پارٹ نمبر 1
:تعارف
یہ کہانی ایک ایسے لڑکے کی ہے جو ناقابلِ یقین طور پر ذہانت کا حامل تھا جسے پڑھنے کا بھت شوق تھا لیکن وہ جس معاشرے میں پیدا ہوا اس کا ماحول بالکل ہی اس کے برعکس تھا ۔ وہاں پڑھائی کو فضول اور وقت کا ضیاع سمجھا جاتا تھا جس کی وجہ سے بہت کم ہی لوگ اپنے بچوں کو سکول میں داخلکرواتےتھے
حمیید اب کافی بڑی عمر کا ہوگیا تھا اس کے ماں باپ کو اس ک شادی کی کافی فکر لگی رہتی تھی وہ اسے بار بار شادی کرنے کا کہتے تھے پر وہ ایک ہی ضد پر اڑا ہوا تھا کے وہ شادی کرے گا تو صرف سمینہ سے نہیں تو عمر بھر ایسے ہی گزار دے گا لیکن اس ک والدین اس بات سے قطعاً راضی نہیں تھے وہ چاہتے تھے کہ حمید اپنے خاندان میںں شادی کرے :
حمید۔۔ امی میں تین کنی واری آکھیا میں بلکیس نال شادی نہیں کرنی ھے تو ہم نا لیا میرے آگے تے میں فر کدی گھر وچ پیر نہیں رکھنا
نسیمہ۔۔۔ پتر تو میری گل کیوں نہیں سمجھدا سیدھے وچ میرا کوئی وس نہیں او اے تیرے پیو دی مرضی ہے نالے میری گل سنے نا پتر سیدھے وچ تیرا بھی بھو فیدا اے تین پتا تا ھے جیہدی بلکیس ہے اوہ بختاور دی کلی دھی اے اودھے نال ویاہ کریسے تا تن بھو جائیداد ملسی فیر بھاویں تو اوہنوں فیصلہ دے کے اپنی اودھا کی نا اے کلموھی دا ہاں یاد آیا سمینہ فر تو بھاویں تو سمینہ نال شادی کر لویں
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