Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 21/11/20 in Posts

  1. میرا نام صبا تاڑرڑ ہے میرا تعلق حافظ آباد کے ایک گاؤں سے ہے میرے والد صاحب ایک بنک منیجر ہیں والدہ ہاوس واہف ہیے بھائی مجھ سے بڑا ہے وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں فنانس کے شعبے میں منجیر ہے کہانی اس وقت شروع ہوئی جب میری عمر 17 سال تھی اور میرا ایڈمیشن گورنمنٹ کالج آف کامرس گوجرانوالہ میں ہوا جو کہ گوجرانوالہ ڈویژن میں کامرس کی تعلیم کا سب سے بڑا اور پرانا ادارہ ہے وہ ستمبر 2013 کا دن تھا جب میں پہلے دن کالج میں داخل ہوئی میرا داخلہ میرے تایا ابو نے کروایا تھا وہ اس کالج کے سینیر پروفیسر تھے تایا ابو مجھے میری کلاس میں چھوڑ کر آئیے کلاس میں تقریباً 30 سے 35 لڑکیاں تھیں میں بھی جا کر ان کے ساتھ بٹھ گی اور ایک لڑکی میری طرف ہاتھ بڑھایا میرا نام نمرہ اور آپکا میں جھجک تے ہوئے کہا صبا اس نے ساتھ والی لڑکی سے تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ صدف اتنے میں ایک پروفیسر کلاس میں داخل ہوئے اور اپنا تعارف پروفیسر قادر کے نام سے کروایا اور کلاس کو اپنا تعارف کروانے کا کہا تمام لڑکیوں نے اپنا نام اور میٹرک کے کے نمبر بتائے اس کے بعد پروفیسر صاحب بولے کہ اب آپ لوگ باتیں کریں اور کل آپ لوگ 9 بجے آہیں کیونکہ کل آپکی سنیر نے آپ کے لیے ویلکم پارٹی کا انتظام کیا گیا سو انجو یور سلف سارا دن ایسے ہی باتوں میں گذر گیا چھٹی کے بعد تایا ابو کے ساتھ ان کے گھر ہی چلی گئی تایا ابو گوجرانوالہ میں ہی رہتے تھے سیالکوٹ روڈجناح سٹیڈیم کے پاس اگلے دن میں تایا ابو کے ساتھ ہی کالج گی تقریباً 9.30 بجے ہم کار سے اتر ے ہی تھے کہ پروفیسر قادر کی کار بھی آ رکی تایا جی مصافحہ کیا پھر جی نے کہا کہ ڈپٹی آگیا کہ نہیں؟ نہیں وہ پرسوں تک آے گا شاید خیر ہم حال کی طرف چل پڑے تقریب 9بجے شروع ہوی اور 12 بجے تک ختم ہوی اس کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ آپکو کون کون سے پروفیسر لیکچر لیں گے اور ہم گھر آ گے اگلے دن کالج گی تو پہلا لیکچر خالی ہی گذر گیا دوسرے لیکچر میں پروفیسر قادر آیے اور بزنس انفارمیشن ٹیکنالوجی کا لکچر ہوا تیسرا پھر خالی گزر گیا چوتھے انگلش کا پانچواں اردو کا چھٹا پھر خالی گزر گیا دوسرے دن پھر وہی شیڈول چھٹی کے وقت جب میں باہر آیی تو تایا ابو ایک لڑکے ساتھ کھڑے تھے وہ ہنڈا 125 پر بٹھا تھا ہیلمیٹ پہنا ہوا تھا شلوار قمیض میں ملبوس تایا ابو نے کہا کہ کل آو گے تو اس نے کہا جی ضرور پھر تایا جی نے میری طرف اشارہ کیا کہ یہ میری بھتیجی ہے اسے میرے گھر چھوڑ دینا میں نے ایوننگ سیکشن کے 2 لکچرر لینے ہے میں نے حیرت سے تایا جی کی طرف دیکھا تو انہوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں یہ میرا شاگرد ہے میں ڈرتی ہوئے اس کے ساتھ بیٹھ گی اس نے بایک سٹارٹ کی اور ہم چل دیئے 25 منٹ کے خاموش سفر کے بعد ہم گھر پہنچ گئے میں بایک سے اتر کر شکریہ کہا اور اس کا نام پوچھا اس نے کہا کہ نام پوچھ کر آپ نے کیا کرنا ہے میں نے جواب دیا کہ اگر آنٹی نے پوچھا کہ کس کے ساتھ آی ہو تو کیا جواب دوں آپ آنٹی کو بتا دینا کہ ڈپٹی تھا میں اندر گی تو آنٹی نے تایا ابو کا پوچھا تو میں کہہ کے دو لکچر لینے کے بعد آہیں گے تو تم کس کے ساتھ آی ہو آنٹی نے پوچھا تایا ابو کا کوئی شاگرد تھا ڈپٹی نام کا اس کے ساتھ آی ہوں باہر دیکھو اگر وہ یہی ہے تو اس کو اندر بلاو جلدی میں نے گیٹ کھول کر باہر دیکھا تو وہ جا چکا تھا میں نے آ کر بتایا کہ وہ جا چکا ہے تو آنٹی نے فوراً فون کا ریسیور اٹھایا اور کوئی نمبر ڈائل کیا لیکن مطلوبہ نمبر بند جا رہا تھا آنٹی نے فون رکھا اور مجھے کہا کہ تم یونیفارم تبدیل کرو میں تمہارے لیے کھانا لگاتی ہوں میں نے کھانا کھایا اور کچھ دیر آرام کیا جب اٹھی اور باہر آی سامنے ایک لڑکی تایا ابو کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی جب میں ان کے پاس سے گزری تو تایا ابو نے کہا کہ سدرہ اس نے بھی ڈی کام شارٹ ہینڈ میں ایڈمیشن لیا ہے سدرہ نے مسکرا کر کہا کہ اس کا مطلب کہ پروفیسر ارباز کا عذاب بھی ان پر نازل ہوا کہ نہیں اس دفعہ تایا جی مسکرا کر کہا کہ کل پہلا لکچرر ہے اسکا ان کے ساتھ میں کچن میں گیی پانی پیا اور کچھ دیر بعد باہر نکل آئ تایا جی نے مجھ کہا کہ جاو سدرہ کو دروازے تک چھوڑ او میں اسکے ساتھ چل دی اور اس سے پوچھا کہ یہ ارباز کس بلا کا نام ہے سدرہ :ٹھنڈی آہ بھر کر یار وہ دلوں کی دھڑکن ہے اس دیکھ کر دل ڈھڑکنا بھول جاتا تم دیکھو گی تو سمجھ جاو گی خیر یہ بلا بھی ہماری وجہ سے آپ کے گلے پڑی ہے یار ابھی وقت نہیں ہے کل مل کر بتاو گی یہ کہہ کر وہ چلی گئی رات کے کھانے پر آنٹی نے تایا ابو سے کہا کہ دیکھ لیں آج آپکا ڈپٹی دروازے سے واپس چلا گیا ہے اندر نہیں آیا تایا ابو ارے بھی پہلے تو وہ آدمبرج وذیرستان سے 15 گھنٹے کا سفر طے کر کے آیا تھا دوسرا اس نے یونیورسٹی جانا تھا اس لیے اسکو جلدی تھی کل لازمی آے گا آنٹی وہاں خیریت سے گیا تھا اسکا ماموں ذاد اپنے قبلے کا سردار بنا ہے اسکی تقریب تاج پوشی گیا تھا 5 دن کے لیے کل لازمی آے گا اب کھنا کھاو اگلے دن جب پہلا لکچر شروع ہوا تقریباً 3 منٹ کے بعد ایک 20سالہ نوجوان کمرے میں داخل ہو آسمانی کلر کی کاٹن کی شلوار قمیض سیاہ شوز 5فٹ8انچ قد سرخ سفید رنگ سنہری آنکھیں چوڑا سینہ لمبی ناک کالے سیاہ بال چھوٹے چھوٹے ایک طرف کنگھی کیے ہوے ایک مردانہ وجاہت کا مکمّل عکس اسے دیکھتے ہی دل کی ڈھڑکن بے قابو ہو کر رہ گئی آنکھیں جھپکنے ہی بھول گئے اسے دیکھنے میں اس قدر محو ہوے کہ بیٹھنا ہی بھول گئ سب لڑکیاں اس نے اپنے سامنے رکھا ہوا ڈیسک بجا کر تمام لڑکیوں کو ہوش میں واپس لایا اور مجھ کمبخت سدرہ کی بات یاد آئی سچ کہہ تھا کمینی نے اس نے لب کھولے اور کہا کہ میرا آپکے 3 لیکچر ہوں گے پہلا فنانشل اکاونیٹینگ تیسرا انگلش شارٹ ہینڈ اورچھٹا جو پہلے 3 دن ہو گا اصول تجارت کا میرا نام سردار محمد ارباز اسلم ڈوگر ہے اور میں نے اپنا ڈی کام اسی کالج سے مکمل کیا ہے اور آپ لوگوں کے ساتھ تعارف وقت کے ساتھ ساتھ ہوتا رے گا صدف سلیم کون آپ میں سے صدف کھڑی ہوی ادھر آو یس سر صدفکو ایک چابی دی اور کچھ کہا صدف کمرے سے باہر نکل گئی آپ لوگ اپنی اپنی بکس اوررجسٹر نکالو اور لکچرر شروع ہو گیا لکچرر کس کمبخت کو سمجھ آنا تھا اسے دیکھ دیکھ کر دل کی حالت عجیب سی ہو رہی تھی اسی دوران صدف دوبارہ کلاس میں داخل ہوئ چابی اور بکس پروفیسر کو دی پروفیسر نے چابی پکڑی اور جانے کا اشارہ کیا صدف صدف نے پوچھا کہ سر یہ بکس کس کو دینی ہیں (Ab poofesure ko us k nam sa pukra jay ga) ارباز یہ آپکی ہیں آپکے پاپا نے منگوائی تھی مجھ سے (sadaf ka bap saleem college ma principle ka peon tha ya books Arbaz na apni jaib sa khareed kar di thi joo ka uski car ma pari thi our zahir ya kia tha ka us ka bap na la kar di haa) صدف اوکے سر تقریباً 20 منٹ بعد لکچر ختم ہو گیا ارباز باہر نکل گیا تمام لڑکیاں ایک دوسرے