Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Javaidbond

Previous Members
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Javaidbond

  1. سٹوری پڑھنے کے بعد اپنی اپنی رائے ضرور دیجئے گا۔۔۔مطلب سٹوری کا ٹیمپو یہاں سے گر گیا۔۔۔یا پھر یہاں سے ایسا نہیں ایسا ہونا چاہیے تھا۔ مطلب کچھ تو۔ اگر کوئی کچھ کہے گا تو پتہ چلے گا ناں کہ کیا میں صحیح لکھ رہا ہوں یا پھر کھچیں مارتے ہوئے اپنا اور آپ سب لوگوں کا ٹائم ضائع کر رہا ہوں۔ منتظر۔ جاوید بانڈ
  2. مجھ سے ٹکرانے والا بھی پھرتی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔وہ چوہدری کا پالتو کتا شاہنواز تھا۔۔۔جیسے ہی اس کی نظر میرے چہرے پر پڑی تو وہ حیرت سے چلایا۔۔۔اوئے کمالے تو؟؟ساتھ ہی اس کا ہاتھ اپنے نیفے کی طرف بڑھا۔۔۔میرے ہاتھ میں بھی لیوگر پکڑا ہوا تھا میں نے ایک جھٹکے سے ہاتھ آگے کیا اور ٹرائیگر دبا دیا۔۔۔ارے یہ کیا۔گولی نکلنے کی بجائے ٹرچ کی آواز نکلی۔ ************************ (36) مجھ سے ایک سنگین غلطی ہو چکی تھی۔۔۔الماری سے ایمونیشن تو اٹھا لیا لیکن جلدی جلدی میں گولیاں بھرنا بھول گیا۔۔۔اب میرے پاس اتنا ٹائم بھی نہیں تھا کہ میں ڈب سے اپنا ریوالور نکالتا۔۔۔میرے پاس ایک آخری راستہ تھا جس پر میں نے فوری عمل کیا۔۔۔میں نے میکانکی انداز میں اپنے ٹانگ چلائی اور ایک ٹھوکر شاہنواز کے پیٹ میں ماری۔۔۔وہ اوغ کی آواز کے ساتھ اوندھا ہوا تو میں نے اس کی طرف چھلانگ لگائی لیکن وہ ایک دم سنبھل کر چیختے ہوئے داہنی طرف بھاگا۔۔۔اس کے چلانے کے ساتھ ہی دوسری طرف سے بھی کسی کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔۔۔لازمی سی بات تھی کہ اس کی آواز پہرے داروں نے سن لی تھی اور اب میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ میں اس کے پیچھے بھاگتا۔۔۔چنانچہ میں نے اس کا خیال چھوڑا اور بھاگتے ہوئے صحن کراس کر کے باہر والی دیوار کے پاس پہنچ گیا۔۔۔ جیسے ہی میں دیوار کے پاس پہنچا تو ایک دھماکہ میرے سر پر ہوا۔۔۔میں وہیں زمین پر گر گیا۔۔۔یہ دھماکہ گولی کا تھا جو کہ نوشاد نے چلائی تھی۔۔۔وہ وہیں سے بیٹھی ہوئی آواز میں چلایا۔ بھایا جلدی کرو۔ میں دو قدم پیچھے ہوا اور پھر بھاگتے ہوئے جمپ مار کر دونوں ہاتھوں کے بل دیوار کے کنارے پر لٹک گیا۔اسی وقت نوشاد نے ایک مرتبہ پھر گولی چلائی اور چیخا بھایا نکلو۔۔۔میں نے ہاتھوں کے زور پر اپنا پورا جسم اٹھایا اور دیوار پر لیٹ کر دوسری طرف کود گیا۔۔۔اس طرف زمین ذرا نیچی تھی لیکن نرم ہونے کیوجہ سے میں کسی قسم کی چوٹ سے محفوظ رہا۔۔۔اتنی دیر میں نوشاد بھی درخت سے نیچے اتر آیا۔۔۔میں نے بھی لیوگر ڈب میں ڈالا اور اپنا ریوالور ہاتھ میں پکڑ لیا۔ حویلی میں ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی تھی۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے کماد میں داخل ہو گئے۔ہمارے پیچھے لوگوں کے چلانے اور بھاگنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔چند ایک گولیاں چلنے کی بھی آواز سنائی دی لیکن ہم لوگ رکے بغیر کھیتوں کے اندر اندر سے ہی بھاگتے ہوئے اپنے ڈیرے پر پہنچ گئے۔۔۔ڈیرے پر جا کر میں نے نوشاد کو ساری بات بتائی اور لیوگر بھی دکھایا۔۔۔ہیروں والا قصہ دانستہ گول کر گیا۔۔۔راجو کی موت کا سن کر نوشاد خوشی سے بولا:بھایا اچھا کیا جو دھرتی کے اس بوجھ کو کم کیا۔ لیکن شاہنواز والے ٹکراؤ کا سن کر وہ پہلے تھوڑا سا پریشان ہوا پھر کندھے جھٹک کر بولا جو ہو گا دیکھا جائے گا فلحال وہ لوگ کھلے عام کوئی انتقامی کاروائی کرتے وقت لاکھوں بار سوچیں گے اور ہم اتنی دیر تک کوئی نا کوئی ترکیب سوچ لیں گے۔۔۔۔فلحال آپ یہاں آرام کرو آپ کا گھر جانا ٹھیک نہیں۔۔۔ہم لوگ کافی دیر تک ایسے ہی باتیں کرتے رہے۔پھر نوشاد بولا:بھایا میں گاؤں جاتا ہوں اور وہاں کے حالات دیکھ کر تھوڑی دیر بعد واپس آؤں گا۔ میرے سر ہلانے پر وہ اٹھا اور پستول ڈب میں لگا کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔میں کچھ دیر تو چارپائی پر لیٹا رہا۔۔۔پھر اچانک مجھے ہیروں کی یاد آئی تو میں اٹھ بیٹھا۔۔۔کافی دیر سوچنے کے بعد مجھے ایک محفوظ جگہ سوجھ گئی۔۔۔میں اپنی جگہ سے اٹھا اور کمرے سے بیلچہ اٹھا کر کھیتوں میں نکل گیا۔۔۔کھیت میں جا کر ادھر ادھر جگہ ڈھونڈے لگا۔ادھر ادھر دیکھنے کے بعد میں نہر کی طرف چل پڑا۔۔۔نہر کے ساتھ ساتھ کیکر کے درختوں کی بہتات تھی۔ یہ درخت بہت پرانے تھے میں ایک کافی پرانے لیکن نسبتاً مضبوط درخت کے پاس گیا اور بیلچے سے درخت کی جڑوں کے پاس ہی زمین کھودنے لگا۔۔۔کافی گہرا گڑھا مار کے میں نے ایک شاپر میں اچھی طرح لپیٹ کر ہیروں کی تھیلی،لیوگر اور اس کا ایمونیشن احتیاط سے گڑھے کے اندر رکھے پھر اس کے اوپر کافی سارا گھاس پھونس ڈال کر دوبارہ مٹی ڈال کے گڑھا بند کر دیا۔۔۔اس درخت کو ترتیب کے حساب سے نمبر لگا کر میں نے ذہن نشین کر لیا۔۔۔اور تازہ کھدے ہوئے گڑھے پر اس انداز میں تھوڑی پرانی مٹی اور گھاس وغیرہ ڈال دی کہ کسی کو شک نہ ہو یہاں زمین کی تازہ کھدائی ہوئی ہے۔ اس کام سے فارغ ہو کر میں دوبارہ جا کر سگریٹ سکھاتے ہوئے چارپائی پر لیٹ کر گہرے گہرے کش لینے لگا۔۔۔کافی دیر گزر گئی تقریباً دو گھنٹے گزر گئے تھے مگر نوشاد واپس نہیں آیا۔۔۔اب رات کا تقریباً ایک بج چکا تھا۔۔۔میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے نوشاد اپنے گھر چکر لگانے چلا گیا ہو۔۔۔آخر وہ بھی تو پوری رات سے غائب تھا نا۔۔۔سوچتے سوچتے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب میری آنکھ لگ گئی۔ ابھی میری آنکھ لگے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دھپ دھپ کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔میں نے فٹافٹ اپنا ریوالور چیک کیا اور گھات لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔دھپ دھپ کی آواز سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کوئی بھاگتا ہوا میری طرف ہی چلا آ رہا ہے۔۔۔چند لمحوں بعد ہی آنے والا میری نظروں کے سامنے تھا۔ ************************ (37) وہ نوشاد کا چھوٹا بھائی ٹونی تھا جو کہ نوشاد سے ایک سال چھوٹا تھا۔۔۔ٹونی بھاگتا ہوا ڈیرے کی طرف ہی آ رہا تھا اسے دیکھ کر میں اوٹ سے باہر نکل آیا وہ مجھے دیکھتے ہی چلاتے ہوئے بولا۔۔۔کمال بھائی وہ وہ وڈے چوہدری اور اس کے گماشتے آپ کے گھر میں گھس گئے ہیں اور توڑ پھوڑ کرتے ہوئے سب کو مار رہے ہیں۔۔۔پھر روتے ہوئے بولا ان کو روکنے کیلئے نوشاد بھائی آگے گیا لیکن انہوں نے نوشاد بھائی کو مار ڈالا۔ ٹونی کی بات سن کر میری آنکھوں کے آگے جیسے سرخ چادر سی تن گئی۔ مجھے نہیں یاد کہ میں کیسے وہاں سے بھاگتے ہوئے نکلا اور کہاں کہاں ٹھوکریں کھاتا ہوا گاؤں کی آبادی تک پہنچا۔۔۔راستے میں دو تین جگہ میں نے ٹھوکر کھائی اور زمین پر لڑھکنیاں کھاتے ہوئے گرا۔۔لیکن جیسے ہی میری آنکھوں کے سامنے گھر والوں کے چہرے آتے میں پھر سے اٹھ کر بھاگ پڑتا۔۔۔یوں ہی گرتے پڑتے پندرہ منٹ میں آبادی میں پہنچ گیا۔۔۔دور سے ہی مجھے اپنے گھر کی طرف سے آگ کی لپٹیں اٹھتی دکھائی دیں۔ میں بھاگتے ہوئے گھر کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ میرا پورا گھر آگ میں جل رہا تھا اور وڈے چوہدری کے دو بیٹے ہاشم اور کامران اپنے تین چار گماشتوں کے ساتھ جیپ میں بیٹھ کر تیزی سے نکل رہے تھے۔۔۔میں نے بھاگتے بھاگتے ریوالور نکالا لیکن اس سے پہلے کہ میں گولی چلاتا وہ میری رینج سے دور نکل گئے۔۔۔انہوں نے مجھے آتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ورنہ وہ مجھ سے وہیں ٹکرا جاتے۔ جیسے ہی میں گھر کے دروازے پر پہنچا اور اندر جانے کی کوشش کی۔۔۔تبھی ایک سائیڈ سے چھیمو کی ماں اور نوشاد کی ماں نکلیں اور انہوں نے مجھے اپنے بازوؤں میں کس لیا۔۔۔نہیں نہیں پتر!!!ہم تمہیں اندر نہیں جانے دیں گے۔۔۔میں نے سرخ انگارہ آنکھوں سے انہیں دیکھا اور زور لگا کر ایک جھٹکے سے اپنا آپ چھڑوایا اور بھاگتے ہوئے اندر داخل ہو گیا۔۔۔ویسے تو سارے گھر کو آگ لگی ہوئی تھی لیکن امی اور بینا کا کمرہ بری طرح جل رہا تھا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا تو مجھے ایک کمبل نظر آیا جو کہ امی نے کل سے دھو کر دیوار پر خشک ہونے کیلئے ڈالا ہوا تھا۔۔۔میں نے پھرتی سے اپنے اوپر لپیٹا۔۔۔خاص طور پر اپنے سر چہرے اور گردن کو چھپایا اور ایک چھلانگ مار کر آگ میں سے ہوتا ہوا کمرے کے دروازے پر جا پڑا۔۔۔دروازہ پہلے ہی کافی جل چکا تھا۔۔۔میرا بوجھ برداشت نہ کر پایا اور ایک چرچراہٹ کے ساتھ ٹوٹ کر اندر گرتا چلا گیا۔۔۔اندر جاتے ہی میں نے کمبل اتار کر ادھر ادھر دیکھا تو مجھے ابو،اور بینا دونوں نظر آ گئے۔ ابو کا جسم تو بری طرح سے جل رہا تھا۔۔۔بینا کا جسم بھی جل چکا تھا۔۔۔یوں لگتا تھا کہ جیسے ان دونوں کے اوپر باقاعدہ پٹرول ڈال کر آگ لگائی گئی ہو۔۔۔وہ دونوں اپنی سانسیں پوری کر چکے تھے۔۔۔میں نے روتی انگارہ آنکھوں سے امی کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو امی کو کہیں نہ پا کر زور سے چیخا۔ امی جان،امی جان۔ میں جتنی شدت سے چیخا تھا اتنی شدت سے دھواں میرے پھیپھڑوں تک پہنچ گیا اور میں بری طرح سے کھانستا ہوا لڑکھڑا کر جلتے ہوئے دروازے پر گرا۔۔۔آگ کی لپٹیں میرے چہرے پر لگیں۔۔۔تکلیف سے میری چیخیں نکل گئیں۔۔۔میرے چہرے پر یوں جلن ہو رہی تھی جیسے کھلے زخموں پر مرچیں ڈال دی گئی ہوں۔۔۔میں خود کو سنبھالتے ہوئے کمرے سے چھلانگ مار کر باہر نکلا۔۔۔باہر آتے ہی کھانستے کھانستے میں حلق کی پوری شدت سے چلایا۔امییییی،تبھی اچانک مجھے جیسے ایک کمزور سی آواز سنائی دی۔ میں نے سر گھما کر دیکھا تو مجھے اپنے کمرے کی طرف سے دوبارہ آواز سنائی دی۔۔۔میں واضح طور پر امی کی آواز پہچان گیا۔۔۔میں اپنے کمرے کی طرف بھاگا تو امی راستے میں ہی دیوار کی اوٹ میں زمین پر پڑی دکھائی دیں۔۔۔میں وہیں ان کے پاس دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔ان کا پورا جسم بھی بری طرح سے جلا ہوا تھا۔۔۔پتہ نہیں کیسے وہ گھسٹتے ہوئے وہاں سے یہاں تک پہنچی تھیں۔۔۔شاید مجھے ہی ڈھونڈتے ہوئے ادھر گئی ہوں گی۔۔۔امی کی حالت بہت خراب تھی ان کا سانس بھی رک رک کر آ رہا تھا۔ میں نے احتیاط سے ان کا سر اپنے زانو پر رکھا اور روتے ہوئے بولا امی یہ کیا ہو گیا۔۔۔تو امی نے جیسے کچھ کہنے کی کوشش کی۔۔۔میں نے فوراً سر جھکا کر اپنے کان ان کے لبوں کے پاس کیے تو امی کی مدھم سی آواز سنائی دی۔۔۔کمال پتر!!!وڈے چوہدری کے سب لوگوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے بینا کی بے حرمتی کی۔۔۔اس کی عز۔ز۔ز۔عزت لو۔و۔ٹ لی۔۔۔اتنا کہتے ہی امی کو ہچکی آئی اور وہ ہچکی ان کی سانس کی ڈور کاٹ گئی۔ میرا سینہ غم اور غصے سے لبریز ہو گیا۔۔۔پھر تکلیف اور غم دونوں کی شدت برداشت نہ کر پایا اور وہیں بے ہوش ہو کر امی کے ساتھ ہی گرتا چلا گیا۔ پتہ نہیں کب تک میں بیہوش پڑا رہا۔ ************************ (38) جب آنکھ کھلی تو خود کو ایک بیڈ پر موجود پایا۔۔۔میرے چہرے پر چاروں طرف پٹیاں لپٹی ہوئی تھیں۔۔۔جسم پر بھی جا بجا پٹیاں چڑھی ہوئی تھیں۔۔۔میں نے سر گھما کر دیکھا تو کوئی انجان سا کمرہ تھا لیکن سارے آلات بلکل کسی ہسپتال کی طرح لگتے تھے۔۔۔ بیڈ کے ساتھ لگا ہوا اسٹینڈ اور اس پر لٹکتی ہوئی بوتل اور کمرے کے اندر موجود سفید چادریں اس امر کا واضح اشارہ تھیں کہ میں کسی ہسپتال کے بیڈ پر ہی پڑا ہوا ہوں۔۔۔پر مجھے یہاں لیکر کون آیا۔۔۔ابھی اسی شش و پنج میں مبتلا تھا کہ دروازہ کھلا اور ایک نہایت خوبصورت لڑکی نرس کے لباس میں اندر داخل ہوئی۔۔۔مجھے ہوش میں دیکھ کر بولی اوہ تو آپ کو ہوش آ گیا میں ابھی ڈاکٹر کو بلاتی ہوں۔ میں نے کمزور سی آواز میں اسے پکارا۔۔۔رکو:میری بات سنو تو وہ پلٹ کر میری طرف آئی اور بولی:ہاں کہو تو میں نے پوچھا کہ میں کہاں ہوں؟اور مجھے یہاں کون لایا ہے؟تو اس نے جواب دیا کہ آپ اس ٹائم لاہور کے ایک پرائیویٹ کلینک میں ہیں اور میں نہیں جانتی کہ آپ کو کون لایا ہے۔۔۔مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ آپ آج پورے چار دن بعد ہوش میں آئے ہیں۔۔۔اب ذیادہ باتیں مت کریں بولنا آپ کیلئے نقصان دہ ہے۔۔۔اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔ امی ابو اور بینا کو یاد کر کے میری آنکھیں بھر آئیں۔۔۔چند منٹ بعد ایک ڈاکٹر اور دو نرسیں کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔ڈاکٹر نے اچھی طرح میرا چیک اپ کیا اور مجھ سے چند باتیں کر کے میری ذہنی حالت چیک کرنے کے بعد واپس جانے لگا تو میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ ڈاکٹر مجھے یہاں کون لے کر آیا ہے تو ڈاکٹر نے بتایا کہ مجھے بیہوشی کی حالت میں ٹونی نام کا ایک جوان لایا تھا۔ ابھی وہ باہر ہی ہے میں اس کو بھیج دیتا ہوں لیکن دوست ذیادہ باتیں مت کرنا۔۔۔تمہیں ابھی ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔۔میرے اثبات میں سر ہلانے پر ڈاکٹر نرسوں سمیت باہر چلا گیا۔۔۔صرف دو منٹ بعد ہی ٹونی اندر آ گیا۔۔۔مجھے دیکھتے ہی وہ میرے پاس بیٹھ کر بولا کمال بھائی اب کیسی طبیعت ہے۔۔۔میں نے کہا ٹونی یہ سب باتیں چھوڑو مجھے یہ بتاؤ کہ تم مجھے یہاں کیسے لے کر آئے اور وہاں کیا کیا ہوا۔۔۔ٹونی نے بتانا شروع کیا:بھائی اس دن رات کو نوشاد بھائی گھر آیا تو اس نے آتے ہی امی سے دو آدمیوں کا کھانا بنانے کو کہا۔۔۔شاید وہ کھانا اپنے اور آپ کیلئے ہی بنوا رہا تھا۔۔۔اسی وقت گھر کے باہر کچھ لوگوں کی موجودگی اور کھٹ پٹ کی آواز سن کر نوشاد بھائی بھاگتے ہوئے گھر سے باہر نکلا۔ (نوشاد میرا ہمسایہ تھا اور اس کا گھر میرے گھر کی داہنی سائیڈ پر تھا۔) باہر وڈے چوہدری کے دو بیٹے اور اس کے چند آدمی دیوار پھاند کر آپ کے گھر میں گھس رہے تھے۔۔۔جتنی دیر تک نوشاد بھائی وہاں پہنچا انہوں نے گھر میں گھس کر دروازہ اندر سے بند کر لیا۔۔۔ان لوگوں کے پاس اسلحہ اور بڑے بڑے چاقو تھے۔ نوشاد بھائی گھر کا دروازہ بند دیکھتے ہی اپنی سائیڈ سے دیوار پھلانگ کر آپ کے گھر میں کودا۔۔۔جیسے ہی اس کے پاؤں اندر لگے انہوں نے نوشاد پر حملہ کر دیا۔۔۔ان کتوں نے چاقو کے ساتھ نوشاد کی آنتیں ادھیڑ ڈالیں اور اسے مردہ سمجھ کر دیوار کے اوپر سے واپس پھینک دیا۔۔۔میں بھاگ کر نوشاد کے پاس گیا تو اس نے اٹکتے ہوئے آخری سانسوں میں بس چند الفاظ کہے۔۔۔باؤ کمال ڈیرے پر ہے۔ اتنا کہہ کر اس کی گردن ڈھلک گئی۔۔۔میں وہاں سے بھاگتا ہوا نکلا اور آپ کے پاس پہنچ گیا۔۔۔باقی کی کاروائی آپ کو معلوم ہے۔۔۔جب میں بھاگتا ہوا واپس پہنچا تو لوگ آپ کے گھر والوں کو گھر سے باہر نکال کر چارپائیوں پر ڈال رہے تھے۔۔۔نوشاد،چاچا، اور بینا کی لاشیں دیکھ کر میری اپنی حالت خراب تھی۔ میں احتیاطاً اندر جھانکنے چلا گیا دیوار کی اوٹ سے جیسے ہی میں آگے بڑھا میں نے آپ کو اور چاچی کو اس حالت میں دیکھا۔۔۔چاچی کی سانسیں پوری ہو چکی تھیں۔ پھر پتہ چلا کہ آپ زندہ ہیں تو میں چھیمو کی مدد سے آپ کو دیوار سے گزار کر چھیمو کے گھر لے گیا۔۔۔اس کے سارے گھر والے اس وقت باہر تھے۔۔۔پھر میں نے سوچا کہ چاچی کو کوئی نہ کوئی تو ڈھونڈ ہی لے گا۔۔۔اس لیے میں آپ کو فوراً آپ کی ہی گاڑی جو کے احاطے میں کھڑی تھی ڈال کر ڈسپنسری لے گیا۔۔۔وہاں سے ڈاکٹر امتیاز کو ساتھ بٹھایا اور ہم لوگ آپ کو سیدھا یہاں لے آئے۔۔۔آپ کی حالت بہت خراب تھی اس لیے آپ کو علاج کے دوران مسلسل بیہوش رکھا گیا۔ اب ڈاکٹر امتیاز سے ڈسپنسری کے نمبر پر رابطہ کرتا رہا ہوں میں اور وہاں کے حالات معلوم کرتا رہا ہوں۔۔۔میں نے نم آنکھوں کے ساتھ پوچھا کہ ٹونی میرے امی ابو،بینا اور نوشاد۔۔۔اتنا کہہ کر میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے بوجھل لہجے میں بتایا:بھائی ان کو اسی دن گاؤں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا تھا۔ چاہے میرا دکھ بڑا تھا لیکن بھائی تو اس کا بھی مرا تھا۔۔۔میں نے اپنی آنکھیں موند لیں اور آنکھوں کے آنسو پینے کی کوشش کرنے لگا۔ ************************* (39) اگلے بیس بائیس روز تک اسی کلینک میں رہا۔۔۔ٹونی نے دن رات میرا خیال رکھا۔۔۔اب میری جلن ختم ہو چکی تھی لیکن زخموں پر کھرنڈ ابھی باقی تھا۔۔۔ان دنوں میں ڈاکٹر امتیاز کی وساطت سے صرف اتنا پتہ چلا کہ سیالوں کے خیال میں وہ مجھے مار چکے تھے۔ وہ نوشاد کو ہی کمال سمجھ بیٹھے تھے۔۔۔میرے بارے میں صرف ڈاکٹر امتیاز کے علاوہ ٹونی،چھیمو اور ان دونوں کی مائیں جانتی تھیں۔۔۔مگر انہوں نے اس بات کا کسی سے بھی ذکر نہیں کیا۔۔ویسے گاؤں میں پولیس گئی تھی اور اس سارے کیس کو ڈاکوؤں کی کارستانی کہہ کر معاملہ نِبٹا دیا تھا۔۔۔گاؤں والے سب جانتے تھے لیکن سیالوں کے ڈر سے کسی نے اپنا منہ نہیں کھولا۔۔۔حتٰی کہ چوہدری رحمت علی کڑیال نے بھی اس معاملے میں ذیادہ سرگرمی نہیں دکھائی۔پتہ نہیں کیوں! حالانکہ وہ ابو جان کے ساتھ کافی دفعہ مل چکا تھا لیکن پھر بھی اس نے کوئی خاص سرگرمی نہیں دکھائی۔۔۔پولیس بعد میں بھی ایک دو بار وہاں گئی۔۔۔پھر کیس داخل دفتر کر دیا۔۔۔میں دل ہی دل میں قسم کھا چکا تھا کہ میری دنیا تو لٹ ہی گئی۔۔۔پر اب سیالوں کے خاندان کے کسی ایک فرد کو بھی زندہ نہیں چھوڑنا۔ چاہے مرد ہو یا عورت سب کو اذیت ناک موت ماروں گا۔۔۔میری بینا کا کیا قصور تھا۔۔۔ہر وقت ماں کی کہی ہوئی آخری بات یاد آتی کہ انہوں نے والدین کے سامنے بینا کی عزت لوٹ لی۔ کافی دن اسی اذیت کے ساتھ گزار دیے پھر ایک دن جب مجھ سے برداشت نہیں ہوا تو رات کے وقت میں چھپتے چھپاتے کلینک سے نکل آیا۔۔۔اس وقت ٹونی گاؤں گیا ہوا تھا اس نے صبح واپس آنا تھا۔۔۔آتے وقت میں نے کلینک کے ہی ایک مریض کا مفلر اٹھا کر اچھی طرح چہرے پر لپیٹا اور باہر نکل گیا۔۔۔میری جیبوں میں ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔۔۔یہ لاہور کا ہی ایک پوش علاقہ تھا۔۔۔میں عام راستوں سے ہٹ کر چلتا ہوا رائے ونڈ روڈ کی طرف جانے لگا۔ راستے میں ایک ٹریکٹر ٹرالی والے سے لفٹ لی جو کہ اینٹیں لیکر پتوکی جا رہا تھا۔۔۔مطلب وہ میرے گاؤں کے باہر والے روڈ سے گزرتا۔۔۔ایک گھنٹے بعد میں اپنے گاؤں والے سٹاپ پر اتر گیا اور سست روی سے چلتا ہوا گاؤں کے اندر جانے والی سڑک پر چل پڑا۔۔۔میں نے ذہن میں یہ سوچا ہوا تھا کہ اگر کسی کو سڑک پہ آتے دیکھوں گا تو راستے سے ہٹ کر کھیتوں میں چھپ جاؤں گا۔ لیکن اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔۔۔کیونکہ رات اندھیری ہو چکی تھی اس لیے سارا گاؤں سو رہا تھا۔۔۔میں چلتے چلتے گاؤں کی سائیڈ سے ہوتا ہوا سیدھا اپنے ڈیرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ڈیرے پر پہنچ کر میں سیدھا نہر کے ساتھ والے کیکر کے درختوں کی طرف گیا جہاں میں نے ہیرے اور گن چھپائی تھی۔۔۔ڈیرے کے کمرے سے میں نے بیلچہ اٹھایا اور مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر آہستہ آہستہ زمین کھودنے لگا۔ کھدائی کے درمیان لگنے والے جھٹکوں سے میرے چہرے پر ایک دفعہ پھر سے جلن ہونا شروع ہو گئی۔۔۔لیکن میں ہمت سے لگا رہا۔۔۔پھر تھوڑی سی محنت کے بعد میں گڑھے سے وہ شاپر نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔گن نکالنے کے بعد میں نے اچھی طرح سے اسے چیک کیا۔۔۔گولیاں بھرنے کے بعد ایک بے آواز فائر بھی کر کے دیکھا۔ لیوگر پوری طرح ورکنگ آرڈر میں تھا۔۔۔ہیروں کی تھیلی میں نے واپس گڑھے میں ڈالی اور گڑھا پر کرنے کے بعد تیز تیز قدموں سے وڈی حویلی جانب چل پڑا۔۔۔میں نہیں جانتا تھا کہ حویلی میں کتنے لوگ ہیں۔۔۔اسلحہ تو ظاہر ہے ان کے پاس خوب ہو گا۔۔۔لیکن مجھے اپنے گھر والوں کی موت اور بینا کی بے حرمتی کا بدلہ لینا تھا۔۔۔اس لیے بلا تھکان اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے حویلی کی طرف قدم اٹھاتا گیا۔ میں اپنے سلگتے ہوئے دماغ کے زیرِ اثر ہاتھ میں لیوگر لیے مرنے یا مار دینے کا عہد دل میں لیے حویلی کی طرف قدم بڑھاتا جا رہا تھا کہ تبھی ایک موڑ کراس کرتے ہی میرے بائیں پہلو کماد کی فصل سے ایک سایہ برآمد ہوا اور مجھے لیتے ہوئے کھیت میں جا پڑا۔ میں گرتے ہوئے یکدم پلٹا اور لیوگر والا ہاتھ اوپر اٹھایا ہی تھا کہ اپنے سامنے نادر کو دیکھ کر ششدد رہ گیا۔۔۔نادرے کو دیکھتے ہی میرے آنسو بہہ نکلے اور میں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔۔۔سچ کہتے ہیں جب بھری دنیا میں آپ خود کو اکیلا محسوس کر رہے ہوں اور ایسے میں کوئی اپنا مہربان مل جائے تو یوں لگتا ہے کہ انسان تیز کڑک دھوپ سے ایک دم مہکتے ہوئے گلزار کے سائے میں آ گیا ہو۔ روتے روتے میری ہچکی بندھ گئی اور میں ٹوٹے ہوئے الفاظ میں نادر کو سب بتانے کی کوشش کرنے لگا تو نادر نے میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ ناں سجن ناں مرد دیاں اکھاں اچوں اتھرو نئیں وگنے چائیدے۔۔۔میں سب جان گیا آں۔۔۔تیرے اتے کی مصیبت آئی کی کی ہویا۔۔۔کنے کیتا،مینوں سب پتہ لگ گیا۔۔۔پر کمالے:ہجے اور ویلا نئیں آیا کہ اسی اوناں نال ٹکر لئیے۔۔۔مناسب وقت دا انتظار کر۔۔۔تے اونی دیر تک اپنی کھوئی ہوئی طاقت بحال کر۔۔۔ویکھ میرے سوہنے ویر توں اپنا کی حال کیتا ہویا اے۔۔۔میں نے آنسو صاف کرتے ہوئے خود کو نادر سے الگ کیا اور بولا نہیں نادرے آج مجھے مت روک۔ میں تو اپنے پیاروں کو تو دفنا نہیں سکا پر قسم کھاتا ہوں کہ ان کنجری کے بچوں کو بھی دفن ہونے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔۔۔نادر نے سختی سے میرا بازو پکڑ کر لیوگر چھینتے ہوئے کہا۔۔۔کمالے کی ہو گیا۔۔۔کی گل تینوں اپنے نادر تے یقین نئیں۔۔۔میرا ویر میں ہر طرح تیرے نال آں۔۔۔موت وی آؤ گی تے تیرے توں پہلے میں اونوں ٹکراں گا پر میری گل من جا۔۔۔ہجے او وقت نئیں آیا۔ چل ایتھوں کسے مناسب جگہ تے بیٹھ کے ساری گل تینوں سمجھاندا واں۔۔۔نادر کے مجبور کرنے پر میں اس کے ساتھ واپس چل پڑا۔۔۔کچھ دیر بعد ہی ہم لوگ ڈیرے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ نادر نے چارپائی پر بیٹھتے ہی مجھے بتانا شروع کیا۔۔۔کمالے مجھے تین دن پہلے یہ ساری خبریں ملیں تو میں تبھی کراچی سے واپسی کیلئے چل پڑا۔۔۔یہاں پہنچ کر سارے حالات معلوم کیے۔۔۔پتہ چلا کہ سیال اپنی سمجھ میں تجھے مار چکے ہیں۔۔۔پر ایہہ تقدیر دا ہیر پھیر اے۔۔۔توں بچ گیا۔۔۔مینوں امتیاز کولوں ہی پتہ لگیا کہ ٹونی اور امتیاز تینوں لاہور اک پرائیویٹ کلینک تے رکھ کے تیرا علاج کروا رئے نیں۔۔۔میں سیالاں دی کھوج اچ لگ گیا۔ کافی کچھ معلوم کیتا تے اوناں خبراں دے مطابق ہن اسی فلحال اوناں تے حملہ نئیں کر سکدے۔۔۔وڈے چوہدری نے سکیورٹی فل ٹیٹ کر چھڈی اے۔۔۔میں ہن گھر بیٹھا روٹی کھا ریا سی کہ مینوں امتیاز دا پیغام ملیا کہ بہت ضروری کم اے۔۔۔میں فٹافٹ ہر شے چھڈ کے اونوں ملیا تے اونے دسیا کہ کمال کلینک توں پج گیا اے۔۔۔میں فوری سمجھ گیا کہ توں کتھے جاویں گا۔۔۔اس لئی میں پچھلے دو گھنٹے توں اوتھے کماد کولے تیرا انتظار کر ریا سی۔ ہن میری گل دھیان نال سن۔۔۔فلحال سانوں موقع توں ہٹ جانا چاہیدا تے اپنی طاقت بڑھانی چائیدی۔۔۔ہجے تیرا علاج وی تے باقی ریندا ناں۔۔۔اس سارے کم واسطے سانوں ایتھوں جانا پینا۔۔۔توں اپنا علاج پوری توجہ نال کرواویں تے میں اپنی طاقت بڑھاواں گا۔۔۔فیر موقع محل ویکھ کے سیالاں دی ٹِگنی ٹیٹ کر دیواں گے۔۔۔میں نے بہت ضد کی لیکن نادر آخر نادر تھا اور بلا آخر مجھے اس کے خلوص کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ ************************ (40) اس رات میں نے چھپ کر شمسہ کی لاعلمی میں نادر کے گھر میں پناہ لی۔۔۔اگلے دن نادر مجھے گھر میں رہنے کا کہہ کر باہر جانے لگا تو میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ شمسہ کو چند مہینے کیلئے کراچی میں نوکری کا عذر کر کے اس کے گاؤں چھوڑنے جا رہا ہے۔۔۔کیونکہ اپنی واپسی کا تو پتہ نہیں کب آئیں گے اس لیے اگر اسے اکیلی کو چھوڑ گئے تو بعد میں پریشانی ہوتی رہے گی۔ جانے سے پہلے میں نے نادر کو نہر والے کیکر کے نیچے موجود ہیروں کی تھیلی بارے بتایا تو میری بات سن کر نادر بولا چل کوئی گل ناں اودا وی کچھ کرنے آں۔۔۔ تو فکر نا کر بس گھروں باہر مت نکلیں۔۔۔میرے وعدہ کرنے پر نادر شمسہ کو لیکر چلا گیا اور شام ڈھلے واپس آ گیا۔۔۔آتے ہی اس نے ہیروں کی تھیلی میرے حوالے کی اور کہا فلحال اپنے پاس رکھو پھر سوچتے ہیں۔ شام کے وقت نادر نے ڈاکٹر امتیاز اور ٹونی کو گھر بلایا اور ان کو ساری بات سمجھا کر کہا کہ تم لوگ اپنی آنکھیں کھلی رکھنا۔۔۔ہم لوگ یہاں سے جا رہے ہیں لیکن کہاں جائیں گے یہ نہیں بتا سکتا۔حالات کے مطابق دیکھا جائے گا۔۔۔سچ پوچھو تو میں بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔اور نہ ہی میں نے نادر سے کچھ پوچھا کیونکہ جتنا وہ میرے لیے کر رہا تھا مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اس سے اس بارے میں کچھ استفسار کروں۔ جاتے جاتے میں ڈاکٹر امتیاز اور ٹونی سے گلے ملا اور رندھے ہوئے لہجے میں ان کا شکریہ ادا کیا کہ ان دونوں نے دوستی اور لحاظ داری کا صحیح رشتہ نبھایا۔۔۔اس کے بعد میں اور نادر رات کے وقت وہاں سے چل پڑے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے نادر نے جمیل کی چند تصاویر اپنی جیب میں رکھیں اور میں چاہتے ہوئے بھی اس سے اس بارے میں پوچھ نہیں سکا۔۔۔گاؤں سے نکلنے کیلئے ہم لوگوں نے رات کا وقت اس لیے منتخب کیا تھا تا کہ کسی کی نظروں میں آئے بغیر وہاں سے نکل سکیں۔۔۔کیونکہ میرا جلا ہوا چہرہ کسی کو بھی شک میں ڈال سکتا تھا۔ گاؤں سے نکلتے وقت میں نے مفلر چہرے پر اچھی طرح لپیٹ لیا۔۔۔گاؤں سے نکل کر ہم لوگ سیدھا لاہور پہنچے اور رات کی ٹرین سے کراچی نکل گئے۔ نادر کے مطابق ہمیں ہمارے پروگرام کے مطابق کراچی میں ہی رہنا چاہیے۔ اس کی چند وجوہات تھیں۔ وجہ نمبر1:کراچی کی اندر گراؤنڈ سرگرمیوں کے بارے میں نادر اچھی طرح جانتا تھا۔۔۔