Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Mani00001

Previous Members
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Mani00001

  1. Ab KB tak aa jai gi update
  2. Kia plane hae
  3. Very nice story
  4. Nice update bro
  5. Lagta hae end hae an Nice story
  6. Sooooper update dost
  7. great yar zabardadt
  8. nice update yar
  9. yar jaldi update kr do
  10. معزز قارئین میرا نام شہروز ہے اور میں بہاولپور کے ایک دیہات سے تعلق رکھتا ہوں میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے غربت کے باوجود میرے والدین نے بڑی محنت سے مجھے انٹر تک پڑھایا انٹر کرنے کے بعد میں گھر واپس آ گیا ایک دو ماہ گھر میں رہا اور گھر کے حالات دیکھیں مجھے محسوس ہوا کے میں آگے گھر والوں پر بوجھ نہیں بن سکتا لہذا مجھے پڑھائی چھوڑ کر کوئی نوکری ڈھونڈنا ہو گی نوکری کے لئے میں میں دوستوں کو کہنا شروع کردیا میرے دوست فیصل آباد میں پرائیویٹ فیکٹریوں میں کام کرتے تھے تو کچھ دنوں بعد میرے ایک دوست نے مجھے وہاں بلا لیا وہ دوست معسود ٹیکسٹائل میں کام کرتا تھا میوا ان لوگوں کے ساتھ کام کرنے لگ گیا وہاں کام کرتا تھا اور جو پیسے بنتے تھے وہ مگر والوں کو دے دیتا تھا اسی طرح تین چار ماہ ہو گئے کے ایک دن میں بار گومنے گیا ہوا تھا کے مجھے وہاں ایک فیملی ملی جو کہ ہمارے عزیز تھے میں ان سے ملا اور وہ مجھے مل کے بہت خوش ہوئے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو تو میں نے کہا کہ میں یہاں کام کرنے کے لیے آیا ہوں تو اگلا سوال ان کا یہ تھا کہتم رہتے کہاں ہو میں نے ان کو ہاسٹل کا بتایا جو کہ فیکٹری کے اندر تھا وہ لوگ جلدی میں تھے اس لیے انہوں نے مجھے گھر آنے کی دعوت دی جسے میں نے پھر کبھی آنے کا کہہ کر ٹال دیا ہم نے اپنے نمبر چینج کیے اور میں ہاسٹل آگیا یہاں پر اس فیملی کا تعارف کرادو اسد عمر17سال صبیحہ عمر 24 سال فضیحہ عمر 22 سال اور سب سے چھوٹی لڑکی تانیہ عمر 19سال اور ان کی ماں مریم دوستو یہ تو اس فیملی کا تعارف تھا ایک رات اسد کی کال آئی تقریبا آٹھ کا ٹائم ہوگا اس نے مجھے اپنا وعدہ یاد دلایا گھر آنے کا اگلا دن چھٹی کا تھا یعنی کے اتوار تو میں ان کی طرف چلا گیا اسد گھر پر ہی تھا لیکن وہ کہیں جانے والا تھا لیکن میرے آنے کی وجہ سے وہ رک گیا اور اس نے چائے کا بولا جو میں نے ہاں کر دی ہم ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے یعنی کہ اپنے گھر بار اپنے علاقہ کی خیر خبر اتنے میں اس کی بڑی بہن فضیحہ چائے لے کر آ گئی ہم نے چائے پی اور اسد چلا گیا کیونکہ ہمارے گھریلو تعلقات تھے اسی لئے وہ مجھے گھر پر ہی چھوڑ کر چلا گیا کے مجھے امی کی دوائی لینے سول اسپتال جانا ہے قضیہ اور میں بیٹھک میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے فضیحۃ مجھے پہلے دن سے ہی پسند تھی جس دن ہم ملے تھے لیکن اب خوش قسمتی سے موقع بھی مل گیا ایک دوسرے سے بات کرنے کا وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھی میرے کام کے بارے میں اور گھر کے بارے میں لیکن میں اسے بس دیکھ ہی رہا تھا میں اس کی خوبصورتی کا قائل ہو گیا تھا باتیں کرتے ہوئے جب اس نے میری طرف دیکھا میں تو کسی اور ہی دنیا میں تھاا فضیحۃ!