سے ارباز کی پرسنیلٹی کی تعریفوں کے پل باندھ لگی خیر دوسرا لکچر ختم ہواپھر ارباز کا لکچرر شروع ہو گیا شارٹ ہینڈ پھر وہی حالت اس سے قبل مجھے عشق پیار محبت کے ناموں نفرت تھی میرے خیال میں یہ عشق پیار محبت نکاح کے بعد مرد عورت کے درمیان پیدا ہوتا ہے لیکن یہ کیا میں خود بار بار اس کو دیکھنا چاہتی ہوں کوئی اور اسے کیوں دیکھے جب کوئی لڑکی یوں پیار بھری نظروں سے اسے دیکھتی میرا دل کرتا ان کی آنکھیں نکال دوں خیر ایسا سوچ سکتی تھی کر کچھ نہیں سکتی تھی خیر چھٹا لکچرر بھی اسی سوچ میں گزر گیا چھٹی ہوئی تو میں تایا ابو کے پاس گئی اور بولی کہ چلیں تایا جی نے کہا کہ تمہیں بتایا تو تھا کہ میرے ایوننگ میں 2 لکچرر ہیں تو تم ڈپٹی کے ساتھ چلی جاو وہ باہر پارکنگ میں تمہارا انتظار کر رہا ہو گا اور سنو وہ آج بایک پر نہیں کار میں آیا ہے وہ گیٹ کے قریب ہی کھڑا ہے کالی ٹویوٹا ایکس ایل آی ہے 10 ماڈل جاو میں جیسے ہی بلاک سے باہر نکل تو مجھے گیٹ کے سامنے کار کھڑی دیکھ گی جیسے ہی میں کار کے نزدیک گی کار کا اگلا دروازہ کھلا میں نے اندر دیکھا تو سامنے ارباز ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھا میں دل میں دعا کی کہ کاش یہ ڈپٹی ہی ہو سر ڈپٹی آپ ہی ہو جی میں ہی ڈپٹی ہوں بیٹھے آپ کو گھر چھوڑ دوں میرے لبوں پر ایک مسکراہٹ آگی اور گاڑی میں بیٹھ گی دروازا بند کیا ارباز نے گاڑی آگے بڑھا دی اور ایم پی تھری آن کر دیا جہاں نواز بلوچ کی آواز میں ایک غزل شروع ہوئی مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں کہ میں کہ یاد تم کو نہ آسکامگر اتنی بات بھی ضرور ہے کہ تمہیں نہ دل سے بھلا سکا یہ غزل بار بار سنتے ہم20 منٹ میں گھر پہنچ گئے کار سے باہر نکلنے سے پہلے میں نے کہا کہ آج آپکو اندر آنا پڑے گا کل بھی آنٹی خفا ہوی تھی اگر آپ نہ بھی دعوت دیتی تو میں نے پھر بھی جانا تھا کیونکہ کل رات میری اچھی طرح کلاس لی ہے آنٹی نے فون پر اور ویسے بھی آج انہوں نے میری فیورٹ ڈش مٹر قیمہ بنیا ہے یہ کہہ کر گاڑی سے اتر کر باہر آیا اور اندر چلا گیا آنٹی نے اسکا حال احوالِ پوچھا پھر کہا کہ تم دونوں ہاتھ منہ دھو لو میں کھانا لگاتی ہوں ہم نے ہاتھ منہ دھویا اور کھانے کی میز پر بٹھ گے اور کھانا شروع کر دیا کھانے کے دوران آنٹی نے ارباز سے پوچھا کہ وزیرستان خیریت سے گے تھے جی آنٹی وہ ماموں یوسف خٹک اپنے قبیلے کی سردار کے عہدے سے سبکدوش ہونے اور ان کے بڑے بیٹے تبریز خٹک قبیلے کا نیا سردار بنے کی خوشی میں وہاں ایک چھوٹا سا جشن تھا تو اپنے سردار بھائی کو تم نے کیا تحفہ دیا ہے ایک بریٹا 9 ایم ایم پستول اورایک ٹویوٹا کمپنی کا فور بای فور ڈالہ ھای لیکس دیا شادی ہو گئی تمھارے اس بھائی کی اگلے سال ہے تم کہو تو میں تمہارے لیے ایک خوبصورت اور دلکش لڑکی ڈھونڈوں وہ تمھارا بہت خیال رکھے گی ارباز کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اپنا رونا صبظ کرتے ہوئے آنٹی جی جو میری دنیا تھی مجھ سے محبت کرنے والی میرا خیال رکھنے والی میری خاطر اپنے سب سے لڑنےوالی جب وہ چھوڑ چکی ہے مجھے تو اب اس دل میں کسی کو بسانا ناممکن سا ہو گیا ہے آنٹی نے ارباز کو اپنے کندھے سے لگاتے ہوئے کہا چپ کر جاو اب میرا بیٹا رونا نہیں جانے والوں کے ساتھ جایا نہیں جاتا وہ اپنی مرضی سے نہیں گی بلکہ وہ قدرت کے قانون کے آگے مجبور تھی اسی بات کی وجہ سے صبر کر رہا ہوں اگر خودکشی حرام نہ ہوتی تو کب کا کر چکا ہوتا اس سے ملنے کے لیے یہ بات کہہ کر وہ نم آنکھوں سے اٹھا اور چلا گیا میں نے بعد میں آنٹی سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے تو آنٹی نے کہا کہ بہت خوش نصیب بھی ہے اور بہت بدنصیب بھی اسکے پیدا ہونے سے 5 ماہ قبل اسکا چچا فوت ہو گیا جسکی 3 ماہ قبل شادی ہوئی تھی پیدا ہوا منہ میں سونے کا چمچ لے کر باپ کی 750 ایکڑ زرعی اراضی ایک فلور ملز ایک راہس ملز5دوکانیں سیٹلائٹ ٹاؤن مارکیٹ میں اور 12 دال بازر میں اور گاوں میں ایک 4 کنال کی شاندار حویلی کا مالک تھا لیکن 2 ہفتے بعد اس کی ماں سلمی فوت ہو گی جو کہ آپ کے پروفیسر قادر کی اکلوتی بہن تھی بعد میں اسکی چاچی گل بدن جو بیوہ ہو گی تھی نے اس کو اپنی گود میں لے لیا وہ اپنی شوہر کی وفات کے بعد بہت اداس رہنے لگی تھی لیکن یہ اسکے لیے کھلونا بن گیا چچی بھتیجے کہ یہ پیار دکھ کر قادر نے اسلم کو گل بدن شادی کا کہا ادھر یوسف نے گلبدن کو اسلم سے شادی کرنے کا کہہ پہلے دونوں نہیں مانے لیکن بعد میں دونوں ہی مان گئے جب 6 سال کا ہوا تو اس نے شازیہ پروفیسر قادر کی بیوی سے اسکی اکلوتی بیٹی ماہرہ کا ہاتھ مانگ لیا خود سب کے سامنے سبھی مسکرا دیے شازیہ نے آگے بڑھ کر اسے پکڑا اور اپنی گود میں بٹھا کر پوچھا کہ تم ماہرہ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہو کیونکہ وہ آپکی طرح بڑی ہو کر بہت خوبصورت ہو گی شازیہ نے اسے پیار سے چوم کر اپنے گلے لگا لیا اور کہا کہ میں اپنی بیٹی کی شادی اپنے اس پیارے سے بھانجے کے ساتھ کروں گی گلبدن نے دیکھتے ہوئے قادر سے اسکی بیٹی کا ہاتھ مانگا اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے قادر اپنی اکلوتی بہن کی اکلوتی اولاد کو کیسے انکار کر سکتا تھا گل باجی میں اپنی اکلوتی بہن کی اکلوتی نشانی کو خود سے کیسے دور رکھ سکتا ہوں مجھے یہ رشتہ منظور ہے اسکے تقریباً 7 ماہ بعد ایک کار حادثے میں اسکے ماں اور باپ دونوں فوت ہو گئے اسکے بعد وہ ایک ہفتہ گاوں میں رہا پھر قادر اسے اپنے پاس شہر لے آیا لیکن یہاں آنے کے بعد یہ بیمار ہو گیا اسکے بیمار ہونے کے 3دن بعد ماہرہ بھی بیمار ہونا شروع ہوگئی دو ماہ کی کوششوں کے بعد دونوں تندرست ہونا شروع ہوے دونوں نے ایک ساتھ سکول شروع کیا اور ایک ہی سکول میں داخلہ لیا پر اہمری تک ایک ساتھ پڑھے بعد میں ارباز اپنے گاوں چلا گیا جہاں اس کے باپ کے دوست صابر نے تمام رشتہ داروں اور گاوں والوں کے سامنے اسکے سر پر اسکے باپ کی پگڑی رکھی اسکے بعد اس نے گاوں میں رہ کر اپنی تعلیم میڑک تک مکمل کی اور گاوں کے معاملات دیکھے اسکے بعد قادر کے چھوٹے بھائی ناصر کے کہنے پر دوبارہ شہر آگیا اور کامرس کالج میں قادر کے پاس داخلہ لے لیا ماہرہ نے ایف اے میں داخلہ لیا صبح ماہرہ کو کالج چھوڑنا اور بعد میں واپس لے کر آنا اس نے اپنے ذمے لیادونوں کے درمیان محبت پھر سے پروان چڑھنے لگی محبت کا عالم یہ تھا کہ ارباز کے تمام کام جسے اس کے منپسندکھانا بنانا اسکے کپڑے خود دھونا اسکے کمرے کی صاف صفای خودکرنا حالانکہ اس کے اپنے تمام کام ملازمہ کرتی تھی کالج جانے سے پہلے اسکا بیگ چیک کرنا یہاں تک کہ اسکے کپڑوں اور جوتوں کی کی خریداری بھی وہ اپنی پسند کرتی تھی دونوں بہت خوش تھے لیکن کس کی نظر لگ گئی اسکی خوشیوں کو کہ ماہرہ بھی ایک حادثہ میں چل بسی بس وہ دن اور آج کا دن یہ کبھی مسکرایا نہیں ڈیڑھ سال ہوگیا ہے اس حادثے کو دو مرتبہ خود کشی کی کوشش کی ہے قادر کے مطابق روز رات کو اسکی تصویر کو سینے سے لگا کر روتا رہتا ہے صبح اکثر اسکی آنکھیں سرخ ہوتی ہیں یہ کہہ کر آنٹی اٹھی