وہاں سے ہمیں اپنے مطلب کے لوگ مل سکتے تھے۔۔۔ایسے لوگ جنہیں ہم اپنے جانثاروں کی فہرست میں شامل کر لیتے اور ان پر سیالوں کا اثرورسوخ اثر انداز نہ ہوتا۔ وجہ نمبر 2:میرے جلے ہوئے چہرے کا علاج لاہور کی نسبت کراچی میں ذیادہ بہتر طریقے سے ہو سکتا تھا۔ وجہ نمبر 3:ہم ہیروں کو کراچی میں ہی ٹھکانے لگا سکتے تھے۔۔۔کیونکہ لاہور میں وڈے چوہدری کی رسائی کہاں تک ہے اس کا ہمیں کوئی اندازہ نہیں تھا۔ ************************ (41) کراچی پہنچنے کے بعد ہم نے نادر کے ایک پٹھان دوست جس کا نام نایاب خان تھا کے گھر رات گزاری۔۔۔وہ روایتی پٹھانوں کی طرح حد سے زیادہ مہمان نواز ثابت ہوا۔۔۔بے چارہ محنت کش آدمی تھا رکشہ چلا کر اپنی روزی کماتا تھا۔۔۔نایاب لالو کھیت میں رہتا تھا جبکہ اس کی فیملی صوبہ سرحد کے قریب کسی گاؤں میں رہتی تھی۔ اگلے دن صبح مجھے گھر میں ہی رہنے کی تائید کر کے نادر نایاب خان کے ساتھ گھر سے نکل گیا۔۔۔ان کی واپسی چار گھنٹوں بعد ہوئی۔۔۔آتے ہی نادر مجھے گلے لگاتے ہوئے بولا:کمالے میری جان تو بہت خوش نصیب ایں۔۔۔میں صبح دا کوئی چنگا ڈاکٹر لبھ ریا سی۔۔۔آخر ایک پرائیویٹ ڈاکٹر دا پتہ لگ گیا اے۔۔۔بہت قابل سرجن اے۔۔۔کل صبح اونوں جا کے ملاں گے۔ اگلی صبح ناشتہ کرنے کے بعد قریباً دس بجے ہم لوگ ڈیفنس کے پوش ایریا میں ایک کوٹھی میں موجود تھے۔۔۔کوٹھی کے باہر کسی سرجن ڈاکٹر کرنل رحمان کی نیم پلیٹ لگی ہوئی تھی۔۔۔یہ کوٹھی کہیں سے بھی کلینک نہیں لگتی تھی لیکن میں یہ سوچ کر چپ رہا کہ نادر کچھ سوچ سمجھ کر ہی یہاں تک پہنچا ہو گا۔ کچھ دیر بعد ہی ہم دونوں ڈاکٹر کے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔ڈاکٹر درمیانے قد لیکن بھاری تن توش کا مالک تھا ڈاکٹر نے مجھے دیکھا تو مجھے ساتھ لیکر اندر ایک کمرے میں چلا آیا۔۔۔یہ کمرہ بلکل کلینک کی طرز پر تیار کیا گیا تھا۔۔۔ایک چھوٹا سا آپریشن ٹیبل اور ایک لانگ چئیر کے ساتھ ساتھ سرجری کے کافی آلات وہاں موجود تھے۔ ڈاکٹر نے مجھے لٹا کر محدب عدسے سے میرا تفصیلاً معائنہ کیا۔۔۔تھوڑی دیر بعد ہم لوگ واپس سٹِنگ روم میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ڈاکٹر نے بولنا شروع کیا:مسٹر نادر میں نے کبھی بھی غیر قانونی کام میں ہاتھ نہیں ڈالا لیکن تمہارے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے اور لالہ نایاب خان کی سفارش اور یقین دہانی پر یقین کرتے ہوئے کہ یہ کوئی غیر قانونی کام نہیں میں تمہارے دوست کا علاج کروں گا۔۔۔لالہ کا مجھ پر ایک ایسا احسان ہے کہ جس کی وجہ سے میں اسے کبھی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ بہرحال ہم موضوع سے نکل رہے ہیں۔۔۔پھر وہ ڈائریکٹ مجھ سے مخاطب ہو کر بولا کہ تمہارا کیا نام ہے؟میں نے اپنا نام بتایا تو وہ بولا:مسٹر کمال میں تمہارا علاج کرنے پر تیار ہوں۔۔۔لیکن اس کیلئے میری چند شرائط ہوں گی۔ نمبر 1:جب تک تم میرے زیرِ علاج رہو گے کوئی تمہیں یہاں ملنے نہیں آئے گا۔ نمبر 2:ٹھیک ہونے کے بعد میں تمہارا سارا ریکارڈ ضائع کر دوں گا۔۔۔یہ صرف ایک احتیاطی تدبیر ہے۔ نمبر 3:تمہیں علاج کی ساری رقم چار لاکھ روپے ایڈوانس جمع کروانی ہو گی۔ ڈاکٹر کے منہ سے چار لاکھ سن کر میں تھوڑا پریشان ہوا لیکن نادر اسی وقت بولا۔۔۔ڈاکٹر صاحب تسی بے فکر رہو سانوں تواڈیاں شرطاں منظور نیں۔۔۔تسی صرف اینا دسو کہ کب سے علاج کرنا شروع کریں گے۔ نادر کی بات سن کر ڈاکٹر بولا:اگر تم آج ہی پیسے جمع کروا دیتے ہو تو میں کل صبح ہی سارے انتظامات مکمل کرنے کے بعد کل شام سے ہی کام شروع کر دوں گا۔۔۔اور دو ہفتے بعد تم اپنے دوست کو ٹھیک چہرے کے ساتھ لیجا سکتے ہو۔ میں نے زبان کھولتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھا۔۔۔ڈاکٹر میرا سارا چہرہ برباد ہو چکا ہے کیا یہ بلکل پہلے کی طرح ٹھیک ہو جائے گا؟تو ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ دوست فکر مت کرو یہ تو کچھ بھی نہیں میں اس سے بھی ذیادہ بگڑے ہوئے چہرے ٹھیک کر چکا ہوں۔۔۔بس تم گھر جاؤ اور خود کو ذہنی طور پر سرجری کیلیئے تیار کر لو۔ ڈاکٹر کے ساتھ سارے معاملات طے کرنے اور اس کا شکریہ ادا کرنے کے بعد ہم لوگ وہاں سے نکلے اور ٹیکسی میں بیٹھ کر نایاب خان کے گھر پہنچ گئے۔۔۔تنہائی میسر آتے ہی میں نے پہلا سوال نادر کی طرف داغ دیا۔۔۔نادر مجھے ایک بات تو بتاؤ یار!!!ہمارے پاس تو بلکل بھی پیسے نہیں چار لاکھ کہاں سے دو گے؟ نادر مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔اوئے کمالے میرے یار توں وی جھلا ای ایں۔۔۔خزانہ جیب اچ پائی پھرنا ایں اور مینوں پچھنا ایں کہ پیسے کتھوں آون گے۔۔۔لیا کڈ او ہیرے اوناں نوں وی ٹھکانے لائیے۔۔۔قصہ مختصر اسی دن نادر نے وہ ہیرے ٹھکانے لگا دیے۔۔۔ہیروں کی قیمت ہماری توقع سے بھی ذیادہ موصول ہو گئی۔ ************************ (42) میں سمجھا تھا کہ چند لاکھ روپے کے ہوں گے۔۔۔لیکن جب نادر نے ایک چیک بک اور رسید میرے سامنے رکھی تو رسید پر لکھی ہوئی رقم پڑھ کر میری سٹی گم ہو گئی۔۔۔چار کروڑ اکہتر لاکھ روپے کی خطیر رقم نادر اپنے نام سے اکاؤنٹ کھول کر بینک میں جمع کروا آیا تھا۔ جبکہ سات لاکھ ایک بریف کیس میں کیش موجود تھا۔۔۔یعنی ٹوٹل ملا کر چار کروڑ اٹھہتر لاکھ میں ہیروں کا سودا ہوا تھا۔۔۔میں نے حیرانگی سے نادر سے پوچھا۔۔۔نادر یہ۔یہ اتنے پیسے؟تو وہ میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا میری جان او ہیرے بہت قیمتی سن۔ وڈے چوہدری دے کم کاج دا خیال رکھدے ہوئے تیرے ویر دے وی کجھ تعلقات بن گئے نیں۔۔۔اس لئی اک بلکل نویں پارٹی نال ہیروں دا سودا کیتا۔۔۔میں ڈائیریکٹ نئیں گیا بلکہ اک درمیانی پارٹی نوں وچ پایا۔۔۔پچیس لاکھ اوناں نیں کمیشن لیا تے اپنا سودا ہو گیا۔ تے مزے دی اک ہور گل دساں۔۔۔اس پارٹی نے ہی مینوں اکاؤنٹ کھلوا کے دتا اے۔۔۔ورنہ تینوں پتہ بینک اچ کھاتہ کھولنا اتنا آسان کم نئیں۔۔۔اکاؤنٹ کھولنے واسطے ایک نام نہاد کمپنی دا بزنس شو کیتا تے باقاعدہ اودے کارڈ وی چھپوائے نیں۔۔۔یہاں ایک بات میں دوستوں کو بتاتا چلوں کہ نادر اچھی طرح اردو بول بھی سکتا تھا اور سمجھ بھی سکتا تھا۔۔۔لیکن چونکہ عادت سے مجبور تھا اس لئے کم از کم میرے ساتھ وہ ہمیشہ پنجابی میں ہی بات کرتا تھا۔ اگلے دن ہم لوگ گھر سے نکلے اور سیدھا ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے۔۔۔ڈاکٹر کو چار لاکھ ادا کرنے کے بعد نادر نے پوچھا!!!ہاں ڈاکٹر صاحب ہم لوگ کب آئیں؟ڈاکٹر نے جواب دیا:دوست تم لوگ آج شام کو ہی آ جاؤ اور یاد رکھنا کہ شرط کے مطابق کمال کے علاج کے دوران کوئی بھی ملاقاتی یہاں نہیں آ سکتا۔۔۔ہاں اگر تمہیں کوئی ضروری بات کرنی ہو تو یہ میرا نمبر رکھ لو اس پر کال کر لینا میں تمہاری بات کروا دوں گا۔۔۔لیکن کال بھی اہم ضرورت کے تحت کرنا۔۔۔یہ کہہ کر ڈاکٹر نے ایک کارڈ نکال کر نادر کی طرف بڑھایا جسے نادر نے پکڑ کر دیکھتے ہوئے جیب میں رکھ لیا۔ اسی شام نادر مجھے ڈاکٹر کی کوٹھی پر چھوڑ کے اپنا خیال رکھنے کا کہہ کر چلا گیا۔۔۔ڈاکٹر مجھے لیکر سیدھا اپنے آپریشن روم میں چلا آیا اور لانگ چئیر پر لٹا کر دو گھنٹے تک میرے چہرے کی مختلف ڈرائنگز بناتا رہا۔۔۔خاموشی سے تنگ آ کر میں نے ڈاکٹر سے باتیں کرنی شروع کر دیں۔ ڈاکٹر صاحب ایک بات تو بتائیں کہ آپ میرے چہرے کا علاج کیسے کریں گے؟ڈاکٹر مسکراتے ہوئے بولا یار پریشان کیوں ہوتے ہو میں ہوں نا سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ویسے تمہاری معلومات کیلئے بتا دیتا ہوں کہ میں تمہاری پلاسٹک سرجری کروں گا اس کیلئے میں نے باہر کے ملک سے سارا سازوسامان منگوا کر رکھا ہوا ہے۔ دو ہفتے میں تمہارا چہرہ ایسے ہو جائے گا کہ تم خود بھی کوئی جلے کا نشان یا داغ وغیرہ ڈھونڈ نہیں پاؤ گے۔۔۔آپریشن کے دوران ذیادہ تر میں تمہیں نیند کی دوائی دے کر رکھوں گا۔۔۔قصہ مختصر اس رات ڈاکٹر نے میرے چہرے کی مختلف اقسام کی ڈرائنگز بنائیں اور فارغ ہونے کے بعد مجھے کوٹھی کے ہی ایک آرام دہ کمرے میں شفٹ کر دیا۔۔۔اگکے دن سے باقاعدہ میرے چہرے کی مرمت شروع ہو گئی۔ چونکہ ساری تفصیل میں پہلے ہی بتا چکا ہوں اس لیے ہم علاج کا دورانیہ تھوڑا فارورڈ کرتے ہوئے آگے چلتے ہیں۔ ان دو ہفتوں میں ڈاکٹر نے مجھے ذیادہ تر نیند کی حالت میں ہی رکھا۔۔۔میرے کھانے پینے کا انتظام ڈاکٹر ہی کرتا تھا۔۔۔جب کھانے کی ضرورت محسوس ہوتی میں بتا دیتا تو تھوڑی دیر بعد ہی ایک ملازمہ آ کر کھانا دے جاتی۔۔۔وقت گزاری کیلئے مختلف اقسام کے اخبارات،ناولز موجود تھے۔۔۔اس کے علاوہ چند عدد فلموں کے کیسٹس اور وی سی آر بھی موجود تھا۔ میں جب نیند سے اکتا جاتا تو فارغ وقت میں یا تو اخبارات پڑھتا رہتا یا پھر فلمیں دیکھتے ہوئے سگریٹ پھونکتا رہتا۔۔۔یہیں سے مجھے سگریٹ کی باقاعدہ لت لگ گئی۔ میرا چہرہ ہر وقت پٹیوں میں ڈھکا رہتا۔۔۔صرف آنکھیں ناک کے دو سوراخ اور کھانے کیلئے منہ کھلا تھا۔۔۔باقی پورے چہرے پر پٹیاں لپٹی رہتی تھیں۔۔۔ان دو ہفتوں میں صرف ایک دفعہ سات دن بعد نادر کا فون آیا۔۔۔میری خیر خیریت معلوم کر کے اس نے رابطہ منقطع کر دیا۔ آج میری ڈاکٹر کے پاس آخری رات تھی کہ صبح میرے چہرے سے پٹیاں اتر جانی تھیں۔۔۔مجھے بے چینی سے صبح کا انتظار تھا۔۔۔وقت کاٹے نہیں کٹتا تھا اس لیے سگریٹ پہ سگریٹ پھونکتا رہا۔۔۔رات بارہ بجے میرے سگریٹ ختم ہو گئے تو میں بے چینی سے پہلو بدلنے لگا۔ میرے سرہانے ایک انٹرکام لگا ہوا تھا جس کے ذریعے میں ضرورت کے تحت ڈاکٹر سے رابطہ کر لیتا تھا۔۔۔میں نے انٹرکام پر کافی دفعہ کال کرنے کی کوشش کی پر شاید کسی فنی خرابی کی وجہ سے انٹرکام نہیں چل رہا تھا۔۔۔میں بیڈ سے اٹھا۔۔۔چپل پہنے اور ڈاکٹر کو ڈھونڈتے ہوئے اپنے کمرے سے باہر چل پڑا۔ ************************ (43) کمرے سے نکلتے ہی سامنے کوریڈور سے گزر کر جب میں دوسرے کنارے پر پہنچا تو میرے کانوں میں ایسی آواز آئی جیسے کسی لڑکی نے مزے سے سسکاری بھری ہو۔۔۔میں نے دھیان سے کان لگا کر سنا تو مسلسل سسکاریاں سنائی دینے لگیں۔۔۔میں ان آوازوں کا پیچھا کرتے ہوئے ایک کمرے کے دروازے پر پہنچ گیا۔ آوازیں اسی کمرے سے آ رہی تھیں۔۔۔دروازہ کھلا پا کر میں نے احتیاط سے اندر جھانکا تو میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔۔۔کمرے میں ڈاکٹر کے ساتھ ایک نوخیز لڑکی موجود تھی دونوں مادرذاد ننگے تھے۔۔۔لڑکی سیدھی لیٹی ہوئی تھی اور ڈاکٹر اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے اپنا لن اس کی پھدی میں ڈالے زور زور سے جھٹکے مار رہا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ ڈاکٹر چھوٹنے کے قریب ہے کیونکہ ڈاکٹر کے جھٹکوں میں بے قراری پائی جاتی تھی۔ مجھے دو مہینے سے ذیادہ عرصہ گزر گیا تھا کہ میں نے اپنا پانی نہیں نکالا تھا یہ صورتحال دیکھتے ہی میرا لن پوری طرح سے اکڑ گیا اور میری شلوار میں تنبو بن گیا۔۔۔میں نے ہاتھ سے اپنا لن سہلانا شروع کر دیا۔۔۔چند جھٹکوں کے بعد ڈاکٹر نے اپنا درمیانے سائز کا لن باہر نکالا اور لڑکی کے پیٹ کی طرف کر کے تیزی سے مٹھ مارتے ہوئے اس کے پیٹ پر ہی ساری منی نکال دی اور خود اس لڑکی کے اوپر ڈھیر ہو گیا۔۔۔میں وہیں کھڑا ہوا دیکھ رہا تھا کہ تبھی اچانک۔ اچانک اس لڑکی نے منہ موڑ کر دروازے کی طرف دیکھا تو مجھے وہاں کھڑے دیکھ کر پہلے تو حیرت سے اس کا منہ کھلا رہ گیا۔۔۔پھر اس نے اپنے آپ پر کمال کنٹرول کرتے ہوئے منہ پر انگلی رکھ کر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور آنکھ مار دی۔۔۔عین اس وقت جب وہ مجھے آنکھ مار رہی تھی اس کی نظر نیچے میری شلوار میں بنے ہوئے تنبو پر پڑی تو اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اسی وقت میں وہاں سے واپس مڑ کر چلتے ہوئے کوریڈور سے واپس باہر کے گیٹ کی طرف چل پڑا۔۔۔گیٹ کے پاس پہنچ کر میں نے چوکیدار کے کیبن میں جھانکا تو چوکیدار کو موجود دیکھ کر میں نے اس سے کہا:بھائی اگر تمہیں تکلیف نہ ہو تو میرا ایک کام کر دو۔۔۔میرے سگریٹ ختم ہو گئے ہیں وہ لا دو۔ چوکیدار نے مجھے کہا صاحب آپ اپنے کمرے میں جائیں سگریٹ تھوڑی دیر میں ہی آپ تک پہنچ جائیں گے۔۔۔میں سست روی سے چلتا ہوا واپس کمرے میں آ کر لیٹ گیا۔۔۔لیٹتے ہی مجھے ڈاکٹر کی چدائی کا سین اور پھر اس لڑکی کا جسم یاد آ گیا۔۔۔جسے سوچتے ہی میرا لن دوبارہ کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔۔۔لیکن میں اسی طرح لیٹے ہوئے میگزین دیکھ کر اپنا دھیان بٹانے لگا۔ کوئی پندرہ منٹ بعد چوکیدار آ کر مجھے دو پیکٹ سگریٹ کے دے گیا اور میں سگریٹ سلگا کر کش لگاتے ہوئے وقت گزارنے لگا۔۔۔تھوڑی دیر بعد اچانک مجھے دروازے کے باہر قدموں کی آواز سنائی دی تو میں جو کہ دروازے کی طرف ہی منہ کیے لیٹا تھا۔۔۔چونک کر دروازے کی طرف دیکھا تو اسی نوخیز حسینہ کو کمرے میں آتے ہوئے پایا۔۔۔اس کا آنا بھی قیامت خیز تھا۔ یوں لگتا تھا کہ وہ نہا کر آئی ہے۔۔۔کیونکہ اس کے گیلے جسم پر تولیہ بندھا ہوا تھا جو کہ بمشکل اس کی گانڈ تک آتا تھا۔۔۔نیچے اس کی رانیں اور ٹانگیں پوری ننگی تھیں۔۔۔اس کے بال خشک تھے۔۔۔مطلب کہ وہ گردن کے نیچے سے نہا کر آئی ہے۔۔۔اندر آتے ہی اس نے مجھے دیکھا اور بے پروائی سے میرے سامنے کرسی کر بیٹھ کر توبہ شکن انداز میں اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر دوسری ٹانگ پر رکھی اور میری طرف دیکھنے لگی۔ اس کی ٹانگ کے نیچے کا نظارہ دیکھ کر میرا لن ایک دفعہ پھر کھڑا ہو گیا۔۔۔چند لمحے وہ میری طرف دیکھتی رہی پھر وہ کرسی سے اٹھی اور میرے پاس آ کر اس نے سائیڈ میز سے سگریٹ کی ڈبی سے ایک سگریٹ نکالا اور سگریٹ سلگا کے واپس اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئی۔ آخرکار میں نے ہی سکوت توڑا۔۔۔جی فرمائیے کیسے آنا ہوا۔۔۔وہ بلکل میری نقل اتارتے ہوئے بولی:کیا میں نے تم سے پوچھا تھا کہ جی فرمائیے کیسے آنا ہوا۔۔۔میں کھسیاہٹ زدہ لہجے میں بولا:وہ تو میں بس سگریٹ ڈھونڈتے ہوئے ادھر جا نکلا تھا۔۔۔وہ مجھے چڑاتے ہوئے بولی۔۔۔کیوں وہاں کیا سگریٹ کی دکان کھلی تھی۔۔۔اور جب اندر آ ہی گئے تو واپس کیوں نہیں چلے گئے؟ اب کی بار میری جھجھک ختم ہو چکی تھی تو میں رسانیت سے بولا کہ ارادہ تو یہی تھا کہ واپس لوٹ جاؤں پر جب اندر حسن کی ایک مجسم دیوی کو اپنی اداؤں کے خزانے لٹاتے دیکھا تو قدم وہیں جم گئے اور میں چاہ کر بھی واپس نہ مڑ پایا۔۔۔میری بات سن کر وہ بہکی ہوئی نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئی بولی۔۔۔دیکھو یار میں کوئی روایتی عورت تو ہوں نہیں جو رسمی باتیں کروں اور گھما پھرا کر مجھے بات کرنا نہیں آتا۔۔۔میرا نام شبنم ہے اور میں ڈاکٹر کی بیوی ہوں پر وہ ابوالہوس میری ابلتی ہوئی جوانی کا مقابلہ نہیں کر پاتا۔کمینہ انسان۔ بہت جلد ہی بلکہ چند جھٹکوں میں ٹھس ہو جاتا ہے۔۔۔میں پھر گرم کی گرم مچلتی رہ جاتی ہوں۔۔۔تو مدعے پر آتے ہیں۔۔۔میرا دل تم پہ آ گیا ہے۔۔۔اس لیے میں اس وقت تمہارے سامنے اس حالت میں موجود ہوں۔۔۔بولو کیا کہتے ہو اس بارے میں؟ ************************ (44) میں کوئی"چپڑ قناطیہ"تو تھا نہیں کہ کسی لڑکی کی اتنی کھلی ڈھلی آفر نہ سمجھ پاتا۔۔۔لیکن پھر بھی میں نے ایک مبہوم سی مدافعت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔لیکن وہ ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں؟شبنم بڑے رسان سے بولی وہ گدھا دارو پی کر گانڈ اٹھائے سو رہا ہے۔۔۔اب اگلے چند گھنٹے اسے ہوش نہیں آئے گا۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استہزایہ انداز میں کہا۔۔۔شبنم!!!کیا اس پٹیوں لپٹے چہرے کے ساتھ ہی؟اتنا کہہ کر میں چپ ہو گیا۔ میری بات سن کر وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔او کم آن یار مجھے تمہاری شکل سے کیا لینا دینا مجھے تو تمہارا لن اپنی پھدی کے اندر چاہیے۔۔۔ویسے بھی صاف سی بات ہے کہ ہم دونوں صرف آج رات کے ساتھی ہیں۔۔۔اس کے بعد ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا:اگر کل صبح میں ڈاکٹر کو بتا دوں کہ پچھلی رات میں اس کی بیوی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا رہا ہوں تو پھر؟ وہ بڑے تحمل سے بولی۔۔۔پھر کیا کچھ بھی نہیں بس اتنا ہو گا کہ کراچی سے گم ہو جاؤ گے یا پھر ہو سکتا کہ تمہارا کوئی ایکسیڈنٹ ہو جائے۔۔۔یا پھر راستے پہ چلتے ہوئے کوئی بے آواز آوارہ گولی تمہارا مزاج پوچھ لے گی۔۔۔میں نے گہری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ اٹھ کر میرے قریب آئی اور نیچے جھک کر ایک دم مجھے گلے سے دبوچتے ہوئے بولی۔۔۔اب بس کرو!!!کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ میں کب سے تمہارا لن لینے کیلئے مری جا رہی ہوں اور تم میرا انٹرویو لیے جا رہے ہو۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یار غصہ کیوں کرتی ہو میں تو بس ایسے ہی شغل کر رہا تھا تو اس نے میرا گلا چھوڑ دیا اور اٹھ کر کھڑی ہوتے ہوئے بولی۔ کسی کی جان جا رہی ہے اور آپ کی ادا ٹھہری۔ یہ کہتے ہی ہاتھ اوپر لیجا کر اس نے اپنا تولیہ اتار پھینکا۔۔۔شبنم ایک نہایت خوبصورت لڑکی تھی۔۔۔میری ہی ہم عمر لگتی تھی لیکن اس کا جسم اس کی عمر سے کافی بڑا لگتا تھا۔۔۔کسے ہوئے پیٹ پر چھتیس سائز کے سڈول ممے ایسے شان سے سر اٹھائے کھڑے تھے جیسے کسی نے درمیانے سائز کے فٹبال درمیان سے کاٹ کر لگا دیے ہوں۔۔۔ان مموں پہ چھوٹے چھوٹے گلابی رنگ کے نپلز بڑے بھلے لگ رہے تھے۔۔۔کمر بلکل پتلی سی نہ ہونے کے برابر۔۔۔اس کی گانڈ کافی موٹی اور باہر نکلی ہوئی تھی۔۔۔یوں لگتا تھا کہ جیسے گوشت کی پہاڑیاں ہوں۔ میں نے اٹھ کر اپنی قمیض اتار دی۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کرتا اس نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کے دباؤ ڈال کر مجھے لٹاتے ہوئے کہا۔۔۔نہیں نہیں تم کچھ نہیں کرو گے تم سکون سے لیٹ جاؤ۔۔۔میں خود ہی سب کچھ کر لوں گی۔۔۔میں کندھے اچکاتے ہوئے چِت لیٹ کر شوق طلب نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ آرام سے میرے ساتھ بیڈ پر ہی بیٹھ گئی اور میرے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نیچے کی طرف لیجانے لگی۔۔۔دوستو اپنی جسمانی ساخت تو میں پہلے ہی بتا چکا ہوں۔۔۔اس لیے میرے جیسا بانکا جوان دیکھ کر اس کی آنکھیں بنا کچھ کہے ہی نشیلی ہوتی جا رہی تھیں۔ چند لمحے وہ ایسے ہی میرے سینے پر ہاتھ پھیرتی رہی۔پھر اس نے اپنا ہاتھ نیچے لیجا کر میرا لن شلوار کے اوپر سے ہی پکڑ لیا اور میرے لن کو پکڑتے ہی اس کی آنکھوں میں تیز چمک ابھر آئی۔۔۔اس نے دونوں ہاتھوں سے میرے لن کو ٹٹولنا شروع کر دیا۔۔۔وہ اچھی طرح میرے لن کی لمبائی اور موٹائی ماپ رہی تھی۔ ************************ (45) وہ میرے پہلو میں بیٹھی ہوئی میرے لن کو سہلا رہی تھی۔۔۔میں نے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کے ممے کو پکڑ کر دبا دیا۔۔۔اس کا مما میرے ہاتھ میں آتے ہی اس کے منہ سے ایک لذت بھری سسکاری نکلی۔۔۔سسسسی۔۔۔ساتھ ہی اس نے اپنا بدن ڈھیلا چھوڑ دیا۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ اس کے گول مٹول مموں کو دبانا شروع کر دیا۔۔۔کچھ دیر میں ایسے ہی ایک ہاتھ سے باری باری اس کے ممے دباتا رہا۔۔۔شبنم میرے لن کو اپنے ہاتھ میں جھکڑے منہ چھت کی طرف کر کے آنکھیں بند کیے سیییییی سیییییی کرتی رہی۔ پھر میں نے اس کے مموں کو چھوڑ کر اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کی کمر میں ڈالا اور اسے اپنی طرف کیا تو شبنم نے اپنی آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا۔۔۔میں واضح طور پر اس کی نشیلی آنکھوں میں سرخ ڈورے تیرتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔ پھر وہ آہستہ سے جھکتی گئی اور اپنے ہونٹوں سے میرے ہونٹوں کو ہلکے سے چوم لیا۔۔۔چونکہ میرے چہرے پر میرے ہونٹ ہی پٹیوں سے آزاد تھے۔۔۔اور وہ بھی آس پاس کا ایریا پٹیوں میں کسے ہونے کی وجہ سے ہلکے سے سوجھے ہوئے تھے اور صاف سوجن نظر آتی تھی۔۔۔اس لیے شبنم نے انتہائی احتیاط کے ساتھ صرف ہونٹ چومنے پر اکتفا کیا۔۔۔اس کا ایک ہاتھ مسلسل میرے لن کو سہلا رہا تھا۔ میں نے اسے اپنے ساتھ پہلو میں لٹا لیا اور پہلو کے بل ہوتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر پھیرتے ہوئے اس کی ناف میں انگلی سے چھیڑخانی کرنے لگا۔۔۔میں جتنا ذیادہ اس کی ناف کو چھیڑتا شبنم اتنا ذیادہ مچلتی۔۔۔میں نے دھیرے سے اپنا ہاتھ نیچے سرکایا تو میرا ہاتھ اس کی پھدی کی نرم و ملائم جلد سے ہوتا ہوا پھدی کے ہونٹوں تک جا پہنچا۔۔۔میرے ہاتھ کی انگلیوں نے جیسے ہی اس کی پھدی کے ہونٹوں کو چھوا تو اس کے جسم کو ایک جھٹکا لگا۔ اس کی پھدی کافی زیادہ گیلی ہو چکی تھی جس سے نکلنے والی رطوبت کی چپچپاہٹ میں اپنی انگلیوں پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔میں اس کی نازک اور بالوں سے صاف پھدی کے ہونٹ مسل رہا تھا اور وہ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر ایسے میرے ہاتھ پر رگڑ رہی تھی کہ جیسے پورا ہاتھ اندر لینا چاہتی ہو۔۔۔دو منٹ بعد ہی اس کی سسکیوں میں شدت پیدا ہو گئی۔۔۔میں نے بھی اس کی پھدی کے ہونٹوں کو رگڑنے کی سپیڈ تیز کر دی۔ ساتھ ہی میں نے اپنے اسی ہاتھ کی دو انگلیاں اندر گھستے ہوئے پھدی کے دانے کو زور سے مسلا تو شبنم نے ایک دم اپنی ٹانگیں زور سے بھینچ لیں۔۔۔اس کے منہ سے ایک لذت بھری سسکی نکلی۔۔۔۔ہائےےےےےےےے امی جی۔ی۔ی۔ی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی شبنم کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا۔ چند سیکنڈ بعد میں نے اپنا ہاتھ باہر نکال کر بیڈ شیٹ کے ساتھ ہی صاف کیا اور اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔کیا ہوا شبنم جی۔۔۔یہ تو آپ ہی چند سیکنڈز میں ٹھس ہو گئیں۔۔۔تو وہ میرے اکڑے ہوئے لن پر ہلکا سا ہاتھ مار کر بولی۔۔۔بکواس مت کرو یار۔۔۔اس بڈھے نے مجھے پہلے ہی کافی گرم کر دیا تھا اوپر سے تمہاری انگلیوں میں جادو ہے جادو،،جو میں برداشت نہیں کر پائی۔ اسی لیے گنگا بہہ گئی۔ رکو ابھی تمہیں بتاتی ہوں۔۔۔یہ کہتے ہی اس نے میری شلوار کر ہاتھ ڈالا اور میرا ازاربند کھول کر شلوار اتار دی۔۔۔میرا لن کسی شیش ناگ کی طرح مچل کر شلوار سے باہر نکلا اور فل مستی میں سر اٹھائے جھومنے لگا۔۔۔شبنم بڑی نشیلی نگاہوں سے میرے لن کو دیکھ رہی تھی۔۔۔پھر شبنم نے آگے بڑھ کر میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھتے ہوئے میرے لن کو اپنے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے اپنا منہ نیچے کیا اور میرے لن کی ٹوپی کو منہ میں لیکر چوسنے لگی۔۔۔وہ اتنی لگن سے میرا لن چوس رہی تھی کہ میرا لن اپنی پوری اکڑ میں آ کر تن گیا۔ اف فف اس کا گرم گرم منہ کیا مزہ دے رہا تھا۔۔۔میں سب بدلے ودلے بھول کر سوچنے لگا کہ کاش وہ اسی طرح میرا لن اپنے منہ میں لیے بیٹھی رہے اور یہ لمحہ امر ہو جائے۔۔۔شبنم میرے لن کو منہ میں لیے آہستہ آہستہ سے اپنے منہ کو چودنا شروع ہو گئی۔۔۔میں نشے کی سی کیفیت محسوس کرنے لگا۔ شبنم بہت تیزی سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔بیچ میں کبھی کبھی وہ اپنی پوری زبان نکال کر میرے ٹٹوں پر پھیرتی تھی۔۔۔میں حیران تھا کہ شبنم اس رغبت سے میرا لن چوس رہی تھی جیسے یہ اس کیلئے دنیا کی سب سے پسندیدہ شے ہو۔۔۔صرف پانچ منٹ کے اندر ہی شبنم کے جاندار چوپوں نے مجھے منزل کے قریب کر دیا۔ میرا جسم اکڑنے لگا تو میں نے کہا شب۔شب۔شبنم میرا پانی نکلنے والا ہے۔۔۔بس کرو اب لن کو منہ سے باہر نکال لو۔۔۔لیکن وہ میری بات سنی ان سنی کر کے اور تیزی سے لن کو چوسنے اور میرے لن کی ٹوپی کو اپنے حلق تک لیجانے لگی۔۔۔تبھی میرے جسم کو آخری جھٹکا لگا اور میرے لن سے منی کی دھاریں خارج ہونے لگیں۔۔۔شبنم نے اپنے ہونٹوں کو گرِپ کر کے میری ساری منی اپنے منہ میں ہی جمع کرنا شروع کر دی۔ ************************* (46) جب میرے لن سے منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا اور میرے لن نے جھٹکے مارنے بند کر دیے تو شبنم نے بڑے احتیاط سے میرا لن اپنے منہ سے باہر نکال لیا۔۔۔شبنم نے لن کو منہ سے باہر نکالتے وقت اس چیز کا خاص خیال رکھا کہ منی کا ایک قطرہ باہر نہ گرنے پائے۔۔۔پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بڑے سیکسی انداز میں وہ منی کا گھونٹ بھرتے ہوئے اپنے حلق سے نیچے اتار گئی۔ میں ابھی حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا کہ اچانک شبنم نے پھر سے میرے لن کو پکڑ کر اپنی زبان باہر نکالی اور میرے لن کو اچھی طرح سے چاٹ چاٹ کر صاف کرنا شروع کر دیا۔۔۔اس کے گرم منہ کی حدت سے میرے مردہ ہوتے ہوئے لن میں ایک دفعہ پھر جان پڑنا شروع ہو گئی۔۔۔دو منٹ بعد ہی میں اس کو نیچے فرش پر بٹھائے اپنا لن اس کے منہ میں ڈالے اس کے منہ کو چود رہا تھا۔ دو منٹ تک ایسے ہی اس کے منہ کو چودنے کے بعد میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے شبنم کے چہرے کو پکڑتے ہوئے لن کو اس کے حلق کی گہرائی تک لیجا کر چودنا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی میرے لن نے اس کے حلق کو چھوا تو اسے کے منہ سے اوغ۔اوغ کی آواز نکلی۔۔۔یوں لگا جیسے ابکائی لینے لگی ہو۔۔۔لیکن اس نے کمال مہارت سے اپنے آپ کو سنبھال لیا۔۔۔تقریباً پانچ منٹ کی جاندار حلق چودائی کے بعد میرا لن اپنے پورے جوبن پر آ چکا تھا۔ میں نے اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکالا اور اسے بیڈ پر لیٹنے کو کہا۔۔۔وہ سیدھی بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنی ٹانگیں کافی ساری کھول لیں۔۔۔میں اس کی کھلی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا۔۔۔پھر اپنے لن کو پکڑ کر اس کی پھدی کے ہونٹوں پہ رکھا۔۔۔شبنم کی پھدی ایک دم مست پھدی تھی۔۔۔اس پر ایک بھی بال نہیں تھا۔۔۔