March 16, 201313 yr بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس کا کہنا ہے کہ سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سیاح کے ساتھ اجتماعی جنسی زيادتی کی گئی ہے۔ یہ واقعہ ضلع دتیہ میں ہوا ہے جہاں پولیس نے گینگ ریپ کے الزام میں آٹھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ضلع دتیہ کے ایس پی سی ایس سولنکی نے خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی کو بتایا ہے کہ یہ واقعہ جمعہ کو رات گئے پیش آیا۔ سولنکی کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون اپنے شوہر کے ساتھ تھیں جو بھارت سیاحت کی غرض سے سائیکل پر سوار ہو کر ملک کا دورہ کر رہے تھے اور رات کو جب یہ واقعہ پیش آيا تو وہ ایک گاؤں کی سیر کر رہے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں میاں بیوی اوچھا کے مندروں سے واپس ہوکر آگرہ کی طرف رواں تھے جنہیں راستے میں پہلے لوٹا گیا پھر خاتون کے ساتھ ان کے شوہر کی موجودگی میں اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کو گوالیار کے ایک ہسپتال میں بھرتی کیا گيا اور ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق خاتون جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گيا۔ پولیس نے اس سلسلے میں شک کی بنیاد پر آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے لیکن اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ اصل مجرم پکڑے گئے یا نہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جو افراد حراست میں لیے گئے ہیں ان سے پوچھ گچھ جاری ہے اور اس میں ملوث مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ حملہ آور بد معاش ہیں جنہوں نے انہیں مارا پیٹا اور ان کا لیپ ٹاپ سمیت سامان بھی لوٹ لیا۔ چند ماہ قبل ہی دلی میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آيا تھا جس کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے ہی ملک میں خواتین کے تحفظ سے متعلق طرح طرح کے سوالات اٹھتے رہے ہیں اور دباؤ کے بعد حکومت نےنئے قوانین وضع کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔
Create an account or sign in to comment