کہاں پہنچ گئے تم میں !کہیں نہیں بس کسی پری چہرہ کو دیکھ رہا ہوں جو روز میرے خوابوں میں آکر مجھے بے چین کرتا ہے فضیحہ !کون ہے وہ پری چہرہ میں !تم رہنے دو کیا کرو گی جان کر فضیحہ !بتا دو یار اور وہ ضد کرنے لگ گئی تو میں نے اسے کہا بتا تو لیکن تم ناراض نہ ہو جاؤ فضیحہ !نہیں ہوتی ناراض اب بتا بھی دو ۔ ۔ ۔ تواب میں نے فیصلہ کیا کہ اسے بتا ہی دیتا ہوں میں !وہ پری چہرہ تم ہو فضیحہ میری جان I love you
  11. پیارے دوستو میں آپ سب کا شکر گزار ہوں کے آپ کو میری سٹوری پسند آرہی ہیں. آپ کے کمنٹس کا بھی شکریہ. ہوا کچھ یوں کے میں اس وقت ایک الیکٹرانکس کمپنی میں کم کرتا تھا. ڈاؤن اخبار کی طرف سے لائف سٹائل نمائش میں ہماری کمپنی نے اپنا سٹال لگایا. پہلا ہفتہ کراچی، پھر اسلام آباد اینڈ آخر میں لاہور میں یہ نمائش لگنی تھی. تینو جگا پر میں کمپنی کو پرسنٹ کر رہا تھا. ہمیں سٹال پر کھڑا کرنے کے لیے لڑکیوں کی بھی ضرورت تھی. اس کے لیے ہم نے ہر جگا پر چار چار لڑکیاں رکھی. ڈولی(اصل نام کچھ اور تھا) سے ملاقات لاہور میں ہی. وہ تقریباً پانچ فٹ دس انچ لمبی ، چالیس کے ممے، اور تیس کی گانڈ، سرخ و سفید رنگ، بلو ایس کی ملک پچیس سال کی لڑکی تھی. بہت شوخ اور چنچل سب کے ساتھ جلد فری ہو جانے والی. اس نے دو دن ہمارے ساتھ گزرے. بلکل فری ہو کر. کم کے دوران سٹال میں جگا کم ہونے کی وجہ سے کافی دفع گزرتے ہوے ہمارے جسم آپس میں ٹچ ہوے. میں نے ایک دفع جن کر گذرتے ہوے جب ڈولی کے پیچھے پہنچا تو وہیں ایک منٹ کے لیے روک گیا. میرا لن ڈولی کی جینز میں ابھری ہوئی گانڈ کی لکیر کے بلکل ساتھ لگا ہوا تھا. مگر ڈولی نے ایسے شو کیا جسے کچھ ہوا ہی نہ ہو. کم کے ساتھ ہنسی مذاق بھی چلتا رہا. اسی طرح دو دن گزر گئی. میں نے اب روٹین کے مطابق دفتر جانا شورو کر دیا تھا. کوئی ایک ویک کے بعد مجے میرے چپراسی نے بتایا کے سر آپ سے کوئی ڈولی ملنے ای ہی. میرا آفس علامہ اقبال ٹاؤن میں مون مارکیٹ کے قریب تھا. نیچے آفس اور شو روم تھا. اوپر ایک دو روم کا فلیٹ تھا جس میں میں اکیلا رہتا تھا. ایک روم میں بد روم اور دوسرا گیسٹ روم کے طور پر استمال کرتا تھا. جب ڈولی ای تو میں لنچ کے لیے اوپر فلیٹ میں تھا. میں ابھی چپراسی کو کچھ کہنے ہی والا تھا کے پیچھے پیچھے ڈولی اور اس کی ایک اور سہیلی اوپر فلیٹ میں ہی آگئی. میں نے دونو کو خانے کی آفر کی. انہوں نے کھانا میرے ساتھ کھایا. تین دن سے میری کم والی ماسی چوتھی پر تھی اس وجہ سے فلیٹ بکھرا پڑا تھا. کھانا کھا کر ڈولی اٹھی اور میرے مانا کرنے کے باوجود اٹھ کر میری سری چیزوں کو سمیٹنے لگ گئی. میں نے اسے مانا کیا مگر وہ باز نہ ای. پھر ہم دفتر آگئی اور وہہں ہم نے چائ پی . پھر میں نے ڈولی سے پوچھا کے بتائیں کیسے آنا ہوا. ڈولی نے اپنے ساتھ والی لڑکی کا تعارف کرایا اور بولی کے اس کی ماں بہت سخت بیمار ہے. اس کے