کسی کنواری پھدی کی طرح اس کے ہونٹ بھی آپس میں ایک دم ٹائٹ ہو کر جڑے ہوئے تھے۔۔۔میں نے لن کو پھدی کے ہونٹوں کے درمیان رکھتے ہوئے آہستہ سے پش کیا تو لن کی ٹوپی پھدی کو چیرتی ہوئے اندر گھس گئی۔ شبنم کے چہرے پر ہلکی سی تکلیف کے آثار تھے۔۔۔میں آہستہ آہستہ دباؤ بڑھاتا گیا۔۔۔شچنم نیچے سے مچلتی گئی پر میں رکا نہیں۔۔۔نتیجتاً بیس سیکنڈ میں ہی میرا پورا لن اس کی پھدی میں غائب ہو چکا تھا۔۔۔میں نے ہلنے کی کوشش کی تو شبنم نے اپنے دونوں ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ دیے۔۔۔جیسے مجھے روکنا چاہتی ہو۔۔۔میرے سوالیہ نظروں سے دیکھنے پر اس نے کہا۔۔۔تھوڑی دیر یہاں ہی رکو۔۔۔پہلی بار اتنا صحت مند لن اندر لیا ہے۔ تھوڑی دیر اسے محسوس تو کرنے دو۔۔۔کچھ دیر بعد جب اس کو سکون ملا تو وہ بولی اب آہستہ آہستہ سے دھکے لگانا شروع کرو۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ پمپنگ کرنی شروع کر دی۔۔۔شبنم اب پورا لن اندر لینے کے بعد مستی بھری آوازوں سے مجھے سب اوکے ہے کا سگنل دے رہی تھی۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ اپنی سپیڈ بڑھانی شروع کر دی۔۔۔شبنم بھی میرا ساتھ دے رہی تھی۔۔۔لن اندر جاتے ہی وہ اپنی گانڈ کو پیچھے دبا کر میرا ساتھ دیتی۔ میں جیسے ہی گھسہ مارتا۔۔۔شبنم کے ممے باؤنس ہو کر اوپر کو اچھلتے اور اس کے ڈانس کرتے مموں کو دیکھ کر مجھے اور جوش چڑھتا جاتا۔۔۔اور میں مزید زور سے گھسہ مارتا۔۔۔شبنم اف فف فف ہائےےےےےےے کی آوازیں نکال کر میرے مزے کو دوبالا کر رہی تھی۔۔۔شبنم کی پھدی اب اندر سے بلکل ہموار ہو چکی تھی جس کی وجہ سے میرا لن باآسانی اندر باہر آ جا رہا تھا۔ ************************* (47) میرے اور شبنم کے جسم آپس میں ٹکرانے کیوجہ سے کمرے میں پوچ پوچ کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔اب شبنم نیچے سے گانڈ اٹھا اٹھا کر پورا لن اندر لے رہی تھی اور میرا لن اس کی بچہ دانی تک مار کر رہا تھا۔۔۔مسلسل دس منٹ تک گھسے مارنے کے بعد اچانک شبنم نے اپنی دونوں ٹانگیں اوپر اٹھا کر میری کمر پر باندھتے ہوئے پیروں کی مدد سے شکنجہ بنا کر مجھے اپنے شکنجے میں بھینچ لیا۔۔۔میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ گھسے مار رہا تھا۔۔۔شبنم سسکیاں بھرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ تیز۔تیز۔ہاں راجہ۔۔۔اور تیز۔ اس کی پھدی مسلسل رطوبت چھوڑ رہی تھی جس کیوجہ سے میرا لن پھسل پھسل کر اندر جا رہا تھا۔۔۔اب میرے دماغ میں ہلچل مچنا شروع ہو گئی اور میں بنڈ پھاڑ گھسے مارنے لگا۔۔۔شبنم بھی اب مزے کے ساتھ پورے فارم میں تھی۔۔۔اور پانی نکالنے کیلئے تیار ہو رہی تھی۔ اوہ میری پھدی۔۔۔آہ۔۔ممممم۔ممممم۔۔میں گئییییی۔۔۔ میں نے فل جوش میں تین چار گھسے اور مارے تو میرے جسم کو ایک جھٹکا لگا تو میں نے پوری طاقت سے لن کو جڑ تک پھدی میں گھسا دیا اور میرے لن نے اس کی پھدی کے اندر ہی پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔۔۔میرا منی اندر گرنے کی دیر تھی کہ شبنم کی ٹانگیں بھی کانپیں اور اس نے بھی لرزتے ہوئے منی کی برسات کر دی۔ میں نڈھال ہو کر شبنم کے اوپر گر کے ہانپنے لگا جبکہ وہ بھی ہانپتے ہوئے تیز تیز سانسیں لے رہی تھی۔۔۔اس طرح کوئی دس منٹ تک اپنی سانسیں بحال کرنے کے بعد وہ اٹھی اور اپنا تولیہ اٹھا کر پھر سے باندھ کر ایک سگریٹ سلگا کر مجھے دیا اور میرے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔جبکہ میں ابھی تک ننگا لیٹا ہوا تھا۔ وہ کھوئے کھوئے سے انداز میں مجھے دیکھتی رہی۔۔۔پھر وہ اچانک بولی دیکھو میں بھی کتنی بدھو ہوں۔۔۔ابھی تک تمہارا نام نہیں پوچھا۔۔۔میں نے بتایا کہ میرا نام کمال پاشا ہے۔۔۔وہ میری آنکھوں میں تکتے ہوئے بولی تمہارا یہ حال کیسے ہوا۔۔۔اس کا اشارہ میرے جلے ہوئے چہرے کی طرف تھا۔۔۔میں نے کچھ لمحے سوچا پھر نہ جانے کیوں اسے نہایت اختصار کے ساتھ ساری کہانی خود ہر بیتے سارے حالات بتاتا چکا گیا۔ صرف ہیروں کا قصہ گول کر گیا۔۔۔پیسوں کے بارے میں اسے بتایا کہ ہم لوگ زمیندار لوگ ہیں کافی زمین تھی جو اب ساری کی ساری بلا غیرے شرکت میری ہے۔۔۔میری بات سن کر وہ سرشار لہجے میں بولی"مسٹر کمال پاشا!!!تم چاہو تو فرض کر سکتے ہو کہ تمہارے ہاتھ پارس پتھر لگ گیا ہے۔۔۔کچھ استفادہ کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔۔۔کوئی کام کہیں اٹکا ہوا ہو تو بتا سکتے ہو۔۔۔کوئی مسئلہ درپیش ہو تو صرف اشارہ کر دو۔ پھر وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی میں تو نہ تین میں ہوں نہ تیرہ میں۔۔۔لیکن میرا جو یہ نام نہاد عاشق شوہر کرنل ہے ناں!!!۔باہر دنیا کیلئے بہت بڑی توپ قسم کی شے ہے لیکن بیڈروم میں میرا ہاتھ بندھا غلام ہے۔۔۔اس لیے اگر کوئی مسئلہ درپیش ہے اور تم سمجھتے ہو کہ اس میں ہماری ضرورت پیش آ سکتی ہے تو واضح بتا دو۔۔۔تمہارا کام باآسانی ہو جائے گا۔ ہاں ایک کام ہے جس کو کرنے کیلئے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت پڑے۔۔۔میں نے ایک لمحہ توقف کے ساتھ تھوڑا مکھن لگانی کی کوشش کرتے ہوئے رومینٹک انداز میں کہا۔۔۔لیکن فلحال اس موضوع کو رہنے دو۔۔۔ابھی تم مجھے ملی ہو،تمہارا ساتھ مجھے ملا ہے،مجھے جی بھر کر سیراب تو ہو لینے دو۔۔۔پہلے مجھے کچھ دیر تک اس خوشی کو محسوس تو کر لینے دو۔۔۔میری روح میں پیاس کا اک صحرا پھیلا ہوا ہے۔۔۔اسے کچھ دیر تو تمہاری محبت کی شبنم جذب کرنے دو۔۔۔وہ چپ چاپ میری آنکھوں میں دیکھتی رہی لیکن جیسے ہی میں نے اپنی بات ختم کی وہ تالیاں بجانے کے انداز میں بولی"تقریر اچھی کر لیتے ہو۔ پر میری جان میں اس وقت سے بہت آگے آ چکی ہوں جب لڑکیاں اس قسم کی باتوں پر مر مٹتی تھیں۔۔۔تم کیا جانو میں کتنا بڑا صحرا پار کر کے یہاں تک پہنچی ہوں۔۔۔پھر وہ اٹھتے ہوئے بولی بہرحال میری آفر اپنی جگہ برقرار ہے جب بھی کوئی ضرورت پیش آئے مجھے کال کر لینا تمہارا کام ہو جائے گا کانٹیکٹ نمبر وہی ہے جس پر تم لوگ ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہو۔۔۔ اوکے اب اچھے بچوں کی طرح سو جاؤ۔۔۔صبح کا دن تمہارے لیے نئی خوشیوں کی امید لیکر آ رہا ہے۔۔۔اس کا اشارہ پھر میرے چہرے کی طرف تھا۔۔۔گڈ نائٹ کہہ کر اس نے ایک دفعہ پھر جھکتے ہوئے میرے ہونٹوں کو چوم لیا اور پھر مڑ کر کمرے سے نکلتی چلی گئی۔۔۔شبنم کے جانے کے بعد میں نے کپڑے پہنے اور واش روم میں جا کر فریش ہونے کے بعد واپس بیڈ پر آ کر لیٹ گیا۔ جاری ہے۔۔۔
  3. کیسے ہیں سب دوست۔ جن لوگوں نے رپلائی دیا یا کمنٹس کیے ان کا شکریہ۔ میں سٹوری کی اپڈیٹ 2 جولائی کو اپلوڈ کرنے والا تھا بس تھوڑا ٹائم مل گیا تو اپڈیٹ ریڈی کر لی۔اس لیے دیے گئے وقت سے پہلے ہی سٹوری اپڈیٹ کر رہا ہوں۔
  4. @Kallojatt جی جناب میں دیکھ چکا ہوں یم سٹوریز پر کوئی مناہل نام سے اپلوڈ کر رہا ہے میری سٹوریاں لیکن میرے پاس اس کو روکنے کا کوئی حل نہیں بھائی۔
  5. @asd2010 بھائی یہاں سب فلمی ہی ہوتا ہے۔۔۔ان سب میں کچھ بھی حقیقت نہیں ہوتا۔۔۔ لیکن رائٹرز کوشش کر کے حقیقت کے قریب ترین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔آپ موویز تو دیکھتے ہی ہوں گے۔۔۔ وہاں پر کیسی کیسی چھوڑی جاتیں ہیں لیکن عوام کو پسند آتی ہیں۔۔۔
  6. سب دوستوں کا شکریہ جنہوں نے اپنا ٹائم نکال کر اس سٹوری کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے کمنٹس سے نوازا۔ اگلی اپڈیٹ میں سٹوری کو ایک اور نیا رخ دیا جائے گا اور باقی کرداروں کو فلحال پسِ پشت ڈال کر میں کردار کو آگے بڑھا جائے گا۔۔۔کچھ نئے کردار بھی شامل ہوں گے اور سٹوری کو ایک ترتیب سے ان کرداروں کے ساتھ لنک کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ اگلی اپڈیٹ میں کوئی سیکس سین ہو گا۔بہرکیف میں کوشش کروں گا کہ سٹوری کی ڈیمانڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں کوئی سیکس سین ڈال سکوں۔۔۔
  7. دوستو پڑھ کے بتائیے گا ضرور کہ کہانی کا ٹریک کیسا جا رہا ہے۔۔۔ دراصل میں پہلی دفعہ تھوڑا روٹین سے ہٹ کر لکھ رہا ہوں۔۔۔اس سے پہلے اس طرح کی کوئی سٹوری نہیں لکھی اس لئے آپ لوگوں کی رائے کا شدت سے انتظار رہے گا۔۔۔ نوٹ:۔۔۔ آج 19 جون ہے تو اگلی اپڈیٹ 2 جولائی کو اپلوڈ کروں گا۔۔۔میری آفس میں ایک اسائنمنٹ ہے وہ بھی ساتھ ساتھ پوری کرنی لیکن دو جولائی کو ہر صورت اپڈیٹ دے دوں گا۔۔۔
  8. (24) کچھ دیر ریسٹ کرنے کے بعد جب ہم نارمل ہو گئے تو میں نے راجی سے پوچھا۔۔۔راجی تم خود کو میرے ساتھ کیسا محسوس کر رہی ہو۔ میرا پیار کرنا کیسا لگا۔ میرے منہ سے یہ الفاظ نکلنے کی دیر تھی کہ راجی کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اور وہ روتے ہوئے بولی۔ کمال باؤ۔ تم واقعی کمال ہو۔ چھیمو بڑی خوش نصیب ہے جو اسے تم جیسا پیار کرنے والا ملا۔۔۔ورنہ ہم جیسی لڑکیوں کے نصیب میں تو زبردستی چدائی اور حلق میں پھنسے لنوں کا منی پینا ہی لکھا ہوا ہے۔۔۔ابھی جب تم نے تھوڑی دیر پہلے مجھے ہونٹوں پر چوما تو مجھے یقین نہیں ہوا کہ مجھ جیسی رانڈ کو کوئی ہونٹوں پر بھی چوم سکتا ہے۔ ان ہونٹوں پر جہاں آج تک سیال زادوں کے لن رگڑے گئے۔۔۔ان گشتی کے بچوں نے کبھی بھی مجھے پیار سے کس نہیں کی۔۔۔میرے راضی خوشی چدوانے کے باوجود وہ لوگ زبردستی چدائی کو فوقیت دیتے ہیں۔ مجھے اچانک ایک بات یاد آئی تو میں بول اٹھا راجی مجھے جب چھیمو نے تم دونوں کی داستان سنائی تھی تو اس نے بتایا تھا کہ پہلی دفعہ سیال زادوں سے چدوانے کے بعد تم خود وڈے چوہدری کے آگے لیٹنے کو تیار ہو گئی تھی اور اپنی مرضی سے پھدی مروائی تھی۔ اگر تم مظلوم ہو تو وہ سب کیا تھا جو اس دن وڈے چوہدری کے کمرے میں ہوا۔ میری بات سن کر راجی کچھ دیر خاموش رہی پھر جیسے خلا میں تکتے ہوئے بولی۔ جو بات میں ابھی بتانے جا رہی ہوں وہ تو چھیمو بھی نہیں جانتی۔۔۔اس دن میں جان بوجھ کر حویلی گئی تھی۔۔۔مجھے پتہ تھا کہ یہ سب ہو گا۔ لیکن اس درندگی کے ساتھ ہو گا یہ میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔لیکن سوال یہ ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی میں چوہدری کہ حویلی میں گئی ہی کیوں۔ تو یہ جاننے کیلئے چند سال پہلے کا قصہ سناتی ہوں۔ ہم دو بہنیں تھیں۔ میرا نام تو تم جانتے ہی ہو جبکہ مجھ سے چھوٹی کا نام نغمہ تھا۔ رنگ روپ میں اتنی خوبصورت کہ پریاں بھی دیکھ کر شرما جائیں۔ جسم کی اٹھان بھرپور تھی۔ وہ ہم سب کی لاڈلی تھی۔ گھر میں میرے امی ابو میں اور نغمہ ٹوٹل چار لوگ ہی تھے۔۔۔صرف مکان اپنا تھا زمین بلکل بھی نہیں تھی اس لیے ابا لوگوں کی زمینوں میں کھیتی باڑی کر کے گھر کی دال روٹی چلاتے تھے۔ مجھے بچپن سے ہی گانے کا بہت شوق تھا۔۔۔آس پاس کے گاؤں میں اور خود اپنے گاؤں میں اگر کوئی شادی بیاہ ہوتا تو مجھے اسپیشل بلایا جاتا تھا کہ میں وہاں رنگ جماؤں۔ اس طرح چار پیسے کی آمدنی بھی ہو جاتی۔ اور میرا گانے کا شوق بھی پورا ہو جاتا تھا۔ زندگی سکون سے گزر رہی تھی۔۔۔کہ تبھی اچانک ہماری زندگی میں ایک ایسا بھونچال آیا کہ سب کچھ تہس نہس ہو گیا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک دن ہمارے گاؤں کی دوسری نکڑ پر موچیوں کے گھر شادی تھی۔۔۔ان کی عورتیں گانا گانے کیلئے مجھے بلا کر لے گئیں۔ آدھی رات تک کا فنکشن تھا۔ رات کو جب فارغ ہوئے تو انہوں نے مجھے کافی پیسے دیے۔۔۔اور ایک بزرگ ملازمہ جس کا نام ماسی صغراں ہے۔۔۔مجھے اس کے ساتھ واپس گھر بھیج دیا۔۔۔ماسی صغراں ہمارے گھر کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ **************************** (25) ماسی کی داستاں بھی عجیب تھی۔۔۔ماسی کا خاوند کافی سال پہلے نشے کی ذیادتی کی وجہ سے مر گیا۔ پھر ایک دن ماسی کا جواں سال بیٹا پیسے کمانے گھر سے نکلا تو آج تک واپس نہیں آیا۔ ماسی دائی کا کام بھی جانتی تھی مگر اس کا ذیادہ تر وقت ادھر ادھر کے گھروں میں ہی گزرتا تھا۔ جھاڑو پونچھا کر کے روٹی پانی کھا پی لیتی اور اسی طرح اس کی زندگی کی گاڑی بھی چل رہی تھی۔ میں اور ماسی شادی کی باتیں کرتے ہوئے جیسے ہی میرے گھر کے قریب پہنچے تو مجھے گھر کے سامنے ایک بڑی جیپ کھڑی دکھائی دی جس میں کچھ لوگ بیٹھ رہے تھے۔ جیپ دیکھتے ہی ماسی کے منہ سے نکلا ***** خیر۔ میں نے گھبرا کر ماسی سے کچھ پوچھنا چاہا تو ماسی نے مجھے سختی سے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور میرا بازو پکڑ کر پاس ہی موجود درختوں کے جھنڈ میں داخل ہو گئی۔۔۔چند منٹ بعد جیپ سٹارٹ ہوئی اور غراتی ہوئی ہمارے سامنے سے گزرتی چلی گئی۔ جیپ میں چار گن مینوں کے ساتھ دو سوہنے سوہنے منڈے بھی موجود تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ سوہنے منڈے وڈے چوہدری کا پتر صفدر سیال اور اس کا کوئی شہری دوست تھے۔ میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا کہ بندوق بردار آدمیوں کا میرے گھر میں کیا کام۔۔۔میں ہولتے دل کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھی اور ماسی سے اپنا بازو چھڑا کر بھاگتے ہوئے درختوں کے جھنڈ سے باہر نکلی اور سیدھا اپنے گھر میں داخل ہو گئی۔۔۔جیسے ہی میں گھر میں پہنچی تو۔ جیسے ہی میں گھر میں پہنچی تو اندر کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔کمرے میں داخل ہو کر جو منظر میری آنکھوں نے دیکھا۔اسے دیکھ کر میرے منہ سے چیخ نکلی۔۔۔سامنے فرش پر میرے ابا اور امی کی لاشیں خون میں لت پت پڑی ہوئی تھیں۔ امی کا جسم پورا ننگا تھا اور ان دونوں کے سینوں میں دستے تک خنجر پھنسے ہوئے تھے۔ میں پھٹی آنکھوں کے ساتھ لڑکھڑائی تو سہارا لیتے لیتے فرش پر کسی چیز کے ساتھ پاؤں الجھے اور میں گر پڑی۔۔۔میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔ چند لمحات کے بعد جب آنکھیں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو میری نظر اس چیز پر پڑی جس سے میرے پاؤں الجھے تھے۔ اس چیز کو دیکھ کر یوں لگا آسمان سر پہ آن گرا ہو۔۔۔وہ میری بہن، چھوٹی لاڈلی بہن، نغمہ کی لاش تھی۔۔۔جس کے بدن پہ کپڑوں کے نام پر ایک تار بھی نہیں تھا۔ نغمہ کو اس حالت میں دیکھ کر اور پے در پے جھٹکوں نے مجھے تکلیف سے نجات دلائی اور میں چیخیں مارتے روتے روتے بیہوش ہو کر وہیں زمین پر گر گئی۔ پھر جب ماسی صغراں اندر آئی اور اس نے سارا ماجرہ دیکھا تو اس کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہ تھی۔۔۔لیکن وہ بیہوش ہونے سے بچ گئی۔ جہاندیدہ تھی سارا معاملہ سمجھ گئی۔۔۔اس نے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر مجھے اٹھایا پھر پانی کے چھینٹے میرے منہ پر ڈالے اور جب مجھے ہوش آیا تو دیکھا ماسی مجھے ہلا رہی تھی۔ چند لمحے تو میں غائب دماغ سی ماسی کی طرف دیکھتی رہی لیکن جب شعوری کیفیت میں واپس آئی تو ایک دفعہ پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ماسی مجھے چپ کرواتی رہی۔ میں روتے ہوئے پوچھا رہی تھی ماسی یہ سب کیا ہو گیا۔۔۔کون لوگ تھے وہ اور ان کی ہمارے ساتھ کیا دشمنی تھی جو انہوں نے یہ کر دیا۔ اتنا کہہ کر میں نے لاشوں کی طرف اشارہ کیا تو دیکھا کہ اب امی اور نغمہ کی لاشیں ننگی نہیں تھیں۔۔۔اس وقت غم کی شدت میں اس بات پر دھیان نہیں دے کہ ان کے ننگے جسموں کو کپڑے کس نے پہنائے۔ مجھے روتی کو چپ کرواتے ہوئے اور دلاسے دیتے ہوئے ماسی نے کہا۔۔۔چپ کر جا میری دھی۔۔۔فٹا فٹ اپنے آپ نوں سانبھ لے پر کسے نوں پتہ نا چلے کہ لاشاں پہلے ننگیاں سن۔۔۔ایہہ بری گل اے لوکی طرح طرح دیاں گلاں کرن گے۔۔۔میں روتی ہوئی بولی پر ماسی وہ لوگ کون تھے تو ماسی نے جواب دیا کہ پتر مینوں کی پتہ کون سی۔ پر شکلاں توں تے ڈاکو ہی لگدے سی۔ (26) بہرحال کسی نا کسی طرح ماسی مجھے اٹھا کر چلاتے ہوئے وہاں سے باہر لائی اور شور مچا مچا کر گاؤں والوں کو گھروں سے اٹھا لیا۔ جب گاؤں والے اکٹھے ہوئے اور انہیں اس حادثے کا پتہ چلا تو ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ کسی نے پولیس کو اطلاع کر دی تو پولیس بھی آ گئی اور چند گھنٹے ادھر ادھر گھوم پھر کے روٹی ٹکر کھانے کے بعد ساری کاروائی ڈاکوؤں کے سر ڈال کر لاشوں کو دفنانے کا کہہ کر چلی گئی۔ سب کو دفنا دیا گیا اور میں اس دنیا میں اکیلی رہ گئی۔۔۔ماسی نے میرے گھر کو تالا لگایا اور مجھے ساتھ اپنے گھر لے گئی۔۔۔چند دن تو میں گم صُم رہی۔ ہر وقت امی ابو اور نغمہ کے ہنستے کھلکھلاتے چہرے نظروں کے سامنے آتے رہتے اور میں گھنٹوں تک گھٹنوں میں سر دیے روتی رہتی۔ ماسی بے چاری میری اشک جوئی کرتی رہی اور حوصلہ دیتی رہی۔۔۔آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا۔ دستورِ دنیا بھی یہی ہے اور وقت کا تقاضا بھی کہ جانے والے کی یاد آہستہ آہستہ دماغ سے جھڑنے لگتی ہے چنانچہ میرا غم بھی کم ہوتا گیا۔ پھر میں اور ماسی اکٹھے ہی گھر سے نکلتے اور لوگوں کے گھر کام کاج کر کے سرِشام ہی گھر کو لوٹ آتے۔ زندگی آہستہ آہستہ پھر سے ٹریک پر آ گئی تھی۔۔۔پھر چار مہینے بعد ایک دن ماسی کی طبیعت بہت ذیادہ خراب ہو گئی۔۔۔ماسی کو بہت تیز بخار تھا۔ میں نے گاؤں کی اکلوتی ڈسپنسری پر موجود کمپاؤنڈر کو بلایا تو اس نے ماسی کو چیک کرنے کے بعد مجھے ایک دوائی دی کہ یہ ماسی کو ہر چار گھنٹے بعد کھلاتی رہنا اور اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرتی رہنا۔۔۔کل تک بخار ٹھیک ہو جائے گا۔ میں ساری رات ماسی کے سرہانے بیٹھی رہی اور دوائی کھلانے کے ساتھ ساتھ پٹیاں کرتی رہی۔۔۔لیکن جوں جوں دوا کی مرض بڑھتا گیا!!!۔ اگلے دن ماسی کی طبیعت تھوڑا سنبھل گئی لیکن شام تک ماسی کی حالت بہت خراب ہو گئی۔۔۔میں نے ماسی سے کہا کہ میں جاتی ہوں کسی کو کہہ کر تانگے کا بندوبست کر کے آپ کو ہسپتال لیکر چلتے ہیں۔ لیکن ماسی نے مضبوطی سے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے پاس بٹھا لیا اور بولی۔ دھیے نا کر ایتھے میرے کول رہ مینوں لگدا میرا آخری ویلا آ گیا۔۔۔تے پتہ نئیں میں کس ویلے ٹر جانا۔ میرے کول بہ جا تے دھیان لا کے میری گل سن۔۔۔اتنا کہہ کر ماسی کمزوری سے ہانپنے لگی۔ میں نے فٹافٹ دو گھونٹ پانی ماسی کو پلایا اور پھر ضد کی کہ شہر چلتے ہیں۔ ماسی غصے سے بولی بکواس نہ کر میری گل دھیان نال سن۔۔۔اک گل اے جیڑی تینوں نئیں پتہ پر ہن میں مردے مردے سینے تے بھار لے کے نئیں مرنا چاندی اس لئی اج سب کجھ تینوں دساں گی۔ پتر رضیہ!!!سب توں پہلے او ٹرنک کھول۔۔۔ماسی نے سامنے پڑے ایک پرانے ٹرنک کی طرف اشارہ کیا۔۔۔میں نے اٹھ کر کھولا تو ماسی بولی:سب توں تھلے اک خاکی رنگ دا لفافہ پیا ہونا اونوں کڈ بار۔ میں نے ڈھونڈ کر لفافہ نکالا اور ماسی کے ہاتھ پر رکھ دیا تو ماسی نے مجھے بتایا کہ پتر میں اک اک پیسہ جمع کر کے کچھ رقم جوڑی سی۔۔۔کہ منڈے دا ویاہ کر دیواں گی پر او اک دن ایسا گیا کہ مڑ واپس ای نئیں آیا۔ ************************** دنیا کیندی او مر مک گیا ہونا پر میرا یعنی ماں دا دل کیندا کہ میرا پتر زندہ اے۔ میں پیسے جوڑ جوڑ انتظار کردی رئی پر او ناں آیا۔۔۔فیر اک دن میں کسے کم لاہور گئی سی تے اوتھے مینوں میرا پھپھی دا پتر ٹکر گیا۔ اسی دونوں اک دوجے نوں مل کے تے بڑے خوش ہوئے۔۔۔اک دوجے دا حال احوال پچھیا۔ میرے پتر بارے جان کے اونوں بڑا ای افسوس ہویا۔۔۔فیر اکثر میل ملاقات ہوندی رئی۔۔۔میں اودے گھر وی آندی جاندی رئی۔۔۔اک دن میں لاہور گئی تے اونوں ملی۔۔۔گلاں باتاں اچ اونے ذکر کیتا کہ آپاں ایتھے اک موقعے دی دکان لبھ رئی اے۔ بڑی چنگی جگہ تے ہے۔۔۔تیرے کول جنے پیسے نیں لگا کے تے دکان خرید لے۔۔۔جیڑے پیسے گھٹن گے میں پا دیواں گا۔۔۔آخر توں میری بہن ایں۔ پر میری گل من جا تے دکان لے لا۔۔۔اک تے دکان دا کرایہ آندا رہو نالے اگاں اودا ریٹ وی بڑھ جاؤ۔ ہر پاسے فیدہ ای فیدہ۔ میں بڑا سوچیا فیر میں سارے پیسے اکٹھے کیتے کجھ پیسے ادھار چکے تے لاہور چلی گئی۔۔۔جیڑے پیسے کم ہوئے او میرے بھرا نیں پا دتے تے او دکان میری نام تے خرید لئی۔۔۔پکے پیپر تے انگوٹھے لگ گئے۔ (27) پتر!!!میں چند دن توں سوچ رئی سی کہ طبیعت ٹھیک نہیں ریندی تے او میرا پتر وی پتہ نئیں کدوں آوے۔ پر میرا دل کیندا آوے گا ضرور۔ بہرحال تینوں یاد اے ناں پچھلے ہفتے میں لاہور گئی سی۔۔۔میں نے ثبات میں سر ہلایا تو ماسی پھر سے بولی:میں اپنے بھرا نوں ساری گل دس کے پکے کاغذ تے تیرا نام لکھا کے دکان تیرا نام کر دتی۔ میں تے انگوٹھا لا چھڈیا تے توں میری دھی رانی۔۔۔توں وی انگوٹھا لا لے۔۔۔میں نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا تو ماسی نے ایک دم کہا ناں ناں پتر ٹیم ناں ضائع کر ہجے میری گل پوری نئیں ہوئی۔ میرے مرنے توں بعد توں اس دکان دی مالک ایں۔۔۔جے کدی میرا پتر واپس آ جاوے تے اونوں ساریاں گلاں دس دویں۔۔۔نالے اونوں دسیں کہ تیری ماں دی بڑی خواہش سی کی تیری یعنی رضیہ دی تے میرے منڈے دی شادی ہو جاوے۔ اگر او من جاوے تاں اودے نال ویاہ کر لویں۔۔۔جے نا منے تے لاہور آلی دکان ویچ کے اودی رقم دے دو حصے کر لینا اک تیرا تے اک میرے پتر دا۔ جے کدرے او ناں آیا تے توں آزاد ایں۔۔۔دکان تیری ہوئی۔۔اودے واسطے جیڑے پیسے میں ادھار چکے سی او میں پورے کر دتے نیں۔ ساتھ ہی ماسی نے ایک پرچہ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہا میرے بھرا دے گھر دا پتہ ہے۔ دکان دے کرائے دا سارا حساب اوہی رکھدا۔۔۔اونوں مل لویں۔بڑا ایماندار اے تیرا خیال رکھے گا۔۔۔اتنی بات کہہ کر ماسی پھر کھانسنے اور ہانپنے لگی تو میں نے فٹا فٹ ماسی کو دو گھونٹ پانی کے ساتھ دوائی دی۔ اور سرہانے بیٹھ کر پھر سے پٹیاں کرتی رہی۔۔۔کچھ دیر بعد جب ماسی کی طبیعت کچھ بحال ہوئی تو وہ پھر بولنا شروع ہوئی۔ پتر رضیہ!!!سب توں اہم گل۔ تینوں یاد اے او رات جس دن تیرے ماں پیو تے پین دا قتل ہویا سی۔۔۔یاد اے نا او رات۔ ماسی کی بات سن کر میں بیٹھے بیٹھے جیسے کھو گئی۔۔۔میرے لبوں سے نکلا ماسی وہ رات میں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔۔آج بھی میری نگاہوں کے سامنے ان کی ننگی لاشیں آتی ہیں۔ تو ماسی آہستہ سے بولی راجی اس دن میں تیرے توں اک گل چھپائی سی۔۔۔میں ایک دم خیالوں کی دنیا سے باہر آ گئی اور حیرانی سے بولی وہ کیا بات تھی ماسی۔ تو ماسی بولی پتر تینوں پتہ اے ناں کہ میں دائی آں۔۔۔تے ایداں دے معاملات میری نظر توں بچ نئیں سکدے۔ میرے دل میں اندیشوں نے گھر کرنا شروع کر دیا۔۔۔ماسی اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی اس رات توں نٹھ کے اپنے گھر وڑ گئی تے میں وی تیز تیز قدماں نال تیرے پیچھے آئی تے اندر لاشاں ویکھ کے میرا وی حال برا ہو گیا سی۔دماغ نوں چکر آ گیا نالے اکھاں اگے ہنیرا۔ فیر اچانک تیرا یاد آیا،،تھوڑی ہوش پھڑی تے فٹا فٹافٹ تینوں چیک کیتا تے ساہ چلدا ویکھ کے مینوں حوصلہ ہویا۔۔۔فیر میں تینوں چھڈ کے سب توں پہلے تیرے پیوں نوں ویکھیا اودے ساہ مک چکے سن۔ تیری ماں دے ساہ وی مک چکے سن۔۔۔نغمہ وی دور جا چکی سی۔۔۔پر اک چیز میں غور نال ویکھی،،چیک کیتا تے میرا دماغ سن ہو گیا۔ اتنا کہہ کر ماسی نے چند لمحے سانس لیا اور بولی کہ تیری ماں تے نغمہ دوناں دی عزت لٹی گئی۔ اوناں نال زبردستی ہوئی۔۔۔اسے واسطے میں تیرے ہوش توں آن توں پہلے کھچ دھو کے اوناں دوناں بدنصیباں نوں کپڑے پا چھڈے۔ میں کدے وی ہا گل تینوں نہ دسدی پر اج مینوں لگدا کہ میرا ویلا آ گیا تے اج ساری گل کھول چھڈی۔ ہن میں آرام نال مر سکاں گی۔۔۔میں پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ماسی کو دکھتے ہوئے بولی۔۔۔ماسی وہ کون لوگ تھے۔پھر اچانک کچھ یاد آیا تو آنکھیں سکوڑے ماسی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ماسی تم ان کو جانتی ہو نا۔۔۔تو ماسی نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ او گورا سوہنا منڈا یاد ای جیڑا جیپ دی اگلی سیٹ تے بیٹھا سی۔۔۔تو میں نے اس کی شکل دل میں یاد کرتے ہوئے کہا ہاں ماسی یاد ہے کون تھا وہ مجھے بتاؤ کون تھا وہ؟ تو ماسی بولی او منڈا نال آلے پنڈ چک اکتیس دے وڈے چوہدری دا منڈا سی۔۔۔اودا نام صفدر سیال اے۔ میں اوناں کنجراں نوں چنگی طرح جاندی آں۔پہلے وی آس پاس دے پنڈاں وچ او کنجر اپنے یاراں نال مل کے ایداں دیاں دو چار وارداتاں کر چکیا۔ لوگ سب جاندے نیں پر اوناں تو ڈردے رو دھو کے چپ وٹی رکھدے۔۔۔اس دن اوناں نیں تیری ماں تے پین دی عزت لٹی سی۔اس گل دا میں بعد اچوں پتہ وی لوایا سی۔پر میں خاموش رئی۔تینوں دسن دی ہمت نہ ہوئی۔ اس کے بعد میں ساری رات ماسی کی خدمت کرتی رہی اور اس واقعے بارے سوچتی رہی۔۔۔رات بارہ بجے کے قریب ماسی کی آنکھ کھلی اور مجھے اپنے سرہانے بیٹھے دیکھ کر بولی۔۔۔کملی نا ہووے تے۔ چل اٹھ منجی تے پے کے سو جا کل رات دی توں اکھ نئیں لائی۔۔۔میں ہن ٹھیک آں چل شاباش میری دھی رانی۔۔۔سچ پوچھو تو ساری رات سوچ سوچ کر دماغ سن ہو چکا تھا اس لیے نیند سے میری بھی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں۔۔۔چنانچہ اٹھ کر ماسی کے ساتھ ہی موجود اپنی چارپائی پر لیٹ گئی۔۔۔اور اس واقعے کے بارے میں سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی۔ (28) میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ دن چڑھ آیا تھا۔ میں نے ماسی کی طرف دیکھا تو وہ چادر اوڑھے سو رہی تھی۔۔۔میں اٹھی اور اٹھ کر واش روم چلی گئی واپس آ کر میں نے ماسی کو دیکھنے کیلئے جیسے ہی چادر اٹھا کر ماسی کے ماتھے کو چھوا تو پتہ چلا کہ ماسی تو کب کی سانس پورے کر چکی تھی۔ اب تو اس کی لاش بھی اکڑ رہی تھی۔۔۔میں ایک دفعہ پھر یتیم ہو چکی تھی۔۔۔میں ماسی کی لاش سے لپٹتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔تھوڑی دیر تک سارے گاؤں کو پتہ چل گیا اور شام تک ماسی کو بھی دفنا دیا گیا۔ شام کو ماسی کے ہمسائے چاچی کنیز اور اس کا خاوند ملک رمضان مجھے اپنے گھر لے گئے۔۔۔ماسی کے گھر کو بھی تالا لگا دیا گیا۔ چند دن بعد جب باتوں ہی باتوں میں انہیں پتہ چلا کہ اب ماسی کا کوئی بھی نہیں اور ماسی کا مکان خالی ہے تو انہوں نے آنے بہانے مکان پر قبضہ کر لیا۔ مجھے یہ بتایا کہ ماسی نے ان سے کافی ادھار پیسے لیے تھے اس لیے اب مکان پر ان کا حق ہے ساتھ ہی انہوں نے مجھ سے دھوکے سے ایک کورے کاغذ پر انگوٹھا لگوا کر مجھے یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا کہ رضیہ تم بڑی منحوس ہو۔۔۔پہلے اپنے پورے گھر کو کھا گئی پھر ماسی کو بھی نگل گئی۔ اب ہم تمہیں اپنے گھر نہیں رکھ سکتے اس لیے تم یہاں سے چلتی بنو۔۔۔میں نے بنا کوئی بات کیے ماسی کے گھر سے اپنا تھوڑا سا سامان اٹھایا اور اپنے گھر آن بسی۔ اب میری زندگی کا ایک ہی مقصد تھا۔ انتقام۔ انتقام۔ انتقام۔ پر کیسے؟میں ٹھہری ایک عورت ذات اور وہ ٹھہرے وڈے چوہدری۔۔۔انہی سوچوں میں دو مہینے نکل گئے۔ میں لوگوں کے گھر کام کاج کر کے اپنا پیٹ کاٹ رہی تھی۔ایک دن اچانک مجھے پتہ چلا کہ چک اکتیس کے وڈے چوہدری کے پتر کی شادی ہے اور اسے گھر میں کام کاج کیلئے ملازمائیں چاہیے۔۔۔یہ سننے کی دیر تھی کہ میں نہا دھو کر صاف ہوئی اور بنا کسی کو بتائے تانگے میں بیٹھ کر وہاں پہنچ گئی۔ آگے کہ ساری کہانی تمہیں پتہ ہے کہ کیسے سیال زادوں نے ہم دونوں کی عزت اتاری۔۔۔اور اس کے بعد ہم کیسے کامی کے ذریعے وڈے چوہدری تک پہنچے۔ جب چوہدری نے زبردستی چھیمو پر ہاتھ ڈالا تو میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ او کمزور عورت ایک یہی ذریعہ ہے کہ تو مستقل یہاں رہ سکتی ہے۔ واپس تو میں جانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔کیونکہ میں اس لیے تھوڑی نہ آئی تھی کہ چوہدری اور اس کے کنجروں سے پھدی مروا کر واپس چلی جاؤں۔۔۔میرے سامنے ایک مقصد تھا جس کو پورا کرنے کیلئے میرا وہاں رہنا ضروری تھا۔ اور وہ مقصد تھا صفدر سیال کا قتل!!!۔ **************************** (29) میں نے چونک کر راجی کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کی آنکھوں میں مجھے بجلیاں لپکتی ہوئیں نظر آئیں۔ میں نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا نہیں راجی نہیں تم ایسا کچھ بھی نہیں کرو گی۔ ان چوہدریوں کے ظلم دیکھ دیکھ کر میرے اندر بھی ان کیلئے نفرت پیدا ہو چکی ہے۔ وہ مجھ سے بھی پنگا لے چکے ہیں۔۔۔بس موقع محل دیکھ کر ہم ان پر ہاتھ ڈالیں گے۔ راجی قطعیت سے بولی۔ نہیں کمال بابو یہ میری لڑائی ہے اور اسے میں خود ہی لڑوں گی۔۔۔چاہے مجھے اپنی جان کیوں نہ دینی پڑے۔۔۔بس تم مجھ پر ایک مہربانی کرو۔ کبھی کبھی مجھے یاد کر لیا کرنا میں آ جایا کروں گی اور تمہارا پیار مجھے سہارا دیتا رہے گا۔ میں نے اس کی نم ہوتی آنکھوں سے نکلتے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا پھر بھی راجی!میں یہی کہوں گا کہ تھوڑا تحمل سے کام لو۔۔۔ہم کچھ ایسا پلان کریں گے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اس کے علاوہ تم جب چاہو چھیمو کے ساتھ آ سکتی ہو۔۔۔میں تمہیں بھی اتنا ہی پیار دوں گا جتنا کہ چھیمو کو۔۔۔اچھا ایک بات تو بتاؤ اتنی دیر سے تم یہاں ہو کیا تمہیں صفدر سیال نظر نہیں آیا۔ تو میری بات سن کر راجی بولی: کمال بابو!!!۔ صفدر سیال وڈے چوہدری کے چھوٹے بھائی چوہدری ظفر سیال کا چھوٹا بیٹا ہے۔۔۔چوہدری ظفر سیال کے دو بیٹے اور ایک بیٹی شبینہ سیال ہے یہ دونوں وڈے چوہدری اپنی فیملیوں کے ساتھ اسی حویلی میں رہتے ہیں۔ مگر ان کا کراچی میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار ہے۔۔۔اور سنا ہے کہ ناجائز اسلحہ کی تجارت اور ساتھ ساتھ ڈاکوؤں سے بھی اس کے تعلقات ہیں۔ اس لیے وہ یہاں نہیں آتا اور اگر آیا بھی ہو تو وڈی حویلی تک نہیں پہنچا۔۔۔میں اسی آس پر وہاں ٹکی ہوئی ہوں کہ کبھی نہ کبھی تو اس سے سامنا ہو گا نا۔ اس کی شکل میرے دل د دماغ پر نقش ہو چکی ہے۔۔۔جس دن اس کا میرا آمنا سامنا ہوا!!!وہ دن اس کی زندگی کا آخری دن ہو گا۔ میں نے کہا راجی میں پھر کہہ رہا ہوں کوئی بے وقوفی مت کرنا اور اپنی زندگی کی حفاظت کرنا۔ ہم مل جل کر کوئی راستہ نکالیں گے کہ تمہیں اپنا انتقام لینے کا موقع مل جائے تو راجی منہ سے کچھ نہیں بولی بس مجھے گھورتی رہی۔ پھر تھوڑی دیر بعد وہ دونوں وہاں سے چلی گئیں اور میں خیالات کے تانے بانے بنتا نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ *********************** (30) اگلے دن میرے آنکھ کھلی اور معمول کے مطابق ناشتہ کر کے میں گھر سے نکلا تو پتہ چلا کہ آج گاؤں میں ناظم کے الیکشن ہو رہے ہیں۔۔۔ابو صبح سے ہی گھر سے غائب تھے۔ دراصل ابا جان کی گاؤں میں کافی عزت تھی اس لیے الیکشن کے انتظامات میں وہ بھی پیش پیش تھے۔ معلومات حاصل کرنے پر پتہ چلا کہ سیالوں کی طرف سے وڈا چوہدری مظفر سیال الیکشن میں امیدوار ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے پر ساتھ والے گاؤں سے چوہدری رحمت علی کڑیال امیدوار تھا۔ دراصل ہمارے سسٹم میں ناظم کے تحت آس پاس کے آٹھ گاؤں آتے تھے۔۔۔تو ناظم ہونے کا مطلب آٹھ گاؤں کا سربراہ۔۔۔اس لیے دونوں پارٹیوں میں کانٹے دار مقابلہ تھا۔ پولنگ سٹیشن بن چکے تھے تمام انتظامات مکمل تھے۔۔۔صبح آٹھ بجے گاؤں کے سکول میں ووٹنگ شروع ہو گئی۔ لوگ جوق در جوق آ کر ووٹ ڈال رہے تھے۔۔۔میں بھی گیا تو ابا جان مجھے وہیں پولنگ سٹیشن کے باہر چارپائی پر بیٹھے مل گئے۔ میں نے ابا جان کو پکڑا اور ایک سائیڈ پر کھڑی گاڑیوں کے جھرمٹ میں لیجا کر پوچھا ابا جان ہمارے ووٹ کس سائیڈ پر ہیں؟ تو ابا جان مجھے حیرت سے دیکھتے ہوئے بولے:یار یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔۔۔ پتر! کتے کے منہ میں کھیر نہیں سجتی۔۔۔کھیر کھانے کیلئے بندہ بننا ضروری ہے۔ ہمارے گھر کے اور ہمارے سارے ہاریوں کے اور ان کے خاندانوں کے ووٹ چوہدری رحمت علی کڑیال کو جا رہے ہیں۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وڈے چوہدری مظفر سیال کی نیت کیسی ہے اگر وہ الیکشن جیت گیا تو سب پر عرصہِ حیات تنگ کر دے گا۔ اس لیے ہم سب چوہدری کڑیال کو سپورٹ کر رہے ہیں۔۔۔اور دیکھ لینا **** کی رحمت سے کڑیال ہی جیتے گا۔ اب گھر جاؤ،،اپنی ماں،بہن کو بھی لیکر آؤ اور ووٹ ڈالو۔۔۔اتنا کہہ کر ابا جان واپس جا کر گاؤں کے معززین کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گئے۔ میں نے بھی گھر کی طرف جانے کیلئے قدم بڑھائے۔۔۔سامنے کھڑی ایک پجیرو کے پاس سے گزرتے وقت بے ارادی طور پر میری نظر پجیرو کے شیشے میں گئی!!!تو میں نے دیکھا کہ چند منٹ پہلے جہاں میں اور ابا جان کھڑے باتیں کر رہے تھے عین اسی جگہ پر وڈے چوہدری کا ایک کارندہ کھڑا پیچھے سے مجھے گھور رہا تھا۔ اس کا نام بعد میں پتہ چلا کہ یہی چوہدری کا پالتو کتا شاہنواز ہے۔ اس وقت تو میں نے دھیان نہیں دیا اور گھر چلا گیا لیکن یہ بات لاشعور میں رہ گئی کہ میں نے وڈے چاہدری کا پالتو کتا وہاں کھڑا دیکھا تھا۔ میں گھر سے امی اور بینا کو ساتھ لے گیا اور ووٹ ڈالنے کے بعد ان کو واپس گھر پہنچا دیا۔۔۔سارا دن آرام سے گزر گیا۔شام کو نتیجہ آ گیا۔۔۔چوہدری رحمت علی کڑیال واضح برتری حاصل کرتے ہوئے جیت گیا۔ وڈے چوہدری مظفر سیال سے یہ ہار برداشت نہیں ہوئی اور اسی ہار کے غصے میں انہوں نے ایک ایسا کام کر ڈالا جس کی وجہ سے میری دنیا بھی تہہ و بالا ہو گئی۔ اگلے دن دوپہر تین بجے میں گھر سے باہر نکل رہا تھا کہ اچانک مجھے اپنی داہنی سمت سے اپنا نام سنائی دیا۔۔۔میں نے مڑ کر داہنی طرف دیکھا تو زمینوں پر کام کرنے والے دو لڑکے زور زور سے میرا نام پکارتے ہوئے بھاگتے چلے آ رہے تھے۔ میں وہیں ٹھٹھک گیا۔ قریب آتے ہی پھولی سانسوں کے ساتھ ا ہوں نے کچھ کہنے کی کوشش کی ہر ان کی سانس اس بری طرح سے پھولی ہوئی تھی کہ نہ وہ صحیح طرح سے کچھ بول پا رہے تھے اور نہ ہی میں ان کی بولی سمجھ پا رہا تھا۔ چند لمحوں بعد ان میں سے ایک سانس روک کر بولا۔ باؤ کمال۔ کھیتوں پر۔ چاچا جمال۔ سیال لڑائی۔ بس یہ تین چار الفاظ ہی مجھے ساری بات سمجھانے کیلئے کافی تھے۔میں لپک کر اندر گیا اور اپنا ریوالور جو کے چند دن پہلے ہی خریدا تھا ڈب میں لگا کر وہاں سے باہر نکلا اور ان لڑکوں کے ساتھ تیزی سے کھیتوں کی طرف بھاگا۔۔۔بھاگتے بھاگتے ان سے بھی آگے نکل گیا۔۔۔میں بھگٹٹ بھاگتا ہوا کھیتوں کی طرف جا رہا تھا کہ راستے میں ہی سامنے سے مجھے اپنے ہاری چارپائی اٹھائے آتے دکھائی دیے۔۔۔مجھے بھاگتے دیکھ کر انہوں نے چارپائی وہیں زمین پر رکھ دی پھر دو تین لوگوں نے آگے ہو کر مجھے روکا۔ میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ سیالوں نے ابا جان کو بہت بری طرح سے پیٹا ہے۔۔۔اس لیے ان کو فوری طور پر ٹانگے میں ڈال کر ڈسپنسری بھیج دیا ہے۔جبکہ یہ ایک اور ملازم کو بڑی بری طرح سے مارا ہے اس کو بھی اب ڈسپنسری لے جا رہے ہیں۔ میں وہیں سے مڑا اور بھاگتے ہوئے ڈسپنسری جا پہنچا۔وہاں پہنچ کر دیکھا تو برآمدے میں ہی چارپائی پر ابا جان بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ان کی حالت دیکھ کر میں غیض و غضب میں مبتلا ہو گیا۔ ابا جان کا سر پھٹا ہوا تھا جہاں سے خون بہہ کر پوری قمیض کو رنگین کر چکا تھا۔جبکہ ابا کی داہنی آنکھ بھی بری طرح مضروب ہوئی تھی۔۔۔آنکھ پھول کر سوجھی ہوئی تھی۔۔۔میں نے فوراً ڈاکٹر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ چوٹیں تو خاصی لگی ہیں لیکن فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔آنکھ بھی بچ گئی ہے اور سر پر لگنے والی چوٹوں سے دماغ بھی متاثر نہیں ہوا۔۔۔بس ان کو اب سخت آرام کی ضرورت ہے۔ ابا جان کی مرہم پٹی ہونے کے دوران میں نے اپنے ایک ملازم کو گھر کی طرف دوڑایا کہ احاطے سے گاڑی لے آئے وہ ملازم بھی گاڑی چلانا جانتا تھا۔۔۔ڈاکٹر سے دوسرے لڑکے شاکر کے بارے پوچھا تو ڈاکٹر جس کا نام امتیاز اور وہ میرا دوست تھا نے بتایا کہ اس کی حالت بہت خراب ہے۔ اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ چکی ہے۔۔۔کسی بھاری چیز سے اس کی ٹانگ پر ضرب لگائی گئی ہے۔۔۔منہ اور سر پر بھی خاصی چوٹیں آئی ہیں۔۔۔ناک سے بھی خون بہہ رہا ہے۔ ابھی تک اس کو ہوش نہیں آیا۔۔۔میں ڈاکٹر امتیاز کو اس لڑکے کا خیال رکھنے اور خود تھوڑی دیر تک واپس پہنچنے کا کہہ کر وہاں سے نکل کر اباجان کے پاس پہنچ گیا۔۔۔مجھے دیکھتے ہی اباجان نے مجھے اشارے سے اپنے پاس بلایا اور کراہتے ہوئے بولے: کمال پتر!!!میری لاعلمی میں کوئی حرکت مت کرنا۔ تمہیں اصل بات کی آگاہی نہیں ہے۔۔۔میں پریشانی سے بولا ابو یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے۔۔۔آپ چپ چاپ اپنی مرہم پٹی کروائیں۔۔۔پھر ہم گھر چلتے ہیں۔۔۔اس موضوع پر پھر بات کریں گے۔۔۔اباجان کچھ نہیں بولے بس مجھے دیکھتے ہوئے کراہتے رہے۔۔۔مرہم پٹی ہونے کے بعد میں نے اپنی گاڑی جو کہ اتنی دیر تک گھر سے منگوا چکا تھا کا دروازہ کھولا اور ابا جان کو بٹھایا تو ابا جان بولے:پتر!!! وہ شاکر بھی زخمی ہوا تھا۔ تو میں نے ان کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ بلکل ٹھیک ہے آپ فکر مت کریں میں ابھی ڈاکٹر سے ہی مل کر آیا ہوں۔۔۔یہ کہہ کر میں نے گاڑی موڑی اور بڑے آرام سے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔گھر پہنچ کر میں نے ابا جان کو گاڑی سے نکالا اور سہارا دیتے ہوئے گھر کے اندر لے گیا۔ ************************ (31) ابا جان کو اس حالت میں دیکھتے ہی امی اور بینا دونوں پریشان ہو گئیں۔۔۔میں نے ان کو مختصراً صورتحال بتا ہی رہا تھا کہ گھر کے باہر موٹر سائیکل رکنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں الٹے قدموں باہر نکلا تو کمپاؤنڈر نظر آیا۔۔مجھے دیکھتے ہی بولا۔۔۔بھایا شاکر کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے۔اس کو شہر ہسپتال لیجانا پڑے گا۔۔۔آپ جلدی سے گاڑی لے آئیں۔۔۔میں پریشانی کی حالت میں گھر کے اندر داخل ہوا اور گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکلنے لگا تو دروازے تک پہنچتے ہی امی کی آواز سنائی دی۔۔۔رکو کمال!!!میں وہیں رک گیا تو امی جان بولیں:کمال!!!کہاں جا رہے ہو تو میں نے کہا امی وہ شاکر کی حالت بہت خراب ہے میں اس کو لیکر شہر ہسپتال جا رہا ہوں۔۔۔ آپ ابوجان کا خیال رکھیں اور اگر ابو میرے بارے میں پوچھیں تو بتا دیجیے گا کہ میں کہاں گیا ہوں۔۔۔تو امی میرا ماتھا چومتے ہوئے بولیں:میرے لال جلدی واپس آنا میرا دل ہولتا رہے گا۔۔۔میں جی اچھا امی کہہ کر ان کا ماتھا چومتے ہوئے وہاں سے باہر نکلا اور گاڑی بھگاتے ہوئے ڈسپنسری پہنچا تو باہر ہی کھڑے ڈاکٹر امتیاز نے بتایا کہ شاکر کی حالت بہت خراب ہے۔۔۔اس کا سانس رک رک کر آ رہا ہے۔ اب گاؤں میں تو ایسی سہولتیں موجود نہیں کہ اس کو آکسیجن وغیرہ لگا کر باقاعدہ علاج کیا جا سکے تو اسی لیے آپ کو بلایا کہ آپ گاڑی لے آئیں تو اس کو لاہور لے چلتے ہیں۔۔۔ہم یہی باتیں کرتے ہوئے ڈسپنسری کے اندر پہنچے تو اسی وقت ایک کمرے سے رونے پیٹنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں نے سر گھما کر دیکھا تو شاکر کا والد روتا ہوا آ رہا تھا۔۔۔میں نے اس کا بازو تھامتے ہوئے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ چاچا انور آپ پریشان مت ہوں۔۔۔ہم شاکر کو لیکر لاہور ہسپتال جا رہے ہیں۔۔۔تو چاچا انور دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے بولا نہیں پتر!!!شاکر کو اس کی ضرورت نہیں رہی اب۔۔۔وہ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا۔ یہ سنتے ہی مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ میں تیزی سے اندر کمرے میں داخل ہوا تو شاکر کی ماں اس سے لپٹ کر رو رہی تھی۔۔۔مجھے دیکھتے ہی وہ دھاڑیں مارتے ہوئے اپنا سر پٹخنے لگی۔۔۔میں نے تیزی سے ان کو تھامتے ہوئے صبر کی تلقین کی اور خود نظریں گھما کر شاکر کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔اور ناک سے نکلا ہوا خون بھی جم چکا تھا۔ سر پر لگنے والی چوٹوں نے شاکر کو جانبر نہیں ہونے دیا۔۔۔میں وہیں ان کے ساتھ رہا اور شاکر کی لاش کو لیکر اس کے گھر تک پہنچا کر خود وہاں سے نکلا اور اپنے گھر پہنچ گیا۔۔۔میری زمینوں اور احاطے پر کل ملا کر چودہ لوگ کام کرتے تھے۔۔۔چونکہ ہم اپنے سب ملازمین کے دکھ سکھ میں ان کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے تو اس وقت ہمارے دکھ کی گھڑی میں سارے ملازمین گھر پہنچے ہوئے تھے۔۔۔اس وقت شام کے سات بج چکے تھے۔ میں سب لوگوں سے ملا۔۔۔وہ لوگ ابا جان کا حال چال پوچھنے آئے تھے۔۔۔تھوڑی دیر بعد وہ چلے گئے۔۔۔ان کے جانے کے بعد ہمارا ایک ہاری نوشاد جو کہ میری ہی عمر کا تھا لیکن مجھ سے اور ابا جان سے بہت پیار کرتا تھا وہ بھی آ گیا۔۔۔میں اسے اندر اپنے کمرے میں لے آیا اور بٹھا کر پوچھا کہ وہاں کیا بات ہوئی کیسے ہوئی۔۔۔نوشاد نے بتانا شروع کیا۔بھایا!!!ہم لوگ کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔۔۔چونکہ آج پانی کی باری ہماری تھی اس لیے دو بندوں نے پانی کاٹ کر اپنے کھیت میں چھوڑنے کی کوشش کی تو وڈے چوہدری کے دو پاؤں والے کتے بھونکنے لگے کہ آج پانی ہماری سائیڈ پر چلے گا۔ شاکر انہیں بتانے کیلئے آگے گیا کہ آج شیڈول کے مطابق ہماری باری ہے تو انہوں نے شاکر کو بری طرح سے مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔۔۔ہم لوگوں نے بیچ بچاؤ کروانے کی کوشش کی تبھی پچھلی طرف سے ان کے چھ رائفل بردار آدمی موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ہمیں زدوکوب کرنا شروع کر دیا۔۔۔ چچا جمال نے آگے ہو کر انہیں روکنے کی کوشش کی تو وڈے چوہدری کے بیٹے راجو سیال نے چچا کے پیٹ میں ایک ٹھوکر ماری اور انہیں گرا کر لاٹھی سے مارنے لگا۔۔۔ اس کام میں اس کا ساتھ چوہدری کا خاص کتا شاہنواز بھی دے رہا تھا۔۔۔میں نے خود اپنے کانوں سے سنا کہ وہ دونوں چچا کو پیٹتے ہوئے گالیاں دیتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ تیرے اتنے پر نکل آئے کہ تو ہمارے مخالفین کا ساتھ دے گا۔اتنا کہہ کر نوشاد چپ کر گیا۔۔۔جبکہ میری رگوں میں میرا خون کھولنے لگا تھا۔ میری مٹھیاں آپوں آپ غصے سے بھینچ گئیں۔مجھے کھڑا ہوتے دیکھ کر نوشاد بولا:بھایا میں نے بڑی کوشش کی کہ چچا جان کو بچا لوں۔۔۔لیکن وہ مجھے اٹھا اٹھا کر دور پٹخ دیتے تھے۔۔۔کافی مار پیٹ کرنے کے بعد جب انہوں نے دیکھا کہ چاچا اور شاکر دونوں کی حالت خراب ہو چکی ہے تو وہ گالیاں دیتے ہوئے چلے گئے۔۔۔میں بہت شرمندہ ہوں بھایا۔میں نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا نوشاد تمہیں معلوم ہے کہ میں اس وقت کہاں سے آ رہا ہوں۔۔۔ پھر میں نے اپنے دونوں ہاتھ آگے کیے اور بولا کہ میں اپنے ان ہاتھوں سے شاکر کی لاش کو اٹھا کر اس کے گھر چھوڑ کر آیا ہوں۔۔۔ابا جان کا حال بھی تم دیکھ چکے ہو۔۔۔اور کتنا برداشت کریں گے ان کنجروں کو۔۔۔آج میں ان کنجروں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ پھر میں نے نوشاد کو مختصراً یہ بھی بتایا کہ کس طرح وہ لوگ لوگوں کی لڑکیوں کو خراب کر رہے ہیں۔۔۔نوشاد جواب دیتے ہوئے بولا ہمارے لوگ بھی سب کچھ جانتے ہیں لیکن کہاں کوئی کسی پرائی آگ میں کودتا ہے۔۔۔ویسے بھی آج تک اپنے گاؤں میں انہوں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی پاس پڑوس کے گاؤں میں ہی ان کی سرگرمیاں سننے میں آئی ہیں۔۔وہ بھی صرف سنا ہے آنکھوں سے کبھی نہیں دیکھا اس لیے آج تک سب چپ رہے۔۔۔ میں نے بھی چھیمو کا ذکر کرنا مناسب نہ سمجھا۔ لیکن بھایا اب شاکر مر گیا۔۔۔اس کا کیا قصور تھا وہ تو صرف بات کرنے گیا تھا۔۔۔اور میرے باپ جیسے چچا کا یہ حال کیا ہے۔۔۔پھر وہ اپنی گردن نفی میں ہلتے ہوئے بولا:نہیں نہیں کم از کم میں تو یہ سب برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔بھایا اب تم بدلہ لو نہ لو کم از کم میں تو پیچھے ہٹنے والا نہیں۔۔۔ان سیالوں کو کتے کی موت ماروں گا۔۔۔نوشاد کو اتنے جوش میں دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں اسے گلے لگاتے ہوئے بولا:نوشاد میرے بھائی تم کچھ نہیں کرو گے جو بھی کرنا ہو گا میں کروں گا۔ بس جہاں مجھے تمہاری ضرورت پڑی میں پکار لوں گا فلحال تم میرے ساتھ چلو اور کوئی ہتھیار ہے تمہارے پاس؟؟۔۔۔نوشاد نے الٹا مجھ سے پوچھ لیا بھایا اسلحہ کا کیا کرو گے تمہارے پاس کیا ہے۔ میں نے اپنی ڈب سے ریوالور نکال کر اسے دکھایا تو اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی اور وہ بولا بس ٹھیک ہے بھایا میرے پاس بھی پستول ہے میں بھی وہ لے آتا ہوں۔۔۔تو میں نے کہا نوشاد تم کھیتوں میں اپنے ڈیرے پر پہنچو میں بس تھوڑی دیر بعد وہاں ملتا ہوں۔۔۔خیال سے جانا۔ کسی کو کانوں کان بھی پتہ نہیں لگنا چاہیے کہ کیا ہو رہا ہے اور کس قسم کی کھیر پک رہی ہے۔۔۔نوشاد نے میری طرف دیکھتے ہوئے سر ہلایا اور اٹھ کر باہر کی طرف چل پڑا۔ نجانے مجھے کیوں محسوس ہوا کہ نوشاد کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔۔۔نوشاد کے جانے کے بعد میں اپنے کمرے سے نکلا اور امی کے کمرے میں چلا گیا۔۔۔ابو کا بستر بھی اندر کمرے میں ہی لگایا گیا تھا تا کہ ان کا خیال رکھا جا سکے۔۔۔ابو دوائی کے زیرِ اثر سو رہے تھے۔۔۔بینا اور امی بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر امی سوالیہ لہجے میں بولیں:ہاں پتر!!!گاؤں والے چلے گئے؟تو میں نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ جی امی وہ سب لوگ چلے گئے۔۔۔اب آپ لوگ بھی سو جائیں۔۔۔میں بھی سوتا ہوں۔اتنا کہہ کر میں نے جھکتے ہوئے ابو کا ماتھا چوما اور وہاں سے باہر نکل آیا۔۔۔باہر کے دروازے کی کنڈی اندر سے لگا کر میں اپنے کمرے میں چلا آیا۔ ************************* (32) مجھے سچ میں بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ آج میں کیا کر جاؤں گا۔۔۔بس اتنا یاد ہے کہ بدلہ لینا ہے اور سیالوں کو سبق سکھانا ہے۔۔۔چند منٹ سوچنے کے بعد میں وہاں سے نکلا اور اپنے پلان کے تحت میں چھیمو کے گھر کی دیوار پھلانگ کر ان کے صحن میں اتر گیا۔۔۔چھیمو کے گھر والے اندر کمرے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔میں دبے پاؤں چلتا ہوا سیدھا باہر کے دروازے کے پاس پہنچا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا میں چپکے سے گلی میں نکل آیا۔۔۔باہر نکل کر میں نے ادھر ادھر دیکھا مباداً کوئی مجھے ایسے چوروں کی طرح نکلتے دیکھ لے تو کیا سوچے گا۔۔۔لیکن اطراف میں سناٹا تھا۔۔۔میں تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا اپنے ڈیرے پر پہنچ گیا۔۔۔ڈیرہ ہم اس جگہ کو کہتے ہیں جو ہم نے اپنے کھیتوں میں کام کرنے کے دوران آرام کرنے کے لیے ایک کمرہ سا بنایا ہوتا ہے۔ میں ڈیرے پر پہنچا تو نوشاد مجھے کمرے کے باہر چارپائی بچھائے بیٹھا سگریٹ پیتے ہوئے مل گیا۔۔۔مجھے دیکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میں نے اس کے شانے پر وزن ڈالتے ہوئے اسے اپنے ساتھ ہی چارپائی پر بٹھایا اور اسی سے لیکر ایک سگریٹ سلگا کر سوچنے لگا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔۔۔میں وہاں پہنچ تو جاؤں گا لیکن اندر کیسے گھسوں گا۔۔۔چند منٹ میں وہاں بیٹھا سوچتا رہا پھر میں نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا جو ہو گا دیکھا جائے گا اور ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میرے ساتھ ہی نوشاد بھی اٹھ گیا۔ ہم دونوں کھیتوں کے بیچوں بیچ ہوتے ہوئے وڈے چوہدری کی حویلی کی طرف چل دہے۔۔۔چلتے وقت نوشاد نے چارپائی سے دو چادریں اٹھائیں جو کہ وہ ساتھ لایا تھا۔۔۔ایک چادر مجھے دینے کے بعد دوسری چادر اس نے اپنے شانوں پر ڈال لی۔۔۔میں نے پوچھا:نوشاد یہ کس لیے تو وہ بولا بھایا یہ کام آئیں گی۔۔۔میں نے اس کا مطلب سمجھتے ہوئے اپنے قدم بڑھا دیے۔ ایک عجیب طرح کی وارفتگی میری راہنما تھی۔۔۔ہمارا رخ وڈے چوہدری کی حویلی کی طرف ہی تھا۔۔۔ذہن میں واضح تصور نہیں تھا کہ مجھے وہاں جا کر کیا کرنا ہے۔۔۔بس ایک ہی سوچ میرے دماغ میں چنگاریاں بھرتی جا رہی تھی کہ انہوں نے میرے باپ کی یہ حالت کی ہے۔۔۔اب بغیر مزاحمت ان فرعونوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنے۔ ان کنجروں کو ان کی اوقات یاد دلانی ہے کہ شریف آدمی سے بڑا بدمعاش کوئی نہیں ہوتا۔۔۔میں یہ بھی جانتا تھا کہ ابھی تک میں بیگناہ تھا ایک دفعہ ہتھیار اٹھا لینے کے بعد میں جرم کی راہ پر چل پڑوں گا۔۔۔لیکن اس سے پہلے کچھ تو تڑپ پھڑک لینا چاہیے۔ اگر میرے باپ کو کچھ ہو گیا تو۔۔۔یہ تصور ہی میرے لیے جان لیوا تھا۔ میں اپنے خیالوں میں گم تھا جب دور سے حویلی کی مدھم روشنیاں نظر آنے لگیں۔۔۔میں اور محتاط ہو گیا۔۔۔کماد اور مکئی کے کھیتوں سے ہوتا ہوا میں وسیع و عریض عمارت کے پچھواڑے کی جانب نکل گیا۔۔۔سامنے سے حویلی کے بے رحم اور سنگلاخ چار دیوادی نظر آنے لگی۔۔۔اس چار دیواری کے کئی حصے ٹیوب لائٹس کی روشنیوں میں چمک رہے تھے۔۔۔میں نے نوشاد کے کندھے پر ہاتھ مارا اور اسے جھک کر چلنے کو کہا۔۔۔پھر ہم محتاط قدموں سے قریب تر قریب ہوتے چلے گئے۔ کماد کے کھیت بیرونی چار دیواری سے ملے ہوئے تھے۔۔۔یہاں رک کر ہم دونوں نے چادریں اس طرح چہروں پر لپیٹ لیں کہ صرف ہماری آنکھیں کھلی تھیں۔۔۔میں نے نوشاد کو اشارے سے ریوالور دکھاتے ہوئے پوچھا کہ اس کا پستول کدھر ہے تو اس نے بھی اپنی شیروانی کی جیب سے پستول نکال کر دکھایا۔۔۔ہم دونوں نے جھکے جھکے انداز میں حویلی کی دیوار کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ آخر کار ایک جگہ جہاں سے حویلی کی دیوار مڑ کر دوسری سائیڈ پر جا رہی تھی وہاں سے مجھے چند اینٹیں اس انداز میں اکھڑی دکھائی دیں کہ اگر ہم احتیاط سے چڑھتے تو اوپر پہنچ سکتے تھے۔۔۔جیسے ہی میں نے دیوار پر ہاتھ رکھا تو نوشاد نے میرا کندھا تھپتھپایا اور دھیمی آواز میں بولا:بھایا یہاں سے نہیں آگے راستہ ہے۔۔۔میں اس کے ساتھ چلتا ہوا آگے گیا تو دیوار کے ساتھ ساتھ مڑنے کے بعد چند قدم آگے مجھے ایک قد آدم درخت نظر آیا۔ میں نوشاد کی بات سمجھ گیا تھا۔درخت اس انداز میں تھا کہ اس کی بڑی بڑی ٹہنیاں حویلی کے اندر جھکی ہوئی تھیں۔۔۔یہاں دیوار پر روشنی بھی نہیں تھی۔میں اور نوشاد باری باری اوپر چڑھ گئے۔۔۔اوپر چڑھنے کے بعد میں نے اندر کا جائزہ لیا تو مجھے ادراک ہوا حویلی کے اندر کا فرش دیوار سے کچھ آٹھ نو فٹ نیچے تھا۔۔۔میں نے نوشاد کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ نوشاد تم یہیں رک کر میرا انتظار کرو گے۔اس نے ناں میں سر ہلاتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کی تو میں نے کہا سمجھا کرو یار۔۔۔اگر میں پھنس گیا تو تم میرے لیے کچھ نہ کچھ تو کر ہی سکتے ہو ناں۔۔۔اگر دونوں ایک ساتھ پھنس گئے تو بہت برا ہو گا۔ نوشاد نے نا چاہتے ہوئے بھی حامی بھر لی۔۔۔میں نے پھر کہا نوشاد میں چاہے ایک گھنٹے تک واپس نہ آؤں تم نے میرے پیچھے نہیں آنا۔۔۔ہاں اگر میں کہیں پھنس گیا تو فائر کر دوں گا یا حویلی میں کسی بھی قسم کے فائر کی آواز سنو تو اندر آ جانا۔ نوشاد کے سر ہلانے پر میں شاخ سے لپٹ کر آگے ہوا اور حویلی کی دیوار پر لیٹ کر اندر کی طرف لٹکتے ہوئے ہاتھ چھوڑ دیے۔۔۔کچے فرش پر گرنے سے ہلکی سی دھپ کی آواز سنائی دی۔میں تیزی سے اٹھ کر ساتھ موجود گملوں میں لگے ہوئے پودوں کے پیچھے ہو گیا۔۔۔وہیں بیٹھے بیٹھے میں نے چند لمحے آس پاس کی سن گن لی۔۔۔کسی قسم کی ہلچل نہ محسوس کرنے کے بعد میں اٹھا اور دبے پاؤں چلتے ہوئے اندرونی کمروں کی جانب چل پڑا۔ ************************** (33) چند وسیع و عریض کمروں سے گزر کر میں ایک نیم روشن کوریڈور میں پہنچا۔۔۔یہاں ایک زینہ نظر آ رہا تھا جو کہ اوپر کی بجائے نیچے جا رہا تھا۔۔۔مطلب میں پہلے ہی گراؤنڈ فلور پر تھا تو یہ زینہ مجھے سپردِ خاک کر دیتا مطلب نیچے تہہ خانے میں لے جاتا۔ اس سے پہلے کہ میں سوچتا مجھے کدھر کو جانا ہے کوریڈور کے دوسرے سرے سے مجھے کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی۔