اور برتن سمیٹنے لگی میں نے سوچا کہ کیسا دیوانہ ہے کچھ دیر ٹی وئ دیکھا اتنے میں ڈور بیل بجھی میں نے اٹھ کر باہر دیکھا تو سامنے سدرہ موجود تھی کیا حال ہے سدرہ میں ٹھیک تم سناؤ ہاں تو پھر سناو کیا حال ہے دل کا سچ کہا تھا آپ نے دل کی ڈھڑکن وہ میں ہی نہیں بلکہ ساری کلاس کی لڑکیاں اسکی دیوانی ہو گی ہیں آپ بتاو کہ یہ آپ پر کیسے عذاب بنا یار آج سے 3 سال پہلے جب میرا داخلہ کامرس کالج میں ہوا تھا ہمارا بیچ پہلا تھا جس میں لڑکیوں کو ڈی کام میں ایڈمیشن دیا گیا اس سے پہلے لڑکیاں بی کام اور ایم کام داخلہ لے سکتی تھیں ہماری کلاس کو شروع ہوے تقریباً 1 ماہ ہو گیا تھا ہمارا چوتھا لکچر تھا اصول تجارت کا آپکے تایا ابو کا تھا سر کلاس میں داخل ہوئے اور ان ساتھ ارباز بھی تھا سفید شرٹ گرے پینٹ نیلی ٹای جس پر جی سی سی جی کا لوگو تھا بہت خوبصورت لگ رہا تھا ابھی سر کو بیٹھے دو منٹ ہوئے تھے کہ باہر سے کسی پروفیسر نے سر کو باہر بلایا سر اٹھ کر باہر نکل گئے اور ارباز رجسٹر پر کچھ لکھنے لگا اور ہم نے یہ جانے بغیر کے سر باہر دروازے پر موجود ہیں شور مچانا شروع کر دیا 5 منٹ بعد اس نے اٹھ کر زور سے ڈیسک پر ایک ہاتھ مارا تمام لڑکیاں فورا خاموش ہو گی اس کے بعد اس نے کہا کہ یہ قدرتی بات ہے کہ عورت کی زبان جبڑوں کے درمیان کم ہی قید رہتی ہے لیکن آپکو کوئی شرم کوئی حیا ہے کہ نہیں کہ آپکے پروفیسر باہر دروازے پر موجود ہیں اور اتنا شور کر رہی ہیں کہ جسے بندہ سبزی منڈی میں ہے کلاس کے کچھ اصول ہوتے ہیں کچھ آداب ہوتے ہیں آپکے پروفیسر کلاس میں نہیں ہیں اپنا سبق یاد کریں اور آپ ہیں کہ شور کر رہی ہیں کونسا لکچرر ہے آپکا ایک لڑکی نے جواب دیا کہ بھائی اصول تجارت کا اس نے ہم سے کچھ سوالات کیے لیکن کسی کو بھی کوئی جواب نہیں آیا پھر وہ کلاس سے باہر نکلا ہم لڑکیوں شکر کیا چلو جان چھوٹی باہر جا کر اس نے سر سے پتہ نہیں کیا بات کی آور واپس آیا اور بولا کہ آج کے بعد آپکا اصول تجارت کا لکچرر سر آصف کی بجائے میں لوں گا اس نے ہمیں پہلا چیپٹر سمجیا اور ہمیں ہر چیز کی سمجھ آگئی یقین مانو کہ ہمیں 75 فضید لیکچر وہی یاد ہو گیا اس کا پڑھانے طریقہ بڑا زبردست تھا کہ اتنے میں ایک لڑکی عائشہ نے ساتھ والی لڑکی سے باتیں شروع کر دیں سر اسے کھڑے ہونے کا اشارہ کیا آور کلاس سے باہر نکل کا حکم دیا لیکن وہ نہیں نکلی آپکے والد کیا کرتے ہیں جی وہ تھانہ قلعہ دیدار سنگھ میں ایس ایچ او ہیں نذیر چیمہ کی بڑی بیٹی ہو عائشہ حیرانگی سے جی کروں کال آپکے والد کو کہ آپ بڑی بدتمیز ہیں وہ ہر ہفتے والے دن شام 7سے10 بجے تک میرے ڈیرے پر حاضری دیتا ہے گرلز اگر یہ کلاس سے باہر نہ نکلی تو آج کے بعد آپکا کوئی لیکچر نہیں ہو گا اس کے بعد وہ باہر نکل گیا اور اگلے دو لکچرر میں کوئی پروفیسر نہیں آیا اگلے دن پہلے 4 لکچرر میں کوئی نہیں آیا تو تمام لڑکیوں نے مل کر سر شفقت سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ جب تک عائشہ ارباز سے اپنے رویے کی معافی نہیں مانگ تی تب تک کوئی کلاس نہیں ہو گی کلاس میں آکر ہم نے عائشہ کی کلاس لی کہ یا تو وہ سر سے معافی مانگ لے یا پھر اپنا بستہ اٹھائے اور گھر جاہے عائشہ نے کہا کہ وہ مانگنے کے لئے تیار ہے پاپا کو مت بتایا جاے کہ میں نے کلاس میں سر سے بدتمیزی کی ہی ورنہ مجھے بہت ڈانٹ پڑے گی اپنے باپ سے عائشہ اور میں سر آصف کے پاس گئی اور پوچھا کہ سر ارباز کہاں ملیں گے وہ بوائز کے شارٹ ہینڈ بلاک کے کمرہ نمبر 11 میں ہو گا ہم بوائز بلاک میں گیی 2 فلور پر شارٹ ہینڈ بلاک تھا سیڑھیاں چھیڑتے ہی سامنے روم نمبر 11 تھا ہم دروازہ ناک کیا اور اندر داخل ہو گئے اندر کمرے میں کوئی پروفیسر نہیں تھا تمام طالب-علم اپنے اپنے کام میں مصروف تھے کمرے میں سانس لینے کی بھی آواز نہیں تھی اتنی خاموشی ہم نے ایک لڑکے سے بات کی ارباز سے ملنا ہے اس نے اٹھ کر پچھے دیکھا تو ایک لڑکے کو آواز دی شیخ ڈپٹی کدھر ہے شیخ نے کہا کہ وہ رانا عثمان اور رانا احسن اور رضا تارڑ پروفیسر حبیب کے کمرے میں چائے پی رہے ہوں گے اس لڑکے نے جواب دیا کہ آپ بوائز کے پچھے جا کر کرسیوں پر بٹھ جاہی ہم پچھے جا کربٹھ گیی اس نے ولید نامی لڑکے کو ان کو بلانے بھجا وہ لڑکا چلا گیا اور حیرت کی بات یہ کہ اس دوران ایک بھی لڑکے نے ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا اور ہمیں غصہ آرہا تھا کہ ہمیں کیوں نہیں دیکھ رہا چند لمحوں بعد وہ لڑکا واپس آیا اور کہا کہ وہ وہاں نہیں ہیں پیچھے سے ایک آواز آئی کہ کنٹین می دیکھو وہاں ہوں گے ٥منٹ بعد دروازہ کھلا اور ولید کے ساتھ ارباز اور3 لڑکے کلاس میں داخل ہوئے عائشہ نے فوراً اٹھ کر معافی مانگنا چاہی تو اس نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور ہمیں اپنے کمرے میں جانے کا کہا اور خود ہمارے پچھے کمرے میں آگیا کمرے میں آکر عائشہ نے سب سامنے ارباز معافی مانگ لی اور لکچرر شروع ہوگئے 5 دن بعد ہم نے سر مشتاق سے ارباز کے پارٹ ون کے نمبر کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ جناب نے 91فصیدنمبر لے کر پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے اور دو ہفتے قبل بورڈ کی جانب سے یورپ کے 5 ممالک کی سیر کر کے آئے ہیں اس کے بعد اس نے ہمارا شارٹ ہینڈ آور فنانس اکاؤنٹینگ کا لکچرر لینا شروع کر دیا لیکن ایک بات تھی کہ کافی لڑکیوں نے اسے محبت بھرے خط لکھے لیکن اس نے کسی کا جواب نہیں دیا اسے ہی ہمارا تعلیمی سال مکمّل ہوا امتحان دیا آور تمام کلاس اچھے نمبر کے ساتھ پاس ہو گی اور ارباز نے اس دفعہ پھر بورڈ میں 90فصیدنمبر کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی اس کے بعد اس نے پنجاب یونیورسٹی گوجرانوالہ کمپیس میں شام کی کلاس میں ایڈمیشن لے لیا پارٹ ٹو میں اس نے ہمارا اکنامکس اور دفتری دستور العمل اورکمینو کیشن سکلز اور پاکستان سٹڈیز کا لکچرر لیے جو کہ ہفتے میں 3 3 دن ہوتے تھے اب ارباز بی بی اے کر رہا ہے اور پانچویں سمسٹر میں ہے اور میں بی کام کے تھرڈ سمسٹر میں ہوں اس کے بعد سدرہ چلی گئی اور میں اگلے دن کالج گی سارے دن پڑھائی کی واپسی پھر کار میں وہی غزل وہی آواز میں نے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ مجھ سے دوستی کریں گے اس نے کہا کہ میں لڑکیوں سے دوستی نہیں کر تا چلیں اپنی شاگرد سے کر لیں دوستی اوکے ٹھیک ہے اب ہم دوست ہیں جی اسکے بعد میں نے اسے کچھ لطیفے سائے کہ چلو مسکرا ے تو سہی لیکن یہ کیا مسکرانا تو دور اس نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش بھی نہیں کی اس نے مجھے گھر چھوڑا اور آنٹی سے مل کر چلا گیا میں شام کو کامران کے ساتھ مارکیٹ گی اور 6 ہزار کی ایک خوبصورت گھڑی لے کر واپس آے کامران نے پوچھا کہ یہ کس کے لیے میں کہا کہ ارباز کے لیے او تو دیوداس صاحب کے لیے ہے وہ نہیں لے گا دیکھ لیں گے لیتا ہے یا نہیں اگلے دن واپسی پر میں نے اس کا باہیں ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور وہ گھڑی اس کو پہنا دی یہ میری دوستی کا پہلا تحفہ اسکا مطلب اب آپ کو بھی تحفہ دینا پڑے گا بتائیں کیا چاہیے آپکو ایک وعدہ کیا مطلب ہم گھر پہنچ چکے تھے کار سے اتر کر اندر گے منہ ہاتھ دھو کر کھانا کھایا ارباز جانے لگا تو آنٹی نے کہا کہ آج تمہارا پہلا لکچر 3 بجے ہے نہ اوپر کامران کے کمرے میں آرام کرو کچھ دیر وہ اٹھا اور ٹی وی لاؤنج میں جا کر ٹی وی دیکھنے لگا آنٹی اپنے کمرے میں چلی گئی میں آکر اس ساتھ بٹھ گی اور کہا کہ وعدہ یہ ہے کہ آج کے بعد آپ ماہرہ کو یا اپنے والدین کو یاد کر کے رویا نہیں کریں گے بلکہ ان کی بخشش کی دعا کیا کریں گے اور ہمیشہ مسکرایا کریں گے بس یہ میری زندگی کا سب حسین تحفہ ہو گا میرے لیے میرے دوست کی طرف سے ارباز کی آنکھیں بھر آہیں اور میرے کندھے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا20 منٹ بعد جب وہ چپ ہوا تو سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور کہا کہ آج آخری بار جی بھر کر رو لیا ہوں آج کے نہیں روتا اور آج کے بعد مسکرایا کروں گا ہمیشہ میں نے چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اسکے آنسو صاف کیے اور اسکی گال کو چوم لیا اور پھر اسکا سر اپنے کندھے پر رکھ دیا لیکن جسے ہی اس نے اپنا سر کندھے پر رکھ میرے جسم میں ایک عجیب سا کرنٹ لگنے لگا اور میں بے اختیار اسکی کمر کو تھپ تھپانے لگی میرے جسم کی کیفیت عجیب ہونے لگی شاید اس وجہ سے زندگی میں پہلی بار کسی مردکےجسم کا ٹچ تھا پھر اسے اٹھا کر منہ دھونے کا کہہ اس نے منہ دھویا اور میں نے تولیہ لے کر خود اسکا منہ صاف کیا اور اد کے لیے ٹھنڈا جوس لے کر آی اس نے جوس پیا اور یونیورسٹی چلا گیا اگلے دن جب وہ کالج آیا تو مسکرا رہا تھا اسکی مسکرانا دل میں اتر رہا تھا واپسی پر میں نے کہا کہ آج تمام لڑکیاں تم پر فدا ہو گی ہیں تم اپنی بتاو میں پہلے دن سے ہی آپ فدا ہوں ایسی ہی باتوں میں ہم گھر پہنچ گئے وقت اپنی رفتار سے تیزی سے دوڑنے لگا اور پتہ ہی نہیں چلا کہ کب اپریل کا مہینہ آخری ہفتے آیا اورہمیں رولنمبر سلپ مل گی کہ اگلے مہینے کی 13 تاریخ سے ہمارے سالانہ امتحانات شروع ہیں امتحان شروع ہو اور 2 جون کو ختم ہو گےاور 15 اگست تک گرمیوں کی چھٹیاں تھی لیکن آخری دن مجھے تایا ابو کی کالج البم سے ارباز کی تصویر مل گی جس میں وہ کھڑا ہاتھ میں پانی کی بوتل لیے مسکرا رہا ہے میں نے وہ تصویر نکالی اور اپنے بیگ میں رکھ لی مجھ تو ارباز سے بے انتہا محبت ہو چکی تھی لیکن اسکا پتہ نہیں گاوں واپس گی بھائی کا پرانا موبائل ہاتھ لگ گیا ابو جی والی پرانی سم اسمیں ڈالی اور روز رات کو 10 سے 2 بجے تک ارباز فون پر بات چیت اور اد کے بعد اسکی تصویر کو سینے سے لگا کر سو جاناجس دن اس سے بات نہ رات کروٹیں بدل میں گزر جاتی ہے سیکس کا پہلو ہماری گفتگو کے درمیان بالکل بھی نہیں تھا چھٹیاں ختم ہوی 5 دن بعد رزلٹ ملا73 فیصد نمبر لیے پارٹ ٹو میں ارباز نے ہمارے 4 لکچرر لیے پہلے ارباز مجھے صرف واپس لے کر جاتا تھا لیکن اب صبح کالج لے کر آنا اور واپس لے کر جانا وقت کا پہیہ پھر گوما اور آگیا 5 مارچ کالج میں تقریب تقسیم انعامات تھی آج یونیفارم کی بجائے کپڑوں میں جانا تھا میں نے اس کے لیے کھاڈی کا لاہٹ پنک کلر سوٹ نارمل میک اپ اور نیچے وہیٹ سینڈل جیسے ہی میں تیار ہو کر آی تایا جی نے پوچھا کہ میرے ساتھ چلو گی یہ آپکے پروفیسر کو کال کریں اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتی آنٹی بولی یہ آپ بزرگوں کے درمیان کیا کرے گی آپ ارباز کو کال کریں بلکہ صبا تم ایسا کرو کہ خود ہی اسکو کال کرو کہ تایا ابو جا چکے ہیں تمہیں آکر لے جا تایا جی موبائل نکالا اور کال کی کچھ ریر بعد ارباز آیا میں باہر جا کر گاڑی میں بیٹھ گئی کیا بات ہے آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو مای ڈیر فرینڈ میرا دل رکھنے کے لیے ایسا نہ کہو یار سچ میں آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو میں نے شرما کر سر جھکا دیا تو اچھا جناب کو شرمنا آتا ہے اب چلیں کالج پہنچ گئے حال میں گے تھوڑی دیر کے بعد تقریب شروع ہوی مجھے تو بہت زیادہ بور ہونے لگی یہ دیکھتے ہی ارباز نے مجھے باہر آنے کا اشارہ کیا جب میں باہر آہی میں نے تایا جی کو بتا دیا کہ میں ارباز کے ساتھ واپس جا رہے ہیں کالج سے باہر نکل کر ارباز نے کہا کہ مجھے تو بھوک لگی ہے کچھ کھانے چلیں ہم صوفی بریانی کی طرف چل پڑے واپس مجھے گھر چھوڑنے کار سے اتر کر اندر داخل ہوا آنٹی کو سلام کیا آنٹی نے محلے میں ایک گھر جانا تھا ہمارے آتے ہی نکل گی ارباز جانے لگا تو میں نے اس کے گال پر پپی لی پپی لینے کے بعد میں واپس مڑی تو اس نے کہا کہ جب تم میری پپی لیتی ہو تو مجھے ماہرہ کی یاد آتی ہے وہ جب بھی میری پپی لیتی تھی تو میں اس کو لپ ٹو لپ کس کر دیتا تھا تو روکا کس نے ہے اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور اپنا ایک ہاتھ میری کمر پر رکھ دیا دوسرے میری گردن کے نیچے اور میرے لبوں سے اپنے لب ملا دے اور میرے نچلے ہونٹ منہ میں لے کر چوسنے لگا ہی تھا کہ اچانک اسکا موبائل بجنے لگا اس نے کال اٹینڈ کی تو دوسری طرف کسی لڑکی کے بولنے کی آواز آئی ارباز آج میری گاڑی والا نہیں آ سکتا کیا تم مجھ پک کر سکتے ہو او کے میں آتا ہوں یہ کہہ کر وہ پچھے ہٹا سوری دوست جانا پڑے گا وہ تو چلا گیا لیکن میرے دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر گیا میری مسمیوں کے نپل سر اٹھانے لگے اور نیچے چوت میں ایک گدگدی ہونے لگی شلوار میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو میری چوت گیلی گیلی محسوس ہو رہی ہے شلوار سے ہاتھ نکالا اور اپنے کمرے میں گی دروازہ اندر سے لاک کیا شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر قمیض اتاری اپنی برا اتاری پھر شلوار اور پینٹی بھی اتار دی میرا ہاتھ خود بخود میری چوت پر چلا گیا دوسرا چھاتی اور میں مدہوشی کے عالم میں اپنی چوت اور چھاتی کو مسلنے لگی ارباز کے سینے کے ساتھ لگنے لمس یاد آتے ہی میرا ہاتھ میں تیزی آئی اور میں اپنی چوت اور زور سے مسلنے لگی کہ جسم میں اکڑ پیدا ہوی اور آنکھیں باہر کو نکلنے آہیں اور ایک دم میری چوت سے میری زندگی کا پہلا آرگینزم ہوا میرا انگ انگ ایک سرور میں تھا کچھ دیر ایسے ہی گزارنے کے بعد جب جسم اور دماغ کو سکون ملا تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ میں نے کیا کر دیا جس جسم کو ارباز کے جسم کے ساتھ ملاپ کے بعد فارغ ہونا چاہیے تھا وہ میں نے ہاتھ سے کیوں کیا کیوں میں نے اپنی کنوارہ جسم کی آگ کو خود بجھا اس آگ کو تو ارباز کو ٹھنڈا کرنا چاہیے تھا یہ میں نے کیوں کیا انہی سوچوں میں کب نیند میں گم ہو گئی پتہ نہیں چلا میری آنکھ اس وقت کھلی جب باہر گیٹ پر آنٹی نے بیل بجای میں نے اٹھ کر اپنا آپ صاف کیا اور کپڑے پہن کے باہر نکل کر گیٹ کھولا تو آنٹی موجود تھی آنٹی نے کہا کہ سو گی تھی ارباز تو آپ کے جانے کے فوراً بعد ہی چلا گیا تھا میں اپنے کمرے میں چلی گئی تھی اور پتہ ہی نہیں چلا کہ کب آنکھ لگ گئی اگلے دن صبح جب ارباز مجھے لینے آیا تو وہ مجھ سے نظریں