February 18, 20242 yr ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں فرخ جعفری ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں ہیں کم سخن ضرور پہ عاجز بیاں نہیں ہر چند جانتے ہیں اسے ہم قریب سے پر کیا کریں کہ پاۓ سخن درمیاں نہیں اچھا تو ایک پل کے لئے ہی اٹھا کے دیکھ اے آسماں جو بار امانت گراں نہیں خود ہم میں تاب دید نہیں ہے یہ اور بات رہتا ہے وہ نگاہ کے آگے کہاں نہیں فرخؔ کہیں نہ سن کے کرے وہ بھی ان سنی کہتے ہیں اس سے اس لئے درد نہاں نہیں
Create an account or sign in to comment