میں بلا سوچے سمجھے تیزی سے دبے پاؤں زینے سے سیڑھیاں اتر کر نیچے چلا آیا۔۔۔سیڑھیوں کے اختتام پر ایک دروازہ دکھائی دیا جس کے دونوں پٹ کھلے ہوئے تھے۔۔۔اندر داخل ہونے پر پتہ چلا کہ یہ واقعی ایک تہہ خانہ تھا لیکن میرے تصورات سے بلکل مختلف۔۔۔فلمی تہہ خانوں کی طرح نہ اس میں پیٹیاں تھیں نہ گاڑیوں کے استعمال شدہ ٹائر اور ڈرم۔۔۔حتیٰ کے فرش پر جھاڑ جھنکاڑ والا کوئی مدقوق قیدی بھی نظر نہیں آیا۔ بلکہ یوں کہیے کہ فرش ہی نظر نہیں آیا۔۔۔نیچی چھت کے ایک وسیع کمرے میں دبیز قالین بچھا ہوا تھا۔۔۔اس کمرے میں تین اطراف صوفے لگے ہوئے تھے۔۔۔اور پیچھے ایک قد آدم الماری تھی۔ رنگین ٹی وی،وی سی آر۔ (جو ان دنوں عجوبہ سمجھا جاتا تھا) فریج،تمام آسائشیں اس کمرے میں موجود تھیں۔۔۔میں ابھی کھڑا ہونقوں کی طرح کمرے کی سجاوٹ ہی دیکھ رہا تھا کہ تبھی مجھے کسی کے سیڑھیاں اترنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں نے ادھر ادھر دیکھا تو صرف سیڑھیوں کا دروازہ ہی ایک ایسی جگہ نظر آئی جہاں میں چھپ سکتا تھا۔۔۔میں نے ایک زقند بھری اور بھاگتے ہوئے دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔چند لمحوں بعد ہی کمرے میں دو آدمی داخل ہوئے۔ وہ باتیں کرتے ہوئے سیدھا سامنے صوفے کی طرف گئے۔۔۔اچانک میں نے سوچا کے اگر وہ سامنے صوفے پر بیٹھ گئے تو میرا دیکھ لیا جانا اظہر من الشمس تھا۔۔۔چنانچہ اس سے پہلے کے وہ صوفے پر بیٹھتے میں سرعت سے دروازے کی اوٹ سے نکلا اور دروازے کے دوسرے پٹ کی اوٹ میں چھپ گیا۔۔۔وہ دونوں واقعی سامنے صوفے پر بیٹھ گئے۔ بیٹھنے کے بعد جیسے ہی ان کا رخ میری طرف ہوا میری ساری حسیات کھچ کر آنکھوں میں چلی آئیں۔۔۔میری قسمت نے یاوری کی تھی۔۔۔سامنے صوفے پر ریاض عرف راجو سیال اور اس کا کوئی آدمی بیٹھے تھے۔۔۔ریاض کو دیکھ کر میرا دماغ غصے سے کھولنے لگا کہ یہی وہ بھین کا چھنکنا ہے جس کی خاطر میں یہاں آیا ہوں۔ ************************ (34) بیٹھتے ہی راجو نے اپنی ڈب سے ایک جرمن لیوگر نکالا اور سامنے میز پر رکھ دیا۔۔۔چونکہ مجھے اسلحے کا شوق تھا اور اکثر میں اسلحے کے بارے معلومات حاصل کرتا رہتا تھا اس لیے دیکھتے ہی لیوگر کو پہچان لیا۔گن کے آگے ایک لمبی سی نال لگی ہوئی تھی جس کے بارے میں جانتا تھا کہ اس کو سائلنسر کہتے ہیں۔ میں جو ان پر جھپٹنے کو پر تول رہا تھا راجو کے ہاتھ کی رسائی میں گن دیکھ کر وہیں رک گیا۔۔۔وہ مجھے سے تقریباً دس میٹر کی دوری پر صوفے پہ بیٹھے تھے۔۔۔اگر میں وہاں سے بھاگ کر بھی ان کی طرف جانے کی کوشش کرتا تو ناممکن سی بات تھی۔۔۔کیونکہ جیسے ہی میں دروازے کی اوٹ سے باہر نکلتا میرا دیکھ لیا جانا یقینی تھا۔۔۔اور لیوگر راجو کی رسائی میں تھا۔ ریوالور میرے پاس بھی تھا لیکن وہ میں نے انتہائی ایمرجنسی کیلئے رکھا ہوا تھا میں یہاں گولی نہیں چلانا چاہتا تھا کیونکہ جیسے ہی گولی چلتی ساری حویلی کو پتہ چل جاتا۔۔۔اس لیے میں وہیں دبکا ان کی باتیں سننے لگا۔۔۔راجو نے جیب سے ایک چھوٹی سی چرمی تھیلی نکالی اور اسے کھول کر احتیاط سے میز پر الٹ دیا۔۔۔میری آنکھیں ایک دم چندیا گئیں۔ تھیلی میں سے قمیض کے بٹن برابر شیشے کی طرح چمکتے ہوئے ہیرے باہر نکلے۔۔۔میں فلموں میں پہلے ہی ہیرے دیکھ چکا تھا۔۔۔لیکن آج پہلی مرتبہ اپنی آنکھوں کے سامنے ہیرے دیکھ رہا تھا۔۔۔راجو نے ہیرے باہر نکالے اور اٹھا اٹھا کر غور سے انہیں دیکھنے لگا۔۔۔اچھی طرح ہیرے دیکھنے اور پرکھنے کے بعد راجو نے ہیرے واپس تھیلی میں ڈالے اور تھیلی اٹھا کر اس آدمی کو دیتے ہوئے کہا کہ اسے پیچھے الماری میں رکھ دو۔۔۔ساتھ ہی راجو نے اسے چابیوں کا ایک گچھا پکڑایا تو وہ آدمی سعادت مندی سے اٹھا اور ہیروں کی تھیلی لیجا کر الماری میں رکھ کر دروازہ بند کر کے واپس مڑا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ راجو نے اپنا جرمن لیوگر اس کی طرف سیدھا کیا ہوا تھا۔۔۔وہ آدمی ہکلاتے ہوئے بولا:بب۔بب۔باس یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔تو راجو قہقہ لگا کر بولا:میں اپنے پیچھے کبھی بھی کوئی ثبوت نہیں چھوڑتا۔۔۔اگر تمہیں زندہ چھوڑ دیا تو یہ راز میرے علاوہ تم بھی جانتے ہو جو کہ میں نہیں چاہتا۔۔۔تو وہ آدمی ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا:بب۔باس میں نے آپ کا نمک کھایا ہے تو نمک حرامی کیسے کر سکتا ہوں تو راجو دانت پیستے ہوئے بولا:جب تو اپنے مالک کا نہ ہوا تو میرا کہاں سے ہو گا۔ یہ کہتے ہی راجو نے گولی چلا دی۔۔۔سائلنسر ہونے کی وجہ سے ہلکی سی ٹھک کی آواز کے ساتھ گولی نکلی جو کے سیدھا اس کی داہنی آنکھ سے تھوڑا اوپر کھوپڑی میں لگی۔اور اس کی کھوپڑی پرزوں میں تقسیم ہو گئی۔۔۔وہ آدمی گرنے سے پہلے ہی مر چکا تھا۔۔۔میرے لیے یہی موقع تھا۔۔۔راجو نے اس کو مارنے کے بعد لیوگر صوفے پر پھینکا اور آگے ہو کر الماری کو تالا لگانے لگا۔ میرے لیے یہ لمحہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔۔۔میں دروازے کی اوٹ سے باہر نکلا اور دبیز قالین پر دبے قدموں تیزی سے راجو کی طرف بڑھا۔۔۔جیسے ہی میں اس کے قریب پہنچا اس کی چھٹی حِس نے اسے گڑبڑ کا احساس دلایا اور اس نے مڑنا چاہا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ پوری طرح مڑ پاتا میں نے دو قدم بھاگ کر چھلانگ لگائی اور اسے لیتا ہوا نرم نرم روئی جیسے قالین پر گِرا۔۔۔راجو کے جسم پر ہاتھ پڑتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا وہ بھی ایک مضبوط جسم کا مالک اور کڑیل جوان ہے۔ نیچے گرتے ہی اس کے منہ سے ایک انتہائی فحش گالی نکلی۔۔۔کیڑا اوئے کسی کتی ماں دا جنیا۔۔۔ساتھ ہی اس نے بے دریغ ایک ٹکر میری پیشانی پر دے ماری۔۔۔مجھے اس سے اس حرکت کی قطعاً توقع نہیں تھی۔۔۔ٹکر اور گالی کھا کر میرا دماغ بھی گھوم گیا۔۔۔میں نے ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی پر جما دیا۔۔۔وہ زور لگا کر مجھے پہلو کے بل نیچے گرانے کی کوشش کرنے لگا۔اسی کوشش میں میرے چہرے سے میری چادر بھی اتر گئی۔ اسی وقت مجھے اس کے بائیں ہاتھ کی غیر موجودگی کا احساس ہوا۔۔۔بایاں ہاتھ مجھ سے پنجا آزما نہیں تھا بلکہ کسی اور کام میں مصروف تھا۔۔۔میری یہ خبرداری میری زندگی کی ضمانت بن گئی۔۔۔ورنہ جو گراری دار چاقو راجو کی قمیض کے نیچے سے اس کے ہاتھ میں برآمد ہوا وہ ایک لمحے بعد میری آنتیں قالین پر ڈھیر کر دیتا۔۔۔چاقو کے باہر آتے آتے میں نے راجو کی کلائی جکڑ لی اور دوسرے ہاتھ سے ایک طوفانی مکا اس کی ناک پر دے مارا۔۔۔اسی وقت وہ سمجھ گیا کہ اس کا واسطہ بھی کسی سخت جان سے پڑا ہے۔۔۔اس نے اچانک چاقو ہاتھ سے چھوڑ دیا اور دونوں ہاتھ اپنی ناک پر رکھ کر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ میں نے چاقو اٹھایا اور پھل مطلب دھار والی سائیڈ سے پکڑتے ہوئے پوری جان سے چاقو کا دستہ اس کی کھوپڑی پر جماتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اس کا منہ بند کر دیا۔۔۔اگلے ہی لمحے وہ ہاتھ پاؤں جھٹک کر ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔۔۔اس کے بیہوش ہوتے ہی میں اس کے اوپر سے اٹھ کر سائیڈ پر ہو گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا۔ یہ میری زندگی کی پہلی لڑائی تھی۔۔۔دو منٹ سانس درست کرنے کے بعد میں سیدھا ہوا راجو کو ہلا کر دیکھا تو الماری کی چابیاں مجھے اس کے نیچے سے مل گئیں۔۔۔میں نے پھرتی سے الماری کو کھولا تو کھولتے ہی میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔الماری کے ایک خانے میں بڑے بڑے نوٹوں کی گڈیاں چنی ہوئی تھیں۔۔۔جبکہ دوسرے خانے میں کچھ ملبوسات پڑے تھے۔۔۔سب سے نچلے خانے میں چند رائفلیں اور ان کا ایمونیشن پڑا ہوا تھا۔ رائفلیں دیکھ کر میری آنکھیں چمک اٹھیں۔۔۔لیکن مجھے کسی اور چیز کی تلاش تھی۔۔۔میں نے پیچھے ہو کر نظر دوڑائی تو الماری کے سب سے اوپر والے خانے میں نوٹوں کی گڈیوں کے ساتھ ہی مجھے وہ چرمی تھیلی نظر آ گئی جس میں ہیرے تھے۔ میں نے تھیلی کھولی اور اس میں ہاتھ ڈال کر ایک ہیرا باہر نکال کر اپنی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔۔روشنی میں ہیرا پورا آب و تاب سے چمک رہا تھا۔۔۔پھر کچھ سوچ کر میں نے تھیلی واپس رکھی اور مڑ کر راجو کی طرف دیکھا جو کہ ابھی تک بیہوش تھا۔۔۔میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو مجھے میرے مطلب کی چیز نظر نہیں آئی۔۔۔پھر میری نظر گھومتی ہوئی راجو پر ہی آن ٹکی۔ راجو نے بھی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی مطلب شلوار میں نالا ضرور ہو گا۔۔۔میں نے ٹٹول کر اس کا نالا کھولا اور زور لگا کر شلوار سے باہر نکال لیا۔۔۔راجو کو پہلو کے بل لٹاتے ہوئے اس کے ہاتھ پیچھے کر کے باندھ دیے۔۔۔پھر آگے بڑھ کر میں نے تہہ خانے کا دروازے اندر سے بند کر دیا۔۔۔دروازہ بند کرنے سے امید تھی کہ اندر کی آواز باہر تک نہیں جائے گی۔۔۔پھر الماری سے ایک قمیض نکال کر اسے پٹیوں میں پھاڑ دیا۔۔۔ان پٹیوں سے میں نے راجو کی ٹانگیں بھی باندھ دیں اور باقی ماندہ پٹیوں کا گولہ بنا کر اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔ یہ سب کرنے کے بعد میں نے دوسرے آدمی کی طرف دیکھا تو اس کی کھوپڑی سے خون بہہ بہہ کر قالین کو داغ دار کر چکا تھا۔۔۔پھر میں نے فریج کھولی اور اندر سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر آدھی بوتل اپنے معدے میں اتاری اور باقی پانی راجو کے چہرے پر انڈھیل دیا۔۔۔چند لمحوں بعد ہی راجو ہوش میں آ گیا۔۔۔کچھ دیر تو وہ خالی نظروں سے مجھے دیکھتا رہا۔۔۔پھر جب اس کے دماغ کو صورتحال کی سمجھ آئی تو وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو جھٹکے دیتے ہوئے اوں اوں کرنے لگا۔ ************************ (35) راجو کو ہوش دلانے سے پہلے میں نے اپنی چادر واپس چہرے پر لپیٹ لی تھی۔۔۔پہلے مارا ماری میں وہ ٹھیک سے میرا چہرہ نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔ہوش آنے کے بعد میں نے اس کو گالی دیتے ہوئے کہا او رانی خاں کے سالے،،کسے کتی کے پتر اپنی کتی زبان ذرا قابو میں رکھنے اور شور نہ مچانے کا وعدہ کرے تو میں تیرے منہ سے کپڑا نکالتا ہوں۔۔۔اس کے ہاں میں سر ہلانے پر میں نے آگے بڑھ کر اس کے منہ سے کپڑا باہر نکال لیا۔ کون ہے تو؟؟اس نے غصیلی سرگوشی کی۔" میں نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد اپنے چہرے سے چادر ہٹا دی۔۔۔مجھے دیکھ کر اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔۔اس کی حالت دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے اچھی طرح سے جانتا ہے۔۔۔مجھے دیکھتے ہی اس نے مجھ سے ایک نازیبا رشتہ جوڑا اور اس کے منہ سے بوچھاڑ کی صورت میں گالیاں نکلنا شروع ہو گئیں۔ میں نے ایک زور کا طمانچہ اس کے گال پر مارا۔۔۔اور پھناتے ہوئے بولا کہ اب تو نے ایک بھی گالی بکی تو تیری زبان کاٹ دوں گا ساتھ ہی زمین پر پڑا گراری دار چاقو اٹھا کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔۔وہ چاقو کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا:کیا چاہتے ہو مجھے ایسے کیوں باندھا ہوا ہے۔۔۔تم جانتے نہیں ہو کہ ہم کون ہیں۔۔۔میں نے کھڑے ہوتے ہوئے ایک ٹھوکر اس کے جبڑے پر ماری تو اس کے منہ سے ایک دھاڑ برآمد ہوئی۔۔۔کتی کے بچے ہو تم۔۔۔تو نے میرے باپ پر ہاتھ اٹھایا اور اس معصوم شاکر کا کیا قصور تھا جسے تم نے مار ڈالا۔ مرنے کی بات سن کر ایک لمحے کیلئے اس کا چہرہ تاریک ہوا پھر وہ سنبھلتے ہوئے بولا:تم نے پہلے میری کزن شبینہ کے ساتھ بدتمیزی کی میں برداشت کر گیا۔۔۔پھر کل تیرے باپ نے میرے پاپا کو گالی دی۔۔۔تم لوگوں کو کیا لگا ہم آسانی سے ہضم کر جائیں گے نہیں۔۔۔اور اب تم حویلی کے اندر گھس کر مجھ سے الجھ گئے۔۔۔ہم تمہارا نام و نشان تک مٹا دیں گے۔۔۔اور شبینہ کو چھیڑنے کے بدلے میں تیری بہن کو یہاں اٹھا لاؤں گا۔۔۔وہ سب کے سامنے ناچے گی اور پھر میں اس کی پھدی ماروں گا۔ اس کے منہ سے یہ بکواس سننا تھی کہ میرے دماغ پر جیسے چھپکلی سی رینگ گئی۔۔۔دم سمٹ کر میری آنکھوں میں آ گیا۔۔۔میں عجیب لہجے میں بولا:گشتی کے بچے تو میری بہن کو اٹھائے گا،،نچائے گا اور اور۔۔۔اس کے آگے الفاظ میرے منہ میں ہی اٹک گئے۔۔۔جب میرے منہ سے آواز نکلی تو اپنی آواز سن کر مجھے ٹھیک ٹھاک تسلی ہوئی۔۔۔اس وقت میرے لہجے میں وہ درندگی تھی جو شاید پتھر کو بھی پانی کر دیتی۔میں یکا یک اس کے پاس بیٹھا اور ایک ہاتھ سے اس کا جبڑا اتنی زور سے بھینچا کہ درد کے مارے اس کا منہ کھل گیا۔ میں نے دوسرے ہاتھ سے کپڑا پھر سے اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔۔۔پھر صوفے سے لیوگر اٹھا کر میں اس کی ٹانگوں کے بیچ بیٹھتے ہوئے غرایا۔۔۔تجھے میں زندہ چھوڑوں گا تو ہی یہ سب کر پائے گا نا۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں نے اس کی شلوار کھینچتے ہوئے لیوگر کے آگے لگے سائلنسر کی نال پورے زور سے اس کی گانڈ میں گھسائی اور پاگلوں کی طرح ٹرائیگر دباتا گیا۔۔۔اس کے منہ سے چیخ بھی نہ نکل سکی۔۔۔مجھے ہوش تب آئی جب گن سے ٹرچ کی آواز سنائی دی۔ میں پانچ منٹ تک وہیں صوفے پر بیٹھ کر اپنے آپ پر قابو پاتا رہا۔۔۔تھوڑی دیر بعد جب دماغ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوا تو میں نے الماری میں سے چرمی تھیلی اٹھائی۔۔۔اچھی طرح تلاشی لینے پر مجھے الماری سے ہی لیوگر کا ایمونیشن بھی مل گیا جو کہ تین ڈبوں کی شکل میں تھا۔۔۔میں نے ایمونیشن اپنی جیبوں میں ڈالا۔۔۔لیوگر کی نال صوفے کے ساتھ رگڑ کر صاف کی اور تہہ خانے سے نکل آیا۔۔۔اب چونکہ میرا بدلہ بھی پورا ہو چکا تھا اور میں ہیروں کی شکل میں بھی سیالوں کو ایک کاری ضرب لگا چکا تھا تو اب مجھے یہاں سے نکلنے کی فکر تھی۔ میں دبے قدموں چلتا ہوا سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر پہنچا اور آس پاس دیکھ کر وہاں سے باہر نکلا۔۔۔چند لمحوں بعد میں کوریڈور کراس کر کے صحن کی طرف کھلنے والے دروازے کے پاس پہنچ چکا تھا۔۔۔جیسے ہی میں دروازے سے باہر نکلنے لگا سامنے سے اچانک کوئی اندر کی طرف مڑا اور میں نا چاہتے ہوئے بھی اس سے ٹکرا گیا۔۔۔جس سے میں ٹکرایا اس نے سنبھلنے کیلئے ہوا میں ہاتھ مارے تو میری چادر کا پلو اس کے ہاتھ میں آیا جسے کھینچتے ہوئے وہ زمین پر جا پڑا۔۔۔چادر کا پلو اس کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے میرے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور چادر کھل کے نیچے گر گئی۔
  9. اچھا جناب ہو سکتا ہے کہ ایسا ہی کچھ ہوا ہو۔۔
  10. فائنلی رپلائی باکس میں سے ٹیگ ہٹ ہی گئے۔۔۔ کیسے ہٹے میں نہیں جانتا بس ہٹ گئے۔۔۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں اپڈیٹ کرنے کے قابل ہو گیا۔۔۔ اپڈیٹ آ رہی ہے۔۔۔
  11. @DR KHAN @Administrator محترم فیصل بھائی اور ایڈمنسٹریٹر صاحب یار ایک مسئلہ آ رہا ہے اگر میں کسی کو ٹیگ کرتا ہوں رپلائی میں تو اس کا نام میرے اس رپلائی باکس میں چپک ہی جاتا ہے۔۔۔میں ہزار ہا کوشش کے باوجود بھی اس ٹیگ کو ڈیلیٹ نہیں کر پاتا اب جیسا کہ آپ لوگ اس میسیج میں ہی دیکھ لیں کہ لاسٹ ٹائم میں نے ان دو ممبرز waji اور skt_sexy کو ٹیگ کیا تھا لیکن ان لوگوں کے تیگ پکے یہاں نتھی ہو چکے ہیں۔۔۔مجھے بتایا جائے کہ ایسا کیوں ہے۔۔۔اپڈیٹ ریڈی ہے بس اسی چکر میں اپلوڈ نہیں کر پا رہا
  12. @waji کہانی مکمل تو لازمی ہو گی یہ بات طے ہے۔کہانی کا پلاٹ ایک انگلش مووی سے لیا گیا ہے جیسے ہی وہاں تک پہنچوں گا سب کو سمجھ آ جائے گی۔تھوڑا سنبھالنا مشکل ہو گا وہاں سٹوری کو لیکن امید ہے کہ کر جاؤں گا۔ آپ ضرور مشورہ دیں اب یہ لازمی تو نہیں کہ آپ کے مشورے پہ عمل کیا جائے یا اس کو بلکل ریجیکٹ کیا جائے۔۔۔لیکن آگے سٹوری میں چل کر آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ بعض اوقات کیے گئے کمنٹس کتنے فائدہ مند ہوتے ہیں۔ سٹوری چلتی بلکل رائٹر کے خیال اور مزاج کے مطابق ہے کیونکہ وہ پہلے سے ہی اس کا خاکہ یا خلاصہ بنا چکا ہوتا ہے۔۔۔پھر بھی جب کسی کی کوئی رائے اچھی لگے تو کم از کم مجھے کافی محنت کرنی پڑتی ہے مگر میں اس رائے کو اہمیت ضرور دیتا ہوں۔۔۔ اگلی اپڈیٹ پر کام شروع ہے۔۔۔چند دن بعد فائنل کر کے اپلوڈ کر دوں گا۔
  13. @skt_sexy جناب آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے کمنٹ کیا۔۔۔دراصل جب تک پڑھنے والے اپنے اپنے کمنٹس اور رائے سے نہیں نوازیں گے ہمیں کیا پتہ چلے گا کہ ہم کیا لکھ رہے ہیں۔ بس اسی لیے رائٹر لوگ کمنٹس کا بولتے ہیں کیونکہ بعض اوقات کسی کمنٹ سے ہی کوئی ایسا نقطہ مل جاتا ہے جس سے سٹوری کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔
  14. @Shah fahadfahad جی بھائی کیوں نہیں لازماً پوسٹ ہوتی رہے گی۔ اور ان سب دوستوں کا شکریہ جنہیں میری یہ کاوش پسند آئی۔
  15. جی یہاں آنے سے پہلے یہ سٹوری ایک اور سائٹ پر شروع کر چکا تھا بہرحال سٹوری پڑھ کر رائے آپ نے ناں وہاں دی تھی اور ناں یہاں۔۔۔ کمال کی بات ہے ناں۔۔۔
  16. (22) میں نے اسے ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس کھینچا اور ساتھ لپٹاتے ہوئے بولا:راجی تم بلکل بے فکر رہو اطمینان سے ان لمحات کا مزہ لو یہ کہتے ہوئے میں نے اس کے ہونٹوں پر جھکتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا۔ جبکہ چھیمو نیچے سے میرا لن منہ میں لیکر چوپے لگانے لگی۔۔۔میرے ہونٹوں کا لمس محسوس کرتے ہی راجی کے جسم کو ایک جھٹکا سا لگا اور اس نے بھی بھرپور انداز میں میرا ساتھ دیتے ہوئے اپنے منہ کو کھول کر میری زبان کو ویلکم کیا اور میری زبان چوسنے لگی۔ ادھر نیچے سے چھیمو بڑے سٹائل سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔راجی نے آہستہ سے اپنے ہونٹ چھڑائے اور اٹھ کر بیٹھتے ہوئے چھیمو کے چوپے دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھیں پوری طرح کھلی ہوئی تھیں۔۔۔اور وہ بڑی حیرانگی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔میں بھی اٹھ کر بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھوں سے چھیمو کا منہ پکڑ کے اپنا لن اندر ڈال کر اس کے منہ کو بڑے پیار سے چودنے لگا۔ راجی کا منہ بھی تھوڑا سا کھل گیا اور اس کا دل چاہنے لگا کہ کاش یہ لن اس کے منہ میں آ جائے اور دھیرے دھیرے پیار سے اس کے منہ کو چودتا رہے۔ میں نے جیسے اس کے من کی بات پڑھ لی۔۔۔کیونکہ مجھے راجی کی آنکھوں میں لن کی بھوک واضح محسوس ہو رہی تھی۔۔۔میں نے چھیمو کے منہ سے لن نکالا اور ہلکا سا رخ موڑتے ہوئے لن راجی کی طرف کیا تو لن اس کے ہونٹوں کے بلکل پاس آ گیا۔ اس کی خواہش پوری ہو رہی تھی۔۔۔اس نے بڑے پیار سے ہونٹوں سے میرے لن کی ٹوپی پر کِس کیا اور اپنا منہ کھول کر لن کو منہ میں لینے لگی۔ میرا موٹا لن اس کے منہ کو کھولتے ہوئے اس کے منہ میں گھستا چلا جا رہا تھا۔۔۔تب میں نے راجی کے سر کو اور بالوں کو پیچھے سے پکڑ لیا اور بڑے پیار سے اس کے منہ کو چودنا شروع کر دیا۔ پھر جب میں نے لن باہر نکالا تو اس نے اپنے ہونٹوں کے ساتھ گرِپ کرتے ہوئے میرے لن کی ٹوپی کو جھکڑ لیا اور اپنی زبان کی نوک سے میرے لن کے سوراخ پر چھیڑخانی کرنے لگی۔۔۔لن کے سوراخ میں زبان کی نوک محسوس کرتے ہی میرے منہ سے سسکاری برآمد ہوئی۔ میں نے چھیمو کو دیکھتے ہوئے لن کی طرف اشارہ کیا تو وہ آگے بڑھ کر میرے لن کو سائیڈوں سے چاٹنے لگی۔۔۔پھر میں نے اپنے لن کو راجی کے منہ سے باہر نکالا اور دونوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے بٹھا کر ان کے منہ آپس میں ایسے جوڑ دیے۔ یوں لگتا تھا کہ وہ آپس میں کس کر رہی ہیں۔۔۔پھر میں نے اپنا لن دونوں کے ہونٹوں کے درمیان میں رکھا اور آگے پیچھے ہلتے ہوئے ان کے ہونٹوں کو چودنا شروع کر دیا۔۔۔پھر میں نے باری باری لن دونوں کے منہ میں ڈال کر دو دو گھسے لگانے شروع کر دیے۔ ایک بار جب میں نے لن چھیمو کے منہ سے باہر نکال کر راجی کے منہ میں ڈالا تو وہ اتنی بری طرح خوار ہو چکی تھی کہ لن کو منہ میں لیتے ہی وہ ماہر رنڈی کی طرح چوپے لگانے لگی۔ میں نے بھی زور لگا کر لن کو راجی کے حلق تک پہنچانا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی میرے لن کی ٹوپی نے راجی کے حلق میں ڈبکی لگائی ایسا لگا کہ میں کسی اور ہی جہان میں آ گیا۔۔۔اس کا حلق اتنا نرم اور ملائم تھا کہ مانو جیسے لن کسی نرم،ملائم اور گرم پائپ میں پھنس گیا ہو۔ میں نے چار پانچ دفعہ راجی کے حلق تک لن پہنچایا اور پھر لن اس کے منہ سے باہر نکال لیا۔ دل میں سوچا کہ بس اتنا بہت ہے کہیں اس کے حلق میں ہی نہ چھوٹ جاؤں اور باقی کا پروگرام دھرے کا دھرا رہ جائے۔۔۔اس لیے اب اصل کام پھدی اور گانڈ کی چدائی کی طرف آنا چاہیے۔ یہ سوچ کر میں نے چھیمو کی طرف دیکھا تو وہ اپنے مموں کو دباتے ہوئے ٹانگیں کھول کر اپنی پھدی کو مسل رہی تھی۔۔۔اور ساتھ ساتھ میری طرف ہوس بھری نگاہوں سے دیکھتی جا رہی تھی۔ میں نے ٹانگیں کھول کر بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے تکیے سے ٹیک لگا لی اور چھیمو کو اپنی طرف کھینچا۔ چھیمو اٹھی اور الٹی طرف منہ کر کے دھیرے دھیرے میرے لن پر بیٹھ گئی۔۔۔جبکہ راجی میری ٹانگوں کے درمیان الٹی لیٹ گئی۔ جیسے ہی چھیمو نے لن پھدی کے اندر لیکر اوپر نیچے ہونا شروع کیا تو راجی میرے لن کے ساتھ ساتھ چھیمو کی پھدی کو بھی چاٹنے لگی۔ میں بھی نیچے سے جھٹکے مار رہا تھا۔۔۔کچھ دیر بعد چھیمو میرے اوپر سے اٹھی اور راجی کو اٹھا کر میرے لن پر بٹھا دیا۔۔۔اور خود راجی کی جگہ آ کر میرے لن کے ساتھ ساتھ راجی کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا۔ (23) میں اب نیچے سے زور زور سے دھکے مار رہا تھا جبکہ راجی کے اچھلنے کی رفتار بھی بڑھتی گئی۔ کچھ دیر بعد ہی راجی کا جسم اکڑنا شروع ہوا ساتھ ہی اس کی آنکھیں نیم بیہوشی کی کیفیت میں بند ہونے لگیں۔۔۔اس نے آگے ہو کر چھیمو کو پیچھے ہٹایا اور اپنے ہاتھوں سے میری ٹانگوں اور پھدی سے میرے لن کو جھکڑتے ہوئے گانڈ اٹھا اٹھا کر زور زور سے میرے لن کو چودنا شروع کر دیا۔ پھر چند لمحوں بعد ہی اس کی پھدی سے گرم گرم منی میرے لن پر گرنا شروع ہو گئی۔ راجی کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا اور اس کی ٹانگیں بری طرح سے کانپ رہی تھیں۔۔۔اچانک اس کا جسم ڈھیلا ہوا اور وہ نڈھال ہو کر وہیں اوندھی ہوتی چلی گئی۔ میں بھی لن کو پڑنے والے کھچاؤ کے سبب اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔جب چھیمو نے دیکھا کہ راجی پوری طرح سے فارغ ہو گئی ہے!!!تو اس نے اپنی جگہ چھوڑی اور اٹھ کر سامنے موجود میز کے ساتھ جھک گئی اور اپنی گانڈ ہلا ہلا کر مجھے بلانے لگی۔ ساتھ ہی اس نے اپنی گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو پکڑ کر مخالف سمتوں میں پوری طرح سے کھول دیا۔ میں نے چھیمو کا بلاوہ دیکھا تو اپنا لن راجی کی چپچپاتی پھدی سے باہر نکالا اور اٹھ کر چھیمو کے پیچھے جا کر اپنا لن اس کی گانڈ کے درمیان رکھ کر اس کی کمر کر پکڑ لیا۔۔۔چھیمو کو جب میرا لن اپنی گانڈ کی دراڑ میں محسوس ہوا تو بے اختیار مزے کی آہہہہہ اس کے منہ سے نکل گئی۔ میں تھوڑی دیر تک اپنا لن ہلا ہلا کر اس کی گانڈ کی دراڑ میں رگڑتا رہا۔۔۔تو چھیمو نے اپنی گانڈ تھوڑی سی اور باہر نکال دی۔ میں نے اپنا لن اس کی پھدی کے ہونٹوں پہ رکھتے ہوئے ایک زور کا گھسہ مارا تو میرا لن پھک کی آواز کے ساتھ اس کی پھدی میں گھس گیا۔ میں نے چھیمو کی کمر پکڑ کر گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔چھیمو پہلے ہی بہت گرم ہو چکی تھی۔ میرے سٹارٹ لیتے ہی اس نے منہ سے سیییییی کی آواز نکالی اور بڑی تیزی سے اپنی گانڈ کو پیچھے دھکیلنے لگی۔۔۔میں نے دو منٹ تک اس کو اسی پوزیشن میں چودا۔۔۔وہ پہلے ہی اتنی گرم ہو چکی تھی کہ دو منٹ بعد ہی اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا۔ اور وہ پوری جان سے اپنی گانڈ کو میرے لن پر دباتے ہوئے بولی۔۔۔ہائےےےےے کمال ل ل میں گئییییییہی۔ ساتھ ہی اس کے جسم کو جھٹکے لگنے لگے اور اس کی پھدی سے نکلنے والی پھوار میں واضح اپنے لن پر گرتی ہوئی محسوس کر رہا تھا۔ میں وہیں رک گیا چند سیکنڈ بعد جب وہ ٹھندی ہو گئی تو اس نے آگے ہو کر میرا لن باہر نکالا اور میرے پاؤں میں بیٹھتے ہی میرا لن جو کہ اس کی منی سے لتھڑا ہوا تھا اس کو اپنی زبان سے چاٹ چاٹ کر صاف کرنے لگی۔ میں ابھی تک نہیں چھوٹا تھا جبکہ دونوں لڑکیاں اپنا پانی نکال چکی تھیں۔ اچانک جیسے میرے دماغ میں کلک سا ہوا تو مجھے کچھ یاد آ گیا۔ میں نے چھیمو کو پکڑ کر اٹھایا اور بازو سے کھینچے ہوئے بیڈ پر راجی کے پاس لے آیا جو کہ بیڈ پر لیٹی دو انگلیاں اپنی پھدی کے اندر باہر کر رہی تھی۔ میں نے چھیمو کو بیڈ پر لٹا کر راجی کو اس کے اوپر گھوڑی بننے کر کہا تو راجی اٹھ کر گھوڑی بن گئی۔ چھیمو نیچے سے تھوڑا کھسک کر اپنا منہ اس کی پھدی کے عین نیچے لے آئی اور اس کی پھدی کے دانے کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔ راجی کے منہ سے سیییییی کہ آواز نکلی اور وہ اپنی گانڈ دبا دبا کر پھدی چٹوانے لگی۔ میں نے ایک تکیہ اٹھا کر چھیمو کے سر کے نیچے رکھا اور راجی کو کمر سے پکڑ کر تھوڑا گانڈ اوپر اٹھانے کو کہا۔۔۔اس نے اپنی گانڈ اوپر اٹھائی تو اس پوزیشن میں راجی کی گانڈ چِر کر باہر کی طرف کھل گئی۔ راجی کی گانڈ کا سوراخ ڈارک براؤن رنگ کا تھا۔۔۔سوراخ کافی کھلا ہوا لگ رہا تھا۔ میں نے کافی سارا تھوک راجی کی گانڈ کے سوراخ پر پھینکا اور اچھی طرح انگلی سے اس کی گانڈ کے سوراخ کو نرم کرنا شروع کر دیا۔ گانڈ کے سوراخ پر انگلی لگتے ہی راجی نے سر گھما کر میری طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آمادگی کے آثار نظر آئے۔۔۔اچھی طرح سے سوراخ نرم کرنے کے بعد میں نے اپنا ایک گھٹنا چھیمو کے کندھے کے پاس بیڈ پر ٹکایا اور دوسرے پاؤں پر وزن سنبھالتے ہوئے اپنا لن راجی کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر ہلکا سا دباؤ ڈالا تو لن کی ٹوپی گانڈ کے اندر اترتی چلی گئی۔ آگے سے راجی کے منہ سے ہلکی سی اوں۔۔۔اوں۔ کی آواز نکلی۔میں آہستہ آہستہ دباؤ بڑھاتا گیا۔ اب راجی کی گانڈ کوئی کنواری تو تھی نہیں جہاں ٹائم لگتا۔۔۔اس لیے چند لمحوں کے بعد ہی پورا لن راجی کی گانڈ میں اتر چکا تھا۔ حیرت کی بات تھی کہ ابھی بھی راجی کی گانڈ اندر سے ایسے ٹائٹ لگ رہی تھی کہ جیسے پہلے کبھی گانڈ کے اندر کچھ نہیں گیا۔ نیچے سے چھیمو نے راجی کی پھدی کو چومتے چاٹتے ہوئے اپنی تین انگلیاں اندر گھسائیں اور تیزی سے انگلیاں اندر باہر کرنے لگی۔ چار منٹ کی بے درد چدائی کے بعد راجی مزے سے فل مدہوش آوازیں نکال رہی تھی۔۔۔اگلے ہی منٹ میں راجی کی پھدی نے ہار مان لی اور پانی چھوڑنا شروع کر دیا تو اس کی گانڈ اور ٹائٹ ہوتی چلی گئی۔ جس سے مجھے اتنا مزہ آیا کہ چند سیکنڈ بعد ہی میرے منہ سے اوہ افففففف نکلا اور میرے جسم کو جھٹکا لگا۔ یہ محسوس کرتے ہی راجی ایک دم آگے ہوئی اور میرا لن باہر نکل گیا۔ راجی بجلی کی سی تیزی سے مڑی اور میرے لن کو اپنے منہ میں لے کر چوستے ہوئے چوپا لگانے لگی۔ اگلے سیکنڈ میں ہی میرے لن کی نسیں پھولنا شروع ہوئیں اور میں راجی کے منہ میں ہی فارغ ہو گیا۔ *************************