چرا رہا تھا اور میں اس سے کالج کے بعد جب ہم واپس آہ رہےتھے تو ارباز نے کہا کہ میں آپ سے شرمندہ ہوں کہ کل میں آپ وہ حرکت کرنے لگا تھا جو ایک استاد اور شاگرد کو زیب نہیں دیتی پلیز مجھے معاف کر دیں میں نے کہا کہ پلیز آپ بھی مجھے معاف کر دیں کیونکہ اس حرکت میں میں بھی برابر کی شریک تھی اور مجھ سے اپنی نظریں نہ چرائیں میں آپکی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتی ارباز نے مجھے گھر چھوڑا اور یونیورسٹی چلا وقت ایک پھر سے دوڑنے لگا آیا 16 اپریل کا دن جب ایک لڑکی نے اکنامکس کے لیکچر میں ارباز کو ساری کلاس کے سامنے پرپوز کر دیا اس نے اپنے داہنں ھاتھ میں سرخ گلاب لیے ایک گھٹنے زمیں پر رکھ کر فلمی انداز میں پرپوز کیا تو اگلے ہی لمحے ایک زوردار تھپڑ کی آواز بلند ہوی تھوڑی دیر بعد غضے سے اپنی مٹھیاں بھینچ تے ہوئے آپ کالج میں تعلیم حاصل کرنے آہی ہیں یا عشق کرنے اور نام کیا ہے آپکا جی سر تانیہ گوہر جی تو تانیہ میم مجھے بتائیں کہ آپ کا اور میرا رشتہ اس بات کی اجازت دیتا ہے میں آپکا استادِ ہوں اور استاد کی حیثیت روحانی باپ کی ہوتی ہے بتائیں مجھے تانیہ خاموش کھڑی رہی دو منٹ کی خاموشی کے بعد ارباز نے کلرک یوسف کو کال کر کے رولنمبر سلپ کا پوچھا اور ہمیں کہہ کہ کل آپ لوگ آ کر اپنی اپنی سلپ لے لیں اور آج کے بعد آنے کی ضرورت نہیں سلیبس مکمل ہو چکا ہے آپکا اور 23 اپریل کو آپکی جونیئر نے آپکی الوداعی تقریب کا اہتمام کیا ہے بس اس دن آنا ہے آپ نے اور 3 مئی کو اپکا پہلا پیپر ہے یہ کہہ کر ارباز کمرے سے نکل گیا ارباز کے جانے کے بعد ہم تمام لڑکیاں تانیہ گرد ہوی کہ تمہاری وجہ سے ایک 10 پہلے کلاسز ختم ہو گئی اور 2 سال کے بہترین رشتہ کو تم نے ایک پل میں برباد کر دیا کتنی ہی ایسی لڑکیاں تھی جو معاشی حالات کی وجہ سے تعلیم چھوڑنے لگی تھی اس نے تمام لڑکیوں کی مدد کی اور کسی کو اس بات کی خبر بھی نہیں ہونے دی تمہاری وجہ سے ہمارا سب سے بہترین استاد ہماری پوری کلاس سے نارض ہو گیا اور اب تمہیں رونا کس بات پر شروع کر دیا ہے اگر تم پر عشق کا اتنا ہی بھوت سوار تو کم از کم کالج ختم ہونے کے بعد اس کو کہیں اکیلے میں پرپوز کرتی نہ تم خود ساری کلاس کے سامنے ذلیل ہوتی نہ سر کو کرتی ابھی یہ باتیں ہو رہی تھی کہ ارباز نے دروازے پر دستک دی اور مجھے کہا کہ چلو میں آپکو گھر چھوڑ دوں لیکن سر ابھی تو 3 لکچر رہتے ہیں آپکو کہہ دیا کہ آب آپ کی کلاسز ختم اپنے اپنے گھروں میں جائیں صبا جلدی کرو میں آپکا گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں تمام سفر میں خاموشی سے گذر گیا ارباز نے مجھے گیٹ کے سامنے اتارا اور چلا گیا شام کو تایا ابو نے مجھ سے پوچھا کہ آج کلاس میں کوئی مسئلہ ہوا ہے کہ ارباز نے کلاسز ختم کر وا دی اور خود بھی کالج چھوڑ دیا میں نے پوچھا کہ واقعی ارباز کالج چھوڑ دیا ہاں پتہ نہیں آج کیا ہوا کہ اس نے کہا کہ میں آج کالج چھوڑ رہا ہوں کیونکہ میں اپنا بزنس شروع کرنے لگا ہوں نہیں تایا ابو ایسی کوئی بات نہیں دراصل آج کالج میں یہ معاملہ ہوا ہے اس کے بعد میں نے تمام واقعہ تایا جی کو بتا دیا تایا جی بھی کافی غصہ میں تھے اگلے دن میں تو کالج نہیں گیی الوداعی تقریب سے 2 دن پہلے تایا ابو نے ارباز کو فون کیا کہ تمہیں تقریب الوداعی میں لازمی شرکت کرنی ہے ارباز نے کہا کہ کہ لازمی شرکت کرے گا لیکن ایک درخواست ہے کہ میرے ڈی کام کے تینوں دوست الوداعی تقریب میں لازمی شرکت کریں تایا جی نے کہا کہ ٹھیک ہے میں انکو کال کر دیتا ہوں دو دن بعد تقریب تھی میں نے تقریب کے لیے بلیک ڈریس کا انتخابات کیا تقریب والے دن ہم 10 بجے کالج پہنچ گئے اور30: 10 پہ تقریب شروع ہو گئی ارباز تقریباً30: 11 بجے آیا اس نے سفید کاٹن کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی جس میں وہ بہت خوب صورت لگ رہا تھا تقریباً 12 بجے اس نے سٹیج پر آ کے ایک تقریر کی تقریباً 10 منٹ اج اسکے الفاظ سننے کو دل کررہا تھا کیونکہ آج کے بعد اس نے جدا ہونا تھا اسکے بعد پرنسپل نے تقریر کی جس میں ارباز اور اسکے کاروبار کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ہمارے بہترین مستقبل کے لئے امید کی خواہش کی اسکے بعد پرنسپل صاحب سٹیج سے اترے اور آگے بڑھ کر ارباز کو گلے لگایا کیونکہ 2 سال کا بہترین طالب-علم اور 5 سال کا بہترین پروفیسر تھا ہمیشہ 100 فضید رزلٹ دیا اس نے اسکے بعد ارباز تمام پروفیسرز کے ساتھ گلے ملا تمام پروفیسرز کی آنکھیں نم تھی کیونکہ ایک نہایت بہترین سٹوڈنٹ اور بہترین کولیگ کا تعلق تھا اسکے بعد جب وہ اپنے دوستوں راناعثمان اور رانا احسن سے ملا تو کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگا تو رانا احسن بول پڑا کہ یار تاڑرڑ کا آج 11 بجے مڈٹرم کا ایگلزام ہے شام کو آے گا میرے گھر میں دعوت ہے تو بھی اپنا مڈٹرم کا پیپر دے آ شام کو اکھٹے ہوتے ہیں اس کے بعد سب نے کھانا کھایا اور تمام لڑکیاں اپنی اپنی ڈائری میں پروفیسرز سے الوداعی جملے لکھوانے لگی ارباز نے کسی لڑکی کی ڈائری پر دستخط نہ کہیے سوائے صدف اور میری اور صدف کو کہا کہ میں 6 سال بعد چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ صدف سلیم کو دیکھنا چاہتا ہوں اور آپ نے فیس کی ٹینشن نہیں لینی وہ تمام معاملات میں خود دیکھ لوں گا اور آپ کے والد کی بھی یہی خواہش ہے آپ نے میری اور اپنے والد کی خواہش پوری کرنی ہے اسکے بعد ایک گروپ فوٹو ہوی اور بعد میں تمام لڑکیاں ارباز اور دوسرے پروفیسر کے ساتھ اپنی اپنی تصاویر بنوائی اسکے بعد ارباز دیگر پروفیسر کے ساتھ پرنسپل کے کمرے چلا گیا اور میں اسکا انتظار کرنے لگی 20 منٹ بعد وہ واپس آیا ہم کار میں سوار ہو ے اور چل دیئے میں نے راستے میں چھپے الفاظ میں اپنی محبت کا اظہار کیا لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا اس نے مجھے گھر اتارا اور چلا گیا میرے امتحان شروع ہو گئے امتحان کے بعد میں اپنے گاؤں واپس چلی گئی ارباز اور بھائی رضا کی بیچلر ڈگری مکمل ہو گیا تھی ارباز نے اپنا دن رات اپنے نئے سٹیل ملز پر لگا دیا اور بھائی رضا نے ایم بی اے ایڈمیشن لے لیا اور میں نے بی اے شروع کر دیا پرائیویٹ ارباز کو جب بھی کال کرتی تو آگے سے مصروف ہوں کہہ کر فون بند کر دیتا اور میرے دل میں اسکے لیے ٹڑپ بھڑنے لگی تقریباً ایک سال بعد ارباز کا فون آیا اور میرا دل اچھل پڑا پہلے تو اس نے معزرت کی کہ وہ ایک سال سے مجھ وقت نہیں دے پایا کیونکہ وہ اپنے سٹیل ملز کو مارکیٹ میں متعارف کروانے میں مصروف تھا اب کام چل پڑا ہے اور اچھا منافع مل رہا ہے اور ایسے ہی ہمارے درمیان پھر سے بات چیت شروع ہو گئی اور 3 مہینے بعد ارباز نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا کہیں رشتہ طے ہوا کہ نہیں میں نے جواب دیا کہ 2 رشتے آے تھے ایک امی کو پسند نہیں آیا اور دوسرا بھائی اور ابو اور تایا ابو کو اسکے بعد ارباز نے کہا کہ آج کے بعد میری آپ سے بات چیت نہیں ہو سکے گی میں نے حیران ہو کر پوچھا وہ کیوں تو آگے سے ارباز نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی باتیں تم میری سہاگ رات کی سیج پر دلہن بن کر کرو یہ سنتے ہی میں نے شرما کر فون بند کر دیا پھر اس نے مسج کیا کہ کال پک کرو تو میں نے مسیج کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے شرم آ رہی ہے تھوڑی دیر بعد کال کرتی ہوں اور میں نے جا کر خوشی سے اپنی امی کو گلے لگا لیا تو امی نے کہا کہ خیریت ہے آج تو میں کہا کہ آپ نے بھائی کی شادی کی ڈیٹ فکس کر دی تو امی نے کہا کہ اگلے مہینے کے آخر میں کردی ہے تو میں نے دل میں سوچا جلدی کریں کیونکہ اس کے بعد جلد ہی آپکی بیٹی کی بھی چوت پھٹنے والی ہے امی نے کہا کہ کس سوچ میں گم ہو تو میں نے کہا کچھ نہیں بس ایک سہیلی پوچھ رہی تھی اسکے ایک گھنٹے بعد میں نے ارباز کو کال کی اور تھوڑی دیر بعد اس نے کال پک کی تو اس نے کہا کب رشتہ بھجو تو میں کہا کہ جب دل کرے تو ارباز نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے میں 2 مہینے بعد رشتہ بھج تا ہوں تو میں نے جواب دیا کہ 2 مہینے بعد کیوں وہ اس لیے میری جان کہ ماموں قادر اور ماموں ناصر ناصر ماموں کے سالے کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لئے کل یورپ گے ہیں اور ڈیڑھ مہینے بعد آنا ہے تو آپ نہیں گے میں چلا گیا تو کاروبار کون دیکھے گا چلیں ٹھیک ہے اب سہاگ رات کو آپ سے بات ہو گی تو میں نے پوچھا کہ کیوں نہیں ہوسکے گی تو ارباز نے کہا کہ اس لیے کہ ہم دونوں ایک دوسرے متاثر کرنے کے لیے اپنی اپنی خوبیاں ایک دوسرے کے سامنے رکھیں گے اور اپنی خامیاں چھپائیں گے اکثر محبت کی شادیاں اسی وجہ سے ناکام ہوتی ہیں کہ اپنی خوبیاں دیکھا دیتے ہیں اور خامیاں چھپا لیتے ہیں اور بعد میں مسائل پیدا ہوتے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ ہمارے درمیان اختلاف ہو یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا رات کو کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آگی اور دروازہ بند کر دیا اور سونے کی کوشش کرنے لگی رات گیارہ بجے تک جب نیند نہ آی کیونکہ میرے زہن میں بار بار ارباز کی سہاگ رات والی بات یاد آرہی تھی دل میں ایک ڈر پیدا ہوا کہ اس رات تیری چوت کی سیل ٹوٹ جاے گی لیکن درد بہت زیادہ ہو گا لیکن دماغ کہتا کہ یہ تو ایک نہ ایک دن کھل ہی جاے گی پھر اس کے بعد مزے ہی مزے یہی سوچتے ہوئے مجھے اپنی ٹانگوں کے درمیان گیلا پن محسوس ہوا ایسے ہی دماغ میں آیا کہ کیوں نہ آج بھی اس دن کی طرح ہاتھ سے فارغ ہو جاوں لیکن دل کہتا نہیں تم نے اس دن خود سے وعدہ کیا تھا کہ آج پہلی اور آخری غلطی ہو گئی آج کے بعد اس جسم کی آگ کو صرف ارباز ہی ٹھنڈا کر گا یہ آگ مجھے جتنا جلائے گی سہاگ رات کو اسے ٹھنڈا کرنے کا اتنا ہی مزہ آے گا اسکے بعد میں کروٹیں بدلتے نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گی اسکے بعد بھائی کی شادی کی تیاریاں شروع کردی روز بازار جانا اور تھک ہار آ کے سو جانا شادی سے 3 دن پہلے جب ہم بازار سے واپس آے تو بھائی اور ابو کے درمیان کسی بات پر بحث جاری تھی بھائی یہ بات کہتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے کہ کل تایا ابو آےگے میں ان سے بات کر لوں گا امی نے ابو سے پوچھا کہ کیا بات ہے تو ابو نےکہا کہ کچھ نہیں بس ایسے ہی الٹی صد کر رہا ہے اگلے دن دوپہر کو جب تایا ابو اور انکی فمیلی آی تو رضا بھائی نے کہا دیکھ لو تایا ابو مجھے اباجی اپنے دستوں کو نہیں بلانے دے رہے ابو فوراً میں نے کب منع کیا ہے کہ اپنے دستوں کو نہ بلاو میں تو بس تماش ینی اور ہلڑ بازی سے منع کر رہا ہوں تایا ابو فوراً ہی بولے کہ میری شادی پر تم نے کم ہلڑ بازی کی تھی رضا تم بلاو اپنے دستوں کو ویسے یہ کونسے دوست ہیں تمہارے کامرس کالج والے کمینے تم لوگوں کا گینگ بہت حرامی تھا ذرا خیال رکھنا مہندی والے دن جب تمام مہمان کھانے کھا چکے تھے اور بھائی کو مہندی لگا رہے تھے کہ اسکے موبائل پر ایک کال ای نمبر دیکھتے ہی بھائی کا چہرہ کھل اٹھا بھائی فوراً اٹھ کر باہر گیا تھا کہ اچانک ایک دم فائرنگ کی آواز بلند ہوی گھر کی تمام خواتین گھبرا کر جلدی سے باہر نکل آئی باہر نکل کر دیکھا تو سامنے تین کاریں کھڑی تھی اور سب سے آگے والی کی ڈگی کھلی ہوئی تھی اور ساتھ 3 لڑکے کھڑے تھے اور تینوں کے ہاتھوں میں اے کے 47 موجود تھی ان سب کی پیٹھ ہماری طرف تھی اور بھائی رضا سب سے پہلے والے کے گلے مل رہا تھا اس کے بعد بھائی رضا دوسرے کی طرف بڑھا تو اس نے اپنی بندوق ہوا میں بلند کی اور پوری میگزین خالی کر دی بھائی رضا اسکے گلے ملا اور اسکی چمی لے لی اسکے بعد بھائی پھر آگے بڑھا اور تیسرے نے بھی ہوائی فائرنگ کر دی اسکے بعد ان تینوں نے دوبارہ نئی میگزین لوڈ کی اور ایک ساتھ مل کر پھر ہوائی فائرنگ کر دی پھر درمیان والے نے پچھلی دونوں کاروں کو کوئی اشارہ کیا کہ ان میں سے انتہائی خوبصورت نوجوان 3 ڈانسر لڑکیاں باہر نکلی اور اگے بڑھ کر رضا کو جھک کر سلام کیا تو ان تینوں نے ایک بار پھر ہوائی فائرنگ کی اس کے بعد ان میں سے ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر رضا بھائی کا گال چوم لیا اسکے بعد رضا بھائی نے ان لڑکیوں کو سامنے بنے ہوئے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا جو کہ ہمارے مہمان خانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا وہ لڑکیاں اس کمرے میں چلی گئی اسکے بعد بھائی نے ان تینوں سے کچھ بات کی تو وہ لڑکے بھی اس کمرے میں داخل ہو گئے اس کے بعد بھائی واپس آے اور تایا ابو سے کچھ کہا تو تایا جی نے ایک ہلکا سا تھپڑ بھائی کو مارا تو بھائی نے تایا جی کو گلے لگا لیا اسکے بعد بھائی واپس آیا تو بہت خوش تھا
  2. Update======14 apnay flate may dakhil huwa to ghar may moj masti wala mahol bana huwa thaa neelum k teeno bhai mastiyaan kar rahay thay aur wo charon chila raheen thee "bus" meri awaz sun kar wahan ek dum khamoshi ho gai wo teeno sakoon say beth kar tv dekhnay lagay Neelum: shuker hay yeh tum say to dartay hain ek ghantay say ghar sir per uthaya huwa thaa inho nay tum fresh ho jao hum khana laga rahay hain" uss ki baat sun kar main fresh honay chala gaya wapas aaya to khana lag gaya thaa hum sub nay mil kar khana khaya khana khaa kar hum tv laounge may beth gae jahan neelum aur nuzhat kapray dikhanay lageen unn dono nay aaj hee shopping kee thee meray leyeh bhi 4 t shirt aur 2 jeanz lay kar aaeen thee wo dono main nay waheen apni shirt utar ker unn ki lai hoi tshirt charha lee blue colour ki thee mujhay achi lagee shabnum nay hath say ok ka nishan banaya nudrat nay meri baaqi k tshirts aur paints bhi utha kar kamray may lay gai shabnum bhi uss k sath hee chali gai main tv dekhnay laga jub wo sub apnay kamron ki taraf chal diyeh to main bhi utha aur apnay kamray may aagaya main nay mobile check kiya ustani g k 3 sms thay main nay