گھبرایا ہوا ہوتا ہے اور کچھ کا تو پیشاب تک نکل جاتا ہے ، لیکن میں تھوڑا عجیب ردعمل دے رہا تھا اور اندر ہی اندر مذاق کرے جا رہا تھا . . . . . . " یہ تو وہی کینٹین والا ہے . . " ایک اور بائیک آکر وہاں کھڑی ہوگئی اور اس بائیک پر وہی 7 سال سے انجینئرنگ کرنے والا کاشف سوار تھا . . . . . کاشف بائیک سے اترا تو دوسرے سینیر نے اسے ایک سگریٹ دی اور سر کہہ کر اسے سلام بھی کیا . . . . . . . " گڈ آفٹر نون سر . . . " اِرادَہ تو نہیں تھا لیکن پھر بھی میں نے کاشف سے بولا ، کیا پتہ کمینہ خوش ہو جائے اور مجھے بچا لے . . . . " یہاں کیوں بلایا چھوٹے . . . " اسی ہاسٹل والے سینیر سے کاشف نے پوچھا ، جو مجھ سے نہ جانے کس جنم کا بدلہ لے رہا تھا . . . . . " یہ وہی لڑکا ہے سر ، جو بہت اکڑ رہا تھا . . . آج پکڑ میں آیا ہے . . . . " " ادھر آ . . . " کاشف نے اپنی دونوں انگلیوں سے مجھے قریب آنے کا اشارہ کیا . . . " نام کیا ہے . . . " " ارمان . . . . . فرسٹ ایئر . . . . سبجیکٹ میکنیکل . . . . . " میں نے سب کچھ ایک بار میں ہی بتا دیا کیوںکہ مجھے معلوم تھا کہ اس کا اگلا سوال یہی ھوگا . . . . " یہ تو بڑا سمارٹ بندہ ہے چھوٹے . . . . " " کچھ نہیں سر ، آپ دیکھو ابھی اس کی اسمارٹنیس نکالتا ہوں . . . . " پھر اس چھوٹو نے مجھے وہی بیٹھنے كے لیے کہا . . . . " اٹھ . . . . " جب میں بیٹھا تب اس نے کہا . . . میں کھڑا ہو گیا تو اس نے پھر بیٹھ بولا . . . . پوری عزت کا جنازہ نکال دیا ، وہ سب سینیر لڑکیاں اپنا پیٹ پکڑ پکڑ کر قہقے لگا رہی تھی اور ادھر اٹھاک بیٹھک کر کے میری سانسیں پھول رہی تھی . . . . . " سب سے بڑا چوتیا ہے یہ . . . . میں نے آج تک اسے بڑا بیوقوف نہیں دیکھا . . ." سمیرہ نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا ، میرا پورا جسم اس وقت پسینے سے بھرا پڑا تھا ، ٹانگیں دَرْد کر رہی تھی . . . . اور اسی دوران وہ گھڑی بھی آئی جب میں بلکل بیٹھا رہ گیا . . . . دوبارہ اٹھنے کی ہمت ہی نہیں بچی تھی . . . . " اٹھ . . . . . ، " کاشف نے سمیرہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا اور اپنے جوتے سے وہاں دھول کو میرے چہرے پر اڑاتا ہوا بولا . . . . " اب . . . . ہمت . . . . . . نہیں ہے . . " زور زور سے سانسیں لیتے ہوئے میں نے جواب دیا اور ایک نظارہ دیکھا کہ کاشف اور سمیرہ كے ہونٹ ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے تھے . . . . . " دیکھو سر ، یہ نہیں اٹھ رہا . . . " " اٹھ . . . " کاشف غصے سے بولا " اٹھ جا ورنہ ننگا کرکے بھاگواؤں گا. . . . " " ہاتھ لگا كے دیکھ تیری ماں چود دوں گا. . . " غصے میں آ کر میں نے بول تو دیا ، لیکن اگلے ہی پل جب مجھے خیال آیا کہ میں نے کیا بولا ہے تو میں کچھ دیر كے لیے سن ہوگیا اور سمجھ گیا کہ میری زندگی کا سب سے برا دن آج کا ہونے والا ہے . . . . . " بیلٹ نکل ، اس کو اس کی اوقات دکھاتا ہو . . . " سمیرہ کو پیچھے کرکے کاشف میرے پاس آیا اور اپنے بڑے بڑے مضبوط ہاتھوں سے میرے گالوں کو پکڑ کر دباتے ہوئے اپنے دوستو سے بولا " بیلٹ دو . . . " " سر ، چھوڑ دو اسے . . . . مر جائیگا یہ . . . " " مرنے دے " " ارے سر چھوڑ دو . . . " باقی سینیرز نے کاشف کو مجھ سے دور کیا اور پھر میرے پاس آئے . . . " چل پُش اپ کر . . . " " مجھ سے نہیں ہو سکے گے . . . " " تیرا باپ بھی کرے گا ، کاشف کی آواز آئی ، ان لوگوں نے معلوم نہیں کیا پلان بنایا تھا کہ سبھی نے مجھے گھیر لیا اور پھر پُش اپ کرنے كے لیے کہنے لگے . . . . . " ایک بات اپنے دماغ میں ڈال دے ، تو ذرا بھی روکا تو وہی کھینچ کر ایک ایک لات سب ماریںگے . . . چل اب شروع ہو جا . . . . " وہ لوگ حد پار کر رہے تھے اور میں اس وقت یہی سوچ رہا تھا کہ کیا میں کل کا سورج دیکھ پاؤںگا ؟ اور میں کل کا سورج دکھوں گا بھی تو کس حال میں ؟ اس وقت مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ کل میں کالج میں رہوں گا یا کسی اسپتال میں اپنے پورے جسم پر پٹی بندوا کر پڑا رہوں گا ؟ میں نے پُش اپ کرنا شروع کر دیے لیکن اسی وقت کسی نے میرے پینٹ کا بیلٹ اتارنے کی کوشش کی اور میں وہی روک گیا اور خود کو زمین سے لپٹا دیا. . . . " یہ آپ لوگ . . . . " میں کہہ بھی نہیں پایا تھا کہ میری کمر پر کس کر کئی لاتیں ایک ساتھ پڑی ، پورا جسم دَرْد سے کانپ اٹھا اور آخر میں میرے آنکھ سے آنسو نکالنے لگے . . . . دھول مٹی میرے پورے جسم سے چپکی ہوئی تھی ، . . . جب لڑکوں كی لاتوں کی بارش تھمی تو ان لڑکیوں نے اپنی نوک والی سینڈل سے میری کمر پر دستک دی اور وہ وقت ایسا تھا جسے میں آج بھی نہیں بھلا سکتا . . . . اس دن نہ جانے کتنے دنوں بَعْد میں رویا تھا . . . . . . . . " چل پھر شروع ہو جا اور یاد رکھنا ، اِس بار مت روکنا . . . . " میں نے روتے ہوئے اپنے ہاتھ زمین سے لگاۓ اور پھر پُش اپ مارنے لگا ، اِس بار ایک لڑکے نے اپنے ہاتھ سے میرے پینٹ میں لگے بیلٹ کو نکالا اور پینٹ کا بٹن کھول دیا . . . . . لیکن میں نہیں روکا کیوںکہ مجھے معلوم تھا کہ روکنے کا مطلب پھر سے وہی مار كھانا . . . . پورا جسم سے بہتے ہوے پسینے سے زمین پر میری چھاپ بنی ہوئی تھی . . . . . جب میں پُش اپ کر رہا تھا تو اسی وقت سمیرہ نے میری پینٹ کو نیچے کھسکا دیا اور کھلکھلا كے ہنسنے لگی . . . . . " روکنا مت بے . . . " اس کے بَعْد انہوں نے میرے کمر سے نیچے كے سارے کپڑے اتار دیئے اور میں تھک ہار کر وہی لیٹ کر رونے لگا . . . . وہ سب بہت دیر تک وہی کھڑے ہنستے رہے ، مجھے گلیاں دیتے رہے اور پھر جب ان کا دل بھر گیا تو وہ وہاں سے چلے گئے . . . . . . . . یہ سب کالج كے اندر ہوتا تو شاید آج وہ سب جیل میں ہوتے ، لیکن ایسا نہیں ہوا تھا . . . . اور کالج كے باہر جو کچھ بھی ہوا اس کی ذمہ داری کالج کی نہیں ہوتی . . . . میں گراؤنڈ سے اُٹھ کر اپنے ہاسٹل کی طرف چلا ، اس وقت میں اندر سے ٹوٹ چکا تھا . . . روتے روتے آنسو ختم ہو گئے تھے ، آنکھیں لال سرخ ہو رہی تھی . . . . . گراؤنڈ سے نکال کر میں سیدھے ہاسٹل کی طرف بڑھا ، روم کا دروازہ پہلے سے ہی آدھا کھلا ہوا تھا ، جسے پورا کھول کر میں اندر داخل ہوا . . . . " کیا ہوا . . . . " گھبرائی ہوئی آواز میں اظہر نے پوچھا لیکن میں نے کچھ نہیں بولا یا پھر کہے کہ مجھ میں کچھ بولنے کی ہمت ہی نہیں تھی ، اس وقت میں کچھ بولتا تو یقینً میں رو جاتا . . . اس لئے میں اسی حالت میں سیدھے جا کر اپنے بیڈ پر لیٹ گیا اور اپنی آنکھیں بند کر لی . . . . پورا جسم درد اور ان لڑکیوں كے سینڈل كے زخموں سے جل رہا تھا . . . . " یہ کیا ہو گیا ، . . . وہ بھی میرے ساتھ . . . . " اس وقت نہ تو مجھے سارہ کا خیال تھا اور نا ہی سحرش میم کا . . . . اس وقت میں یہ بھی بھول گیا تھا میرے بھائی نے گھر چھوڑنے سے پہلے کچھ نصیحت کی تھی ، دِل اور دماغ میں تھا تو صرف بدلہ . . . . میں کچھ بڑا دھماکہ کرنا چاہتا تھا جس کے لپیٹ میں آج گراؤنڈ میں موجود سب لوگ آ جائے . . . . " کل سب کی ماں چود دوں گا ، پھر جو ھوگا دیکھا جائیگا . . . . . " کمر بہت زور سے درد کر رہی تھی، لیکن پھر بھی میں اُٹھ کر بیٹھ گیا . . . . " تو آرام کر ارمان . . . " " بہت برداشت کر لیا ان سب کو ، تو دیکھ میں کل ان کی کیسے لیتا ہو . . . . " کھڑے ہو کر میں نے کہا اور اپنی شرٹ اتارنے لگا ، . . . " یار کس چیز سے مارا ہے تجھے . . . " " وہ پانچوں لڑکیاں سینڈل پہن کر میرے اوپر ناچ رہی تھی ، کمینی رنڈیاں. . . . " غصے سے کانپتے ہوئے میں نے بولا اور نہانے كے لیے وہاں سے سیدھے باتھ روم کی طرف چلا گیا . . . . . اس رات کوئی سینیر ہاسٹل میں نہیں آیا اور اس دن مجھے ہاسٹل میں سب سے عجیب جو بات لگی وہ یہ تھی کہ منو اس دن رات بھر کسی سے فون میں بات کرتا رہا ، وہ کسی جوگار کی بات کر رہا تھا . . . . . اس رات نیند مجھ سے کوسو دور تھی ، میں بس یہی چاہ رہا تھا کہ جلدی سے جلدی صبح ہو اور میں اس سے ملوں . . . . " قسم سے سن کر دکھ ہوا . . . . " ہر روز کی طرح کاشف آج بھی مجھ سے پہلے اٹھا اور چاۓ بنانے كے لیے گیس آن کرتے ہوئے بولا . . . . " لا دودھ کا ڈبہ پکڑا . . . . " " اظہر ، اُدھر دودھ کا ڈبہ رکھا ہوا ہے ، لا دے . . . " اظہر سے میں نے دودھ کا ڈبہ مانگا تھا لیکن اس نے مجھے شراب کی بوتل پکڑا دی اور تو اور وہ بولا کہ ایک اک کپ چاۓ میرے لیے بھی بنا دے . . . . " اُلو ، مجھے ہنی سنگھ سمجھ رکھا ہے کیا ، جو چپس میں شراب ڈال کے کھا جاؤں اور پھر دونوں ہاتھ اوپر کر کے گانا گاؤں، . . . " " مطلب . . . " سَر کجھاتے ہوے اس نے کہا. . . " مطلب کہ چاۓ دودھ سے بنتی ہے شراب سے نہیں . . . . " " اوہ سوری ! میرا دھیان ہی نہیں تھا. . . . " اس کے بَعْد اظہر نے دودھ کا ڈبہ مجھے پکڑایا اور میں نے کاشف کو ، ، چاۓ بناتے ہوئے کاشف نے مجھ سے پوچھا . . . . " تو پھر اس سے اگلے دن کچھ دھماکہ کیا ، یا اک بار پھر ان سے مار کھائی. . . " " اس سے اگلے دن . . . " میں اس وقت تھوڑا اور سونا چاہتا تھا ، لیکن کاشف کو کچھ زیادہ ہی جلدی تھی آگے جاننے کی ، اس لئے مجھے اپنی یادوں كے سمندر میں ایک بار پھر تیرنا پڑا . . . . . . " آج کیا بولے گا ان سے ، وہ سب تو روز کی طرح آج بھی وہاں کھڑی ہے . . . . " میں اور اظہر کالج كے پیچھے والے گیٹ سے کچھ ہی دوری پر کھڑے تھے . . . . . ویسے تو ایک پڑھنے والے اسٹوڈنٹ کو گالیاں نہیں بکنی چاہئے خاص کر لڑکیوں کو . . . . لیکن کل انہوں نے جو کچھ بھی میرے ساتھ کیا تھا اس نے میرے ساری اچھائیوں کو ختم کر دیا تھا . . . . " سگریٹ کیسے پیتے ہے ، جلدی سے بتا . . . " " بلکل آسان . . . چھوٹا کش لینا اور پھر دھویں کو اندر کھینچ لینا . . . . . " " لا سگریٹ دے ، ٹرائی کرتا ہو . . . " " وہ تو نہیں ہے . . . . " " چل کوئی بات نہیں آجا . . . " کالر کو میں نے اوپر کیا اور ان لڑکیوں کی طرف بڑھا . . . . . پیٹھ اور کمر میں بہت درد تھا ، اس لئے ہاسٹل سے نکالتے وقت میں تھوڑا جھک کر اور لنگڑا کر چل رہا تھا . . . لیکن اس وقت میں نے خود کو سیدھا کیا اور بے فکر ہو کر ان کی طرف آیا . . . . . جیسے جیسے میں ان کی طرف بڑھ رہا تھا کل کے دن کا ہر اک لمحہ میری آنکھوں كے سامنے آ رہا تھا . . . . . . " گڈ مارننگ . . . . " " ہوں ں ں ں . . . . " ان پانچوں لڑکیوں کی نظر مجھ پر پڑی اور سمیرہ نے کہا " کل والا سبق بھول گیا کیا ، جو آج پھر آ گیا . . . " مسکراتے ہوئے میں نے سمیرہ كے چہرے کو دیکھا اور پھر جان بوجھ کر اپنی نظریں اس کی چھاتیوں پر گاڑ دی . . . .
-
ارمان ایک طویل داستان
" تُم اپنا رجسٹر لیکر ادھر آؤ . . . " سحرش میم نے مجھے سامنے بلایا . . . . دِل کی دھڑکنیں بڑھنے لگی اور یہی خیال آتا رہا کہ سحرش میم کہی کچھ پُوچھ نہ لے ، کیوںکہ ابھی تک نہ تو میں نے کچھ لکھا تھا اور نہ ہی کچھ پڑھا تھا ، ابھی تک میرا دھیان صرف اور صرف اس کی جوانی پر تھا . . . . " یہاں میں مذاق کر رہی ہوں کیا . . . . " " نو میم . . . " اپنا سَر جھکائے میں کسی بچے کی طرح سامنے کھڑا تھا ، اور اس وقت کا انتظار کر رہا تھا ، جب وہ غصے سے چلاتے ہوے میرا رجسٹر پھینک دے اور میں پھر اپنا رجسٹر اُٹھا کر واپس اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤں . . . . . " نام کیا ہے تمہارا . . . " " ارمان . . . . " " کیا ارمان ہے تمھارے ، . . . ذرا سب کو بتاؤ . . . " " سوری میم ، دوبارہ کچھ نہیں کروں گا . . . . " یہ تو میں نے میم سے کہا ، لیکن میں اسے کچھ اور بھی بول سکتا تھا اور وہ یہ تھا " کہ میرے ارمان یہ ہے کہ تجھے پٹخ پٹخ کر چودوں ، کبھی آگے سے تو کبھی پیچھے سے . . . . " " سٹ ڈاؤن ، اور دوبارہ میری کلاس میں کوئی حرکت کرنے سے پہلے سوچ لینا . . . " اپنا منہ لٹکاے ، میں وآپس اپنی جگہ پر آیا ، جہاں اظہر بیٹھا مزے لے رہا تھا . . . . " اب چُپ ہو جا . . . " غصے میں میں نے کہا اور میری آواز ذرا تیز ہو گئی ، جسے وہ 5 ’ 8 " ہائیٹ والی پھر غصہ ہوگئی اور مجھے ایک بار پھر سے کھڑا کیا . . . . " وہ میم اس سے میں کچھ پُوچھ رہا تھا . . . " سحرش میم ، میرا گلا دباتی اس سے پہلے ہی میں نے بول دیا . . . . " تُم بھی کھڑے ہو . . . " اب کے بار اشارہ اظہر کی طرف تھا ، اور جب میم نے اسے کھڑے ہونے كے لیے کہا تو اس کے چہرے کا رنگ بھی بَدَل گیا ، . . . " کیا پُوچھ رہا تھا یہ تم سے . . . " " وہ میم ، بائنری کو کنورٹ کرنے کا میتھڈ ، پُوچھ رہا تھا . . . " جھوٹ بولتے ہوئے اظہر نے میری طرف دیکھا اور ساری کلاس نے ہم دونوں کی طرف نگاہیں ڈالی . . . " گیٹ آؤٹ . . . . " " کیا . . . " " میری کلاس سے باہر جاؤ اور آج کی تمہارا حاضری کٹ ، اور اگلی کلاس میں آؤ ، تو ذرا خیال سے ، کیونکہ نیکسٹ کلاس میں تم نے کوئی حرکت کی تو اسائنمنٹ ڈبل ہو جائیگا . . . . . اِس آس میں کہ میم کا دِل تھوڑا نرم ہو جاۓ اور وہ مجھے وآپس بیٹھا دے ، اس لئے میں تھوڑی دیر اپنی جگہ پر کھڑا رہا ، . . . لیکن وہ اِس دوران ہزاروں بار مجھے باہر جانے كے لیے بول چکی تھی ، اور پھر اس نے آخری بار پرنسپل كے پاس لے جانے کی دھمکی دی . . . پوری کلاس كے سامنے میری عزت میں چار چاند لگ چکے تھے ، لیکن جب سحرش میم نے پرنسپل کا نام لیا تو میں کسی بھیگی بلی کی طرح کلاس سے باہر آ گیا . . . . . . . مجھے اب بھی یاد ہے اس دن میں پورے چالیس منٹ کلاس كے باہر کھڑے رہا ، اور پھر جب سحرش میڈم کا پیریڈ ختم ہوا اور وہ باہر نکلی . . . لیکن میری طرف غصے سے اپنی ناک چڑاتی ہوئی وہاں سے آگے چلی گئی ، اور جب میں کلاس میں گیا تو تب سبھی کی نظریں مُجھ پر ہی ٹکی ہوئی تھی . . . . . " آؤ بیٹا ارمان ، کیا پورے ہوئے آپ کے دِل كے ارمان . . . " " چُپ ہوجا کمینے ، ورنہ یہی مار دونگا ، دماغ مت خراب کر . . . " " او تیری ، سوری یار . . . تجھے برا لگا ہو تو . . . " اظہر بولا . . . اس دن اس کلاس میں دو لوگ ایسے تھے ، جنہیں میں چاہ کر بھی نہیں بھلا سکتا ہوں ، ایک تو میرا خاص دوست بنا اور ایک لڑکا ایسا تھا، جسے دیکھ کر ہی میرے منہ سے گالیوں کی لمبی دھار نکلنے لگتی تھی . . . . " شوکت . . . " اس نے پہلے اظہر کی طرف ہاتھ بڑھایا اور پھر میری طرف . . . . شوکت مائننگ سبجیکٹ کا تھا ، اور وہ بھی تھوڑا سانولا تھا ، شوکت کو دیکھ کر ایک بار پھر میں نے خود سے کہا کہ " میں تو اس سے زیادہ ہینڈسم ہوں . . . . " " بھائی ، اگلی کلاس میں تھوڑا سنبھل کر . . . " مجھے نصیحت دینے لگا وہ . دوسری کلاس تو شروع ہو چکی تھی ، لیکن ٹیچر ابھی تک نہیں آیا تھا ، لڑکے ہو یا لڑکیاں سبھی سبزی منڈی کی طرح چیخ رہے تھے ، اور اسی دوران ایک لڑکی سامنے آئی اور ہم سب کو خاموش رہنے كے لیے کہا . . . . لیکن حالت پہلے جیسے ہی رہے . . . وہ لڑکی سامنے والے بینچ پر بیٹھے لڑکوں سے کچھ بولی ، اور سامنے بینچ پر بیٹھے لڑکیوں میں سب کو خاموش رہنے كے لیے کہا ، کچھ دیر لگا سب کو خاموش کرنے میں . . . . " گڈ مارننگ فرینڈ . . . مائی نیم اِس صائمہ . . . . " " تو کیا چوسنا ہے سب کا . . . " اظہر نے ایک پل بنا گنوائیں جواب میں بولا ، سن تو سب نے لیا تھا ، لیکن سب ری ایکشن ایسے کر رہے تھے ، جیسے کانوں میں روئی ڈال كے آئے ہو ، سامنے کھڑی اس لڑکی نے بھی سن لیا تھا ، لیکن وہ بھی ایسے ری ایکٹ کر رہی تھی ، جیسے اس نے سنا نہ ہو . . . . . " یہ تو چودے گی ، کمینی چپ . . . " " گانڈ پر لات مار کر بٹھاؤ اس کو . . . " پہلے اظہر اور پھر اس کے سر کے ساتھ سر ملاتا ہوا شوکت بولا ، میں بھی جوش میں آ گیا اور بولا " اِس انٹرودکشن دینے والی لڑکی کو ننگا کرکے پورے کالج میں بھگانا چاہیے . . . . " اُدھر صائمہ كے بَعْد باقی لڑکیوں نے بھی اپنا انٹرودکشن دیا ، یہ سلسلہ اور بھی آگے چلتا لیکن اگر بی ایم آئی كے سَر وہاں نہ آئے ہوتے تو . . . . اصل میں ہمارا سبجیکٹ تھا ، بیسک مکینیکل انجینیئرنگ ، ( بی ایم آئی ) ، لیکن جو سر ہمیں پڑھانے آئے تھے ، ان کا خود کا بی ایم آئی کلیئر نہیں تھا ، پوری کلاس كے دوران اس نے کیا پڑھایا کچھ سمجھ نہیں آیا ، پیریڈ بوا بھی کس لینگویج میں تھا ، یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا . . . . پڑھائی کی طرف سے میں تھوڑا سنجیدہ تھا ، اور اپنا پورا دماغ بی ایم آئی كے پیریڈ میں لگانے كے باوجود بھی جب ، کچھ سمجھ نہیں آیا تو ، ایک دَر دِل میں اٹھنے لگا کہ ایگزام میں کیا ھوگا . . . . " کیا ہوا ، . . . " " یار کچھ سمجھ نہیں آ رہا . . . " " تو ٹینشن کس بات کی یہ ٹاپک ہی چھوڑ دے . . . کون سا تجھے ٹاپ مرنا ہے " " مجھے ٹاپ ہی مرنا ہے . . . " اس وَقت تو اظہر سے میں نے یہ کہہ دیا ، لیکن یہ جنون میرے سَر سے بہت جلد اترنے والا تھا ، یہ میں نہیں جانتا تھا جاری ہے . . . . اس کو دیکھ ، خود کو حور سمجھ رہی ہے . . . " اظہر نے اسی لڑکی کی طرف اشارہ کیا ، جو کچھ دیر پہلے سامنے آکر انٹرودکشن دے رہی تھی . . . . " میرا بس چلے تو اس کا ٹی۔