Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

عورت کے مسائل: ایک جبر کی حقیقت

Featured Replies

عورت کے مسائل کو جب ہم حقیقت کی نظر سے دیکھتے ہیں، تو ہمیں بہت کچھ ایسا نظر آتا ہے جو ایک طرف جہاں اس کے حقوق کی پامالی کو ظاہر کرتا ہے، وہیں اس کے وجود کو سماج کی روایات اور رائج تصورات کے شکنجے میں جکڑنے کی بھی ایک حقیقت بن چکا ہے۔ ایک عورت کے لیے شوہر کا کھانا گرم کرنا یا موزہ ڈھونڈنا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک معمول کی بات ہے جو شاید ہر عورت کے لیے اُس کے کردار کا حصہ بن چکی ہوتی ہے، لیکن وہی عورت، جو نفیس مزاج کی حامل ہوتی ہے، وہ ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھنا پسند کرتی ہے، پھر بھی اس پر مسلسل ایسی ذمہ داریاں ڈالی جاتی ہیں جو نہ صرف جسمانی طور پر تھکا دیتی ہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی طور پر بھی اسے بہت کچھ سہنا پڑتا ہے۔

آج کے دور میں، ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے ایک اچھا اور مناسب رشتہ مل جائے، لیکن اس خواہش کے پیچھے ایک سنگین حقیقت چھپی ہوتی ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس معاشرتی جکڑبندھی میں ایک لڑکی کو محدود کر رکھا ہے، جہاں اس کے کردار کو، اس کی سوچ کو، اور اس کی آزادی کو سمٹ کر اس کے رشتہ کی جستجو میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جب ایک عورت اپنے سر پر ڈوپٹہ اوڑھ کر باہر نکلتی ہے تو یہ ایک معمولی بات سمجھی جاتی ہے، مگر کوئی عورت یہ نہیں سوچ پاتی کہ اس ایک عمل پر اسے کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہیے، یا اس پر غیر ضروری سوالات نہیں ہونے چاہیے۔

آج کل، بہت سی عورتوں کے پاس دس بچے ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی یہ شکایت کی جاتی ہے کہ عورت ایک بچہ پیدا کرنے کی مشین بن کر رہ گئی ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں، تین سے زیادہ بچے رکھنے والے کسی خاندان کو شاید ہی آپ دیکھیں گے۔ ان مسائل کی حقیقت یہ ہے کہ یہ عورت کے اصل مسائل نہیں ہیں، یہ وہ مسائل ہیں جو ہمیں اس کی آزادی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنانے کے لیے گھڑے گئے ہیں۔

عورت کا سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ اسے تیزاب گردی کا شکار کیا جاتا ہے، اور یہ سب کچھ اس کے جسم کے ساتھ کی جانے والی ظلم و زیادتی کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ ایک اور دکھ یہ ہے کہ عورت اپنے پسندیدہ شخص سے شادی کرنا چاہتی ہے، لیکن اُس کے لیے اس راستے میں قتل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پسند کی شادی کے بارے میں ابھی تک ہمارے معاشرے میں اس طرح کے تصورات ہیں کہ اس عمل کو اپنے خاندان اور سماج کے لیے ایک دھبہ سمجھا جاتا ہے۔

عورت کا ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ طلاق لینا چاہے تو اس کے لیے ایک بڑی جنگ ہوتی ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک عورت طلاق کے لئے درخواست دیتی ہے لیکن اسے اپنے شوہر سے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے، اور جب تک وہ اجازت نہیں ملتی، اس کی زندگی ایک اذیت بن جاتی ہے۔ یہی معاملہ اس کے رشتہ بھیجنے کے بارے میں بھی ہوتا ہے، کیونکہ عورت کو اپنی طرف سے کسی رشتہ کو بھیجنے کی آزادی نہیں ہوتی۔

عورت کا ایک اور دکھ یہ ہے کہ چاہے وہ کتنی بھی تعلیم یافتہ ہو، لیکن اس کو ہمیشہ یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جہیز لے کر آتی ہے۔ اس کی تعلیم کو اُس کی اہلیت نہیں، بلکہ اُس کے گھر والوں کی مالی حیثیت سمجھا جاتا ہے۔ وہ یہ بھی جانتی ہے کہ جب بھی وہ محلے کے بدقماشوں کی شکایت اپنے والد یا بھائی سے کرے گی، تو اُسے یہ ڈر لگے گا کہ کہیں وہ خود گناہ گار نہ سمجھی جائے۔

یہ معاشرتی چکر اس قدر پیچیدہ ہو چکا ہے کہ اگر مرد کسی عورت کی طرف متوجہ ہوتا ہے، تو پھر یقین کیا جاتا ہے کہ عورت نے ہی اسے ورغلایا ہوگا، گویا کہ اُس کی زندگی میں کسی مرد کی دلچسپی اس کی اپنی غلطی ہے۔ لیکن سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عورت کی زندگی میں، اس کی پریشانیوں کے باوجود، روٹی کا گول نہ ہونا اتنا اہم سمجھا جاتا ہے کہ اُسے اپنی ذات اور عزت کو دائو پر لگانا پڑتا ہے۔

عورت کی غلطیوں کو معاشرہ کبھی معاف نہیں کرتا، چاہے وہ کتنی بھی چھوٹی ہوں۔ اور یہی وجہ ہے کہ اگر عورت کی تعلیم زیادہ ہو، تو اسے عمر کی زیادتی اور دماغی خرابی کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا جاتا ہے۔ اس کی نوکری کو ایک گناہ سمجھا جاتا ہے، اور اس کے سوشل میڈیا پر ہونے کو اس کی "دستیابی" کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اس کے پسند کی شادی کو آج بھی خاندان کے ماتھے کا داغ سمجھا جاتا ہے۔

عورت کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی خاطر جائیداد میں اپنا حق چھوڑ کر ایک "اچھی بہن" بننے کی کوشش کرتی ہے۔ پھر اس کے بعد وہ زندگی بھر ماں باپ کی عزت کی خاطر کسی مرد کی مار بھی سہتی رہتی ہے، اور اگر وہ بیوہ یا مطلقہ ہو جائے، تو اسے دوسرا رشتہ ملنا مشکل ہوتا ہے، اس کے یتیم بچوں کا کوئی سر پر دست شفقت نہیں رکھتا۔

یہ تمام مسائل جو عورتوں کا سامنا کرتے ہیں، ایک ایسے معاشرتی بحران کا نتیجہ ہیں جہاں خواتین کو اپنے حقوق حاصل کرنے کی بجائے، ہر قدم پر رکاؤٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ معاشرہ ان مسائل کا حل بتانے سے قاصر ہے، اور یہی ہمارے معاشرتی اور ثقافتی رویوں کی حقیقت ہے۔

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.