unhain parha phir main nay uss per likhna shoroo kiya "hello g bolain" Ustani g : haan ab pocho jo poochna hay tumhari aankhon may dekh kar baat karna sub say mushkil kaam hay Main : haan wo main aap say afyoon ki baat pooch raha thaa Ustani g : afzal afyoon khaa kar tahira k sath sex karta hay jiss ki wajah say wo jaldi farigh nahi hota ek gahnta lagta hay ussay farigh honay may aur tahira 30 minute may hee thandi par jati hay wo bhi kiya karay afzal uss ki sookhi choot may laga rehta hay aur lund ki rager say ussay dard hota hay jub afzal ko maza nahi aata to wo zaberdasti iss ko nochta aur maarta hay subha tahira ka jor jor dard karta hay phir ghar k kaam bhi hotay hain wo her roz sex k leyeh tayyar nahi hoti to iss baat per unn ki laraiyaan hoti hain kai baar ussay samjhaya lekin wo kehta hay afyoon k baghair ussay sex karnay may maza nahi aata ab akhiri din ka to sub tumhain pata hay Main : afyoon ki ussay lat kaisay lag gai aur kiya ussay tahira ki marzi ki koi parwa nahi thee Ustani g : aurat ki marzi uss ki jhushi ki parwa kon karta hay aadmi ko to bus apna paani nikaalna hota hay wo kaheen bhi nikaalay aurat ko takleef ho rahi hay ya nahi uss ko dard ho raha hay to bhi koi baat nahi bus unn ka paani nikalna chahyeh wo jazbati ho rahi thee Main : chalain koi baat nahi ab uss k leyeh koi behter insaan dhoond lain gay hum sub theek hay na lekin ustani g ek baat poohon ager aap bura na maanai to aap ki shaadi ko kitna arsa ho gaya hay Ustani g : taqreeban 12 saal tum jo pooh rahay ho wo main jaanti hoon hamaray ghar olaad na honay ki wajah tumharay ustaad ki kamzori hay lekin wo yeh maantay nahi hain aur na hee apna checkup karatay hain samjha samjha kar thak chuki hoon wo kehtay hain k meray bhaiyon k jo bachay hain wo bhi to meray hee hain apna elaaj karanay k bajae kabhi kiss baba say kabhi kiss baba say taaveez kabhi koi ganda kbhi koi dhaaga lay aatay hain bus abhi ek mazar per 7 jumairaat jaeen gay Main : aaj kal k zamanay may bhi aisay log hotay hain kash main aap ki koi madad kar sakta Ustani g : dara tum hee to meri aakhiri umeed ho sirf tum hee meri madad kar saktay ho main sirf tum per hee bharosa kar sakti hoon mujhay apni izzat apni jaan say bhi zeyada aziz hay samjhay Main : lekin main kaisay aap ki madaa kar sakta hoon Ustani g : mujhay maa bana kar sirf tum hee ho jo mujhay badnaam nahi karo gay abhi tumharay ussatd her jumairaat maghrib k baad jaeen gay aur isha k baad aaeengay 5 jumairat k baad tum mujhay maa bana dena main tumhara yeh ehsan zindagi bhar nahi bhooloon gee aur iss ki jo bhi qeemat tum mujh say mango gay wo main doon gee main waada karti hoon tum say bolo karo gay meri khuwahish poori meri sooni god ko sirf tum hee bhar saktay ho Main : acha theek hay mujhay sochnay ka waqt dain main baad may batoon ga aap ko main nay phone band kar diya aur so gaya subha main dukaan per gaya ustaad nay mujhay bulaya aur apnay pass bethnay ka ishara kiya main beth gaya Ustaad : dekh yaar dara tu mera shagird hee nahi mera chota bhai bhi hay tujh say koi parda nahi rakha main nay tu meray ghar bhi aata jata hay samajh lay tu ghar ka fard hay tujhay to pata hee hay k hamaray gher koi bacha nahi hay kiya karain sub ooper walay ki marzi hay mujhay meray bhai nay ek dargah ka bataya hay k wahan wazifa karnay say olaad ki khushi mil jaati hay main her jumairat ko maghrib k baad jaoon ga aur isha k baad aaoon ga tujhay uss doran meray ghar ka khayal rakhna hay abhi mujhay sirf shak hay k meray chotay do bhaiyon ki nazer teri ustani ko lay kar kuch achi nahi hay bus mera bhai ussay kuch hona nahi chayeh samjha uss ka khas khayal rakhna Main : ustaad ka hath thaamtay huway " ustaad aap nay mujh per jo bharosa kiya hay nay ussay main apni jaan day kar bhi qaim rakhoon ga ustani g ko koi choo bhi nahi sakta aap bayfiker ho jaeen Ustaad g : meri peeth thapaktay huway " shabash mujhay tujh say yeh hee umeed thee aaj subha to koi khas kaam nahi hay lekin 2 bajay k baad ek pooray flate ki wiring karni hay wo tum karna baaqi k kaam main sunbhal loon ga jub fainal conection kar lo to mujhay ek nazer check kara dena bus theek hay Main : kuch jhijhaktay huway "ustaad mujhay 11 bajay tak ek kaam say jaana hay main 1 bajay tak wapas aajaoon ga ager aap ki ijaazat ho to Ustaad : khush hotay huway haan haan koi masla nahi tu chala ja lekin time per wapas aajana samjha main nay ghari dekhi 11 bajnay may 5 minute kam thay main seedha nafisa k gher ki taraf chal para wahan main building k gate per pohoncha hee thaa k naeem uncle ki car buildin say baher nikli sadaf bhi aagay bethi thee main unn ko jatay huway dekhnay laga phir main nafisa k flate per pohonch gaya main nay gate knok kiya darwaza nafisa nay hee khola main ander dakhil ho gaya uss nay gate lock kiya aur mujhay lay kar apnay kamray may aagai main bed per take laga kar beth gaya Main : "main nay abhi ammi ko mamoo k sath jatay huway dekha thaa" Nafisa : mujh say nazrain milaati hoi "kuch lay kar aaoon aap k leyeh" Main nay uss ka hath paker ker ussay apni janib khainch liya wo seedhi meri god may giri main nay ussay banhon may kastay huway uss k hont apnay honto say mila diyeh uss nay ek jhurjhuri see lee aur nujh say lipat gai aur khud bhi meray hont choosnay lagi main nay uss ki chatiyon ko qameez k ooper say hee dabana shoroo kar diya thaa uss ki girift aur sukht go gai main nay ussay alag kiya aur uss ki qameez paker ker ooper uthanay laga uss nay apnay hath ooper kar liyeh aur main nay uss ki qameez utaar dee phir main nay apni paint aur tshirt bhi utaar dee main nay uss ki shalwaar aur baaqi bachay kapray bhi utaar diyeh ab wo meray saamnay bilkul nangi khari thee main nay ussay apnay sath lita liya aur uss ki chatiyaan masalnay laga aur uss k nasheelay hont choosnay laga phir main uss k gall garden aur kaan ki lo ko choomta huwa uss ki chatiyon per aagaya meri her harkat say wo machal rahi thee