سی ہی اس کے ہاتھ میں دے دوں . . . " صائمہ کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے کہا ، کچھ دیر پہلے جب وہ سامنے آکر بول رہی تھی تو اس کی آواز نیچرل نہیں تھی ، وہ اپنی الگ ہی ٹون میں بات کر رہی تھی ، جو کی اکثر لڑکیاں کرتی ہے . . . . . شوکت اس وقت اسٹڈی میں لگا ہوا تھا ، اور میں اور اظہر اس لڑکی کو دیکھ کر دِل ہی دِل میں برا بھلا کہہ رہے تھے ، . . . تبھی اس کی نظر ہم پر پڑی ، اور میں نے جلدی اپنی نظریں اس کی طرف سے ہٹا کر اپنے رجسٹر کی طرف کر لی . . . . . " کہی یہ نہ سوچ لے کہ ہم دونوں اسے لائن مار رہے ہے . . . " میں نے پین پکڑا اور ٹیچر جو لکھا رہا تھا اسے لکھتے ہوئے بولا . . . . "میرا لنڈ لائن ، اتنے بڑے کالج میں یہ ایک ہی ہے کیا ، جو اسے لائن ماریں گے . . . اسے دیکھ کر تو سحرش میڈم كی کلاس میں کھڑا لنڈ بھی بیٹھ جاتا ہے . . . . " ہمارے ٹیچر کہ پریڈ ختم ہوگیا تھا " بھوک لگی ہے یار ، چل کینٹین سے آتے ہے . . . " اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوے میں نے بولا . . . " چل آجا ، کینٹین اُدھر ہے . . . " ویسے تو سینیرز کی کلاس لگی ہوئی تھی اس وقت ، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہے ، جو کلاس بند کرکے کینٹین آ جاتے ہیں ، جب ہم کینٹین كے اندر گئے تو وہاں لڑکیاں تو تھی ، لیکن ساتھ میں ہمارے سینیرز بھی تھے اور وہ ایسے بیٹھے ہوئے تھے جیسے کالج ان کے باپ کا ہو . . . . " چُپ چاپ ، ایک کرسی پکڑ لے ، ورنہ مسلہ ہو جائیگا . . . " میں اس وقت کچھ نہیں بولا ، اور ہم دونوں نے سائڈ کی کرسی پکڑ لی . . . . " اس کو دیکھ . . . " اظہر کا اشارہ کینٹین میں ایک طرف بیٹھے ہوئے سیئنر لڑکے کی طرف تھا ، جو کہ کچھ اسٹوڈنٹ كے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا . . . . " کیا ہوا . . . " میں نے بھی اسی طرف دیکھا . . . " اسکا نام کاشف ہے ، کمینہ سات سال سے اِس کالج میں پڑھ رہا ہے ، لیکن آج تک فورتھ ایئر میں ہی لٹکا ہوا ہے . . . " جب اظہر نے مجھ سے کہا تب میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا ، وہ اپنے ساتھ بیٹھے اسٹوڈنٹ میں سے زیادہ عمر کا لگ رہا تھا ، اور اپنے پیر سے ٹیبل كے نیچے سے دوسری طرف بیٹھی ہوئی لڑکی كے پیر کو سہلا رہا تھا . . . . " یہ لڑکیاں بھی نا جانے کیسے کیسے لڑکوں سے سیٹ ہوجاتی ہے . . . " اس لڑکی كے لیے جھوٹی اپنایت دکھاتے ہوئے میں نے اظہر سے پوچھا " یہ سات سال والا ہے کس برانچ کا . . . " " اپنی ہی برانچ کا ہے کمینہ اور کچھ لوگ کہتے ہے کہ یہ بہت ٹائٹ تنظیم سازی کرتا ہے . . . " تنظیم سازی کا سن کر گلا خشک ہو گیا ، اس وقت یہی ایک چیز تھی جو مجھ پر حاوی تھی ، جب سے میں کالج کیمپس كے اندر داخل ہوا تھا ، یہی چیز مجھے ڈرا رہی تھی . . . . " بہن چود ، یہ تنظیم سازی بند کر دینا چاہئے . . . " پانی پیتے ہوئے میں نے بولا ، پانی كے پورا ایک گلاس خالی کرنے كے بَعْد تھوڑا سکون آیا ، " بند ہے میری جان ، تنظیم سازی تو سالوں سے بند ہے لیکن یہ لوگ کر ہی لیتے ہے . . . " " یہ بہن چود کینٹین والا کہا مر گیا ہے. . . " ہائپر ہوتے ہوئے میں نے بولا اور میری آواز پوری کینٹین میں گونج اٹھی ، میرا اتنا کہنا تھا کہ سب کی نظر ایک بار پھر میری طرف ہوئی ، مجھے دیکھ کر کچھ اپنے کام میں لگ گئے ، کچھ ایسے بھی تھے ، جو میری طرف ہی دیکھ رہے تھے ، ان کی شکل سے لگ رہا تھا کہ ، وہ مجھے دل ہی دل میں گلیاں دے رہے ہے . . . . . تبھی وہ سات سال سے کالج میں پڑھنے والا اُٹھ کر ہماری طرف آیا ، اس کے ساتھ کچھ لڑکے بھی تھے اور وہ لڑکی بھی ، جو اس کے سامنے بیٹھی تھی . . . . . " کس سبجیکٹ کا ہے . . . " میرے سامنے والی کرسی کو دھکیل کر کاشف نے مجھ سے پوچھا . . . دِل کیا کہ اس کرسی کو ایک لات مارکر دور کر دو ، لیکن پھر اس کے بَعْد ہونے والے اپنے حال کا اندازہ لگا کر میں روک گیا . . . . " مکینیکل ، فرسٹ ایئر . . . " وہ میرے سامنے والی کرسی پر پورا کا پورا سماں گیا تھا ، " مجھے جانتا ہے . . . " " ہ. . ہ . . ہاں . . " گلا ایک بار پھر خشک ہونے لگا اور جیسے ہی میں نے پانی والے گلاس کی طرف ہاتھ بڑھایا اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور زور سے دبانے لگا ، دَرْد تو کر رہا تھا ، لیکن میں نے اپنے منہ سے ایک آواز تک نہیں نکالی اور نہ ہی اسے بولا کہ میرا ہاتھ چھوڑ دے ، ، . . " پانی بَعْد میں پینا ، پہلے میرے سوالوں کا جواب دے . . . " وہ میرے ہاتھوں کو اب بھی پکڑے ہوئے تھا اور اپنا پورا زور لگا کر دبائے جا رہا تھا . . . " ابے بول ، چھوڑ میرے ہاتھ کو ورنہ یہی پٹخ پٹخ کر گانڈ ماروں گا . . . . " اس کی آنکھوں میں آنکھ ڈالتے ہوئے میں نے صرف آنکھوں سے کہا. . . . " آنکھیں نیچے کر . . . " کاشف كے ساتھ جو لڑکے آئے تھے ، اُن میں سے ایک نے میرے سَر پکڑا اور نیچے جھکا دیا . . گیم شروع ہو چکا تھا ، اور مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب کچھ نہ کچھ برا ہی ھوگا . . . . میرے الٹے ہاتھ کی ہڈیوں کا کچومبر بنا کر اس نے میرا ہاتھ چھوڑا اور پھر میرے گریبان کو پکڑ کر بولا " بیٹا ، اوقات میں رہنا سیکھو اور سینیرز کو ریسپیکٹ دو . . . " کاشف کی بچی نے اپنے ٹیبل سے ایک سموسہ اُٹھا کر لائی اور اس کا آدھا ٹکڑا کھا کر باقی میرے چہرے پر تھوپ دیا ، اس وقت شاید میں بہت غصے میں تھا ، دِل کر رہا تھا ، کہ اس لڑکی کو کھینچ کر ایسا ٹھپر ماروں کہ اس کا سَر ہی دھڑ سے الگ ہو جائے ، لیکن غصے کو پینا پڑا ، میں انہیں دیکھنے كے سوا اور کچھ نہیں کر سکا . . . . . وہ سبھی مجھ پر کچھ دیر ہنسے اور چلے گئے . . . تبھی کاشف كے ساتھ والی لڑکی ، جس نے میرے چہرے کی یہ حالت کی تھی ، میری نظر اس کے گانڈ پر پڑی اور میں نے دل ہی دل میں یہ ارادہ کر لیا کہ ، " اس کو تو ایسا چودوں گا کہ اس کے چوت اور گانڈ كے ساتھ ساتھ منہ سے بھی خون نکل جائے . . . . " اپنا نام میری بیتی زندگی میں سن کر میرے خاص دوست کاشف نے مجھے میری کالج لائف سے باہر نکالا . . . . " یار ، یہ سات سال سے لگاتار فیل ہونے والے لڑکے کا نام کاشف کیسے ہے . . . " " اب تو یہ اس کے باپ سے پُوچھ ، کہ اس نے اس کا نام کاشف کیوں رکھا . . . " " لے یار ایک اور گلاس بنا . . . " اظہر نے اپنا خالی گلاس میری طرف بڑھایا ، اور میں نے کاشف کی طرف . . . . " رات ہو گئی کیا . . . " میں نے اٹھنے کی کوشش کی ، لیکن سَر گھوم رہا تھا ، اس لئے وآپس بیٹھ گیا . . . " ابھی دن ہے . . . دوپہر كے 12 بج رہے ہے . . . " کاشف نے پیگ بنا کر گلاس میری طرف بڑھایا اور بولا " آگے بتا ، کینٹین كے بَعْد کیا ہوا . . . " " کینٹین كے بَعْد . . . " جاری ہے . . . . . مجھ سے اس وقت کوئی کچھ اور پوچھتا تو شاید میں نہیں بتا پتہ ، لیکن میرے کالج میں بیتے لمحات مجھے اِس طرح یاد تھے کہ رات بارہ بجے بھی کوئی اٹھا كے پوچھے تو میں اسے بتا دوں . . . . اس دن کینٹین کی حرکت نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ، اظہر بھی چُپ بیٹھا ہوا تھا ، میں بری طرح غصے میں تھا ، اور جب کینٹین والا ہمارا آرڈر لیکر آیا تو میں نے بولا . . . " اب تو ہی کھا اسے . . . " میں وہاں سے غصے میں اٹھا اور کینٹین سے باہر آ گیا ، اظہر بھی پیچھے پیچھے تھا . . . " ارمان ، رک نہ یار ، . . . " اظہر بھاگ کر میرے سامنے کھڑا ہو گیا اور مجھے روک کر بولا " بھول جا . . . " " اس لڑکی کا کیا نام ہے ، بتا کمینی کو چود كر آتا ہوں . . . " " اس کا نام تو مجھے بھی نہیں معلوم . . . " یہ بولتے بولتے اظہر نے مجھے گلے لگا لیا ، پتہ نہیں کمینے میں کیا جادو تھا کہ میرا غصہ ٹھنڈہ ہونے لگا . . . . " دور ہٹ ، میں لونڈے باز نہیں ہوں . . . " جب میرا غصہ پوری طرح ٹھنڈا ہوگیا تو میں نے کہا . . . " ایک بات بتا ، تجھے کاشف كے ساتھ والی لڑکی اچھی لگی نہ . . . " مجھ سے الگ ہوتے ہوئے اظہر نے مجھ سے پوچھا . . . " اچھی تو ہے ، اس لیے تو اس کا نام پوچھا " " تو بھائی ، اسے بھول جا ، ورنہ کاشف ننگا کرکے بھگائے گا. . . " " وہ اتنی بھی خوبصورت نہیں ہے کہ میں اس کے لیے پورے کالج میں ننگا بھاگوں. . . ابھی صرف سحرش میڈم کی طرف اپنی توجہ دینی ہے " اس کے بَعْد ہم دونوں اپنی کلاس کی طرف آئے ، فرسٹ ایئر کی ساری کلاسس آس پاس ہی تھی ، اس لئے بریک ٹائم میں ہر سبجیکٹ کی لڑکیوں کو لائن مارا جا سکتا تھا . . . . ہم دونوں اپنی کلاس كے باہر کھڑے اسٹوڈنٹ كے پاس جا کر کھڑے ہو گئے ، جہاں گروپ بنا کر کچھ لڑکے باتیں کر رہے تھے اور جیسا کہ میں نے سوچا تھا ٹاپک لڑکیوں پر ہی تھا . . . . . " کہاں گئے تھے یار . . . " شوکت نے ہم دونوں سے ہاتھ ملایا اور پوچھا . . . " کینٹین . . . " اظہر نے جواب دیا . . . " کینٹین " اس کی آنکھیں نا جانے کتنی بڑی ہوگئی یہ جان کر جب اس نے سنا کہ ہم دونوں کینٹین سے ہو کر آئے ہے . . . . " کیا ہوا . . . " اس کی بڑی بڑی آنکھوں کو دیکھ کر میں نے پوچھا . . . " تنظیم سازی ہوئی ، تم دونوں کی . . . " تنظیم سازی . . . . یہ سن کر میں اور اظہر ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھاکنے لگے اور سوچنے لگے کہ اسے کیا بولا جائے . . . " نہیں . . . کسی نے تنظیم سازی نہیں کی . . . " " آج تو بچ گئے ، لیکن کل سے اُدھر مت جانا ، سینیرز ڈیرہ ڈال كے رہتے ہے اُدھر . . . . " " تو کیا ہوا ، پھٹتی ہے کیا . . . " یہ لفظ میں نے ایسے کہا ، جیسے کچھ دیر پہلے کاشف کی اس بچی نے نہیں بلکہ میں نے اس کے چہرے پر سموسہ ڈَلا ہو . . . . . " دیکھو بھائی ، مشورہ دینا میرا کام تھا . . . " شوکت بولا " ویسے اور کہاں کہاں یہ سینیرز ڈھوندتے ہے ہمیں . . . " " تِین جگہ پکی ہے ، پہلی کینٹین ، دوسری بس اسٹاپ اور تیسرا ہاسٹل . . . . " ہم اِس مسئلے پر کچھ دیر اور بھی بات کرتے لیکن اس سے پہلے ہی وہاں کھڑے لڑکوں میں سے کسی ایک نے ٹاپک کو چینج کرکے ، اپنے کالج کی حسیناؤں پر ٹاپک شروع کر دیا . . . . . اور اِس معاملے میں سب سے پہلا نام جو آیا وہ تھا سحرش میڈم ، . . . سب یہی چاہ رہے تھے کہ سحرش میڈم ان سے سیٹ ہو جائے ، کچھ ٹھرکیوں نے تو یہ تک بول دیا تھا کہ. . . " آج کالج سے جانے كے بَعْد سحرش میڈم کی نام کی مٹھ بھی ماریں گیں " تو بھی بول لے کچھ . . . " کاشف نے مجھے کونی ماری . . . . " میں تو اس وقت کاشف کی بچی کو چودونگا ، وہ بھی گھوڑی بنا کر . . . " " کاشف. . . " یہ نام سن کر سب چُپ ہوکر میری طرف دیکھنے لگے ، . . وہ سب مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کہ میں نے کسی کا قتل کرنے کا سرعام اعلان کر دیا ہو . . . . " میں نے تو ایسے ہی بول دیا . . . " میں نے بات وہی ختم کرنی چاہی . . . " یار ، ایسے مت بولا کر ، کہی سے کاشف کو پتا چل گیا تو پھر پنگا ہو جائیگا . . . " شوکت کی باتیں سن کر میں نے چاروں طرف دیکھا اور جب کنفرم ہو گیا کہ ، ہمارے گپ شپ کو کسی نے نہیں سنا تو میں نے بولا . . . " ڈرتا ہوں کیا ، " " دیکھ ، زیادہ شیر مت بن، ورنہ پول کھل جاے گا . . . " اظہر نے میرے کان میں سرگوشی کی. . . . کچھ دیر اور کالج کی لڑکیوں كے بارے میں باتیں کرتے ہوئے ، ہم نے اپنا وقت برباد کیا اور اسی دوران مجھے اور بھی بہت ساری باتیں معلوم ہوئی جو کہ ہمارے کالج میں برسوں سے چلی آ رہی تھی . . . . 1 . جب تم فرسٹ ایئر میں ہو ، تب ہی کوئی بچی پٹا لو ، ورنہ پورے چار سال خالی ہاتھ سے کام چلانا پڑیگا اور ہونٹ پر لڑکی كے ہونٹ کی جگہ ٹیپ سولیشن لگا کر رہنا پڑیگا . . . . " 2 . ہمارا کالج گورنمنٹ تھا ، اس لئے کالج كے پِرِنْسِپل اور ٹیچرز کو بھلے ہی ریسپیکٹ نہ دو ، لیکن وہاں کام کرنے والے ورکر اور پوئن کو سر کہہ کر بُلانا پڑیگا ، تاکہ وقت آنے پر وہ ہمیں لمبی لائن سے بچا سکے . . . . اس دن ایک اور ضروری بات جو پتا چلی وہ یہ تھی کہ . . . . . جب بھی کوئی لڑکی پٹاؤ تو اسے جلدی چود دو ، ہمارے کالج میں پڑھنے والوں کو منع تھا کہ گرل فرینڈ کو چودنے كے بَعْد لڑکیاں ، لڑکوں سے کسی لمبے عرصے کے لئے باندھ جاتی ہے ویسے ہرگز نہیں کرنا . . . . اس دن اور بھی کچھ پتا چلتا لیکن میتھ میٹکس والی میم نہ آتی تو . . . . " کتنی باتیں کرتے ہو تم لوگ ، پورے ہال میں تم لوگوں کی آوازیں آ رہی ہے . . . " سامنے والی بینچ پر اپنا بیگ رکھ کر میتھس والی میم نے بولا. . . . میتھس والی میم کا نام راحیلہ تھا ، جو بَعْد میں ہمارے یہاں " راحیلہ رانی " كے نام سے مشہور ہوئی کالج کا پہلا دن کسی بھی حساب سے میرے لیے ٹھیک نہیں رہا ، پہلے پہل تو سی ایس والی سحرش میڈم نے مجھے باہر بھاگا دیا اور بَعْد میں کینٹین والا مسلہ . . . . . کالج كے پورے پیریڈز اٹینڈ کرنے كے بَعْد ایسا لگ رہا تھا ، جیسے کسی نے ساری طاقت چوس لی ہو ، . . . " تھک گیا یار . . . " روم میں گھوستے ہی میں نے اپنا بیگ ایک طرف پھیکا اور بستر پر لیٹ گیا ، " چل گراؤنڈ چلتے ہے ، شام كے وقت ہاسٹل میں رہنے والی گرلز آتی ہے اُدھر . . . . . " گانڈ مروائے لڑکیاں . . . مجھے تو نیند آ رہی ہے . . . " " ٹھیک ہے تو سو ، میں آتا ہوں . . . " میں زیادہ تھکا ہوا تھا ، اس لئے جلدی نیند آ گئی ، اور جب میری آنکھ کھلی تو اظہر مجھے اٹھا رہا تھا . . . . " کیا ہوا بے . . . " " یار رات كے آٹھ بج گئے . . . " " تو . . . " میں نے سوچا کچھ کام ھوگا . " تو کیا . . . . . رات كے آٹھ بجے کوئی سوتا ہے کیا . . . " " اب تو یہ فیصلہ کرے گا کہ مجھے کتنے بجے کیا کرنا ہے . . . " " ٹائم پاس نہیں ہو رہا تھا ، تو سوچا تجھے اُٹھا کر گپ شپ مار لوں . . . ." " ٹائم پاس نہیں ہو رہا ہے تو جا کر مٹھ مار لے . . . " اور میں پھر سے چادر اورھے گہری نیند میں چلا گیا . . . . . پرانی عادت اتنی جلدی نہیں بدلتی ، جب میں اسکول میں تھا تب اکثر صبح چار بجے اُٹھ کر پڑھائی شروع کر دیتا تھا ، اور اسی کی بدولت مجھے بہت ہی اچھا کالج ملا تھا . . . اس دن بھی میں نے چار بجے کا آلارم سیٹ کیا اور جیسا کہ پہلے ہوتا تھا ، دوسرے دن میری آنکھ آلارم کی وجہ سے صبح چار بجے کھل گئی ، لائٹ آن کی اور کاشف کی طرف دیکھا . . . کاشف آدھا بستر پر تھا اور آدھا بستر كے باہر ہی جھول رہا تھا . . . . " کیا خاک پڑھوں . . . کل تو سب سَر كے اوپر سے گزر گیا تھا . . . " بکس اور نوٹ بک کھول کر میں نے ڈھیر ساری گالیاں دی . . . . کچھ دیر تک ٹرائی کرنے كے بَعْد بھی جب کوئی فائدہ نہیں ہوا تو ، میں نے لائٹس اوف کی اور چادر اوڑھ کر لیٹ گیا . . . . میری پرانی عادت كے بدولت نیند تو آنے سے رہی ، اس لئے میں کچھ سوچنے لگا . . . جیسے کہ کس ٹائم پر کس سبجیکٹ کو پڑھنا ہے تاکہ دماغ میں سہی طرح سے بیٹھ جاۓ ، پھر جیسے ہی میرے دماغ میں سی ایس سبجیکٹ کا خیال آیا تو سب سے پہلے میری بند آنکھوں كے سامنے سحرش میڈم کا حَسِین چہرہ اور اس کا حَسِین جسم لہرا گیا . . . . وہ میرے سامنے نہیں تھی ، لیکن میں انہیں پورا دیکھ سکتا تھا ، . . . اور اِسی خیالات میں ڈوبتے ہوئے میرا ہاتھ میرے پینٹ کی طرف بڑھا اور پینٹ کی زپ کھول کر میرا ہاتھ نہ چاہتے ہوے بھی میرے کھڑے لنڈ پر چلنا شروع ہوگیا صبح صبح ہی کام ہو گیا ، اس کے بَعْد جو آنکھ لگی تو وہ سیدھے صبح كےآٹھ بجے کھلی . . . . آج كے دن کالج میں کوئی ایسی آنے والی تھی ، جسے نہیں آنا چاہئے تھا ، اس دن بھی میں اور اظہر کالج كے پیچھے والے گیٹ سے اندر گئے اور سیدھے اپنی کلاس كے اندر دستک دی . . . . شوکت پہلے سے ہی آ چکا تھا . . . " چل باہر سے آتے ہے . . . " میں اپنی سیٹ پر بیٹھا ہی تھا کہ شوکت نے اپنے بیگ میں کچھ ڈھونڈتے ہوئے مجھ سے بولا . . . . " کیوں . . . . کیا ہوا ؟ " " لگتا ہے ، بائیک کی چابی بائیک میں ہی لگی رہ گئی ہے . . . " اس نے گھبراہٹ میں جواب دیا . . . میں نے سوچا ، اظہر کو اس کے ساتھ بھیج دوں، لیکن اظہر تو پیچھے کسی سے جان پہچان بنا رہا تھا اس لئے مجھے ہی اس کے ساتھ جانا پڑا . . . . " بائیک میں لگی ہے چابی . . . " بائیک میں چابی لگی دیکھ کر شوکت نے سکھ کا سانس لیا. . . ہم دونوں ابھی بائیک اسٹینڈ پر ہی کھڑے تھے کہ تیز رفتاری سے آتی ہوئی ایک کار نے وہاں کھڑے سبھی لوگوں کا دھیان اپنی طرف متوجہ کیا. . . . کار دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اندر بیٹھا ہوا شخص کی حیثیت کتنی زیادہ ہے . . . . " کوئی وڈیرے کا لڑکا ھوگا. . . " میں نے سوچا ، لیکن میری سوچ مجھے تب دھوکہ دے گئی ، جب اس چم چماتی کار سے لڑکے کی جگہ ایک لڑکی باہر آئی ، . . . لڑکی کیا پوری ماڈرن قسم کی ہیروئن تھی وہ ، سر سے لیکر اس کے سینڈل تک اس کی دولت اور اس کی ماڈرن زمانے كے رنگ میں رنگی اس کی شخصیت کی پہچان کرا رہی تھی . . . . پہلے تو میں نے اس لڑکی کو پورا اوپر سے لیکر نیچے تک دیکھا اور بَعْد میں میرے نظر اپنے آپ اس جگہ پر اٹک سی گئی ، جو ایک لڑکی میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھا ، . . . اور ایسی حَرْکَت کرنے والا میں وہاں اکیلا نہیں تھا ، وہاں کھڑے تقریباً سبھی لڑکوں کا یہی حال تھا ، سب اپنی پسندیدہ جگہ دیکھ کر لالچا رہے تھے . . . . . " یہ کون ہے . . . " میں نے شوکت سے پوچھا تو اس نے جواب میں کاندھے اچکا کر نہ کر دیا . . . . ویسے تو اس کالج میں بہت ساری خوبصورت لڑکیاں تھی ، لیکن وہ لڑکی جو ابھی ابھی کار سے باہر آئی تھی ، وہ اُن میں سے سب سے الگ لگی مجھے . . . ایسا مجھے کیوں لگا اس کا وجہ آج تک میں نہیں جان پایا . . . . . . اسے دیکھ کر میں اور شوکت وہی کھڑے رہ گئے ، ہمارے قدم زمین پر اور آنکھیں اس لڑکی پر ہی جمی ہوئی تھی . . . . اس کے ساتھ کار سے ایک اور بھی لڑکی باہر نکلی ، جو اس کی قریبی فرینڈ ھوگی ، ایسا میں نے سوچا . . . . " سارہ. . . . " اس لڑکی کی فرینڈ نے پہلی بار اس ماڈرن لڑکی کا نام پکارا . . . . . " سارہ . . . . " میں نے بھی دِل ہی دِل میں یہ نام لیا ، اور بہت خوش بھی ہوا اور میرے ارمان اسے دیکھ کر باہر آئے " اس کو تو پٹانا پڑیگا . . . " " کیا . . . ؟ " شوکت بولا . . . " کچھ نہیں ، چل کلاس شروع ہوگئی ھوگی . . . " برسوں سے کچھ لفظ ، کچھ الفاظ بڑی مشکل اور شدت سے لکھ رکھے تھے میں نے کسی كے لیے ، جو میرے لیے خاص ہو اور آج سارہ کو دیکھ کر وہ الفاظ میرے دِل سے باہر آنے كے لیے مچل رہے تھے . . . . . . "میں اکثر کبھی اپنی آنکھیں بند کرتا ہوں ، بہت سے چہرے مجھے دکھائی دیتے ہے لیکن ایک چہرہ ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے ، میرے دل میں رہتا ہے. . . . . . " وہ چہرہ میری محبّت ہے . . . . . . . . جاری ہے . . . . " باہر . . . باہر ، بلکل باہر . . . " راحیلہ میڈم نے مجھ سے کہا ، جب میں نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو " یہ کیا تمہارا گھر ہے . . . " " سوری میم . . . " نظریں جھکا کر معصوم بننے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے میں نے بولا . . . لیکن میری اس معصومیت کا راحیلہ رانی پر کوئی اثر نہیں ہوا ، اور اوپر سے اس نے دھمکی بھی دے دی کہ میں نے اسے بحث کی تو وہ آنے والے تین دن تک حاضری نہیں لگاۓ گی . . . کل سے یہ سب کچھ میرے ساتھ پہلی بار ہو رہا تھا ، پہلے کبھی بھی کسی نے کلاس سے باہر نہیں بھیجا تھا ، اس لئے مجھے معلوم تک نہیں تھا کہ ، ٹائم پاس کیسے کروں ، اس وقت کالج میں گھوم بھی نہیں سکتا تھا ، کیا پتہ کوئی سینیر پکڑ کر تنظیم سازی نہ کر لے . . . . دِل کر رہا تھا کہ راحیلہ میم کے بال پکڑوں اور گھسیٹ کر اسے کلاس سے باہر کر دوں. . . . " اندر آ جاؤ ، اور اگلی بار وقت کا خیال رکھنا . . . " راحیلہ رانی نے میری طرف دیکھا ، شاید میری جھوٹی معصومیت اور بھولے پن کو انہوں نے اصلی سمجھ لیا تھا . . . . جب کلاس كے اندر آیا تو ایک بار پھر پوری کلاس مجھے گھور رہی تھی ، کچھ مجھ پر ہنس بھی رہے تھے اور کلیجہ تب جل گیا تب دیکھا کہ اظہر بھی ہنس رہا ہے . . . . " اور بیٹا ، کہاں گھوم رہا تھے تم دونوں . . . " میں اظہر كے لیفٹ سائڈ میں بیٹھا اور شوکت رائٹ سائڈ میں بیٹھ گیا . . . " کہی نہیں یار ، بائیک اسٹینڈ تک گئے تھے . . . " شوکت بولا " ٹائم سے واپس بھی آ جاتے اگر وہ لڑکی نہیں دکھی ہوتی تو . . . . " " کون سی لڑکی ، جلدی بتا . . . " میم کو شک نہ ہو اس لئے ہم تینوں اپنے رجسٹر میں سامنے بورڈ پر لکھا ہوا سب کچھ چھاپ رہے تھے ، اور دھیمی آواز میں گپیں بھی لڑا رہے تھے . . . . . " پتا نہیں کون ہے ، لیکن ہے ایکدم پٹاخہ . . . . اس کے سامنے تو سحرش میڈم بھی کچھ نہیں ہے . . . " سامنے بورڈ کی طرف دیکھ کر میں نے بولا ، . . . ایک دو بار راحیلہ رانی سے میری نظر بھی ملی ، تب میں نے اپنا سَر اوپر نیچے کرکے اسے احساس کروایا کہ مجھے سب کچھ سمجھ آ رہا ہے ، جب کہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا ، میں تو اس وقت صرف اور صرف سارہ كے بارے میں سوچ رہا تھا ، اس وقت میں صرف اور صرف سارہ كے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا . . . . " کتنا اچھا ہوتا ، یار اِس راحیلہ کی جگہ وہ سارہ ہمیں میتھس پڑھاتی . . . . " دِل كے ارمانوں نے اک بار پھر گھنٹیاں بجانا شروع کر دی ، اور ان گھنٹیوں کو کسی نے بہت زور سے بجایا . . . . " میم . . . " کلاس كے دروازے کی طرف سے کسی کی آواز آئی . . . . اور جب نظریں اس طرف گھومائی تو بس وہی جم کر رہ گئی ، دروازے پر سارہ کھڑی تھی . . . " یس . . . " میتھ والی میم نے سارہ سے کہا . . . " یہ بھی اسی کلاس میں پڑھے گی ، " خوش تو بہت ہوا تھا ، بینچ پر کود کود کر ڈانس کرنا چاہتا تھا ، اظہر اور شوکت سے کہنا چاہتا تھا کہ " تم لوگ یہاں سے اَٹھ جاؤ کمینوں ، وہ یہاں بیٹھے گی . . . " لیکن افسوس تب ہوا جب وہ بولی کہ . . . . " میم سی ایس سبجیکٹ کی کلاس کون سی ہے . . . " کوری ڈور میں سب سے پہلی کلاس ہماری ہی تھی ، اس لئے وہ شاید ہمارے کلاس میں اپنی کلاس پوچھنے آئی تھی ، سوچا کے رَو رَو کر اسے اِس بات کا احساس ڈالاؤں کہ میں کتنا دُکھی ہوں ، اس کے یوں جانے سے ، اظہر میرے اندر کی بے چینی کو سمجھ گیا اور بولا . . . " اوئے ، یہ ڈرامہ بند کر ، اور اپنی توجہ کا مرکز صرف سحرش میڈم کو بنا " سارہ تو اپنی کلاس میں چلی گئی ، لیکن اس کا عکس میرے دِل پر رہ گیا تھا ، اور سارہ کا عکس صرف مجھ پر ہی نہیں پڑا تھا ، اور بہت سے لوگ تھے ، جن کا دِل سارہ كے اِس طرح سے جانے كی وجہ سے اُداس تھا . . . . اظہر اور شوکت بھی اسی لسٹ میں تھے . . . . . " وہ میری بچی ہے ، اس کو دیکھنا بھی مت . . . " سارہ كے جانے كے بَعْد میں نے پھر سے بورڈ پر نظریں گاڑ دی اور جو کچھ بھی راحیلہ رانی لکھ رہی تھی ، میں اسے اپنی نوٹ بک میں چھاپتے ہوئے ان دونوں سے بولا . . . . " سیٹ تو مجھ سے ہی ھوگی . . . " شوکت نے کہا . . . " گانڈ مروا لو سب لڑکیوں سے ، سحرش کو دیکھو گے تب بھی یہی بولو گے کہ یہ میری بچی ہے ، سارہ کو دیکھو گے تب بھی یہی بولو گے کہ یہ میری بچی ہے ، کسی اور لڑکی کو بھی دیکھو گے تو وہ بھی تم دونوں کی ہی بچی ہوگی ، میں یہاں صرف ہلانے آیا ہوں ہے نہ " میں اور شوکت ہنس پڑے ، اور ایک بار پھر راحیلہ میم نے اپنی ظالمانہ نظروں سے ہم دونوں کو گھورنے لگی ، راحیلہ میم كے اِس طرح سے دیکھنے كی وجہ سے میں اور شوکت چُپ ہو گئے اور ایکدم سریس اسٹوڈنٹ بن کر سامنے ڈیسک پر رکھی بکس كے صفحات الٹنے لگے . . . . . " چل آجا کینٹین سے آتے ہے . . . " بریک میں اظہر نے مجھ سے کینٹین چلنے كے لیے کہا ، اور میری آنکھوں كے سامنے وہ نظارہ چاہ گیا جب کاشف کی بچی نے میرے چہرے سے پیار کر رہی تھی . . . . میں نے اظہر کو صاف منع کر دیا کہ میں کینٹین کی طرف نہیں جاؤنگا ، اور پھر میں اپنے ہی کلاس كے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا ، جہاں کچھ لڑکے کھڑے ہوکر بات کر رہے تھے ، میں کھڑا تو اپنے کلاس میں تھا لیکن آنکھیں سی ایس سبجیکٹ کی کلاس کی طرف ٹکی ہوئی تھی ، . . . میں اس وقت وہاں کھڑا اس وقت کا انتظار کر رہا تھا کہ کب وہ خوبصورت سارہ اپنی کلاس سے باہر نکل کر آئے اور میری آنکھوں کو سکون ملے . . . . خدا نے جیسے میری دل کی بات سن لی ہو ، سارہ اپنے اسی فرینڈ كے ساتھ کلاس سے باہر نکلی اور باہر کھڑے سب لوگ مچل اٹھے ، سب لوگ سارہ کو دیکھ رہے تھے . . . . . ہماری کلاسز فرسٹ فلور پہ تھی اور کوری ڈور كے دونوں طرف سے نیچے جانے كے لیے سیڑھیاں بنی ہوئی تھی . . . . سارہ اپنے فرینڈ كے ساتھ ہماری طرف آنے لگی ، . . . میں یہ جانتا تھا کہ وہ میرے لیے تو اِس طرف نہیں آ رہی ہے ، لیکن پھر بھی دھڑکنیں تیز ہو گئی ، اور وہ جب میرے سامنے سے گزری تو میری زبان لڑکھڑائی " آئی . . . . . " بس اتنا ہی بول سکا میں سارہ کو دیکھ کر ، اور آواز بھی اتنی دھیمی تھی کہ میرے ساتھ کھڑے میری کلاس والے بھی اس آواز کا نہ سن سکے . . . . میں پہلے بھی حیران ہوا کرتا تھا اور اب بھی حیران ہوا کرتا ہوں ، کہ اظہر کیسے جان جاتا ہے کہ دوسرا شخص کیا سوچ رہا ہے . . . . " مطلب . . . . " زمین پر لیٹے کاشف نے سگریٹ كا دھواں اڑاتے ہوئے مجھ سے پوچھا . . . " مطلب کہ. . " میں نے اظہر کی طرف دیکھا ، کمینہ شراب کی بوتل لیے باتھ روم سے باہر آ رہا تھا " اظہر کی ایک خاصیت ہے ، وہ کسی کی بھی شکل دیکھ کر یہ بتا دیتا ہے کہ اس کے اندر کیا چل رہا ہے ، وہ شخص کس سوچ میں ڈوبا ہوا ہے . . . . " " ایسا ہے کیا . . . " جاری ہے . . . . . " ہاں یار ، . . " " پھر تو . . . " یہ بولتے ہوئے کاشف زمین پر بیٹھ گیا اور اظہر کی طرف دیکھا . . . . " یہ کمینہ باتھ روم میں بوتل لے کر کیوں گیا تھا ؟ " " میری عادت ہے . . . " میرے پاس بیٹھتے ہوئے کاشف کی طرف دیکھ کر اظہر نے جواب دیا . . . " بڑی عجیب عادت ہے یار ، اچھا ہوا کھانے کی پلیٹ لیکر باتھ روم جانے کی عادت نہیں ہے ، ورنہ ایک طرف سے مٹیریل باہر نکلتا تو دوسری طرف سے اندر جاتا . . . . " کاشف زور زور سے ہنسنے لگانے لگا اور مجھ سے بولا " تو کیوں روک گیا بے ، آگے بتا کیا ہوا . . . . " اُس دن بریک ٹائم میں جب میں نے دھیمی آواز میں " آئی " بولا تھا ، تب اظہر میرے برابر میں ہی کھڑا تھا ، اور جب سارہ ہماری آنکھوں كے سامنے سے گزری تو وہاں ایک اظہر ہی ایسا لڑکا تھا جو سارہ کی جگہ مجھے دیکھ رہا تھا اور میرے چہرے كے بدلتے رنگ کو دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا کہ میرے اندر ابھی کیا چل رہا ہے . . . . . . " چل آجا . . . " میرا ہاتھ پکڑ کر اظہر بولا . . . " کہاں آجا یار. . . " " چل سارہ سے تیری بات کراتا ہوں . . . " یہ سنتے ہی میں نے جلدی اس کا ہاتھ دور کیا اور بولا " تجھے ایسا کیوں لگا کہ میں سارہ سے بات کرنا چاہتا ہوں ؟ " " اب بیٹا ہم کو گنتی گننا نہ سکھاؤ . . . جب سے تو نے اسے دیکھا ہے ، تیرے چہرے پر لالی چھائی ہوئی ہے . . . " " ہٹ یار . . . . ایسی درجنوں لڑکیوں کو میں روز دیکھتا ہوں ، تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں ان سے بات کروں . . . . " " ابھی ان درجنوں لڑکیوں کو چھوڑ اور اس طرف دیکھ . . . " دوسری طرف سے سارہ اپنی زلف لہراتی ہوئے وآپس آ رہی تھی ، اُس وقت دِل میں ارمان اٹھا کہ کاش سارہ سیدھے میرے پاس آئے اور مجھے بولے کہ " ہیلو ہینڈسم ، تمہارا نام کیا ہے . . . " دِل میں ارمان جاگے کہ وہ مجھے دیکھے اور مجھے دیکھتے ہی اسے مجھ سے محبّت ہو جائے ، وہ قریب آتی گئی اور میرے منہ سے " آئی . . . . . . " لفظ اک بار پھر باہر آیا ، لیکن جب وہ اپنے کلاس کی طرف گئی تو یہ " آئی . . . . " لفظ وآپس اندر چلا گیا . . . . " دِل توڑ دیا اس نے اُس طرف جا کر . . . " اپنے سینے میں ہاتھ رکھ کر سہلاتے ہوئے مزاخیہ اندازِ میں میں نے بولا . . . . " یار ، اظہر کچھ جوگار کرنا . . . . اسے ایک بار دل بھر کر دیکھنا چاہتا ہوں . . . . " " چل آجا پھر . . . " اظہر نے ایک بار پھر میرا ہاتھ پکڑا . . . " کمینے ہاتھ چھوڑ ، چھوٹا بچہ ہوں کیا ، جو بات بات پر ہاتھ پکڑ لیتا ہے . . . " " پیار ہے پگلے . . . " " اِس پیار کو تھوڑا کم کر " سی ایس سبجیکٹ میں اظہر کا ایک دوست تھا ، جس کے پاس جا کر میں اور اظہر بیٹھ گئے . . . . جہاں اظہر اپنے دوست سے بات کرنے لگا وہی میں چپکے سے سارہ کو تکنے لگا . . . . ایسا نہیں تھا کہ میں نے سارہ سے پہلے کوئی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی تھی ، لیکن جو کشش اس میں تھی وہ آج تک مجھے کسی بھی لڑکی میں محسوس نہیں ہوئی تھی ، اُس وقت اس کی مقناطیسی کشش مجھ پر غالب آ رہی تھی ، جو مجھے مدہوش کرنے کے لئے کافی تھی. . . . . اسی دوران پہلی بار اس نے مجھے دیکھا لیکن میری نظری یکایک دوسری طرف ہو گئی ، دِل کی دھڑکنوں نے اک بار پھر سے بھرنے لگی . . . . . " کیا ہوا بے . . . " مجھے دوسری طرف دیکھتے ہوئے دیکھ کر اظہر نے پوچھا . . . " کچھ نہیں ، بس اس نے مجھے دیکھ لیا . . . . " " تو ، یہی تو موقع تھا ، آنْکھ مار دیتا اسے اسی وقت . . . " " پھٹتی ہے میری ان سب کاموں سے . . . " " لو تب تو وہ سیٹ ہوگئی تیرے سے . . . . " اظہر نے سارہ کی طرف دیکھا . . . " سن ارمان ، سارہ تجھے ہی دیکھ رہی ہے . . . . " " کیا . . . . " دِل ایک بار پھر زور سے دھڑکا . . . اور میں نے سارہ کی طرف دیکھا ، اظہر سچ بول رہا تھا وہ میرے طرف ہی دیکھ رہی تھی . . . اُس وقت مجھے ایسا لگا جیسے کہ وقت ٹھہر گیا ہو ، اُس وقت مجھے ایسا لگا کہ وہاں اُس کلاس روم میں میرے اور اس کے سوا کوئی نہیں ہے . . . . " تم دونوں تو ایک دوسرے آنکھیں چار کر رہے ہو لیکن . . . . . " اظہر بولا اور بولنے كے فوراً بَعْد میرے کاندھے کو پکڑ کر زور سے ہلایا " بریک ٹائم ختم ہوا میرے لال ، اب اپنی کلاس کی طرف چلے یا اِس بار بھی یہی ارادہ ہے کہ اگلا پیریڈ کا ٹیچر تجھے باہر نکال دے . . . . " "بریک ختم ہو گیا . . . " " بلکل اور تو پچھلے بیس منٹ سے اس کو گھورے جا رہا ہے بنا پلکیں جھپکائے. . . . " اظہر اور میں سارہ کی کلاس سے باہر آئے ، کلاس تو شروع ہوچکی تھی لیکن ٹیچر ابھی تک لاپتا تھا . . . . . اپنی سیٹ پر بیٹھ کر میں کچھ دیر پہلے جو کچھ بھی ہوا ، اس کو یاد کرنے لگا اور ہاتھوں میں پین پکڑ کر ڈیسک پر اسکا نام لکھنے لگا . . . . . " سارہ . . . . . " اِس نام کو سامنے والی ڈیسک پر پین سے لکھنے كے بَعْد میں اسے اپنے ہاتھوں سے سہلانے لگا ، وہ نام میں نے نارمل پین سے لکھا تھا ، اُس نارمل پین كے نارمل سیاحی سے لکھا تھا ، لیکن جو چار الفاظ وہاں ابھرے تھے ، وہ میرے لیے نارمل نہیں تھا ، . . . ان چار الفاظوں سے ایک