پاسس علاج کے پیسے نہیں ہیں. آپ اسکی تھوڑی سی مدد کر دیں. میں نے اسے کچھ رقم دے دی. پھر اس کے تقریبان بیس دن بعد وہ دوبارہ ای اور بولی کے آج جلدی میں ہے. اس کے پڑوس میں ایک غریب لڑکی کی شادی ہے. اس نے اس کے لیے بہت سے پیسے جما کرنے ہیں. اس طرح اس دن پھر وہ پیسے لے کر اور دوبارہ ملنے کا کہ کر چلی گئی. تقریباً دس دن گزر گئی میں نے سوچ کے اب ڈولی سے وصولی کی جی. میں نے اسے کیل کیا اور پوچھا کے سنڈے کو کیا کر رہی ہو. وہ بولی فارغ ہوں میں نے بولا کے میں لاہور میں نیا ہوں تو کیا تم مجے لاہور کی سیر کرا سکتی ہو. بولک ٹھیک ہے میں سنڈے کو آجاؤں گی. چھوتی ہونے کی وجہ سے میرا لمبا سونے کا پروگرام تھا مگر صبح آٹھ بجے ہی دور بیل بجیمیں ایسے ہی میں نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے ڈولی کھڑی تھی. اتنی صبح صبح وہ سیدھی اندر گھس ای اور میرے بیڈ پر چڑھ کر بیٹھ گئی. میں صرف ایک برمودا پہنے ہوا تھا. میں بھی اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گیا. وہ بولی کے کمرے کا کیا حل کیا ہوا ہے. ہٹو میں اسے ٹھیک کرتی ہوں. اس نے اپنا بیگ اور دوپٹہ صوفے پر رکھا اور کمرہ ٹھیک کرنے لگ گئی. میں بھی اس کے ساتھ شامل ہو گیا. تھوڑی در میں ہم نے روم ٹھیک کر لیا. میں نے اسے کہا کے وہ بیٹھ کر تو دیکھے اور میں شاور لے کر آتا ہوں. میں باتھ روم میں گھس گیا. اور تو کا ریموٹ اسے دے دیا. ویکینڈ ہونے کی وجہ سے رات کو میں ایک ٹرپل اکس مووی لے آیا تھا جو کے ابھی بھی دی وی دی کے اندر ہی تھی. میری عادت تھی کے ہمیشہ واشروم میں نھاتا اور کپڑے روم میں آکر پہنتا تھا. اس دن بھی میں روٹھنے کے مطابق اندر گھس گیا بعد میں مجے یاد آیا کے کپڑے تو بھر ہیں. خیر میں نے شاور لینے کے بعد ڈولی کو آواز دی اور بولا کے میرے کپڑے روم میں ہیں اس لیے وہ ذرا باہر چلی جی میں کپڑے پہن لوں تو پھر آجانا. ڈولی اچھا کہ کر دوسرے کمرے میں چلی گئی. میں روم میں تولیہ لپیٹ کر آگیا. ٹی وی کی طرف دیکھا تو رات والی ٹرپل مووی چل رہی تھی. میں نے ڈولی کو آواز دی. وہ اندر آگہی. میں نے پوچھا یہ کیا دیکھ رہی ہو. وہ بولی جو چل رہا ہے. میں نے کہا اچھا. اور اپنے کپڑے اٹھا کر میں واشروم میں چلا گیا. جب میں کپڑے بدل کر نکلا تو ڈولی نیوز دیکھ رہی تھی. بولی چلیں اور ہم دونو بھر آگہی. اس دن ہم لاہور میں مختلف جگہوں پر گومتے رہے. رات کا ڈنر ہم نے فورٹریس میں کیا اور گیارہ بجے رات کو میں نے اسے اس کے گھر چھوڑ دیا. اب یہ ڈولی کا معمول بن چکا تھا. وہ ہر سنڈے کو مرے گھر آجاتی. سارا دن ہم گھومتے. ساتھ میں ڈولی کو تھوڑی بہت شاپنگ بھی کروا دیتا اور کبھی کبھار اسے کچھ پیسے بھی دے دیتا. آخر کار وہ دن بھی آ ہی گیا. ڈولی روم میں بیٹھی مرے کپڑے استری کر رہی تھی میں واشروم سے ٹاول لپیٹ کر روم میں آیا. ڈولی کے پاس آکر کھڑا ہو گیا. اس کے بالوں سے کھیلنے لگا. وہ بولی کیا بات ہے جی. میں نے کہا کے ڈولی ایک بات کہوں وہ بولی جی. میں نے کھا کے مجے تم سے محبت ہو گئی ہے. وہ استری چھوڑ کر کھڑی ہو گئی. بولی سر آپ مذاق کر رہے ہیں یا سروز ہیں میں بولا کے میں مذاق نہیں کر رہا. وہ بولی کے میں آپکا بہت احترم کرتی ہوں. آپ بس مرے اچھے دوست ہیں. باقی کچھ نہیں. میں چپ کر گیا. اتنا کچا کھلاڑی میں بھی نہیں تھا. پانچ منٹ کے بعد اس سے دوبارہ بولا کے ڈولی اب تم استری کر رہی ہو. مرے فلیٹ میں ہو. اکیلی ہو. اگر میں تمہیں پکڑ لوں تو تم کیا کروگی. وہ بولی سر میں گرم گرم استری آپ کو لگا ڈان گی. میں نے کہا اچھا تو پھر لگاؤ اور میں نے موقع دیے بغیر اسے جاکر پیچھے سے پکڑا اور اٹھا کر بیڈ پر لیتا دیا. اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی میں نے اس کے گلابی گلابی ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دے اور پاگلوں کی طرح کسسنگ سٹارٹ کردی. اب اسنے بھی انجوے کرنا سٹارٹ کر دیا. میں نے فرنچ کیسس کی اسکی زبان لے کر خوب چوسی. پھر اسکے ماتھے پر آنکوں پر گردن پر بے شمار کس کے. وہ صرف بولتی رہی سر نہ کریں. لیکن میں لگا رہا اسی کشتی میں میرا ٹاول بھی کھل گیا تھا اور میرا لن پوری اب و تاب کے ساتھ کھڑا ہو چکا تھا. اور اس کی پھدی کو پھاڑ کر اندر جانا چہ رہا تھا. جسے ڈولی بھی محسوس کر رہی تھی مگر مرے اس کے اپر ہونے کی وجہ سے اسے نظر نہیں آرہا تھا. میں پورے زور سے کسسنگ جاری رکھے ہوے تھا. اب ڈولی ٹن ہو رہی تھی.مرے دونو ہاتھ اب اسکے ماموں پر تھے. اسکے نیپل سخت ہو چکے تھے. میں نے ڈولی کی زبان اپنے دانتوں سے پکڑ لی اور اسے تھوڑا سا اوپر کیا اور اسکی شرٹکھینچ کر اسکی گردن تک لے آیا. پھر فورن سے اسکی شرٹ اسکے گلے سے اتر دی. اسکے مامے اسکا سمارٹ پیٹ سب مرے سامنے تھا. میں نے اسکا برا کھولا اور اسکے پنک کولور کے نیپل منہ میں دال کر چوسنے سٹارٹ کر دے. ساتھ ہی پاؤں سے پکڑ کر اسکی شلوار بھی نیچے کھینچ لی. اب ہم دونو بلکل ننگے تھے. میں نے اسے دبا کر گلے سے لگایا. پھر بیڈ پر لیٹ گیا. ڈولی سے بولا اب تمہاری باری ہے. جتنا پیار کر سکتی ہو کرلو. وہ بولی کے آپ بہت برے ہیں. آپ نے مجھے بلکل موقع نہیں دیا. یہ کہ کر وہ اٹھی اور اس نے کپڑا لے کر مرے دونو ہاتھ بیڈ پر کھول کر باندھ دیے اور پھر ایک کپڑا میری آنکھوں پر بھی باندھ دیا. اب میں بلکل نہیں دیکھ سکتا تھا. ڈولی نے مجھے مرے ماتھے سے چومنا سٹارٹ کیا اور گردن تک خوب کسنگ کی. پھر وہ مرے سینے پر ای اور اسے زبان سے چاٹنا سٹارٹ کردیا. وہ لکنگ کرتی جا رہی تھی آھستہ آھستہ نیچے ہو رہی تھی. پھر اس نے میری دونو ٹانگیں کھول دی اور تھوڑا اپر اٹھا کر مرے دونو بالز چاٹنے سٹارٹ کر دے. وہ کبھی ایک بل منہ میں ڈالتی کبھی دوسرا. پھر وہ مرے لن تک بہنچ گئی اور بارے طریقے سے میرا لن منہ میں دال کر چوسنے لگی. وہ کبھی پورا لن اندر لے لیتی کبھی صرف ٹوپی، کبھی لکنگ کرتی تو کبھی سکنگ. کوئی دس منٹ کاک یہ سب چلتا رہا. پھر بولی. کے میں اپر آؤں یا آپ اپر ہونگے. میں بولا جسے تم کہو. بولی کے آپ اپر آجاؤ اور اس نے مجھے کھول دیا. میں نے اسے لٹایا اور دوبارہ سے اسکے ممے چوسنے اور دبانے لگ گیا.

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.