tarap rahi thee main uss ko lita kar uss ki taangain phaila deen aur uss ki choot per zaban phairi uss nay ek dum apni gaand hawa may uthaa dee "aaaaaaaaahhhhhhhhhhhh yeh keya kiya tum nay main nay" uss ki baat ko ignore kartay huway tezi say apni zaban uss ki choot k labo per phairni shoroo kardee kabhi main uss ki choot k lab apnay honto may bhar laita kabhi chatnay lagta uss nay dono hath meray sir per rakhay huway thay aur musalsal apni choot meray moo per rager rahi thee main nay angoothay say uss ki choot k lub kholay aur uss ki choot k daanay ko moo may lay liya AAAAAAAAAAAAHHHHHHHHHHHH keya kiya kar rahay ho aaaaaaaahhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhh aur uss ka jisim zor say kaanpa aur phir wo jhatkay laiti hoi farigh ho gai meray pooray moo per uss ka paani laga huwa thaa main nay uss ki shalwaar say hee apna moo saaf kiya wo aankhain band keyeh huway pari gehray saans lay ahi thee main nay uss k gall per hath phaira uss nay aankhain khol ker mujhay dekha phir sharma kar aankhain band karleen main nay apnay hont uss k labon per rakh diyeh uss nay meray hont choosnay shoroo kar diyeh main nay uss say tail ka pooha uss nay mujhay deka aur pooha keyon tum nay tail ka kiya karna hay main nay uss ki chatiyon say khailtay huway kaha jani aaj tumhara first time hay na aur main nahi chahta k tum ko zeyada takleef ho bus iss leyeh tail ki zarurat hay" wo uthi aur pni ammi k kamray say tail lay aai main nay uss may say acha khasa tail apnay lund per lagaya aur tail may doobi hoi ungliyaan uss ki choot per bhi phair deen phir ussay apni taraf khainch liya uss ki taango ko phaila ker unn k darmiyaan aagaya aur apnay lund ka topa uss ki ubhri hoi choot k surakh per rakha uss ka dupatta uss k moo may daal diya phir halka sa zor lagaya lund ka topa uss ki choot k lab khol kar ander chala gaya wo zor say machli aur uss k moo say ghoo ghoo ki awazain aanay lageen main nay phir thora zor lagaya lund uss ki seal per aakar ruk gaya main nay uss ka chehra thap thapaya ussay hosla diya uss ki chatiyan ragernay laga jub wo relex hoi to main nay apna lund thora baher nikala aur ek karara jhatka maara wo ek dum uchli main nay ussay apnay neechay daba rakha thaa uss ki aankhon say musalsal aansoo beh rahay thay main uss k hont choosta raha uss ki chatiyaan choosta raha uss k badan ki kapkapahat kuch kam hoi to main nay halka halka hilna shoroo kiya uss k chehray per ab bhi dard hee nazer aaraha thaa kuch dair may wo bhi mazay lainay lagi main nay apni raftaar barha dee uss nay mujhay zor say bheench liya aur uss ki choot bhi mera lund dabanay lagi phir wo zor say chillai aur uss ki choot ka pani meray lund say hota huwa meray tato ko bhigonay laga main nay uss ki choot say apna lund baher nikaal liya aur uss ki choot aur apna lund achi tarah saaf kar k ussay ghori banaya aur dobara lund uss ki choot may daal diya wo see see karti rahi lekin main nay poora lund daal hee diya aur jhatkay maarna laga ab meri raftaar kaafi tez ho gai thee wo aahain bhar rahi thee 20 minute ki zordaar chudai k baad hum dono ek sath hee farigh ho gae aur waheen ek sath hee lait gae Main : ukhri saanso k sath " haan nafisa maza aaya tumhain ya nahi Nafisa : wo bhi kaafi tez saansain lay rahi thee " mujhay to andaza bhi nahi thaa k itna dard hota hay yaar lekin aakhiri raound may maza bohot aaya lekin ab mujhay lagta hay k main theek say chal bhi nahi paoon gee" main nay ussay apni taraf karwat dee aur ussay khud say lipatatay huway kaha tum bayfiker raho main sub sunbhal loon ga samjheen main utha aur ussay god may utha liya wo cheekhti rahi main nay koi jawab nahi diya aur ussay bath room may lay jaa ka kamod per bitha diya aur ussay pishab karnay ka kaha wo sharma rahi thee lekin uss nay pishab kar liya main nay shower khola aur thora neem garam paani balti may bharnay laga phir main nay uss ki taangain phaila kar ussay bitha diya aur khoob garam paani uss ki choot per daalnay laga uss ki choot ko ungli say khol kar ander bhi khoob paani dala phir ussay achi tarah nehla kar toliyeh say uss ka badan saaf kar k bed per lay aaya bus wo mujhay dekhay jaa rahi thee phir main nay ussay 2 pain killer aur ek pregnicy roknay wali tablets bhi khila deen aur phir kitchen may jaa kar doodh garam karnay rakh diya aur khud fatafat naha kar kitchen say doodh lay kar aaya ek cup ussay diya aur doosra khud piya phir uss k honto ko kiss kar k wapas dukaan chala gaya. main nay ghari dekhi to 1.20 ho rahay thay main jaldi say dukaan pohoncha aur ek larkay ko sath lay kar uss ghar may chala gaya aur wahan kaam karnay laga shaam ko 7 bajay kaam khatam huwa to main nay ustaad ko phone kar diya unho nay aakar conection check kiyeh aur mujhay shabash dee aur ghar ki laights on kar deen ustaad ko wahan say 4000/ milay uss may say unho nay mujhay 1500/ day diyeh main ghar jaanay k leyeh nikla aur phir seedha nafisa ko dekhnay chala gaya naeem uncle ghar may hee thay unho nay mujhay ander bulaya main seedha aunty k pass ja kar beth gaya unn ki khairiyat poochi Aunty : beta tum theek ho Main g aunty main din may bhi aaya thaa to pata chala k aap uncle k sath abhi hospital gai hain main issi leyeh abhi aaya hoon Aunty : duaeen deti hoi "sadaf aray bhai dara k leyeh chai to lay aao aaj baychari nafisa kaam kartay huway gir gai uss k paon may moch aagai uss say to chala bhi nahi jaa raha hay bukhaar may pari hay ander" itnay may sadaf chai lay ker kamray may dakhil hoeen main ehtaraman khara ho gaya Sadaf : ishara karti hoi "aray betho chai piyo zeyada garam nahi hay aapa aap bhi lain na chai uss nay naeem uncle ko bhi ek cup pakra diya main nay chai khatam kee phir uncle say hath mila kar aur aunty aur sadaf ko salam kar k baher aagaya.
  3. dear admin iss story k page barha dain ya mujhay tareeqa bata dain ek page per 3 updates kar dain thanks

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.