لگائو سا ہوگیا تھا . . . . لیکن اُس وقت میں یہ بھول گیا تھا کہ میری ساتھ میرا سب سے کمینہ اور خاص دوست اظہر بیٹھا ہے ، جو مجھے ایک پل كے لیے بھی چین سے سانس لینے نہیں دیگا . . . . میری اِس حرکت وہ مجھ پر چلایا . . . " ابے یہ کیا کر رہا ہے . . . " اس کے اِس طرح سے اچانک بولنے سے میرا دھیان ٹوٹا اور جن چار الفاظوں سے مجھے لگاؤ تھا ، انہیں میں مٹانے کی کوشش کرنے لگا . . . . لیکن سیاحی سُوکھ چکی تھی ، اس لئے نام مٹنا تھوڑا مشکل تھا . . . . . . " ہاتھ ہٹا . . . " " نہیں . . . " میں نے سارہ كے نام كے آگے ایسے ہاتھ رکھ کر کھڑا تھا جیسے کی میرا ہاتھ ہٹاتے ہی میری عزت لٹنے والی ہو . . . . " دیکھ ارمان ، مجھے دیکھا دے کہ کیا لکھا ہے ڈیسک پر تو نے ، ورنہ پوری کلاس کو بتا دوں گا . . . . " " تیری تو " کیا کرتا ، مجبوری مجھے ہاتھ ہٹانا ہی پڑا . . . " تیری رائٹنگ تو بہت اچھی ہے . . . " یہ بول کر اظہر پیچھے موڑا تو میں نے وآپس سارہ كے نام کو اپنے ہاتھوں سے ڈھک لیا . . . " بوتل ہے . . . " اظہر نے پیچھے بیٹھے کسی لڑکے سے بولا . . . جاری ہے . . . . " پانی کی بوتل" نہیں شراب کی بوتل . . . . یار کلاس میں ہو تو پانی کی بوتل ہی مانگوں گا نہ. . . . " " تو سہی سے بول نہ . . . . " اظہر نے جس سے پانی کا بوتل مانگا تھا وہ بولا . . . " ابے گھونچو اس طرح تو کیا خاک انجینئر بنے گا ، کمینے نے میٹرک کا ایگزام پکا نقل سے پاس کیا ھوگا . . . اب لا دے بوتل " اس کے ہاتھ سے بوتل لیکر اظہر نے پانی کی کچھ بوندے ڈیسک پر ڈالی اور سارہ کا نام مٹا کر مجھ سے بولا . . . " یہ عاشقی کا جو بھوت سوار ہے نہ، اس کو سنبھل کر رکھ ورنہ لینے كے دینے پڑ جائینگے . . . . " " کمینے تو مجھے ڈرا رہا ہے . . . " " یہی تو پیار ہے پگلے " ہفتے میں تین دن ہمارا لیب کا ہوتا تھا ، اور ہر ایک لیب دو دو پیریڈز كے برابر تھا ، ہم سب اپنے باقی كے کام لیب کلاس میں ہی نپٹا لیتے تھے ، شروع كے آدھے گھنٹے میں لیب والے سر آ کر ہمیں ایکسپیریمینٹ اور اکوپمنٹ کو کیسے یوز کرنا ہے ، یہ بتا کر اپنی سیٹ پر برجمان ہو جاتے اور اس کے بَعْد کا پورا وقت ہم ایس ایم ایس بھیجنے میں ، اسائنمنٹ کمپلیٹ کرنے میں استمعال کرتے تھے ، ہمارے کالج كے ٹیچرز کی ایک بہت ہی خراب عادت یہ تھی کہ وہ چھوٹی سی چھوٹی بات پر یا تو حاضری کٹ کر دیتے تھے ، یا پھر سیدھے کلاس سے باہر ہی بھاگا دیتے تھے . . . اس دن فیزکس کا لیب تھا اور لیب میں، میں سی ایس کا اسائنمنٹ کر رہا تھا اور اِس کام میں اظہر بھی باخوبی میرا ساتھ دے رہا تھا کہ اچانک صدیقی سر کی آواز پوری لیبارٹری میں گونجی . . . . " جو اسٹوڈنٹ ریڈنگ اور فائنل رزلٹ دکھائیں گا ، میں اسی کو آج کا حاضری دوں گا . . . . " " لگ گئے لوڑے . . . . " ایک دَرْد بھری غصے سے بھرپور آواز میں اظہر نے دھیمی سی آواز میں بولا . . . . " اب کیا کرے . . . " " پتا نہیں . . . " اس وقت مجھے اپنے اسکول كے دنوں کی یاد آ گئی ، جب میں لیب سے اکثر پاس آؤٹ ہوچکے اسٹوڈنٹ کی کاپی چھپا کر چھاپ دیا کرتا تھا . . . . . " ہم دونوں کو پریکٹیکل کا مینول نہیں ملا ہے نہ . . . " میں نے اظہر سے پوچھا . . . . ہم دونوں کا رول نمبر آگے پیچھے تھا ، اس لئے ایکسپیریمینٹ بھی سیم تھا . . . . " صدیقی دے رہا تھا ، لیکن میں نے لیا ہی نہیں . . . . اور ویسے بھی اس کو ریڈنگ دکھانی ہے . . . ." " تو روک میں کچھ کرتا ہوں . . . " یہ کام میں پہلے بھی بہت بار کر چکا تھا ، اس لئے دَر تو نہیں لگ رہا تھا لیکن پھر بھی تھوڑی سی گھبراہٹ ہو رہی تھی . . . . " سر ، ہمارے پاس مینول نہیں ہے . . . " لیب والے سر كے پاس کھڑے ہوکر میں نے معصومیت سے بولا . . . اس کے بَعْد صدیقی نے کئی باتیں کی ، ہمارا رول نمبر پوچھا ، اور اس کے بَعْد اس نے ایکسپیریمنٹس كے بارے میں مجھ سے پوچھا . . . . اس وقت تو ایکسپیریمینٹ کا اوبجیکٹ کیا ہے مجھے یہ تک نہیں معلوم تھا تو پھر اسکا پرنسپل کیسے بتاتا . . . . . . " سر ، یہاں کوئی پرانا رجسٹر مل جاتا تو تھوڑا آئیڈیا مل جاتا . . . . " اپنے منصوبے کے تحت میں نے سر سے کہا. . . جہاں صدیقی بیٹھا ہوا تھا ، وہاں سے بائیں طرف ایک چھوٹا سا روم تھا . . . اس نے پہلے پانچ منٹ تک میری شکل دیکھی اور پھر مجھے اندر جانے كے لیے کہا . . . . " وہ اندر بیٹھی ہوئی ہے ، ان سے مانگ لو . . . . " " تھینک یو سر . . . . " آدھا کام تو کر لیا تھا ، بس آدھا کام اور باقی تھا ، پہلے میں نے سوچا کہ اندر جس روم میں میں جا رہا تھا وہاں کوئی صدیقی کی عمر کا ہی ٹیچر ھوگا ، یعنی کہ 40 سے 45 تک کی عمر کا ، لیکن جیسے ہی میں نے اندر قدم رکھا میری آنکھیں باہر آ گئی یہ دیکھ کر کہ اندر سحرش میڈم بیٹھی ہوئی ہے . . . . . . " میم ، وہ پرانے پریکٹیکل رجسٹر چاہئے تھے . . . . " اس روم كو چاروں طرف سے دیکھتے ہوئے میں نے بولا . . . . " سر سے پوچھا ہے . . . " وہ ٹیبل پر ایسے بیٹھی تھی ، جیسے کہ وہ اِس کالج کی پرنسپل ہو . . . . " جی میم ، انہوں نے ہی کہا ہے کہ میں اندر جا کر اپنا کام کر سکتا ہوں . . . " میں نے جان بوجھ کر ایسا کہا . . . . " کیسا کام . . . " کرسی پر سیدھے ہوتے ہوئے انہوں نے میری طرف نگاہ ڈالی . . . . " وہی والا . . . . . " میں نے بولا ، فلرٹ کرنا میرے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی ، میں اکثر موقع ملنے پر یہ سب کر دیا کرتا تھا پر افسوس کہ آج تک کسی لڑکی نے میرے ارمانوں کو ٹھنڈا نہیں کیا تھا . . . . . . " میکنیکل فرسٹ ایئر رائٹ . . . . " میں نے ہاں میں سَر ہلایا تو سحرش میڈم نے ایک طرف اشارہ کر دیا . . . جہاں پاس آؤٹ اسٹوڈنٹ کے پریکٹیکل رجسٹر جمع کیے ہوئے تھے ، میں وہاں پہنچھا ایک دو رجسٹرز کو کھول کر پڑھنے کا ڈرامہ کرنے لگا ، لیکن اِس دوران میرا دھیان صرف اور صرف سحرش میم پر تھا کہ وہ مجھے دیکھ تو نہیں رہی ہے . . . . سحرش میم اِس وقت اپنے موبائل میں مصروف تھی ، اور یہی میرے لیے سنہری موقع تھا . . . میں نے چپکے سے ایک پریکٹیکل رجسٹر کو اپنے شرٹ كے نیچے پیٹ كے پاس پھنسا لیا اور اس کے بعد کچھ دیر تک میں وہی کھڑا رہا . . . . " ٹھیک ہے میم ، میں چلتا ہوں . . . . " مجھے پوری امید تھی کہ سحرش میڈم نے مجھے نہیں دیکھا تھا ، اور میں اپنے اس کارنامے پر خود کو داد دیتا ہوا وہاں سے جا ہی رہا تھا کہ سحرش میڈم نے پیچھی سے آواز دی . . . " رکو . . . " " جی میم . . . " دِل میں گھبراہٹ ایک بار پھر پیدا ہونا شروع ہوگئی . . . . " تم کیا سمجھتے ہو کہ کالج کا اسٹاف بیوقوف ہے . . . " " مطلب . . . ؟ " " مطلب یہ کہ . . . " وہ اپنی کرسی سے اُٹھ کر میرے پاس آئی اور سیدھا میرے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی " یہ تمھارے سکس پیکس اتنے مضبوط ہے یا لیب کا رجسٹر چوڑی کرکے لے جا رہے ہو . . . ." اس کے بعد بولنے کی میری ہمت نہیں ہوئی ، میں کسی مجرم کی طرح وہاں کھڑا سحرش میڈم كے اگلے ایکشن کا انتظار کر رہا تھا . . . . " تمہاری اطلاع كے لیے عرض کر دوں کہ میں یہی سے پاس آؤٹ ہوں اور مجھے معلوم ہے یہ معملات . . . اس لئے میرے سامنے ہوشیار بننے کی کوشش مت کرنا . . . " یہ بولتے ہوئے انہوں نے پریکٹیکل رجسٹر نکال لیا اور بولی " تمھارے جانے كے بَعْد صدیقی سر یہاں آئینگے اور وہ مجھ سے پوچھے گے کہ اس لڑکے نے کہی کچھ اٹھا تو نہیں لیا ، اور پھر جب تم باہر جاؤ گے تو تمہاری چیکنگ بھی ھوگی . . . . " " بہن چودوں نے ہیرا چھپا رکھا ہے کیا یہاں . . . " " تم نے کچھ بولا . . . " " سوری میم ، . . . " " اب جاؤ . . . " اس کے بعد چند ہی لمحوں میں سحرش میڈم نے وہ حرکت کی جس کی وجہ سے میرا دِل لیفٹ سائڈ سے رائٹ سائڈ میں شفٹ ہونے لگا تھا ، ہزار واٹ کا جھٹکا لگا جب سحرش میڈم نے مجھے . . . . انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور سیدھا اپنی پھدی سے ٹچ کر دیا اور بولی " پسند آیا ہو تو دوبارہ بتانا . . . . . جاری ہے . . . . میں ، اس روم سے باہر نکلا ، وہاں سے آنے كے بَعْد میری سیٹی گم ہوگئی تھی ، ایسا لگنے لگا تھا جیسے کہ کسی نے میرے ہاتھ میں کچھ دیر پہلے بجلی کا ننگا تار پکڑا دیا ہو . . . . . . . " کیا ہوا ؟ لے آیا پریکٹیکل رجسٹر ؟ " مجھے اپنے ساتھ چپ چاپ بیٹھا دیکھ کر اظہر نے مجھ سے پوچھا . . . . " ابھی کچھ دیر بات مت کر ، صدمے میں ہوں . . . . " " کیا ہوا . . . . کسی نے چوڑی کرتے ہوئے دیکھ لیا کیا ؟ " " میری چوڑی پکڑی بھی گئی اور اس کی سزا بھی دے دی گئی . . . " میں اب بھی صدمے میں تھا . . . . . " آخر ہوا کیا . . . " " کچھ نہیں ، اب میں ٹھیک ہوں . . . " میرے دِل دماغ میں ، میرے خیالوں میں جی ہاں صرف وہی نظارہ گھوم رہا تھا ، جب سحرش میم نے میرا ہاتھ پکڑا اور میرے ہاتھ کو اپنی چوت سے ٹچ کر دیا تھا . . . . " کاش میں وہاں کچھ دیر مزید روک جاتا . . ." میں بڑبڑایا . . . " ایسا کیا دیکھ لیا تو نے . . . " " کچھ نہیں . . . " سحرش میڈم نے جو کیا اس پر مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا ، کوئی بھی عورت بنا جان پہچان كے ایسے کیسے کر سکتی ہے ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اس کی شکایت کر سکتا ہوں ، شاید میں نے ہی سحرش میڈم کو حوصلہ دیا تھا ایسا کرنے كے لیے . . . نہ میں ڈبل میننگ میں ان سے بات کرتا اور نہ ہی وہ میرا ہاتھ پکڑتی اور نہ ہی . . . ابھی تک جو کچھ بھی میرے ساتھ ہوا تھا وہ سب ناقابل یقین تھا ، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایک عورت كے پیچھے پاگل ہو جاؤںگا اور نہ ہی میں نے یہ سوچا تھا کہ شروعات كے کچھ دنوں میں ہی مجھے وہ چودنے کو مل جائیگی . . . . . . اس دن كے بَعْد سحرش میڈم سے جیسے میں نظر ہی نہیں ملا پا رہا تھا ، وہ جب تک کلاس میں رہتی میں اپنا سَر جھکائے رہتا اور چپکے سے ان کی طرف دیکھتا تو وہ دھیمی دھیمی مسکراتی نظر آتی . . . . " میں کتنا شرمیلا ہوں . . . " مجھے زندگی كے اٹھارہ سال بیت جانے كے بَعْد یہ پتہ چلا کہ ، میں بھی ان لڑکوں میں سے ہوں ، جن کی لڑکیوں کو دیکھ کر کچھ بولنے کی ہمت نہیں ہوتی . . . . . سارہ کچھ دنوں سے کالج نہیں آئی تھی ، میں جب بھی اس کے کلاس میں جا کر اظہر كے دوست سے پوچھتا تو وہ نہ میں سَر ہلا دیتا ، . . . دِل بےچین رہتا تھا اس کے بغیر ، روزانہ بریک ٹائم میں میں اظہر کو لیکر اس کی کلاس میں اس کے دوست كے پاس جاتا تھا اور جہاں وہ بیٹھا کرتی تھی ، اس جگہ کو اِس آس میں دیکھتا تھا کہ شاید وہ لیٹ آئی ہو ، لیکن ہر دن اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہی وہاں بیٹھی ہوئی ملتی اور ہر دن میں اس کے کلاس سے اداس ہی چلا آتا تھا . . . . ابھی تک تو میں بہت سی ناقابل یقین واقعیات کو برداشت کر چکا تھا ، لیکن ان سب کے علاوہ بھی کچھ اور تھا جو کہ میری زندگی میں پہلی بار ہونے والا تھا اور سب سے بڑی بات تو یہ تھی کہ مجھے اِس بات کی بھنک تک نہیں تھی . . . . کچھ دن گزرنے كے بَعْد میری کچھ اور لڑکوں سے دوستی ہوگئی اور روزانہ کی طرح ہم آج بھی بریک کے اوقات میں اپنی کلاس كے باہر کھڑے آس پاس سے گزرنے والی لڑکیوں کا مزہ لے رہے تھے . . . . . سارہ كے لیے میری دلچسپی کم ہوتی جا رہی تھی، میں اب ہر خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر اسی خیال میں ڈوب جاتا کہ میں اسے اپنے ہاسٹل كے روم میں چود رہا ہوں ، ایک عجیب سی تبدیلی آ رہی تھی مجھ میں سحرش میڈم کی اس حرکت سے . . . . " سب لائن میں کھڑے ہو . . . " کسی نے گلا پھاڑ کر کہا ، اور جب میری نظر اس طرف پڑی تو دیکھا کہ دو سینیرز ہمیں لائن میں کھڑے ہونے كے لیے کہہ رہے تھے . . . . . ان کا کہنا تھا کہ ہم سب لائن میں کھڑے ہو گیں . . . . " آنکھ نیچے کر بھڑوے. . . اپنے باپ سے آنکھ ملاتا ہے . . . " کسی ایک کو اس نے تھپر مارا . . . . " کیا ہے بیٹا ، سلام نہیں کرتے تم لوگ سینیرز کو . . . گانڈ میں ڈنڈا ڈال كے یاد دلانا پڑیگا کیا . . . ." ان دونوں میں سے ایک نے بیگ تانگ رکھا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ بریک كے بَعْد وہ بینک لوٹنے كے پروگرام میں تھے اور دوسرا اپنے ہتھلیوں کو رگڑ رہا تھا . . . . " چلو ادھر آ جاؤ اور کلاس میں جتنے لڑکے ہے انہیں بھی بلاؤ . . . " جس نے بیگ تانگ رکھا تھا وہ بولا . . . کلاس میں جتنے لڑکے تھے ان سب کو بلا لیا گیا ، میں دِل ہی دِل میں یہ دعا کر رہا تھا کہ کہی سے کوئی ٹیچر آ جائے . . . . لیکن کوئی نہیں آیا ، سب اپنا پیٹ پوجا کرنے میں لگے ہوئے تھے . . . . . " تیرا نام کیا ہے . . . . " مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے وہ بولا . . . . " جی . . جی . . جی . . . " میں ہکلایا . . . سچ تو یہ تھا کہ وہاں کھڑے ہر لڑکے کی بری طرح سے پھٹ چکی تھی . . . " نام کیا ہے انجینئر صاحب آپ کا . . . " " ارمان . . . " میں نے ایک پل كے لیے اس کی طرف دیکھا اور جواب دے کر وآپس اپنی گردن نیچے کر لی . . . . " دِل كے ارمان آنسوں میں بہہ گئے . . . . " وہ گانا گاتے ہوئے میرے پاس آیا اور بیلٹ كے قریب سے پینٹ کو پکڑ کر زور سے ہلاتا ہوا بولا " یہاں کیا کرنے آتا ہے . . . " " پڑھنے . . . " " تو پھر کل سے فورمل ڈریس میں آیا کر ، ورنہ یہی سے نیچے پھینک دوں گا . . . سمجھا " " جی . . . جی . . . جی سر . . . " ( تیرا باپ دیگا پیسہ فورمل ڈریس خریدنے کا ، سالے چوتیے . . . ) " چل ریلکس ہو جا . . . " بیلٹ چھوڑ کر میرا کندھا سہلاتے ہوئے وہ بولا " میرا نام جانتا ہے . . . . " " نہیں . . . . " " میں ہوں سلطان میرانی. . . . سمجھا ، کل سے اسٹوڈنٹ کی طرح دیکھنا . . . " ان دو چوتیوں کو میں اکیلا ہی نظر آیا تھا کیا جو میری عزت کی ماں بہن ایک کر کے چلے گئے ، ان کے جانے كے بَعْد پتہ چلا کہ وہ دونوں مائننگ سبجیکٹ كے تھے . . . . . " یہ تو مائننگ كے تھے ، اس کا مطلب مکینیکل والے بھی کچھ دنوں میں اپنا دیدار کا شرف دینگے . . . " ہر کالج میں الگ الگ قانون چلتا ہے ، ہمارے یہاں تنظیم سازی تب ہوتی تھی ، جب کچھ ہفتے نکل جاتے تھے . . . شہر میں رہنے والے تو پھر بھی بچ جاتے تھے ، لیکن ہاسٹل والوں کی ایسی تیسی ہو جاتی تھی . . . . اس دن بریک كے بَعْد ہم سب کے من میں یہی سوال گھوم رہا تھا کہ ان سب سے کیسے بچا جائے ، اور اس دن كے باقی كے پیریڈز اسی خوف میں نکل گئے ، . . . میں اور اظہر کالج کی چُھٹّی كے بَعْد ہاسٹل کی طرف ہی جا رہے تھے کہ ہاسٹل سے تھوڑی دور پر ایک ہجوم دیکھائی دیا . . . . . " سن وہ دیکھ ، وہی لوگ ہوں گے . . . " اظہر وہی روک گیا اور مجھ سے بولا " اِس رستے سے مت جا ، سامنے سینیرز کھڑے ہے . . . . " ہم دونوں دوسرے رستے سے جانے كے لیے پیچھے مڑے ہی تھے کہ کسی سینیر نے ہمیں دیکھ لیا اور اُدھر آنے كے لیے کہا ، جہاں ہجوم جمع تھا . . . . " واپس کہاں جا رہے تھے سر . . . " میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا کر ایک نے بولا . . . " وہ موبائل رہ گیا ہے ، کلاس میں . . . " " اچھا . . . " اس نے میرا بیگ ایک جھٹکے سے کھینچا اور بیگ کی چین کھول کر پورا سامان راستے میں ہی الٹا کر بیگ میرے ہاتھ میں تھما دیا . . . . " اپنا سامان اٹھا اور دفع ہوجا یہاں سے . . . " میں نے ایک ہاتھ میں اپنا بیگ پکڑ کر اپنی بکس اور رجسٹر کو اٹھانے كے لیے جھکا ہی تھا کی اس سینیر نے میری گانڈ پر زور سے ایک لات ماری اور میں وہی منہ كے بَل گرا . . . . " بیوقوف سمجھ كر رکھا ہے . . . " پیچھے سے اس کی آواز آئی ، میری ہاتھوں کی مٹھیاں بند ہوچکی تھی ، اور اس وقت وہ وہاں اکیلے ہوتا تو اس کو اتنا مارتا کہ تنظیم کا نام لکھنا تک بھول جاتا وہ ، لیکن میں اٹھتا اس سے پہلے ہی اس کے کچھ اور دوست آ گئے ، اور اس کو پکڑ کر بولے کہ . . . " ابھی نہیں ، بَعْد میں دیکھ لینگے ان دونوں کو . . . " جس کے جواب میں وہ چلایا کہ " کمینہ جھوٹ بولتا ہے ، تو روک آج رات تیری دھولائی کرتے ہے ، بھاگ کمینے. . . "
