Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 21/09/21 in Posts

  1. 1 like
    Update 013 عام طور پر اگر دیکھا جائے تو کہانیوں میں کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ہیرو جوان ہوتا ہے اور ایک کے بعد ایک کرکے اس کو چوتیں ملنی شروع ہو جاتی ہیں لیکن حقیقی زندگی اس سے تھوڑی مختلف ہے حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کے اردگرد موجود سبھی لڑکیاں آپ سےچدنے کو بےتاب ہوں مجھے چوت کامزہ تو لگ گیا تھا لیکن صرف ایک ہی بار اس کے بعد سے ہمیشہ جب بھی کوئی اس طرح بنتا کوئی نہ کوئی مسئلہ بیچ میں پڑ جاتا آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا بے چارے منا نے اپنی بہنوں کی چدائی پر چھاپا مار دیا تھا میں آج بھی منا کو دیکھتا ہوں تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے خیر میں جب کمرے میں آیا تو مہوش کا میسج آیا ہوا تھا اس نے بتایا تھا کہ خطرہ ٹل گیا میں اور مہوش ایسے ہی میسج پر باتیں کرتے رہے میں تو لڑکا تھا تو میری اتنی گانڈ پٹی ہوئی تھی وہ دونوں تو بیچاری لڑکیاں تھی مہوش اور نوشین کا بھی ڈر کے مارے برا حال تھا مہوش بار بار یہی کہہ رہی تھی کہ اگر آج پکڑے جاتے تو پتا نہیں کیا ہو جاتا خیر وہ دن کسی نہ کسی طرح گزر گیا میں نے پھر مہوش سے بات کرنے کی کوشش کی اس کو سمجھایا کے بار بار چھاپا نہیں پڑے گا لیکن وہ واقعی بہت ڈری ہوئی تھی خیر میرے بہت سمجھانے پر اس نے کہا کہ کچھ دن ٹھنڈے ہو کر بیٹھ جاؤ میں سمجھ گیا کہ اب کچھ دن اور مٹھ پر ہی گزارا کرنا پڑے گا ایسے ہی دن گزرتے رہے میں نے کئی بار میں بھی مہوش اور نوشین کو منانے کی کوشش کی لیکن دونوں میں سے کوئی بھی نہیں مانی ایک دن مہوش کی امی میرے گھر آئیں ان کے ہاتھ میں مٹھائی کا ایک چھوٹا سا ڈبہ بھی تھا میوش کی امی نے بتایا کہ نوشین کا رشتہ پکا ہو گیا ہے یہ سن کر میرے چہرے پر اداسی چھا گئی بیٹھے بیٹھے ایک اور چوت ہاتھ سے نکل گئی میں اوپر اپنے کمرے میں آیا اور نوشین کو میسج کر دیا مبارک ہو نوشین کا کوئی رپلائی نہیں آیا اسے بھی پتہ تھا کہ یہ بات میں طنز میں کہہ رہا ہوں دن گزر گیا میں سو گیا اگلے دن اٹھا اور اسکول چلا گیا واپس آکر موبائل دیکھاتو اس میں مہوش کا میسج آیا ہوا تھا مہوش نے میسج کیا تھا کہاں ہو میں نے رپلائی کیا گھر پر میسج آیا میرے گھر آؤ میں نے اوکے کا میسج کیا اور مہوش کے گھر کر چلا گیا پہنچ کر میں نے دستک دی تو دروازہ نوشین نے کھولا نوشین مجھے دیکھ کر مسکرائی لیکن میں نے اپنا چہرہ سنجیدہ ہی بنائے رکھا کیونکہ میں اس سے ناراض تھا نوشین دروازے سے ہٹ گئی اور مجھے اندر آنے کا راستہ دیا میں گھر کے اندر پہنچا اندر برآمدے میں لکڑی کے تخت پر مہوش بیٹھی تھی مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ آگئی مہوش نے مجھے اپنے پاس تخت پر بیٹھنے کا اشارہ کیا میں اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا نوشین بھی آ گئی اور میرے سامنے کھڑی ہو گئی نوشین نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پوچھا وقاص تم مجھ سے ناراض ہو؟ میں نے کہا جی نہیں میں کیوں آپ سے ناراض ہونے لگا میں نے یہ بات طنزیہ کی تھی جس کو نوشین بھی سمجھ گئی تھی نوشین آگے بڑھی اور میرا ہاتھ پکڑ کے بیٹھ گئی میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ آپ کا بھائی آئے گا مجھے چلنا چاہیے میں تخت سے اٹھنے لگا تو نوشین نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنی طرف زور سے کھینچا میں سیدھا نوشین سے چپک گیا نوشین کا قد اس وقت قریب میرے برابر ہی تھا ہم دونوں کے ہونٹ آپس میں ملتے ملتے بچے ہم دونوں کے چہرے ایک دوسرے سے بہت قریب تھے نوشی آگے بڑھی اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ہلکا سا چھوڑ کے پیچھے ہو گئی اب میرے اندر آگ بھڑک گئی تھی میں آگے بڑھا اپنے ہاتھوں سے نوشین کا چہرہ پکڑا اور اپنے ہونٹ نوشین کے ہونٹوں پر جما دیئے نوشین نے اپنے ہونٹ کس کے بند رکھے ہوئے تھے اور اپنے ہاتھ میرے سینے پر رکھ کر مجھے دور کر رہی تھی میں گھر سے یہ سوچ کر آیا تھا کہ اگر آج یہ مچھلی میرے ہاتھ سے نکل گئی تو پھر کبھی ہاتھ میں نہیں آئے گی میں کس کرتے ہوئے اپنی زبان اس کے ہونٹوں پر پھیرے جا رہا تھا آخر کو نوشین نے اپنے ہونٹ کھول ہی دیا اب نوشین دیکس میں برابرکا میرا ساتھ دے رہی تھی میں نے نوشین کے چہرے کو چھوڑا اور میرے ہاتھ نوشین کے جسم پر جگہ جگہ بھٹکنے لگے پہلے میں نے نوشین کے مموں کو دبایا اور پھر ہاتھ پیچھے لے گیا پیٹھ کی جانب وہاں سے ہاتھوں کو لکھتا ہوا نیچے نوشین کے چوتڑوں پر لایا اور نوشین کی گانڈ کو پوری طاقت سے دبایا نوشین کے ہونٹ میرے ہونٹوں کے بیچ میں ہی کانپے مہوش سامنے بیٹھے یہ منظر بڑے غور سے دیکھ رہی تھی آخر کو صبر نہیں ہوا اور وہ بھی اٹھ کر ہماری طرف آ گئی میں نے نوشین کے ہونٹوں کو چھوڑا اور فورا اسے مہوش کا سر پکڑ کر اسے کس کرنے لگا مہوش پوری طرح سے گرم تھی اور فورا ہی میرا ساتھ دینے لگی اب میں کس مہوش کو کر رہا تھا لیکن میرے ہاتھ نوشین کی گانڈ پر تھے نوشین پوری طرح مجھ سے چپکی ہوئی تھی تھی اور مہوش میرے دائیں طرف تھی میں نے اپنے ہاتھوں کو نوشین کی کمیض کے اندر ڈالنا شروع کیا اپنے ہاتھوں کو نوشین کے پیٹ پر پھرتا ہوا اوپر کی جانب بڑھانے لگا نوشین مجھے روک نہیں رہی تھی جو کہ میرے لیے بھی حیران کن تھا بھلا ایسی لڑکی جس کی ایک مہینے بعد ہی شادی ہو وہ کیوں اپنا کنواراپن ضائع کروا کے اپنی زندگی برباد کرے گی میں دیر نہ کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو نوشین کے مموں پر لے گیا برا کے اوپر سے ہی مموں پر پہلے ہاتھ پھیرا اور پھر دبایا میرے ہونٹ ابھی مہوش کے ہونٹوں کے بیچ میں تھے مہوش زور سے میرے ہونٹوں کو چوسے جا رہی تھی میرے ہاتھوں میں ایک بہن کے ممے تھے اور ہونٹوں میں دوسری بہن کے ہونٹ
  2. Janab pdf ki 30mb ki file ha,Nai attached hu rhi.to kya kron ab ?
  3. 1 like
    Update 003 یہ میرا پہلا سیکس ایکسپیرینس تھا اِس لیے اب مجھ سے اور زیادہ صبر نہیں ہو رہا تھا اور آگے بڑھتے ہوئے دَر بھی لگ رہا تھا کے کہیں سارا کام ہی نا بگڑ جائے میرا لنڈ کسی روڈ کی طرح کھڑا تھا اور آنٹی کی ٹانگوں کے بیچ پھنسا ہوا تھا میں نے اب اپنے لنڈ کو آنٹی کی ٹانگوں کے بیچ سے آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا آنٹی اب اپنی ٹانگوں کو کبھی ڈھیلا چھوڑ دیتیں اور کبھی ٹائیٹ کر لیتین اب بار میرے برداشت سے باہر ہو گئی تھی لنڈ کی حالت ایسی تھی کے اگر مجھے کوئی دیوار ملتی تو اس میں بھی سوراخ کر دیتا میں نے اپنے ہاتھ آنٹی کے مموں اور گند سے ھٹائے اور آنٹی کی قمیض کے اندر ڈال دیئے اور آنٹی کے پیٹ پر تھوڑی دیر ہاتھ پھیرنے کے بعد اک ہاتھ مموں پر لے گیا جہاں آنٹی کے برا میں قید ممے میرے ہاتھوں کا انتظار کر رہے تھے اور اک آنٹی کی لاسٹک والی شلوار کے اندر ڈال دیا اور دھیرے دھیرے نیچے کرنے لگا شلوار میں ہاتھ ڈالتے ہی میری انگلیاں آنٹی کے چھوٹے چھوٹے بالوں سے ٹکرائیں میں نے کچھ دیر بالوں پر ہاتھ پھیرنے کے بعد ہاتھوں کو مزید نیچے آنٹی کی چوت کے پاس لے گیا جب میں نے آنٹی کی چوت پر ہاتھ رکھا تو کچھ گیلا محسوس ہوا مجھے اس وقت یہ نہیں پتہ تھا کے لڑکی جب گرم ہوتی ہے تو اس کی چوت سے پانی نکلتا ہے اِس لیے مجھے لگا کے آنٹی کا شاید پیشاب نکل گیا ہے خیر میں نے اِس بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا اور تھوڑی دیر آنٹی کی چوت کو نرم ہاتھوں سے مساج کرنے کے بعد آنٹی کی شلوار نیچے کر دی آنٹی کی لاسٹک والی شلوار ان کے گھٹنوں تک آ گئی آنٹی نے اِس بار بھی کوئی مزاحمت نہیں کی بلکہ اُلٹا اپنے ہاتھوں سے میری شلوار کا زارباند کھول نے لگیں آنٹی کی اِس حرکت کو دیکھ کر اب میرا سارا دَر ختم ہو گیا تھا میں نے آنٹی کی قمیض کو اتارنے کے لیے اوپر کیا تو آنٹی نے بھی ہاتھ اوپر اٹھا ڈائی ابھی میں آنٹی کی قمیض اوپر کر ہی رہا تھا کے آنٹی کے گھر کے دروازے پر کسی نے دستک دی آنٹی نے فوراً اپنے ہاتھ نیچے کیے اور اپنی شلوار کھینچ کر اوپر کر لی میں نے بھی فوراً اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور اپنی قسمت کو گلیاں دیتا ہوا دروازے کے پاس چلا گیا جب دروازہ کھولا تو آنٹی کی بڑی بیٹی تھی جو میرے گھر سے اپنے گھر آئی تھی جب وہ اندر آ گئی تو میں اس کے ساتھ اندر جانے کے بجائے سیدھا اپنے گھر چلا لنڈ تو میرا پہلے ہی مُرجھا چکا تھا لیکن چین اب بھی کسی کروٹ نہیں مل رہا تھا میں نے