March 8, 201313 yr جرمنی کی سلامتی سے متعلق محققین کی ایک ٹیم نے اس بات کا پتا چلایا ہے کہ اگر اینڈروئیڈ فونز کو منجمد کر دیا جائے تو اس کے اندر خفیہ مواد کا سراغ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔ جرمن ٹیم نے اینڈروئیڈ فونز کے خفیہ سسٹم تک رسائی کے لیے ان فونز کو ایک گھنٹے تک منجمد کیا۔ محققین کو اینڈروئیڈ فونز منجمد کرنے سے ان فونز کی کانٹیکٹ لسٹ، براؤزنگ ہسٹری اور تصاویر تک رسائی مل گئی۔ جرمن محققین کی ٹیم نے فرائیڈرچ الیگزینڈر یونیورسٹی کے بلاگ میں اپنی تحقیق کے بارے میں بتایا کہ اینڈروئیڈ فونز کے ڈیٹا کو گڈ مڈ کرنے کا سسٹم ان کے صارفین کے لیے اچھا ہے تاہم قانون نافذ کرنے والے اور فورینزک کارکنوں کے لیے یہ ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے۔ فرائیڈرچ الیگزینڈر یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی اس ٹیم کے ارکان ٹیلو ملر، مائیکل سپریت سنبارت اور فیلکس فریلینگ نے اینڈروئیڈ فونز کو ایک گھنٹے تک فریزر میں رکھا یہاں تک کہ اس ڈیوائس کا درجۂ حرارت منفی دس ڈگری سے نیچے گر گیا۔ ٹیم کے ان ارکان کو معلوم ہوا کہ منجمد کیےجانے والے فون کو بیٹری سے کنیکٹ اور ڈس کنیکٹ کرنے سے اس کا ہینڈ سیٹ غیرمحفوظ موڈ میں چلا جاتا ہے۔ محققین نے ’فراسٹ‘ نامی سافٹ وئیر کے ذریعے اینڈرائیڈ فونز سے ڈیٹا حاصل کر کے اس کا کمپیوٹر پر تجزیہ کیا۔ محققین نے اپنی تحقیق کو سام سنگ گلیکسی نیکسس ہینڈ سیٹ پر آزمایا کیونکہ یہ ان پہلے فونز میں شامل ہے جو اینڈروئیڈ کا ڈسک اینکرپشن سسٹم استعمال کرتےہیں۔
Create an account or sign in to comment