-
ارمان ایک طویل داستان
ہر وہ چاہت ختم ہو جاتی ہے ، جس کی ہمیں تمنّا ہوتی ہے . . . خواب ہمارے حقیقت كے سامنے دم توڑ دیتے ہے اور بچتی ہے تو صرف راکھ ، یادوں کی راکھ ، جس کے سہارے ہم پھر اپنی باقی کی زندگی اجڑاتے ہے ، کبھی کبھی آپ کے ساتھ ایسا کچھ ہو جاتا ہے جس کی آپ نے کبھی توقعہ تک نہیں کی ہوتی ہے . . . . " کالج میں جا کر پڑھائی کرنا بے ، چھانے بازی میں مت رہنا اور نہ ہی اِس چکر میں پڑھنا . . . " میرا بھائی مجھے گاؤں سے رخصت کرتے ہوئے نصیحت کر رہا تھا وہ بھی بڑے پیار سے . . . " جی بھائی . . . " " شراب ، سگریٹ ان سب کو چھوا بھی تو سوچ لینا . . . . " " جی بھائی . . . " " اور سن ارمان لڑائی جھگڑے اور تنظیم میں جانے کی ایک بھی خبر گھر پر آئی تو اسی وقت تیری ٹی-سی نکلوا دوںگا سمجھا . . . " " جی بھائی . . . " میرا بھائی مجھے بلکل اس طرح سمجھا رہے تھے ، جیسے کہ آرمی کا کرنل اپنے سپائیوں کو قانون پر عمل درآمد کرنے كے لیے کہہ رہا ہو . . . سرور بھائی مجھے کالج میں چھوڑنے بھی آئے تھے ، اور میرے لاکھ منع کرنے كے باوجود میرے رہنے کا انتظام ہاسٹل میں کر دیا تھا اور ابھی رخصت ہوتے وقت مجھے سب بتا كے جا رہے تھے کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے . . . . . بھائی كے جانے كے بَعْد میں وآپس ہاسٹل آیا ، اِس دوران جو ایک بات میرے ذہن میں کھٹک رہی تھی ، وہ یہ تھی کہ تنظیم سازی سے کیسے بچا جاۓ، کچھ دنوں پہلے ہی اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک اسٹوڈنٹ نے تنظیم سازی سے تنگ آ کر اپنی جان دے دی تھی . . . . کالج والوں نے ایک اچھا کام کیا تھا اور وہ تھا کہ فرسٹ ایئر کا ہاسٹل ہمارے سینیرز سے الگ تھا ، لیکن شام ہونے تک پورے ہاسٹل میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ آج رات کو دس بجے سینیرز ہاسٹل میں تنظیم سازی کا عمل کرنے آئینگے ، جب سے یہ سنا تھا ، دِل بری طرح دھڑک رہا تھا ، ہر آدھے گھنٹے میں پانی پینے كے بہانے نکلتا اور دیکھ کر آتا کہ کہی کچھ ہوا تو نہیں ہے ، وہ پوری رات میری زندگی کی سب سے خراب رات تھی ، . . . پوری رات میں چین سے نہیں سو سکا ، اس رات کوئی نہیں آیا اور دوسرے دن میری آنکھ میرے روم کو کسی نے کھٹکھٹایا تب کھلی . . . . " گھوڑے بیچھ کر سوتے ہو کیا . . . " ایک لڑکا اپنا بیگ لیے روم كے باہر کھڑا تھا ، اور پھر مجھے پکڑ کر باہر کھینچ لیا ، " یہ ، یہ کیا کر رہے ہو. . . " میں نے چلاتے ہوئے بولا . . . " چلو میرا سامان اٹھاؤ یار . . . بہت بھاری ہے . . . . " " تم بھی اسی روم میں رہو گے. . . " " بالکل سہی سمجھے ، اور میرا نام ہے اظہر. . . . " " ارمان . . . " میں نے ہاتھ ملاتے ہوئے اسے کہا ، اور جب اس کا پورا سامان روم كے اندر آ گیا تو میں نہانے كے لیے چل دیا . . . . آج اس عادت کو چھوڑے ہوئے تو بہت دن ہو گئے ہے ، لیکن اس وقت میری ایک عجیب عادت تھی ، میں جب بھی کسی لڑکے سے ملتا تو سب سے پہلے یہی دیکھتا کہ وہ مجھ سے زیادہ ہینڈسم ہے یا نہیں ، اور اظہر کو دیکھ کر میں نے خود سے چیخ چیخ کر یہی کہا تھا کہ " میں اس سے زیادہ ہینڈسم ہوں . . . . " " تم آج کالج نہیں جاو گے کیا . . . " کالج كے لیے تیار ہوتے ہوئے میں نے اظہر سے پوچھا ، اظہر ہائیٹ میں میرے برابر ہی تھا ، لیکن اس کا رنگ کچھ سانولا تھا . . . . " جاؤں گا نہ . . . " " نو بجے کالج شروع ہوتا ہے . . . " " تو . . . . " بستر پر پڑے پڑے اس نے کہا . . . " تو ، تیار نہیں ھونا کیا ، ساڑے آٹھ تو کب كے ہو گئے ہے . . . " " دیکھو ، میں کوئی لڑکی تو ہوں نہیں ، جو پورے ایک گھنٹہ تیار ہونے میں ٹائم لگا دوں اور ویسے بھی میں گھر سے نہا کر آیا تھا تو آج نہانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا . . . " " لگتا اسے باہر کی ہوا لگ گئی ہے . . . " اس کے بَعْد میں نے اتنا دیکھا کہ ، آٹھ بج کر 45 منٹ ہوتے ہی اس نے اپنا بیگ اْٹھایا اور روم میں لگے شیشے میں ایک بار اپنا چہرہ دیکھا اور میرے ساتھ ہاسٹل سے باہر آ گیا . . . . فرسٹ ایئر کی کلاسز میں تھوڑی تبدیلی کی گئی تھی ، تنظیموں کے سینیرز لڑکے ہمارا نام اپنی اپنی تنظیموں میں نہ لکھ سکے ، اس لئے ہماری کلاس کو ایک گھنٹے پہلے ہی شروع کر دیا تھا اور سینیرز کی کلاس ختم ہونے سے ایک گھنٹے پہلے ہی ہمارا ڈے اوف ہو جانا تھا . . . . . لیکن کچھ سینیرز ایسے بھی ہوتے ہے جن کی گانڈ میں کچھ زیادہ ہی خارش ہوتی ہے اور وہ ہماری ٹائمنگ میں ہی کالج آ جاتے تھے ، . . . " یار تیرا سبجیکٹ کون سا ہے . . . " راستے میں، میں نے اسے پوچھا . . . " مکینیکل . . . " کاشف نے جواب دیا ، " میرا بھی مکینیکل . . . " تھوڑا خوش ہوتے ہوئے میں نے کہا " مطلب کہ ہم دونوں ایک ہی کلاس میں بیٹھینگے . . . " " روک روک . . . " مجھے کاشف نے روکا ، ہم اس وقت کالج سے تھوڑی سی دوری پر تھے ، یا پھر یوں کہہ کہ ہم کالج تقریباً پہنچ ہی گئے تھے . . . " کیا ہوا . . . " " اُدھر دیکھ ، کچھ سینیرز کھڑے ہے . . . پیچھے کے راستے سے چلتے ہے . . . " " تجھے معلوم ہے دوسرا راستہ . . . " " مجھے سب معلوم ہے ، چل آجا . . . " ہم دونوں نے وہی سے ٹرن مارا اور کچھ دیر پیچھے چلنے كے بَعْد اس نے مجھے جھاڑیوں میں گھسہ دیا . . . . " تجھے پکا معلوم ہے راستہ . . . " " ہاں میرے بھائی کہ کچھ دوست یہاں سے پاس ہوئے ہے ، انہوں نے ہی مجھے بتایا تھا اِس راستے كے بارے میں . . . . " جیسے تیسے کر کے ہم دونوں آگے بڑھتے رہے اور پھر مجھے کالج کی دیوار بھی نظر آنے لگی ، کالج كے اندر جانے کا ایک اور راستہ ہے ، یہ مجھے اظہر نے بتایا تھا . . . جب ہم دونوں اس جھاڑیوں والے راستے سے نکل کر باہر آئے تو مجھے وہ گیٹ دکھا ، جس کے بارے میں اظہر نے کہا تھا ، وہ گیٹ کالج میں کام کرنے والے ورکرز كے لیے تھا ، جن کا گھر وہی قریب ہی تھا . . . . . " کوئی فائدہ نہیں ہوا ، " اظہر بولا " وہ دیکھ کمینی سینیر گرلز کھڑی ہے ، دُنیا میں 99 % لڑکیاں خوبصورت ہوتی ہے اور جو 1 % باقی بچتی ہے وہ آپ کے کالج میں پڑھتی ہے ، ایسا میں نے کہی سنا تھا ، لیکن میری آنکھوں كے سامنے ابھی پانچ چھے سینیر لڑکیاں کھڑی تھی ، جو ایک سے بڑھ کر ایک تھی ، ان پانچ چھے سینیر گرلز کو دیکھ کر ہی ایسا لگنے لگا تھا جیسے کے دُنیا کی 99 % خوبصورت لڑکیاں ہمارے کالج میں ہی پڑھتی ہو . . . . " یار ، کیا مال ہے . . . " میں نے اظہر سے کہا . . . " چُپ کر اور انہیں دیکھے بنا سیدھے چل ، سن پکڑ لیا تو برا حال کر دینگی . . . " " یار یہ لڑکیاں ہے ، اتنا کیوں دَر رہا ہے . . . گھوما كے دوں گا ایک ہاتھ سب بھاگ جائینگی . . . " میں نے مردانہ آواز میں بولا ، " یار تو تو ان کو بھاگا دے گا ، لیکن جب انہی لڑکیوں كے پیچھے سارے سینیرز آئینگے تب کیا کرے گا . . . . " " اچھا کرنا کیا ہے ، یہ بتا . . . " " کچھ نہیں کرنا بس چُپ چاپ اندر گھس جانا . . . " " اوکے . . . " میں نے ایسے کہا جیسے کوئی بہت بڑا مشن پورا کر لیا ہو . ہم دونوں ان لڑکیوں کی طرف بنا دیکھے سامنے چلے جا رہے تھے ، اور جب ہم نے ان لڑکیوں کو کراس کیا تو اس وقت دِل کی دھڑکنیں بڑھ گئی ، دل مچل رہا تھا کہ ان کو دیکھوں ، ان کی چھاتیوں کو دیکھ کر اپنے اَرْمان پورا کروں . . . لیکن میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور چُپ چاپ سامنے دیکھ کر چلتا رہا . . . . " اوئے ماں کے لال . . . " ہم بس گیٹ سے اندر ہی گھسنے والے تھے کہ ان لڑکیوں نے آواز دی . . . . " شاید میرے کان بج رہے ہے . . . " " نہیں بیٹا ، یہ کان نہیں بج رہے ہے ، یہ ان گوری گوری حوروں کی آواز ہے . . . " " تو اب کیا کرے ، تیزی سے اندر بھاگ لیتے ہے ، کالج كے اندر وہ بدمعاشی نہیں کر پائیں گی . . . " " اس وقت بھاگنے کا مطلب ہے " اس وقت بھاگنے کا مطلب ہے ان کا دھیان اپنی طرف کرنا، بَعْد میں یہ اور بھی مسلہ بنا لیں گی . . . " " جلدی بتا ، کرنا کیا ہے . . . " میرے قدم وہی روک گئے تھے اور پسینے سے برا حال تھا ، اس وقت میں نے سوچا تھا کہ شاید اظہر میں تھوڑی ہمت ھوگی ، لیکن جیسے ہی اس کو دیکھا ، تو جو میرے منہ سے نکلا وہ یہ تھا . . . " بہن چود یہ تو مجھ سے بھی زیادہ ڈرا ہوا ہے . . . . " " ماں کے لاڈلو ، سنائی نہیں دیتا کیا تم دونوں کو اِدَھر آؤ . . . " جن لڑکیوں کو کچھ دیر پہلے میں جنت کی حوریں سمجھ کر لائن مارنے کی سوچ رہا تھا ، وہ اب دوزخ کی چڑیلیں بن گئی تھی . . . " جی . . . جی . . . میم ، آپ نے ہمیں بلایا . . . " اظہر نے ان کے پاس جا کر بولا ، میں اس کے پیچھے کھڑا تھا . . . " تم ہٹو . . . " اظہر کو زور سے دھکہ دے کر ان چڑیلوں نے میری طرف دیکھا . . . " اور چکنے کیا حال ہے . . . " " جی ٹھیک. . . " کانپتے ہوئے میں نے کہا ، اس وقت میں پورا جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا . . . " سگریٹ پئے گا . . . " اُن میں سے ایک لڑکی نے سگریٹ نکالی اور میری طرف بڑھا کر پوچھا . . . . میں نے ایک دو بار سگریٹ پی تھی ، لیکن کسی دودھ پیتے بچے کی طرح ، کش کھینچا اور پھر دھواں باہر پھینک دیا . . . . میں یہاں یہ سوچ کر آیا تھا کہ جس طرح میں ہمیشہ سے اسکول میں اچھا سٹوڈنٹ تھا ، اسی طرح یہاں بھی ٹوپ کروں گا ، اور سگریٹ ، شراب اور لڑکی کو بس دور سے دیکھ کر مزہ لوں گا . . . . " چلو سگریٹ جلاو . . . " ان چڑیلوں میں سے ایک چڑیل نے سگریٹ میرے منہ میں پھنسا دیا اور اس وقت میرے ذہن میں میرے بڑے بھائی كے کہی ہوئی بات آئی . . . " ارمان سگریٹ اور شراب کو چھوا بھی تو سوچ لینا . . . " " جی بھائی . . . " " میں سگریٹ نہیں پیتا سوری . . . " ان لڑکیوں نے جو سگریٹ میرے منہ میں پھنسائی تھی اسے ایک جھٹکے سے میں نے منہ سے نکال کر زمین پر پھینک دیا ، جس سے ان کا غصہ آسمان کو چھو گیا . . . " کیوں کمینے، تو کیا سمجھا کہ پیچھے كے راستے سے آئیگا تو تنظیم سازی سے بچ جائیگا اور تجھ میں اتنی ہمت کہاں سے آئی جو تو نے سگریٹ کو پھینک دیا . . . " ان کے منہ سے گالی سنی تو مجھے یقین ہی نہیں ہوا کی ایک لڑکی بھی گالی دے سکتی ہے ، میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ كے ان لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا . . . . تب اُن میں سے کسی کا فون بجا اور وہ سب چلی گئی لیکن جاتے جاتے انہوں نے مجھے دھمکی دے ڈالی کہ وہ مجھے اِس کالج سے بھگا کر رہیگی . . . . . . . " تیری تو گانڈ پھٹ گئی بیٹا . . . . " ان کے وہاں سے جانے كے بَعْد اظہر میرے پاس آیا . . . " اب کلاس چلے . . . " جب تک ہم کلاس كے اندر نہیں پہنچے اظہر تنظیموں كے بارے میں بتابتا کر ڈراتا رہا ، لیکن میں ایسے ری ایکٹ کر رہا تھا ، جیسے کہ مجھے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا ہو ، لیکن اصلیت یہ تھی کہ یہ سب صرف ایک دکھاوا تھا ، میں خود بھی اندر سے بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا . . . . " وہ دیکھ اس چشمے والی کو ، دیسی آم لگ رہی ہے ، اک بار کھانے کو مل جائے تو مزہ آ جائے . . . " شریف تو میں بھی نہیں تھا ، لیکن اِس طرح سب کے سامنے ایسی باتیں کرنے سے میں گریز کرتا تھا ، جسے سب کو اکثر یہی بھرم ہوتا تھا کہ میں بہت بڑا شریف ہوں اور اکثر میرے ایگزام كے رزلٹ اِس بات پر مہر لگا دیتے تھے . . . لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ میرا جتنا بھی اچھا وقت تھا وہ ختم ہو چکا تھا اور میں یہاں اپنی زندگی کی بربادی لینے آیا تھا . . . . . " فرسٹ کلاس کس کی ہے . . . . " میں نے اظہر سے پوچھا ، . . . " یار ، میرا بھی آج پہلا دن ہے . . . اور ابھی سے دماغ مت کھا . . . " فرسٹ ایئر میں سبھی سبجیکٹ والوں کا کورس سیم ہوتا ہے ، اس لئے دو دو سبجیکٹ والوں کو ایک ساتھ ارینج کیا گیا تھا ، میرا اور اظہر کا سبجیکٹ مکینیکل تھا ، لیکن ہمارے ساتھ مائننگ سبجیکٹ كے بھی اسٹوڈنٹ تھے ، اور مجھے جو ایک بات پتہ چلی وہ یہ تھی کہ ، مجھے صرف اپنے سبجیکٹ كے سینیرز سے بچنا تھا اور میں ہاسٹل میں رہتا ہوں تو اس لئے میری تنظیم سازی صرف ہاسٹل كے سینیرز ہی کر سکتے ہے ، جو لوکل ہے یا پھر شہر میں رہتے ہے ، وہ لوکل تمہاری تنظیم سازی کر لے تو تم انہیں کچھ کہہ نہیں سکتے ہو اور شہر والے کوئی تنظیم سازی کرے تو ہاسٹل والے ساتھ دیتے ہے ، ایسا قانون یہاں چلتا تھا . . . . . " کچھ بھی بول یار تنویر ، لیکن کالج اچھا ہے ، یہاں کی لڑکیاں بھی اچھی ہے . . . " پیچھے والے بینچ پر اپنے دونوں ہاتھ تھپ تھپا کر اظہر بولا ، اتنے دیر میں شاید وہ میرا نام بھول گیا تھا . . . . " ارمان ، ناٹ تنویر . . . " " اچھا نہ یار اب دماغ کھا مت . . . " " پتہ نہیں کس سے پالا پڑا ہے . . . " میں بڑبڑایا اور پھر آگے دیکھنے لگا . . . . " گڈ مارننگ اسٹوڈنٹ . . . " اپنے سینے سے ایک بُک چپکا کر ایک میڈم اندر آئی ، میڈم کیا وہ تو پوری حسن کی دیوی تھی ، 5 ’ 8 " لگ بھگ قد، ماڈلز والی کمر ، گورا رنگ . . . . اسے کلاس كے اندر آتا دیکھ کر سبھی کھڑے ہو گئے اور کچھ لڑکوں کا بھی کھڑا ہو گیا ، " بہن چود یہ کالج ہے یا ہیرا منڈی، جدھر نظر گھماؤ ایک سے بڑھ کر ایک دکھتی ہے . . . " اظہر اپنے ٹھرکی انداز میں دھیرے سے بولا . . . . اس کے بَعْد کچھ دیر تک انٹرودکشن چلا ، جس میں ہمیں اس میڈم کا نام معلوم چلا ، . . . اس 5 ’ 8 " ہائیٹ والی میڈم کا نام سحرش تھا ، اور وہ ہمیں کمپیوٹر سائنس پڑھانے آئی تھی ، بہن چود جتنی زیادہ گوری تھی اتنا ہی کالا اس کا دِل تھا ، کلاس میں آتے ہی اس نے ایک ساتھ دس اسائنمنٹ دے دیئے اور بولا کہ ہر تین دن میں وہ ایک اسائنمنٹ چیک کریگی اور تو اور نیکسٹ منڈے کو ٹیسٹ کا بول کر اس نے سب کی پھاڑ كر رکھ دی . . . . . " یہ میڈم کون ہے ، اس کی ماں کی . . . " اظہر رونے والی اسٹائل میں بولا " باہر ملے گانڈ مار لوں گا اسکی . . . " "حوصلہ کر بھائی . . . " اس کے کاندھے کو سہلا کر اسے دلاسہ دیتے ہوئے میں نے بولا . . . . . " میرا لنڈ حوصلہ کر ، اسے تو حویلی میں لے جا کر چودوں گا ، . . . " " حویلی . . . . " " تو بچہ ہے ابھی ، منٹو کو پڑھ ، یہ سب بڑے لوگ کرتے ہے . . . " اظہر کیا کہنا چاہتا تھا ، یہ تو میرے سَر كے اوپر سے نکل گیا ، سحرش میڈم نے آتے ہی سب کی پھاڑ کر رکھ دی تھی ، یہ تو سچ تھا ، لیکن سچ یہ بھی تھا کہ اس ایک کلاس میں ہی آدھے سے زیادہ لڑکے ایک دوسرے کو بولنے لگے تھے کہ" سحرش میڈم تیری بھابی ہے . . . . " سحرش میڈم كے گھنے لمبے لمبے بال تھے ، . . . . سَر كے ، اور اس کے بال اکثر اس کے چہرے پر آ جاتے ، جنہیں کسی فلمی ہیروئن کی طرح اپنے سامنے آئے بالوں کو وہ پیچھے کرتی ، اس پیریڈ میں ہماری کلاس کی لڑکیوں کی شکلیں بنی ہوتی تھی ، یوں تو پورا کالج حوروں سے بھرا پڑا تھا ، لیکن ہمارے سبجیکٹ کی لڑکیاں کومیڈی سرکس کی جوگر لگتی تھی ، سوائے ایک دو کو چھوڑ کر ، انہیں کوئی نہیں دیکھنے والا تھا ، کیونکہ جب ہیرا سامنے ہو تو کوئلے کی خوائش کون کرے گا . . . . " تمہارا نام کیا ہے . . . . " " سنائی نہیں دیتا کیا . . . " " یار تجھے بول رہی ہے ، کھڑے ہو . . . " اپنی کہنی کو اظہر نے میرے پیٹ میں دے مارا اور میں جیسے اپنے خیالوں سے باہر آیا . . . اِس طرح مجھے کھڑا کرنے سے میں تھوڑا ہڑبڑا گیا تھا ، جس کی وجہ سے کچھ اسٹوڈنٹ ہنس بھی رہے تھے . . . . . " یس میم . . . " میں اٹھ کھڑا ہوا ، میری حالت اس وقت بلکل ویسی تھی ، جیسے ایک بکرے کی حالت قصائی کو دیکھ کر ہوتی ہے ، " پہلے ہی دن ، پہلے ہی کلاس میں بے عزتی . . . " سچ بتاؤں ، تو میری اس وقت پوری طرح پھٹی ہوئی تھی ، نا جانے وہ کیا بول دے . . . . " تم اپنا رجسٹر لے کر اِدَھر آؤ . . . " سحرش میم نے مجھے سامنے بلایا .