گھر جاتے ہی باتھ روم میں جا کر مٹھ ماری مٹھ مرنے کے بعد کچھ سکون ہوا تو میں آج کی ادھوری چدائی کے بڑے میں سوچنے لگا اور کل کے بارے میں پلان بنانے لگا اب مجھے کل ہر حال میں آنٹی کو چھوڑنا تھا میں سونے کے لیا لیتا لیکن نیند آنے کا نام ہی کہاں لے بار بار ذہن میں آنٹی کو کس اور ان کے ساتھ ہوئی ادھوری چدائی کے خیالات ذہن آ رہے تھے خیر کسی طرح سے رات کٹی اور اب اگلے دن میرا پِھر سے آنٹی کے گھر جانے کا وقت آ ہی گیا کل کی نسبت آج میری زیادہ گند پھٹ رہی تھی کے آنٹی پتہ نہیں کیا بولیں کل جو ہوا اس کا بارے میں اک طرف سے یہ تسلّی بھی تھی کے آنٹی کل خود بھی تو میرا ساتھ دے رہی تھیں لیکن جب دِل میں چور ہو تو دَر تو لگتا ہی ہے میں ان ہی سوچوں کے ساتھ آنٹی کے گھر پوحچا اور دروازے پر دستک دی آنٹی نے فوراً ہی دروازہ کھول دیا اور مجھے دیکھ کر دروازہ کھلا چھوڑ کر اندر چلی گئیں آنٹی کے چہرے پر ہمیشہ اک پیاری سی مسکراہٹ رہتی تھی جو آج غائب تھی میں بھی اندر چلا گیا اور جاتے وقت دروازہ بند کر دیا جب آنٹی کے کمرے میں پہنچا تو آنٹی اپنے بیڈ پر لیتی ہوئی تھیں میں بیڈ پر آنٹی کے پاس ہی بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کے کیا بولوں ابھی میں کچھ بولنے ہی والا تھا کے آنٹی اچانک سے اٹھیں اور اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے سَر کو پکڑ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ ڈائی اور میرے نیچلے ہونٹ کو چوسنا شروع کر دیا مجھے بھی اب سمجھ آ گیا تھا کے لائن کلیئر ہے اور میں کل کی طرح دیر نہیں کرنا چاہتا تھا اِس لیے میں نے فوراً آنٹی کی شلوار میں ہاتھ ڈالا اور آنٹی کی چوت کو زور زور سے اپنی انگلیوں سے مسلنے لگا آنٹی کی چوت آج بھی پانی چور رہی تھی اور میں آج بھی یہی سمجھ رہا تھا کے آنٹی کا پیشاب نکل گیا ہے میں نے اب دیر نا کرتے ہوئے آنٹی کی شلوار نیچے کر دی اور آنٹی نے اپنی ٹانگوں کو اٹھتے ہوئے اک اک کر کے اپنے دونوں پاؤں شلوار سے نکل ڈائی میں نے آنٹی کی قمیض کو اٹھایا تو آنٹی نے ہاتھ اوپر اٹھا ڈائی اور میں نے آنٹی کی قمیض بھی ان کا جسم سے الگ کر دی اب آنٹی صرف برا میں میرے سامنے کھڑی تھیں کل کی نسبت آج آنٹی کی چوت پر اک بھی بال نہیں تھا میں نے آنٹی کے مموں کو آنٹی کے اسکن کلر کے برا کے اوپر سے کچھ دیر دبایا اور پِھر برا بھی اُتَر دیا آنٹی کے بارے بارے ممے بالکل ننگی حالت میں میرے سامنے تھے جس عورت کو میں صرف خیالوں میں سوچ کر مٹھ مارا کرتا تھا آج میرے سامنے ننگی کھڑی تھی آنٹی کے مموں پر لائٹ برائون کلر کے نپلز دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے فوراً آنٹی کا اک نپل منہ میں لیا اور دوسرا اک ہاتھ سے دابانے لگا آنٹی پیار سے میرے سَر کے بالوں میں انگلیاں پھر رہی تھیں آنٹی کے دونوں مموں سے انصاف کرنے کے بعد میں نے اپنے کپڑے اترے اور آنٹی کو بیڈ پر لٹا کر انکی ٹانگوں کے بیچ بیٹھ گیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے آنٹی کو چوت کے ہونٹوں کو کھول کر دیکھنے لگا آنٹی آنکھیں بند کیے لیتی رہیں میں نے چوت کے اندر دیکھا تو انکی ملائم سفید بے داغ چوت کے اندر لال رنگی کی اک جھلی نظر آئی اس کے اوپر اک دانہ جیسا کچھ تھا میں نے دیر نا کرتے ہوئے اپنے لنڈ کو آنٹی کی چوت پر سیٹ کیا اور پوری جان سے دھکہ لگا دیا آنٹی کے منہ سے اک زوردار آہ نکلی اور میں مزے کی انتہا تک پھنچ گیا آنٹی کی چوت کافی گیلی تھی جس کی وجہ سے میرا پورا لنڈ اک ہی بار میں آنٹی کی چوت میں گھاس گیا تھا اِس کے بعد میں نے بغیر رکے زور زور سے آنٹی کی چوت مارنی شروع کر دی اور اور آنٹی نے آہیں بھرنا شروع کر دن مجھے اپنا لنڈ کسی گرم بھٹی میں محسوس ہو رہا تھا میں بنا رکے آنٹی کی چوت مرتا رہا لیکن تھوڑی دیر بعد مجھے اپنی رانوں میں درد ہوتا محسوس ہوا مستقل اک ہی پوزیشن سے چودتے ہوئے میری رانوں میں درد ہو گیا تھا میں رک گیا تو آنٹی نے آنکھیں کھول کے میری طرف دیکھا اور سمجھ گئیں کے میں کیوں رکا ہواں آنٹی فوراً اٹھیں اور میرے سامنے گھوڑی بن گئیں میں نے بھی دیر نا کرتے ہوئے فوراً اپنا لنڈ آنٹی کی چوت میں ڈال دیا اور چھوڑنا شروع کر دیا اِس اسٹائل میں مجھے کچھ زیادہ ہی مزہ آ رہا تھا کیوں کے آنٹی کی چوت پہلے سے زیادہ ٹائیٹ لگ رہی تھی اور انکی گند کا سوراخ بھی میرے آنکھوں کے سامنے تھا میں زیادہ دیر تک خود کو روک نہیں پایا اور آنٹی کے چوت میں فارغ ہو گیا فارغ ہوتا ہی میں بیڈ پر لیٹ گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے جسم کا سارا خون نچوڑ لیا ہو آنٹی کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہیں تھی کچھ دیر یوں ہی لیتا رہنے کے بعد میں اپنے کپڑے پہن کر اپنے گھر چلا گیا میں نے آنٹی کو چود دیا تھا اور اِس چُدائی کی دوران ہم دونوں نے کوئی بات نہیں کی تھی
  4. Ay te bari wadiya gal a ady bhai g
  5. I had paid for 2$ for 1st update of Ahni grift. Now how can i get approval plz guide
  6. أھنى گرفت مكمل كس طرح پڑھ سكتے هيں
  7. 1 like
    update de do bhaii shb
  8. start b buhat acha hey aur story ka tempo b......! thanks Doc Khan for this wonderful story

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.