  17. (11) میں نے کانپتے ہوئے اپنے جسم کو سمیٹنے کی کوشش کی تو میری نظر بیڈ کی چادر پر پڑی اس پہ دو جگہ پر خون گرا ہوا تھا جو یقینی طور پر میری پھدی سے نکلا تھا۔ دوسری طرف راجو بھی اس لڑکی کو چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ہماری پھدیوں کا ستیاناس کرنے کے بعد دونوں بھائیوں نے ہماری کمروں پر ٹانگ مار کر ہمیں نیچے گرا دیا۔ ہم نیچے فرش پر پڑی کراہ رہی تھیں۔۔۔تبھی راجو دھاڑا،،اوئے فضلو،،اسی وقت باہر کا دروازہ کھلا اور ایک ملازم اندر داخل ہوا۔۔۔سیماء کو بلاؤ،،اچھا حضور،،یہ کہہ کر وہ ملازم باہر نکل گیا۔ چند منٹ بعد ایک لڑکی نرس کے لباس میں اندر داخل ہوئی۔۔۔وہ کوئی شہری لڑکی لگ رہی تھی۔۔۔اس نے آتے ہی ہم دونوں کی ٹانگیں کھول کھول کر ہماری پھدیوں کو چیک کیا۔ اس کے بعد اس نے فضلو کو اشارہ کیا تو وہ باہر نکل گیا۔۔۔چند منٹ بعد ہی وہ دو عدد چادریں اٹھائے اندر داخل ہوا۔۔۔اس دوران دونوں سیال زادے ہم لوگوں سے بے نیاز شراب پینے میں مصروف تھے۔ اس نرس اور فضلو نے ہم دونوں کو چادروں میں لپیٹ کر سہارا دیتے ہوئے کھڑا کیا اور وہاں سے چلاتے ہوئے نکل کر ساتھ والے کمرے میں لے آئے۔ یہاں چھوڑ کر ملازم باہر نکل گیا اور اس نرس نے ہم دونوں کو واش روم میں جا کر اپنا آپ صاف کرنے کو کہا۔ میں سہارا لے کر اٹھی اور لڑکھڑاتے ہوئی واش روم میں جا کر اچھی طرح سے پانی سے اپنی پھدی کو صاف کر کے باہر چلی آئی۔۔۔میرے آنے کے بعد راجی بھی اٹھ کر اندر چلی گئی۔۔۔نرس نے پلنگ کے نیچے سے ایک بیگ کھینچ کر باہر نکالا جس میں مختلف قسم کی انگریزی دوائیاں پڑی ہوئی تھیں۔۔۔اس نے ایک کریم اٹھا کر کافی ساری کریم میری پھدی پر لگا کر آہستہ آہستہ مساج کر دیا۔۔۔جس سے میری پھدی میں لگی ہوئی آگ سرد ہوتی گئی۔ ساتھ ہی اس نے مجھے دو گولیاں اور پانی کا گلاس تھماتے ہوئے کہا کہ یہ گولیاں کھا لو درد ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔اسی طرح دوسری لڑکی کو بھی اسی طریقے سے مساج کرنے اور دوا دینے کے بعد ہمیں آرام کرنے کا کہہ کر وہ نرس لڑکی چلی گئی۔۔۔اس کے جانے کے بعد ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر سے رونے لگیں۔ ہمیں نہیں پتہ تھا کہ اب ہمارے ساتھ کیا ہو گا۔۔۔تقریباً ایک گھنٹے بعد دوبارہ سے دروازہ کھلا اور وہی ملازم جو ہمیں کوارٹر سے نکال کر سیال زادوں کے حوالے کر گیا تھا دوبارہ اندر داخل ہوا۔۔۔اسے دیکھ کر ہم دونوں پھر سے سہم گئیں۔۔۔میں روتی ہوئی بولی چاچا یہ تم نے ہمارے ساتھ کیا کروا دیا۔ تو وہ تیز لہجے میں بولا۔۔۔چپ چاپ اٹھو اور یہاں سے نکلو فٹا فٹ ورنہ وہ پھر سے آ جائیں گے۔ ہم فٹا فٹ اٹھیں اور خود کو سنبھالتے ہوئے اس کمرے سے باہر نکل کر اس کے ساتھ چلتی ہوئی اسی کوارٹر میں جا پہنچیں۔۔۔جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئیں تو اس ملازم نے دروازہ بند کر کے ہمیں دیکھا اور کہا:یہاں جو کچھ بھی ہوا ہے اس بارے میں اگر کسی سے بات کی تو یہ چوہدری تم کو چیرنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگائیں گے۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولنے کیلئے منہ کھولتی۔۔۔کوارٹر کا دروازے پر جیسے دھماکہ سا ہوا۔ ************************* (12) دروازے پر دھماکے کی آواز ایسی تھی جیسے کسی نے زور سے کوئی چیز دروازے پر ماری ہو۔۔۔ساتھ ہی زور زور سے دروازہ بجنے لگا۔۔۔اور کسی کی آواز آئی اوئے اندر کون ہے دروازہ کھول میں نے کہا دروازہ کھول۔ ملازم نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو ایک نوجوان لڑکا جو کہ بہت خوبصورت تھا دندناتے ہوئے اندر داخل ہوا۔۔۔ہم پر نظر پڑتے ہی اس نے غصیلے لہجے میں اس ملازم سے کہا اوئے کنجر کی اولاد ان گشتیوں کو لیکر یہاں رنگ رلیاں منا رہا ہے۔ تو وہ ملازم ہاتھ جوڑ کر بولا نہیں کامی سائیں یہ میرا نہیں یہ تو نور سائیں اور راجو سائیں کا شکار ہے۔۔۔ابھی ابھی ان کو اندر سے لے کر آیا ہوں۔۔۔وہ لڑکا جس کا نام کامی تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ حرام کا تخم وڈے چوہدری کی دوسری بیوی کا منجھلا بیٹا کامران سیال ہے۔ وہ لڑکا تیزی سے میری طرف بڑھا اور میرے جسم سے چادر کھینچ لی۔۔۔نیچے سے میں مادر ذات ننگی تھی۔۔۔اس نے مجھے پوچھا دیکھو سچ سچ بتاؤ کہ اندر تمہارے ساتھ کیا ہوا۔۔۔ورنہ میں ہنٹر سے تم دونوں کی کھال ادھیڑ ڈالوں گا۔۔۔اور تم حرامی کی اولاد وہاں کونے میں کھڑا ہو جا۔۔۔وہ ملازم کی طرف مڑتے ہوئے غرایا۔ میں نے ہمت کر کے اسے ساری بات بتائی۔۔۔اس نے دوسری لڑکی کو اشارہ کیا تو اس نے بھی چادر اتار کر اپنا جسم دکھایا اس کے مموں پر بھی راجو نے کاٹ کاٹ کر نشان بنا دیے تھے۔ ہمممم چلو تم دونوں یہاں سے میرے ساتھ چلو۔۔۔ہم ابھی وڈے چوہدری صاحب کے پاس جائیں گے اور ان بھائیوں کے کرتوت انہیں بتائیں گے۔ چلو جلدی چلو یہ کہہ کر اس نے میرا بازو پکڑے مجھے باہر کی طرف کھینچا ہم چاروناچار اس کے پیچھے چل پڑیں۔۔۔وہ ہم دونوں کو ایک راہداری میں سے گھماتا ہوا ایک کمرے کے سامنے پہنچ گیا۔ کمرے کے دروازہ بند تھا۔۔۔اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے آواز آئی۔۔۔چلے آؤ دروازہ کھلا ہے۔۔۔ہم اندر داخل ہوئے تو سامنے وڈے چوہدری صاحب بیٹھے شراب پی رہے تھے۔ ہماری حالت دیکھ کر اس نے حیرانگی سے کامی سے پوچھا کامی یہ سب کیا ہے۔۔۔کون ہے یہ دونوں لڑکیاں اور ان کی یہ حالت کس نے کی ہے۔ کامی نے وڈے چوہدری کو بتایا کہ کیسے ہم دونوں کو دونوں بڑے سیال زادوں نے کمرے میں بلا کر زبردستی چود ڈالا۔۔۔چوہدری نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اٹھ کر گلاس ہاتھ میں پکڑے ہماری طرف قدم بڑھائے۔ ہوں!!!تو ان کنجروں کی اتنی ہمت کہ گاؤں کی دو لڑکیاں زبردستی چود ڈالیں۔۔۔اتنی دیر میں وہ ہمارے پاس پہنچ چکا تھا۔۔۔پھر چوہدری بولا کہ بڑے کتی کے پتر ہیں کہ دو خوبصورت لڑکیوں کا یہ حال کیا اور وہ بھی۔ (13) اتنا کہہ کر چوہدری رکا اور نشے میں چور نگاہوں سے ہماری طرف دیکھا پھر اس نے گلاس خالی کر کے دیوار پر مارتے ہوئے اپنی بات پوری کی۔ وہ بھی ہمیں دانہ چکھائے بغیر۔ ساتھ ہی چوہدری نے میرے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا اور ایک طمانچہ مار کر میرے مموں کو دباتے ہوئے بولا: چپ چاپ میری بات پر عمل کر گشتی!!!ورنہ میرے سارے نوکر مل کر تم دونوں کی گانڈ ماریں گے!!!پھدیوں کا بینڈ بجائیں گے اور آخر میں بھوکے کتوں کے آگے ڈال دیں گے تو کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ تم دونوں کے ساتھ کیا ہوا کہاں گم ہو گئیں۔ میں بے بس چڑیا کی طرح اس کی گرفت میں پھڑپھڑا رہی تھی،،،کہ اچانک راجی اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی چوہدری صاحب اگر یہ سب ہی کرنا ہے تو زبردستی کیوں۔۔۔ہم راضی خوشی آپ کی ہر بات پر عمل کریں گی۔ چوہدری بولا:نہیں تم بعد میں۔۔۔پہلے میں اس بڑے بڑے مموں والی گشتی کا مزہ چکھ لوں پھر تیری باری آئے گی۔۔۔کامی جو چپ چاپ کھڑا دانت نکال رہا تھا بولا:پاپا!!!کیا اب میں وہ نرس سیما کو چود سکتا ہوں؟چوہدری میرے ممے مسلتے ہوئے بولا ہاں کامی جا عیش کر۔۔۔لیکن پاپا وہ راجو بھائی۔۔۔ابھی بات اس کے منہ میں ہی تھی کہ چوہدری دھاڑا:اپنی بکواس بند کر اوئے۔ جب میں نے کہہ دیا تو وہ تیری ہے۔۔۔اب نکل جا یہاں سے اور میرا موڈ مت خراب کر۔۔۔کامی شکریہ پاپا کہہ کر واپس مڑ گیا۔ *************************** (14) چوہدری بھوکے عقاب کی طرح میرے مموں پر ٹوٹ پڑا۔۔۔میں نے بھی خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑنے کا فیصلہ کر کے اپنی آنکھیں موند لیں۔ چوہدری اور اس کے بیٹوں میں ایک فرق تھا۔۔۔لڑکے جانوروں کی طرح کاٹتے تھے جبکہ چوہدری نوچنے کھسوٹنے کی بجائے صرف مزے سے ممے چوس رہا تھا۔ چند منٹ میرے ممے چوسنے کے بعد چوہدری نے اپنے کپڑے اتارے اور فل ننگا ہو کر میرے سر کے پاس آ کر بولا۔۔۔چل اوئے میرا لن چوس۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو چوہدری کا لمبا اور موٹا لن میری آنکھوں کے سامنے لہرا رہا تھا۔۔۔اتنا لمبا لن دیکھ کر میں ڈر گئی۔ مجھے آنکھیں کھولتے دیکھ کر اس نے اپنا لن میرے ہونٹوں پہ پھیرا تو میں بھی اور کوئی چارہ نہ پا کر اس کا لن منہ میں لے کر چوسنے لگی۔۔۔دوسری لڑکی راجی وہیں ایک سائیڈ پر بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ اچانک اس نے ایک عجیب حرکت کی اس نے اپنی چادر اتاری اور چلتی ہوئی آ کر میرے پاس کھڑی ہو کر اس نے چوہدری کی چھاتی پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر چوہدری کی آنکھوں میں ایک عجیب شیطانی چمک ابھر آئی۔ اس نے اپنا لن میرے منہ سے نکالا اور خود وہاں سے پیچھے ہٹ کر صوفے پر ٹانگیں کھول کر نیم دراز ہو گیا۔ پھر اس نے مجھے ٹی وی کے پاس سے ریموٹ اٹھا کر لانے کو کہا تو میں ریموٹ اٹھا کر چوہدری کے پاس لے آئی۔ چوہدری نے راجی کو بھی اپنی طرف بلاتے ہوئے مجھے ریموٹ سے ٹی وی آن کرنے کو کہا۔میں نے ٹی وی آن کیا تو حیرت سے اچھل پڑی۔ ٹی وی پر ایک ننگی فلم لگی ہوئی تھی جس میں دو لڑکیاں ایسے ہی صوفے پر بیٹھے کسی انگریز کا لن چوس رہی تھیں۔۔۔ایک لڑکی کے منہ میں لن تھا تو دوسری لن کے نیچے لٹکتے ہوئے ٹٹے چاٹ رہی تھی۔ میری سمجھ میں کچھ کچھ آنے لگا۔۔۔راجی بھی اٹھ کر ہمارے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔کچھ دیر بعد چوہدری نے نے ہم دونوں کو بازوؤں سے پکڑ کر اپنے پیروں میں زمین پر بٹھا دیا اور بولا چلو شاباش اب دونوں مل کر ان فلم والی لڑکیوں کی طرح میرا لن چوسو۔ ایسے ہی خوشی خوشی سب کرو گی تو کسی کنجر کی کیا مجال کی وہ تمہاری طرف آنکھ بھی اٹھا کر دیکھے۔ میں نے اس کا لن منہ میں ڈالا اور راجی نے بلکل فلم والی لڑکیوں کی طرح اس کے ٹٹے چاٹنے شروع کر دیے۔ چوہدری کے منہ سے عجیب بے ڈھنگی آوازیں نکلنا شروع ہو گئیں۔ آہ۔۔۔آہ۔۔۔شاباش۔ ساتھ ہی چوہدری نے ساتھ پڑی چھوٹی سی میز پر موجود شراب کی بوتل اٹھائی اور ایک گلاس اٹھا کر اس میں بھر کر پینے لگا۔۔۔دو تین منٹ بعد ہی چوہدری کا جسم کانپنے لگا اور اس کے منہ سی سسکی سی نکلی آہ۔۔۔آہ اور ساتھ ہی مجھے لگا کہ جیسے کوئی نمکین پانی میرے منہ میں پھیل گیا ہو۔ وہ نمکین پانی چوہدری کے لن سے نکلنے والا منی تھا۔۔۔میں نے چوہدری کے لن سے اپنا منہ ہٹانے کی کوشش کی تو اس نے ایک ہاتھ سے میرے سر کو نیچے لن کی طرف دبا دیا۔۔۔جس سے اس کا لن میرے حلق میں جا کر پھنس گیا۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ لن کو منہ سے باہر نکال لوں پر اتنی دیر تک اس کا لن میرے حلق میں اپنا سارا پانی نکال چکا تھا۔۔۔جو کہ خودبخود نیچے پیٹ میں پہنچ گیا۔ ************************* پھر چوہدری نے اپنا ہاتھ میرے سر سے ہٹا لیا اور بولا:چل اوئے وہ سائیڈ پر واش روم میں جا اور اچھی طرح سے منہ ہاتھ دھو کر آ۔ میں کراہتی ہوئی اٹھی اور بوجھل قدموں سے چلتی ہوئی واش روم میں جا پہنچی۔۔۔مجھے اپنے آپ سے گھن آ رہی تھی۔۔۔لیکن اس سب میں میرا کیا قصور تھا اب تو جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔ دس منٹ بعد میں واش روم سے نکلی تو دیکھا کہ راجی چوہدری کی گود میں بیٹھی اچھل رہی تھی۔ میں دل میں سوچ رہی تھی کہ اس گشتی کو پتہ نئیں کیا سوجھی جو خود بخود لگ گئی۔ میں نے پاس جا کر دیکھا!!!تو چوہدری کا لن اس لڑکی کی پھدی میں تھا اور وہ لن اندر لیے آگے پیچھے ہونے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ مجھے دیکھ کر چوہدری نے پھر سے اپنی طرف بلایا:میں اس کے پاس چلی گئی۔۔۔چوہدری نے کھینچ کر مجھے اپنی طرف گھسیٹا اور بلکل اس طرح میرے ممے چوسنے لگا کہ جیسے کوئی بچہ اپنی ماں کا دودھ پیتا ہے۔ ساتھ ہی چوہدری نے پاس پڑی میز سے تیل کی بوتل اٹھائی اور اپنی انگلیوں پر لگا کر اپنا ہاتھ میرے نچلے حصے کی طرف لے گیا اور اپنی دو انگلیوں کے ساتھ میری پھدی کے ہونٹوں پر اچھی طرح سے تیل اندر تک لگا دیا۔ پھر اس نے دوسری لڑکی راجی کو اٹھنے کا کہا۔۔۔راجی کے نیچے اترنے کے بعد چوہدری نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے مجھے صوفے پر لٹا کر میری ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھیں اور اپنے ہاتھ سے لن کو میری پھدی پر سیٹ کرنے کے بعد دباؤ ڈالنا شروع کیا تو اس کا لن میری پھدی کے ہونٹوں کو چیرتا ہوا اندر دھنستا چلا گیا۔ میرے چہرے پر ایک دفعہ پھر سے تکلیف کے آثار ابھر آئے۔۔۔لیکن میں اپنے ہونٹ بھینچے تکلیف کو برداشت کرنے کی کوشش کرتی رہی۔۔۔ویسے بھی اب یہ تکلیف پہلی دفعہ کی نسبت کافی کم تھی۔ دو منٹوں بعد ہی چوہدری کا لن پوری روانی سے میری پھدی میں اندر باہر آ جا رہا تھا۔۔۔میری تکلیف بھی نا ہونے کے برابر تھی۔۔۔بلکہ سہی بتاؤں تو مجھ پر ایک عجیب قسم کا نشہ طاری ہوتا جا رہا تھا۔۔۔اور اس نشے کے زیرِ اثر میں آپ ہی آپ نیچے سے آہستہ آہستہ ہلنے لگی۔ اچانک مجھے اپنے ہونٹوں پر تھوڑی چپچہاہٹ کا احساس ہوا میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ راجی اپنی زبان میرے ہونٹوں پر پھیر رہی تھی۔ میں نے بھی بے خودی میں اپنا منہ کھولا اور اس کی زبان کو اپنے ہونٹوں سے چوسنے لگی۔ اسی طرح اگلے دس منٹ تک چوہدری لگاتار مجھے چودتا رہا اور پھر اس نے اپنا لن باہر نکالا اور راجی کے منہ میں دے کر اس کے سر کو دونوں ہاتھوں سے اپنے لن کی طرف دبا دیا۔ اس کی بھی وہی حالت ہوئی جو میری ہوئی تھی اس کی آنکھیں پٹھنے والی ہو گئی تھیں۔۔۔شاید چوہدری کو منہ کے اندر لن گھسا کر پانی نکالنے کا شوق تھا۔ پانی نکالنے کے بعد چوہدری نے اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکال لیا اور بے خود ہو کر صوفے پر ڈھیر ہو گیا۔۔۔وہ لڑکی اٹھ کر تیزی سی واش روم کی طرف بھاگ گئی۔۔۔چوہدری کے چہرے پر خباثت بھری ہنسی تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ یہ کنجر اس عمر میں بھی اتنا حرامی ہے تو جوانی میں اس نے کیا کیا گل نہیں کھلائے ہوں گے۔ ************************* (15) تھوڑی دیر بعد ہم دونوں چوہدری کے پاس اس کے پیروں میں زمین پر بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔چوہدری نے ہم دونوں کی طرف دیکھا اور پاس پڑی اپنی قمیض کی جیب سے چند نوٹ نکال کر ہم دونوں کی طرف پھینکے اور کہا کہ یہ تم دونوں کا انعام ہے۔ اب تم لوگوں کے میرے ملازم گھروں میں چھوڑ آئیں گے۔۔۔لیکن خبردار اگر کسی سے ایک لفظ بھی کہا تو زبانیں حلق سے کھینچ کر بھوکے کتوں کو کھلوا دوں گا۔۔۔اور جب بھی میری طرف سے بلاوہ آئے تم دونوں سب کام چھوڑ کر میرے پاس چلی آنا کیونکہ انکار اور دیری مجھے پسند نہیں۔ میں سر جھکائے بیٹھی رہی لیکن وہ دوسری لڑکی راجی بولی۔۔۔چوہدری جی:میں واپس نہیں جانا۔۔۔مجھے ادھر ہی اپنے پاس رکھ لو۔۔۔میں دن رات آپ کی خدمت کرنا چاہوں گی۔۔۔اب واپس جا کر کیا کروں گی مجھے آپ پسند ہیں میں ادھر حویلی میں ہی کوئی کام شام کر لیا کروں گی اور جب آپ کا دل چاہے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو جایا کروں گی۔جبکہ میں حیرانگی سے راجی کی شکل دیکھنے لگی۔ چوہدری اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے بولا:فلحال تمہیں جانا پڑے گا۔۔۔بعد میں باقاعدہ ملازمہ کے طور پر تمہیں واپس بلا لوں گا۔ بلکہ رکو!!!یہ کہہ کر چوہدری نے پاس پڑی گھنٹی بجائی تو ایک منٹ بعد ہی دروازہ کھلا اور وہی حرامی ملازم اندر داخل ہوا جو ہمیں سب سے پہلے سیال زادوں کے پاس لے گیا تھا۔۔۔چوہدری نے کپڑے تک پہننے کی زحمت نہیں کی اور وہیں سےمیری طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولا اس لڑکی کو لے جاؤ اور اچھی طرح صاف ستھرائی کروا کر واپس بھیج دو۔راستے میں اسے سب سمجھا دینا۔ ملازم یہ سن کر بولا جو حکم!!!پھر اس نے مجھے وہاں سے اٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔میں نے زمین پر پڑے ہوئے نوٹوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ایسے ہی اٹھی اور چادر لپیٹ کر باہر کی طرف قدم بڑھائے۔ تبھی چوہدری کی دھاڑ سنائی دی۔۔۔او کنجر دی بچی:یہ نوٹ کیوں نہیں اٹھائے تم نے سنا نہیں میں ٹٹ نے بولا تھا کہ میری ہر بات پر چوں چراں عمل کرو۔ میں نے واپس مڑ کر چپ چاپ نوٹ اٹھائے اور ملازم کے پیچھے باہر چل دی۔۔۔ملازم مجھے سیدھا اس کوارٹر میں واپس لے گیا اور جاتے ہی اندر سے دروازہ بند کر کے کنڈی لگا دی۔۔۔میں خاموش نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتی رہی۔۔۔کنڈی لگانے کے بعد وہ مڑا اور میرے پاس آ کر ایک دم اس نے مجھے زمین پر گرا کر میری چادر ہٹا دی۔ (16) میں نا کچھ بولی نا مزاحمت کی چند لمحے میرے ممے چوسنے کے بعد اس نے میری ٹانگیں اٹھائیں اور اپنی شلوار کا ناڑا کھول کر اپنا کالا بھجنگ لن باہر نکالا جو کہ اس وقت سانپ کی طرح پھن پھیلائے جھوم رہا تھا۔ اس نے میری ٹانگیں اپنے کندھے پر رکھ کر تھوک کا ایک گولا اپنے لن پر پھینک کر ہاتھ سے اچھی طرح پھیلایا اور لن میری پھدی کے اندر ڈال کر جھٹکے مارنے شروع کر دیے۔۔۔میرے تمام احساسات مر چکے تھے اور میں ایک لاش کی طرح پڑی تھی۔ صرف چند گھسے مارنے کے بعد اس نے اپنا لن باہر نکالا اور میرے پیٹ پر منی کی دھاریں چھوڑ دیں۔ اپنا پانی نکالنے کے بعد وہ اٹھا اور اپنی شلوار باندھتے ہوئے مجھے بولا چل بنو اب اٹھ کر فٹا فٹ صاف صفائی کر لے۔۔۔پھر تجھے تیرے گھر بجھوا دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا سامنے میز کے پاس گیا اور کچھ دیر ادھر ادھر ہاتھ مار کر باہر نکل گیا۔ میں آہستہ سے اٹھی اور واش روم میں جا کر خود کو صاف کرنے کے بعد الماری سے اپنے پرانے کپڑے نکال کر پہنے اور زمین پر پڑے ہوئے نوٹ اٹھا کر اپنے گریبان میں اڑس کر بیٹھ گئی۔ دس منٹ بعد وہ اندر داخل ہوا اور میرے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔۔۔اس کے ہاتھ میں سگریٹ دبا ہوا تھا۔ چند لمحے مجھے دیکھنے کے بعد اس نے خاموشی توڑی اور بولا:دیکھ لڑکی اس حویلی کی کوئی بات باہر نہیں جانی چاہیے ورنہ چوہدریوں میں واقعی اتنی طاقت ہے کہ وہ سرِعام سب کے سامنے تجھے ننگا کر کے اپنے کتوں کو کھلا دیں اور کوئی بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ باقی رہ گئی یہ بات کہ میں نے جو تیرے ساتھ کیا اس کی بھنک بھی چوہدری کو لگ گئی تو مجھے تو وہ کچھ نہیں کہے گا لیکن تجھے ننگی کر کے واپس ہم سب کے حوالے کر دے گا۔ پھر تم سارا دن حویلی کے ملازموں کو پھدی دیتی رہو گی۔۔۔اور ویسے بھی تم کسی کو کچھ بتا بھی نہیں سکو گی کیونکہ،،اتنا کہہ کر وہ اٹھ کر چلتا ہوا سامنے پڑی میز تک گیا اور وہاں سے کچھ اٹھا کر واپس آ گیا۔ اور بولا کیونکہ یہاں ہونے والی ساری واردات اس کیمرے میں موجود ہے۔۔۔یہ کہہ کر اس نے اپنا ہاتھ سامنے کیا تو اس کے پاس ایک بڑا سا کیمرہ موجود تھا مجھے دکھا کر اس نے کیمرہ چلایا تو اس میں میری اور اس کی وہ فلم موجود تھی جو چند منٹ پہلے اس نے میری پھدی مارتے ہوئے فلمائی تھی۔ ************************* ایک بات تمہیں اور بتاتا چلوں۔ میرا نام شاہنواز ہے سمجھی اور مجھے دھوکا دینے کا مطلب اس کے ساتھ ہی اس نے ایک انگلی سے گلے پر چھُری پھیرنے کا اشارہ کیا۔ میں منہ سے کچھ نہیں بولی اور خاموش رہی تو وہ مجھے کندھے سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے بولا کہ چلو اب میں تمہیں گھر بجھوا دوں اور ہاں دوبارہ جب بھی آؤ مجھے ملے بغیر واپس مت جانا۔ ورنہ!!!یہ کہہ کر اس نے کیمرے کو تھپتھپایا اور مجھے لیکر کوارٹر سے باہر نکلا آیا۔ گھر پہنچنے سے پہلے پہلے میں خود کو سنبھال چکی تھی۔۔۔گھر داخل ہوتے ہی میں چہرے پر خوشی سجائے ماں سے ملی اور اسے بتایا کہ ماں وڈے چوہدری صاحب نے مجھے انعام دے کر بھیجا ہے اور گریبان سے پیسے نکال کر ماں کو دے کر خود اندر کمرے میں چلی گئی۔ بس اس دن کے بعد میں ان کی مشترکہ پراپرٹی بن گئی ہوں۔۔۔ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی مجھے چودتا ہے۔۔۔کبھی وڈا چوہدری خود تو کبھی اس کا کوئی حرامی پتر۔۔۔اس کے علاوہ تقریباً ہر پھیرے میں واپس آتے وقت وہ کتی کا پٗتر شاہنواز تو لازمی میری پھدی مارتا ہے۔ پھر ایک دن راجو نے نشے کی حالت میں میری گانڈ کا بھی افتتاح کر دیا۔۔۔اور اب تک وڈے چوہدری سمیت سبھی سیال زادے میری پھدی اور گانڈ مار چکے ہیں۔ اس کے علاؤہ اور بھی کئی لڑکیاں ہیں جو اس عذاب سے گزر رہی ہیں۔۔۔اپنی کہانی پوری کر کے وہ اٹھی اور دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑی ہو گئی۔ کمال مجھے معلوم ہے کہ یہ سب جان کر دنیا کا کوئی بھی مرد مجھ سے نفرت کرے گا۔۔۔پر تم ہی بتاؤ کہ اس سب میں میرا کیا قصور تھا۔ مجھ بیگناہ کو تو زبردستی اس راستے پر چلایا گیا۔۔۔اور میں کمزور ہستی چاہ کر بھی کچھ نہ کر پائی۔ اب مجھے عادت سی ہو گئی ہے کہ جب تک میں سیکس نہ کر لوں مجھے چین نہیں آتا۔ تم میری پسند ہو اس لیے میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر تمہارے پاس پہنچی۔۔۔لیکن تم دوسرے مردوں سے مختلف نکلے تم ہمیشہ صرف پیار کرتے رہے کبھی زور زبردستی نہیں کی۔ تو میں نے سوچا کہ جہاں ساری دنیا میرے ساتھ زبردستی یہ سب کر سکتی ہے تو کیوں نہ میں اپنے پیارے دوست کے ساتھ اپنی مرضی سے سیکس کر لوں بس یہ سوچ کر اس دن میں نے ہمارے درمیان کی ساری دیواریں گرا دیں۔۔۔اور تمہیں اپنا لیا اب تم چاہو تم نفرت کرو چاہو تو دھتکار دو مجھے کوئی غم نہیں۔ ************************* (17) کچھ دیر کی خاموشی کے بعد چھیمو بولی:اب میں چلتی ہوں۔۔۔یہ کہہ کر اس نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے کہ میں نے آگے بڑھ کر اسے اپنے بازوؤں میں دبوچ لیا اور اس کے کانوں کو چوم کر بولا:نہیں چھیمو اس میں تیرا کوئی قصور نہیں۔ تم بیگناہ ہو اور میں ہمیشہ ایسے ہی تم سے دوستی برقرار رکھوں گا۔۔۔اور اگر کبھی موقع ملا تو ان سیالوں کو ایسا مزہ چکھاوں گا کہ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔ اب یہ بتاؤ کہ تمہارے دن کب ختم ہوں گے تو وہ مڑ کر میرے گلے لگ کر بولی۔ کمال میرے دوست میں تم پر واری جاؤں۔۔۔میرے ساتھ جو ہوا شاید یہی تقدیر کا کھیل ہوتا ہے۔۔۔پر تم ان سب باتوں کو بھول جاؤ یار وہ بہت بڑے اور خطرناک لوگ ہیں۔۔۔میں نہیں چاہتی کہ تم کسی چکر میں پڑو۔ میں نے جھلا کر کہا چھوڑو ان باتوں کو وقت آنے پر دیکھا جائے گا فلحال مجھے یہ بتاؤ کہ اور کتنے دن ترساؤ گی تو وہ میرے نیم کھڑے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر مسلتے ہوئے بولی بس چار دن اور پھر تیری یہ گھوڑی سواری کروانے کیلئے تیار ہو گی۔ اتنا کہہ کر وہ نیچے بیٹھی اور دوبارہ میرے لن کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔چند منٹ کے جاندار چوپوں کے بعد اس نے مجھے چھوٹنے پر مجبور کر دیا۔ چھیمو میرا سارا منی اپنے حلق سے نیچے اتار گئی۔۔۔دوسری دفع چھوٹنے کے بعد تھوڑی کمزوری محسوس کرتے ہوئے میں لڑکھڑا گیا تو وہ فٹا فٹافٹ آگے ہو کر مجھے سنبھالتے ہوئے بولی۔۔۔اف یار میں بھی کتنی بے وقوف ہوں۔۔۔اب اگلے چار دن تک میں نہیں آؤں گی۔ اب تم بھی خوب کھا پی کر جان بناؤ۔۔۔چار دن بعد ملاقات ہو گی تو خوب جشن منائیں گے۔ اچھا اب تم سو جاؤ میں چلتی ہوں۔۔۔اتنا کہہ کر وہ مڑی اور دروازے سے باہر نکل گئی۔۔۔میں نے جیسے تیسے اٹھ کر اپنے کپڑے پہنے اور چارپائی پر گر گے سو گیا۔ (18) دو دن بعد مجھے دودھ کے ایک آڑھتی سے ملنے لاہور جانا پڑا۔۔۔میں دودھ کی سپلائی کرنے والی گاڑی لیکر ہی لاہور چل پڑا۔۔۔ڈرائیونگ مجھے آتی تھی اس لیے خود ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔اس آڑھتی کا نام میاں اشرف تھا۔ ہمارا سارا دودھ اسی کی ڈیری پر جاتا تھا اور وہاں سے آگے وہ گاہکوں کو سپلائی کرتا تھا۔۔۔دراصل میں اب دودھ کے کام کو بڑھا کر اپنی ڈیری کھولنا چاہتا رہا تھا تو سوچا کہ اس بارے میں ساری معلومات اکٹھی کروں۔۔۔چنانچہ اسی سلسلے میں میاں اشرف سے ملنے لاہور چلا آیا۔ ************************* میاں اشرف سے ملاقات کے بعد میں وہاں سے ایک فرنیچر کی دکان پر چلا گیا اور گھر کیلئے خوبصورت بنا بنایا فرنیچر اور اپنے لیے ایک پلنگ خریدا۔ پیسے ادا کر کے میں نے مالک کو فرنیچر اچھی طرح پالش کر کے گھر بھیجنے کو کہا۔ اس کے بعد میں واپس گاؤں جا رہا تھا کہ مجھے راستے میں ایک گلی کے کارنر پر نادر ایک گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا سگریٹ پیتا ہوا دکھائی دیا۔۔۔میں نے گاڑی ایک سائیڈ پر کھڑی کی۔ خود گاڑی سے اتر کر چلتا ہوا نادر کے پاس پہنچا اس کی پیٹھ میری طرف تھی۔ میں نے پیچھے سے اسی پنجابی سٹائل کا چپھا مار کے خود میں بھینچ لیا۔ وہ میری طرف مڑ کے میرے گلے سے لگ گیا۔۔۔آؤ جی آؤ کدھر دیاں سیراں ہو رئیاں نیں پاپے۔ میں نے اسے بتایا کہ کس کام سے آیا تھا۔ پھر میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ یارا چھوٹی بی بی نوں لے کے آیا واں۔ اوناں نوں ایتھے اپنی کسے سہیلی ول کوئی کم سی تے میں نال آ گیا۔ میں نے پوچھا کہ یار اے چھوٹی بی بی کون اے۔ اس نے بتایا کہ جگر جی وڈے چوہدری صاب دے چھوٹے بھائی چوہدری ظفر سیال دی اکلوتی کڑی اے۔ شبینہ سیال۔ بڑی سوہنی سنکھی پر جڈی سوہنی اوڈی کپتی اے۔ خیر سانوں کی لینا دینا۔۔۔اسی ملازم آں اپنا کم کیتی جاندے آں۔۔۔چھڈ یار ایناں گلاں نوں آ پھڑ دو کش لا۔۔۔اتنا کہہ کر اس نے ایک سگریٹ سلگا کر میری طرف بڑھایا جسے میں نے پکڑ لیا۔ کبھی کبھار نادر کے ساتھ مل کر ہی میں بھی دو چار کش لگا لیا کرتا تھا۔ ہم لوگ نادر والی گاڑی سے ٹیک لگائے سگریٹ پیتے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ نادر بولا یار تم رکو میں وہ سامنے ہوٹل کے واش روم میں چھوٹا پیشاب کر کے آیا۔۔۔بس دو منٹ میں آتا ہوں۔ یہ کہہ کر نادر لمبے لمبے قدم اٹھاتے سامنے ایک ڈھابے نما ہوٹل کی طرف چلا گیا۔ میں وہیں گاڑی سے ٹیک لگائے کش لگاتے ہوئے دھواں چھوڑ رہا تھا کہ اچانک پیچھے سے ایک تلخ آواز میرے کانوں تک پہنچی۔ جاہل،گنوار،پینڈو۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی جو کہ نہایت ہی خوبصورت لباس میں ملبوس تھی۔۔۔ماتھے پر تیوریاں لیے مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ میں نے دل میں سوچا کہ ہو نا ہو یہی شبینہ سیال ہے۔۔۔لیکن اس کے الفاظ مجھے انتہائی برے لگے تھے۔۔۔تو میں بھی ترکی بہ ترکی بولا۔ یہ تم نے جاہل گنوار اور پینڈو کسے بولا ہے۔۔۔تو وہ دانت پیستے ہوئے بولی کیا تمہیں یہاں کوئی اور نظر آ رہا ہے۔۔۔نہیں نا اس کا مطلب تمہیں ہی بولا ہے۔ میں بھی تیوری چڑھا کر بولا۔۔۔او لڑکی ذرا تمیز سے بات کر۔۔۔اگر میرا دماغ گھوم گیا تو تیرا دماغ ٹھکانے لگا دوں گا۔۔۔شاید اسے آج تک کسی نے ایسے منہ توڑ جواب نہیں دیا تھا تو وہ دھاڑتی ہوئی بولی۔ اپنی بکواس بند کرو گندی نالی کے کیڑے۔۔۔تم لوگوں کی اوقات ہی بس اتنی ہے کہ گندی نالی میں سڑتے رہو۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا مجھے کسی نے بازو پکڑ کر پیچھے کھینچا تو میں نے دیکھا کہ مجھے کھینچنے والا نادر تھا۔۔نادر بولا او یار ایہہ کی کر ریا ایں۔ ایہو چھوٹی بی بی اے۔ ساتھ ہی وہ آگے آ کر بولا چھوٹی بی بی ایہہ میرا دوست اے۔۔۔اپنے ای پنڈ دا ہے۔ غلطی ہو گئی تے میں معافی منگدا آں۔ تسی غصہ نہ کرو۔ وہ چلاتے ہوئے بولی اس کو تو وہ مزہ چکھاؤں گی کہ یاد رکھے گا۔۔۔اتنا کہہ کر وہ گاڑی میں بیٹھنے لگی۔۔۔تبھی میں نے بھی جواب دیا۔ کمال پاشا ہے نام میرا۔ تمہاری حویلی سے تھوڑا ہی دور رہتا ہوں۔۔۔جب بھی مزہ چکھانا ہو آ جانا۔ وہ کچھ نہیں بولی بس شعلہ بار نگاہوں سے مجھے گھورتی رہی۔۔۔نادر نے میرے آگے ہاتھ جوڑے اور مجھے وہاں سے جانے کو کہا۔ ساتھ ہی نادر مڑ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے چل پڑا۔ چھیمو کی بربادی اور سیالوں کے ظلموں کی داستان سن کر میں پہلے ہی غصے میں تھا۔۔۔اوپر سے اس سیال زادی کی بکواس اور تپا گئی۔ ************************* (19) اگلے دن شام کے وقت میری زمینوں پر کام کرنے والے سارے مزدور اکٹھے ہو کر گھر پہنچ گئے۔ میں صحن میں بیٹھا ابو سے باتیں کر رہا تھا کہ کسانوں کو دیکھ کر میں چارپائی سے اترا اور آگے ہو کر پوچھا۔۔۔اپ سب لوگ اکٹھے ہو کر آئے ہیں۔۔۔مطلب کوئی گھمبیر صورتحال کا سامنا ہے۔ وہ سب یک آواز ہو کر بولے کمال باؤ ایناں سیالاں نے تنگ کر ماریا۔۔۔آئے دن نہر دے پانی دا رخ موڑ کے اپنی زمین ال کر لیندے نیں۔ اج وی ساڈی واری سی تے اوہناں نیں پانی نوں کاوا کٹ کے اپنی زمین ال موڑ لیا۔ اسی اکٹھے ہو کے اوناں نال گل کیتی تے موقع تے موجود راجو تے نور سیال نے چاچے اکبرے نوں تھپڑ مارے اور ٹھڈے شڈے وی مارے۔ میں ان کی باتیں سن کر ایک دم پریشان ہو گیا۔۔۔پھر پوچھا اب چاچا اکبر کہاں ہے نظر نہیں آ رہا تو انہوں نے بتایا کہ مار کھاتے وقت چاچا بیہوش ہو گیا تو دو آدمی اس کو ڈسپنسری لے گئے ہیں۔ میں نے اسی وقت کمرے میں جا کر اپنی بندوق نکالی اور غصے میں باہر نکلا تو ابا جان جو کہ ساری بات سن چکے تھے مجھے روکتے ہوئے بولے نہیں پتر نہیں اس کو رہنے دو اور اپنا دماغ بھی ٹھنڈا رکھو۔ اس مسئلے کا حل میں نکالتا ہوں۔۔۔میں نے جواب دیتے ہوئے کہا لیکن ابو جی آپ ان سیالوں کو نہیں جانتے!!!تو ابا ایک دم گرج کر بولے اوئے چپ کر اب تم مجھ سے بڑا ہو گیا ہے جو آگے سے غوں غٹر کر رہا ہے۔۔۔ایک دفعہ کہہ دیا نا کہ میں اس معاملے کو دیکھتا ہوں۔۔۔بس تم اندر جاؤ اور گھر سے باہر نہیں نکلنا یہ میرا حکم ہے۔ پھر وہ کسانوں کی طرف مڑ کر بولے چلو آؤ میں دیکھتا ہوں۔۔۔اتنا کہہ کر ابو کسانوں کے ساتھ چلتے ہوئے باہر نکل گئے اور میں بے بسی سے وہیں کھڑا رہا۔۔۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ اب اگر ابو کے منع کرنے کے باوجود میں وہاں گیا تو پھر میری خیر نہیں۔ تقریباً تین گھنٹے بعد ابو کی واپسی ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ سب معاملہ ٹھیک ہو گیا ہے۔ پانی کا ٹائم ٹیبل بھی سیٹ ہو گیا اور چاچے اکبر کے علاج معالجے کے علاوہ ہرجانہ کے طور پر بیس ہزار روپیہ اس کو ادا کر دیا گیا ہے سیالوں کی طرف سے۔ پھر مجھے سمجھاتے ہوئے بولے:سن پتر!تمہارا جوان خون ٹھاٹھیں مارتا ہے۔۔۔لیکن خون کی گرمی سے یہ معاملات نہیں سلجھائے جا سکتے۔ ویسے بھی وہ لوگ پاورفل ہیں۔۔۔اب گاؤں میں الیکشن بھی شروع ہو رہے ہیں اور سیال فیملی کا بھی ایک امیدوار لازمی ہو گا۔ اس لیے ہر وقت ٹھنڈے دماغ کے ساتھ سوچ کر چلنا پڑتا ہے۔۔۔اور میں ان کی باتیں سنتے ہوئے اندر ہی اندر ابل رہا تھا کہ اب ابو کو کیسے سمجھاؤں کہ ان سیالوں کی پوری نسل ہی کنجر زنی پر مشتمل ہے!!!پر اب ظاہری سی بات ہے کہ چھیمو کی سنائی ہوئی کہانی تو ابو کو سنا نہیں سکتا تھا اس لیے غصہ دل میں دبائے خاموش ہو گیا۔ آج رات چھیمو بھی نہیں آئی تو میں کروٹیں بدلتے بدلتے سو گیا۔ (20) اگلے دن صبح میں زمینوں کا چکر لگا رہا تھا کہ نادر سے ملاقات ہو گئی۔ وہ مجھے ہی ڈھونڈھتا ہوا وہاں آیا تھا۔۔۔گلے ملنے کے بعد بولا یار کمال مینوں پتہ لگیا کہ کل تواڈے ہاریاں دا سیالاں نال کوئی پنگا ہو گیا سی۔ میں دانت چباتے ہوئے بولا کہ نہیں یار ایسی بات نہیں انہوں نے پانی بند کیا تو ہاری ان سے بات کرنے گئے تو وہاں انہوں نے ایک بزرگ کو مار پیٹا۔۔۔ہمیں پتہ چلا تو بابا جان نے مجھے گھر روک کر خود پنچایت بلائی اور پانی کا ٹائم ٹیبل بھی سیٹ ہو گیا اور بزرگ ہاری کو ہرجانہ بھی مل گیا۔۔۔اچھا یار پرسوں بی بی نال وی رولا بن گیا سی پر میں راستے اچ بی بی نوں سب سمجھا دتا کہ غلط فہمی نال سب ہویا۔ اور تو میرا یار ایں۔ بی بی دا غصہ وی ٹھنڈا ہو گیا۔۔۔چل دفع مار ایناں گلاں نوں۔۔۔میں تینوں ایہہ دسن آیا سی کہ میں چند دن واسطے کراچی جا ریا۔ وڈے چوہدری صاحب دا کوئی کم پھَسیا کھڑا۔۔۔توں میرا ویر پچھوں میری بوجھائی شمسہ دا خیال رکھیں۔۔۔ویسے تے نال آلی چاچی رحمتے ہر ویلے شمسہ کول وڑی ریندی اے پر فیر وی توں چکر مار لیا کریں۔ میں نے پوچھا کہ کب جا رہے ہو تو وہ بولا کہ بس گھر جا رہا ہے اور روٹی کھا کر شمسہ کو بتا کر کراچی کیلئے نکل جائے گا۔۔۔پھر وہ مجھے احتیاط کرنے اور سیالوں سے دور رہنے کی تلقین کر کے چلا گیا۔ شام کے وقت فرنیچر والی گاڑی بھی آ گئی۔۔۔گاڑی کے ساتھ لڑکوں نے مل کر سارا فرنیچر اتار کر گھر میں مختلف جگہوں پر رکھا۔ میرا بیڈ میں نے اپنے کمرے میں رکھوایا اور ان لڑکوں کو ادائیگی کر کے واپس بھیج دیا۔۔۔امی،ابو اور بینا سب کو فرنیچر بہت پسند آیا۔ میں نے بینا کو چھیڑنے کی خاطر کہا بینا تجھے تیری شادی پر اس سے بھی ذیادہ خوبصورت فرنیچر لا دوں گا۔۔۔میری بات سن کر بینا نے سر جھکایا اور شرماتے ہوئے اندر امی کے کمرے میں چلی گئی۔ میں امی ابو کے پاس بیٹھ کر بینا کی شادی بارے میں بات کرنے لگا کہ اب بینا بڑی ہو گئی ہے اس کیلئے کوئی اچھا سا لڑکا ڈھونڈتے ہیں۔۔۔پھر تھوڑی دیر تک اسی موضوع پر باتیں ہوتی رہیں۔ ************************* (21) رات کو میں اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹا ہوا تھا کہ چھیمو آن وارد ہوئی۔۔۔مجھے کمرے میں موجود پا کر وہ تیر کی طرح میرے پاس آئی۔ آتے ہی وہ میرے گلے لگ گئی۔۔۔اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے جوڑ دیے۔۔۔اچھی طرح ہونٹ چوسنے کے بعد وہ مجھ سے الگ ہوئی اور میرے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ کر بولی۔۔۔کمال میری جان یہ بتاؤ کہ پرسوں چھوٹی بی بی شبی ساتھ تیرا کیا پھڈا ہوا تھا۔ میں نے حیرانگی سے پوچھا کہ تجھے کیسے پتہ چلا تو وہ بولی کہ بعد میں بتاتی ہوں پہلے جو پوچھا اس کا جواب دو۔۔۔میں نے اسے ساری بات بتائی کہ کیسے شبینہ نے بلاوجہ ہی بکواس کی تو اس نے بتایا کہ شبینہ کے بکواس کرنے کی وجہ یہ تھی کہ تم چونکہ اس کی گاڑی سے ٹیک لگائے سگریٹ پی رہے تھے اور وہ نہایت نفاست پسند لڑکی ہے۔۔۔اوپر سے انتہائی لاڈلی اور نک چڑھی بھی!!!تو اس لیے وہ برداشت نہ کر پائی اور بکواس کر گئی آگے سے منہ توڑ جواب ملنے پر بھڑک گئی۔ اب مصیبت یہ بنی کہ رات کو اس نے ساری بات راجو سیال کو بتا دی۔۔۔اب راجو موقع کی تاڑ میں ہے۔ یہ سب انتہائی کینہ پرور لوگ ہیں۔۔۔تم میری جان اپنا خیال رکھنا۔۔۔میں بے پروائی سے بولا چھوڑ اس گشتی کے بچے کو جب مجھ سے ٹکرائے گا تو اسے دکھاؤں گا مردانگی کسے کہتے ہیں۔ اب جلدی سے آ جا دیکھ کتنے دنوں سے میں بھوکا ہوں۔۔۔یہ کہہ کر میں نے اسے کھینچ کر اپنے اوپر لٹا کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے چوتڑ دبانے شروع کر دیے۔۔۔وہ ایک دم مچل کر اٹھی اور بولی۔۔۔ارے یار میں تو بھول ہی گئی۔۔۔آج میں اکیلی نہیں آئی ہوں۔۔۔تجھے کسی سے ملوانا ہے۔۔۔میں نے حیرانی سے پوچھا۔ کیا مطلب کِس سے ملوانا ہے تو وہ بولی یاد ہے نا اس دن جب میں نے تمہیں سٹوری سنائی تھی تو اس لڑکی کا ذکر کیا تھا جس کو میرے ساتھ ہی سیالوں نے خراب کیا تھا۔۔۔تو میں بولا ہاں ہاں بتایا تھا وہ خوبصورت لڑکی۔ بھلا سا نام تھا اس کا یہ کہہ کر میں اس کا نام سوچتے ہوئے بولا ہاں یاد آیا رضیہ عرف راجی۔ کیوں کیا وہ تمہارے ساتھ آئی ہے۔۔۔تو چھیمو میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی کہ ہاں آج وہ میرے ساتھ آئی ہے۔۔۔میری طرح وہ بھی سیالوں کی زور زبردستی سے بہت تنگ ہے مگر سیکس کی بھوک اس میں بھی بہت ذیادہ ہے۔ جب میں نے اس کی حالت دیکھی تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے اسے تمہارے بارے میں بتایا کہ کس طرح تم سے دوستی ہوئی اور ہم سیکس تک پہنچے اور تم کیسے بھرپور انداز میں سیکس کے مزے دیتے ہو۔ بس یہی سن کر وہ مچل اٹھی۔۔۔نتیجتاً اب وہ میرے کمرے میں انتظار کر رہی ہے۔۔۔یہ سن کر میری باچھیں کھل اٹھیں اور میں بولا کہ جاؤ اسے بھی لے آؤ۔ چھیمو اٹھ کر باہر نکل گئی جبکہ میں نے اٹھ کر اپنے کپڑے اتارے اور خود ننگا ہی بیڈ پر سیدھا لیٹ کر اپنے نیم مردہ لن کو ہاتھ میں پکڑ کر مسلنے لگا۔ چند منٹ بعد ہی چھیمو کے ساتھ چادر میں لپٹی ایک لڑکی اندر داخل ہوئی۔۔۔چھیمو نے پلٹ کر دروازے کی کنڈی لگائی اور سیدھا میری طرف آتے ہوئے اپنے کپڑے اتار کر پوری طرح ننگی ہو گئی۔ پاس آ کر چھیمو نے میری آنکھوں میں دیکھا اور پھر مڑ کر اس لڑکی سے بولی چل راجی آ جا۔۔۔میرا کمال ہم دونوں کے بارے میں سب جانتا ہے پھر دیر کس بات کی۔۔۔اتنا کہہ کر چھیمو بیڈ پر چڑھ آئی اور آتے ہی میرے اوپر لیٹ کر میرے ہونٹوں کو چوسنے لگی۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے راجی کو اپنی طرف بلایا جو کہ ابھی بھی چادر لپیٹے اپنی جگہ پر کھڑی تھی۔ میرے اشارہ کرنے پر وہ آگے بڑھی اور بیڈ کے کنارے پر ٹک کر بیٹھ گئی۔۔۔میں نے چھیمو کو اوپر سے ہٹایا اور اٹھ کر راجی کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچنا چاہا تو وہ تھوڑا بدک اٹھی۔ یہ دیکھ کر چھیمو بولی راجی کیا بات ہے کیوں اتنا پریشان ہو رہی ہو۔۔۔تم نے آج تک صرف چوہدریوں کے دھکے کھائے ہیں۔۔۔آج تمہیں میرا دوست کمال بتائے گا کہ اصلی مرد کا پیار کیا ہوتا ہے۔ اس لیے بلکل اطمینان سے بیٹھو اور ان لمحات کو پوری طرح انجوائے کرو۔ اچھا لاؤ میں تمہاری مدد کرتی ہوں!!!یہ کہہ کر چھیمو نے آگے بڑھ کے راجی کے کپڑے اتارنے شروع کر دیے۔۔۔چند لمحات بعد ہی راجی میرے سامنے ننگی کھڑی تھی۔۔۔کالے رنگ کی برا کھولنے کے بعد راجی کے بڑے بڑے گول مٹول ممے اچھل کر باہر نکل آئے۔ اس کے ممے چھیمو سے تھوڑے چھوٹے تو تھے لیکن اٹھان بھرپور تھی۔۔۔اب راجی نے ہمت کی اور قدم بڑھا کر بیڈ پر چڑھ آئی۔ *********جاری ہے*********
  18. معذرت یارو۔۔۔ کل کا دن انتہائی مصروف ترین دن تھا اوپر سے یہاں کی گرمی۔۔۔ اف،توبہ 47 ٹمپریچر تھا اور اتنی گرمی میں مت وج گئی۔۔۔میں بھول ہی گیا کہ کل کا میرا وعدہ تھا۔۔۔بہرحال آج شام تک اپلوڈ ہو جائے گی۔۔۔
  19. @waji بھائی سٹوری پسند کرنے کا شکریہ۔۔۔ صرف دو دن انتظار کریں اس کی اپڈیٹ پوسٹ ہو جائے گی۔۔۔
  20. @Cutesmile آپ کو سٹوری پسند آئی۔۔۔ بھائی تیری بڑی مہربانی۔۔۔ ارے نہیں یار میں پردیس کے مقابلے کہاں۔۔۔ فیصل بھائی برسوں سے لکھ رہے ہیں اور میں نے اب شروع کیا ہے۔۔۔ بہرحال سٹوری شروع کی ہے تو پوری تو لازمی ہو گی۔۔۔اور دو دن میں اس کی اگلی اپڈیٹ پوسٹ کر دی جائے گی۔۔۔
  21. مجھے آپ کے اس فورم پر کسی کے میسیج کو رپلائی مطلب ٹیگ کرنا نہیں آ رہا۔۔۔ کیا کوئی میری راہنمائی کرے گا۔
  22. جی جی بلکل اپڈیٹس آتی رہیں گی بس ابھی کچھ دن کافی مصروفیت ہے کام پر۔۔۔ نوکری پیشہ آدمی ہوں تو تھوڑا آگے پیچھے ہو سکتا ہے سہی سے ٹائم فریم نہیں دے سکتا پر ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ دوستوں کو بہت ذیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔۔۔
  23. جی جناب۔۔۔ آپ کی بات بلکل ٹھیک ہے پر اور بھی غم ہیں زمانے میں اس کے سوا۔۔۔بہرحال اپڈیٹس آتی رہیں گی
  24. لگ جا گلے کہ پھر یہ حسین رات ہو نا ہو۔ آہہہ۔۔۔اوہ۔۔۔یس۔۔۔یس۔۔۔فک می۔ ٹھاہ۔۔۔ٹھاہ۔۔۔ڈزن۔ڈزن۔۔کلاشن کوف کی ترتڑاہٹ۔ قیدی نمبر 121۔ اچانک ہی میری آنکھ کھل گئی۔ ************************* (1) رات بڑی سرد تھی۔۔۔یخ بستہ اور ہڈیوں میں اترتی ہوئی۔ دور کہیں مشرق سے بلند ہونے والا پندرھویں کا چاند دھیرے دھیرے تاریک آسمان پر بلند ہو رہا تھا۔۔۔جیسے کوئی گول ،سنہری، گیس بھرا غبارہ کسی بچے کے ہاتھ سے چھوٹ کر اوپر ہی اوپر اٹھتا جا رہا ہو۔ اٹک جیل کے کہنہ سال دروبام چاندنی میں نہاتے چلے جا رہے تھے۔۔۔جگہ جگہ آہنی سلاخیں چمک رہی تھیں۔۔۔اور بیرکوں کے گدلے فرش پر روشن لکیریں سی رینگ رہی تھیں۔۔۔وہی چاندنی جو باغوں میں، کھلیانوں میں، میدانوں میں اور پہاڑوں پر حسن حسن بن کر برس رہی تھی۔اس جیل میں اتری تو پوری جان سے سسک اٹھی تھی۔ میں نے اپنی بیڑیاں سنبھالیں اود فرشی بستر سے اٹھتے ہوئے جیل کا پھٹا پرانا۔ جوؤں اور کھٹملوں سے بھرا ہوا خاکستری کمبل اچھی طرح شانوں پر لپیٹ کر دیوار سے ٹیک لگائی اور بے خیالی میں سلاخوں سے باہر دیکھنے لگا۔ ابھی رات کا آغاز ہوا ہی تھا۔۔۔لیکن یوں لگتا تھا، سورج غروب ہوئے مدتیں گزر گئی ہوں۔۔اور مدتوں سے میں اسی طرح کوٹھری میں بیٹھا سلاخوں سے باہر جھانک رہا ہوں۔اور چاندنی میں یادوں کی بساط بچھا کر کسی نئی چال سے چاندنی کو ہرانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ جیل میں مشقت کے بعد سرِشام چار بجے ہی قیدیوں کو بیرکوں میں بند کر دیا جاتا تھا۔۔۔اس لیے رات قیدیوں کیلئے کچھ زیادہ ہی طویل ہو جایا کرتی تھی۔ اور ہجر کی راتیں تو ویسے ہی لامتناہی ہوتی ہیں۔ایسی ،،ہجر کی راتوں،،میں جب ساون، چاندنی یا بہار کی پیوندکاری ہو جاتی ہے تو ان کا درد بھی بیکراں ہو جاتا ہے۔انسان کے اندر آپوں آپ ہی غم کا کوئی سوتا پھوٹ نکلتا ہے اور وہ جذبات کے اظہار کے لیے بے چین ہو جاتا ہے۔ چلیں!!!میں آپ کو اپنی داستان سناتا ہوں۔ دوستو!!!میرا نام کمال پاشا ہے۔ عدالت نے مجھے اٹھائیس افراد کے قتل کے جرم میں بیس سال قیدِ با مشقت اور پھر سزائے موت سنائی ہے۔ اور میں پچھلے چند سال سے جیل میں اپنی سزا پوری کرتے ہوئے موت کا انتظار کر رہا ہوں۔ میں اس جیل میں کیسے پہنچا اور ایسے کیا واقعات پیش آئے جن کی وجہ سے مجھے یہ سزا ہوئی۔ یہ سب جاننے کیلئے آپ کو میرے ماضی کے دریچوں میں جھانکنا ہو گا۔ ************************* (2) اس وقت میری عمر چالیس سال ہے۔۔۔میرا بچپن لاہور کے قریب ایک قصبہ نما گاؤں ہنجروال چک اکتیس میں گزرا ہے۔۔۔اگر لاہور میں کوٹ رادھا کشن سے رائے ونڈ روڈ پر پتوکی کی طرف جائیں تو چھانگا مانگا سے پہلے میرا گاؤں آتا ہے۔ میرا گھرانہ کل ملا کر چار افراد پر مشتمل تھا۔۔۔میں کمال،میری بہن روبینہ،جس کو پیار سب سب لوگ بینا،بینا کہہ کر بلاتے تھے۔ میری والدہ جو کہ خالص گھریلو خاتون تھیں۔۔۔اور میرے ابا جان جن کا نام جلال پاشا تھا۔۔۔والد صاحب زمین داری کرتے تھے۔۔۔میں سولہ سال کا تھا جب میٹرک کر لیا۔ میٹرک تک تعلیم میں نے اپنے قصبہ میں ہی حاصل کی۔۔۔اس کے بعد میں اپنی زرعی اراضی جو کہ چند ایکڑ پر مشتمل تھی اس زمین پر پل پڑا۔ دن رات وہ محنت کی کہ بہت جلد ہی ہمارے کھیت لہلہانے لگے۔۔۔گھر میں پیسے کی ریل پیل ہوتی گئی۔ صرف دو سالوں میں ہی خوشحالی نے ہمارے گھر کا راستہ دیکھ لیا۔۔۔کھیتوں پر کام کرنے کیلئے چند ملازم رکھ لیے۔ جس کی وجہ سے اب میرے پاس کافی وقت بچ جاتا تھا۔ بچپن سے ہی مجھے نشانہ بازی کا شوق تھا اور یہی شوق مجھے شکار کے راستے پر لے گیا۔ اب فارغ وقت ملتے ہی میں اپنی بندوقڑیاں اٹھا کر دوستوں کے ساتھ نکل جاتا اور اپنے گاؤں یا آس پاس کے دوسرے دیہاتوں میں یا پھر چھانگا مانگا جنگل میں مرغابیاں گراتے رہتے۔ کیونکہ میں بچپن سے نشانہ بازی کے جنون میں مبتلا تھا تو نویں کلاس میں ہی والد صاحب نے مجھے شکار کیلئے رائفل لے دی تھی۔ ویسے بھی اس وقت ہمارے گاؤں اور آس پاس کے دیہاتوں میں سور لاتعداد پائے جاتے تھے۔۔۔ یہ سور آئے دن کسی نا کسی کی فصل اجاڑ کر رکھ دیتے تھے اس لیے انہیں مار بگھانے کیلئے اکثر خوشحال گھرانوں میں اسحلہ پایا جاتا تھا۔ میرے ابا جان کے پاس بھی ڈبل بیرل بندوق تھی۔۔۔وہ بھی اکثر میرے کام آتی تھی۔۔۔ہزار نصیحتوں کے بعد ابا جان نے مجھے میرے شوق کی خاطر ایک رائفل بھی خرید دی۔ میرا نشانہ بہت اچھا ہو چکا تھا۔۔۔مشکل سے مشکل نشانہ میں باآسانی لگا لیا کرتا تھا۔ دوسرا شوق مجھے باڈی بلڈنگ کا تھا۔۔۔اس زمانے میں جمنازیم وغیرہ تو ہوتے نہیں تھے۔۔۔اس لیے اس کام میں استعمال ہونے والی چند چیزیں میں نے لا کر اپنے پاس رکھی ہوئی تھیں۔۔۔اور بلاناغہ باڈی بلڈنگ کیا کرتا تھا۔ شام کے وقت گاؤں کے باہر سے گزرتی نہر میں تیراکی کرنا تو میرا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ لہٰذا زندگی بڑی پیاری گزر رہی تھی۔۔۔شام کو گھر جانے کے بعد بہن کے ساتھ دنیا جہان کی باتیں کرنا اور قصے کہانیاں سنانا بھی روزانہ کا معمول تھا۔ میری بہن تھی ہی بڑی معصوم۔ بھرے بھرے جسم کی مالک۔ گاؤں کی صحیح الہڑ دوشیزاؤں کی طرح اس پر بھی حسن ٹوٹ کر برسا تھا۔ بینا مجھ سے چار سال چھوٹی تھی۔۔۔آٹھویں جماعت پڑھنے کے بعد اس نے تعلیم کو خیر باد کہہ دیا اور امی جان کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے لگی۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد امی اور بینا اپنے کمرے میں سو جاتے۔۔۔جبکہ ابا جان شروع سے ہی بیٹھک میں سوتے تھے۔اور میرا کمرہ گھر کے پچھواڑے میں تھا۔ ************************* (3) کہتے ہیں!!!جب جوانی آتی ہے تو اپنے ساتھ نئی امنگوں کی کہانیاں بھی لاتی ہے۔۔۔اکثر یاروں کے ساتھ مل کر وی سی آر پر سیکس فلمیں دیکھا کرتا تھا۔ پھر رات کو اپنے کمرے میں لیٹنے کے بعد مٹھ مار کر اپنے آپ کو سکون دیا کرتا تھا۔میرا لن چھ انچ لمبائی اور دو انچ چوڑائی کے ساتھ کسی بھی پھدی کے بخیے ادھیڑنے کیلئے کافی تھا۔ پر پھدی ملے تو تب نا۔ میرا تو وہ حساب ہو گیا تھا۔ نہ دل لگدا۔ نہ دا(داؤ) لگدا۔ میں ہر وقت کسی نا کسی لڑکی کو تاڑنے کی سوچتا رہتا پر کبھی عملاً ہمت نہیں پڑی۔۔۔پھر ایک دن میں باہر سے گھر آیا تو گھر میں ایک لڑکی کو دیکھا۔ وہ ننگے سر بینا کے پاس بیٹھی اس سے باتیں کر رہی تھی اور اس کا دوپٹہ اس کے پاس ہی چارپائی پر پڑا تھا۔ اس کا بھربھرایا جسم دیکھ کر میرے دل و دماغ میں بجلیاں سی کودنے لگیں۔۔۔اسے دیکھتے ہی میں اس کی زلفوں کا اسیر ہو گیا۔ ان کے پاس سے گزرتے وقت بینا نے مجھے سلام کیا تو مڑ کر جواب دینے کے بہانے میں نے اس لڑکی کو دیکھا تو یاد آیا کہ یہ تو چاچے فقیرے کی بیٹی چھیمو ہے۔ چاچے فقیرے کا گھر ہمارے پچھواڑے تھا۔۔۔آہاں!!!وہ میرے ابو کا بھائی وائی نہیں تھا۔۔۔بس ایسے ہی گاؤں کے سب لوگ اسے چاچا فقیرا کہتے تھے۔ چند سال پہلے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے سانپ کے ڈسنے سے چاچا کی موت ہو گئی تھی۔۔۔چاچا نے ترکے میں دو عدد بیٹیاں چھوڑی تھیں۔ ایک نجمہ اور ایک چھیمو۔ نجمہ بڑی تھی اور اس کی شادی ہو چکی تھی۔۔۔چھیمو جوان تھی لیکن ابھی تک اس کی شادی تو کیا کہیں منگ بھی نہیں پڑی تھی۔۔۔چھیمو پر مجھے ذیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔۔۔چند دنوں کے آنکھ مٹکے کے بعد وہ خود ہی میری آغوش تک پہنچ گئی۔ بلکل ایسے کہ جیسے وہ خود پہلے سے سوچ کر بیٹھی ہو کہ فدوی لائن مارے اور وہ سواگت کرے۔ چھیمو کے گھر میں صرف چھیمو،اس کی ماں،اور چاچا فقیرے کا بوڑھا باپ یعنی چھیمو کا دادا رہتے تھے۔۔۔چھیمو کی ماں بے چاری سارا دن کام کرنے کے بعد رات کو تھک کر چارپائی پر گِر جاتی تو اسے کوئی ہوش نہ رہتا۔ اس وقت چھیمو چپ چاپ دیوار پھلانگ کر ہمارے صحن سے ہوتے ہوئے میرے کمرے میں آ جاتی۔ اب سوال یہ کہ وہ کیوں میرے کمرے میں آتی تھی؟میں کیوں نہیں جاتا تھا؟تو دوستو ان کا گھر بہت چھوٹا سا تھا۔۔۔تو وہاں کوئی مناسب جگہ نہیں تھی۔ اس لیے چھیمو کو ہی دیوار پھلانگنی پڑتی تھی۔ پہلے پہل تو جپھیاں اور چوما چاٹی تک بات رہی لیکن کب تک دو سلگتے جسم ایک دوسرے سے دور رہ سکتے تھے۔۔۔آخرکار چھیمو کی شلوار بھی اتر ہی گئی۔ اور میں اس کی پھدی سے اپنے لن کو سیراب کرنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ بدھ کی رات تھی۔۔۔چھیمو معمول کے مطابق دیوار پھلانگ کر میرے کمرے میں آئی اور آتے ہی مجھ سے لپٹ گئی۔ ہم دونوں نے اپنے منہ ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیے اور ایک دوسرے کی زبانوں کو چوسنے لگے۔ ************************* زبانیں چوستے چوستے کب کپڑے اتارے اور کس نے کس کے کپڑے اتارے کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔ کچھ ایسے ہیجانی انداز میں یہ سب ہوا کہ میں چکرا کر رہ گیا۔۔۔مجھے ہوش تب آئی جب چھیمو میرے اوپر اکڑوں بیٹھے میرا لن اپنی پھدی کے اندر لیے اچھل رہی تھی۔ میں چھیمو کی گوری ٹانگوں کو تھام کر اسے تکنے لگا۔۔۔جو کہ میری چھاتی پر اپنے دونوں ہاتھ ٹکائے پوری رفتار سے اچھل رہی تھی۔ اس کے منہ سے تیز تیز سسکیاں برآمد ہو رہی تھیں۔آہ۔آہہہ۔اوہ۔افففف۔ لن اس کی گانڈ کی ہر اچھال پر ایسی زوردار ضرب کھاتا کہ میرے جسم کے تمام بال کھڑے ہو جاتے۔چھیمو کے بھاری بھاری ممے ہلتے اور آپس میں ہی ٹکرا کر اتھل پتھل ہو کر رہ جاتے۔ مموں کا اچھلنا تو ہیجان انگیز تھا ہی مگر اصل ہیجان چھیمو کے چہرے کے تاثرات تھے۔ جیسے ہی وہ اپنی گانڈ اچھال کر نیچے جھٹکا مارتی۔۔۔میرا لن پوری رفتار سے اندر جاتا اور لن کے اندر گھسنے سے پھدی میں جو رگڑ پیدا ہوتی,,اس رگڑ سے چھیمو چہرے کے تاثرات ایسے شو کرتی کہ جیسے میرا لن اس کی پھدی پھاڑ کر نکل جائے گا۔ میں بہت ذیادہ دیر اس کے سامنے ٹک نہیں پایا,,اس میں ذیادہ ہاتھ چھیمو کا ہی تھا۔۔۔وہ ایسے ہیجانی کیفیت میں خود کو چدوا رہی تھی کہ تھوڑی ہی دیر میں میرے مساموں سے جیسے دھواں نکلنے لگا۔ مجھے اس کی پھدی کے اندر اپنا لن پھولتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔پھر اچانک میرے لن سے منی کی دھاریں خارج ہونے لگیں۔۔۔میرے چھوٹنے کے ساتھ ہی چھیمو نے ہلنا بند کر دیا اور خود کو کس کے میرے ساتھ چمٹ کر کانپنے لگی۔ (4) چند منٹ بعد چھیمو ایک سائیڈ پر میرے ساتھ ہی چارپائی پر لیٹ گئی۔۔۔تھوڑی سی خاموشی کے بعد بولی۔۔۔کمال تمہارا لن بھی کمال ہے۔ بہت عرصے بعد ایسا تگڑا لن ہاتھ آیا ہے۔ میں اس کی بات سن کر حیرانی سے بولا کہ اس کا مطلب ہے کہ تم پہلے بھی مرواتی رہی ہو۔۔۔تو وہ دانت نکوستے ہوئے بولی۔۔۔ مرواتی رہی ہو کا کیا مطلب میں اکثر لن لیتی ہوں۔۔۔آج بھی شام کو ایک بڈھا لن میرے اندر گیا۔ لیکن میری گرمی نہیں نکال پایا۔۔۔اسے لیے تو میں آج اتنی گرم تھی۔۔۔میں نے جھٹ سے پوچھا کہ پہلے کس کس سے مروائی ہے اور آج والا بڈھا لن کس کا تھا۔ اچانک اسے جیسے کرنٹ سا لگا اور وہ خاموشی سے اٹھ کر کپڑے پہننے لگی۔ کپڑے پہن کر اس نے ڈوپٹہ اٹھایا تو میں نے پھر استفسار کیا کہ چھیمو تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔ وہ میری طرف دیکھ کر شوخی سے بولی،تم چپ چاپ آم کھاؤ نا۔۔۔پیڑ کیوں گنتے ہو۔ اچھا اب میں نکلتی ہوں امی کو بخار ہے کہیں اٹھ ہی نہ جائے۔۔۔یہ کہہ کر اس نے میرے ہونٹوں کو چوما اور دروازے سے باہر نکل گئی۔ میں چند منٹ پڑا سوچتا رہا پھر کندھے اچکا کر کپڑے پہننے لگا کہ لن پر چڑھے مجھے اس سے کیا کہ چھیمو کہاں کہاں سے چدی ہے۔ مجھے صرف پھدی سے غرض ہونی چاہیے۔پہلے ہی سالوں بعد پھدی ملی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ غیر ضروری سوالات کے سبب یہ پھدی بھی ہاتھ سے جاتی رہے۔۔۔کپڑے پہننے کے بعد میں سو گیا۔ اگلی رات پھر وہ آئی۔ پھر وہ روزانہ ہی آنے لگی۔ ہم دونوں بلاناغہ سیکس کرنے لگے۔ چند دن بعد ایک رات وہ ملنے آئی تو اس کے ممے چوسنے کے بعد جیسے ہی میں نے اس کی شلوار اتارنے کی کوشش کی۔چھیمو نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روکتے ہوئے کہا۔ نہیں کمال آج نہیں میرے دن چل رہے ہیں۔ مجھے اس کی بات سمجھ نہیں آئی تو میرے پوچھنے پر اس نے مجھے تفصیل سے سمجھایا کہ کیسے ہر لڑکی کو مہینہ وار چند دن کیلئے خون آتا ہے۔ اور ان دنوں میں اگر سیکس کیا جائے تو بہت سی تشویشناک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ تو میں نے اپنا لن باہر نکال کر اس کے سامنے لہراتے ہوئے کہا کہ چھیمو اب اس کا کیا کروں۔۔۔یہ تو مجھے سونے نہیں دے گا تو چھیمو بولی،میں آج تجھے دوسرے طریقے سے فارغ کرتی ہوں بس دیکھتا جا۔ یہ کہہ کر اس نے مجھے چارپائی پر لٹا دیا اور خود میرے لن کے سامنے زمین پر اکڑوں بیٹھ گئی۔۔میں سمجھا کہ وہ میری مٹھ مارنے لگی ہے۔ پر اس نے جھک کر میرے لن کے ٹوپے کو اپنے منہ میں بھر لیا اور تیزی سے چوسنے لگی۔ میں ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔فلموں میں تو یہ سب دیکھا تھا اور سوچتا تھا کہ گورے ہی یہ کام کرتے ہیں پر چھیمو ایسا کرے گی میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ چھیمو کے منہ میں جتنا لن آ سکا وہ اتنے ہی لن کو منہ میں لئیے چوپے لگاتی رہی۔ پہلی دفعہ میرے لن کو کسی منہ کا ذائقہ چکھنے کا موقع ملا تھا اس لیے صرف پانچ منٹ کے جاندار چوپوں کے بعد ہی میں کانپنے لگا۔ میں نے چھیمو کو اشارہ کیا تو اس نے اپنے ہونٹ اور مضبوطی سے بند کیے اور تیزی سے لن چوستی گئی۔چوستی گئی۔ چوستی گئی۔ یہاں تک کہ میں اچانک اس کے منہ میں ہی چھوٹ گیا۔۔۔ چھیمو میرا سارا منی اپنے حلق سے نیچے اتار گئی۔۔۔میں نے انتہائی حیرانگی سے پوچھا چھیمو یہ کام بھی کرتی ہو تو وہ بولی جانِ من سب چلتا ہے۔ میں نے پھر پوچھا کہ یہ سب کہاں سے سیکھا ہے تو وہ بولی اسی سے سیکھا ہے جس نے مجھے،،اتنا کہہ کر وہ پھر خاموش ہو گئی۔۔۔مجھے اس دن کی بات یاد آ گئی۔ میں نے اٹھ کر اسے گلے سے لگاتے ہوئے پوچھا کہ چھیمو یار بتا نا کہ یہ سب کہاں سے سیکھا پہلی بار کس نے تیری پھدی ماری کہاں ماری کیسے ماری۔ پھر کس کس نے ماری سب تفصیل سے بتاؤ۔ چھیمو نے بے چارگی سے میری طرف دیکھا اور دھیمے لہجے میں بولی۔۔۔کمال تم یہ جان کر کیا کرو گے۔ رہنے دو وہ بہت بڑے لوگ ہیں۔ کہیں بات منہ سے پرائی ہو گئی تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔۔۔پھر میرے بے تحاشہ اصرار پر وہ بولی کہ اچھا اب تو دیر ہو رہی ہے۔۔۔میں کل آؤں گی تو تمہیں سب بتاؤں گی۔میں نے اس سے وعدہ لیا تو وہ وعدہ کر کے چلی گئی۔ ************************* (5) اگلے دن صبح اٹھ کر میں زمینوں پر چلا گیا۔۔۔اب میری زمین دن رات محنت کے بعد چند ایکڑ بڑھ چکی تھی۔ پیسہ ہن کی طرح برس رہا تھا۔ ابا جان نے پاس ہی ایک احاطہ دیکھ کر خرید لیا تھا اور چند بھینسیں خرید کر پال لی تھیں۔ ملازم ہی آ کر بھینسوں کی رکھوالی کرتے اور ان کا دودھ دوہتے تھے۔۔۔پھر یہ دودھ لاہور شہر میں بھیج دیا جاتا تھا۔دودھ کا کاروبار بھی چل نکلا تھا۔۔۔زمینوں پر چکر مارنے کے بعد میں احاطے میں گیا۔ ملازم بھینسوں کیلئے چارہ تیار کر رہے تھے۔۔۔ابا جان دودھ نکلوا کر سپلائی کروانے جا چکے تھے۔۔۔میں احاطے میں ہی بیٹھ گیا۔۔۔ابھی بیٹھا ہی تھا کہ میرا بچپن کا دوست نادر احاطے میں داخل ہوا۔ مجھے دیکھ کر خوشی سے میری طرف بڑھا۔۔۔میں بھی اٹھ کر اس سے گلے ملا اور اسے اپنے پاس بیٹھنے کیلئے چارپائی پر جگہ دی۔ نادر ہمارے گاؤں کے وڈے زمیندار چوہدری مظفر سیال کے ساتھ ہوتا تھا۔۔۔کام وام تو کچھ خاص نہیں تھا بس اس کے کارندوں میں شامل تھا۔ سیالوں کے سب لوگ جدی پشتی زمیندار تھے۔اس گاؤں اور آس پاس کے چند گاؤں میں ان کی سینکڑوں ایکڑ زمین اور لاہور شہر میں بھی ٹرانسپورٹ کا کاروبار تھا۔ سیاسی لوگوں کے ساتھ بھی ان لوگوں کا اٹھنا بیٹھنا تھا۔۔تو ایسے بندوں کو ہمیشہ چند کارندوں کی ضرورت پڑتی ہے تا کہ رعب داب بنا رہے اور اگر کہیں پھڈا ہو جائے تو چیلوں چپاٹوں کی نفری لڑائی میں کام آوے۔ نادر ہنستے ہوئے بولا۔سناؤ جی چوہدری کمال پاشا صاحب کی حال چال نیں جناب دے۔ میں بھی اسی کی ٹون میں بولا:حال تے چال دونوں ای ٹھیک نیں نادرے۔۔۔توں سنا اج ادھر کداں چند نکل آیا۔ تو نادر میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا:کجھ نئیں یار وڈے چوہدری صاحب لاہور گئے تے میں سوچیا چل بھائی نوں ای مل آئیے۔ میں گھر جا ریا سی تے تینوں اندر آندے ویکھ کے سدھا اندر ای آ گیا۔۔۔یہ کہہ کر نادرے نے پہلو بدلا اور اپنی ڈب سے ریوالور نکال کر مجھے دکھاتے ہوئے بولا۔ چھڈ گلاں نوں آ ویکھ یار نواں مال منگوا کے دتا چوہدری صاحب نیں۔ اٹھتیس بور دا ریوالور اے۔ میں نے ریوالور پکڑ کر چیک کیا۔۔۔خالص اسٹیل باڈی کا بنا ہوا تھا۔۔۔نہایت خوبصورت تھا۔۔۔میگزین میں گولیاں بھری ہوئی تھیں۔ میں نے اٹھ کر احاطے میں موجود کیکر کے درخت پر نظریں دوڑائیں تو مجھے اپنے مطلب کی ایک جگہ نظر آ گئی۔۔۔نادرے نے میری نظروں کا تعاقب کیا تو ہنستے ہوئے چارپائی سے اٹھ کر کیکر کے پاس جا پہنچا اور تھوڑا اونچائی کی طرف ایک ٹہنی پر کوئلے سے مارک بنا دیا۔ اونچائی پر اس لیے بنایا کہ کہیں نیچے چلائی ہوئی گولی کسی کو نقصان نا پہنچا دے۔۔۔ میں نے ریوالور والا ہاتھ سیدھا کیا۔ نشانہ باندھا۔ سانس باہر چھوڑتے ہوئے ٹرائیگر دبا دیا۔ ڈززز۔ کی آواز کی کے ساتھ گولی سیدھا مارک کے بیچوں بیچ جا لگی۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے ریوالور نادرے کی طرف اچھال دیا جسے اس نے ہوا میں ہی کیچ کر لیا۔ اچھا ہے نادرے بہت اچھا ہے۔ پھر ہم دونوں چارپائی پر جا بیٹھے۔۔۔اتنی دیر میں ملازم دو گلاس اور لسی کا جگ بھر کر لے آیا۔ کچھ دیر باتیں کرنے اور لسی پینے کے بعد نادرے نے ریوالور اپنی ڈب میں لگایا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔چنگا ویرے ہن مینوں اجازت دے۔ تھوڑا گھر وی چکر لا لواں۔۔۔بھابھی میری راہ ویکھدی ہونی۔۔۔مجھ سے گلے مل کر نادر باہر نکل گیا۔۔۔اور میں بھی وہاں سے نکل کر اپنے گھر کی جانب چل پڑا۔۔۔ ************************* (6) نادر ایک گھبرو جوان تھا۔۔قد کاٹھ میرے برابر تھا۔۔۔بس جسامت میں مجھ سے تھوڑا بھاری تھا۔۔۔جبکہ میرا جسم قدرے چھریرا تھا۔ نادر کے ماں باپ برسوں پہلے فوت ہو چکے تھے۔۔۔اس کے باپ کو ایک رات اچانک دل کا دورہ پڑا تھا اور کسی قسم کی طبی امداد میسر آنے سے پہلے ہی وہ اجل کے حوالے ہو گیا۔۔۔نادر کی ماں اپنے شوہر کی موت کا صدمہ سہہ نا سکی اور دن بدن کمزور ہوتی گئی۔ پھر ایک رات گھر کے تینوں نفوس نادر۔۔۔اس کا بڑا بھائی جمیل اور اس کی ماں سونے کیلئے لیٹے۔۔۔سوئے تو تین تھے لیکن اگلی صبح جاگے صرف دو ہی۔۔۔نادر کی ماں بھی زندگی کے ہر دکھ سے نجات پا گئی۔۔۔ جمیل اس وقت محنت مزدوری کرتا تھا۔۔۔ماں کو دفن کرنے کے بعد جمیل نے اپنے بھائی نادر کی کفالت کا پورا حق ادا کیا۔۔۔جمیل کا نام اس کی شکل و صورت سے پوری طرح میچ کرتا تھا۔۔۔وہ واقعی مردانہ وجاہت کا نمونہ تھا۔۔۔انتہائی حسین و جمیل نین نقش کا مالک تھا۔ جمیل ہماری زمینوں پر ابا جان کا ہاتھ بٹاتا تھا۔۔۔پھر ایک وقت آیا جب ابا جان نے گاؤں کے بزرگوں کی مشاورت سے ساتھ والے گاؤں کے ایک محنت کش کی خوبصورت بیٹی سے جمیل کی شادی کر دی۔۔۔شادی کے بعد جمیل نے دگنی محنت کرنی شروع کر دی۔ اس وقت تک میں یعنی کہ کمال پاشا بھی میٹرک کر چکا تھا۔۔۔اور آپ اپنی زمینوں پر پل پڑا تھا۔۔۔جیسے جیسے پیسہ آتا گیا زمینیں بڑھتی گئیں اور اس منافع میں ہم اپنے ملازموں کو بھی مختلف حیلوں بہانوں کے ساتھ ان کی مدد کر کے حصہ دیتے رہے۔ جمیل کی آمدن بھی بڑھ چکی تھی۔۔۔اس وقت تک نادر بس گلیوں کوچوں میں آوارہ گردی ہی کرتا تھا۔۔۔چونکہ جمیل کا لاڈلہ بھائی تھا تو اس نے کبھی بھی نادر کو کسی کام کیلئے نہیں کہا تھا۔ شادی کے ڈیڑھ سال بعد ہی جمیل پر سعودیہ جانے کا خبط سوار ہوا۔۔۔اس نے تھوڑے تھوڑے بچا کر پیسے جمع کر کے رکھے ہوئے تھے۔ چنانچہ اس نے وہ سارا پیسہ لگا کر سعودیہ کا ویزہ لگوایا اور محنت مزدوری کر کے سہانے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے سعودیہ چلا گیا۔ پہلے ہی مہینے اس نے اچھے خاصے پیسے گھر بھیجے۔۔۔سب لوگ خوش تھے۔۔۔ لیکن زندگی نے جمیل کے ساتھ وفا نہ کی اور چند ہفتے بعد ہی کام کے دوران ایک حادثے میں وہ جاں بحق ہو گیا۔ نادر کو یہ اطلاع بہم میں نے ہی پہنچائی تھی۔۔۔کیونکہ اس وقت گاؤں میں ایک سیالوں کی حویلی اور دوسرا فقط ہمارا گھر تھا جہاں ٹیلی فون لگا ہوا تھا۔ سعودی سے جمیل نے ایک دو بار ہمارے گھر ہی کال کی تھی اور ہم نے کسی ملازم کو بھیج کر اس کی بیوی کو بلوا کر اس سے بات چیت کروائی تھی۔ ایک دن میں گھر میں ہی تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔۔۔میں نے کال ریسیو کی تو سعودی سے جمیل کی کمپنی کا کوئی آدمی تھا۔ اس نے بتایا کہ جمیل کی حادثے میں موت ہو گئی ہے۔۔۔چونکہ سعودیہ کا قانون ہے کہ اگر کوئی بندہ مقروض ہو اور مر جائے تو اس کو وہیں سعودیہ میں ہی دفنا دیا جاتا ہے۔ (7) چنانچہ جمیل کو بھی یہیں دفنا دیا گیا ہے۔۔۔میں نے کسی کو بتائے بغیر یہ اطلاع نادر کو دی تو نادر گھنٹوں میرے گلے لگ کر رویا۔ پھر اس نے ہاتھ جوڑ کر میری منت کی کہ جمیل کے مرنے کی بات ابھی میں کسی کو نہ بتاؤں۔۔۔موقع محل دیکھ کر وہ خود ہی اپنی بھابھی کو بتا دے گا۔ نادر اپنی بھابھی شمسہ سے بہت پیار کرتا تھا۔۔۔وہ بھی دیور کو بھائیوں کی طرح ہی چاہتی تھی۔ میں نے نادر کو چپ کروانے کے بعد کہا۔۔۔لیکن نادرے یار جدوں جمیل دا فون نئیں آوے گا تے سارے پریشان ہون گے اودوں کی کریں گا۔ نادر نے اپنا سر جھکا لیا۔۔۔چند منٹ سوچنے کے بعد اس نے سر اٹھایا اور بولا ویرے تو اک کم کر۔۔۔سدھا میرے گھر جا تے شمسہ نوں اطلاع دے چھڈ کہ اوتھے حادثہ ہو گیا تے جمیل بہت بری طرح زخمی ہویا اے۔ ہن اودا علاج چل ریا اے۔۔۔ڈاکٹراں دے مطابق پورے اک سال تک اودا علاج ہووے گا۔۔۔نالے اودا جبڑا وی ٹٹ چکیا اے۔۔۔اس لئی او فون تے گل نئیں کر سکدا۔ ہاں مہینے دو مہینے بعد میں جمیل الوں کوئی خط پتر لکھ کے شمسہ نوں دے چھڈیا کراں گا۔۔۔فیر آہستہ آہستہ موقع محل ویکھ کے اونوں دس دیواں گا۔ تیری مہربانی صرف ہا اک احسان کریں ساڈے تے کہ کسے نوں خبر نا ہووے اصل گل کی اے۔۔۔میں نے کہا:یار نادرے اے بہت مشکل کم اے۔ توں خود شمسہ نوں ہا ساری گل دس۔ باقی میں پردہ پائی رکھاں گا۔ نادر کے جانے کے بعد میں نے سوچا کہ جب شمسہ کو پتہ چلے گا تو وہ روتی ہوئی سیدھا امی کے پاس ہی آئے گی۔پھر کچھ سوچ کر میں نے ابو کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔۔۔اور جا کر ساری بات من و عن ابو کو بتا دی۔ ابو کو بھی جمیل کی موت کا سن کر بہت دکھ ہوا۔۔۔پھر ابو نے بھی کہا کہ ہاں پتر یہی کرنا چاہیے کہ پہلے شمسہ کو ذہنی طور پر تیار کرنا چاہیے۔ دو گھنٹے بعد ہی شمسہ روتی ہوئی نادر کے ساتھ ہمارے گھر پہنچ گئی۔۔۔ابو نے اسے حوصلہ دیا کہ پتر فکر نا کر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کچھ دنوں بعد ہی نادر نے وڈے چوہدری کے پاس ملازمت کر لی۔۔۔کیونکہ گھر کا نظام تو چلانا تھا۔۔۔اسی طرح وقت گزر رہا تھا۔۔۔مہینے دو مہینے بعد نادر مجھ سے جمیل کی طرف سے ایک خط لکھوا کر جس میں اپنی خیر خیریت اور علاج چل رہا ہے کا بتا کے اور ایک دو رومانی مکالمے لکھوا کر خط شمسہ کو دے دیتا تھا اور وہ بھلی مانس دن رات جمیل کی تصویروں کو دیکھتے ہوئے آس لگائے بیٹھی تھی کہ کب اس کا شوہر ٹھیک ہو کر واپس آئے گا۔ یہ تھی نادر کی ساری کہانی۔ ************************* (8) میں یہ ساری باتیں سوچتا ہوا گھر پہنچ گیا۔۔۔گھر جا کر دوپہر کا کھانا کھایا۔ باقی وقت اسی طرح بینا اور امی کے ساتھ دنیا جہان کی باتیں کرتے ہوئے گزار دیا۔ سرِشام ہی ابو گھر آ گئے۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں سو گئے۔۔۔اور میں اپنے کمرے میں لیٹ کر چھیمو کا انتظار کرنے لگا۔ کل جب سے اس نے چوپا لگایا تھا۔۔۔اس کے منہ کے لمس کو یاد کرتے ہی میرا لن فٹافٹ کھڑا ہو جاتا تھا۔۔۔ابھی بھی میں اپنے بستر پر لیٹ کر شلوار اتارے لن کو پکڑ کر سہلا رہا تھا۔۔۔کچھ دیر بعد ہی کمرے کا دروازہ کھلا اور چھیمو اندر داخل ہوئی۔ چھیمو کے کمرے میں آتے ہی میں نے آگے بڑھ کر دروازہ بند کیا۔۔۔کنڈی لگا کر مڑتے ہی چھیمو کے ہونٹوں پر پل پڑا۔۔۔کبھی وہ میری زبان چوستی تو کبھی میں اس کی زبان چوستا۔ ساتھ ساتھ چھیمو نے میرے لن کو پکڑ کر اپنے نرم نرم ہاتھوں سے سہلانا شروع کر دیا۔ میں پہلے ہی کافی گرم تھا اوپر سے چھیمو کی اس حرکت نے مجھے اور گرم کر دیا۔۔۔میں نے کھڑے کھڑے چھیمو کی قمیض اتار کر پھینک دی اور ساتھ ہی اپنی قمیض بھی اتار دی۔۔۔چھیمو کو اپنے ساتھ کھینچتا ہوا چارپائی پر لے گیا۔۔۔میں نے نیچے لیٹ کر اسے اپنے اوپر کھینچ لیا اور اس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔ اس کے ننگے پیٹ نے میرے لن کو دبایا ہوا تھا۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کو شدت کے ساتھ کسنگ اور ایک دوسرے کی زبانیں چوس رہے تھے۔ چھیمو نے مجھے زور سے پکڑا ہوا تھا اور میرے اوپر چِپکی ہوئی تھی۔۔۔ہم دونوں کافی دیر تک ایک دوسرے کے منہ میں منہ ڈال کر ایسے ہی چوستے رہے۔ پھر چھیمو میرے اوپر سے ہٹ کر ایک سائیڈ پر لیٹ گئی اور میں اس کے مموں پر پل پڑا۔۔۔اس کے بھاری بھاری ممے میری نگاہوں کے سامنے تھے۔ میں نے اس کے نپلز کو کاٹنا اور چوسنا شروع کر دیا۔۔۔اب میرا لن پوری طرح سے اکڑ چکا تھا۔ میں سیدھا ہو کر لیٹتے ہوئے بولا۔۔۔چھیمو میری جان اس کا کچھ کر یہ بہت تنگ کر رہا ہے۔ تو چھیمو بولی ابھی لو میری جان۔۔۔اتنا کہہ کر وہ اٹھی اور گھوڑی سٹائل میں ہو کر اپنا منہ میرے لن کے پاس لے آئی اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر میرے لن کے ٹوپے پر ایک کِس کی۔ پھر ٹوپی سے لیکر لن کے آخری حصے تک چومتی گئی۔۔۔کچھ لمحے ایسے ہی چومنے کے بعد اس نے اپنی زبان باہر نکالی اور میرے لن کے ٹوپے پر پھیری۔۔۔ساتھ ہی اس نے ایک ایسی حرکت کی کہ مجھے مزہ ہی آ گیا۔ اس نے اپنی زبان کی نوک سے میرے لن کے سوراخ کو گداگدانا شروع کر دیا۔۔۔چند لمحے بعد اس نے لن کے ٹوپے کو پوری زبان کے ساتھ چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔ساتھ ساتھ وہ لن کی ٹوپی کو ہونٹوں میں پکڑ کر سوراخ کو اپنی زبان سے گدگداتی رہی۔ میں تو مانو مزے کی لہروں پہ سوار تھا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چوتڑوں کو دبوچ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ تھوڑا تِرچھی ہو گئی۔۔۔اب اس پوزیشن میں اس کی گانڈ میرے پہلو میں آ گئی۔ میں نے شلوار کے اوپر سے ہی اپنی ایک انگلی کی پور اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر دباتے ہوئے پوچھا۔ چھیمو کیا کبھی گانڈ بھی مروائی ہے تو وہ بولی ہاں کمال یہ راستہ بھی کھلا ہے۔ پر جب تک میرے دن ختم نہیں ہوتے میں گانڈ بھی نہیں مروا سکتی۔۔۔کیونکہ پھدی میں تو پہلے ہی جلن ہو رہی ہے اور گانڈ مرواتے ہوئے بھی درد ہوتی ہے۔۔۔اور میں دونوں جگہ پر ایک ساتھ درد برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ کہہ کر اس نے آہستہ آہستہ میرے پورے لن کو اپنے منہ میں لینا شروع کر دیا۔۔۔میرا لن موٹا اور لمبا بھی تھا تو چھیمو کیلئے پورا لن منہ میں لینا ممکن نہیں تھا۔ اس لیے جتنا ہو سکا وہ منہ میں لیکر چوپا لگانے لگی۔ اس کا منہ اتنا گرم اور چھوٹا سا تھا کہ میرا لن پھنس پھنس کر اندر جا رہا تھا۔۔۔چھیمو مسلسل میرے لن کے چوپے لگا رہی تھی۔۔۔پھر اس کی سپیڈ بڑھتی گئی۔ مجھے اپنے جسم کے سارے مسام پھولتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔اس نے مزید دو منٹ تک میرے لن کے شاندار چوپے لگائے۔ مجھے لگا کہ بس اب میرا پانی نکلنے ہی والا ہے تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر اس کے بال پکڑے اور اپنی گانڈ چارپائی سے تھوڑا اوپر اٹھا کر اپنا جسم کا وزن اپنے پیروں پر ڈالتے ہوئے پوری رفتار سے اس کے منہ کو ہی چودنا شروع کر دیا۔ اس کے منہ سے اوغ،،اوغ،، کی آوازیں نکلنے لگیں لیکن میں ہر چیز سے بے نیاز جھٹکے مارتا گیا۔۔۔میرے ہر جھٹکے پر میرا لن اس کے حلق سے جا ٹکراتا۔ آخری جھٹکا میں نے جان سے مار کر اس کے سر کو اپنے لن پر دبا دیا تو میرے لن کا ٹوپہ اس کے حلق میں جا پھنسا اور وہیں میرے لن نے ہار مان لی۔ منی دھاروں کی شکل میں اس کے حلق میں بہتا جارہا تھا۔۔۔فارغ ہونے کے بعد جیسے ہی میں نے اس کے سر سے اپنا ہاتھ اٹھایا۔ اس نے ایک جھٹکے سے اپنا منہ اوپر اٹھایا اور کھانسی ہوئی اپنا منہ تکیے میں دبا لیا۔۔۔مباداً آواز باہر نہ چلی جائے۔۔۔دو منٹ بعد وہ معمول پر آ چکی تھی۔ (9) میں نے اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لٹاتے ہوئے پوچھا۔۔۔چھیمو میرا یوں کرنا تمہیں برا تو نہیں لگا۔۔۔تو وہ میرے سینے میں اپنا سر دھنساتے ہوئے بولی۔ کمال تمہارا کچھ بھی مجھے برا نہیں لگتا اور ویسے بھی میں تو اس سب کی عادی ہو چکی ہوں۔۔۔میرے ساتھ یہ کونسا پہلی بار ہوا ہے۔ میں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔چھیمو تم نے وعدہ کیا تھا کہ سب بتاؤ گی کہ۔تو وہ میری بات کاٹتے ہوئے تیزی سے بولی،،ہاں بابا ہاں،،مجھے یاد ہے۔ لیکن کمال میں پھر کہتی ہوں کہ باز آ جاؤ یہ سب جاننا تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہو گا۔۔۔میں بھی ضدی لہجے میں بولا ارے کچھ نہیں ہو گا۔ تو وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر اس نے اپنا منہ اوپر اٹھایا اور جیسے خلا میں تکتی ہوئی بولی:یہ آج سے اڑھائی سال پہلے ان دنوں کی بات ہے کہ جب وڈے چوہدری سیال کی سب سے پہلی بیوی کے سب سے بڑے بیٹے نور سیال کی شادی کے دن رکھے گئے تھے۔ میں نے اسے روکا پہلے یہ بتاؤ کہ کیا تم یہ سیالوں کی فیملی کو جانتی ہو تو وہ انتہائی نفرت انگیز لہجے میں بولی۔۔۔میں ان کنجروں کے پورے خاندان کو جانتی ہوں۔۔۔یہی سیال تو میری بربادی کی وجہ بنے ہیں۔ چوہدری مظفر سیال وڈا زمیندار ہے۔ یہی شیطان ابنِ شیطان ہے۔ اس کا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے شیطان کا جانشین چوہدری ظفر سیال۔۔۔دونوں بھائی ایک نمبر کے عیاش اور سفاک انسان ہیں۔۔۔اور یہی سارے گن آگے ان کی اولادوں میں بھی ہیں۔ وڈے چوہدری نے تین شادیاں کی ہیں۔۔۔اس کی پہلی دو عورتیں مر چکی ہیں۔۔۔ایک سانپ کے کاٹے سے مری اور دوسری کار ایکسیڈنٹ میں ماری گئی۔ تو میں بتا رہی تھی کہ نور سیال کی شادی کے دن رکھے گئے تو حویلی کی طرف سے آس پاس کے چند گھروں کو کہلوایا گیا کہ شادی کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کیلئے اپنی لڑکیوں کو بھیج دو۔۔۔وہ سارا دن حویلی میں کام کریں گی اور رات کو واپس جانا چاہیں تو گھر جا سکتی ہیں نہیں تو ان کے وہاں سونے کا بھی انتظام کر دیا جائے گا۔ میں جنم جلی بھی حویلی اور حویلی والوں کی شان و شوکت دیکھنے کیلئے ان کے بلاوے پر چلی گئی۔ حویلی کے مہمان خانے کا سارا انتظام ہم دو لڑکیوں کے ذمہ لگایا گیا۔ ایک میں تھی اور ایک خوبصورت لڑکی جس کا نام رضیہ عرف راجی ہے۔ وہ پہلے سے ہی وہاں موجود تھی۔۔۔وہ لڑکی بھی ساتھ والے گاؤں کے ایک کسان کی بیٹی ہے۔۔۔اور آج کل اس حویلی میں ہی بظاہر خادمہ کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ جبکہ اصل میں وہ سیالوں کے لن ٹھنڈے کر رہی ہے۔۔۔ہمیں وہاں آنے والے مہمانوں کی مہمانداری کیلئے مخصوص کیا گیا۔۔۔وہاں جاتے ہی وہاں موجود ایک ملازم نے ہمیں رسیو کیا اور مہمان خانے میں جانے سے پہلے اپنے ساتھ ایک کوارٹر میں لے گیا۔ کوارٹر میں لے جا کر اس نے ہم دونوں کو نئے سوٹ دیے اور کہا کہ اچھی طرح نہا دھو کر یہ پہن لو۔ وڈے چوہدری صاحب بہت نفاست پسند انسان ہیں۔۔۔وہ اپنے آس پاس کسی قسم کی گندگی پسند نہیں کرتے۔ تم دونوں باری باری اس واش روم میں جا کر نہا لو اور اپنے پرانے کپڑے اتار کر یہ حویلی والے نئے کپڑے پہن لو۔ یہ کہہ کر اس نے کمرے کے ساتھ موجود واش روم کی طرف اشارہ کیا۔ پھر باہر جاتے جاتے بولا کہ اپنے کپڑے طے کر کہ یہیں الماری میں رکھ دینا۔۔۔یہاں سے جاتے وقت یہ نئے سوٹ تم دونوں کے ہی ہوں گے۔۔۔جاتے ہوئے اپنے پرانے کپڑے بھی یہیں سے اٹھا لینا۔ اب جلدی جلدی تیار ہو جاؤ میں یہیں باہر ہی موجود ہوں۔۔۔پھر تم دونوں کو مہمان خانے میں پہنچا دوں گا۔ ہم دونوں جلدی سے تیار ہوئیں اور باہر نکل آئیں۔۔۔وہ آدمی ہم دونوں کو لیکر ایک ہال نما کمرے میں داخل ہوا۔۔۔کمرے میں ہر طرف بیش قیمت فرنیچر سجا ہوا تھا۔۔۔ایک عالیشان بیڈ اور سامنے پڑی ہوئی خوبصورت کرسیاں۔۔۔سامنے دیوار کے ساتھ ٹرالی پر بڑا سا ٹی وی اور وی سی آر بھی پڑا ہوا تھا۔ ہمیں کرسیوں پر بٹھا کر وہ آدمی باہر چلا گیا۔۔۔ہم دونوں اس شان و شوکت کو دیکھ کر مرعوب ہو رہی تھیں۔۔۔اسی وقت دروازہ کھلا اور دو نوجوان اندر داخل ہوئے۔۔۔بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے ایک کا نام نور سیال اور دوسرا اس کا چھوٹا بھائی راجو سیال تھا۔ (10) دونوں سیال زادوں نے ہمارے پاس آ کر ہم سے چھیڑخانی کرنا شروع کر دی۔۔۔میں اس وقت سمجھی کہ ہم دونوں ایک ایسے جال میں پھنس گئی ہیں۔۔۔جہاں سے نکلنا اب نا ممکن نظر آ رہا ہے۔۔۔مختصراً سیال زادوں کے ہاتھوں آج ہماری عزت کا جنازہ نکلنے والا ہے۔ ان دونوں نے ہم دونوں کو دبوچ لیا۔۔۔ہم دونوں چیختی چلاتی رہیں پر جتنا ہم چلاتی تھیں۔ اتنا ہی وہ قہقہے لگاتے تھے۔۔۔دونوں سیال زادوں نے اپنے کپڑے اتار کر ایک طرف اچھال دیے۔۔۔پھر نور سیال نے مجھے اٹھایا اور راجو نے دوسری لڑکی راجی کو۔۔۔ہم دونوں کو بیڈ پر پٹخ کر ہمارے کپڑے پھاڑ ڈالے۔ میں نے مزاحمت کرنے کی کافی کوشش کی لیکن نور سیال نے میرے چہرے پر طمانچے مارے اور مجھے ڈرایا دھمکا کر چپ کروا دیا۔ میرے کپڑے اترتے ہی وہ پاگلوں کی طرح میرے مموں پر ٹوٹ پڑا۔۔۔ممے چوسنے کے ساتھ ساتھ اس نے جانوروں کی طرح مموں کو کاٹنا شروع کر دیا۔۔۔میں تکلیف سے مچلتی رہی۔۔۔دوسری طرف راجی بھی اسی عذاب سے گزر رہی تھی۔۔۔پھر نور سیال نے میرے سر کے پاس آ کر اپنا موٹا ڈنڈے جیسا لن میرے منہ کے پاس کر دیا۔۔۔اور مجھے لن کو منہ میں لینے کو کہا۔ مجھے انتہائی گھِن آئی میں نے انکار کرنے کی کوشش کی تو اس نے نہیں کے انداز میں میرا سر ہلتے ہی ایک زوردار تھپڑ میرے منہ پر رسید کر دیا۔ میں روتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ مجھے چھوڑ دو مجھے گھر جانا ہے۔۔۔تو وہ غراتے ہوئے بولا کہ چپ چاپ میرے حکم پر عمل کرو۔ ورنہ گھر سے تیری ماں کو بھی یہیں اٹھا لائیں گے۔۔۔پھر ماں بیٹی ایک ساتھ چدواؤ گی۔ یہ سن کر میں ڈر سے کانپ اٹھی۔۔۔پھر اس نے دوبارہ اپنا لن میرے ہونٹوں پر رگڑنا شروع کر دیا اور زور زور سے چلانے لگا۔ کھول اپنا منہ جلدی کر۔ میرا لن چوس،،رنڈی کی بچی،، میں نے بے چارگی سے اس کے لن کی ٹوپی منہ میں لی تو مجھے انتہائی گندی بدبو محسوس ہوئی۔ میں نے سانس روک کر اس کا لن منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔اس کا لن میرے منہ میں جاتے ہی وہ بڑے پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا اور بولا شاباش ایسے ہی میری ہر بات مانو اور مجھے اچھی طرح سے مزہ دو گی تو کچھ نہیں کہوں گا بلکہ انعام واکرام دے کر یہاں سے واپس جانے کی اجازت دوں گا۔ کچھ دیر لن چسوانے کے بعد اس نے مجھے بیڈ پر لٹایا اور دوبارہ سے میرے مموں کو چوستے ہوئے اپنے ایک ہاتھ سے میری پھدی کو مسلنے لگا۔۔۔ساتھ ہی اس نے بیڈ پر پڑی ایک بوتل اٹھائی اور اس میں سے تیل نکال کر تھوڑا سا میری پھدی پر گرایا اور پھر اپنے دائیں ہاتھ سے میری پھدی کو مسلنا شروع کر دیا۔ میری آنکھیں بند تھیں اور ان سے لگا تار آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔اسی وقت مجھے اس دوسری لڑکی راجی کی تیز چیخ سنائی دی۔ میں نے گردن موڑ کر دیکھا تو راجو نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھے پر رکھی ہوئی تھیں اور تیز تیز جھٹکوں کے ساتھ وہ اپنا لن لڑکی کی پھدی میں اندر باہر کر رہا تھا۔۔۔اسی دوران اچانک مجھے اپنی پھدی پر پریشر پڑتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔مجھے ایسا لگا کہ جیسے آرے کے ساتھ میری پھدی کو چیرا جا رہا ہو۔ نور سیال کا لن میری پھدی کی دیواروں کو چیرتا ہوا اندر گھستا چلا جا رہا تھا۔۔۔میں نے بلکتے ہوئے نیچے سے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن نور سیال نے مجھے اپنے طاقتور بازوؤں میں جھکڑا ہوا تھا۔ ایک زوردار جھٹکے سے اس کا لن جڑ تک میری پھدی میں غائب ہو چکا تھا۔۔۔میرے منہ سے فلک شگاف چیخیں نکلنے لگیں۔۔۔مگر وہ حرام کا جنا ہر چیز سے بے نیاز میری پھدی میں اپنا لن ڈالے جھٹکے مارتا رہا۔ اس کے ہر دھکے پر مجھے اپنی پھدی میں دھماکے ہوتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔میرے سارے جسم میں درد کی لہریں پھیلتی جا رہی تھیں۔ چند منٹ تک ایسے ہی جھٹکے برداشت کرنے کے بعد نور سیال کے جھٹکوں میں اور تیزی آ گئی اور پھر اچانک نور سیال مجھے چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا اور مجھے الٹی کر کے اپنی سارا گرم گرم منی میری گانڈ کے اوپر نکال دیا۔۔۔ *************************

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.