-
ارمان ایک طویل داستان
سعدیہ كے منہ سے اپنی انگلیاں نکالی اور اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ، جس سے اس کا چہرہ میرے قریب آ گیا ، میں اس کی ہوس سے بھری آنکھوں میں آخری بار اپنے لیے محبّت ڈھونڈ رہا تھا ، لیکن ہوا وہی ، میرے ارمانوں کا حقیقت سے نہ تو پہلے کوئی واسطہ تھا اور نہ ہی اب تھا اور جب مجھے یقین ہوگیا کہ وہ وہی پرانی سعدیہ ہے جس نے محبّت کو ہمیشہ ہوس کی پیاس سے نیچے سمجھا ہے ، تو میں اس کو ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . . . " جانور بن گئے ہو کیا . . . " مجھے دکھا دے کر وہ بولی اور اپنے ہونٹ ہاتھ سے سہلانے لگی . . . . " سوری . . . " میں وآپس اس کے قریب گیا اور اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی براہ کو اس کے سینے سے الگ کیا اور ایک بار پھر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . . سعدیہ نے اِس بار بھی پوری کوشش کی مجھے دور کرنے کی ، لیکن وہ اِس بار ناکام رہی . . . لیکن کچھ دیر كے بَعْد مجھے اس کی پرواہ ہونے لگی ، اس کا درد میرا درد بن گیا ، اور میں نے اس کے گلابی ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے الگ کر دیا اور اس کی گانڈ کو پکڑ لیا اور اس کی گانڈ پر ہاتھوں سے دباؤ ڈالا . . . . . " گندے بچے . . . . " میرے طرف جھک کر میرے کانوں كے پاس آ کر وہ بولی . میں نے سعدیہ سے کچھ نہیں کہا اور اسے پکڑ کر اُلٹا گھوما دیا ، اب اس کی پیٹھ میرے سینے سے اور اس کے کولہے میرے لنڈ سے ٹچ ہو رہے تھے ، . . سعدیہ شاید جان چکی تھی کی اب میں کیا اور کیسے کرنے والا ہوں ، اور ویسے بھی جس لڑکی کو ہر دن اپنے بستر کا ساتھی بدلنے کی بیماری ہو ، وہ کم سے کم سیکس كے پوزیشن تو جان ہی جاتی ہے . . . . سعدیہ نے میرے بولنے سے پہلے ہی اپنے دونوں ہاتھ سامنے کی طرف بستر پر تیکاے اور اپنی گانڈ میری طرف کرکے تھوڑا جھک گئی اور بولی . . . " اس کو کہتے ہے زبردست چودائی کرنا . . . اب کیوں روکے ہو ، ڈال دو اندر اور ایسا ڈالنا کہ اندر تک دستک دے جائے . . . . " دِل کر رہا تھا کہ سعدیہ کا قتل کر دوں اور پھر اس کی لاش كے پاس بیٹھ کر زندگی بھر رونا شروع کر دوں ، دِل کر رہا تھا کہ سامنے كے دیوار پر سعدیہ کا سَر اتنی زور سے دے ماروں کی اس کا سَر ہی نہ رہے . . . . وہ مجھ سے ایسے بات کیسے کر سکتی ہے ، جب کے میں اسے . . . . . . . . . . اور ایک بار پھر دِل كے ارمان ہوس میں دھول گئے ، یہ میرے لیے پہلی بار نہیں تھا . . . . . " چلو ارمان ، چودو مجھے . . . آئی ایم ویٹنگ . . . " اپنی گانڈ ہلاتی ہوئی سعدیہ بولی . . . میں نے اپنے کپڑے اتارے اور سعدیہ كے گانڈ پر اپنے ہاتھ سے دبائو بڑھانے لگا وہ ابھی سے مستی بھری آوازیں نکالنے لگی ، اس کی پینٹی کو نیچے کھسکا کر اپنے ہاتھوں سے اس کی چوت کو پھلایا ، اور اپنے لنڈ کو اس کی چوت سے لگایا اور آہستہ آہستہ سے اندر کی طرف دھکہ دیا . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ . . . . . . . " سعدیہ کی سیسکاریاں شروع ہوگئی ، اب کی بار خود میرے منہ سے بھی مستی بھری آوازیں باہر نکل رہی تھی . میرا آدھا لنڈ اس کی چوت میں دستک دے چکا تھا ، جب کہ سعدیہ اپنے کہولوں کو آگے پیچھے ہلا کر مزہ لے رہی تھی ، میں نے ایک اور دھکہ مارا اور پورا لنڈ اس کی چوت میں سماں گیا ، اس کے بَعْد میں نے اپنے ڈھکے تیز کر دیئے ، میرے تیز ڈھکوں كے وجہ سے اس کا پورا جسم بری طرح ہل رہا تھا ، میں جب بھی اپنا لنڈ اندر ڈالتا وہ اپنی کمر کو میری طرف پوش کرتی اور سامنے کی دیوار کی طرف اپنا چہرہ کرکے ایک لمبی سسکی بھرتی اور اس کے بَعْد جیسے ہی میں اپنا لنڈ باہر نکلتا ، وہ پھر مستی میں چار چاند لگا دینے والی آوازوں كے ساتھ پہلے والے پوزیشن پر آ جاتی . . . . . ایک پل كے لیے میں روکا اور اس کے گانڈ کے ابھاروں کو اپنے ہاتھوں سے مسلتے ہوئے اور پھر تیز رفتاری سے اسے چودنے لگا ، سعدیہ سے ایک لگاؤ سا ہوگیا تھا مجھے اس وقت ، اس لیے جب وہ چیختی تو میں تھوڑی دیر كے لیے روک جاتا اور پھر جب وہ وآپس نارمل ہو جاتی تو میں پھر سے شروع ہو جاتا . . . اور کبھی کبھی جب وہ درد سے چیختی تو میں اپنا لنڈ ایک تیز جھٹکے كے ساتھ اس کے چوت میں ڈال دیتا اور پھر اس کے مموں کو زور سے سے دباتے ہوئے اپنا لنڈ کو اس کی پھدی كے اندر ہی ہلانے لگتا ، میرا ایسا کرنے پر سعدیہ میری کمر کو پکڑ کر مجھے دور کرنے کی کوشش کرتی . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ . . . . اوئی ی ی ی ی. . . . . ارمان تھنکس اس کے لئے . . . " وہ یہ بولتے بولتے اِس بار بھی مجھ سے پہلے فارغ ہوگئی ، میرا لنڈ اب بھی اس کی چوت میں تھا ، جس کی وجہ سے اس کی چوت سے نکلتا گرم پانی مجھے اپنے لنڈ پر محسوس ہوا . . . . میں بھی اب گیم ختم کرنے والا تھا ، اس لئے میں نے سعدیہ کی کمر کو پکڑ کر اس کی طرف جھک گیا اور اسے بستر پر پورا الٹا لیٹا کر اس کے اوپر آ گیا ، اس کی چوت کا پانی پورے بستر میں پھیل رہا تھا ، میں نے اس کی گانڈ کے ابھاروں کو الگ کیا اور اپنے لنڈ کو ایک ہی جھٹکے میں اندر تک گھسہ دیا ، اور اپنی پوری طاقت كے ساتھ سعدیہ کو چودنے لگا ، وہ بری طرح چییخی . . . تو میں نے کہا کہ ، بس کچھ دیر کی بات ہے ، برداشت کر لو . . . . اس نے ویسا ہی کیا . . . بستر كے سرہانے کو پکڑ کر اس نے اپنے جسم کو ٹائیٹ کر لیا وہ بستر کو جکڑنے لگی تھی . . . . اور میں اس کی کمر ، اس کی پیٹھ پر تیزی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے فارغ ہوگیا ، میرا لنڈ سعدیہ کی چوت میں ہی تھا ، سعدیہ بہت تھک چکی تھی ، ساتھ میں میں بھی حانپ رہا تھا ، مجھے سعدیہ كے اوپر لیٹے لیٹے کب نیند آ گئی پتہ ہی نہیں چلا . . . . صبح میری آنکھ ایک گرم سرپرائز سے کھلی ، جسے اکثر لوگ بلوجاب کہتے ہے ، میں سعدیہ كے بستر پر ننگا لیٹا ہوا تھا اور وہ میرے لنڈ پر اپنے گرم گرم ہونٹ پھیر رہی تھی ، . . . " اسے اچھی اور خوشامد صبح کیا ھوگی ارمان ، جب کوئی تمہیں بلوجاب دے کر اٹھائے . . . " میرے لنڈ کو چُوسنا بن کرکے اپنے ہاتھ سے سہلاتے ہوئے سعدیہ بولی . . . تقریباً دس منٹ تک وہ میرے لنڈ کو چوستی رہی اور اس کے بَعْد میں اک بار پھر فارغ ہوگیا ، پچھلی رات تِین بار فارغ ہونے کی وجہ سے پیٹ میں بہت درد ہو رہا تھا ، کمزوری بھی محسوس ہو رہی تھی اور سَر بھی بہت بھاری ہو رہا تھا . . . . . " میں چلتا ہوں . . . " باتھ روم سے نکل کر میں نے اپنے کپڑے پہنے . . . " جاؤ ، اور اپنا خیال رکھنا . . . " میں اِس انتظار میں اب بھی کھڑا تھا کی کہی شاید اسے میری آنکھوں میں کچھ ایسا دِکھ جائے ، جسے وہ مجھے گلے لگا لے ، لیکن ایسا نہیں ہوا ، یہاں تک کہ اس نے میری آنکھوں کی طرف دیکھا تک نہیں ، اس کی نظر اب بھی میرے لنڈ پر تھی ، سعدیہ میرے لنڈ کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی . . . . . " تمہارا ہونے والا شوہر کیا کرتا ہے . . . . " " تم کیوں پُوچھ رہے ہو . . . " " جنرل نالج كے لیے ، کیا پتہ یہ سوال ، زندگی كے امتحان میں آ جائے " " یہ ’ مذاق نہیں ہے ارمان . . . تم جاؤ ، اور آج كے بَعْد سمجھ لینا كے ہم ایک دوسرے سے ملے ہی نہیں . . . " میں نے ایک جھوٹی مسکراہٹ سے سعدیہ کو دیکھا اور بولا . . . " تنہائی میں جینے والے لوگوں کو اکثر ان کے چھوٹے سے چھوٹے سہارے سے اتنی محبت ہو جاتی ہے کہ وہ ان کے لیے خود کو مٹا دیتے ہیں . . . . . تمہیں کبھی کسی سے محبّت ہو تو میری بات پر غور کرنا ، ورنہ لوگ تو اپنوں کو پل بھر میں بھول جاتے ہے ، میں تو ویسے بھی تمھارے لیے غیر ہوں . . . . " سعدیہ كے ذہن میں ہزاروں سوال چھوڑ کر میں اس کے گھر سے سیدھے باہر نکل گیا ، میں اپنے کواٹر کی طرف آ رہا تھا کہ کاشف نے مجھے کال کی . . . " کہاں ہے بھائی ، آنے کا ارادہ ہے یا اسی كے ساتھ ہی رہیگا . . . " میں نے کال ریسیو کی تو کاشف تانے مارتا ہوا بولا . . . " بس کواٹر میں ہی آ رہا ہوں . . . " " جلدی آ ، تیرے لیے سرپرائز ہے ، اور وہ سرپرائز اتنا بڑا ہے کہ ، تو . . . . " میں جہاں تھا وہی کھڑا ہو گیا اور کاشف سے بولا " کیا ہے وہ سرپرائز . . . " " ھممممممم . . . . تو پہلے کواٹر میں آجا ، . . " اور اس نے کال کاٹ دی " پاگل بنا رہا ہوگا کاشف . . . " یہی سوچتے سوچتے میں کواٹر میں آیا ، میں نے کاشف کو آواز دی لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور پھر جب باتھ روم كے اندر سے مجھے شاور كے چلنے کی آواز آئی تو میں سمجھ گیا کہ کاشف اندر ہے ، میں نے ٹائم دیکھا ساڑے نو بج رہے تھے ، اب اتنا ٹائم نہیں تھا کہ میں آج ڈیوٹی پر جاتا ، اور ویسے بھی آج میرا موڈ نہیں تھا . . . . میں نے کمرے کی کھڑکی کھولی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا . . . . تبھی مجھے ایک آواز سنائی دی جس نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ كر رکھ دیا . . . . ایسا لگا کہ دِل کی دھڑکنیں روک گئی ہو . . . " کیا بات ہے یار، بہت دنوں سے حویلی میں نہیں آیا . . . " میری جگہ اس وقت کوئی اور ہوتا تو شاید نظر اندازِ کر دیتا اِس آواز کو ، لیکن میرے لیے یہ الفاظ، یہ جملے بہت اہمیت کی حامل تھی . . . . میں پیچھے دیکھے بنا ہی جان گیا تھا کہ میرے پیچھے کون ہے ، لیکن اتنے مہینوں بَعْد وہ کیسے یہاں آیا . . . . . ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ میرے سَر پر ایک زوردار تھپڑ پڑا ، مارنے والے نے اتنی زور سے مارا تھا جیسے کہ نسلوں کا بدلہ لے رہا ہو . . . . . وہ کوئی اور نہیں بلکہ میرا خاص نہیں میرا سب سے خاص دوست اظہر تھا ، اور میں بھی اس کا سب سے خاص دوست تھا . . . . . " اوے کمینے لڑکیوں کی طرح ادھر ہی دیکھتے رہیگا یا پھر گلے بھی ملے گا . . . . " اس کی آواز میں مجھے اپنے لیے وہی اپنایت محسوس ہوئی ، جو کالج كے دنوں میں ہوا کرتا تھی، میں ایک جھٹکے سے پیچھے مڑا اور اظہر کو گلے لگا لیا . . . . . میں اور اظہر ایک دوسرے كے لیے اتنے خاص تھے کہ ہم دونوں gay ہوتے ( جو کہ نہیں تھے ) تو آج ایک دوسرے سے شادی کر لی ہوتی. . . . . . اپنے غصے اور مجھ سے ناراضگی کا ایک اور اظھار کرتے ہوئے اس نے مجھے زور سے ایک لات ماری اور بولا " بہن چود گانڈ مروا رہا تھا تو یہاں ، تیرا نمبر تبدیل ہوگیا ، گھر سے بنا بتائے غائب ہے اور یہاں تک کہ . . . یہاں تک کہ . . . " مجھ پر ایک لات کا پیار اور کرتے ہوئے بولا " یہاں تک کہ تو نے مجھے بھی نہیں بتایا ، کہا گئی تیری وہ بڑی بڑی باتیں . . . " ہماری دُنیا میں ایک کہاوت بہت مشہور ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ملے تو بھی بہت ہوتا ہے ، لیکن مجھے تو آج پورا کا پورا ایک جہاز مل گیا تھا اظہر كے روپ میں . . . . . " بھڑوے ، خود کو انجینئر بولتا ہے ، تو نے سب انجیرنز کا نام خاک میں ملا دیا . . . . " وہ اب بھی مجھ پر بہت غصہ تھا . . . . " چھوڑ پرانی باتوں کو اور بتا یہاں کیسے آیا اور کاشف کہاں ہے ، کہی تو نے اس کا قتل تو نہیں کر دیا . . . " " بلکل ، سہی سمجھا بے ، اس کی لاش باتھ روم میں پڑی ہے ، پلیز پولیس کو بتا دے . . . . " کچھ دیر تک ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ہنس پڑے . . . . " اب چال بتا ، تو یہاں کیوں ہے . . . " اپنی ہنسی روک کر اظہر بولا ، وہ اب سنجیدہ تھا . . . . " سب کچھ چھوڑ چھاڑ كے آ گیا میں ، گھر والے ملک سے باہر ہے ، نہ تو انہیں کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی مجھے . . . " " تیرے بھائی کی شادی ہونے والی تھی ، اس وقت جب تو گھر چھوڑ کر یہاں آ گیا تھا . . . " " کمینے میری غلطیوں کی فہرست پکڑ كے بیٹھ گیا ہے. . . اب جان نکال کر ہی دم لے گا " میں نے اندر ہی اندر سوچا . . . " وہ سب تو چھوڑ " اظہر کا چہرہ پھر لال ہونے لگا ، " مجھے یہ بتا کہ تو نے مجھے کال کیوں نہیں کی ، کالج میں تو میرا بیسٹ فرینڈ بنا پھرتا تھا . . . . " اظہر كے اِس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور میں اسے کچھ کہتا بھی تو کیا یہ کہتا کہ " مجھ میں اب جینے کی خوائش نہیں ہے . . . " یا پھر یہ کہتا کہ " سارہ كے جانے كے بَعْد جیسے میرے دِل نے دھڑکنا بند کر دیا ہے . . . " " کچھ بولے گا بھی یا نہیں . . . " وہ مجھ سے پھر مخاطب ہوا . . . . " وجہ جاننا چاہتا ہے ، تو سن . . . . جب میں اپنی بی۔ٹیگ کی خالی ڈگری لے کر گھر گیا تو جانتا ہے میرے ساتھ کیا سلوک ہوا . . . گھر میں بڑے بھائی کی شادی کی تیاری چل رہی تھی اس لئے گھر میں لوگوں کہ ہجوم سا رہتا تھا ، اور جب کوئی میرے بارے میں پوچھتا تو سب یہی کہتے کہ . . . . ہمارے خاندان میں سب سے خراب میں ہوں ، میں ہی ایک اکیلا شخص ہوں ، جس نے اپنے خاندان کا نام ڈوبا دیا . . . ایسا اس لئے ہوا کیوںکہ میرے پاس پیسہ نہیں تھا ، میرے پاس نوکری نہیں تھی . . . . . مجھ سے کہی بھی تھوڑی سی بھی غلطی ہو جاتی تو میری اس غلطی کو میرے پڑھائی سے جوڑ دیا جاتا . . . . میں اپنے ہی گھر میں رہ کر پاگل ہو رہا تھا ، اور پھر جس دن لڑکی والے ہمارے گھر آئے تو بھائی نے ایک چھوٹی سی بات پہ سب کے سامنے مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا . . . . بس اسی وقت میرے دِل اور دماغ دونوں نے ایک ساتھ چلا کر کہا کہ بس بہت ہو گیا ، اور مجھے سب سے برا تب لگا جب مجھے کسی نے نہیں روکا . . . سب یہی چاھتے تھے کہ میں ان کی زندگی سے چلا جاؤں ، سو میں نے وہی کیا . . . . " یہ سب بولتے بولتے میں بہت غم زدہ ہوگیا تھا ، اظہر کو اپنی زندگی كے کچھ گزرے وقت سنا کر میں نے اپنے زخم پھر سے تازہ کر لیے تھے . . . . کاشف بھی تب تک آ چکا تھا اور دروازے پر چُپ چاپ کھڑا میری باتیں سن رہا تھا . . . . . . کچھ دیر تک ہم تینوں میں سے کوئی کچھ نہیں بولا ، اور پھر اظہر نے اپنا بیگ اپنی طرف کھیچ کر کھولا اور شراب کی ایک بوتل نکال کر بولا . . . " یہ لے تیرا گفٹ . . . " میری نم آنکھوں میں ایک ہنسی جھلک آئی " تو کمینے ابھی تک بھولا نہیں . . . " یہ ہم دونوں کی ایک خاص عادت تھی کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو گفٹ كے طور پر ہمیشہ شراب ہی گفٹ کی تھی . . . اور سب سے بڑی بات یہ کی اظہر نے ہی مجھے شراب پینے کی عادت لگائی تھی . . . . . . " شباب سے زیادہ شراب اچھی . . . " یہ بولتے ہوئے میں نے اس کے ہاتھ سے بوتل چھینی اور کاشف کی طرف دیکھ کر بولا " آج رات کا جوگار ہوگیا بے . . . " میرے ایسا کہنے پر کاشف كے ساتھ ساتھ اظہر بھی ہنس پڑا . . . کاشف اور اظہر ہی میری موجودہ زندگی میں میرے اپنے تھے ، کاشف كے والد انسپیکٹر تھے اور اظہر ریلوے میں کسی اچھی پوسٹ پر تھا . . . " شادی ہو گئی تیری . . . " شراب کی بوتل کو ایک کنارے پر رکھ کر میں نے اظہر سے پوچھا . . . . " کہاں شادی ، ابھی تو زندگی کی انجویمنٹ باقی ہے . . . شادی کرتے رہینگے آرام سے . . . . " "کاشف ، لے پیگ تو بنا ، سَر دَرْد کر رہا ہے . . . . " " ارمان ، یہ سعدیہ کون بے " " ہے ، محلے میں رہنے والی ایک لڑکی . . . " میں نے بولا . . . . " میں نے سوچا نہیں تھا کہ اس کے جانے كے بَعْد تو کسی لڑکی كے ساتھ دوستی کرے گا . . . " اظہر جانتا تھا کہ مجھے اس کا نام لینا اب پسند نہیں ہے ، اس لئے اس نے اس کا نام نہیں لیا . . . . " سوچا تو میں نے بھی نہیں تھا ، لیکن معلوم نہیں یہ کیسے ہو گیا . . . . " " لو پکڑو . . . " اسی دوران کاشف نے ہم تینوں کا پیگ تیار کر دیا ، جسے پی کر کاشف بولا " یار اظہر ، میں نے اسے کتنی بار اس کی بیتے لمحوں كے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی ، لیکن اس نے مجھے ایک بار بھی نہیں بتایا اور ہر بار کسی نہ کسی بہانے سے ٹال دیا . . . . " " دماغ مت کھا یار تو اب ایک اور گلاس بنا . . . شراب بہترین ہے . . " میں نے ایک بار پھر کاشف کی بات کو ٹالنے کی کوشش کی . . . . لیکن شاید آج میں کامیاب نہیں رہوں گا اس کا مجھے اندازہ ہو گیا تھا . . . . . " آج تو خلاصہ ہوکر ہی رہیگا کاشف . . . " اپنا پیگ گلے سے نیچے اتار کر اظہر بولا " فکر مت کرو ، آج یہ سب کچھ بتاۓ گا. . . . " " میں کچھ نہیں بتانے والا . . . " " نہیں بتائے گا . . . " " بلکل بھی نہیں . . . " " اک بار اور سوچ لے . . . " " میں نے بول دیا نہ ایک بار . . . " " پھر وہ باتھ روم والی بات میں کاشف کو بتا دونگا ، سوچ لے . . . " اظہر نے میری کمزوری کو پکڑ لیا تھا ، دو تین گلاس پینے سے دماغ بھی ایک دم ریلکس ہو گیا تھا ، ایک دم بہترین . . . . . . شراب کی بوتل خالی ہوچکی تھی اور میں بھی اب بلکل تیار تھا کاشف کو وہ سب بتانے كے لیے ، جو میں نہیں بتانا چاہتا تھا . . . . " ایک اور گلاس بنا . . . . " میں نے کہا
-
ارمان ایک طویل داستان
تمام دوستوں کا حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ
-
ارمان ایک طویل داستان
