February 14, 20242 yr چلو چھوڑو محسن نقوی چلو چھوڑو محبت جھوٹ ہے عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے خلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے خمار وصل تپتی دھوپ کے سینے پہ اڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش! غبار ہجر صحرا میں سرابوں سے اٹے موسم کا خمیازہ چلو چھوڑو کہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہ چاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گا مجھے احساس ہی کب تھا کہ تم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے رنگ بدلو گی چلو چھوڑو وہ سارے خواب کچی بھربھری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھے وہ سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گے تمہاری انگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام لکھتی تھیں مرا لیکن تمہاری انگلیاں تو عادتاً یہ جرم کرتی تھیں چلو چھوڑو سفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں صدیوں سے چلو چھوڑو مرا ہونا نہ ہونا اک برابر ہے تم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دو تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اک نیا موسم اترنے دو مرے خوابوں کو مرنے دو نئی تصویر دیکھو پھر نیا مکتوب لکھو پھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو مرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھو مری یادوں سے کچے رابطے توڑو چلو چھوڑو محبت جھوٹ ہے عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
Create an account or sign in to comment