April 8, 20251 yr دوپہر کی دھوپ کمرے کے پردوں کو چیر کر اندر آ رہی تھی، مگر کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی اور بےچینی چھائی ہوئی تھی۔ رایان پلنگ پر نیم دراز تھا، اس کی آنکھیں چھت پر جمی تھیں، مگر دل کہیں اور بھٹک رہا تھا۔ اسے یاد آیا وہ لمحہ جب آنٹی سمیرا نے پہلی بار دروازہ کھولا تھا — ساڑھی کی باریک تہہ سے جھلکتی ہوئی جلد، دھوپ میں چمکتی ہوئی مہندی والے ہاتھ، اور ایک ایسی مسکراہٹ… جو سیدھا اس کے دل کے اندر اتر گئی تھی۔ "بیٹا، گرمی تو بہت لگ رہی ہے، آ جاؤ اندر، پنکھے کے نیچے بیٹھو۔" آنٹی نے کہا تھا، مگر رایان کے دل میں طوفان اٹھ چکا تھا۔ وہ اس لمحے سے پہلے کبھی عورت کو اس نظر سے نہیں دیکھتا تھا، مگر آنٹی سمیرا… وہ صرف عورت نہیں تھی، وہ ایک راز تھی، ایک خوشبو، ایک لمس… جسے وہ صرف محسوس کر سکتا تھا۔ coming soon.......
Create an account or sign in to comment