" سعدیہ. . . . " " میں اندر ہوں باتھ روم میں . . . " سعدیہ کی آواز نے میرا دھیان باتھ روم کی طرف کھینچا، " اِس وقت باتھ روم میں ، کیا کر رہی ہو . . . " " چوت صاف کر رہی ہو ، دلچسپی ہے تو آ کر صاف کر دو . . . " " ہاں ، جیسے دُنیا کی سارے دلچسپ کام ختم ہوگئے ہے ، جو میں اندر آ کر تمہاری چوت صاف کروں . . ." " پھر میرا ٹاول بستر پر پڑا ہے ، وہ دو . . . . " میں نے بستر پر نظر ڈالی ، وہاں ٹاول كے ساتھ ساتھ بلیک کلر کی براہ اور پینٹی بھی رکھی ہوئی تھی ، میں نے ٹاول اٹھایا اور سعدیہ کو آواز دی . . . " دو . . . " باتھ روم کا دروازہ پورا کھول کر سعدیہ نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ، وہ پوری کی پوری پانی میں بھیگی ہوئی ننگی کھڑی تھی ، جسے دیکھ کر میرے لنڈ نے ایک بار پھر سلامی دینا شروع کر دی پینٹ كے اندر . . . . " ارے دو نا . . . " مجھے اپنی طرف اِس طرح سے دیکھتا ہوا دیکھ کر وہ بولی " اتنے غور سے تو تم نے مجھے اُس وقت بھی نہیں دیکھا تھا ، جب میں تمھارے ساتھ پہلی بار ہم بستر ہوئی تھی . . . " میں نے کچھ نہیں کہا اور اس کے پورے ننگے گورے جسم کو آنکھوں سے چودتے ہوئے اسے ٹاول دے دیا ، اور بستر پر آکر لیٹ گیا . . . ایک بات جو میں اکثر سوچتا تھا کہ دُنیا بھر کی لڑکیاں باتھ روم میں جاتے وقت ٹاول باہر کیوں بھول جاتی ہے . . . . " براہ بھی دینا . . . . " ایک بار پھر باتھ روم سے آواز آئی اور باتھ روم کا دروازہ کھلا ، " یہ لو . . . " براہ اور پینٹی دونوں اس کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے میں نے کہا اور میری نظر سیدھے اس کے مموں پر جا ٹکی . . . . . " سائز معلوم ہے ، ان کا . . . " وہ دروازے کو پکڑ کر مستی میں بولی اور جب میں نے کچھ نہیں کہا تو وہ باتھ روم کا دروازہ بند کرنے لگی . . . . " سعدیہ . . . روکو . . . " " بولئے جناب . . . " " جلدی سے باہر آؤ ، تمھارے بنا چین نہیں ہے . . . " میں اپنی اِس حرکت پر خود شرما گیا . . . . . کچھ دیر كے بَعْد سعدیہ باہر آئی ، اور میرے بغل میں لیٹ کر میری طرح وہ بھی چھت کو دیکھنے لگی . . . " تم سچ میں شادی کرنے والی ہو . . . " سعدیہ کا ایک ہاتھ پکڑ کر میں بولا . . . وہ ابھی ابھی نہا كے آئی تھی ، جس کی وجہ سے اس کے پورے جسم سے خوشبو آ رہی تھی . . . . میرے سوال کو سن کر وہ تھوڑا حیران ہوئی اور میری طرف اپنا چہرہ کرکے بولی " یہ تم کیوں پُوچھ رہے ہو ، " " بس ایسے ہی . . . " " ہاں یار ، سچ میں شادی کر رہی ہے اور آج کی رات ہم دونوں کی آخری رات ھوگی . . . " " آخری رات . . . " میں نے دھورایا. . . " آخر تمھارے دل میں ہے کیا . . . " وہ حیران تھی کہ میں اب کیوں اسے اس کی شادی كے بارے میں پُوچھ رہا ہوں ، جب کے پہلی بار ہی اسے میں نے صاف منع کر دیا تھا ، خیر حیران تو میں خود بھی تھا . . . . " تم ایک عجیب قسم کے انسان ہو. . . لیکن آج کچھ زیادہ ہی عجیب حرکتیں کر رہے ہو . . . " میں نے اس کا ہاتھ جس ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا وہ اسے سہلاتے ہوئی بولی ، اس کا چہرہ اب بھی میری طرف تھا . . . . سعدیہ کو اکثر ایسا لگتا کہ دُنیا بھر کا سارا سسپنس میرے اندر ہی بھرا پڑا ہے . . . . " نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ، میں تو بس ایسے ہی پُوچھ رہا تھا . . . " کوئی تو بات تھی جو میرے اندر کھٹک رہی تھی ، یہ میں جانتا تھا . . . . " اب ساری رات ایسے ہی بور کروگے یا پھر کچھ اور . . . . . . . . " وہ آگے کچھ اور کہتی اس سے پہلے ہی میں نے اس کی چوت كے اوپر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اسے پینٹی کے اوپر سے ہی سہلانے لگا . . . . " ڈائریکٹ پوائنٹ پر ہاں . . . " وہ ایک بار پھر مسکراتے ہوئے بولی . . . " پوائنٹ تو اب آیا ہے . . . " میں نے اس کے پینٹی كے اندر ہاتھ ڈال کر اس کی چوت کو سہلاتے ہوئے بولا اور اپنی ایک انگلی چوت كے اندر ڈال دی . . . کچھ دیر پہلے كے واقعے سے ابھی بھی اس کی پھدی گیلی تھی . . . ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ، آج پہلی بار وہ مجھے بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی ، دِل کر رہا تھا کہ اسے چوم لوں ، لیکن سعدیہ کو کس پسند نہیں تھا . . . " تم کیا سوچ رہے ہو . . . " وہ کانپتی ہوئی آواز میں میری طرف دیکھ کر بولی . . . جواب میں میں نے اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے ہونٹوں پر رکھا کر اشارہ کیا کہ میں تمہارے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بھرنا چاہتا ہوں . . . . میرے اشارے سے سعدیہ تھوڑی بے چینی محسوس کرنے لگی اور مجھ میں کچھ دیر تک نہ جانے کیا دیکھتی رہی . . . . . " واقعے تم میرے ہونٹ پر کس کرنا چاہتے ہو . . . ؟ ؟ ؟ " اپنے ہونٹ پر عجیب سی حرکت لاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا ، میری ایک انگلی اب بھی اس کی چوت كے اندر باہر ہو رہی تھی . . . . . " ہاں . . . میں چاہتا ہوں کے تمہارے ہونٹوں پر کس کروں . . . " میں نے بس اتنا کہا اور وہ میرے ہونٹوں كے قریب آئی ، ہم دونوں ایک دوسرے کی سانسیں کی گرمائش محسوس کر رہے تھے ، جو کہ ہم دونوں کو اور بھی گرم کر رہی تھی . . . . آج پہلی بار سعدیہ كے لیے میرے دِل میں کچھ فیلنگس آئی تھی اور وہ فیلنگس اس لئے تھی کیوںکہ سعدیہ آج مجھ سے دور جا رہی تھی ، آج کی رات ہماری آخری رات تھی ، شاید اس لیے وہ مان بھی گئی . . . . . " تم سچ میں بہت عجیب ہو . . . " میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ٹچ کرکے وہ بولی " لیکن مجھے اچھے لگتے ہو . . . " اور اس کے بَعْد میں نے وقت نہ گواتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا . . . . اور اس کے اوپر آ گیا . . . . اسی دوران میں نے اس کو ایک بار چھوڑا تو وہ میرے ہونٹوں کو چوسنے کی وجہ سے حانپ رہی تھی اس کے سینے كے ابھار بہت تیزی سے اوپر نیچے ہو رہے تھے . . . . " ایک بات بتاؤ " میں نے بولا " جب تمہیں معلوم تھا کہ میں کچھ دیر بَعْد تمہاری براہ اور پینٹی کو اتار دوںگا تو تم نے پہنا ہی کیوں . . . . " میرے ایسا کہنے کی دیر تھی کی وہ کھلکھلا كے ہنس پڑی ، اور میرے سَر پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگی . . . . . " تم سچ میں بہت عجیب ہو . . . " " وہ تو میں ہوں . . . " میں نے دوبارہ اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چپکا لیا اور پھر چُوسنے لگا . . . . میں اس کے ہونٹوں کو اتنا زور سے چوس رہا تھا کہ اس کے ہونٹوں پر خون اترنے لگا ، اور ہونٹ كے کنارے پر مجھے خون کی کچھ بوندے بھی دکھی . . . لیکن میں روکا نہیں اور اسے پی گیا . . . . . . " بہت ٹیسٹی ہے . . . " " کیا . . . " " تمھارے ہونٹ . . . لیکن ذرا آرام سے ، درد ہوتا ہے . . . " سعدیہ بولی . سعدیہ كے بولنے کا لہجہ سیدھے میرے دِل پر لگا ، میں یہ تو جانتا تھا کہ سعدیہ كے لیے میں صرف اس کے جسم کی بھوک مٹانے كے لئے ہوں ، لیکن آج وہ کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی تھی . . . اس وقت جب اس نے کہا کہ " آرام سے کرو ، درد ہوتا ہے . . . . " تو میں جیسے اس وقت اس کا مرید ہو گیا ، دِل چاہتا تھا کہ میں بس ایسے ہی اس کے اوپر لیٹا اسے پیار کروں اور یہ رات کبھی ختم نہ ہو ، دِل چاہتا تھا کہ کل کی صبح ہی نہ ہو ، لیکن یہ ممکن نہیں تھا . . . . میرے دِل میں سعدیہ كے لیے آج کچھ اور جذبات تھے ، اک بار تو میرے دل میں خیال بھی آیا کہ کہی میں سعدیہ سے . . . . . . . . . . . نہیں یہ ہرگز نہیں ہو سکتا ، جن راستوں پر میں نے چلنا چھوڑ دیا ہے تو پھر ان راستوں سے گزرنے والی منزلیں مجھے کیسے مل سکتی ہے . . . . . . " یار اب اِس حسین پل میں کہاں کھو گئے ، کرو نہ. . . " " اتنی جلدی بھی کیا ہے سعدیہ . . . " میں نے بہت ہی پیار سے کہا ، اتنے پیار سے میں نے آج سے پہلے کبھی کسی سے بات کی تھی ، یہ مجھے یاد نہیں . . . . . " جلدی تو مجھے بھی نہیں ہے ، لیکن اس کا کیا کرے ، کمینی چین سے ایک پل جینے بھی نہیں دیتی . . . . " سعدیہ کا اشارہ اس کی گرم ہوتی چوت کی طرف تھا ، جو میرے لنڈ کی راہ تک رہی تھی کہ میں کب سعدیہ کو چودنا شروع کروں . . . لیکن میں سعدیہ كے اوپر سے ہٹ کر اس کے بغل میں لیٹ گیا اور اس میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ پسند تھی اسے سہلاتے ہوئے میں نے کہا . . . . " کچھ دیر بات کر لیتے ہے ، تب تک تم نارمل ہو جاؤ گی اور تمہیں درد بھی کم ھوگا . . . " آج سعدیہ کو میں نے ایک سے بڑھ کر ایک جھٹکے دیئے تھے اور مجھے پورا یقین تھا کہ اسے اب بھی جھٹکا لگا ھوگا ، میرا اندازہ سہی نکلا وہ مجھے حیران ہوکر دیکھ رہی تھی . . . . . " ارمان . . . آخر بات کیا ہے ، سب کچھ ٹھیک تو ہے نہ . . . " میرے چہرے کو سہلاتے ہوئے سعدیہ نے مجھ سے کہا . . . " ہاں ، سب ٹھیک ہے . . . " میں سعدیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا لیکن میرے دِل میں کچھ اور ہی تھا ، میں کچھ الگ ہی خواب سجا رہا تھا . . . . . بقول شاعر " آج پھر دِل کرتا ہے کی کسی كے سینے سے لپٹ جاؤں . . . . اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سارے غم پی جاؤں . . . . ہم دونوں رہے ساتھ ہمیشہ اس لئے . . . دِل کرتا ہے کی اس کی تقدیر کو اپنی تقدیر سے جوڑ دوں . . . . میں کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا سعدیہ سے لیکن اس نے مجھے آگے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا اور درمیان میں بول پڑی . . . . " پھر کیا بات ہے . . . جلدی کرو صبح ہونے والی ہے اور پھر ہم کبھی ایک ساتھ نہیں رہینگے . . . " سانسیں روک گئی تھی ، جب اس نے چھوڑ جانے كے لیے کہا . . . . . دِل نہ ٹوٹے میرا اس لئے . . . دِل کرتا ہے کی اپنے دِل کو اس کے دِل سے جوڑ دوں . . . . . " چلو یار ارمان . . . کیا سوچ رہے ہو ، وہ بھی اب " وہ مجھے بستر پر سوچ میں پڑا دیکھ کر جینجلا اٹھی ، تب مجھے احساس ہوا کہ سعدیہ كے لیے میں اب بھی سوائے ایک جسم کی بھوک مٹانے والے كے سوا کچھ نہیں ہوں اور اس کی طرف سے کہی گئی باتوں کا میں 101 % غلط مطلب نکال لیا تھا . . . مجھے برا تو لگا لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنی غلطی کا بھی احساس ہوا اور اپنی غلطی کا ازالہ کرنے كے لیے میں وآپس سعدیہ كے اوپر آ گیا. . . . . " یس اب آئے نہ لائن پڑ ، اپنی انگلی میرے منہ میں ڈالوں اور شروع ہو جاؤ . . . " وہ بولی اور میں نے ویسا ہی کیا ، میں نے اپنی انگلیاں اس کے منہ میں ڈالی اور اس کی زبان سے ٹچ کرنے لگا اور پھر کچھ دیر بَعْد اپنی انگلیاں نکل کر اس کو سَر سے پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچا . . . . . . بقول شاعر: " میرے دور جانے سے اے دوست خوشی ملتی ہے تجھے تو بتا دے مجھے . . . . . . تیری اِس خوشی كے لیے میں تجھے تو کیا اِس دُنیا کو چھوڑ كے چلا جاؤں . . . . .
-
ارمان ایک طویل داستان
" لنڈ . . . . " " بلکل سہی جواب اور آپ کو ملتی ہے ایک عدد چوت ، جسے آپ آج پوری رات چود سکتے ہے . . . . " سعدیہ کی ان چند جملوں نے مجھے اور بھی زیادہ پاگل اور مدھوش کر دیا اور ایک یہی وقت تھا ، جب مجھے اس کی چدائی کرنے كے علاوہ اور کچھ بھی یاد نہیں رہتا ، انہی چند لمحوں كے لیے میں آج بھی سعدیہ كے ساتھ تھا . . . . " میرے انعام کو پردے میں کیوں رکھا ہے . . . " یہ کہتے ہوئے میں نے اسی وقت سعدیہ کو پکڑ کر زمین پر لٹا دیا ، اور اس کی رس بھری گلابی چوت کو پردے سے باہر کیا . . . یہ سب کچھ میں نے اتنی جلدی کیا کہ سعدیہ حیران رہ گئی . . . اور پھر مسکراتے ہوئے بولی . . . " بہت جلدی ہو رہی ہے تم کو . . " " تم چیز ہی ایسی ہو قسم سے . . . " میرا ایسا کہتے ہی وہ خوشی سے مچل اٹھی ، سعدیہ کو زمین پر لیٹا کر میں نے ایک بار پھر اس کی چھاتیوں کو مسلنا شروع کیا . . . " آہ ہ ہ ہ . . . . وووہ ہ ہ ہ. . . . . " سعدیہ کی پیار بھری مستی پھدک رہی تھی اور وہ مزے كے سمندر کی انتہا پر جا کر دستک دے رہی تھی ، وہ اِس وقت اتنی مدھوش ہوگئی تھی کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے سینے كے ابھاروں کو مسلنے لگی اور مجھے اشارہ کیا کہ ، میں وہ سب کچھ کروں ، جس کے لیے آج رات میں یہاں تھا . . . . میں نے سعدیہ کی گوری چکنی کمر کو پکڑا اور اسے اپنے لنڈ كے بلکل اوپر بیٹھا لیا ، اس کی چوت اِس وقت میرے لنڈ كے ملن كے لیے تڑپ رہی تھی . . . میں نے اس کی تڑپ کم کرنے كے لیے اپنے ہاتھوں سے اس کے چوت کو تھوڑا پھیلایا اور سیدھا اپنا لنڈ ایک تیز ڈھکے كے ساتھ اندر داخل کر دیا . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ ہ . . . . . . . اوئی ی ی ی ی " اپنی انگلی کو دانتوں میں دباتے ہوئے وہ بولی ، اس كا چہرہ اِس وقت لال پیلا ہو رہا تھا ، . . . میں زمین پر لیٹا ہوا تھا اور سعدیہ میرے اوپر بیٹھی ہوئی اپنی گانڈ ہلا کر مزے لوٹ رہی تھی . . . اِس طرح اس کا درد بھی کچھ کم ہو گیا تھا ، اور اب وہ مستی بھری سیسکاریاں لے رہی تھی . . . میں نے ایک بار پھر سے اپنے سب سے پیاری جگہ کو پکڑا اور زور زور سے دبانے لگا اور تیزی سے اپنا لنڈ اس کی پھدی كے اندر باہر کرنے لگا ، . . . کبھی سعدیہ میرے ہاتھوں کو پکڑ لیتی تو کبھی اپنی چکنی گانڈ کو مٹکاتے ہوئے آگے پیچھی کرتی . . . . میرے تیز ڈھکوں كے ساتھ اس کی سسکاریاں بھی بڑھتی جا رہی تھی ، اسی دوران میں نے اس کے مموں کو کئی بار بہت زور سے مسئلہ ، اتنا زور سے کہ اس کی مستی بھری سسکاریوں میں اب درد جھلک رہا تھا ، لیکن یہ درد وہ اپنی بھاری گانڈ کو آگے پیچھے کرکے برداشت کر رہی تھی ، ہم دونوں اِس حالات میں بہت دیر تک چودائی کرتے رہے ، اس کے بَعْد میں نے سعدیہ کو الگ کیا اور ٹانگیں پیچھے کی طرف موڑ کر بیٹھ گیا اور اس کی گانڈ کے سوراخ کو سہلاتے ہوئے اسے بھی اپنے اوپر بیٹھا لیا . . . . " ش ش ش ش . . . یہ کیا کر رہے ہو . . . " سعدیہ بولی . . . " کچھ نہیں ، بس اپنا کام کر رہا ہوں . . . " اس کے ننگے بدن کو چومتے ہوئے میں نے بولا اور پھر اپنے لنڈ کو اس کی چوت سے لگایا اور ایک زور دھکہ مارا اِس پوزیشن میں میں پہلی بار سعدیہ کو چود رہا تھا ، اس لئے وہ تیار نہ تھی ، اور جیسے ہی میرا لنڈ پورا اندر گیا وہ درد كے مارے زور سے چیخی ، وہ درد سے تڑپ اٹھی اور مجھ سے خود کو چھوڑوانے کی کوشش کرنے لگی ، لیکن میں نے اس کی کمر کو کس کر پکڑا اور اسکی چوت میں لنڈ اندر باہر کرنے لگا . . . . سعدیہ نے اپنے ہاتھوں سے میرے لنڈ کو نکلنے کی بھی کوشش کی ، لیکن اس کے ہاتھ میرا کام بیگاریں اسے پہلے ہی میں نے اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر پیچھے جکڑ لیا ، اب اس کے پاس اسی طرح چودنے كے علاوہ اور کوئی رستہ نہیں تھا ، . . . سعدیہ کی سیسکاریاں اِس دوران مسلسل نکل رہی تھی ، جو مجھے اور مزید جوشیلا کر تھی ، سعدیہ کی سیسکاریوں میں درد صاف جھلک رہا تھا . . . . میں نے سعدیہ کو زمین پر وآپس لٹایا اور اس کی ٹانگوں کو پکڑ کر اس کو اپنی طرف کھینچا ، اس کے بَعْد میں نے اس کی دونوں ٹانگوں کو اوپر اُٹھا کر اس کی طرف موڑ دیا ، جس سے اس کی چوت میرے سامنے کی طرف آ گئی اور بنا ایک پل گنواے میں نے اپنا لنڈ اندر ڈال دیا ، سعدیہ کی چیخ ایک بار پھر پورے گھر میں گونجی ، اس کا گورا جسم ، درد اور مستی سے لال پیلا ہو رہا تھا " میں . . . اب . . . آہ ہ ہ ہ . . . . ارمان . . . آئی لوو یو . . . . س س س س س . . . . یس س س س . . . . . " سعدیہ فارغ ہوگئی اور اس کی گلابی چوت سے پانی باہر رسنے لگا ، اب میں نے اس کے گالوں کو زور سے سہلایا اور بری طرح سے سعدیہ سے لپٹ کر اور بھی زور سے اپنا لنڈ داخل کرنے لگا . . . وہ مجھے روکنے کی کوشش کرنے لگی ، لیکن میں نہیں روکا اور لگاتار اپنا لنڈ اس کی پھدی میں اندر باہر کرتا رہا ، اور کچھ دیر كے بَعْد میں بھی فارغ ہوگیا . . . . میں اور سعدیہ اب بھی ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے . . . ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہ جانے کیا دیکھ رہے تھے . . . . پھر اس نے ایسا کچھ کہا ، جس کی میں نے کبھی توقع تک نہیں کی تھی . . . . . . . . . . . " دل والوں كے گھر تو کب كے اجڑ چکے . . . . دِل كے آشیانے تو کب كے جل چکے . . . . . " سعدیہ سے میں نے صرف اتنا ہی کہا ، جب اس نے مجھ سے شادی کرنے كے لیے کہا . . . سعدیہ ، مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے ، یہ سن کر میں کچھ دیر كے لیے جیسے گھوم گیا تھا ، میں اب بھی زمین پر سعدیہ كے اوپر لیٹا ہوا تھا اور میرا لنڈ اب بھی اس کی چوت میں اندر تک دھنسا تھا . . . . میرے اس دو مصرے کے شعر کو سن کر وہ پل بھر كے لیے مسکرائی اور پھر میرے سَر پر ہاتھ پھیرتے ہوئی بولی " تم نے ابھی جو کہا ، اس کا مطلب کیا ہوا . . . " " میں تم سے شادی نہیں کر سکتا . . . " جب میں نے اسے ایسا کہا تو میں نے سوچا کہ شاید اس کے چہرے پر ناراضگی كے اثرات آئیں گے ، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ، وہ میرا سَر سہلاتی رہی . . . . . " میں مذاق کر رہی تھی . . . " وہ بولی " اصل میں ، بابا نے میری شادی کہی اور فکس کر دی ہے اور اگلے ہفتے شاید لڑکے والے مجھے دیکھنے بھی آ رہے ہے . . . . " " گڈ ، لیکن پھر مجھ سے کیوں پوچھا کہ میں تم سے شادی کروں گا یا نہیں . . . " میرے ہاتھ دھیرے دھیرے اس کے پورے جسم کو سہلا رہے تھے . . . . " میں جاننا چاہتی تھی کہ ، تُم مجھ سے پیار کرنے لگے ہو یا نہیں . . . " میرے ہاتھ کی حرکتوں سے تنگ آ کر اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ، اور ہستی ہوئی بولی . . . " اور میں تم سے پیار کرتا ہوں یا نہیں ، یہ تُم کیوں جاننا چاہتی تھی . . " میں نے اس کے ہاتھ کو دور کیا اور پھر سے اپنا کام شروع کر دیا ، اس کی آنکھوں میں جنسی پیاس پھر سے اترنے لگی . . . " میں نے یہ اس لئے پوچھا کیوںکہ ، میرے جتنے بھی بوائے فریںڈ ہے ، جب میں نے انہیں کہا کہ اب میں ان کے ساتھ تعلقات نہیں رکھ سکتی ، تو وہ بہت اُداس ہوئے ، کئی تو بچوں کی طرح رونے لگے اور بولنے لگے کہ ، . . . . سعدیہ پلیز مت جاؤ ، میں تم سے پیار کرنے لگا ہوں ، تو بس میں یہی جاننا چاہتی تھی کہ ، کہی اوروں کی طرح تمہیں بھی مجھ سے پیار تو نہیں ہوا ہے ، ورنہ آج کی رات كے بَعْد تُم بھی ان لڑکوں کی طرح رونا دھونا شروع کرتے . . . . " " بے فکر رہو ، میں ایسا کچھ بھی نہیں کروںگا . . . . " میں نے سعدیہ كے دونوں ہاتھوں کو کس کر پکڑا اور اپنا لنڈ جو اسکی چوت میں پہلے سے ہی گھسہ ہوا تھا ، میں اسے پھر سے اندر باہر کرنے لگا . . . . میری اِس حرکت پہ وہ ایک بار پھر مسکرا اٹھی . . . . تمہیں ، اک بات بتاؤں . . . آہ ہ ہ ہ . . . " " ہاں بولو . . . " " ان لڑکوں نے کال کر کر كے مجھے اِتنا پریشان کر دیا کے مجھے اپنا نمبر تک تبدیل کرنا پڑا . . . . تھوڑا آرام سے ڈالو ، ابھی ابھی فارغ ہوئی ہوں تو تھوڑا درد ہو رہا ہے . . . " " اِس کام میں درد نہ ہو تو پھر مزا کیسے آئیگا ، . . . " میں نے اور بھی زور سے اپنا لنڈ اس کی چوت كے اندر باہر کرنے لگا ، سعدیہ سسکی لیتے ہوئے حانپ بھی رہی تھی ، اور اپنے ہونٹوں کو دانتوں سے کاٹنے لگی . . . . " پلیز اسٹاپ . . . . " " اِس گاڑی کا بریک فیل ہو گیا ہے . . . " " اِس گاڑی کو ابھی روکو ، رات بہت لمبی ہے اور سفر بھی بہت لمبا ہے . . . . " اس نے میرے کمر کو کس کر جکڑ لیا اور بولی " تمہیں کیا ، تم تو میرے اوپر لیٹے ہوئے ہو ، یہاں زمین پر نیچے تو میں لیٹی ہوئی ہوں . . . اٹھو ابھی . . . " دِل تو نہیں چاہتا تھا کہ میں اسے چھوڑوں ، لیکن اس کا احساس مجھے ہو گیا تھا کہ وہ زمین پر نیچے لیٹ کر بہت دیر تک مجھ سے چودائی نہیں کر سکتی ، اس لئے میں نے اپنا لنڈ نکالا اور کھڑا ہوا ، اس کے بَعْد میں نے سہارا دے کر اسے بھی اْٹھایا . . . . " اب باقی کام بستر پر کرتے ہے . . . " وہ ایک بار پھر مسکرائی ، اور اپنے کپڑے اُٹھا کر اپنے بیڈروم كے طرف بڑھی . . . . دِل کیا کہ سعدیہ کو پیچھے سے پکڑ کر وہی لیٹا کر چود دوں، لیکن پھر سوچا کہ جب رات لمبی ہے تو پوری رات سو کر اسے چھوٹی کیوں بنائی جائے . . . . . . . جیسے کہ اکثر امیروں كے گھر میں کسی کونے میں شراب کی کچھ بوتلیں رکھی ہوتی ہے ، ویسا ہی ایک چھوٹا سا شراب خانہ سعدیہ كے گھر میں بھی تھا . . . جہاں ایک سے بڑھ کر ایک برانڈڈ شراب رکھی ہوئی تھی ، . . . میں اس چھوٹے سے شراب خانے کی طرف بڑھا اور وہاں موجود کرسی پر بیٹھ کر اپنا پیک بنانے لگا ، دو تِین پیک پی کر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور سعدیہ كے پورے گھر کو دیکھا ، سعدیہ کا گھر باہر سے جتنا بڑا نظر آتا تھا ، وہ اندر سے اور بھی بڑا اور عالیشان تھا ، ہر ایک چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑی سے بڑی چیز برانڈڈ تھی ، . . . شراب پینے كے بَعْد میں کیا سوچنے لگتا ہوں یہ میں خود آج تک نہیں سمجھ پایا ، شراب پینے كے بَعْد میرے پورے دماغ میں دنیا بھر کی باتیں آتی ہے ، کبھی کبھی کسی سیاست دان کی باتیں تو کبھی کبھی کسی دوست كے پوزیشن ، کبھی کوئی فیلم اسٹار اداکارہ تو کبھی کوئی سوشل ورکر . . . . . لیکن اِس وَقت ابھی جو میرے خیال میں آ رہا تھا ، وہ سعدیہ کے بارے میں تھا ، . . . شراب اور سعدیہ دونوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا تھا . . . . . سعدیہ میں ایک عجیب سی کشش تھی ، جو کسی بھی مرد کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے ، پھر چاھے وہ سعدیہ كے آزادانہ راویے سے متاثر ہو یا اس کی عجیب سی شکل میں ڈھلی ہوئی چھاتیوں سے یا اس کی گداز جسم سے . . . . میں سعدیہ سے اس کی چھاتیوں کی وجہ سے متاثر ہوا تھا ، اور یہی وجہ تھی کہ میں اکثر اس کے ساتھ سیکس کرتے وقت اس کے سینے كے ابھاروں کو پکڑ کر مسلنے لگتا تھا ، . . . " ارمان ، ذرا اوپر تو آنا . . . . " " کون . . . " آواز سن کر میں بھوکلایا ، لیکن پھر ایسے لگا جیسے کے مجھے سعدیہ نے آواز دی ہو ، . . . " اسی نے بلایا ھوگا . . . " میں نے خود سے کہا اور اُٹھ کر سیڑھیوں سے اوپر جانے لگا ، مجھے سعدیہ کا بیڈروم معلوم تھا ، اس لئے میں سیدھے وہی پہنچھا . . . .
