Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 19/04/20 in Posts

  1. " سعدیہ. . . . " " میں اندر ہوں باتھ روم میں . . . " سعدیہ کی آواز نے میرا دھیان باتھ روم کی طرف کھینچا، " اِس وقت باتھ روم میں ، کیا کر رہی ہو . . . " " چوت صاف کر رہی ہو ، دلچسپی ہے تو آ کر صاف کر دو . . . " " ہاں ، جیسے دُنیا کی سارے دلچسپ کام ختم ہوگئے ہے ، جو میں اندر آ کر تمہاری چوت صاف کروں . . ." " پھر میرا ٹاول بستر پر پڑا ہے ، وہ دو . . . . " میں نے بستر پر نظر ڈالی ، وہاں ٹاول كے ساتھ ساتھ بلیک کلر کی براہ اور پینٹی بھی رکھی ہوئی تھی ، میں نے ٹاول اٹھایا اور سعدیہ کو آواز دی . . . " دو . . . " باتھ روم کا دروازہ پورا کھول کر سعدیہ نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ، وہ پوری کی پوری پانی میں بھیگی ہوئی ننگی کھڑی تھی ، جسے دیکھ کر میرے لنڈ نے ایک بار پھر سلامی دینا شروع کر دی پینٹ كے اندر . . . . " ارے دو نا . . . " مجھے اپنی طرف اِس طرح سے دیکھتا ہوا دیکھ کر وہ بولی " اتنے غور سے تو تم نے مجھے اُس وقت بھی نہیں دیکھا تھا ، جب میں تمھارے ساتھ پہلی بار ہم بستر ہوئی تھی . . . " میں نے کچھ نہیں کہا اور اس کے پورے ننگے گورے جسم کو آنکھوں سے چودتے ہوئے اسے ٹاول دے دیا ، اور بستر پر آکر لیٹ گیا . . . ایک بات جو میں اکثر سوچتا تھا کہ دُنیا بھر کی لڑکیاں باتھ روم میں جاتے وقت ٹاول باہر کیوں بھول جاتی ہے . . . . " براہ بھی دینا . . . . " ایک بار پھر باتھ روم سے آواز آئی اور باتھ روم کا دروازہ کھلا ، " یہ لو . . . " براہ اور پینٹی دونوں اس کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے میں نے کہا اور میری نظر سیدھے اس کے مموں پر جا ٹکی . . . . . " سائز معلوم ہے ، ان کا . . . " وہ دروازے کو پکڑ کر مستی میں بولی اور جب میں نے کچھ نہیں کہا تو وہ باتھ روم کا دروازہ بند کرنے لگی . . . . " سعدیہ . . . روکو . . . " " بولئے جناب . . . " " جلدی سے باہر آؤ ، تمھارے بنا چین نہیں ہے . . . " میں اپنی اِس حرکت پر خود شرما گیا . . . . . کچھ دیر كے بَعْد سعدیہ باہر آئی ، اور میرے بغل میں لیٹ کر میری طرح وہ بھی چھت کو دیکھنے لگی . . . " تم سچ میں شادی کرنے والی ہو . . . " سعدیہ کا ایک ہاتھ پکڑ کر میں بولا . . . وہ ابھی ابھی نہا كے آئی تھی ، جس کی وجہ سے اس کے پورے جسم سے خوشبو آ رہی تھی . . . . میرے سوال کو سن کر وہ تھوڑا حیران ہوئی اور میری طرف اپنا چہرہ کرکے بولی " یہ تم کیوں پُوچھ رہے ہو ، " " بس ایسے ہی . . . " " ہاں یار ، سچ میں شادی کر رہی ہے اور آج کی رات ہم دونوں کی آخری رات ھوگی . . . " " آخری رات . . . " میں نے دھورایا. . . " آخر تمھارے دل میں ہے کیا . . . " وہ حیران تھی کہ میں اب کیوں اسے اس کی شادی كے بارے میں پُوچھ رہا ہوں ، جب کے پہلی بار ہی اسے میں نے صاف منع کر دیا تھا ، خیر حیران تو میں خود بھی تھا . . . . " تم ایک عجیب قسم کے انسان ہو. . . لیکن آج کچھ زیادہ ہی عجیب حرکتیں کر رہے ہو . . . " میں نے اس کا ہاتھ جس ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا وہ اسے سہلاتے ہوئی بولی ، اس کا چہرہ اب بھی میری طرف تھا . . . . سعدیہ کو اکثر ایسا لگتا کہ دُنیا بھر کا سارا سسپنس میرے اندر ہی بھرا پڑا ہے . . . . " نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ، میں تو بس ایسے ہی پُوچھ رہا تھا . . . " کوئی تو بات تھی جو میرے اندر کھٹک رہی تھی ، یہ میں جانتا تھا . . . . " اب ساری رات ایسے ہی بور کروگے یا پھر کچھ اور . . . . . . . . " وہ آگے کچھ اور کہتی اس سے پہلے ہی میں نے اس کی چوت كے اوپر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اسے پینٹی کے اوپر سے ہی سہلانے لگا . . . . " ڈائریکٹ پوائنٹ پر ہاں . . . " وہ ایک بار پھر مسکراتے ہوئے بولی . . . " پوائنٹ تو اب آیا ہے . . . " میں نے اس کے پینٹی كے اندر ہاتھ ڈال کر اس کی چوت کو سہلاتے ہوئے بولا اور اپنی ایک انگلی چوت كے اندر ڈال دی . . . کچھ دیر پہلے كے واقعے سے ابھی بھی اس کی پھدی گیلی تھی . . . ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ، آج پہلی بار وہ مجھے بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی ، دِل کر رہا تھا کہ اسے چوم لوں ، لیکن سعدیہ کو کس پسند نہیں تھا . . . " تم کیا سوچ رہے ہو . . . " وہ کانپتی ہوئی آواز میں میری طرف دیکھ کر بولی . . . جواب میں میں نے اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے ہونٹوں پر رکھا کر اشارہ کیا کہ میں تمہارے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بھرنا چاہتا ہوں . . . . میرے اشارے سے سعدیہ تھوڑی بے چینی محسوس کرنے لگی اور مجھ میں کچھ دیر تک نہ جانے کیا دیکھتی رہی . . . . . " واقعے تم میرے ہونٹ پر کس کرنا چاہتے ہو . . . ؟ ؟ ؟ " اپنے ہونٹ پر عجیب سی حرکت لاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا ، میری ایک انگلی اب بھی اس کی چوت كے اندر باہر ہو رہی تھی . . . . . " ہاں . . . میں چاہتا ہوں کے تمہارے ہونٹوں پر کس کروں . . . " میں نے بس اتنا کہا اور وہ میرے ہونٹوں كے قریب آئی ، ہم دونوں ایک دوسرے کی سانسیں کی گرمائش محسوس کر رہے تھے ، جو کہ ہم دونوں کو اور بھی گرم کر رہی تھی . . . . آج پہلی بار سعدیہ كے لیے میرے دِل میں کچھ فیلنگس آئی تھی اور وہ فیلنگس اس لئے تھی کیوںکہ سعدیہ آج مجھ سے دور جا رہی تھی ، آج کی رات ہماری آخری رات تھی ، شاید اس لیے وہ مان بھی گئی . . . . . " تم سچ میں بہت عجیب ہو . . . " میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ٹچ کرکے وہ بولی " لیکن مجھے اچھے لگتے ہو . . . " اور اس کے بَعْد میں نے وقت نہ گواتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا . . . . اور اس کے اوپر آ گیا . . . . اسی دوران میں نے اس کو ایک بار چھوڑا تو وہ میرے ہونٹوں کو چوسنے کی وجہ سے حانپ رہی تھی اس کے سینے كے ابھار بہت تیزی سے اوپر نیچے ہو رہے تھے . . . . " ایک بات بتاؤ " میں نے بولا " جب تمہیں معلوم تھا کہ میں کچھ دیر بَعْد تمہاری براہ اور پینٹی کو اتار دوںگا تو تم نے پہنا ہی کیوں . . . . " میرے ایسا کہنے کی دیر تھی کی وہ کھلکھلا كے ہنس پڑی ، اور میرے سَر پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگی . . . . . " تم سچ میں بہت عجیب ہو . . . " " وہ تو میں ہوں . . . " میں نے دوبارہ اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چپکا لیا اور پھر چُوسنے لگا . . . . میں اس کے ہونٹوں کو اتنا زور سے چوس رہا تھا کہ اس کے ہونٹوں پر خون اترنے لگا ، اور ہونٹ كے کنارے پر مجھے خون کی کچھ بوندے بھی دکھی . . . لیکن میں روکا نہیں اور اسے پی گیا . . . . . . " بہت ٹیسٹی ہے . . . " " کیا . . . " " تمھارے ہونٹ . . . لیکن ذرا آرام سے ، درد ہوتا ہے . . . " سعدیہ بولی . سعدیہ كے بولنے کا لہجہ سیدھے میرے دِل پر لگا ، میں یہ تو جانتا تھا کہ سعدیہ كے لیے میں صرف اس کے جسم کی بھوک مٹانے كے لئے ہوں ، لیکن آج وہ کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی تھی . . . اس وقت جب اس نے کہا کہ " آرام سے کرو ، درد ہوتا ہے . . . . " تو میں جیسے اس وقت اس کا مرید ہو گیا ، دِل چاہتا تھا کہ میں بس ایسے ہی اس کے اوپر لیٹا اسے پیار کروں اور یہ رات کبھی ختم نہ ہو ، دِل چاہتا تھا کہ کل کی صبح ہی نہ ہو ، لیکن یہ ممکن نہیں تھا . . . . میرے دِل میں سعدیہ كے لیے آج کچھ اور جذبات تھے ، اک بار تو میرے دل میں خیال بھی آیا کہ کہی میں سعدیہ سے . . . . . . . . . . . نہیں یہ ہرگز نہیں ہو سکتا ، جن راستوں پر میں نے چلنا چھوڑ دیا ہے تو پھر ان راستوں سے گزرنے والی منزلیں مجھے کیسے مل سکتی ہے . . . . . . " یار اب اِس حسین پل میں کہاں کھو گئے ، کرو نہ. . . " " اتنی جلدی بھی کیا ہے سعدیہ . . . " میں نے بہت ہی پیار سے کہا ، اتنے پیار سے میں نے آج سے پہلے کبھی کسی سے بات کی تھی ، یہ مجھے یاد نہیں . . . . . " جلدی تو مجھے بھی نہیں ہے ، لیکن اس کا کیا کرے ، کمینی چین سے ایک پل جینے بھی نہیں دیتی . . . . " سعدیہ کا اشارہ اس کی گرم ہوتی چوت کی طرف تھا ، جو میرے لنڈ کی راہ تک رہی تھی کہ میں کب سعدیہ کو چودنا شروع کروں . . . لیکن میں سعدیہ كے اوپر سے ہٹ کر اس کے بغل میں لیٹ گیا اور اس میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ پسند تھی اسے سہلاتے ہوئے میں نے کہا . . . . " کچھ دیر بات کر لیتے ہے ، تب تک تم نارمل ہو جاؤ گی اور تمہیں درد بھی کم ھوگا . . . " آج سعدیہ کو میں نے ایک سے بڑھ کر ایک جھٹکے دیئے تھے اور مجھے پورا یقین تھا کہ اسے اب بھی جھٹکا لگا ھوگا ، میرا اندازہ سہی نکلا وہ مجھے حیران ہوکر دیکھ رہی تھی . . . . . " ارمان . . . آخر بات کیا ہے ، سب کچھ ٹھیک تو ہے نہ . . . " میرے چہرے کو سہلاتے ہوئے سعدیہ نے مجھ سے کہا . . . " ہاں ، سب ٹھیک ہے . . . " میں سعدیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا لیکن میرے دِل میں کچھ اور ہی تھا ، میں کچھ الگ ہی خواب سجا رہا تھا . . . . . بقول شاعر " آج پھر دِل کرتا ہے کی کسی كے سینے سے لپٹ جاؤں . . . . اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سارے غم پی جاؤں . . . . ہم دونوں رہے ساتھ ہمیشہ اس لئے . . . دِل کرتا ہے کی اس کی تقدیر کو اپنی تقدیر سے جوڑ دوں . . . . میں کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا سعدیہ سے لیکن اس نے مجھے آگے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا اور درمیان میں بول پڑی . . . . " پھر کیا بات ہے . . . جلدی کرو صبح ہونے والی ہے اور پھر ہم کبھی ایک ساتھ نہیں رہینگے . . . " سانسیں روک گئی تھی ، جب اس نے چھوڑ جانے كے لیے کہا . . . . . دِل نہ ٹوٹے میرا اس لئے . . . دِل کرتا ہے کی اپنے دِل کو اس کے دِل سے جوڑ دوں . . . . . " چلو یار ارمان . . . کیا سوچ رہے ہو ، وہ بھی اب " وہ مجھے بستر پر سوچ میں پڑا دیکھ کر جینجلا اٹھی ، تب مجھے احساس ہوا کہ سعدیہ كے لیے میں اب بھی سوائے ایک جسم کی بھوک مٹانے والے كے سوا کچھ نہیں ہوں اور اس کی طرف سے کہی گئی باتوں کا میں 101 % غلط مطلب نکال لیا تھا . . . مجھے برا تو لگا لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنی غلطی کا بھی احساس ہوا اور اپنی غلطی کا ازالہ کرنے كے لیے میں وآپس سعدیہ كے اوپر آ گیا. . . . . " یس اب آئے نہ لائن پڑ ، اپنی انگلی میرے منہ میں ڈالوں اور شروع ہو جاؤ . . . " وہ بولی اور میں نے ویسا ہی کیا ، میں نے اپنی انگلیاں اس کے منہ میں ڈالی اور اس کی زبان سے ٹچ کرنے لگا اور پھر کچھ دیر بَعْد اپنی انگلیاں نکل کر اس کو سَر سے پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچا . . . . . . بقول شاعر: " میرے دور جانے سے اے دوست خوشی ملتی ہے تجھے تو بتا دے مجھے . . . . . . تیری اِس خوشی كے لیے میں تجھے تو کیا اِس دُنیا کو چھوڑ كے چلا جاؤں . . . . .
  2. الفاظ کا استعمال آپ بہت اچھا کرتے ہیں
  3. nice start buddy i hope it will go on regards
  4. شاندار لکھ رہے ہو
  5. 2nd episode another nise story began. Keep it up

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.