December 28, 20241 yr اردو زبان میں ٹائپنگ یا املاء کی غلطیوں کے باعث اکثر جملے اپنی اصل معنویت کھو بیٹھتے ہیں اور ہنسی کا باعث بن جاتے ہیں۔ یہاں کچھ دلچسپ مثالیں پیش ہیں جو ہماری روزمرہ زندگی میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ فحش پارٹی یا فِش پارٹی؟ ایک پوسٹ نظر سے گزری جس پر لکھا تھا "دوستوں کے ساتھ فحش پارٹی" ساتھ میں کچھ تصاویر بھی تھیں۔ لیکن تصاویر میں "فحاشی" کی بجائے بھنی ہوئی مچھلی نظر آ رہی تھی۔ تب یہ اندازہ ہوا کہ موصوف شاید "فِش پارٹی" لکھنا چاہتے تھے، لیکن غلط املاء نے بات کا مزاج ہی بدل دیا۔ سبزی منڈی کا دلچسپ بینر سبزی منڈی میں ایک بینر پر لکھا تھا: "پیار 150 روپے کلو" اب یہ تو سمجھ نہیں آیا کہ پیار کا بھاؤ کیا چل رہا ہے، لیکن غالباً لکھنے والے کو "پیاز" لکھنا تھا شادی کی دعا میں املاء کی غلطی ایک شادی کی تصویر کے نیچے دعائیہ کلمات یوں درج تھے "اللہ آپ کا سواگ قائم رکھے" یقیناً موصوف "سہاگ" لکھنا چاہتے تھے، لیکن ایک حرف نے معنی کو مکمل طور پر بدل دیا۔ شاعرِ مشرک؟ ایک استاد دوست نے بتایا کہ میٹرک کے کئی طالب علم علامہ اقبال پر مضمون لکھتے ہوئے آغاز کچھ یوں کرتے ہیں "شاعرِ مشرک" اب "شاعرِ مشرق" کی روح یہ پڑھ کر کانپ اٹھتی ہوگی کہ ایک املاء کی غلطی سے ان کی شخصیت کو کس طرح پیش کیا جا رہا ہے۔ انگریزی کا اردو ترجمہ کچھ لوگ انگریزی کو اردو رسم الخط میں لکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور خود ہی مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک نیم پڑھے لکھے صاحب نے ایک خاتون کو متاثر کرنے کے لیے لکھا "میں نے آپ کو کئی بار مساج کیا، لیکن آپ نے کبھی مجھے جوابی مساج نہیں کیا" اصل میں وہ "Message" لکھنا چاہ رہے تھے، لیکن اردو میں ترجمہ کچھ اور ہی بن گیا۔ فاش یا فحش غلطیاں؟ کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جو صرف فاش ہی نہیں بلکہ فحش بھی بن جاتی ہیں، اور ان پر ہنسی آنا لازمی ہے۔ نتیجہ ان تمام مثالوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ املاء کی درستگی پر دھیان دینا کتنا ضروری ہے، ورنہ ایک چھوٹی سی غلطی جملے کے مطلب کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔ آپ نے بھی اگر ایسی دلچسپ غلطیاں دیکھی ہیں تو ضرور شیئر کریں۔
Create an account or sign in to comment