-
ارمان ایک طویل داستان
" ارمان . . . ارمان . . . اٹھ ، ورنہ لیٹ ہو جائیگا . . . " کاشف نہ جانے کب سے مجھے اٹھانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا ، اور جب میں نے بستر نہیں چھوڑا تو ہمیشہ کی طرح آج بھی اس نے پانی کی ایک بوتل اٹھائی اور سیدھے میرے چہرے پر ڈال دی . . . . " ٹائم کتنا ہوا ہے . . . " آنکھیں ملتے ہوئے میں اُٹھ کر بیٹھ گیا ، اور گھڑی پر نظر گھمائی ، صبح كے آٹھ بج رہے تھے . . . . بوجھل دل سے میں نے بستر چھوڑا اور باتھ روم میں گھس گیا . . . . کاشف میرے بچپن کا دوست تھا اور اسی کی وجہ سے میں کراچی میں تھا ، جہاں ہم رہتے تھے ، وہ ایک پوش علاقہ تھا ، جس کا نام گلشن حدید تھا جو کہ اندرون شہر سے دور بنا ہوا تھا ، . . . اِس علاقے میں بہت بڑے بڑے امیر لوگ بھی رہتے تھے ، تو کچھ میری طرح گھٹ گھٹ کر زندگی گزرانے والوں میں سے بھی تھے . . . . میرے ساتھ کیا ہوا ، میں نے ایسا کیا کیا ، جس سے سب مجھ سے دور ہو گئے ، یہ سب کاشف نے کئی بار جاننے کی کوشش کی . . . لیکن میں نے ہر بار بات ٹال دی . . . کاشف پریس میں کام کرتا تھا ، اس کی حالت اور اس کے شوق دیکھ کر اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس کی تنخواہ کتنی ھوگی اور مجھے کبھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو وہ بنا کچھ بولے مجھ پر پیسے اڑا دیتا ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اس کے پیسے کبھی واپس نہیں کروں گا . . . . . " اب ناشتہ کیا خاک کرے گا ، ٹائم نہیں بچا ہے . . . . " میں باتھ روم سے نکلا ہی تھا کہ اس نے مجھے ٹوکا . . . " اور پی رات بھر شراب، کمینے خود کو دیکھ ، کیا حالت بنا رکھی ہے . . . " " اب تو صبح صبح تقریر نہ کر . . . " میں نے شرٹ پہنتے ہوئے کہا . . . . " اکڑ دیکھو اِس انسان کی ، . . . " کاشف بولتے بولتے روک گیا ، جیسے اسے کچھ یاد آ گیا ہو . . . . وہ تھوڑی دیر روک کر بولا . . . " وہ تیری بچی آئی تھی ، صبح صبح . . . . " " کون . . . " میں جانتا تھا کہ وہ کس کی بات کر رہا ہے ، لیکن پھر بھی میں نے انجان بننے کی کوشش کی . . . " سعدیہ . . . " " سعدیہ . . . . " میں نے اپنا موبائل فون اٹھایا ، تو دیکھا کہ سعدیہ کی بہت ساری مس کال آئی ہوئی تھی . . . . " کیا بول رہی تھی وہ . . . " " مجھے تو بس اتنا ہی بول كر گئی کہ ، ارمان جب اٹھ جائے تو مجھے کال کرے . . . " " اوکے . . . . " سعدیہ ہمارے ہی کالونی میں رہتی تھی ، وہ ان عیاش لڑکیوں میں سے تھی ، جن کے ماں باپ كے پاس بے شمار دولت ہوتی ہے ، جسے وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے بھی لٹائے تو بھی ان کا بینک بیلنس پر کوئی فرق نہ پڑے . . . . . سعدیہ سے میری پہلے ملاقات علاقے کے پارک میں ہی ہوئی تھی ، اور جلد ہی ہماری یہ پہلی ملاقات بستر پر جا کر ختم ہوئی ، . . . سعدیہ ان لڑکیوں میں سے تھی ، جن کے ہر گلی ، ہر محلے میں مجھ جیسا ایک بوائے فریںڈ ہوتا ہے ، جسے وہ اپنی ہوس مٹانے كے لیے استعمال کرتی ہے . . . اِس علاقے میں میں سعدیہ کا بوائے فریںڈ تھا ، یا پھر یوں کہے کہ میں اس کا ایک طرح سے غلام تھا . . . . . وہ جب بھی ، جیسے بھی چاھے میرا استعمال کرکے اپنے جسم كے بھوک کو پورا کرتی تھی . . . دِل میں کئی بار آیا کہ اسے چھوڑ دوں ، اسے بات کرنا بند کر دوں ، لیکن میں نے کبھی ایسا کچھ بھی نہیں کیا . . . . کیوںکہ سعدیہ كے ساتھ بستر پر گزرا ہوا ہر ایک پل مجھے اپنی بےکار زندگی سے بہت دور لے جاتا تھا ، جہاں میں کچھ وقت كے لیے سب کچھ بھول سا جاتا تھا . . . . " چل ٹھیک ہے ، ملتے ہے بارہ گھنٹے كے بَعْد . . ." کاشف نے مذاقیا اندازِ میں کہا . . . . ہر روز کی طرح میں آج بھی اس اسٹیل پلانٹ میں اپنا خون جلانے كے لیے نکل پڑا ، . . . میں ابھی کواٹر سے نکلا ہی تھا کہ سعدیہ کی کال پھر آنے لگی . . . " ہیلو . . . " میں نے کال ریسیو کی . . . " گڈ مارننگ شہزادے . . . اٹھ گئے آپ . . . " " اتنی تمیز سے کوئی مجھ سے بات کرے ، اس کی عادت نہیں مجھے . . . کال کیوں کی . . . " " اوہ ہو . . . تیور تو ایسے جیسے سچ میں شہزادے ہو . . . آج ممی پاپا رات میں کسی پارٹی كے لیے جا رہے ہے . . . . . گھر بلکل خالی ہے . . . . " " ٹھیک ہے ، رات کو كھانا کھانے كے بَعْد میں آ جاؤںگا . . . " کچھ دیر تک سعدیہ کی طرف سے کوئی آواز نہیں آئی اور جب میں کال بند کرنے والا تھا تبھی وہ بولی . . . " كھانا ، میرے ساتھ ہی کھا لینا . . . " " ٹھیک ہے ، میں آ جاؤںگا . . . " سعدیہ نے مجھے آج رات اپنے گھر پر بلایا تھا ، جس کا صاف مطلب تھا کہ آج مجھے اس کے ساتھ اسی كے بستر پر سونا ہے سعدیہ سے بات کرنے كے بَعْد میں اسٹیل پلانٹ کی طرف چل پڑا ، جہاں مجھے بارہ گھنٹے تک اپنا خون جلانا تھا ، . . . میں ہر رات اِس آس میں سوتا ہوں کہ ، صبح ہوتے ہی میرا کوئی بھی خاص دوست میرے گانڈ پر لات مار کر اٹھائے اور پھر گلے لگا کر بولے کہ " ریلکس بھڑوے ، جو کچھ بھی ہوا ، وہ سب ایک خواب تھا . . . اب جلدی سے چل ، فرسٹ پیریڈ سحرش میڈم کا ہے ، اگر لیٹ ہوئے تو لوڑا پکڑ کر پورے پیریڈ باہر کھڑا رہنا پڑیگا . . . . " لیکن حقیقت کبھی سپنے یا خواب میں تبدیل نہیں ہوتی . . . میں نے اپنے ساتھ بہت برا کیا تھا . . . یہ بھی ایک حقیقت تھی . . . . جس اسٹیل پلانٹ میں میں کام کرتا تھا ، وہاں میری کسی سے کوئی جان پہچان نہیں تھی اور نہ ہی کبھی میں نے کسی سے ملنے جلنے کی کوشش کی . . . . جب کبھی کسی کی مدد کی ضرورت پڑتی تو " ہیلو . . . اوئے . . . گرین شرٹ . . . بلو شرٹ . . . " ان سب ناموں سے پکار کر اپنا کام چلا لیتا . . . . اس دن میں رات کو نو بجے اپنے کواٹر میں آیا . . . کاشف مجھ سے پہلے آ چکا تھا . . . . " چل ، ہاتھ منہ دھو لے . . . شراب پیتے ہے . . . " ایک ٹیبل کی طرف کاشف نے اشارہ کیا ، جہاں شراب کی بوتل رکھی ہوئی تھی . . . " میں آج سعدیہ كے گھر جا رہا ہوں . . . " " ارے واہ. . . مطلب آج پوری رات ، لیو میچ ہونے والا ہے . . . " " لیو میچ تو ھوگا ، لیکن تماشائی صرف ہم دونوں ہوںگے . . . " " کمینے ، مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ سعدیہ جیسے ہائی پروفائل کلاس والی لڑکی ، تجھ سے کیسے سیٹ ہو گئی . . . . میں مر گیا تھا کیا . . " شراب کی بوتل کو کھولتے ہوئے کاشف نے کہا " ارمان ، ایک کام کر . . . تو سعدیہ سے شادی کر لے . . . لائف سیٹ ہو جائے گی . . . . " " مشورہ اچھا ہے ، لیکن مجھے پسند نہیں . . . " " تو پھر ایک اور سریا اٹھا كر گانڈ میں ڈال لینا ، زندگی اور بھی اچھی گزرے گی . . . " کاشف غصے میں بولا . . . . " میں چلتا ہوں . . . " یہ بول کر میں کواٹر سے باہر آگیا . . . سعدیہ کی طرح میں بھی چاہتا تھا کہ وہ ہر رات میری ساتھ ہی گزارے ، یہی وجہ تھا کہ میں نے اسے ابھی تک چھوڑا نہیں تھا . . . اور ایک مضبوط جوان انسان سے چودائی کرنے کی خوائش نے اسے بھی مجھ سے باندھ رکھا تھا . . . . وہ ہمیشہ جب بھی مجھ سے ملتی تو یہی کہتی کہ ، تمھارے ساتھ بہت مزا آتا ہے اور اس کے ایسا کہنے كے بَعْد میں ایک بناوٹی مسکراہٹ اس پر پھینک كے مرتا ہوں ، جس کا نشانہ ہر بار ٹھیک لگتا تھا . . . . . . " آ جاؤ . . . " سعدیہ نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا ، اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جلدی سے اندر کھینچ لیا . . . . " صبر کرو تھوڑی دیر . . . . " میں نے اندر ہی اندر ہزار گالیاں سعدیہ کو دی اندر آ کر ہم دونوں ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے ، وہ میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھی مجھے شرارت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ، میں نے بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی اور اشارہ کیا کہ میں تیار ہوں . . . میرا اشارہ پہ کر وہ ایکدم سے اٹھی اور کھانے کی پلیٹ کو ڈائیننگ ٹیبل پر رکھا کر سیدھے میرے اوپر بیٹھ گئی " تم ڈاکٹر ہو . . . " اپنے گہرے لال رنگ كی شرٹ کی بٹن کو کھولتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا . . . . " نہیں ، میں پاکستان کا وزیراعظم ہوں . . . کچھ کام تھا کیا . . . " میں نے بھی اپنی کھانے کی پلیٹ ڈائیننگ ٹیبل پر رکھی اور اس کے جینس کا لوک کھولتے ہوئے بولا . . . اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے سَر کو پکڑا اور پیار سے سہلانے لگی . . . . " ارمان ، تم جانتے ہو مجھے سب سے زیادہ کیا پسند ہے . . . " " چدائی . . . " میں نے دل ہی دل میں سوچا اور سعدیہ کی طرف دیکھ کر نہ میں سَر ہلایا ، اب میری نظر سعدیہ كے چہرے سے ہوتے ہوئے اس کے سینے پر جا اٹکی ، جہاں اسکی چھاتی كے دونوں پُھول باہر کھلنے كے لیے تڑپ رہے تھے . . . . سعدیہ کی کومل گوری کمر کو سہلاتے ہوئے میں نے اس کی کمر کو پکڑا اور اسے اوپر اٹھا کر اس کی جینس کو اس کے گھٹنوں سے بھی نیچے کر دیا ، اب وہ میرے سامنے صرف ریڈ براہ اور پینٹی میں تھی ، اس کے خالص گورے جسم پر یہ رنگ قیامت ڈھا رہا تھا . . . میرے سینے کو سہلاتے ہوئے سعدیہ نے میری شرٹ کو اتار کر پھینک دیا اور بے تحاشہ میرے سینے کو چومنے لگی ، اِس وقت میرے ہاتھ اس کی چھاتیوں پر اٹکے ہوئے تھے ، میں نے سعدیہ كے سینے كے ان دونوں ابھاروں کو کس کر پکڑا اور دبا دیا . . . . " آہ ہ ہ ہ . . . . دھتھ . . . " وہ مصنوئی غصے كے ساتھ بولی . . . " نائس براہ ، کافی اچھا لگ رہا ہے ، تم پر . . . . " اس کے براہ کو اس کے جسم سے الگ کرتے ہوئے میں نے کہا . . . " ارمان یہ براہ ، میرے جسم پر اتنا ہی اچھا لگ رہا تھا تو پھر اسے اتارا کیوں . . . . " " کیوںکہ اِس براہ كے پیچھے جو چیز ہے وہ اسے بھی زیادہ خوبصورت ہے " اس کی چھاتیاں اب میرے سامنے ننگی تھی ، اور میں اس کے ابھاروں کو جب چاہے جیسے چاہے دبا سکتا تھا ، ویسے تو میں خود کو اس کا غلام مانتا تھا تھا ، لیکن چودائی کرتے وقت وہ میری غلام ہو جاتی تھی . . . سعدیہ كے سینے كے ایک ابھار کو میں نے پیار سے اپنے منہ میں بھر لیا اور دوسرے کو ہاتھ سے مسلنے لگا . . . " منع کیا نہ . . . آہ ہ ہ اوں " سعدیہ میرا ہاتھ ہٹھاتے ہوئے بولی " کتنی بار منع کیا ہے ، زیادہ زور سے مت دبایا کرو . . . " میں اِس وقت سعدیہ سے بحث نہیں کرنا چاہتا تھا ، اس لئے میں نے اس کی بات مان لی اور اپنے ایک ہاتھ کو اس کے چھاتی پر سے ہٹا لیا اور اپنے ہاتھوں سے سعدیہ کی ننگی پیٹ کو سہلاتے ہوئے اس کی چوت پر اپنا ایک ہاتھ رکھ دیا اور اس کو مسلنے لگا . . . میرے ایسا کرنے پر وہ کسی مچھلی کی طرح اُچھل پڑی اور سیسکاریاں لینی لگی ، . . . میرے پینٹ میں بنے ہوئے تامبو کا اسے احساس ہو گیا تھا ، وہ دھیمی سی آواز میں بولی . . . " جلدی . . . . . پلیز . . . میں زیادہ انتظار نہیں کر سکتی’ . . . . . " میرے لنڈ کو پینٹ كے باہر سے ہی سہلاتے ہوئے سعدیہ نے کہا . . . . اس کی آواز کانپ رہی تھی . . . جو مجھے مدھوش کر رہی تھی . . . میں نے سعدیہ کو اوپر اٹھایا اور میں خود وہاں کھڑا ہو گیا ، کرسی کو پیچھے کرنے كے بَعْد وہ میرے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی اور میری طرف دیکھتے ہوئے میرے لنڈ پر اپنا ہاتھ پھیر رہی تھی ، اس کے بَعْد اس نے میرے لنڈ کو پینٹ سے باہر نکالا اور اپنے ہاتھوں میں تھام کر آگے پیچھے کرنے لگی . . . . . " تم جانتے ہو ، تم میں سب سے خاص چیز کیا ہے . . . . " میرے لنڈ کو اپنے ہاتھوں سے سہلاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا . . . .
-
ارمان ایک طویل داستان
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ "عاشق بن کر اپنی زندگی برباد مت کرنا . . . . . . " لیکن وقت كے ساتھ ساتھ بربادی تو طے ہے ، جو میں نے خود اپنے لئے چنی . . . . میں نے وہ سب کچھ کیا ، جس کے ذریعے میں خود کو برباد کر سکتا تھا ، اور رہی سہی کسر میرے غرور نے پوری کر دی تھی . . . اپنی زندگی كے سب سے اہم چار سال برباد کرنے كے بَعْد میں آج اِس مقام پر تھا کہ اب کوئی بھی مقام حاصل نہیں کیا جا سکتا ، بابا چاھتے تھے کہ میں بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن جاوں . . . لیکن میں نے اپنی زندگی كے ان اہم عرصے میں جب میں کچھ کر سکتا تھا ، میں نے یوں ہی برباد کر دیا ، گھر والے ناراض ہوئے ، تو میں نے سوچا کی تھوڑے دن ناراض رہیں گیں بَعْد میں سب ٹھیک ہو جائیگا . . . . لیکن کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوا ، سب کے تانے دن بہ دن بڑھنے لگے . . . برباد ، ناکارہ کہہ کر بلاتے تھے سب مجھے گھر میں . . . اور ایک دن تنگ آکر میں گھر سے نکل گیا اور کراچی آ گیا اپنے ایک دوست كے پاس ، کراچی آنے سے پہلے سننے میں آیا تھا کی میرا بڑا بھائی سرور امریکہ جانے والا ہے ، اور اس کے ساتھ شاید امی اور بابا بھی جائے . . . . لیکن مجھے کسی نے نہیں پوچھا . . . شاید وہ مجھے یہی چھوڑ کر جانے كے پروگرام میں تھے . . . خیر مجھے خود فرق نہیں پڑتا اِس بات سے ، اور آج مجھے کراچی آئے ہوئے تقریباً دو مہینے سے اوپر ہو چکے ہے ، میرا بھائی امریکہ گیا کہ نہیں ، میرے بابا اور امی امریکہ گئے کہ نہیں ، مجھے کچھ نہیں پتہ اور نہ ہی میں نے ان دو مہینوں میں کبھی جاننے کی کوشش کی اور جہاں تک میرا اندازہ تھا وہ لوگ مجھے ناکارہ سمجھ کر شاید ہمیشہ كے لیے میرے بڑے بھائی كے ساتھ امریکہ چلے گئے ہوںگے . . . . کوئی مجھ سے پوچھے کہ دُنیا کا سب سے بیکار ، سب سے بڑا بے وقوف ، اور سب سے بڑا چوتیا کون ہے ، تو میں بنا ایک پل گنوائیں اپنا ہاتھ اوپر کھڑا کر دوں گا اور بولوں گا " میں ہوں " کسی کو اپنی زندگی کی جڑے خود برباد کرنی ہو تو وہ بے شک میرے پاس آ سکتا تھا ، اور بے شک میں اس کی مدد بھی کرتا . . . . . کراچی آئے ہوئے مجھے دو ماہ سے اوپر ہو گیا تھا ، جہاں میں رہتا تھا ، وہاں سے تقریباً بیس کلو میٹر کے فاصلے پڑ پورٹ قاسم تھا وہاں ایک نئی نئی سٹیل انڈسٹری شروع ہوئی تھی . . . کافی بھاگ دور کے بعد کسی بھی طرح میں نے وہاں اپنی نوکری پکّی کر لی ، بہت ہی بدذات قسم کی نوکری تھی ، بارہ گھنٹے تک اپنے جسم کو آگ میں سیکنے كے بَعْد بس گزارا ہو جائے اتنا ہی پیسہ ملتا تھا . . . . خیر مجھے کوئی شکایت بھی نہیں تھی . . . . جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ، میں اس فیکٹری کی آگ میں جل رہا تھا ، جینے كے سارے ارمان ختم ہو رہے تھے ، اور جب کبھی آسمان کو دیکھتا تو صرف دو فقرے میرے منہ سے نکل پڑتے . . . آسمانوں كے فلک پر کچھ رنگ آج بھی باقی ہے . . . . . . . . . ! ! ! جانے ایسا کیوں لگتا ہے کی زندگی میں کچھ ارمان آج بھی باقی ہے . . . . . . . . . ! ! ! اور میری سب سے بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ میرا نام بھی ارمان تھا ، جس کے ارمان پورے نہیں ہوئے ، یا پھر یوں کہے کہ میرے ارمان پورے ہونے كے لیے کبھی بنے ہی نہیں تھے . . . . . جاری ہے . . . .